عدم تحریف قرآن

340

 بعض یه تصور کرتے هیں که تحریف کی یه روایات صرف شیعوں کی کتاب میں هیں جبکه ایسی روایات برادران اهل سنت کی کتابوں میں بھی نظر آتی هیں مثال کے طور پر آپ صرف مسند احمد کی جلد اول اور صحیح ترمذی کی جلد پنجم مراجعه کیجئے آپ کو هماری بات کی تصدیق هوجائے گی . لیکن یه روایات مذکوره مطالب کے علاوه کتاب او رسنت معتبر کے بھی مخالف هیں کیونکه قرآن ایسی کتاب هے جس میں باطل کا گزر بھی نهیں هے چنانچه خداوند عالم سوره فصلت میں ارشاد فرماتاهے :”*لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ” * . 1یه آیت قرآن میں هر قسم کے باطل کے نفوذ کا انکار کرتی هے (جس میں تحریف بھی شامل هے ) پس قرآن بطور مطلق نفوذ باطل کا انکار کررها هے زمان نزول اور اس کے بعد کسی بھی یا گروه کے ذریعه قرآن میں تحریف هونا ناممکن هے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد هے ۔”*إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ” *2اس کے علاوه حدیث ثقلین میں قرآن اور عترت پیغمبر(ص)کا حوض کوثر تک ساتھ هونا اور مسلمانوں کو روزقیامت تک ان سے تمسک کاحکم دینا اس بات کی دلیل هے که قرآن رهتی دنیا تک تحریف سے پاک هے کیونکه تحریف شده کتاب کی ایسی پیروی کا حکم کوئی کسی کو نهیں دیتا هے ۔حقیقت یه هے که تحریف کا دعوی اسلام کے رکن اساسی سے جنگ کرنا هے اور افسوس که بعض مغرض افراد مسلمانوں میں تفرقه افکنی اور ایجاد اختلاف کی خاطر اور وحدت کی دلسوز آواز کو دبانے کے لئے همیشه فتنه برپا کرتے هیں اختلافی مسائل کو هوا دے کر اتحاد کی فضا کو خراب کرتے هیں وه همیشه بعض اسلامی مذاهب کو عقیده تحریف کے لئے متهم کرتے هیں اور جب انهیں موقع ملتا هے همیشه اسی مسئله کو پیش کرتے هیں اور وه نهیں جانتے که دوسرے مذهب کی اس مخالفت سے وه خود تو قوی نهیں هوں گے لیکن ناخود آگاه قرآن کی تضعیف اور شبهء تحریف کو زنده کرنے کا باعث بنیں گے ،جو چیز مسلم هے وه یه هے که فریقین کی اکثریت تحریف کی مخالف هے او راسے ردکرتی هے اسی لئے کسی بھی اسلامی فرقه کی جانب تحریف کی نسبت نهیں دی جاسکتی اور وه قلیل جماعت جو عقیده تحریف پراڑی هوئی هے ان کا عقیده عدم تحریف کے محکم و متقن دلائل کے آگے بےاساس هوجاتا هے ۔بھلا وه کتاب کیسے تحریف کاشکار هوگی جسے آغاز نزول سے لے کر اب تک نماز اور غیر نماز خلوت وجلوت میں صبح وشام قرائت کیا جاتاهے او رجس کتاب کو هر دور میں هزاروں حافظوں نے حفظ کیا هو خود نزول کے وقت چالس افراد نے اس وحی الهی کو لکھا جس کتاب میں مسلمانوں کی مورد نیازتعلیم موجود هو اور وه اس عظیم کتا ب سے هرروز استنباط و استفاده کرتے هوں، ایسی کتاب کی تحریف کا تصور جهل و غفلت او ر نادانی کی دلیل هے ۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.