فدک معتبرترین تاریخی دستاویز

265

فدک، معتبرترین تاریخی دستاویز
محمد امین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم “اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ” (5) کی ندا کے ساتھ ہی خدا کے آخری سفیر اور سید الانبیاء و المرسلین کی حیثیت سے مبعوث ہوئے۔
بعثت کے ابتدا‏‏ئی ساعتوں میں ہی آپ (ص) کی وفا شعار زوجۂ مطہرہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا، جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قدموں میں نثار کرنے کے لئے اپنے مال و جان کے لئے کسی قدر و قیمت کی قائل نہ تھیں، آپ (ص) پر ایمان لے آئیں اور “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا کلمہ پڑھ کر اپنی جان نثاری کا ثبوت دیا، جس کی ان کے وجود کا ہر ذرہ گواہی دیتا ہے۔
آپ (ص) اللہ کے چچا، کفیل و سرپرست مؤمن قریش حضرت ابوطالب علیہ السلام کے فرزند علی (ع) جن کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے چھوٹے بھائی کی مانند تربیت فرمائی تھی ـ بھی آپ (ص) پر ایمان لائے۔ (6)
خدیجہ سلام اللہ علیہا نے آپ (ص) کے دوش بدوش تبلیغ رسالت کے ابتدائی مراحل کی تمام صبر آزما مشکلات اور دشواریاں خندہ پیشانی سے برداشت کرلیں۔
خدا نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور خدیجہ سلام اللہ علیہا کو عظیم ترین امانت الہیہ کی حفاظت کا فریضہ سنبھالنے پر انہیں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسا عظیم ترین تحفہ عنایت فرمایا۔
حضرت رسول اکرم (ص) ان فداکار و جان نثار ماں بیٹی سے شدید محبت کرتے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ خداوند متعال نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس بیٹی کو بقائے دین اور آپ (ص) کی نسل کی بقاء کا موجب قرار دیا تھا۔
خدیجہ سلام اللہ علیہا دنیا سے رخصت ہوئیں تو یہ مصیبت آپ (ص) پر بہت بھاری تھی مگر فاطمہ سلام اللہ علیہا کا وجود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تسلی و تسکین کا باعث تھا۔
جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی کا وقت آیا، آپ (س) کے والد ماجد (ص) نے خدا کے امر (7) سے آپ (س) کا نکاح اس مرد سے کرایا جو سب سے پہلے اسلام لایا تھا اور بچپن سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زیر تعلیم و تربیت رہا تھا اور اس طرح خاندان نبی (اہل بیت) کی تشکیل ہوئی۔ (8) اور قرآن کے ساتھ ساتھ عترت کی بقاء کی ضمانت بھی فراہم ہوئی۔ (9)
خداوند متعال نے اپنے تحفۂ عظیم کی عظمت مختلف مناسبتوں سے گوناگوں مواقع پر بیان فرمائی؛ جبکہ اس تحفۂ عظیم کی معرفت طبیعی طور پر لوگوں کے لئے ناممکن تھی۔
کبھی آپ سلام اللہ علیہا کو آیت تطہیر میں اہل بیت علیہم السلام کا محور و مرکز قرار دیا: “هُم فاطمة و ابوها و بعلها و بنوها” (= یہ فاطمہ اور ان کے والد اور خاوند اور دو بیٹے ہیں) تا کہ نبی اکرم (ص) کئی مہینوں تک ہر روز صبح و شام آپ سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لاتے رہیں اور آپ (س) اور آپ (س) کے خاندان پر درود و سلام بھیجتے رہیں۔ (10)
خداوند متعال کبھی آیت مباہلہ میں “نسائنا” کے تحت آپ سلام اللہ علیہا کو خاندان نبوت کی اکلوتی خاتون کے عنوان سے تعارف کراتا ہے تا کہ آپ کی عظمت کو نہ صرف مسلمانوں پر ثابت کردے بلکہ اہل عالم پر بھی ثابت ہوجائے جن میں اہل کتاب بھی شامل ہیں۔ (11)
کبھی اپنے نبی (ص) کی زبان سے جو (وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔ (12) اپنی جانب سے کچھ بولتے ہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کلام اس وحی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا جو آپ پر نازل ہوتی ہے۔) آپ سلام اللہ علیہا کو سیدة نساء الجنة (13) اور سیدة نساء العالمین جیسے القاب عطا فرماتا ہے۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا حضرت حق تعالی کی رضا پر توجہ کامل رکھنے اور اپنے والد بزرگ سے عملی نمونے اور اسوہ حسنہ حاصل کرنے کی بنا پر دنیا کی طرف توجہ نہیں دیا کرتی تھیں اور دنیا کی زاہدترین خاتون تھیں کیونکہ والد بزرگوار (ص) آپ سلام اللہ علیہا کو زہد کی تربیت دلایا کرتے تھے۔
پیغمبر اکرم (ص) فدک اپنی اکلوتی بیٹی کو بخش دیتے ہیں:
پیغمبر اکرم (ص) فدک اپنی اکلوتی بیٹی کو بخش دیتے ہیں:
جب اہل خیبر نے محسوس کیا کہ اسلام کے مقابلے ڈٹ نہیں سکیں گے، فدک اور ۔۔۔ کو صلح کے عنوان سے پیغمبر اکرم (ص) کے حوالے کردیا۔ خدا نے بھی اس آیت کے ضمن میں فدک کو رسول اللہ (ص) کی ملکیت خاص قرار دیا: وَمَا أَفَاء اللہ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللہ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاء وَ اللہ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (14)
اس کے بعد جبرئیل نازل ہو کر خدا کا پیغام لے کر آئے: وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ (15) اور پیغمبر (ص) نے خدا کے حکم سے فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بخش دیا۔ شاید سب لوگ حیرت زدہ تھے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے زہد اور بندگی کی رفعتوں کے باوجود، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فدک آپ سلام اللہ علیہا کو ہی کیوں بخش دیا؟ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اس کی کیا ضرورت ہے؟
لیکن کسے معلوم تھا کہ فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ہاتھ میں، تاریخ کی سب سے بڑی دستاویز تھا؟!
اہل سنت کے منابع حدیث و تاریخ میں رسول خدا (ص) کی طرف سے اپنی بیٹی کو اس بخشش کے بارے میں کثیر روایات ذکر ہوئی ہیں۔ سیوطی درالمنثور میں بعض منابع کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو دو صحابیوں ابو سعید خدری اور عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے۔ سیوطی مسند بزاز، مسند ابی یعلی، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت (و آت ذالقربی حقه) نازل ہوئی، رسول خدا (ص) نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فدک انہیں بخش دیا۔ (16)
اس حقیقت نے سنہ 7 ہجری کو عملی جامہ پہنا اور فدک تین برسوں تک فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ہاتھ میں رہا اور جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے ان برسوں کے دوران وہاں کاشتکار اور مزارع رکھ لئے تھے۔
یہ مضبوط و مستحکم سند تاریخ کے طول و عرض میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حقانیت کی واضح دلیل تھی، جس کا ایک گوشہ یأقوت ابن عبد اللہ حموی نے اپنی کتاب “معجم البلدان” میں ذکر کیا ہے۔ اور ہم اس کے مختصر ترجمے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ یأقوت فدک کے بارے میں کہتے ہیں: “فدک ان املاک میں سے ہے جو حملے اور محنت و مشقت کے بغیر ہی حاصل ہوئے ہیں۔
چنانچہ یہ رسول اکرم (ص) کا مِلکِ خاص تھا۔
یہ وہی چیز ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: رسول اللہ (ص) نے فدک مجھے بخش دیا ہے اور ابوبکر نے گواہ پیش کرنے کو کہا اور اس بات کی اپنی ایک داستان ہے۔ (17)
یأقوت ابن عبداللہ نے یہ داستان کچھ یوں بیان کی ہے:
“جب رسول اللہ (ص) انتقال کرگئے۔ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے ابوبکر سے فرمایا: رسول اللہ (ص) نے فدک میرے لئے قرار دیا ہے پس تم اسے میرے حوالے کرو اور علی ابن ابیطالب علیہما السلام نے گواہی دی۔ ابوبکر نے دوسرا شاہد پیش کرنے کو کہا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خادمہ ام ایمن نے بھی شہادت دی۔” (18)
“اس کے بعد عمر نے خلافت کا عہدہ سنبھالا تو ان کی “اجتہادی رائے” کا نتیجہ یہ ہؤا کہ فدک رسول خدا (ص) کی وارثین کو لوٹا دیا جائے۔
علی (ع) پہلے کی طرح کہہ رہے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زندگی میں ہی فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ہبہ کردیا ہے۔
پس جب عمر ابن عبدالعزیز خلیفہ بنے تو انھوں نے مدینہ کے والی کو لکھا کہ فدک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے وارثین کو لوٹا دے اور عمر ابن عبدالعزیز کے دور میں فدک ان کے ہاتھ میں ہی رہا۔
جب یزید ابن عبدالملک نے اقتدار سنبھالا، فدک کو جناب فاطمہ (ص) کے وارثین سے واپس لیا اور ابوالعباس سفاح (پہلے عباسی خلیفہ) کے دور تک بنو امیہ کے ہاتھ میں تھا۔
ابوالعباس سفاح نے فدک حسن ابن حسن ابن علی ابن ابیطالب علیہم السلام کے سپرد کیا تا کہ اسے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزندوں کے درمیان تقسیم کردیں۔ جب منصور کی خلافت کی باری آئی اور بنو حسن (ع) نے اس کے خلاف قیام کیا، اس نے فدک بنو فاطمہ (س) سے واپس لیا۔ جب مہدی عباسی نے اقتدار سنبھالا اس نے فدک بنو فاطمہ (س) کو واپس لوٹایا۔ اس کے بعد موسی الہادی اور اس کے بعد آنے والے خلفاء نے فدک اپنے قبضے میں رکھا۔
جب مأموں کا دور آیا تو خاندان علی (ع) کا ایک نمائندہ اس کے پاس آیا اور فدک کا مطالبہ کیا۔ مأمون نے فرمان جاری کیا کہ فدک کے لئے ایک سند تیار کی جائے۔ سند تیار ہوئی اور مأمون کے سامنے پڑھی گئی۔
پس معروف شاعر دعبل خزاعی نے یہ شعر کہا:
اصبح وجه الزمان قد ضحکا
بِرَدِّ مأمون هاشم فدکاً
ترجمہ: زمانے کا چہرہ خندان ہؤا
جب مأمون نے فدک بنوہاشم کو لوٹایا (19)
یأقوت حموی مأمون کے توسط سے فدک بنو ہاشم کو لوٹا دئے جانے کے بارے میں لکھتے ہیں:
جب سنہ 210 کا آغاز ہؤا مأمون نے فرمان جاری کیا کہ فدک جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے فرزندوں کو لوٹا دیا جائے۔
اس نے مدینہ میں اپنے والی قثم بن جعفر کو لکھا: “امر مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فدک اپنی بیٹی فاطمہ (ص) کو عطا فرمایا ہے اور یہ امر آل محمد (ص) کے نزدیک آشکار اور مشہور ہے۔ اس کے بعد بی فاطمہ سلام اللہ علیہا (ابوبکر کے دور میں) اس حقیقت کی دعویدار تھیں اور جناب کی شخصیت کے پیش نظر حق یہی ہے کہ ان کے دعوے کی تصدیق کی جائے”۔
(بہرحال) مأمون نے رائے دی کہ فدک جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے وارثوں کو لوٹا دیا جائے۔
جب متوکل عباسی کا دور آیا اس نے فدک فرزندان فاطمہ سلام اللہ علیہا سے واپس لیا۔ (20)
معجم البلدان سے منقولہ متن کا حاصل اور خلاصہ ان احادیث کی تأئید و تصدیق کرتا ہے جو محدثین و مفسرین نے تفصیل سے روایت کی ہیں اور وہ کچھ یوں ہے:
1۔ فدک رسول اللہ (ص) کی خاص ملکیت تھا۔
2۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: رسول اللہ (ص) نے فدک مجھے عطا فرمایا ہے۔
3۔ علی (ع) نے اس امر کی شہادت دی اور اس پر تأکید فرمائی۔
4۔ رسول اللہ (ص) کی خادمہ ام ایمن نے بھی گواہی دی۔
5۔ عمر نے اپنے دور خلافت میں فدک رسول اللہ کے وارثین کو لوٹایا (جو تھوڑا عرصہ بعد ان سے واپس لے لیا گیا)۔
6۔ عمر کے توسط سے فدک لوٹا دیئے جانے کے بعد علی (ع) فرمایا کرتے تھے: پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے دوران حیات فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کو عطا فرمایا ہے۔
7۔ عمر ابن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں حکم دیا کہ فدک جناب کی اولاد کو لوٹا دیا جائے۔
8۔ یزید ابن عبدالملک نے فدک واپس لیا اور اسی طرح بنو امیہ کے قبضے میں تھا۔
9۔ پہلے عباسی بادشاہ ابوالعباس سفاح نے فدک بنو فاطمہ کو واپس کردیا۔
10۔ منصور نے واپس لیا۔
11۔ مہدی عباسی نے فدک ان کو واپس کردیا۔
12۔ موسی الہادی اور اس کے بعد آنے والوں نے فدک بنو فاطمہ سے لے کر اپنے پاس رکھا۔
13۔ مأمون نے کہا: پیغمبر اکرم (ص) نے فدک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو عطا کیا تھا۔
یہ امر آل نبی (ص) کے نزدیک آشکار اور مشہور تھا۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا تسلسل کے ساتھ فدک کی مالکیت کی دعویدار تھیں اور حق یہی ہے کہ ان کے دعوے کی تصدیق کی جائے۔
14۔ مأمون نے فدک وارثان فاطمہ سلام اللہ علیہا کو واپس کیا اور حکم دیا کہ اس کے لئے ایک سند تدوین کی جائے اور مأمون کے سامنے پڑھی گئی۔
15۔ متوکل عباسی نے فدک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے وارثین سے واپس لیا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ کوئی شخص تفسیر اور حدیث کی کتب میں منقولہ احادیث پر آنکھیں بند کردے اور انہیں نظر انداز کر دے۔ اور تاریخ نے صدیوں کے دوران جو کچھ لکھا ہے اس کو تغافل کے نگاہ سے دیکھ کر فراموشی کے سپرد کرے اور (مثلاً) معجم البلدان کی طرف نگاہ ڈالے تو اس میں مذکورہ ناقابل انکار شواہد سے چمگادڑ کی مانند گذر جائے اور ایک مکھی کی مانند عمر ابن عبدالعزیز کے اس قول پر اتر آئے کہ پیغمبر (ص) نے فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کو عطا نہیں کیا تھا۔ عجیب تر یہ کہ اس سے قبل کی چند سطروں میں آیا ہے کہ فلما ولّی عمر ابن عبدالعزیز الخلافة کتب الی عامله فی المدینة یأمره بِردِّ فدک الی وُلد فاطمة سلام اللہ علیها فکانت فی ایدیهم فی ایام عمر ابن عبدالعزیز۔
جب عمر ابن عبدالعزیز نے خلافت کا عہدہ سنبھالا تو اس نے مدینہ میں اپنے والی کو لکھا کہ فدک بنو فاطمہ سلام اللہ علیہا کو لوٹا دے۔ پس فدک عمر ابن عبدالعزیز کے ایام میں ان کے ہاتھ میں تھا۔
خلاصہ یہ کہ پیغمبر اکرم (ص) نے خدا کے حکم سے فدک اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو عطا فرمایا۔ فدک ـ تاریخ کی یہ معتبر ترین سند ـ جناب سیدہ کے ہاتھ میں تھا۔ حتی کہ پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کی مصیبت عظمی کا وقت آن پہنچا۔
پیغمبر اکرم (ص) نے وفات پاکر پوری کائنات کو سوگوار و عزادار کردیا اور اس مصیبت کی عظمت اتنی تھی کہ انسانی عقل اس کے ادراک سے عاجز ہے۔ مناسب تو یہ تھا کہ نبوت کا چمکتا دمکتا سورج غروب ہونے پر امت کے اوپر پیغمبر اکرم (ص) کی بے انتہا رحمت و محبت لوگوں کے ذہنوں میں اور یادوں میں زندہ ہوجاتی۔ وہ رحمت و محبت و مہربانی جو خدا نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے: عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ (21)
آپ (ص) کے لئے تمہارے (یعنی مسلمانون کی) اوپر آنے والی ہر مصیبت شاقّ اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ آپ (ص) تمہاری ہدایت کا حرص رکھتے ہیں اور مؤمنین پر شفیق و مہربان ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے پسماندگان میں صرف ایک بیٹی “فاطمہ سلام اللہ علیہا” چھوڑی تھی۔ وہی بیٹی جس کو آپ (ص) اپنا ٹکڑا کہا کرتے تھے، مہینوں تک صبح و شام آپ (ص) اپنی اس بیٹی کے گھر کے دروازے پر حاضر ہوتے اور اور منظر عام و خاص میں اس پر درود و سلام بھیجتے اور اس آیت کی تلاوت فرماتے جو آپ سلام اللہ علیہا کی طہارت کی دلیل تھی: ” إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا”۔ (22)
اور اپنی اس بیٹی کی رضا اور غضب کو اپنی اور خدا کی رضا اور غضب قرار دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: فاطمة بضعة منی من اذاها فقد اذانی (فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ہے) یا فاطمة بضعة منی من اغضبها فقد اغضبنی (= فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ہے)۔ (23)
“یا فاطمة انّ اللہ یغضب لغضبِکِ و یرضی لرضاک (= اے فاطمہ! بتحقیق تیرے غضبناک ہونے پر خدا غضبناک ہوتا ہے اور تیری خوشنودی پر خدا خوشنود ہوتا ہے)۔ (24)
پیغمبر اسلام (محسن امت) (ص) کی یہی اکلوتی یادگار ـ جن پر اپنے والد معظم (ص) کی وفات حسرت آیات کی عظیم مصیبت سب سے زیادہ گران تھی، ابوبکر کے پاس آئیں اور فدک کا مطالبہ کیا۔ یہ ایسی مسلمہ حقیقت ہے جس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے اور کسی نے بھی اس سے انکار نہیں کیا ہے اور اہل سنت کے معتبر منابع نے بھی اس حقیقت کو بیان کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا فاطمہ سلام اللہ علیہا کا دعوی یہ تھا کہ فدک رسول اللہ (ص) کا نحلہ اور ملک خاص ہے جو ان (فاطمہ سلام اللہ علیہا) کے ہاتھ میں تھا اور ان کے مزارعین اور کاشتکاروں کو اس سے نکال باہر کیا گیا تھا؟
کیا فاطمہ سلام اللہ علیہا اس کا مطالبہ کر رہی تھیں اور حاکم وقت گواہ پیش کرنے پر زور دے رہے تھے؟
عجیب ہے یہ ماجرا! کیا مصیبت زدہ دختر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جائداد سے کارکنوں کو نکال باہر کرنا ان حضرات کی قاموس میں تعزیت شمار ہوتا تھا؟ [یا پھر یہ قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی کے تحت خاندان نبی (ص) سے محبت کا اظہار تھا؟]۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا سے گواہ پیش کرنے کو کہا جار رہا ہے؟ کیا پیغمبر اکرم (ص) نے قانون قضاء (قانون عدل) سکھاتے ہوئے انہیں یہ نہیں سکھایا تھا کہ مدعی پر لازم ہے کہ گواہ پیش کرے؟ جبکہ ہم سب ان دلائل و شواہد کی بنا پر جانتے ہیں کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا مدعی نہیں تھیں بلکہ فدک تو ان کے تصرف میں تھا۔ [مدعی تو وہ تھے جن کا دعوی تھا کہ انبیاء اپنے بعد کوئی ترکہ نہیں چھوڑتے اور ان کا کوئی ترکہ ہوتا ہی نہیں اور اس کے لئے حدیث جعل کرنے پر اتر آئے تھے]۔
اہم سوال یہ کہ کیا ایسی شخصیت سے بھی گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے جو آیت تطہیر کا مصداق ہو اور خداوند متعال نے خود ہی تمام پلیدیوں (منجملہ جھوٹ اور کذب) سے اس کی طہارت کی گواہی دی ہو؟
کیا آیت تطہیر کے دوسرے مصداق حضرت علی (ع) کی گواہی جناب سیدہ کی حقانیت و صداقت کے اثبات کے لئے کافی نہیں تھی؟
کیا ام ایمن کی شہادت یقین تک پہنچنی کے لئے کافی نہیں تھی جن کا پیغمبر اکرم (ص) نے “جنتی خاتون” کی حیثیت سے تعارف کرایا تھا؟ (25)
[مصادیق آیت تطہیر اور جنتی خاتون کی بات نہ مان کر] سیدة النساء العالمین حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا سے کہا گیا کہ “لا یجوز الا شهادة رجلین او رجل و امرأتین” (=دو مردوں یا پھر ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت کےسوا اور کوئی گواہی جائز اور قابل قبول نہیں ہے!!!!!)
یا یہ کہ کیا فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر سے اپنی جائداد “فدک” کا پیغمبر اکرم (ص) کےترکےکی حیثیت سے مطالبہ کررہی تھیں؟
یا یہ کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا دو چیزوں کا ابوبکر سے مطالبہ کررہی تھیں:
1۔ فدک کا، جو جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی ذاتی جائداد تھا یا
2۔ رسول اللہ (ص) کےترکےسے اپنا حصہ مانگ رہی تھیں؟
اور چونکہ ابوبکر کا دعوی تھا کہ فدک حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی جائداد نہیں بلکہ رسول اللہ (ص) کےترکےکا جزء ہے۔ اسی لئے حضرت سیدہ کےجواب میں انھوں نے اس “حدیث” کا سہارا لیا : “لا نورث ما ترکنا صدقة” (=ہم ارث نہیں چھوڑتے اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔)
اب ہم اس حدیث کا تجزیہ کرتے ہیں جو بخاری نے نقل کی ہے اور اہل سنت عام طور پر اسی سے استناد و استدلال کرتے ہیں:
بخاری نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ: فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا نمائندہ بھیج کر ابوبکر سے مدینہ اور فدک میں رسول اللہ (ص) کو خدا کی جانب سے لوٹائی جانے والی املاک میں سے اپنے ارث اور خیبر کےباقیماندہ خمس کا مطالبہ کیا۔ ابوبکر نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ “ہم انبیاء” کوئی ارث اپنے پیچھے نہیں چھوڑتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد (ص) کو ان اموال میں سے صرف اپنا حصہ مل سکتا ہے اور خدا کی قسم میں رسول اللہ (ص) کےصدقے میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا اور اس کو اسی حال پر چھوڑوں گا جس طرح کہ رسول اللہ (ص) کے زمانے میں تھا اور اس میں اسی طرح عمل کروں گا جس طرح کہ آپ (ص) نے عمل کیا تھا۔ پس ابوبکر نے اس میں سے کچھ بھی فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دینے سے انکار کردیا۔ اسی رو سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر پر غضبناک ہوئیں اور ان سے قطع تعلق کیا اور جب تک زندہ تھیں ابوبکر سے بات چیت بند رکھی۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پیغمبر (ص) کی وفات کےبعد 6 مہینوں تک زندہ رہیں اور جب ان کا انتقال ہوا تو انہیں اپنے شوہر نے رات کی تاریکی میں دفنایا اور ابوبکر کو رسم تدفین اور نماز جنازہ کی اطلاع نہیں دی اور علی (ع) نے خود ان کےجنازے کی نماز ادا کی۔” (26)
یہ حدیث بخاری نے مختصر لفظی اختلاف کے ساتھ اپنی “صحیح” میں چار مقامات پر نقل کی ہے:
الف) کتاب فضائل اصحاب النبی (ص)
ب) کتاب الخمس ـ باب فرض الخمس
ج) کتاب الفرائض
د) کتاب المغازی
حدیث کا پہلا جملہ: فاطمہ بنت النبی (ص) نے اپنا نمائندہ ابوبکر کے پاس بھیجا (تا کہ تین چیزوں کا مطالبہ کریں):
1۔ ما افاء اللہ بالمدینة (= جو کچھ خدا نے مدینہ میں رسول اللہ (ص) کو عطا فرمایا ہے۔
2۔ “فدک” یعنی وہ جائداد جو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے کہنے کے مطابق رسول اللہ (ص) نے انہیں بخشی ہے۔
3۔ “ما بقی من خمس خیبر” (= جو کچھ خیبر کے خمس سے باقی بچا ہے)۔
(اب معلوم یہ کرنا ہے کہ) کیا یہ سب چیزیں پیغمبر اکرم (ص) کا ترکہ تھیں؟ تا کہ اس امر پر بحث کی جاسکے کہ کیا پیغمبر کا کوئی وارث ہوسکتا ہے یا نہیں؟ (کیا پیغمبر (ص) اپنے بعد ارث اور ترکہ چھوڑتے ہیں یا نہیں؟)۔
بحث کو واضح کرنے کی غرض سے، سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ (ص) کی مالی حالت کے بارے میں جاننا ہوگا:
حدیث “لا نورث ما ترکنا صدقة” سے قطع نظر رسول اللہ (ص) کے اموال اور آپ کی جائداد ـ جس کو شرعی اصطلاح میں فیئ کہا جاتا ہے ـ کی دو قسمیں ہیں:
الف: وہ اموال و جائداد جو سورہ حشر کی چھٹی آیت کے تحت رسول اللہ (ص) کی خاص ملکیت ہے اور کوئی بھی اس میں آپ (ص) کا شراکت دار نہیں ہے اور آپ (ص) سے آپ کے وارثین کو منتقل ہوتی ہے: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَمَا أَفَاء اللہ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللہ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاء وَ اللہ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (27) (= اور جو کچھ خدا نے ان سے اپنے رسول (ص) کی طرف لوٹایا ہے، ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لئے نہ تو تم (مسلمانوں) نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ ہی اونٹ، مگر خدا اپنے رسل کو جس پر چاہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے)۔
ب: وہ اموال و املاک جو سورہ حشر کی ساتویں آیت کے تحت پیغمبر اکرم (ص) کو ملتی ہیں جو آپ (ص) کا ملک خاص نہیں بلکہ قرابت دار، ایتام، مساکین اور ابناء السبیل (راستے میں رہ جانے والے افراد) بھی ان میں شریک ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:” مَّا أَفَاء اللہ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبَى و َالْيَتَامَى وَ الْمَسَاكِينِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ (28) (= اور بستیوں والوں کا جو کچھ (مال و مِلک) اللہ تعالی اپنے رسول ((ص)) کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول ((ص)) کا اور رسول (ص) کے قرابتداروں اور یتیموں، مسکینوں کا اور راستے میں (بے خرچ) رہنے والے مسافروں کا ہے تا کہ تمہارے دولتمندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے)۔
پس یہ وہ مال ہے جو مِلک خاص محسوب نہیں ہوتا اور ارث کے عنوان سے وارثین کو نہیں ملتا۔
اور ان دو آیتوں کے مطابق “فَیئ” کی دو قسمیں ہیں: وہ “فَیئ” جو بغیر لڑے بھڑے رسول اللہ (ص) کے ہاتھ لگے اور یہ رسول اللہ (ص) کی خاص ملکیت ہے۔
اور وہ “فَیئ” جو جنگ کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہو (29) جو اگرچہ رسول اللہ (ص) کی ملکیت ہے (اور اللہ تعالی نے آپ (ص) کو ہی لوٹا دی ہے) لیکن یہ ملک خاص نہیں ہے (30) اور ارث یا ترکہ محسوب نہیں ہوتی۔
اور نیز سورہ انفال کی آیت شریفہ کے مطابق جو کچھ رسول اللہ (ص) کو دیا جاتا ہے وہ نبی اکرم (ص) کی ملکیت خاص نہیں ہے بلکہ دوسرے بھی اس میں شریک ہیں۔ ارشاد ربانی ہے : وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (31) (= اور جان لو کہ ہر قسم کی غنیمت (کمائی) جو تم حاصل کرتے ہو، اس کا پانچواں حصہ خدا، اس کے رسول (ص)، آپ (ص) کے اقرباء، یتیموں، مسکینوں اور راہ میں بے خرچ رہ جانے والوں کے لئے ہے۔ (32) یہ وہ اموال و املاک ہیں جن میں ارث اور ترکے کا تصور نہیں ہے بلکہ آپ (ص) کے جانشین بر حق کو منتقل ہوتے ہیں تا کہ اسی طرح عمل کریں جیسا کہ رسول اللہ (ص) نے عمل کیا تھا۔
حدیث کی وضاحت:
فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا نمائندہ ابوبکر کے پاس روانہ کیا تا کہ مدینہ اور فدک میں خدا کی طرف سے رسول اللہ (ص) کو لوٹائے گئے اموال و املاک سمیت خیبر کے باقیماندہ خمس کا مطالبہ کرے۔ ظاہر ہے کہ
اولاً: فیئ کی دو قسموں کے پیش نظر جن میں ایک جنگ کے بغیر پیغمبر (ص) کو دی گئی ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملکیت خاص ہے اور ایک وہ جو (بالواسطہ طور پر) جنگ کے ذریعے ہاتھ آتی ہے (جیسے جزیہ و خراج وغیرہ) جس میں ارث اور ترکے کا تصور نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی درخواست ارث کے عنوان سے فیئ کی پہلی قسم کے لئے ہوسکتی ہے۔
ثانیاً: اگر پیغمبر اکرم (ص) نے فدک فاطمہ سلام اللہ علیہا کو نہ بخشا ہوتا تو پھر تو “ما افاء اللہ” (جو کچھ خدا نے آپ (ص) کو لوٹایا یا دلوایا) میں فدک بھی شامل ہوتا اور فدک کے نام پر تأکید و تصریح بلا وجہ ہوتی۔
پس معلوم ہوتا ہے کہ رسالت مآب (ص) کے انتقال پرملال کے وقت فدک فیئ کا جزء نہیں تھا پس فاطمہ سلام اللہ علیہا فدک کا ارث کے عنوان سے مطالبہ نہیں کر رہی تھیں۔
ثالثا: جیسا کہ بیان ہؤا خمس بھی ارث اور ترکے کے عنوان سے نہیں جوڑا جاسکتا مگر کسی خاص وسیلے سے تملیک کے عنوان سے کسی کو واگذار کیا جائے اور اس صورت میں یہ خمس، خمس شمار نہیں ہوگا (بلکہ کسی کی ملکیت سمجھا جائے گا)۔
پس اگر جناب سیدہ (ص) نے خیبر کے باقیماندہ خمس کا مطالبہ کیا ہو یقیناً ارث کے عنوان سے نہ ہوگا بلکہ خمس میں آپ سلام اللہ علیہا کے اپنے حصے اور اپنے حق کے عنوان سے ہوگا۔
پس اس حدیث کامفہوم و مدلول کچھ یوں ہے کہ: سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر سے تین چیزوں کا مطالبہ کررہی تھیں:
1۔ فیئ سے اپنی میراث مانگ رہی تھیں جو رسول اللہ (ص) کی خاص ملکیت تھی۔
2۔ فدک کا مطالبہ کررہی تھیں جو رسول اللہ (ص) کی جانب سے ہبہ اور بخشش کے تحت سیدہ سلام اللہ علیہا کی اپنی ذاتی ملکیت تھا۔
3۔ خمس میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کررہی تھیں جو ارث کے عنوان سے نہیں تھا بلکہ سیدہ سلام اللہ علیہا ذی القربی کا واضح ترین اور قریب ترین مصداق تھیں۔
چنانچہ ان احادیث سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ فدک آپ (ص) کا ترکہ نہیں تھا۔
چنانچہ حدیث کا دوسرا جملہ کچھ یوں ہے:
ابوبکر نے سیدہ سلام اللہ علیہا کو جواب دیتے ہوئے کہا: رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہے کہ “لانورث ما ترکنا صدقة” (= ہم انبیاء ارث نہیں چھوڑتے، ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے۔) ابوبکر کی بات مذکورہ تین مطالبات میں سے صرف ایک مطالبے کا جواب ہوسکتا ہے گو کہ انھوں نے اپنا یہ جواب نبی زادی سلام اللہ علیہا کے تینوں مطالبات کا جواب قرار دیا ہے اور آپ سلام اللہ علیہا کے تینوں مطالبوں کے جواب میں یہی ایک بات کہی ہے۔
بہر حال حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر سے کچھ درخواستین کی ہیں اور ابوبکر نے بھی ان درخواستوں کا جواب دیا ہے اور اب ہم ان درخواستوں اور ان کے جواب کا تجزیہ کرتے ہیں:
یہاں متعدد سوالات پیدا ہوتے ہیں:
1۔ کیا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے مطالبے میں حق بجانب تھیں یا معاذ اللہ یہ مطالبہ مکابرے، زور زبردستی، یا جہل و تکبر پر مبنی تھا؟! اگر حق بجانب تھیں تو آپ سلام اللہ علیہا کو ان کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟ اگر یہ مطالبہ معاذاللہ جہل و نا آگاہی پر مبنی تھا تو سیدہ سلام اللہ علیہا حدیث “لانورث” سن کر مطمئن کیوں نہیں ہوئیں؟
2۔ کیا ابوبکر حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی نگاہ میں ثقہ یا عادل نہ تھے یا یہ کہ ان کا کذب سیدہ کے لئے ثابت ہوچکا تھا؟
3۔ اگر فرض کریں کہ سیدہ سلام اللہ علیہا یہ مطالبہ زور زبردستی کے عنوان سے کررہی تھیں تو اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا مال دنیا کا حرص اور طویل دنیاوی خواہشات اس کا سبب تھیں جبکہ آپ (س) جانتی تھیں کہ آل محمد (ص) میں سب سے پہلے اپنے والد سے جاملین گی اور اس امر کی خبر ـ خود عائشہ کی روایت کے مطابق ـ رسول اللہ (ص) نے آپ سلام اللہ علیہا کو دی تھی۔ (33)
علاوہ بریں حضرت سیدہ فاطمہ اور آپ (ص) کے خاوند حضرت علی علیہما السلام زہد و پارسائی کا عملی نمونہ تھے۔ اور اس حوالے سے وارد ہونے والی احادیث ناقابل تشکیک و انکار ہیں۔
سورہ ہل اتی (سورة الانسان) اسی حقیقت کی روشن دلیل ہے۔ (34)
کیا حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا ابوبکر سے حسد کرتی تھیں؟ کیا (معاذ اللہ) حسد اور لالچ اس امر کا باعث ہؤا کہ “سیدة نساء العالمین”، “سیدة نساء اهل الجنة”،”بضعة النبی” اور “امّ ابیها” پیغمبر اکرم (ص) کے وقفیات و صدقات کو حرص کی نگاہ سے دیکھیں اور ان وقفیات و صدقات میں رسول اکرم (ص) کی روش کے مطابق عمل کرنے پر راضی نہ ہوں؟! اور اگر رسول اللہ (ص) کا جانشین و خلیفہ آپ (ص) کی سیرت پر عمل کرنا چاہے تو آپ سلام اللہ علیہا ان سے قطع تعلق کرکے عمر کے آخری لمحوں تک ان سے قطع کلام کرلیں؟ [اور یہ البتہ الگ موضوع ہے کہ یہ جانشین و خلیفہ تھا کون؟]۔
اگر حضرت فاطمہ کا عمل معاذ اللہ زور زبردستی پر مبنی تھا اور اس بنا پر ایک امر باطل پر اصرار کررہی تھیں تو کیا وہ چاہتی تھیں کہ وہ اپنے دور کے امام و خلیفہ سے قطع تعلق کریں تا کہ ابوبکر غضبناک ہوکر دنیا سے رخصت ہوں؟ جبکہ احادیث میں ہے کہ:
” من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة الجاهلیة” (= جو شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے) (35) یا “من مات و لیس فی عنقه بیعة مات میتَة الجاهلیة” (= جس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہو اور وہ دنیا سے رخصت ہوجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔) (36) یا “من خرج من السلطان شبرا فمات میتة الجاهلیة” (=جو شخص ایک بالشت برابر حکومت کے فرمان سے خروج کرے اور مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔) (37)
کیا سیدة نساء اہل الجنة (معاذ اللہ) جاہلیت کی موت مری ہیں؟ (38) یا یہ کہ آپ سلام اللہ علیہا نے حضرت علی (ع) کو امام زمانہ اور اپنے والد ماجد کا جانشین و خلیفہ اور حاکم وقت تسلیم کیا تھا اور علی (ع) کی بیعت کی تھی [اور آپ کو وہ بیعت یاد تھی جبکہ دوسرے بظاہر غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ پر کی ہوئی بیعت بھول گئے تھے!] اور آپ سلام اللہ علیہا ایک بالشت برابر بھی اپنے حاکم کے فرمان سے باہر نہیں ہوئی تھیں؟ اگر فاطمہ سلام اللہ علیہا کا عمل زور زبردستی اور مکابرے پر مبنی تھا تو علی (ع) نے کیوں آپ سلام اللہ علیہا کی تأئید و حمایت کی اور ان کی حمایت میں چھ مہینوں تک بیعت سے اجتناب کیا؟ یا یوں کہئے کہ علی (ع) کیوں ایسے شخص کی مخالفت پر کمربستہ ہوئے جو (بقول خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت پر عمل کرنا چاہتا تھا؟ اور ہاں! کیا علی (ع) پیغمبر کے وصی نہیں تھے؟ اور یہ کہ وہ کیوں اس “حدیث مخصوص” سے بے خبر تھے؟ اور
اگر علی (ع) فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حمایت میں حق بجانب تھے تو پھر ابوبکر نے سیدہ سلام اللہ علیہا کا حق دینے سے انکار کیوں کیا؟
اب ایک بنیادی سوال:
قرائن اور نشانیوں منجملہ سورہ نمل کی سولہویں اور سورہ مریم کی چھٹی آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل نہیں ہوئی اور حق سیدہ (س) کی جانب تھا چنانچہ حضرت سیدہ (اسی بنا پر) ابوبکر سے ناراض ہوئیں اور ان سے راضی نہیں ہوئیں حتی کہ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ابوبکر «فاطمة بضعة منی من اغضبها اغضبنی» (39) اور « یا فاطمةُ! ان اللہ یغضب لغضبِکِ و یرضی لرضاکِ» (40) “مَغضُوبٌ عَلَيهِمْ” میں شمار نہیں ہونگے؟ یہ ان لوگوں میں حساب نہ ہونگے جن کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَى (41) (= جس پر میرا غضب وارد ہوجائے و سقوط سے دوچار ہوگا)۔
اگر فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مطالبہ حق و حقیقت پر مبنی تھا تو پھر ابوبکر نے “لا نورث ما ترکنا صدقة” (42) کو رسول اکرم (ص) سے کیوں منسوب کیا؟ اس حدیث میں ارث نہ چھوڑنے کا مسئلہ تمام انبیائے الہی سے منسوب کیا گیا ہے؟ اور یہ امر صریح قرآن کے خلاف ہے کیوں کہ خداوند متعال نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ انبیاء ایک دوسرے کے وارث تھے۔ وَ وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ۔ (43) (= اور سلیمان اپنے والد داؤد کے وارث ہوئے) ۔ اور حضرت زکریا (علی نبیناو آلہ و (ع)) نے بارگاہ الہی میں التجا کی: فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ۔ (44) (= پس (اے پروردگار! مجھے ایسا ولی اور وارث عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو) پس اگر ابوبکر کی بات صحیح ہے اور رسول اللہ (ص) نے واقعی فرمایا ہے کہ “لا نورث ما ترکنا صدقة” تو کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (معاذاللہ) قرآن کے خلاف بات کی ہے؟
اگر کوئی شخص عدم معرفت کی بنا پر پیغمبر اکرم (ص) کو معصوم تسلیم نہ کرے اور یوں تصور کرے کہ آپ (ص) معمولی امور یا تاریخی مسائل میں اشتباہ اور خطا کا ارتکاب کرسکتے ہیں، تو اس کا تصور ان امور میں ہوتا ہے جن کے سلسلے میں شرعی حکم صادر نہ ہوتا ہو (45) جبکہ یہ کلام جس موضوع پر دلالت کرتا ہے وہ شرعی حکم کا متقاضی ہے۔ تو اس قسم کی خطا رسول اللہ (ص) سے کیونکر صادر ہوسکتی ہے؟ کیا رسول اکرم (ص) نے خود نہیں فرمایا کہ: “جو بات (حدیث) قرآن کے خلاف ہو (جان لو کہ) وہ میں نے نہیں کہی ہے۔”
اس کے با وجود کہ ابوبکر سے اس حدیث کا صدور یقینی ہے۔ (اور کوئی اس حقیقت کا انکار نہیں کرتا کہ یہ حدیث انھوں نے ہی رسول اکرم (ص) سے منسوب کرکے استدلال کے طور پر سیدہ سلام اللہ علیہا کو سنائی ہے) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابوبکر نے قرآن مخالف کلام رسول اللہ (ص) سے منسوب کیا ہے؟
فرض کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) سے ایسی بات منسوب کی جائی جو حقیقت اور قرآن کے خلاف ہو یا کوئی ایسا کلام ابوبکر سے منسوب کیا جائے جو کلام نبی (ص) کے خلاف ہو تو ان دو باتوں میں سے کونسی بات بہتر ہے؟
ایک سوال اور:
کیا علی اور فاطمہ (علیہما السلام) نے اس بات کی یاد آوری نہیں کرائی کہ ابوبکر کا کلام قرآنی نصّ کے منافی ہے؟ یا یہ کہ اور فاطمہ (علیہما السلام) نے ابوبکر کے کلام کی تردید کرتے ہوئے آیات قرآنی سے استدلال و استشہاد کیا ہے؟ گو کہ بخاری وغیرہ نے یہ استدلالات ثبت کرنے سے اجتناب کیا ہے!۔
ابن سعد اور سیوطی نے روایت کی ہے کہ جب ابوبکر نے “لانورث ما ترکنا صدقة” سے استدلال کیا تو علی (ع) نے فرمایا: وَ وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ (46) اور حضرت زکریا (علی نبیناو آلہ و (ع)) نے بارگاہ الہی میں التجا کی: فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ (47) اور ابوبکر نے علی (ع) کے استدلال کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ چنانچہ علی (ع) نے فرمایا: هذا کتاب اللہ ینطق” (= یہ کتاب الہی ہے جو بول رہی ہے)۔ (48)
چلئے ہم فرض کرتے ہیں کہ یہ حدیث درست ہے اور رسول اکرم (ص) نے واقعی فرمایا تھا کہ “لانورث ما ترکنا صدقة” اور فرض کرتے ہیں کہ یہ بات قرآن کے منافی نہیں ہے۔ یہ فرض بھی بخاری کی حدیث کی تأئید نہیں کرتا اور بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے کہ بخاری کی حدیث درست اور قابل قبول نہیں ہے۔
کیوں اور کیسے؟
اس لئے کہ: جو کچھ رسول اللہ (ص) نے اپنے بعد چھوڑ رکھا تھا وہ سب آپ (ص) کی حیات طیبہ میں آپ (ص) کی ذاتی ملکیت تھا اور بخاری کی حدیث کے مطابق وہ سب کچھ آپ (ص) کی وفات کے بعد صدقے اور وقف میں تبدیل ہؤا ہے۔ اور پھر ذاتی ملکیت میں آپ (ص) کا عمل اور آپ (ص) کی روش الگ ہے اور موقوفات و صدقات میں الگ۔ (یعنی ذاتی املاک و اموال اور موقوفات و صدقات میں آپ (ص) کی روش اور آپ (ص) کا عمل الگ الگ ہے)۔
پس ابوبکر نے کیونکر کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زمانے میں صدقات جس حال میں تھے میں بھی انہیں اسی حال پر چھوڑوں گا اور ان میں تبدیلی نہیں لاؤنگا اور صدقات میں اسی طرح عمل کروں گا جس طرح رسول اللہ (ص) عمل کیا کرتے تھے؟
حالانکہ رسول اللہ (ص) ان میں اپنی شخصی ملکیت کے حوالے سے عمل کیا کرتے تھے (جنہیں اب ابوبکر نے صدقہ قرار دیا تھا جبکہ اس وقت یہ صدقہ نہیں بلکہ رسول اللہ (ص) کے ذاتی اموال و املاک تھے)؟ اور ابوبکر کو موقوفات اور صدقات کے متولی کی حیثیت س عمل کرنا چاہئے تھا۔ اگر حدیث “لانورث ما ترکنا صدقة” درست ہے تو عائشہ نے اس کی مالکیت کا دعوی کرکے اپنے والد یعنی ابوبکر کو کیوں اس گھر میں دفنایا؟ (49) تمام شواہد و دلایل ثابت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ابوبکر کی دلیل قبول نہیں فرمائی جیسا کہ بخاری اور اہل سنت کے دیگر محدثین نے تأکید کی ہے مگر اس کے باوجود بعض افسانہ پردازوں اور تاریخی جعلیات میں حقیقت کا رنگ بھرنے والوں نے الفت و محبت کی نغمہ خوانی کے واسطے حقیقت پر الٹی کھال چڑھا کر لکھا ہے کہ جب ابوبکر نے پیغمبر اکرم (ص) سے روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ “لانورث ما ترکنا صدقة” جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے ان کی بات قبول کی اور اور ابوبکر سے فرمایا: ان صدقات اور فدک میں اسی طرح عمل کریں جس طرح کہ رسول اللہ عمل فرمایا کرتے تھے!!۔
ایک طرف سے تو اس دعوے کی کوئی سند نہیں ہے اور دوسری طرف سے صحیح بخاری اور دیگر صحاح و مسانید میں منقولہ روایات سے مغایرت رکھتا ہے کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اپنی عمر مبارک کے آخری لمحوں تک فدک کے بارے میں اپنے مطالبے پر اصرار کرتی رہیں اور چونکہ ابوبکر مسلسل انکار کررہے تھے لہذا حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا نے ان سے آخر عمر تک قطع تعلق کیا اور آخری سانسوں تک ان سے قطع کلام کیا اور اسی امر پر بخاری اور مسلم سمیت دیگر صاحبان صحاح و مسانید نی بھی تأکید کی ہے۔ (50)
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد حضرت علی (ع) فدک کے مطالبے پر اصرار کرتے رہے۔ اس سلسلے میں بھی متعدد احادیث صحیح مسلم اور صحیح بخاری سمیت اہل سنت کے دیگر صحاح و مسانید میں منقول ہیں۔ (51) اور ان احادیث میں فدک کی واگذاری سے انکار کے سلسلے میں حضرت علی (ع) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا عباس رضوان اللہ علیہ کی آراء بھی بیان ہوئی ہیں۔
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ عمر نے کہا: جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وفات پائی ابوبکر نے کہا میں رسول اللہ کا ولی ہوں۔ تم (عباس اور علی) آگئے پس تم نے (اے عباس!) اپنے بھتیجے (رسول اللہ (ص)) کے ترکے سے اپنا حصہ مانگا اور اس (علی (ع)) نے اپنی زوجہ (حضرت فاطمہ (س) کے والد (رسول اللہ (ص)) کے ترکے سے ان (جناب سیدہ (س)) کا حصہ طلب کیا۔ پس ابوبکر نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ “ہم انبیاء ارث نہیں چھوڑا کرتے اور جو کچھ ہو اپنے پیچھے چھوڑتے ہیں وہ صدقہ اور وقف ہوتا ہے” اور تم دونوں ابوبکر کو جھوٹا، گنہگار، مکار اور خائن سمجھتے تھے۔ خدا جانتا ہے کہ وہ سچا، نیک کردار، ہدایت یافتہ اور حق کا پیروکار تھا۔
اس کے بعد ابوبکر نے وفات پائی اور میں رسول خدا (ص) اور ابوکر کا ولی ہوں اور تم دونوں مجھے جھوٹا، گنہگار، مکار اور خیانت پیشہ سمجھتے ہو۔ اور خدا جانتا ہے کہ میں سچا، نیک کردار، ہدایت یافتہ اور حق کا پیروکار ہوں۔ (52)
یہ روایت بخاری نے اپنی صحیح میں کئی بار دہرائی ہے مگر ہر جگہ اس میں تھوڑا سا لفظی اختلاف ہے۔ مثلاً ایک جگہ آیا ہے: (عمر نے علی اور عباس سے کہا:) تزعمان ان ابابکر کان کذا و کذا۔۔۔ (53) (= کیا تم گمان کرتے ہو کہ ابوبکر ایسا اور ویسا ہے؟ یا “تذکران ان ابابکر فیه کما تقولون” (55) (= یا تم یاد کرتے ہو کہ ابوبکر فدک کے معاملے میں ویسا ہی تھا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو) یا تزعمان ان ابابکر فیها کذا۔ (55) = تم گمان کرتے ہو کہ ابوبکر صدقے کے معاملے میں ایسا تھا) ان تمام نقلوں میں “و اللہ یعلم انه فیها صادق ۔۔۔” (اور خدا جانتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سچا ہے) کی عبارت دکھائی دے رہی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ کذا و کذا کی جگہ وہی الزامات نقل ہوئے تھے جو مسلم نے ذکر کئے ہیں۔ مگر بخاری نے تأدب یا کنایہ استعمال کرکے یہ روایت نقل کے ہے۔ [کذا و کذا بخاری کی بہت سی روایات میں دکھائی دیتا ہے اور بعض مقامات پر اہل بیت رسول (ص) کے فضائل کی بجائے کذا و کذا لکھتے ہیں اور بعض جگھوں پر حتی علی (ع) کے نام کی بجائے رجل من اصحاب الرسول یا رجل آخر جیسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے جس کا مقصد خیر خواہی پر مبنی نہیں ہے)۔
البتہ یہ امر مسلّم ہے کہ حضرت فاطمہ اور حضرت علی (ع) اور عباس (رض) کو ابوبکر کے قول اور فعل پر اعتراض تھا اور اہل سنت کے معتبر منابع کے مطابق یہ تین افراد کبھی بھی ان کے قول و فعل سے مطمئن نہیں ہوئے ہیں اور اپنے اعتراض و انکار پر اصرار کرتے رہے ہیں اور اس پر قائم رہے ہیں۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ صحیحین اور مسند ابن حنبل وغیرہ نے فدک کے بارے میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب کے دو مختلف نظریئے نقل کئے ہیں:
1۔ [مسلم کی روایت کے مطابق] عمر کی یہ رائے کہ علی اور عباس کا نظریہ سیدہ فاطمہ (س) کا نظریہ بھی تھا اور وہ یہ کہ ابوبکر اور عمر دونوں اہل بیت کے مالی حقوق کے سلسلے میں جھوٹے، گنہگار، مکار اور خیانت پیشہ تھے۔
2۔ اور عمر کی اپنی رائے یہ تھی کہ کہ ابوبکر اور وہ (عمر) سچے، نیکو کار، ہدایت یافتہ اور حق کے تابع تھے۔
اب ہم ان دو نظریات کے حامل افراد کے مقام و منزلت پر نظر ڈالتے ہیں جو عمر نے بیان کئے ہیں تا کہ قارئین کرام خود فیصلہ کرسکیں کہ ان دو نظریات میں سے کون سے نظریئے کو ترجیح دینی چاہئے:
[عمر ہی کے بقول] پہلے نظریئے کے حامل افراد علی علیہ السلام، عباس رضوان اللہ علیہ اور فاطمہ سلام اللہ علیہا، ہیں۔
علی وہ ہیں جو بچپن سے ہی حضرت رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زیر تعلیم و تربیت اور زیر سرپرستی رہے تھے۔
نبی (ص) مدینة العلم ہیں تو علی باب مدینة العلم ہیں۔ (جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: انا مدینة العلم و علی بابها، فمن اراد العلم فليأت باب المدينة۔ (56) (= میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں) جس کی گواہی تمام اہل تشیع اور اہل سنت کے تمام منابع و مصادر حدیق میں موجود ہے اور انبیاء علیہم السلام کا ارث چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کا مسئلہ بھی علم و دانش سے تعلق رکھتا ہے [جس کاشہر رسول اللہ اور دروازہ علی تھے نہ کوئی اور یہ حضرات دوسروں کی نسبت اس سے زیادہ آگاہ ہیں]۔
علی (ع) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصی اور جانشین ہیں۔ اہل سنت آپ (ع) کی بلافصل جانشینی کے انکاری ہیں مگر ان کی وصایت کا انکار نہیں کرتے۔
[اگر فرض کریں کہ علی (ع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھریلو اور ذاتی امور میں ہی وصی تھے ـ جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے، تو بھی] وصی، وصیت کرنے والے کے مالی امور سے بے خبر نہیں ہوسکتا۔ خاص طور پر جب کوئی حکم ضابطے اور قاعدے کے خلاف جاری ہؤا ہو۔
پس اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارث نہ چھوڑنا چاہتے تو سب سے پہلے اپنے وصی کو بتا دیتے اور یہ امر ان سے ہرگز ہرگز خفیہ نہ رکھتے۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اکلوتی وارث تھیں اور اگر پیغمبر (ص) کا کوئی ترکہ تھا تو ازواج کا آٹھواں حصہ نکال کر سب سے بڑا حصہ حضرت سیدہ کو ہی مل جاتا۔ کیونکہ اولاد سمیت جن دوسروں کو ارث میں حصہ میں ملتا ہے (متوفّی کے) والد، والدہ اور زوجہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والدین آپ (ص) کے بچپن میں انتقال کرگئے تھے چنانچہ آپ (ص) کی بیٹی کے ساتھ آپ (ص) کی زوجات ارث میں شریک تھیں اور زوجہ کا حق ترکے کا صرف آٹھواں حصہ ہے اور چونکہ حضرت رسول اکرم (ص) کی 9 زوجات بفید حیات تھیں لہذا ہر زوجہ رسول (ص) کو ترکے کا بہتّرواں حصہ ملنا چاہئے تھا۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ (ص) نے یہ بات اپنی زوجات کو بتائی ہو (57) جن میں سے ہر ایک کا حصہ ترکے کے آٹھویں حصے کا نواں حصہ تھا اور اپنی اکلوتی وارث سے یہ بات چھپائے رکھی ہو جبکہ انہیں ارث کا سب سے بڑا حصہ (ساڑھے ستاسی فیصد حصہ) ملنا تھا؟ اور انہیں یہ نہ بتایا ہو کہ لانورث ما ترکنا صدقة؟۔ یا رسول اللہ (ص) (معاذ اللہ) اپنی بیٹی کو اپنی وفات کے بعد دردسر اور سرگردانی میں مبتلا کرنا چاہتے تھے؟ (58)
ضمیمہ
حدیث ما ترکنا کا افسانہ:
ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اس حدیث کی جرح آخر مقالہ میں پیش کی جائے گی مگر یہ جرح صرف مستندات پر مبنی ہے فیصلہ قارئین کو کرنا ہے کہ حق کہاں ہے اور باطل کہاں؟ ملاحظہ فرما‏‏ئیں:
عن عائشة ام المؤمنین حیث قالت: و اختلفوا فی میراثه فما وجدوا عند احد من ذالک علماء فقال ابوبکر سمعت رسول اللہ یقول (انا معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناه صدقة)۔ (60)
ترجمہ: عائشہ ام المؤمنین نے روایت کی ہے ۔۔۔۔ اور انھوں نے (سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ابوبکر نے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی میراث میں اختلاف کیا پس ابوبکر نے کہا: میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ فرمارہے تھے: ہم انبیاء ارث نہیں چھوڑا کرتے اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
قال ابن ابی الحدید المشھور انه لم یرو حدیث انتفاء الارث االا ابوبکر وحده۔
ترجمہ: ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ مورخین اور محدثین کے درمیان مشہور یہی ہے کہ ارث کی نفی کے بارے میں مذکورہ روایت ابوبکر کے سوا کسی نے بھی نقل نہیں کی ہے۔ (61 ـ 62)
اور ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے:
ان اکثر الروایات انہ لم یرو هذا الخبر الا ابوبکر وحده و ذکر ذالک اعظم المحدثین حتی ان الفقهاء فی اصول الفقه اطبقو علی ذالک فی احتجاجاتهم فی الخبر بروایة الصحابی الواحد و قال شیخنا ابوعلی لایقبل فی روایة الا روایة اثنین کالشهادة فخالفه المتکلمون و الفقهاء کلهم و احتجوا بقبول الصحابة بروایة ابی بکر وحده (نحن معاشرالانبیاء لا نورث) و مع هذا وضعوا احادیث اسندوا فیها الی غیر ابی بکر انه روی ذالک عن الرسول (ص)! (63)
ترجمہ: اکثر روایات میں تاکید ہوئی ہے کہ یہ خبر ـ اکیلےـ ابوبکر کے سوا کسی نے بھی نقل نہیں کی ہے اور اکثر محدثین ـ حتی فقہاء ـ نے اس روایت کو ان روایات میں شمار کیا ہے جو صرف ایک صحابی سے نقل ہوئی ہیں اور ہمارے شیخ (استاد) ابوعلی نے کہا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہے مگر یہ کہ وہ کم از کم دو صحابیوں سے نقل ہوئی ہو جس طرح کہ شہادت اور گواہی بھی صرف اسی صورت میں قابل قبول ہے جب گواہ دو مرد (یا دو عورتیں اور ایک مرد) ہوں چنانچہ تمام علمائے عقائد (متکلمین) اور فقہاء نے اپنے استدلالات میں اس کو مسترد کیا ہے۔ اورانھوں نے (نحن معاشرالانبیاء لا نورث) کو مقبولیت کا درجہ دینے کے لئے کہا ہے کہ چونکہ اس روایت کو صحابہ نے قبول کیا ہے لہذا ہم بھی اسے قبول کرتے ہیں! (اگرچہ قاعدے کے خلاف ہے) اور اس کے باوجود انھوں نے بعض دیگر احادیث وضع کی ہیں جو ابوبکر کے سوا دوسرے صحابہ سے منسوب کی گئی ہیں اور ان احادیث میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حدیث رسول اللہ (ص) سے نقل ہوئی ہے!۔ (64)
ان علیا قال لابی بکر عند ما ذکر ابو بکر حدیث انتفاء ارت النبی ( و ورث سلیمان داؤود) (65) و قال (یرثتی و یرث من آل یعقوب۔ (66) فقال ابوبکر: هو هکذا و انت و اللہ تعلم ما اعلم، فقال علی ع):هذا کتاب اللہ ینطق، فسکتوا و انصرفوا۔
ترجمہ: جب ابوبکر نے ارث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نفی والی حدیث کا حوالہ دیا تو علی (ع) نے کہا: اور سلیمان داؤد کا وارث ہؤا اور زکریا نے کہا (خداوندا مجھے ایسا ولی عنایت عطا فرما جو) میرا اور آل یعقوب کاوارث بنے ” اور ابوبکر نے کہا ایسا ہی ہے اور آپ جانتے ہیں جو میں جانتا ہوں۔ پس علی (ع) نے کہا: یہ کتاب خدا ہے جو بول رہی ہے۔ پس سب خاموش ہوئے اور مجلس برخاست ہوئی۔ (67)
بسط الخصومة علنيا في سقيفة ابى بكر
ترجمہ: عبدالعزیز الجوہری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سقیفۂ ابی بکر میں خصومت اور عداوت اعلانیہ طور پر پھیل گئی۔ (68)
ان فاطمة بنت محمد دخلت على ابى بكر وهو في حشد من المهاجرين والانصار ۔ ثم قالت : انا فاطمة بنت محمد اقول عودا على بدء : لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ۔ (68)، فان تعزوه تجدوه ابى دون آبائكم، واخ ابن عمى دون رجالكم ۔ ۔ ثم انتم الان تزعمون ان لا ارث لنا، أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ تَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللہ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ؟ (69) يابن ابى قحافة اترث اباك ولا ارث ابى ؟ ! ! لقد جئت شيئا فريا۔ (70)، فدونكها مخطومة تلقاك يوم حشرك، فنعم الحكم اللہ، والزعيم محمد، والموعد القيامة وعند الساعة يخسر المبطلون۔ (71 و 72)
ترجمہ: فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) ابوبکر پر وارد ہوئیں جب کہ مہاجرین اور انصار کی جمعیت حاضر تھی، اور فرمایا: میں فاطمہ بنت محمد (ص) ہوں ۔ ابتدا میں دہرانا چاہتی ہوں کہ: یقینا ایک رسول تم ہی میں سے تمہاری طرف آیا جس پر تمہاری تکالیف بہت گران گذرتی ہیں اور تمہاری ہدایت پر اصرار کرنے والا ہے اور مؤمنین پر رؤف اور مہربان ہے!” اگر تم توجہ کرو تو تم آپ (ص) کو میرا باپ پاؤگے جبکہ وہ تمہارا باپ نہیں ہے اور آپ (ص) کو میرے چچا زاد (علی (ع)) کا بھائی پاؤگے جبکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ پھر اب تم گمان کرتے ہو کہ ہمارے لئے ارث نہیں ہے؟ کیا تم دوبارہ جاہلیت کی حکمرانی چاہتے ہو؟ اور کون ہے جو یقین والوں کے لئے خدا سے بہتر حکم کرتا ہے؟۔ اے ابی قحافہ کے بیٹے! تم تو اپنے باپ کے وارث ہوسکتے ہو، میں رسول اللہ کی بیٹی اپنے باپ کی وارث نہیں ہوسکتی؟ تم نے نہایت عجیب اور برا عمل انجام دیا ہے۔ ۔۔۔ پس خدا کا حکم اور اس کافیصلہ بہترین ہے اور زعیم میرے والد محمد (ص) ہیں اور ہماری میعادگاہ قیامت ہے اور اس وقت باطل والے نقصان اٹھائیں گے۔
ان فاطمة قالت: افعلى عمد تركتم كتاب اللہ، ونبذتموه وراء ظهوركم، اذ يقول اللہ تبارك وتعالى (وَ وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ۔ (73)) وقال اللہ عزوجل فيما قص من خبر يحيى بن زكريا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ۔ (74) وقال عزوجل (وَأُوْلُواْ الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللہ۔ (75)) وقال (يُوصِيكُمُ اللہ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ۔ (76)) وقال (إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ۔ (77)) وزعمتم ان لا حظوة ولا ارث لى من ابى، ولا رحم بيننا، افخصكم اللہ بآية اخرج منها نبيه، ام تقولون اهل ملتين لا يتوارثون، او لست انا وابى من اهل ملة واحدة، ام لعلكم اعلم بخصوص القرآن وعمومه من النبى(ص) (افحكم الجاهلية تبغون۔ (78)
ترجمہ: حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: کیا تم نے جان کر کتاب اللہ کو ترک کیا اور اس کو اپنے پیچھے پھینک دیا؟ جب کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: (اور سلیمان داؤد کا وارث ہؤا) ۔ اور اللہ تعالی یحیی بن زکریا کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: (پس مجھے ایسا فرزند عطا کردے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو) اور خداوند عز وجل نے فرمایا: (خدا کے مقرر کئے ہوئے احکام میں قرابتدار اور رشتہ دار ایک دوسرے کے لئے (دوسروں سے) زیادہ ترجیح رکھتے ہیں) اور فرمایا: (خداوند تعالی فرزندوں کے بارے میں تمہیں سفارش کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ (میراث) دو لڑکیوں کی میراث کے برابر ہے) اور فرمایا: (تمہارے اوپر واجب کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے اگر اس نے اپنے پیچھے کوئی اچھی چیز چھوڑ رکھی ہو تو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لئے شایستہ انداز میں وصیت کرے یہ حق ہے پرہیزگاروں پر) اور تم نے گمان کیا کہ میرے لئے میرے والد سے کوئی بھی حصہ اور ارث نہیں ہے! اور ہمارے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے! پس کیا خدا نے ایک آیت تمہارے لئے مختص کردی اور اپنے نبی کو اس (آیت) سے نکال باہر کیا؟ یا پھر تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اگر رشتہ دار دو دینوں کے پیروکار ہوں تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے! یا یہ کہ میں اور میرے والد ایک دین کے پیروکار نہیں ہیں!! یا یہ کہ قرآن کے عموم اور خصوص کے بارے میں تم میرے والد سے زیادہ عالم اور جاننے والے ہو!!! کیا تم پھر بھی جاہلیت کی حکمرانی چاہتے ہو؟ (79)
ایک سوال: اگر اہل بیت اور اولاد نبی(ص)، نبی (ص) کے وارث نہیں ہوسکتے تو پھر کون آپ (ص) کا وارث ہوگا؟
اگر حدیث (لانورث) صحیح ہے تو اس میں تو کوئی بھی استثنا نظر نہیں آتی اور عائشہ کی روایت کے مطابق جناب سیدہ نے اپنا نمائندہ بھیج کر ابوبکر سے مدینہ اور فدک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا کی جانب سے لوٹائی جانے والی املاک میں سے اپنے ارث اور خیبر کےباقیماندہ خمس کا مطالبہ کیا۔ ابوبکر نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ “ہم انبیاء” کوئی ارث اپنے پیچھے نہیں چھوڑتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد (ص) کو ان اموال میں سے صرف اپنا حصہ مل سکتا ہے۔ اور یہ کہ ابوبکر نے جناب سیدہ کو کچھ بھی دینے سے انکارکیا۔ (80) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوبکر کے موقف میں کوئی استثنا نہیں تھی مگر ایک روایت ایسی بھی ملتی ہے جس میں ابوبکر استثنا کے قائل ہوئے ہیں اور اس روایت کا عنوان کچھ یوں ہے: استثناء من نفي ارث النبي و توريثه تحقيقا للعدالة و رحمة باهل البيت الكرام» فقد تفضل ابوبكر لقد دفعت ألة رسول اللہ و دابته و حذاه الي علي و ما سوي ذالك ينطبق عليه الحديث۔ (81)
ترجمہ: «ابوبکر کی جانب سے عدل و انصاف کو عملی جامہ پہنانے اور اہل بیت کرام پر رحم و شفقت کے عنوان سے ارث نبی (ص) کی نفی سے اسثناء» پس ابوبکر نے کہا: میں نے رسول اللہ کی شمشیر، آپ (ص) کا گھوڑا اور جوتے علی (ع) کے سپرد کئے اور اس کے سوا دیگر تمام اشیاء پر حدیث کا انطباق ہوتا ہے!!!۔
یہاں خلیفہ کے اس فضل و کرم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث واقعی رسول اللہ (ص) نے نہیں فرمائی تھی اور وہ رسول اللہ (ص) کی میراث میں سے اہم چیزیں بھی مستثنی کرسکتے تھے مگر اگر وہ قیمتی چیزیں اہل بیت (ع) کے ہاتھ میں رہتیں تو ان کی زندگی میں کبھی غربت نہیں آسکتی تھی۔ چنانچہ وہ لے لی گئیں اور جوتے اور گھوڑا اور تلوار علی علیہ السلام کے حوالے کردی گئی۔ مگر وہ اس بات سے غافل تھے کہ گھوڑا اور تلوار حاکمیت رسول کی منتقلی کی نشانی کے طور پر آپ (ص) کے حقیقی وارث کو ملنی چاہئے تھیں سو ایسا ہی ہؤا۔ بہر حال اس بات کا جواب ڈھونڈنا بہت ہی دشوار ہے کہ خلیفہ نے ایسا کیوں کیا اور فدک اور ساری دولت و جائیداد اہل بیت سے کیوں چھینی؟ کیوں کہ حدیث سے تو عدم ارث والی بات ثابت نہ ہوسکی۔ اب یہ نہیں معلوم کہ اس کا نام حسد رکھا جاسکتا ہے یا نہیں مگر یہ ظلم اور غصب کے زمرے سے خارج نہیں ہوسکتا۔ اور اگر یہ حدیث واقعی تھی اور تمام عقلی اور نقلی موانع کے باوجود فرض کیا جائے کہ رسول اکرم سے نقل ہوئی تھی تو پھر تو رسول اکرم کا ترکہ صدقہ تھا اور جوتے، تلوار اور گھوڑا بھی صدقہ ہی ہوگا جبکہ علی (ع) اور اہل بیت علیہم السلام پر صدقہ حرام تھا۔ چنانچہ نہ تو علی (ع) صدقہ لینے پر راضی ہوسکتے تھے اور نہ ہی خلیفہ صدقے کی پیشکش کرسکتے تھے اور پھر وہ جو علی اور فاطمہ علیہماالسلام کا حق لیکر صدقے میں تبدیل کررہے تھے اور اس کے لئے اس قسم کی حدیث کا سہارا لے رہے تھے تو وہ صدقہ ـ جو شرعا اہل بیت پر حرام تھا ـ کیونکر انہیں پیش کردیتے؟ چنانچہ ثابت ہوتا ہے کہ جس مال و ملک میں رحمت و شفقت و تفضل کی گنجائش ہو اس کے لئے کوئی شرعی مانع نہیں ہوتا اور شرعی مانع ہو تو ایک خلیفہ کو اس میں کسی بھی عنوان سے استثناء کا قائل ہونا ناقابل قبول ہوگا اور اگر تصور کیا جائے کہ حدیث صحیح تھی تو ان کا یہ تفضل امر حرام تھا اور اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا حاکم کیونکر حرام کا مرتکب ہوسکتا ہے؟ آپ خود ہی سوچ لیں۔اور ہاں! فدک تو اس یہ ثابت ہوچکا کہ وہ رسول اللہ (ص) نے اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹی کو عطا فرمایا تھا اور وہ ارث کا حصہ نہیں تھا چنانچہ اس پر سرکار کا قبضہ اعلانیہ طور پر غصب کے زمرے میں آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات اور مترجم کی توضیحات و ضمیمہ جات:1۔ مسند ابی یعلی ج2 ص534۔2۔ سورہ نمل آیت 16۔3۔ سورہ نمل آیت 164۔ الطبقات الکبری ـ ابن سعد ـ ج2 ص315۔5۔ سورة العلق آیت 1۔حدیث لانورث ما ترکناہ صدقہ کا افسانہ الگ مقالے کی شکل میں بھی آرہا ہے۔6۔ اہل سنت کے معتبر منابع نے صحابہ کے ایک گروہ سے روایت کی ہے: “اول من اسلم علی علیہ السلام” = سب سے پہلے علی علیہ السلام ایمان لے آئے (یعنی علی علیہ السلام وہ سابق الاسلام ہیں جن پر کوئی سبقت حاصل نہیں کرسکا ہے)۔ جن منابع نے گروہ صحابہ سے روایت کی ہے وہ کچھ یوں ہیں:الف) زید بن ارقم سے بسند صحیح سنن الترمذی ج5 ص600 ـ حدیث نمبر 3735 کتاب المناقب ب21 ـ مسند احمد بن حنبل ج4 ص371 و ص368- مستدرک علی الصحیحین حاکم نیسابوری و التخلیص ذهبی ج3 ص136، نے روایت کی ہے۔ب) سلمان فارسی سے مستدرک حاکم ج3 ص136 ـ مجمع الزوائد ابن کثیر ج9 ص 124 کتاب المناقب باب 4-4 حدیث 14599، نے بسند صحیح روایت کی ہے ج) عبد اللہ بن عباس: مستدرک حاکم ج3 ص465 نے بسند صحیح عبد اللہ بن عباس سی روایت کی ہے۔د) سعد ابن ابی وقاص: مستدرک حاکم و التخلیص ذهبی ج3 ص499 نے بسند صحیح سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے۔ھ) معقل بن یسار سے بسند صحیح مسند ابن حنبل ج5 ص126 و مجمع الزوائد ابن کثیر ج9 ص123 کتاب المناقب باب 37 ـ 4- 4 اسلامه علیه السلام ح14595 نے،و) عائشہ سے بسند صحیح الاصابة فی تمییز الصحاب‍ة میں ابن کثیر ج8 ص183 نے،ز) قثم بن عباس سے بسند صحیح مستدرک حاکم ج3 ص125 نے اورہ) علی علیہ السلام سے بسند صحیح مستدرک حاکم ج3 ص125 نے روایت کی ہے۔7۔ پیغمبر اکرم (ص) کا یہ کلام کہ “السلام علیکم یا اہل البیت” جس کے دلائل اگلے صفحات میں ذکر ہونگے، اس حقیقت کا ثبوت ہے۔8۔ رسول اکرم (ص) سے باسناد صحیح تواتر کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی (= میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں : کتاب خداوندی اور میری عترت یعنی اہل بیت علیہم السلام) اس کے منابع و مآخذ اتنے زیادہ ہیں کہ ذکر منابع کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی مگر نمونے کے عنوان سے بعض منابع یہان ذکر کئے جاتے ہیں: صحیح مسلم ج5 ص25 ح36 ـ (2408) و ص36 ح37 و سنن ترمذی ج5 ب32 ح621 و سنن نسائی ج5 ص45 و مسند احمد بن حنبل ج3 ص17 و مسند ابی یعلی ج4 ص297 و کتاب السنة الشیبانی ص 629 و معجم الکبیر للطبرانی ج5 ص166 رقم 4169۔9۔ بہت سے معتبر سنی منابع میں آیت تطہیر (إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا) کی شأن نزول “حضرت فاطمہ، آپ کے والد، خاوند اور دو بیٹوں کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سنن الترمذی ج5 ص621 رقم 3781 ـ خصائص النسائی صفحہ 4 مسند احمد بن حنبل ج6 ص298۔ حسکانی نے بھی شواهد التنزیل میں اس بات کی تأئید میں 30 حدیثیں ثبت کی ہیں۔10۔ ان النبی (ص) کان اذ اطلع الفجر یمر ببیت علی و فاطمة فیقول السلام علیکم یا اهل البیت الصلاة ” إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” اسدالغابة ـ ابن اثیر ـ ج5 صفحہ 174 ـ داراحیاء التراث العربی ـ نبی اکرم (ص) جب بھی نماز فجر کی لئے اٹھتے اور علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے گھر کے سامنے سے گذرتے تو فرماتے: سلام ہو تم پر اے اہل بیت ـ الصلاة الصلاة ـ اور خدا نے ارادہ فرمایا ہے الی آخر۔۔۔11۔ جب آیت مباهله ” فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللہ عَلَى الْكَاذِبِينَ” (آل عمران 61) نازل ہوئی رسول اللہ (ص) نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا خدا یا! یہ میرے اہل ہیں۔ صحیح مسلم ج5 فضائل الصحابة باب فضائل علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہما ص23 ح32۔12۔ سورہ نجم آیات 3 و 4۔13۔ صحیح بخاری ج3 ص96 کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باب مناقب فاطمة سلام اللہ علیہا۔14۔ سورہ حشر آیت 6۔ ترجمہ: اور جو کچھ خدا نے ان سے اپنے رسول (ص) کی طرف لوٹایا ہے، ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لئے نہ تو تم (مسلمانوں) نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ ہی اونٹ، مگر خدا اپنے رسل کو جس پر چاہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔15۔ سورہ اسراء آیت 26۔ ترجمہ: اور قرابت دار کو اس کا حق دے دو۔16۔ مسند ابی یعلی ج2 ص534 ح436 ۔ 1408، دار المأمون للتراث بیروت و تفسیر الدرالمنثور ج5 صص273 و 274۔17۔ معجم البلدان ج4 ص238۔18۔ معجم البلدان ج4 ص239۔19۔ معجم البلدان ج4 ص239۔20۔ معجم البلدان ج4 ص240۔21۔ سورہ توبہ آیت 128۔22۔ انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نماز فجر کے لئے نکلتے تو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کے سامنے سے گذرتے اور فرماتے ” الصلاة الصلاة یا اھل البیت – إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ـ درالمنثور ـ سیوطی ـ ج6 ص605- منقول از ابن ابی شیب‍ة ـ احمد ابن حنبل ـ ترمذی ـ ابن جریر طبری ـ ابن المنذر ـ الطبرانی ـ الحاکم اور ابن مردویه۔23۔ صحیح بخاری ج3 ص 96۔24۔ کنزالعمال ج13 ص674 ح73725۔25۔ سیر اعلام النبلاء ج2 ص224۔26۔ عن عائشة ان فاطمة بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) ارسلت الی ابی بکر تسأله میراثها من رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) مما افاء اللہ علیه بالمدینة و فدک و مابقی من خمس خیبر فقال ابوبکر: ان رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) قال: لا نورث ما ترکنا صدقة، انما یأکل آل محمد فی هذا المال و انی و اللہ لا اغیر شیئا من صدقة رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) عن حالها التی کان علیها فی عهد رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) و لاعملن فیها بما عمل به رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم )۔ فابی ابوبکر ان یدفع الی فاطمة منها شیئا فوجدت فاطمة ===== علی ابی بکر فی ذالک فهجرته فلم تکلمه حتی توفیت و عاشت فاطمة (سلام اللہ علیها) بعد النبی(صلی اللہ علیه وآله و سلم )ستة اشهر فلما توفیت دفنها زوجهاعلی(علیه السلام) ¬ لیلا و لم یؤذن بها ابابکر و صلی علیها۔ (صحیح بخاری ج3 ص252 کتاب المغازی باب 155- غزوة خیبر حدیث 704)27۔ سورہ حشر آیت 6۔28۔ سورہ حشر آیت 7۔29۔ “فَیئ” کی یہ قسم بظاہر وہ اموال اور آمدنیاں ہیں جو کفار کے مفتوحہ علاقوں سے جزیہ اور خراج یا مفتوحہ زمینوں، جنگلات وغیرہ سے حاصل ہوتی ہیں کیوں کہ جنگ کے دوران حاصل والے اموال غنیمت کے زمرے میں آتے ہیں اور سورہ انفال کی آیت 41 میں اس کا حکم دیگر آمدنیوں کے ضمن میں بیان ہؤا ہے (مترجم)۔30۔ اور بستیوں والوں کا جو کچھ (مال و مِلک) اللہ تعالی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اور رسول کے قرابتداروں اور یتیموں، مسکینوں کا اور راستے میں (بے خرچ) رہنے والے مسافروں کا ہے تا کہ تمہارے دولتمندوں کے ہاتھ میں ہے یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے(حشر 7)یعنی یہ کہ فیئ غنیمت کی مانند نہیں ہے جس کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر اکرم اور ضرورتمندوں کے لئے ہو اور باقی چار حصے جنگ میں شریک مجاہدین کے لئے ہو۔اس آیت میں فیئ کی تقسیم کے لئے ترجیحات بیان کی گئی ہیں۔ اور ان کا اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ہے گو کہ رسول اللہ ان اموال کو اپنی ذات کے لئے نہیں چاہتے بلکہ اسلامی حکومت کے رہبر اور امت کے زمامدار کی حیثیت سے وہ انہیں رفاہ عامہ کے کاموں میں ہی مصرف کرتے ہیں لیکن اگر وہ خود ان اموال میں بھی کوئی مصلحت تشخیص دین تو آپ (ص) کا اختیار ہے ۔ اسی آیت کے آخر میں ارشاد ہے : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللہ إِنَّ اللہ شَدِيدُ الْعِقَابِ (= جو کچھ رسول اللہ (ص) تمہیں عطا کرتے ہیں (اور جو کچھ تمہارے لائے ہیں) وہ تم لے لو (اور اس پر عمل کرو اور اکتفا کرو) اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمہیں روکا ہے، ان سے پرہیز کرو اور اور خدا سے درو کیونکہ خدا کا کیفر بہت شدید ہے۔) یہاں ان لوگوں کا جواب واضح طور پر دیا گیا ہے جو فیئ کی تقسیم کے حوالے سے اعتراض کررہے تھے۔ اور واضح ہوتا ہے کہ ان کا اختیار رسول اللہ کے پاس ہے اور کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ (مترجم)31۔ سورہ انفال آیت 41۔32۔ آیت کا مذکورہ بالا ترجمہ اہل سنت کے تراجم سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ جہاں اہل سنت کے مترجمین و بعض مفسرین نے کہا ہے کہ غنمتم من شیئ سے مراد یہ ہے کہ تم جس قسم کی جوکچھ غنیمت حاصل کرو اور اس کی تفسیر میں “من شیئ” (اور جو کچھ) سے تھوڑا یا زیادہ یا قیمتی یا سستا مراد لی گئی ہے۔ (ترجمہ و تفسیر مولوی محمد جوناگرھی مطبوعہ شاہ فہد پرنتنگ پریس 1417 ھ مدینہ منورہ ) جبکہ شیعہ تراجم میں قرآنی آیت کے ظاہری مفہوم کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے اور آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے: اور جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ (آمدنی) حاصل ہو۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا کے پاس جو خود حرف اور لفظ کا خالق ہے اور اسی نے انسانوں کو بولنا اور لکھنا سکھایا ہے، الفاظ کی کمی نہ تھی اور مراد غنیمت ہوتی تو شیئ کی بجائے “قتال” یا “حرب” یا “غزوہ” کا لفظ بھی لا سکتا تھا اور پھر ہمارے تمام مراجع تقلید اور علما‎ئے فقہ کا اسی مفہوم سے اتفاق ہے اور انھوں نے شیئ کے ساتھ مصادیق بیان کئے ہیں جن میں ایک جنگی غنیمت بھی ہے۔(مترجم)۔33۔ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے وقت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا بے قرار تھیں اور رو رہی تھیں۔ آپ (ص) نے اپنی بیتی کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ کہا تو بی بی مسکرانے لگیں۔ سبب دریافت کیا گیا تو سیدہ نے فرمایا: میں آپ (ص) کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے غم میں رو رہی تھی تو آپ (ص) نے فرمایا کہ میں (فاطمہ) آپ (ص) کے خاندان میں سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جاملوں گی۔ چنانچہ میں خوش ہوکر مسکرائی۔ صحیح بخاری ج3 باب 42 ص83 مناقب قرابة الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حدیث 233۔34۔ ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ارشاد الہی :” وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا( سورة الانسان ـ آیت 8 ترجمہ: اور وہ خدا اپنا کھانا ـ جسے وہ چاہتے ہیں (اور جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے) – «مسكين‏» اور «يتيم‏» اور «اسير» کو دے دیتے ہیں !)، علی ابن ابیطالب اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلوات اللہ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ تفسیر درّالمنثور ـ سیوطی ـ ج8 ص371۔اہل بیت نبی (ص) کی عظمت کی عظیم سند۔ابـن عباس کہتے ہیں : ((حسن اور حسين علیہما السلام بیمار ہوئے, پيغمبر (ص) بعض صحابہ کے ہمراہ ان کی عیادت کو تشریف لائے اور آپ (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: اى ابوالحسن ! بہتر تھا کہ آپ اپنے بیٹوں کی شفا کے لئے نذر مان لیتے۔عـلـى (ع ) اور فـاطـمہ (س) اور سیدہ (س) کی خادمہ فضہ نے نذر مان لیا کہ اگر ان دو سیدوں کو شفا ملے تو وہ تین دن تک روزہ رکھیں گے۔کچھ دنوں میں دونوں کو شفا ملی اور دونوں صحتیاب ہوئے، اب حبکہ غذائی مواد کے لحاظ سے گھر خالی تھا، علی (ع) نے تین من (تقریبا 9 کلوگرام) جو قرض پر اٹھایا اور فاطمہ (س) نے ایک تہائی جو پیس کر آٹا تیار کیا اور روٹیاں پکالیں۔ افطار کے وقت ایک سائل دروازے پر حاضر ہؤا اور کہا: ((السلام عليكم یا اہل بيت محمد(ص ) سلام ہو آپ پر ¬ اے اہل بیت محمد (ص)! میں مسلمان مساکین میں سے ایک مسکین ہوں مجھے کھانا عنایت فرمائیں))۔ان سب نے مسکین کو اپنے اوپر مقدم رکھا اور ہر ایک نے کھانے میں سے اپنا حصہ مسکین کو دیا اور رات پانی پی کر بسر کی۔دوسرے روز پھر سب نے روزہ رکھا۔ افطار کے لئے کھانا تیار تھا کہ اسی اثناء میں دروازے پر ایک یتیم حاضر ہؤا اور انھوں نے اس روز بھی اپنا کھانا یتیم کے حوالے کیا اور پانی پی کر روزہ افطار کیا (اور تیسرے روز بھی روزہ رکھا)۔تیسرے روز ایک اسیر وقت مغرب دروازے پر آیا اور سب نے کھانے میں سے اپنا حصہ اسیر کو بخشا۔ جب صبح ہوئی علی (ع) حسن و حسین علیہما السلام کے ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو وہ بھوک کی شدت سے کانپ رہے تھے۔ فرمایا: آپ لوگوں کی یہ حالت مجھ پر بہت بھاری ہے، چنانچہ آپ (ص) اٹھے اور ان کے ہمراہ سیدہ (س) کے گھر تشریف لائے۔ دیکھا تو سیدہ محراب مین کھڑی نماز پڑھ رہی ہیں، جبکہ بھوک کی شدت سے شکم کمر سے چپکا ہؤا ہے اور آنکھیں گود پڑ گئی ہیں۔ پيغمبر(ص ) بہت ہی ناراحت ہوئے۔ اسی حال میں جبرئيل امین نازل ہوئے اور کہا: اے محمد (ص)! یہ سورت لے لیں اور جان لیں کہ ایسے عظیم خاندان کی عظمت کی آپ کو تبریک ونہنیت کہتا ہے اور پھر جبرائیل امین نے آپ (ص) پر سورہ دہر کی تلاوت کی))۔(مترجم بحوالہ تفسیر نمونہ)۔35۔ صحیح بخاری ـ ج5 ـ ص82 و 96۔36۔ صحیح مسلم ج3 ـ کتاب الامارة ـ باب الامر بلزوم الجماعة ـ دوسری روایت اہل تسنن کے نزدیک ہی معتبر ہے اور پہلی روایت پر شیعہ اور سنی راویوں کا اتفاق ہے۔37۔ صحیح مسلم ج3 ـ کتاب الامارة ـ باب الامر بلزوم الجماعة ـ صحیح بخاری ج4 ـ کتاب الفتن ـ باب قول النبی سترون بعدی اموراً۔38۔ تہران کی مسجد ۔۔۔۔۔ کے ایک امام جماعت کہتے ہیں کہ سنہ ۔۔۔۔۔ میں الغدیر کے مؤلف علامہ عبدالحسین امینی رحمہ اللہ نجف سے تہران تشریف لائے تو میں بھی ان کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا اور علامہ سے درخواست کی کہ ہمارے غریب خانے بھی تشریف لائیں۔ علامہ نے میری دعوت قبول کرلی۔ میں نے علامہ کے اعزاز میں دیگر افراد کو بھی دعوت دی تھی وہ سب حاضر تھے کہ علامہ تشریف لائے اور ہم نے استقبال کیا۔ رات کو میں نے علامہ سے درخواست کی کہ کوئی ایسی بات سنائیں جس سے استفادہ کیا جاسکے اور روحانی تسکین کا سبب بنے۔ علامہ امینی نے فرمایا:«میں بعض کتب کا مطالعہ کرنے شام کے شہر حلب گیا اور وہیں مصروف مطالعہ ہوا۔ اس دوران ایک سنی تاجر سے شناسائی ہوئی۔ وہ نہایت مہذب اور منطقی انسان تھے اور میری ان کی دوستی بڑھتی گئی۔۔۔ ایک روز انھوں نے مجھے کھانے کی دعوت دی اور اپنے گھر بلایا۔ میں نے دعوت قبول کی اور جب رات کو ان کے گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شہر حلب کے تمام بزرگ شخصیات حاضر ہیں۔ بلندپایہ علمائے دین، جامعہ حلب کے اساتذہ، وکلاء، تجار و دکاندار؛ غرض ہر طبقے کے افراد کے علاوہ حلب کے قاضی القضات بھی موجود ہیں۔ کھانا کھایا گیا اور مہمانوں کی پذیرایی ہوئی تو قاضی القضات نے میری طرف رخ کیا اور کہا: جناب امینی صاحب! یہ شیعہ کیا مذہب ہے، اس کی بنیاد و اساس کیا ہے جس کا پیچھا تم سے چھوڑا ہی نہیں جارہا؟میں نے کہا: کیا یہ حدیث آپ کے ہاں قابل قبول ہے یا نہیں: «قال رسول اللہ (ص): من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة الجاہلیة = جس نے اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر موت کو گلے لگایا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے»؟انھوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔میں نے کہا: آج کی بحث جاری رکھنے کے لئے یھی حدیث کافی ہے۔ قاضی القضات نے خاموشی اختیار کرلی۔۔۔تھوڑی دیر بعد میں نے پوچھا: آپ کی نظر میں حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کس پائے کی خاتون ہیں؟کہنے لگے: “انہا مطہرة بنص الکتاب”۔ نص قرآن کے مطابق سیدہ سلام اللہ علیہا پاک و مطہر بی بی ہیں اور حضرت زہراء (ص) آل رسول کے عظیم مصادیق میں سے ایک ہیں۔میں نے کہا: “حضرت فاطمہ حکام وقت سے ناراض و غضبناک ہوکر کیوں دنیا سے رخصت ہوئیں؟ کیا وہ امام امت اور رسول اللہ کے خلفاء برحق نہ تھے؟ یا پھر معاذاللہ حضرت فاطمہ (س) امام وقت کی معرفت حاصل کئے بغیر جاہلیت کی موت مریں!؟حلب کے عالم حیرت میں ڈوب گئے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ کہ حضرت زہراء کا غضب اور آپ (س) کی ناراضگی صحیح تھے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ حکومت وقت باطل تھی۔۔۔ اور اگر کہتے کہ سیدہ (س) سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور آپ (س) معرفت امام کے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوئی ہیں تو یہ فاش غلطی ان کے مقام عصمت کے منافی ہوتی۔ جبکہ آپ (ص) کے مقام عصمت و طہارت کی گواہی قرآن مجید نی دی ہے۔حلب کے قاضی القضات بحث کی سمت تبدیل کرنے کی غرض سے بولے: جناب امینی! ہماری بحث کا حکام عصر کی نسبت حضرت زہراء کے غضب و ناراضگی سے کیا تعلق ہے؟مجلس میں حاضر افراد علم و دانش کے لحاظ سے اعلی مراتب پر فائز تھے اور انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ علامہ امینی نے اس مختصر سی بحث میں کیا کاری ضرب ان کے عقائد پر لگائی ہے!میں نے کہا: آپ لوگوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا ہے بلکہ ان افراد کی حقانیت کے حوالے سے بھی شک و تردد میں مبتلا ہیں جن کو آپ خلفاء رسول (ص) سمجھتے ہیں۔۔۔ہمارے میزبان جو ایک طرف کھڑے تھے قاضی القضات سے کہنے لگے: «شیخنا اسکت؛ قد افتضحنا = ہمارے شیخ! خاموش ہوجاؤ کہ ہم رسوا ہوگئے؛ یعنی آپ نے ہمیں رسوا کردیا”»۔ہماری بحث صبح تک جاری رہی اور صبح کے قریب جامعہ کے متعدد اساتذہ، قاضی اور تاجر حضرات سجدے میں گر گئے اور مذہب تشیع اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد انھوں نے علامہ امینی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں کشتی نجات میں بٹھانے کا اہتمام کیا تھا۔حوالہ جات اور مترجم کی توضیحات:1۔ مسند ابی یعلی ج2 ص534۔2۔ سورہ نمل آیت 16۔3۔ سورہ نمل آیت 164۔ الطبقات الکبری ـ ابن سعد ـ ج2 ص315۔5۔ سورة العلق آیت 1۔حدیث لانورث ما ترکناہ صدقہ کا افسانہ الگ مقالے کی شکل میں بھی آرہا ہے۔6۔ اہل سنت کے معتبر منابع نے صحابہ کے ایک گروہ سے روایت کی ہے: “اول من اسلم علی علیہ السلام” = سب سے پہلے علی علیہ السلام ایمان لے آئے (یعنی علی علیہ السلام وہ سابق الاسلام ہیں جن پر کوئی سبقت حاصل نہیں کرسکا ہے)۔ جن منابع نے گروہ صحابہ سے روایت کی ہے وہ کچھ یوں ہیں:الف) زید بن ارقم سے بسند صحیح سنن الترمذی ج5 ص600 ـ حدیث نمبر 3735 کتاب المناقب ب21 ـ مسند احمد بن حنبل ج4 ص371 و ص368- مستدرک علی الصحیحین حاکم نیسابوری و التخلیص ذهبی ج3 ص136، نے روایت کی ہے۔ب) سلمان فارسی سے مستدرک حاکم ج3 ص136 ـ مجمع الزوائد ابن کثیر ج9 ص 124 کتاب المناقب باب 4-4 حدیث 14599، نے بسند صحیح روایت کی ہے ج) عبد اللہ بن عباس: مستدرک حاکم ج3 ص465 نے بسند صحیح عبد اللہ بن عباس سی روایت کی ہے۔د) سعد ابن ابی وقاص: مستدرک حاکم و التخلیص ذهبی ج3 ص499 نے بسند صحیح سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے۔ھ) معقل بن یسار سے بسند صحیح مسند ابن حنبل ج5 ص126 و مجمع الزوائد ابن کثیر ج9 ص123 کتاب المناقب باب 37 ـ 4- 4 اسلامه علیه السلام ح14595 نے،و) عائشہ سے بسند صحیح الاصابة فی تمییز الصحاب‍ة میں ابن کثیر ج8 ص183 نے،ز) قثم بن عباس سے بسند صحیح مستدرک حاکم ج3 ص125 نے اورہ) علی علیہ السلام سے بسند صحیح مستدرک حاکم ج3 ص125 نے روایت کی ہے۔7۔ پیغمبر اکرم (ص) کا یہ کلام کہ “السلام علیکم یا اہل البیت” جس کے دلائل اگلے صفحات میں ذکر ہونگے، اس حقیقت کا ثبوت ہے۔8۔ رسول اکرم (ص) سے باسناد صحیح تواتر کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی (= میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں : کتاب خداوندی اور میری عترت یعنی اہل بیت علیہم السلام) اس کے منابع و مآخذ اتنے زیادہ ہیں کہ ذکر منابع کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی مگر نمونے کے عنوان سے بعض منابع یہان ذکر کئے جاتے ہیں: صحیح مسلم ج5 ص25 ح36 ـ (2408) و ص36 ح37 و سنن ترمذی ج5 ب32 ح621 و سنن نسائی ج5 ص45 و مسند احمد بن حنبل ج3 ص17 و مسند ابی یعلی ج4 ص297 و کتاب السنة الشیبانی ص 629 و معجم الکبیر للطبرانی ج5 ص166 رقم 4169۔9۔ بہت سے معتبر سنی منابع میں آیت تطہیر (إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا) کی شأن نزول “حضرت فاطمہ، آپ کے والد، خاوند اور دو بیٹوں کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سنن الترمذی ج5 ص621 رقم 3781 ـ خصائص النسائی صفحہ 4 مسند احمد بن حنبل ج6 ص298۔ حسکانی نے بھی شواهد التنزیل میں اس بات کی تأئید میں 30 حدیثیں ثبت کی ہیں۔10۔ ان النبی (ص) کان اذ اطلع الفجر یمر ببیت علی و فاطمة فیقول السلام علیکم یا اهل البیت الصلاة ” إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا” اسدالغابة ـ ابن اثیر ـ ج5 صفحہ 174 ـ داراحیاء التراث العربی ـ نبی اکرم (ص) جب بھی نماز فجر کی لئے اٹھتے اور علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے گھر کے سامنے سے گذرتے تو فرماتے: سلام ہو تم پر اے اہل بیت ـ الصلاة الصلاة ـ اور خدا نے ارادہ فرمایا ہے الی آخر۔۔۔11۔ جب آیت مباهله ” فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللہ عَلَى الْكَاذِبِينَ” (آل عمران 61) نازل ہوئی رسول اللہ (ص) نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا خدا یا! یہ میرے اہل ہیں۔ صحیح مسلم ج5 فضائل الصحابة باب فضائل علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہما ص23 ح32۔12۔ سورہ نجم آیات 3 و 4۔13۔ صحیح بخاری ج3 ص96 کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باب مناقب فاطمة سلام اللہ علیہا۔14۔ سورہ حشر آیت 6۔ ترجمہ: اور جو کچھ خدا نے ان سے اپنے رسول (ص) کی طرف لوٹایا ہے، ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لئے نہ تو تم (مسلمانوں) نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ ہی اونٹ، مگر خدا اپنے رسل کو جس پر چاہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔15۔ سورہ اسراء آیت 26۔ ترجمہ: اور قرابت دار کو اس کا حق دے دو۔16۔ مسند ابی یعلی ج2 ص534 ح436 ۔ 1408، دار المأمون للتراث بیروت و تفسیر الدرالمنثور ج5 صص273 و 274۔17۔ معجم البلدان ج4 ص238۔18۔ معجم البلدان ج4 ص239۔19۔ معجم البلدان ج4 ص239۔20۔ معجم البلدان ج4 ص240۔21۔ سورہ توبہ آیت 128۔22۔ انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نماز فجر کے لئے نکلتے تو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کے سامنے سے گذرتے اور فرماتے ” الصلاة الصلاة یا اھل البیت – إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ـ درالمنثور ـ سیوطی ـ ج6 ص605- منقول از ابن ابی شیب‍ة ـ احمد ابن حنبل ـ ترمذی ـ ابن جریر طبری ـ ابن المنذر ـ الطبرانی ـ الحاکم اور ابن مردویه۔23۔ صحیح بخاری ج3 ص 96۔24۔ کنزالعمال ج13 ص674 ح73725۔25۔ سیر اعلام النبلاء ج2 ص224۔26۔ عن عائشة ان فاطمة بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) ارسلت الی ابی بکر تسأله میراثها من رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) مما افاء اللہ علیه بالمدینة و فدک و مابقی من خمس خیبر فقال ابوبکر: ان رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) قال: لا نورث ما ترکنا صدقة، انما یأکل آل محمد فی هذا المال و انی و اللہ لا اغیر شیئا من صدقة رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) عن حالها التی کان علیها فی عهد رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) و لاعملن فیها بما عمل به رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم )۔ فابی ابوبکر ان یدفع الی فاطمة منها شیئا فوجدت فاطمة ===== علی ابی بکر فی ذالک فهجرته فلم تکلمه حتی توفیت و عاشت فاطمة (سلام اللہ علیها) بعد النبی(صلی اللہ علیه وآله و سلم )ستة اشهر فلما توفیت دفنها زوجهاعلی(علیه السلام) ¬ لیلا و لم یؤذن بها ابابکر و صلی علیها۔ (صحیح بخاری ج3 ص252 کتاب المغازی باب 155- غزوة خیبر حدیث 704)27۔ سورہ حشر آیت 6۔28۔ سورہ حشر آیت 7۔29۔ “فَیئ” کی یہ قسم بظاہر وہ اموال اور آمدنیاں ہیں جو کفار کے مفتوحہ علاقوں سے جزیہ اور خراج یا مفتوحہ زمینوں، جنگلات وغیرہ سے حاصل ہوتی ہیں کیوں کہ جنگ کے دوران حاصل والے اموال غنیمت کے زمرے میں آتے ہیں اور سورہ انفال کی آیت 41 میں اس کا حکم دیگر آمدنیوں کے ضمن میں بیان ہؤا ہے (مترجم)۔30۔ اور بستیوں والوں کا جو کچھ (مال و مِلک) اللہ تعالی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اور رسول کے قرابتداروں اور یتیموں، مسکینوں کا اور راستے میں (بے خرچ) رہنے والے مسافروں کا ہے تا کہ تمہارے دولتمندوں کے ہاتھ میں ہے یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے(حشر 7)یعنی یہ کہ فیئ غنیمت کی مانند نہیں ہے جس کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر اکرم اور ضرورتمندوں کے لئے ہو اور باقی چار حصے جنگ میں شریک مجاہدین کے لئے ہو۔اس آیت میں فیئ کی تقسیم کے لئے ترجیحات بیان کی گئی ہیں۔ اور ان کا اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ہے گو کہ رسول اللہ ان اموال کو اپنی ذات کے لئے نہیں چاہتے بلکہ اسلامی حکومت کے رہبر اور امت کے زمامدار کی حیثیت سے وہ انہیں رفاہ عامہ کے کاموں میں ہی مصرف کرتے ہیں لیکن اگر وہ خود ان اموال میں بھی کوئی مصلحت تشخیص دین تو آپ (ص) کا اختیار ہے ۔ اسی آیت کے آخر میں ارشاد ہے : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللہ إِنَّ اللہ شَدِيدُ الْعِقَابِ (= جو کچھ رسول اللہ (ص) تمہیں عطا کرتے ہیں (اور جو کچھ تمہارے لائے ہیں) وہ تم لے لو (اور اس پر عمل کرو اور اکتفا کرو) اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمہیں روکا ہے، ان سے پرہیز کرو اور اور خدا سے درو کیونکہ خدا کا کیفر بہت شدید ہے۔) یہاں ان لوگوں کا جواب واضح طور پر دیا گیا ہے جو فیئ کی تقسیم کے حوالے سے اعتراض کررہے تھے۔ اور واضح ہوتا ہے کہ ان کا اختیار رسول اللہ کے پاس ہے اور کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ (مترجم)31۔ سورہ انفال آیت 41۔32۔ آیت کا مذکورہ بالا ترجمہ اہل سنت کے تراجم سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ جہاں اہل سنت کے مترجمین و بعض مفسرین نے کہا ہے کہ غنمتم من شیئ سے مراد یہ ہے کہ تم جس قسم کی جوکچھ غنیمت حاصل کرو اور اس کی تفسیر میں “من شیئ” (اور جو کچھ) سے تھوڑا یا زیادہ یا قیمتی یا سستا مراد لی گئی ہے۔ (ترجمہ و تفسیر مولوی محمد جوناگرھی مطبوعہ شاہ فہد پرنتنگ پریس 1417 ھ مدینہ منورہ ) جبکہ شیعہ تراجم میں قرآنی آیت کے ظاہری مفہوم کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے اور آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے: اور جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ (آمدنی) حاصل ہو۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا کے پاس جو خود حرف اور لفظ کا خالق ہے اور اسی نے انسانوں کو بولنا اور لکھنا سکھایا ہے، الفاظ کی کمی نہ تھی اور مراد غنیمت ہوتی تو شیئ کی بجائے “قتال” یا “حرب” یا “غزوہ” کا لفظ بھی لا سکتا تھا اور پھر ہمارے تمام مراجع تقلید اور علما‎ئے فقہ کا اسی مفہوم سے اتفاق ہے اور انھوں نے شیئ کے ساتھ مصادیق بیان کئے ہیں جن میں ایک جنگی غنیمت بھی ہے۔(مترجم)۔33۔ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے وقت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا بے قرار تھیں اور رو رہی تھیں۔ آپ (ص) نے اپنی بیتی کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ کہا تو بی بی مسکرانے لگیں۔ سبب دریافت کیا گیا تو سیدہ نے فرمایا: میں آپ (ص) کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے غم میں رو رہی تھی تو آپ (ص) نے فرمایا کہ میں (فاطمہ) آپ (ص) کے خاندان میں سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جاملوں گی۔ چنانچہ میں خوش ہوکر مسکرائی۔ صحیح بخاری ج3 باب 42 ص83 مناقب قرابة الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حدیث 233۔34۔ ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ارشاد الہی :” وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا( سورة الانسان ـ آیت 8 ترجمہ: اور وہ خدا اپنا کھانا ـ جسے وہ چاہتے ہیں (اور جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے) – «مسكين‏» اور «يتيم‏» اور «اسير» کو دے دیتے ہیں !)، علی ابن ابیطالب اور سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلوات اللہ علیہم اجمعین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ تفسیر درّالمنثور ـ سیوطی ـ ج8 ص371۔اہل بیت نبی (ص) کی عظمت کی عظیم سند۔ابـن عباس کہتے ہیں : ((حسن اور حسين علیہما السلام بیمار ہوئے, پيغمبر (ص) بعض صحابہ کے ہمراہ ان کی عیادت کو تشریف لائے اور آپ (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: اى ابوالحسن ! بہتر تھا کہ آپ اپنے بیٹوں کی شفا کے لئے نذر مان لیتے۔عـلـى (ع ) اور فـاطـمہ (س) اور سیدہ (س) کی خادمہ فضہ نے نذر مان لیا کہ اگر ان دو سیدوں کو شفا ملے تو وہ تین دن تک روزہ رکھیں گے۔کچھ دنوں میں دونوں کو شفا ملی اور دونوں صحتیاب ہوئے، اب حبکہ غذائی مواد کے لحاظ سے گھر خالی تھا، علی (ع) نے تین من (تقریبا 9 کلوگرام) جو قرض پر اٹھایا اور فاطمہ (س) نے ایک تہائی جو پیس کر آٹا تیار کیا اور روٹیاں پکالیں۔ افطار کے وقت ایک سائل دروازے پر حاضر ہؤا اور کہا: ((السلام عليكم یا اہل بيت محمد(ص ) سلام ہو آپ پر ¬ اے اہل بیت محمد (ص)! میں مسلمان مساکین میں سے ایک مسکین ہوں مجھے کھانا عنایت فرمائیں))۔ان سب نے مسکین کو اپنے اوپر مقدم رکھا اور ہر ایک نے کھانے میں سے اپنا حصہ مسکین کو دیا اور رات پانی پی کر بسر کی۔دوسرے روز پھر سب نے روزہ رکھا۔ افطار کے لئے کھانا تیار تھا کہ اسی اثناء میں دروازے پر ایک یتیم حاضر ہؤا اور انھوں نے اس روز بھی اپنا کھانا یتیم کے حوالے کیا اور پانی پی کر روزہ افطار کیا (اور تیسرے روز بھی روزہ رکھا)۔تیسرے روز ایک اسیر وقت مغرب دروازے پر آیا اور سب نے کھانے میں سے اپنا حصہ اسیر کو بخشا۔ جب صبح ہوئی علی (ع) حسن و حسین علیہما السلام کے ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو وہ بھوک کی شدت سے کانپ رہے تھے۔ فرمایا: آپ لوگوں کی یہ حالت مجھ پر بہت بھاری ہے، چنانچہ آپ (ص) اٹھے اور ان کے ہمراہ سیدہ (س) کے گھر تشریف لائے۔ دیکھا تو سیدہ محراب مین کھڑی نماز پڑھ رہی ہیں، جبکہ بھوک کی شدت سے شکم کمر سے چپکا ہؤا ہے اور آنکھیں گود پڑ گئی ہیں۔ پيغمبر(ص ) بہت ہی ناراحت ہوئے۔ اسی حال میں جبرئيل امین نازل ہوئے اور کہا: اے محمد (ص)! یہ سورت لے لیں اور جان لیں کہ ایسے عظیم خاندان کی عظمت کی آپ کو تبریک ونہنیت کہتا ہے اور پھر جبرائیل امین نے آپ (ص) پر سورہ دہر کی تلاوت کی))۔(مترجم بحوالہ تفسیر نمونہ)۔35۔ صحیح بخاری ـ ج5 ـ ص82 و 96۔36۔ صحیح مسلم ج3 ـ کتاب الامارة ـ باب الامر بلزوم الجماعة ـ دوسری روایت اہل تسنن کے نزدیک ہی معتبر ہے اور پہلی روایت پر شیعہ اور سنی راویوں کا اتفاق ہے۔37۔ صحیح مسلم ج3 ـ کتاب الامارة ـ باب الامر بلزوم الجماعة ـ صحیح بخاری ج4 ـ کتاب الفتن ـ باب قول النبی سترون بعدی اموراً۔38۔ تہران کی مسجد ۔۔۔۔۔ کے ایک امام جماعت کہتے ہیں کہ سنہ ۔۔۔۔۔ میں الغدیر کے مؤلف علامہ عبدالحسین امینی رحمہ اللہ نجف سے تہران تشریف لائے تو میں بھی ان کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا اور علامہ سے درخواست کی کہ ہمارے غریب خانے بھی تشریف لائیں۔ علامہ نے میری دعوت قبول کرلی۔ میں نے علامہ کے اعزاز میں دیگر افراد کو بھی دعوت دی تھی وہ سب حاضر تھے کہ علامہ تشریف لائے اور ہم نے استقبال کیا۔ رات کو میں نے علامہ سے درخواست کی کہ کوئی ایسی بات سنائیں جس سے استفادہ کیا جاسکے اور روحانی تسکین کا سبب بنے۔ علامہ امینی نے فرمایا:«میں بعض کتب کا مطالعہ کرنے شام کے شہر حلب گیا اور وہیں مصروف مطالعہ ہوا۔ اس دوران ایک سنی تاجر سے شناسائی ہوئی۔ وہ نہایت مہذب اور منطقی انسان تھے اور میری ان کی دوستی بڑھتی گئی۔۔۔ ایک روز انھوں نے مجھے کھانے کی دعوت دی اور اپنے گھر بلایا۔ میں نے دعوت قبول کی اور جب رات کو ان کے گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شہر حلب کے تمام بزرگ شخصیات حاضر ہیں۔ بلندپایہ علمائے دین، جامعہ حلب کے اساتذہ، وکلاء، تجار و دکاندار؛ غرض ہر طبقے کے افراد کے علاوہ حلب کے قاضی القضات بھی موجود ہیں۔ کھانا کھایا گیا اور مہمانوں کی پذیرایی ہوئی تو قاضی القضات نے میری طرف رخ کیا اور کہا: جناب امینی صاحب! یہ شیعہ کیا مذہب ہے، اس کی بنیاد و اساس کیا ہے جس کا پیچھا تم سے چھوڑا ہی نہیں جارہا؟میں نے کہا: کیا یہ حدیث آپ کے ہاں قابل قبول ہے یا نہیں: «قال رسول اللہ (ص): من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة الجاہلیة = جس نے اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر موت کو گلے لگایا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے»؟انھوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔میں نے کہا: آج کی بحث جاری رکھنے کے لئے یھی حدیث کافی ہے۔ قاضی القضات نے خاموشی اختیار کرلی۔۔۔تھوڑی دیر بعد میں نے پوچھا: آپ کی نظر میں حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کس پائے کی خاتون ہیں؟کہنے لگے: “انہا مطہرة بنص الکتاب”۔ نص قرآن کے مطابق سیدہ سلام اللہ علیہا پاک و مطہر بی بی ہیں اور حضرت زہراء (ص) آل رسول کے عظیم مصادیق میں سے ایک ہیں۔میں نے کہا: “حضرت فاطمہ حکام وقت سے ناراض و غضبناک ہوکر کیوں دنیا سے رخصت ہوئیں؟ کیا وہ امام امت اور رسول اللہ کے خلفاء برحق نہ تھے؟ یا پھر معاذاللہ حضرت فاطمہ (س) امام وقت کی معرفت حاصل کئے بغیر جاہلیت کی موت مریں!؟حلب کے عالم حیرت میں ڈوب گئے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ کہ حضرت زہراء کا غضب اور آپ (س) کی ناراضگی صحیح تھے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ حکومت وقت باطل تھی۔۔۔ اور اگر کہتے کہ سیدہ (س) سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور آپ (س) معرفت امام کے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوئی ہیں تو یہ فاش غلطی ان کے مقام عصمت کے منافی ہوتی۔ جبکہ آپ (ص) کے مقام عصمت و طہارت کی گواہی قرآن مجید نی دی ہے۔حلب کے قاضی القضات بحث کی سمت تبدیل کرنے کی غرض سے بولے: جناب امینی! ہماری بحث کا حکام عصر کی نسبت حضرت زہراء کے غضب و ناراضگی سے کیا تعلق ہے؟مجلس میں حاضر افراد علم و دانش کے لحاظ سے اعلی مراتب پر فائز تھے اور انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ علامہ امینی نے اس مختصر سی بحث میں کیا کاری ضرب ان کے عقائد پر لگائی ہے!میں نے کہا: آپ لوگوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا ہے بلکہ ان افراد کی حقانیت کے حوالے سے بھی شک و تردد میں مبتلا ہیں جن کو آپ خلفاء رسول (ص) سمجھتے ہیں۔۔۔ہمارے میزبان جو ایک طرف کھڑے تھے قاضی القضات سے کہنے لگے: «شیخنا اسکت؛ قد افتضحنا = ہمارے شیخ! خاموش ہوجاؤ کہ ہم رسوا ہوگئے؛ یعنی آپ نے ہمیں رسوا کردیا”»۔ہماری بحث صبح تک جاری رہی اور صبح کے قریب جامعہ کے متعدد اساتذہ، قاضی اور تاجر حضرات سجدے میں گر گئے اور مذہب تشیع اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد انھوں نے علامہ امینی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں کشتی نجات میں بٹھانے کا اہتمام کیا تھا۔39۔ صحیح بخاری ج5 ص96۔40۔ کنزالعمال ج13 ص674 حدیث 37725۔41۔ سورہ طہ آیت 81۔42۔ مقالی کی آخر مین حدیث لا نورث کی مکمل مگر مختصر جرح کی گئی ہی۔(مترجم)43۔ سورہ نمل آیت 16۔44۔ سورہ مریم آیات 5 و 6۔45۔ البتہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ (ص) عقل کُلّ کے مالک ہیں اور وحی الہی سے پیوستہ ہیں چنانچہ معمولی امور کے علاوہ تاریخ اور علوم و فنون میں بھی دیگر انسانوں سے زیادہ علم و آگہی رکھتے ہیں اور آپ (ص) کی عصمت میں بھی اگر شک کیا جائے قرآن اور حدیث اور ہر وہ شۓ مشکوک ہوکر رہ جائے گی جس کا تعلق آپ (ص) سے ہوگا۔ (مترجم)۔46۔ سورہ نمل آیت 16۔47۔ سورہ مریم آیات 5 و 6۔48۔ الطبقات الکبری ـ ابن سعد ـ ج2 ص315 ـ درالمنثور ++++49۔ یہ کیسی حدیث ہے جس کی تحت رسول اللہ کی ارث سے آپ (ص) کی اکلوتی بیٹی کو محروم کردیا گیا مگر خود عائشہ اسی ارث کی اکلوتی مالکن بنیں؟ جبکہ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو پھر عام بھی ہونی چاہئے اور اس کا اطلاق سب پر ہونا چاہئے جبکہ اب سوال یہ ہے کہ عائشہ نے رسول اللہ (ص) کی گھر کی مالکیت کا دعوی کیوں کیا اور رسول اللہ کے گھر کو ارث سمجھ کر ان کے حوالے کیا گیا جبکہ اس حدیث کے تحت ارث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صدقہ ہوتا ہے جس میں تمام محتاج مسلمانوں کا حق ہے اور اگر ہم فرض کریں کہ ام المؤمنین کا مسئلہ مستثنیات میں سے تھا تو پھر دیگر امہات المؤمنین کا کیا قصور تھا اور انہیں کیوں کچھ نہیں دیا گیا؟ اور اگر ارث ام المؤمنین کے حق میں درست تھا تو ان کا اس میں کتنا حصہ بنتا تھا؟ کیا بیوی کا حصہ ارث کا آٹھواں حصہ نہیں ہوتا؟ کیا اس وقت 9 امہات المؤمنین بقید حیات نہ تھیں ؟ اور اگر تھیں تو کیا ارث کا آٹھواں حصہ بھی ان 9 امہات المؤمنین میں تقسیم نہیں ہونا چاہئے تھا؟ اگر تقسیم ہونا چاہئے تھا تو عائشہ نے اکیلے اس پر قبضہ کیوں کیا؟ — حدیث کے جعلی پن کا راز دیکہئے جو اب ان ہی کے ہاتھوں کھلتا ہے جنہوں نے وضع کی تھی۔ علاوہ ازیں علمائے اہل سنت بھی اب ماننے لگے ہیں کہ حدیث جعلی ہے! وجہ بہ یہ ہے جہاں دو خلیفہ دفن ہیں وہ مقام صدقہ ہے اور امت کے ہر فرد کا اس میں حصہ ہے اور وہاں ابوبکر اور عمر کا حصہ بھی اتنا ہی ہے جتنا 2 عام مسلمانوں کا ہوتا ہے اور اگر یہ حدیث درست تسلیم کی جائے تو وہ مقام امت کی ملکیت عامہ میں سے غصب کیا گیا ہے اور کسی مسلمان کا غصبی زمین میں دفن کیا جانا بلا جواز ہے ۔ و اللہ علیم حکیم (مترجم)50۔ پس فاطمہ سلام اللہ علیہا غضبناک ہوئیں اور ابوبکر سے قطع کلام اور قطع تعلق کیا اور اسی حال میں رہیں حتی کہ وفات پاگئیں۔(صحیح بخاری ج2 ص504 ـ کتاب الخمس ـ ب837 ـ فرض الخمس ـ حدیث 1265۔ مسند احمد بن حنبل ج1 ص25 حدیث 25 (مسند ابی بکر))۔51۔ اور فاطمہ (س) ابوبکر سی مطالبہ کررہی تھیں اور ابوبکر نے انکار کیا۔ (صحیح بخاری ج2 ـ کتاب الخمس ـ ب 837 ـ فرض الخمس ـ حدیث 1265۔ صحیح مسلم ج4 کتاب الجهاد ـ ب15 ـ حکم الفیئ ـ حدیث 54 ـ و مسند احمد ابن حنبل ـ ج1 ص25 حدیث 25 (مسند ابی بکر))۔52۔ قال (عمر) فلما تولی ابوبکر قال انا ولی رسول اللہ فجئتما و تطلب میراثک من ابن اخیک و یطلب هذا میراث امرأته من ابیها فقال ابوبکر: قال رسول اللہ “لا نورث ما ترکنا صدقة فرأیتماه کاذبا، آثما، غادرا، خائنا و اللہ یعلم انه لصادق بارٌّ، راشد، تابع للحق۔ ثم توفی ابوبکر و انا ولی رسول اللہ و ولی ابی بکر فرأیتمانی کاذبا، آثما، غادرا، خائنا و اللہ یعلم انی لصادق بارٌّ، راشد، تابع للحق۔(صحیح مسلم ج4 ص28 کتاب الجهاد و السیر باب 15 حکم الفیئ ـ حدیث49 ـ مؤسسة عزالدین۔53۔ صحیح بخاری ج4 ص121- کتاب النفقات باب 180 حبس النفقة الرجل ـ حدیث 272۔54۔ صحیح بخاری ج3 ص188 ـ کتاب المغازی باب 129 حدیث 526۔55۔ وہی مأخذ ص755 ـ کتاب الاعتصام ـ باب 1170 ـ ما یکره من العمق و التنازع فی العلم ـ حدیث 2112 و مسند احمد ابن حنبل ج1 ص447 حیث العباس بن عبدالمطلب حدث 1782 و سنن الترمذی ج4 کتاب السیر ب44 ماجاء فی ترکة رسول اللہ صلی اللہ علیه و آله و سلم حدیث 1610۔56۔ بحارالانوار، ج 10، ص 120، روايت 1، باب 8۔57۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ روایت عائشہ سے منقول ہے اور دیگر زوجات رسول نے کبھی بھی اس کی تأئید نہیں کی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سورہ تحریم مین اللہ کی دھمکی وصول کرنے والی خانون کے سوا یہ بات رسول اللہ نے کسی اور زوجہ کو نہیں بتائی تھی۔ ابوبکر نے بھی کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ یہ روایت ساری امہات المؤمین نے نقل کی ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ جس ام المؤمنین کو بہتروان حصہ ملنا تھا آپ (ص) نے انہیں حدیث ماترکنا سنادی ہے مگر جن کو آٹھ حصون مین سے سات حصے ملنے تھے ان کونہیں بتایا!!!۔58۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس بیٹی سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انتہا کی محبت کرتے ہیں اس کو اتنے مسائل سے دوچار کردیں؟۔ سنی منابع میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے۔ کہ شیخین غصب فدک کے بعد جناب سیدہ کی عیادت کے لئے پہنچے تو بی بی نے پردہ لگوایا اور: قالت فاطمة سلام اللہ علیہا: الم تسمعا رسول اللہ (ص) يقول رضا فاطمه من رضاي و سخط فاطمة من سخطي فمن احب ابنتي فاطمة فقد ارضاني و من اسخط فاطمة فقد اسخطني قالا نعم سمعناه من رسول اللہ من رسول اللہ (ص) الخترجمہ: جناب سیدہ نے فرمایا: کیا تم دو نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ فاطمہ کی رضا میری رضا ہے اور فاطمہ کا غم و غصہ میرا غم و غصہ ہے؟ دونوں نے کہا: ہاں ہم نے یہ حدیث رسول اللہ سے سنی ہے۔۔۔۔ الی آخر(اعلام النساء – العلامة المعاصر الاستاذ عمر رضا كحاله – ج5 ص1214 مطبوعه دمشق)۔59۔ کنز العمال ج14 ص130 باب فضل الصدیق۔60۔ شرح نہج البلاغہ ج4 ص82۔61۔ ہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتے ہیں کہ فدک جناب سیدہ کے تصرف میں تھا اور ابوبکر نے ان کے مزارعین کو فدک سے نکال باہر کیا اور پھر ایک مشکوک سی بات کو حدیث کے طور پر پیش کرکے اپنے دعوے کا دفاع کیا اور بی بی سے شاہد مانگنا شروع کئے جبکہ شاہد تو مدعی کو پیش کرنے چاہئے تھے اور اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ ابوبکر نے روئے زمین کی پاک ترین خاتون سے گواہوں کا مطالبہ کرکے گویاان پر جھوٹ کا شبہہ ظاہرکیا مگر چلئے ہم رعایت دیتے ہیں اور اس نکتے کو ان کے عدل اور انصاف کی علامت سمجھتے ہیں!۔ انھوں نے کہا کہ علی اور ام ایمن کی گواہی اس لئے قابل قبول نہیں ہے کہ ان دو میں ایک عورت ہے اور ایک مرد ہے جبکہ ایک مرد ہو تو دوعورتیں ہونی چاہئیں کیونکہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ ہم نے مندرجہ بالا عبارات میں دیکھا کہ اگر ایک صحابی ایک حدیث نقل کرے تو بھی قابل قبول نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ ابوبکر جو سیدہ سے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کا مطالبہ کررہے تھے انھوں نے اپنی بیٹی سے اس حدیث کی سچائی معلوم کرنے کے لئے حتی ایک شاہد کا مطالبہ نہیں کیا آخر کیوں؟؟؟؟؟۔62۔ شرح نہج البلاغہ ـ ج4 ـ ص85۔63۔ شرح نہج البلاغہ 4 ص85۔64۔ سورہ نمل آیت 16۔65۔ سورہ مریم آیت 6۔66۔ کنزالعمال ج5 ص365، و طبقات ابن سعد ج2 ص315۔67۔ السقیفة لاحمد ابن عبدالعزیز الجوهری۔68۔ سورہ توبہ آیت 128۔69۔ المائدہ آیت 50 – یہاں سیدہ (س) نے آیت میں مذکورہ صیغہ جمع مذکر غائب کو جمع مذکر مخاطب میں تبدیل کیا ہے کیونکہ وہ دربار خلافت میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں سے مخاطب تھیں(مترجم)۔70۔ (سورہ مریم آیت 27)، اس کی وضاحت بھی وہی ہے۔71۔ اشارہ ہے سورہ جاثیہ کی آیت 27 کو جہان ارشاد ہے: وَيَومَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ = اور اس روز ـ جب قیامت برپا ہوگی باطل والے شدید نقصان و خسران میں ہونگے۔72۔ بلاغات النساء لاحمد بن ابى الطاهر البغدادى، برواية ابن ابى الحديد مجلد 4 صفحة 89 87 وصفحة 92، وبلاغات النساء صفحة 12 ـ 15۔73۔ سورہ نمل آیت 16۔74۔ سورہ مریم آیات 5 و 6۔75۔ سورہ انفال آیت 75۔76۔ سورہ نساء آیت 11۔78۔ سورہ بقرہ آیت 180۔78۔ سورہ آل عمران آیت 50 (أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ) کی جانب اشارہ ہے اور چونکہ مخاطبین اس کا مصداق بن رہے تھے لہذا سیدہ (س) نے مخاطب کا صیغہ استعمال کیا ہے- مترجم۔79۔ بلاغات النساء صفحة 16 ـ 17۔80۔ صحیح بخاری ج3 ص252 کتاب المغازی باب 155- غزوة خیبر حدیث 704۔81۔ شرح النهج ج4 صص 87 89 و بلاغات النسا ص 12 15۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.