کتاب و سنت کے مشترک مباحث حصہ دوم

367

دلیل حاکم و محکوم :دلیل حاکم یه هے که دلیل محکوم کو نظر میں رکھتی هے اور دلیل محکوم کے موضوع کو وسعت دیتی یا قید لگاتی هے۔ دلیل حاکم اگرچه ظاهرا دلیل محکوم کے موضوع پر نظر رکھتی هے لیکن در واقع موضوع کو وسعت دیے کر یا وسعت کو تنگ کرکے حکم کی نفی یا اثبات کرتی هے . ان مثالوں کی جانب توجه کیجئے :قرآن نے ربا کو حرام کرتے هو ئے کها :” :* وَحَرَّمَ الرِّبَا “1 * اب اگر کسی روایت میں آئے” “لاربا بین الوالد والولد -2″ یه روایت دلیل حاکم شمار هوگی اور آیت دلیل محکوم کیونکه دلیل محکوم کیلئے موضوع (ربا) کو که دلیل حاکم (روایت ) کے ذریعه محدود کیا گیا اگر دلیل حاکم بظاهر موضوع ربا کو نفی کررهی هے لیکن اس سے مراد یه هے یهاں حرمت ربا کو اٹھالیا گیا اس لئے که حقیقت میں حکم کو قید تو لگا یا گیا لیکن نفی ربا کو اس مورد میں منحصر کیا که جهاں طرفین پدر اور فرزند نه هو ں ۔دوسرا دوسری مثال : قرآن نے وضو کو نماز کیلئے شرط قرار دیا اور کها :” * إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ ” * 3″جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوںکو دھوؤ “. اب اگر کوئی روایت ملے که جس میں کهاجائے :”الطواف بالبیت صلاة “. 4یهاں پر دلیل حاکم کے ذریعے دلیل محکوم کے موضع (صلاة ) کو وسعت دی گئی اور طواف کعبه کو مصادیق نماز میں شمار کیا گیا لیکن حقیقت یه هے که شرط طهارت کے حکم وضعی کو غیر نماز کےلئے ثابت کیا گیا دلیل حکومت دلیل کا ملاک یه هے اگر دلیل محکوم نه هو تو دلیل حاکم لغو هوگی -5. واضح تر یه که جس وقت یه کها جارها هے که “”الطواف بالبیت صلاة”” اس کا مفهوم یه هے که مخاطب نے نماز اور اس کے احکام کو سن رکھا هے اور اس روایت کا مقصد یه هے که جو احکام نماز کے هیں وهی احکام طواف پر بھی جاری هون هوں گے نه یه که نماز حقیقت میں طواف کا مصداق هو ۔
دلیل وارد و مورد :دلیل وارد ، دلیل مورود کےلئے حقیقی مصداق تعین کرتی هے یا اس کے مصداق کی نفی کرتی هے . جیسے حجیت خبر واحد کے دلائل جو برائت عقلی ( قبح عقاب بلابیان ) پر وارد هے کیونکه حقیقت میں بیان حکم شرعی کیلئے هے پس یهاں برائت کی کوئی جگه نهیں -6 یعنی خبر واحد که کسی حکم پر دلالت کررهی هے اور جس سے بیان الهیٰ حاصل هو رها هے ایسی دلیل کے هوتے هوئے مکلف قبح عقاب بلابیان سے تمسک نهیں کرسکتا ۔
دلیل مجمل و مبین :خطاب مجمل یه هے که خطاب اپنے مقصود پر واضح طور پر دلالت نه کرے اور متکلم کا مقصد اس سلسلے میں روشن نه هو ۔مبین اس خطاب کو کهتے هیں جس کی دلالت واضح و روشن هو اور نص اور ظاهر کلام سے شامل هو به عنوان مثال آیت شریفه میں آیا هے :*وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُواْ أَيْدِيَهُمَا*چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ۔ 7لیکن اس آیت میں یه مشخص نهیں هے که هاتھ کو اس کے کس حصه سے کا ٹاجائے کیونکه انگلیوں کے پورسے لیے کر کاندھے تک کئی جوڑ هیں اور ان میں سے کسی بھی مفصل کو جدا کرنے سے قطع ید صادق آتا هے . پس یه کلام مجمل هے یعنی اپنے مقصود کو واضح طور سے بیان نهیں کررها هے اور قرآن میں کسی اورمقام پر قطع ید کے مصادیق بیان نهیں کئے گئے پس اس آیت کی توضیح و تفسیر و تبین کےلئے روایات کی جانب مراجعه کرنا هوگا تا که قطع ید کی حد معین هوجائے پهلی دلیل کو مجمل اور دوسری دلیل کو مبین کهتے هیں ۔————–1 . بقره ، 275 .2 . وسایل الشیعه، ج13 ، ابواب الربا ، باب ، 7 .3 . مائده ، 6 .4 .عوالی اللئالی ،ج2 ،ص167 ،ح35 . رسائل ،فرائد الاصول ، ص432 .6 . رسائل ، فرائد الاصول ، ص432 .7 . مائده ، 38 .
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.