عبادلہ نے امام حسین (ع) کا ساتھ کیوں نہيں دیا؟

161

سوال: عبادلہ کے بارے میں وضاحت فرمائیں؛ عبداللہ بن جعفر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر نے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ کیوں نہيں دیا۔1۔ انسان اور مختلف ادیان کے پیروکان مجموعی طور پر مختلف درجات اور مراتب رکھتے ہیں۔ بعض لوگ حق کے خلاف لڑنے والوں میں شامل ہیں جو اپنے گناہ کے تناسب سے جہنم کے عذاب اور سزا سے دوچار ہیں؛ بعض لوگ حق کو قبول کرتے ہیں اور ان کا ایمان جتنا گہرا ہوگا اور وہ جس قدر عمل میں پائیدار و استوار ہونگے اسی کے مطابق جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونگے۔اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ عبداللہ بن جعفر اور عبداللہ بن عباس شیعہ اکابرین کے نزدیک نہایت نمایاں اور قابل اعتماد شخصیات میں سے ہیں اور یہ دونوں امام حسین علیہ السلام سے بہت زيادہ محبت کرتے تھے۔ یہ دو نمایاں شخصیات اور عبداللہ بن زبیر و عبداللہ بن عمرکے درمیان نہایت بنیادی فرق موجود ہے۔ شیعہ رجال الحدیث کی کتب میں ان دو شخصیات کو قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔3۔ امام معصوم علیہ السلام کے فرمان کی عدم تعمیل اور نافرمانی جائز نہيں ہے لیکن اگر امام (علیہ السلام) نے حکم نہ دیا ہو تو امام (علیہ السلام) کا ساتھ دینا “واجب عینی” نہیں ہے تا ہم امام (علیہ السلام) کا ساتھ دینا اور اس راستے میں دشواریاں برداشت کرنا اور صعوبتیں جھیلنا، درجات کی رفعت و بلندی کا سبب ہے۔4۔ جو لوگ مظلومیت کے میدان میں موجود ہوں اور مظلوم کی مدد کے لئے اقدام نہ کریں ان کا عذر قابل قبول نہيں ہے۔لہذا عبداللہ بن جعفر اور عبداللہ بن عباس اور۔۔۔ کی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہمراہی، واجب نہ تھی لیکن وہ ہمراہی کرتے تو ان کے اعلی مقامات مل سکتے تھے؛ بہرحال امام حسین علیہ السلام نے ان کو اپنا ساتھ دینے کا حکم نہيں دیا۔ گوکہ اگر وہ میدان کربلا میں حاضر ہوجاتے تو انہیں قطعی طور پر امام حسین علیہ السلام کی ندائے “هل من ناصر ینصرنی” پر لبیک کہنا چاہئے تھا۔امام حسین علیہ السلام نے ان افراد سے کیا فرمایا:1۔ عبداللہ بن عباس:عبداللہ بن عباس امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں؛ آپ جو بھی حکم دیں گے میں وہی کروں گا۔امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: تم مدینہ چلے جاؤ، میں مکہ میں قیام کروں گا، تم مدینہ کی خبریں مجھے پہنچایا کرو”۔(موسوعۃ الامام الحسین علیہ السلام ـ تاریخ امام حسین (ع) جلد 2 زبان عربی ـ صفحات 5،6،9)۔2۔ عبداللہ بن جعفر: عبداللہ بن جعفر نابینا ہوگئے تھے چنانچہ وہ کربلا آنے سے معذور تھے لیکن انھوں نے اپنے دو بیٹے عون و محمد کو امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ، کربلا بھجوایا اور وہ دونوں میدان کربلا میں جام شہادت نوش کرگئے۔ (زینب کبری (سلام اللہ علیہا) الشیخ جعفر النقدی مطبوعہ نجف اشرف تیسرا ایڈیشن صص 87 و 95)۔[حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے شریک حیات اور جعفر طیار علیہ السلام کے بیٹے] عبداللہ بن جعفر کے بیٹے محمد نے کربلا کے میدان میں دس یزیدیوں کو ہلاک کردیا اور عون بن عبداللہ نے نے عمر سعد کے 21 سپاہیوں کو واصل ہلاک کرڈالا اور وہ دونوں عاشورا کے دن مقام شہادت پرفائز ہوئے۔ (بحارالانوار جلد 45 صفحہ 43)۔2۔ حرام سے اجتناب اور واجبات پر عمل، کم از کم توقع ہے جس کی ایک مسلمان سے توقع کی جاتی ہے۔ تا ہم اگر واجبات کے ساتھ مستحبات پر عمل کرے گا اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرے گا تو یہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب ہوگا گوکہ اگر انسان صرف واجبات پر عمل کرے اور حرام سے پرہیز کرے تو وہ مسلمانی کے درجے سے خارج نہيں ہوتا۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.