بچوں سے پیار حصہ دوم

147

بچوں کے حق میں پیغمبر اسلام ۖ کی دعابچوں سے متعلق پیغمبر اسلام ۖ یہ معمول تھاکہ مسلمان اپنے بچوں کو آپۖ کی خدمت میں لاتے تھے اور آپۖ سے ان کے حق میں دعا کرنے کی درخواست کرتے تھے۔جمرہ بنت عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک بیٹی نے کہا:’میرا باپ مجھے پیغمبر خدا ۖ کی خدمت میں لے گیا اور آپۖ سے درخواست کی کہ میرے حق میں دعا کریں۔پیغمبر خدا ۖ نے مجھے اپنی آغوش میں بٹھا کرمیرے سر پر دست شفقت رکھا اور میرے لئے دعا فر مائی۔(٤٥)’
بچوں سے شفقت کرناعباس بن عبدالمطلب کی بیوی،ام الفضل،جو امام حسین علیہ السلام کی دایہ تھی،کہتی ہے:’ایک دن رسول خدا ۖ نے امام حسین علیہ السلام،جو اس وقت شیر خوار بچہتھے،کو مجھ سے لے کر اپنی آغوش میں بٹھایا، بچے نے پیغمبر اکرم ۖ کے لباس…………..٤٥۔مجمع الزوائد،ج٩ ،ص٢٦٦کو تر کر دیا۔میں نے جلدی سے بچے کو آنحضرت ۖسے لے لیا نتیجہ میں بچہ رونے لگا ۔آنحضرت ۖنے مجھ سے فر مایا:ام الفضل!آہستہ!میرے لباس کو پانی پاک کر سکتا ہے،لیکن میرے فرزند حسین علیہ السلام کے دل سے اس رنج و تکلیف کے غبار کو کونسی چیز دور کرسکتی ہے(٤٦)؟’منقول ہے کہ جب کسی بچے کودعا یا نام رکھنے کے لئے رسول خدا ۖ کی خدمت میں لاتے تھے۔توآپ ۖاس بچہ کے رشتہ داروں کے احترام میں ہاتھ پھیلا کربچے کو آغوش میں لیتے تھے۔کبھی ایسا اتفاق بھی ہوتا تھا کہ بچہ آپ ۖکے دامن کو ترکر دیتا تھا،موجود افراد بچے کو ڈانٹتے تھے تاکہ اسے پیشاب کرنے سے روک دیں۔رسول خدا ۖانھیں منع کرتے ہوئے فر ماتے تھے:’سختی کے ساتھ بچے کو پیشاب کرنے سے نہ روکنا’،اس کے بعد بچے کو آزاد چھوڑ تے تھے تاکہ پیشاب کرکے فارغ ہو جائے۔جب دعا ونام گزاری کی رسم ختم ہو جاتی،توبچے کے رشتہ دار نہایت ہی خوشی سے اپنے فرزند کو آنحضرت ۖسے لیتے اور بچے کے پیشاب کرنے کی وجہ سے آپۖ ذرا بھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔ بچے کے رشتہ داروں کے جانے کے بعد پیغمبر اکرم ۖ اپنا لباس دھو لیتے تھے۔(٤٧)…………..٤٦۔بحارالانور،ج٨٠ ،ص١٠٤،اللہوف ابن طاوس ،ص١٢،ھدیة الاحباب ،ص١٧٦٤٧۔معانی الاخبار،ص٢١١،مکارم الاخلاق ص١٥ ،بحار الانور ج٦،ص٢٤٠پیغمبر اکرم ۖ کا بچوں کو تحفہ دیناپیغمبر اسلام ۖ کا بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک اور نمو نہ یہ تھاکہ آپ ۖ ان کو تحفے دیتے تھے۔عائشہ کہتی ہیں:’حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے رسول خدا ۖ کے لئے حبشہ میں بنی ہوئی سونے کی ایک انگوٹھی تحفہ کے طورپر بھیجی ۔رسول خدا ۖ نے امامہ بنت ابی العاص(جو پیغمبر اکرم ۖ کی ربیبہ تھی)کو بلا کر فرمایا:بیٹی!اس تحفہ سے اپنے آپ کو زینت دو۔(٤٨)’ایک دوسری حدیث میں عائشہ کہتی ہیں:’پیغمبر خدا ۖ کے لئے ایک سونے کا گلو بند تحفہ کے طور پر لایا گیا رسول خدا ۖ کی تمام بیویاں ایک جگہ جمع ہوگئی تھیں۔امامہ بنت ابی العاص،جو ایک چھوٹی بچی تھی،گھر کے ایک کونے میںکھیل رہی تھی۔رسول خدا ۖ نے اس گلو بند کودکھا کر ہم سے پوچھا:تمہیں یہ کیسالگ رہا ہے ؟ہم سب نے اس پر نظر ڈال کر کہا:ہم نے آج تک اس سے بہتر گلوبند نہیں دیکھا ہے۔رسول خدا ۖ نے فر مایا:اسے مجھے دیدو ۔عائشہ کہتی ہیں:میری آنکھوں میں تاریکی چھاگئی ۔میں ڈر گئی کہیںآپ ۖ اسے کسی دوسری بیوی کی گردن میں نہ ڈال دیں۔ اوردوسری بیویوں نے بھی ایسا ہی تصور کیا۔ہم سب خاموش تھے،اسی اثنا میں امامہ رسول خدا ۖ کے پاس آگئی اور آپ ۖنے گلو بند کو اس کی گردن میں ڈال دیا پھر وہاں سے تشریف لے گئے۔(٤٩)’بعض روایتوں میںاس طرح نقل ہوا کہ ایک عرب نے پیغمبر اکرم ۖکی خدمت میں آکر کہا:…………..٤٨۔سنن ابن ماجہ،ج ٢ ،ص١٣٠٣٤٩۔مجمع الزوائد،ج٩،ص٢٥٤’اے رسول خدا ۖ!میں ہرن کے ایک بچہ کوشکار کر کے لایا ہوں تاکہ تحفہ کے طور پر آپۖ کی خدمت میں پیش کروں اور آپ ۖاسے اپنے فرزند امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کو دیدیں۔آنحضرت ۖ نے تحفہ کو قبول کر کے شکاری کے لئے دعا کی ۔اس کے بعد اس ہرن کے بچے کوامام حسن علیہ السلام کو دیا…امام حسن علیہ السلام اس ہرن کے بچہ کو لے کر اپنی والدہ حضرت ماطمہ زہرائ٭ کی خدمت میں آئے۔لہذا امام حسن علیہ السلام بہت خوش تھے اور اس ہرن کے بچہ سے کھیل رہے تھے۔(٥٠)’
شہیدوں کے بچوںکے ساتھ پیغمبر اسلام ۖ کاسلوکبشیرا بن عقریہ ا بن جہنی کہتا ہے:’میں نے جنگ احدکے دن رسول خدا ۖ سے پو چھا کہ میرے والد کس طرح شہید ہوئے؟ آپۖنے فرمایا :’وہ خدا کی راہ میں شہید ہوئے،ان پر خدا کی رحمت ہو ۔میں رونے لگا۔پیغمبر اکرم ۖ نے مجھے اپنے نزدیک بلاکر میرے سر پر دست شفقت پھیر ا اور مجھے اپنے مرکب پر سوار کرکے فرمایا :کیا تمہیں پسند نہیںہے کہ میں تمہارے باپ کی جگہ پر ہوں؟…(٥١)’جمادی الاو ل ٨ ہجری کو جنگ موتہ واقع ہوئی۔اس جنگ میں لشکر اسلام کے تین کمانڈر ،زیدا بن حارثہ،جعفرا بن ابیطالب اور عبداللہ ا بن رواحہ شہید ہوئے ۔…………..٥٠۔بحارالانوار،ج٤٣،ص٣١٢٥١۔مجمع الزوائد ج ٨،ص١٦١یہ لشکر واپس مدینہ پلٹا(٥٢)رسول خدا ۖ اور مسلمان ترانہ پڑھتے ہوئے اس لشکر کے استقبال کے لئے نکلے۔پیغمبر اسلام ۖمرکب پر سوار تھے اور فرمارہے تھے:’بچوں کو مرکبوں پر سوار کرو اور جعفر کے بیٹے کومجھے دو !عبیداللہ ا بن جعفرابن ابی طالب کو لایا گیا ۔پیغمبر اسلام ۖ نے اسے اپنے سامنے مرکب پر بٹھایا۔(٥٣)’ابن ہشام لکھتا ہے : جعفر کی بیوی ،اسماء بنت عمیس کہتی ہے:’جس دن جعفر جنگ موتہ میں شہید ہوئے اس دن،پیغمبر اکرم ۖ ہمارے گھر تشریف لائے ۔اور میں اسی وقت گھر کے کام کاج صفائی اور بچوں کونہلا دھلا کر فارغ ہو ئی تھی آپۖنے مجھ سے فرمایا: جعفر کے بچوں کو میرے پاس لائو !میں ان کو آنحضرت ۖکی خدمت میں لے گئی، آپۖنے بچوں کو اپنی آغوش میں بٹھاکرپیار کیا جبکہ آپ ۖکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔میں نے سوال کیا :اے رسول خدا ۖ!میرے ماںباپ آپۖ پر فدا! آپۖ کیوں رو رہے ہیں؟کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آپ ۖکو کوئی خبر ملی ہے ؟ آپ ۖنے فرمایا :جی ہاں ،وہ آج شہید ہو گئے …(٥٤)’بیشک،لوگوں کے بچے بھی رسول خدا ۖ کی اس پدرانہ شفقت سے محروم نہیںتھے۔ منقول ہے کہ:’رسول خدا ۖ بعض بچوں کو اپنی گود میں لیتے تھے اور بعض کو اپنی پشت اور کندھوں پر بٹھاتے تھے (اور اپنے اصحاب سے فرماتے تھے:کہ بچوں کو گود میں لے لو ،انھیں اپنے کندھوں پر سوار کرو) بچے اس سے خوش ہوتے تھے اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور ان دلچسپ یادوں کو کبھی نہیں بھولتے تھے،بلکہ کچھ مدت کے بعد اکٹھا ہوکران باتوںکو ایک دوسرے کے سامنے بیان کرتے تھے اور فخر ومباہات کے ساتھ کوئی یہ کہتا تھا کہ پیغمبر اکرم ۖ نے مجھے گود میں لیا اور تجھے اپنی پشت پر سوارکیا۔دوسرا کہتا تھاکہ پیغمبر اکرم ۖ اپنے اصحاب کو حکم دیتے تھے کہ تمہیں اپنی پشت پر سوار کریں۔(٥٥)’…………..٥٢۔سیرئہ ابن ہشام ج٢،ص٣٨١٥٣۔مسند احمد حنبل ج١،ص٣٣٤ ،صحیح مسلم ج١٥ ،ص١٩٦ ،السیرةالحلبیة ج٣،ص٦٩٥٤۔سیرئہ ابن ہشام ،ج٢ ص ٢٥٢۔(ترجمہ)٥٥۔المحجة البیضاج٣،ص٣٦٦
پیغمبر اسلام ۖکا نماز کی حالت میںاپنے بچوں سے حسن سلوکشداد بن ہاد کہتا ہے:’رسول خدا ۖایک دن نماز ظہر یا عصرپڑھ رہے تھے اور آپ کے بیٹوں حسن علیہ السلام وحسین علیہ السلام میں سے کوئی ایک آپ کے ساتھ تھا ۔آپۖ نمازیوں کی صفوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور اس بچے کو اپنے دائیں طرف بٹھادیا۔ اس کے بعدآپ ۖسجدہ میں گئے اور سجدہ کو طول دیا۔راوی اپنے باپ سے نقل کرتا ہے:میں نے لو گوں کے درمیان سجدہ سے سر اٹھایا،دیکھا کہ رسول خدا ۖابھی سجدہمیں ہیں اور وہ بچہ پیغمبر اکرم ۖ کی پشت پر سوار ہے ،میں دوبارہ سجدہ میں چلاگیا ۔جب نماز ختم ہوئی ،لوگوں نے عرض کی کہ اے رسول خدا ۖ!آج جو نماز آپ ۖنے پڑھی اس میں ایک سجدہ بہت طولانی کیا کہ دوسری نمازوں میںآپ نے اتنا طولانی سجدہ نہیں کیا ، کیا اس سلسلہ میںآپۖ کے پاس کوئی حکم آیا ہے یا کوئی وحی نازل ہوئی ہے ؟آپ ۖنے جواب میں فر مایا :ایسا کچھ نہیں تھا ،بلکہ میرا فرزند میری پشت پر سوار ہوگیا تھا ،میں اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا،اس لئے میں نے اسے آزاد چھوڑدیا کہ جو چاہے کرے۔(٥٦)’ایک دوسری حدیث میںابوبکر سے منقول ہے:’میں نے حسن اور حسین علیھما السلام کو دیکھا کہ رسول خدا ۖحالت نماز میں ہیں اور یہ اُچھل کرآپ کی پشت پر سوار ہورہے ہیں،رسول خدا ۖدونوں بچوں کو ہاتھ سے پکڑ لے رہے تھے تاکہ آپ ۖکھڑے ہوجائیںاور اپنی کمر سیدھی کرلیںاور بچے آسانی کے ساتھ زمین پر اترجائیں۔نماز کو ختم کرنے کے بعد آنحضرتۖ دونوںبچوں کو آغوش میں لے کر ان کے سروںپردست شفقت پھیرتے ہوئے فرماتے تھے:یہ میرے دونوں بیٹے خوشبودارپھول حسن و حسین ہیں۔(٥٧)’دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بچہ خوشبودار پھول ہے اور میرے خوشبودار پھول حسن وحسین علیھما السلام ہیں ایک روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے:’ایک دن پیغمبر اکرم ۖمسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ایک جگہ نمازپڑھ رہے تھے،جب آنحضرت ۖسجدہ میں جاتے تھے توحسین علیہ السلام ،جو کہ بچہ تھے،آپۖکی پشت پر سوار ہوکر اپنے پائوںکو ہلاتے ہوئے ‘ہے ہے ‘کرتے تھے۔جب پیغمبر اکرم ۖسجدہ سے سر اٹھانا چاہتے تھے،تو امام حسین علیہ السلام کو ہاتھ سے پکڑ کرزمین پر بٹھاتے تھے ،یہ کام نماز کے ختم ہونے تک جاری رہتاتھا۔ایک یہودی اس ماجرے کو دیکھ رہاتھا ۔اس نے نماز کے بعد رسول خدا ۖکی خدمت میں عرض کی :آپ ۖاپنے بچوں سے ایسا برتائو کر رہے ہیں کہ ہم ہر گز ایسا نہیں کرتے۔رسول خدا ۖنے فرمایا:اگر تم لوگ خدا اور اس کے رسول ۖپر ایمان رکھتے تو اپنے بچوں سے شفقت کرتے ۔پیغمبر اسلام ۖ کی بچوں کے ساتھ مہر ومحبت نے یہودی کو اس قدر متاثر کیا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا۔(٥٨)رسول خدا ۖدوسروں کے بچوں کا بھی احترام کرتے تھے اور آپۖ ان کے نفسیاتی جذبات کابھی پورا پورا خیال رکھتے تھے۔…………..٥٦۔مستدرک حاکم ج٣،ص١٦٥،مستدرک احمدحنبل ج٣،ص٦٩٣٥٧۔مقتل الحسین خوارزمی،ص١٣٠،الارشادمفیدج٢،ص٢٥،ملحقاق احقاق الحق ج١٠،ص٦١٥وج١١ص٥٠٥٨۔بحار الانورج٤٣،ص٢٩٤تا٢٩٦

 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.