ابوذر زمان شیخ نمر باقر النمر

210

گذشتہ سال کا واقعہ ہے کہ شیخ نمر باقر النمر کو سعودی حکومت نے بلاد الحرمین کے مشرقی شہر قطیف سے زخمی کرنے کے بعد گرفتار کیا۔ شیخ نمر کی گرفتاری کا سبب ان کے وہ جرات مندانہ خطابات قرار دیئے جاتے ہیں جن میں انہوں نے سعودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور سعودی عرب کے مشرقی خطے کے محروم عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے عوام کو میدان عمل میں اترنے کی دعوت دی۔ یہ شیخ نمر باقر النمر کی پہلی گرفتاری نہیں تھی۔ آپ کے والد نے بھی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سعودی عقوبت خانوں میں گزارا۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شیخ نمر بھی متعدد بار پابند سلاسل کیے گئے۔
شیخ نمر ایک بلند پایہ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جری اور پرجوش خطیب ہیں۔ آپ اکثر خطبات جمعہ میں کہتے تھے کہ میں کلمہ حق ادا کرنے سے نہیں ڈرتا۔ چاہے اس کے لیے مجھے پابند سلاسل کیا جائے، مجھ پر تشدد ہو یا مجھے شہید کر دیا جائے۔ اپنی تقاریر میں انہوں نے اکثر کہا کہ سعودی حکومت کی نظر میں شاہی خاندان کے افراد پہلے درجے کے شہری جبکہ ان سے متمسک افراد دوسرے درجے کے شہری اور مشرقی خطے میں بسنے والے افراد تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ الشرقیہ کے عوام وہ لوگ ہیں جن کی مٹی سے کالا سونا نکال کر تم (سعودی شاہی خاندان) اپنی تجوریاں بھرتے ہو، لیکن اس خطے میں غربت ہے کہ روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ وہ کھلے عام سعودی حکمرانوں کو للکار کر کہتے تھے کہ تم نے اس خطے کے عوام کے وقار کو مجروح کیا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قطیف اور سعودیہ کے مشرقی علاقے وہ مقامات ہیں جہاں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور انہی ذخائر کے طفیل آج سعودیہ کا شاہی خاندان عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
شیخ نمر سعودی حکومت کو بلاد حرمین اور الشرقیہ میں منظم فرقہ وارنہ امتیازی رویے کا مجرم تصور کرتے ہیں اور اس کی پالیسیوں کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ آپ اپنی تقاریر میں اکثر کہتے تھے کہ عدل و انصاف کا قیام جہاد کے بغیر ممکن نہیں اور پامال شدہ حقوق ایثار، قربانی اور شجاعت کے بغیر واگزار نہیں کرائے جاسکتے۔ انہوں نے اپنے خطبات جمعہ میں بارہا کہا کہ الشرقیہ کے عوام اب توہین اور تجاوز کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ وہ کہتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ آخر کار تم مجھے گرفتار کرو گے، کیونکہ تمہاری منطق اور راہ و روش گرفتاری، تشدد اور قتل و غارت ہے لیکن آگاہ رہو کہ ہم تمھاری اس روش سے نہیں ڈرتے، ہمیں خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں۔
قارئین کرام! شیخ نمر نے یہ تقاریر دنیا کے کسی جمہوری ملک میں نہیں کیں، نہ ہی شیخ نمر کسی مغربی ملک میں سیاسی پناہ لیے ہوئے تھے۔ نمر باقر النمر نے یہ نعرہ مستانہ ایک مطلق العنان حکومت کے خلاف بارود اور سنگینوں کے سائے میں بلند کیا۔ انھوں نے یہ صدا سعود ی عقوبت خانوں میں اپنی زندگی کے کئی سال بسر کرنے، اذیتیں جھیلنے اور مظالم کا مشاہدہ کرنے کے بعد بلند کی۔ یہ نحیف سا مرد قلندر تن تنہا سعودیہ کے مضبوط شاہی نظام کی فصیلوں سے ٹکڑا گیا۔ اس انتظامی شکنجے میں طائر محصور کی یہ صدائے آزادی اگرچہ کوئی معنی نہ رکھتی تھی پھر بھی نہ جانے کیوں یہ دیوانہ اپنی جان لٹائے بنا نہ ٹلا۔
شیخ نمر کی صدائے رندانہ الشرقیہ کے نوجوانوں کے دلوں میں کچھ یوں گھر کر گئی کہ اب وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے نہیں گھبراتے۔ آٹھ ماہ قبل شیخ نمر کی گرفتاری کے بعد الشرقیہ میں گرفتاریوں اور ریاستی قتال کا نہ تھمنے والا وہ سلسلہ شروع ہوا جس کے سبب کئی بوڑھے والدین اپنی زندگی کے آخری سہاروں سے محروم ہوگئے، مگر شیخ نمر کا آزادی، استقلال اور عزت کے لیے جلایا ہوا جرات و ہمت کا چراغ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود آج بھی سعودی عرب کے صوبہ الشرقیہ کے ہر گھر میں روشن ہے۔
حکومت جانتی ہے کہ اس شخص کا قتل اور آزادی دونوں شاہی خاندان کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج وہ شیخ نمر پر، وہ الزامات دھر رہے ہیں جو ہر دور کا مطلق العنان حکمران اپنی حکومت و اقتدار کے باغیوں پر دھرتا ہے۔ یہ وہی الزامات ہیں جو ابوذر پر دھرے گئے اور اسے اسی بلاد حرمین میں ربذہ کی جانب بےدخل کر دیا گیا۔ یہ وہی الزامات ہیں جو یزید نے حسین (ع) پر دھرے، یہ وہی الزامات ہیں جو میثم تمار کو سن کر سولی پر جھولنا پڑا۔ ان الزامات کا تانا بانا اسی شاہی فکر سے جڑا ہوا ہے جو اپنے مخالفین کو راہ سے ہٹانے کے لیے ہر حربے کا استعمال کرتی ہے۔ مگر تاریخ سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ ابوذر، میثم تمار اور حسین ابن علی (ع) کو مجرم ٹھہرانے والے معدوم ہو گئے اور وہ جو کل ملزم ٹھہرائے گئے تھے آج حق گوئی، استقلال اور حریت کا استعارہ قرار پائے۔
شیخ نمر باقر النمر کے ساتھ سعودی حکومت جو بھی معاملہ کرے، آج اس کی طاقت اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے لیکن تاریخ کبھی کسی مجرم کو معاف نہیں کرتی۔ اگر تاریخ نے فرعون، ابرہہ، ابوجہل، ابولہب، یزید اور ان جیسوں کو تمام تر شاہی اقتدار اور قوت کے باوصف نہیں بخشا تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج بھی کیا جانے والا ہر ظلم تاریخ کے ابواب کا حصہ بن رہا ہے۔ اگر یزید قریش کے باعزت و عظمت خاندان کا فرد ہونے کے باوجود زمانے سے عزت نہیں پاسکا تو خادم الحرمین کہلوانے والے جان رکھیں کہ ان کے پاس تو ایسی کوئی نسبت بھی نہیں۔
جہاں تک دنیا میں انسانی حقوق کے نعرے بلند کرنے والوں اور سوات کی معصوم بچی کے زخموں پر پیٹنے والوں کا تعلق ہے تو ان سے نہ پہلے توقع تھی اور نہ اب ہے۔ ان سے توقع کی بھی کیسے جا سکتی ہے، اربوں ڈالر کا کاروبار، زرمبادلہ، علاقائی مفادات ایسی شراب ہے جو اچھے اچھوں کو ہوش نہیں آنے دیتی۔ انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے ادارے سال کے آخر میں الشرقیہ، بحرین، یمن فلسطین اور کشمیر پر اپنی مفصل رپورٹیں شائع کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض منصبی انجام دے دیا۔ عالمی حکمرانوں کا احوال کسی سے کب پنہاں ہے، اب تو اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک کھلی حقیقت کو بار بار دہرا کر لوگوں کی سمع خراشی کی جا رہی ہے۔
 
شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے گذشتہ ایک سال میں مغربی طاقتیں اور عرب حکمران نہ جانے کتنی دفعہ جمع ہوئے۔ عرب ریاستوں اور یورپی دارالحکومتوں میں روزانہ باغیوں کے اجتماعات منعقد کروائے گئے۔ ہر قوت اپنی استطاعت کے مطابق اس کار خیر میں شریک ہوئی۔ فوجی ساز و سامان سے لے کر مذہبی تشاویق تک کونسی ایسی چیز ہے جس کی کسر چھوڑی گئی۔ اب تو یہ بھی سنا ہے کہ مجاہدین کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے ‘جہاد النکاح‘‘ کا فتویٰ جاری کر دیا گیا ہے۔ وہ خواتین جن پر سے اسلام نے جہاد ساقط کیا تھا کو تشویق دلائی جا رہی ہے کہ وہ بھی میدان جنگ میں جا کر مجاہدین کے ساتھ شریک جہاد ہوں۔ سوات کی بیٹی ملالہ کے زخموں پر بان کی مون، اوباما اور دیگر عالمی قائدین کا نوحہ اور آہ و فغاں تو ہمارے سامنے کی بات ہے۔ حیرت ہے تو یہی کہ اتنے نرم دل اور آگاہ انسانوں کو الشرقیہ، بحرین، یمن، فلسطین، کشمیر اور برما کے انسان کیوں نظر نہیں آتے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.