استنباط کے شبهات

363

1- استنباط کے ذریعے اصلا حکم کشف نهیں کیا جاسکتا او ریه ایک نا ممکن بات هے کیونکه خود شریعت خاموش هے جو کچھ هم کتاب و سنت سے استخراج کرتے هیں در حقیقت یه همارے ذهن کی انچ اور همارے اپنے نظریات هیں جسے هم قرآن و سنت کا ما حصل بناکر پیش کرتے هیں .2- جو افراد منابع استنباط سے احکام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے هیں ان کا غیر کی تقلید کرنا جایز نهیں (اور اسی طرح جو افراد دوسروں سے تقلید کروانے کے لئے استنباط کرتے هیں ایسے گروه کی تقلید جایز نهیں ).3- استنباط کی ضرورت اور کاربرد وهاں هے جهاںهم قوانیں شریعت کو ثابت جانتے هیں اور احکام اسلامی کو ناقابل تغیر مانتے هیں .لیکن یه بات بھی واضح هے که هرروز انسان کی ضروریات بدلتی جارهی هیں انسان کی زمان و مکان کے اعتبار سے بدلتی ضرورتوں اور در پیش مسائل میں استنباط بی معنی هیں پس ان امور اور مسائل استنباط کے علاوه دوسرے مسائل کی ضرورت هے جس سے ان نیازمندیوں کا جواب دیاجاسکتا جیسے قیاس استحسان وغیره..
استنباط میں افراط و تفریط :افراط و تفریط صرف غیر دینی امور میں هی رائج نهیں هے بلکه امور دینی جیسے استنباط احکام بھی اس سے مستثنیٰ نهیں ، استنباط احکام میں بھی بعض علماء اسلام اعم از شیعه و سنی نے افراط و تفریط کا راسته اپنایا اگرچه اهل سنت استنباط حکام میں افراط و تفریط کے راستے پر پیغمبر اکرم(ص)کی وفاتت کے بعد هی چل پڑے او رانهوں نے اس بهانے کے ساتھ دین میں ایسی ایسی بدعتیں رائج کردیں که عالم اسلام آج اس کا خمیازه بھگت رها هے .احادیث پیغمبر سے دوری اور قرآن سے صحیح استفاده نه کرنے کی بناپر وه ایسے راستوں پر چل نکلے جو افراط و تفریط تک پهنونچتے تھے .بعض احادیث گرا هوگئے اور اسے ظاهر بن گئے که صرف ظواهر احادیث و قرآن پر اکتفار کیا عقل و تفکر، تدبر و تفحص کے صحیح طریقوں کو چھوڑ بیٹھے صرف اپنی ظاهری عقلوں کو معیار بنا بیٹھے ، بعض نے احادیثپیغمبر(ص)پر پابندی لگاکے صرف قرآن سے اپنی ناقص عقلوں کے ذریعه دین کی تفسیر کرنا چاهی، تفسیر پیغمبر(ص)اور تفسیر اهل بیت علیهم السلام کا راسته چھوڑ کر کون اپنی ناقص عقل کی تفسیر کے ذریعه صحیح دین تک پهونچے سکتا هے . نتیجه وهی هوا جو هونا تھا کوئی افراطی بن بیٹھا کو ئی تفریطی .سنی علماء نے کبھی تو قیاس کو جایز بنایا اور کبھی سدذرایع ، مصالح مرسله کا راسته اپنایا اور کبھی دوسرے استقرائی طریقوں پر گامزن هوئے او راسی طرح ایک مختصر مدت تک بعض شیعه علماء بھی استنباط احکام میں صرف قرآن و روایات کو منبع مانتے هوئے عقل کی حجیت پر معترض هوئے اور انهوں نے عقل کو بعنوان منبع استنباط ماننے سے انکا رکردیا اگرچه سبھی علماء شیعه عقل کے استقرائی اور ظنی طریقوں مثلا قیاس و مصالح مرسله و … کو بعنوان مبنع استنباط نهیں مانتے لیکن تقریبا سبھی علماء شیعه عقل برهان و عقل قطعی کی منبعیت کے قائل هیں صر ف بعض شیعه علماء جوکه اخباری هیں عقل قطعی و برهانی کو بھی عقل ظنی و استقرائی کی طرح حجت نهیں مانتے اور اس کے منبع استنباط هونے سے انکار کرتے هیں.پس اس کا نتیجه یه هوا که بعض روایات پر بغیر کسی تحقیق کے عتماد کربیٹھے اور بعض نے ایسا راسته اپنایا که احادیث کو کوئی وقعت هی نهیں دی بلکه صرف اپنی ناقص عقلوں کو هی سب کچھ سمجھ بیٹھے تو وه افراط کے راستے پر چل پڑے اوریه تفریط کے جس سے شعیت میں اخباری گری اور سنیوں میں چار فقهی مسلک جو که آج موجود هیں اور بقیه دیگر فرقے جوکه متعرض هوگئے وجود میں آئے .
استنباط کو لاحق خطرسےبچانا :تحریر کا یه حصه استنباط کو لاحق خطرات کی شناخت سے مربوط هے که جسکا خلاصه آپ کے پیش خدمت هے .
1- قرآن سے دوری:علامه طباطبائی (رح) اپنی مشهور و معروف تفسیر المیزان میں اسلامی علوم کی قرآن سے دوری اور قرآن سے کناره کشی کے سلسلے میں لکھتے هیں :”اگر اسلامی علوم کی ماهیت پر نظر ڈالیں تو معلوم هوگا که یه علوم اس انداز سے ڈھالے گئے گویا ایک طالب علم بغیر قرآن کے ان تمام علوم کو سیکھ سکتاهے چنانچه هم دیکھتے هیں که وه صرف نحو، بیان، لغت ،حدیث،رجال، درایه، فقه و اصول تمام علوم میں اجتهاد کی حدتک مهارت حاصل کرتاهے لیکن قرآن پڑھنے کی توفیق نهیں هوتی ، قرآن مجید تو بس ثواب کا ذریعه اور بچوں کو خطروں سے بچانے کا وسیله هے”
قرآن سے دوری کئی خطرات کاباعث هے :
الف : آیات الاحکام کا محدود کرنا :فقهاء نے آیات الاحکام کی تعداد پانچ سو یا اس سے کمتر بتائی هے اور ان میں چند آیات هیں جو استنباط کے کام آتی هیں کیونکه کچھ آیتں تومکرر هونے کی وجه سے حذف هوجاتی هیں اور کچھ میں صرف ضروریات احکام کا بیان هے . پس فقیه جن آیات سے استنباط کرتاهے وه بهت هی کم هیں اسی بناپر علماء اصول جب علم رجال کی ضرورت اور فوائد پر دلیل پیش کرتے هیں تو کهتے هیں که اکثراحکام کا دار مدار احادیث هیں جبکه قرآن کی هر آیت منبع استنباط اور آیات الاحکام شمار هوتی هیں .
ب: ظهور قرآن پر روایت کا مقدم کرنا:قرآن کریم صریح طورپر یه حکم دیتا هے قیام عدالت اور خدا کو گواه پیش کیا کروچاهیے یه گواهی تمهارے یا تمهارے والدین واقرابا کے خلاف هی کیوں نه جاتی هو .يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ “اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقربا ہی کے خلاف کیوں نہ ہو”-شیخ طوسی (رح) ,,خلاف،،میں اجماع اور روایات کی بنیاد پر یه فتوی دیتے هیں باب کے خلاف بچه کی گواهی قابل قبول نهیں هے جبکه محقق (رح) نے شرائع میں اس کی تردید کی هے .
2- احتیاط کے سلسلے میں فردی نگاه :بعض فقهی فتوے جیسے ربامیں چاره اندیشی ، جهاد، وه درخت پر جو کسی کی ملکیت میں نه هوں ان کو توڑنے کا جواز شخصی ملکیت میں ملنے والے دفینه کی ملکیت کا جواز ، اس کی دلیل هے که فقهاء گرامی اپنے استنباط میں مسلمانوں کے فردی مشکلات کو حل کرتے هیں اور اجتماعی مشکلات کی طرف توجه نهیں کرتے ایسی فکر شیعوں کی حاکمیت اور سیاسی قدرت سے دوری کا سبب هوگی .آیۃ الله خمینی(رح) رساله عملیه کو منابع و نصوص دینی سے مقایسه کرتے هوئے لکھتے هیں :قرآن اور کتب حدیث جو که اسلامی احکام و دستورات کے منابع میں شمار هوتے هیں ان میں اور رساله عملیه جوکه مجتهدین کا تدوین هو کیا هواتاهے. ان دونوں میں جامعیت اور اجتماعی زندگی پر تاثیر گذاری کے اعتبار سے کلی طور پڑا تفاوت پایا جاتاهے .قرآن کے مقابله میں رساله کی جامعیت ایک فیصد بھی نهیں هے .
3- فردی استنباط :چند صدیوں سے احتیاط کو جو بلاگریبانگر کئے هوئے هے وه فردی استنباط هے . اس معنی میں که ایک فرد اپنی عصمت کے ذریعه علمی مشروط کئے بغیر کی استنباط اور استخراج احکام کا آغاز کرتاهے .یه عمل اس لئے ایک آفت هے کیونکه علم فقه ایک وسیع علم هے جس کی مختلف شاخیں اور مختلف ابعاد اور اس سے مربوط تمام علوم پر احاطه کرنا کسی ایک شخص کی قدرت سے باهر هے . اس لئے استنبا ط کرنے والے کو چاهئیے پهلے دوسرے صاحب نظر افراد کے ساتھ علمی تبادله اور مشورت کرلے پھر اپنی رائ اور فتوی کا علان کرے.تقریبا نصف صدی سے یه کام فقهاء کے درمیان شروع هوگیا لیکن ابھی تک کامل صورت اختیار نهیں کی لیکن ایران کی اسلامی جمهوری حکومت میں شورای ٰنگهبان نامی ایک شوریٰ هے جس میں ایران کے چند فقیه اس کی عضویت رکھتے هیں اور مجلس میں پاس هوئے قوانین کو شرعیت کے آئینه میں پرکھتے هیں اور اس کے سلسله میں اظهار رای کرتے هیں او ریه کام خود ایک طرح کا غیر عبادی مسائل میں شورای اجتهاد هے .
4- فهم و تفسیر نص میں جمود کا هونا :مجتهدین کے دامن سے چمٹی هوئی ایک اور آفت جمود فکری هے دینی نصوص بالخصوص الفاظ روایات میں جمود پایاجاتاهے ، جمو د اس معنی میں که حدیث میں جولفظ آگیا بس اسی پر اکتفاکیاجاتاهے دیگر مشابه موارد جوکه شابه قطعی رکھتے هیں ان کی تعلیم نهیں دی جاتی یه آفت در حقیقت اخباریوں کی خصوصیات کا حصه هے جو بهت سارے اصولیوں اور مجتهدین کو اپنے گھیرے میں لئے هوئے هے .اور جو چیز اس آفت کا مقابله کرسکتی هے وه هے فهم نصوص به تعبیر دیگر جهاں نص دلالت قطعی نه رکھے بلکه ظنی الداله هو او ریه یقین بھی هو که متکلم حکیم دوراندیش، انسان شناس اور ظاهر و باطن امور سے آگاه هے ان امور کی روشنی میں نصوص کو سمجھاجائے اور اس کی تفسیر کی جائے ورنه بند زهنیت کے ساتھ حدیث و روایت کی جستجو کرنا شریعت کو کمزور دکھانے کے علاوه کچھ نهیں کرسکتا .
5- موضوع شناس یا وه جدید علوم سے بے توجهی :هر حکم شرعی کسی نه کسی موضوع پر مترتب هوتاهے جیسے سورای سوار کولئے هوئے هو فقهاء موضوع کی تعریف میں کهتے هیں :هوالامرالذی یترتب علیه الحکم الشرعیموضوع ایسی چیز هے که جس پر حکم کو لکھاجاتاهے.فقهاء نے موضوع کی کئی دسته بندیاں کی هیں او ریه فقیه که کو کن موضوعات میں تشخیص دینے کی ذمه داری هے اس میں اختلاف هے .مرحوم آیۃ حکیمR نے موضوعات کو شرعی اور غرفی میں تقسیم کیا هے . اور ان هی کو روشن اور غیر روشن میں تقسیم کرتے هیں ان کے نزدیک صرف غیر روشن موضوعات کو تشخیص دینا فقیه کے ذمه هے .صاحب عروه موضوعات کو چار قسموں میں تقسیم کرتے هیں :1- شرعی.2- عرفی.3- لغوی.4- خارجیه .اور صرف موضوعات شرعی کی تشخیص کو فقیه کا وظیفه جانتے هیں اس میں تردید نهیں هے که موضوعات شرعی میں فقهی اور دینی اصولوں کے تحت کام هوتاهے لیکن دوسرے موضوعات میں فقهاء کے نزدیک اختلاف هے لیکن بے شک موضوعات عرفی اور موضوعات خاص کو دینی مطالعات کی روشنی میں تشخیص نهیں دیاجاسکتا اس میں عرف اور مهارتوں کا سهارا لینا ضروری هے آج علوم کے پھیلنے سے ان موضوعات کا جاننا بهتر هوگیا هے .اگر فقهاء اس نکته کی جانب توجه کریں او ر موضوعات کی شناخت میں ماهرین سے مدد لیں تو ان کا فتوا اپنے موضوع کے مطابق هوگا .استاد محمد رضا حکیمی اجتهاد مطلوب تک پهنچنے کا راسته بتاتے هوئے کهتے هیں اگر مجتهد فتوی دینے سے پهلے موضوعات کی شناخت میں ماهر ین سے مددلے خاص طور پر اقتصادی، سیاسی ،دفاعی،ثقافتی اور جهانی موضوعات میں کیونکه موضوعات کی ماهرانه تشخیص حکم کو بدل دیتی هے اگر بهتر تعبیر میں کها جائے اگر موضوع واقعیکی تشیخیص هوجائے اور تمام ابعاد مشخص هوجائیں تاکه حکم اور فتوی اپنی صحیح شکل میں استنباط هوسکے .
6- عوام زدگی:فقهاء اور مجتهدیں استنباط احکام شرعی کے دوران خود پر معتبر دلائل کی پیروی کو لازم جانتے هیں ، اسی کےمطابق قدم بڑھاتے هیں اور فتوی دیتے هیں لیکن بعض اوقات دلیل کے علاوه دوسرے دغدغه فقیه کے سامنے هوتے هیں جو اسے دلیل کی پیروی سے روکتے هیں اور وه دغدغه عبارت هیں اجماع ،شهرت، کسی خاص دیندار گروه کی خوشی یا نه خوشی.اجماع اور شهرت کا خوف اس حدتک اهمیت رکھتا هے که اجماع اور شهرت کا ثابت هونا ان علماء اور متفکران کو جوحضور کے زمانه کےذریعه سےنزدیک تھےمطلب کو کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے هیں .ممکن هے که یهاں کوئی قرینه اور شاهد یا کوئی دلیل و تائید موجود تھی جو دھرے زمانی فاصله کی ختم کر دیا البته یه بات قابل غور و فکر هے که بهت سارے ایسے فقیه بھی تھے اور هیں جنهوں نے اجماع اور شهرت کے فتوی دیاهے .گرچه انهیں بھی بعض مسائل میں اجماع اور شهرت کا خیال تھا بهرحال اگر شهرت اور اجماع کو قابل اعتنا مان لیاجائے تب بھی عوام زدگی اور بعض دینی گروهوں کی خوشنودی کی کوئی توجیه نهیں کی جاسکتی لیکن میدان عمل میں فقهاء نے اسی گروه کی خوشنودی یا مخالفت کے خوف سے اپنی رائ اور اظهار نظر سے چشم پوشی کی هے .
7- فقیه مقارن پر توجه دینا :اسلامی فقیه نے مسلسل اپنی حیات میں بهت سے ایسے فکری حوادث کا مشاهد کیا هے جس کی وجه سے تقسیم بندی اور نام گذاری وجود میں آئی جیسے فقه فقه المذهب، فقیه اخبارگری فقه ظاهری، تاریخ میں ایسے حوادث کا پیش آنا ایک دورسرے پر ناظر هوتے هیں کوئی شک و تردید نهیں رکھتا اگر چه ایک ایک اپنے راستے پر چلا اور کوئی بھی ایک دوسرے سے نزدیک یا قریب نهیں رکھتا لیکن شروع میں مسائل اور جعرافی اعتبار سے فقیه کے معزرو هونے کی بناپر یه ایک دوسرے کے ناظر تھے اس بنا پر دور سے مذاهب کی شناخت اور آگاهی کے بغیر فقهی مسائل کو سمجھنا احتیاط کے لئے نه ور ستی اور غلط فهمی کا سبب بنے گا.
8- زمان سے دوری اور پرانے مسائل کو پیش کرنا:زمان شناس اور اس میں حضور اور زندگی کی هر شرائط کو درک کرنا اور دینی معارف علماء کے زمه هیں علماء اور فقهاء کو چاهیے که وه معارف دینی جو دوسرں کے زمه کررهے هیں ان میں پهلے زمان شناس کو مقدم کریں .
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.