بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اسلام ۖ کے حسن سلوک حصہ دوم

101

٢۔حسن معاشرت
بچے میں شخصیت پیدا کرنے کاایک بنیادی سبب اس کے ساتھ اچھا برتاؤبھی ہے۔رسول خدا ۖ نے مختصرلفظوں میں فرمایا اور اپنے پیروئوںکوآشکار طور پر اسے نافذ کرنے کاحکم دیا ہے:’اپنے فرزندوں کا احترا م کرواور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ (٨)’لہذاجو لوگ اپنے بچوں کی با عزت وبا حیثیت شخص بنانا چاہتے ہیں ،انھیںچاہئے کہ اپنے بچوںکواچھی تعلیم وتر بیت کے ساتھ رہنمائی کریں۔ اور برے، ناپسند اور توہین آمیز سلوک سے پر ہیز کر یںکیو نکہ نا پسنداور برے طرز عمل سے اپنے بچوں کی ہر گز صحیح تربیت نہیں کی جا سکتی ۔…………..٨۔بحارالانوار ج١٠٤ص ٩٥،ح٤٤

٣۔وعدہ پورا کرناوعدہ پورا کرنا ان عوامل سے ایک ہے کہ جن کے ذریعہ بچے میں اعتماد پیدا کیا جاسکتا ہے اور یہ ان کی شخصیت کے نشو ونما میں کافی موثرہے۔ائمہ اطہار علیہم السلام نے بچوں سے وعدہ وفائی کرنے کے سلسلہ میں بہت تاکید کی ہے اس سلسلہ میں ہم ائمہ معصومین کے چند اقول پیش کرتے ہیں:حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:’جائزنہیں ہے کہ انسان سنجیدگی سے یا مذاق میں جھوٹ بولے۔جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے بچے سے وعدہ کرلے اور اسے پورا نہ کرے(٩)’حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا ۖ نے فرما یا:’اگر تم میں سے کسی نے اپنے بچے سے کوئی وعدہ کیا ہے۔تو اسے پورا کرنا چاہئے اور اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔(١٠)’شیعوں کی احادیث کی کتابوں میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے والدین کے وعدہ وفائی کے بارے میںبے شمار روایتیں نقل ہوئی ہیں،لیکن ہم اختصار کے پیش نظر یہاں پر انھیںذکر کر نے سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

٤۔بچے کو مشکلات سے آگاہ کرنا۔اپنے بچوں، خاص کر بیٹوں کو شخصیت اور حیثیت والابنانے کا مالک سبب یہ بھی ہے…………..٩۔بحار الانور،ج٧٢،ص٢٩٥،امالی صدوق ص٢٥٢١٠۔مستدرک الوسائل،ج٢،ص٦٢٦،وسائل الشیعہ ج٥،ص١٢٦طبع قدیمکہ انھیں مشکلات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میںمشکلات سے مقا بلہ کرسکیں،کیونکہ بچوں کو عملی طور پر یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر چیز کو حاصل کرنے کے لئے کوشش و زحمت کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کوئی بچہ مشکلات اور سختیوں سے آگاہ نہ ہو تووہ مستقبل میں زندگی کے گوناگوں مشکلات کے مقابلہ میں گھبرا جائے گا۔یہ حقیقت ہمارے ائمہ اطہار علیھم السلام کی روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا:ٍٍٍٍ’بہتر ہے کہ بچہ بچپنے میں زندگی میں پیش آنے والی سختیوںاور مشکلات سے دو چارہو،جوکہ حقیقت میںزندگی کا کفارہ ہے،تاکہ جوانی اور بوڑھاپے میں صبروبرد باری سے کام لے ۔(١١)’یہ یاد دہانی کرا دینا ضروری ہے کہ،بچوں کو مشکلات سے آشناکرنا بچے کی ناراضگی کا سبب نہیںبنناچاہئے۔یعنی بچے کے ذمہ کئے جانے والے کام اس کی توانائی اور طاقت سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں،اس لئے بچے کی طاقت و توانائی کومد نظر رکھنا ضروری ہے۔رسول خدا ۖ نے اس سلسلہ میںدرج ذیل چار نکات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے:١۔بچہ نے اپنی طاقت بھر جو کام انجام دیا ہے اسے قبول کرنا۔٢۔جو کام بچے کی طاقت سے باہر ہو بلکہ اس کے لئے نا قا بل برداشت ہو اس کام کا اس سے مطالبہ نہ کرنا۔٣۔بچے کوگناہ اور سر کشی پر مجبور نہ کرنا۔…………..١١۔وسائل الشیعہ ج٥،ص١٢٦٤۔اس سے جھوٹ نہ بولنااور اس کے سامنے فضول اور احمقانہ کام انجام نہ دینا۔(١٢)دوسری ر وایتوں میں یوں نقل ہوا ہے:’جب رسول خدا ۖ سات سال کے تھے،ایک دن اپنی دایہ(حلیمہء سعدیہ)سے پو چھا:میرے بھائی کہاں ہیں؟(چونکہ آپ ۖحلیمہ سعدیہ کے گھر میں تھے،اس لئے ان کے بیٹوں کو بھائی کہتے تھے)انہوں نے جواب میں کہا:پیارے بیٹے!وہ بھیڑبکریاں چرانے گئے ہیں،جو خداوند متعال نے ہمیں آپ ۖ کی بر کت سے عطا کی ہیں۔آپۖنے کہا:اما جان آپ نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا ! ماں نے پو چھا:کیوں؟جواب میں کہا:کیایہ مناسب ہے کہ میں خیمہ میں بیٹھ کر دودھ پیوں اور میرے بھائی بیا بان میں تپتی دھوپ میں ہوں۔(١٣)’

٥۔بچے کے کام کی قدر کر نارسول خدا ۖ نے بچوں کی تربیت و پرورش اور انھیں اہمیت دینے کے بارے میںاپنے پیروئوں کو جوحکم د یا ہے، پہلے اس پر خود عمل کیا ہے۔پیغمبر اکرم ۖ کی ایک سیرت یہ بھی تھی کہ آپ ۖبچوں کے کام کی قدر کرتے تھے۔عمرو بن حریث نے یوں روایت کی ہے:’ایک دن رسول خدا ۖ عبداللہ ابن جعفرا بن ابیطالب کے نزدیک سے…………..١٢۔اصول کافی،ج٦،ص ٥٠١١٣۔بحار الانوار،ج١٥،ص٣٧٦گزرے۔جبکہ وہ بچے تھے ،آنحضرت ۖ نے ان کے حق میں یہ دعا کی:خدا وندا! اس کی تجارت میں برکت عنایت فرما۔(١٤)’

٦۔بچوں کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونارسول اکرم ۖکی یہ بھی سیرت تھی کہ کبھی آپۖ اپنے بچوں کی تعظیم کے لئے نماز کے سجدہ کو طول دیتے تھے یا لوگوں کے بچوں کی تعظیم کے لئے نماز کو جلدی تمام کرتے تھے اور ہر حال میں بچوں کا احترام کرتے تھے اور اس طرح عملی طور پرلوگوں کو بچوں کی تعظیم کرنے کا درس دیتے تھے۔ایک دن پیغمبر اکرم ۖبیٹھے تھے کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام داخل ہوئے۔آنحضرت ۖ ان کے احترام میںاپنی جگہ سے اٹھ کرانتظار میں کھڑے رہے۔چونکہ دونوںبچے اس وقت صحیح طریقے سے چل نہیں پاتے تھے،اس لئے آنے میں کچھ دیر ہوئی۔لہذا پیغمبر اسلام ۖ نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا ۔دونوں بچوں کو گود میں لے لیا اور دوش مبارک پر سوار کر کے چلے اور فر مایا کہ میرے پیارے بیٹو!تمہاری کتنی اچھی سواری ہے اور تم کتنے اچھے سوار ہو۔(١٥) ؟!’آنحضرت ۖحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی تعظیم کے لئے بھی کھڑے ہوتے تھے۔(١٦)…………..١٤۔مجمع الزوائد،ج٩،ص٢٨٦١٥۔بحارالانورج٤٣،ص٢٨٥ح٥١،مناقب ابن شہرآشوب ج٣،ص٣٨٨١٦۔السیرةالحلبیہ ج٣ص٤٨

٧۔بچوں کے مستقبل کا خیال رکھناایک دن حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام نے اپنے بچوں اور بھتیجوںکو اپنے پاس بلاکر فرمایا:تم آج معاشرہ کے بچے ہو لیکن مستقبل میںمعاشرہ کی بڑی شخصیت ہوگے،لہذاعلم حاصل کرنے کی کوشش کرو،تم میں سے جو بھی علمی مطالب کو حفظ نہ کر سکے،وہ انھیں لکھ ڈالے اوراپنی تحریروں کو اپنے گھرمیں محفوظ رکھے تاکہ ضرورت کے وقت ان سے استفادہ کرے۔(١٧)اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام بچوں کے مستقبل کو ملحوظ رکھتے تھے اور بچوں کے والدین کواس حقیقت سے آگاہ فرماتے تھے۔اس لئے دین کے پیشوا بچوں کے مستقبل کے بارے میں خاص توجہ رکھتے تھے۔چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے:’انصار میں سے ایک شخص چند بچوں کوچھوڑ کر دنیا سے اٹھا۔اس کے پاس تھوڑا سا سرمایہ تھاکہ جسے اس نے اپنی عمر کے آخری دنوں میں عبادت اور خدا کی خوشنودی کے لئے خرچ کر دیا۔جبکہ اسی زمانے میں اس کے بچے تنگ دستی کی وجہ سے دوسروں سے مدد طلب کرتے تھے۔یہ ماجرا پیغمبر اسلام ۖ کی خدمت میں نقل کیا گیا۔آنحضرتۖنے سوال کیا:تم نے اس شخص کے جنازہ کو کیا کیا؟کہا گیاکہ اسے ہم نے دفن کردیا۔آنحضرت ۖ نے فرمایا:اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تواسے مسلما نوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دیتا!!کیونکہ اس نے اپنی دولت کوضائع کردیا اور اپنے بچوں کودوسروں کا محتاج بنا کرچھوڑ دیا ۔(١٨)…………..١٧۔بحارالانوارج٤٣،ص٢٥،ح٢٢١٨۔قرب الا سناد،ص٣١

٨۔دینی احکام کی تعلیم دینابارگاہ خدا میںبچے کی عبادت،دعااور حمدوثنا کی تمرین سے اس کا باطن روشن ہوتا ہے،اگر چہ ممکن ہے بچہ نماز کے الفاظ کے معنی نہ سمجھتاہو ،لیکن خدا وند متعال کی طرف توجہ،راز ونیاز،پروردگار عالم سے مدد کی درخواست،دعا اور بارگاہ الہٰی سے التجا کو وہ بچپنے سی ہی سمجھتا ہے اور اپنے دل کوخدا وند متعال اور اس کی لا محدودرحمت سے مطمٔن بنا تا ہے اور اپنے اندرایک پناہ گاہ کا احساس کرتا ہے اور مشکلات وحوادث کے وقت اپنے دل کو تسکین دیتا ہے،چنانچہ خدا وند متعال فرماتا ہے:(لذین آمنوا وتطمٔن قلو بھم بذکرا ﷲلا بذکراﷲتطمٔن القلوب)(رعد٢٨)ٍٍ’یہ وہ لوگ ہیںجو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کویاد خدا سے اطمینان حاصلہو تا ہے اور آگاہ ہو جائوکہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہو تا ہے۔’بچوں کوابتداء سے ہی مئومن اور خدا پرست بنانے کی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے جسم وروح ایمان کے لحاظ سے یکساں ہوں ۔اسی لئے اسلام نے والدین پرذمہ داری ڈالی ہے کہ اپنے بچوں کوخدا کی طرف متوجہ کریں اور انھیں خدا پرستی اور دین کی تعلیم دیں اور دوسری طرف حکم دیا ہے کہ بچوں کو نماز اور عبادت کی مشق کرائیں۔معاویہ ابن وہب نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیاکہ ہم بچہ کو کس عمر میں نماز پڑھنے کے لئے کہیں؟ آپ نے فر مایا:چھ سے سات سال کی عمر میںانھیں نمازپڑھنے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔(١٩)رسول خدا ۖ نے ایک حدیث میں فرما یا:’اپنے بچوں کوسات سال کی عمر میںنمازپڑھنے کا حکم دو۔(٢٠)’امام محمدباقرعلیہ السلام نے ایک دوسری روایت میں بچوں کی عمر کے مختلف دور میں اعتقادی تر بیت کے سلسلہ میں والدین کی ذمہ داریوں کو اس طرح بیان فر ما یا ہے:’تین سال کی عمر میں بچہ کو کلمہ لا الہ الا اللہ سکھا ئیں،چار سال کی عمر میں محمدرسول اللہ سکھائیں،پانچ سال کی عمر میںاسے قبلہ کی طرف رخ کرنا سکھا ئیں اور اسے حکم دیں کہ سجدہ میں جائے،چھ سال کی عمر میںاسے مکمل طور پر رکوع و سجود سکھا ئیں اور سات سال کی عمر میںمنہ ہاتھ دھونا(وضو)اور نماز پڑھنا سکھا ئیں۔(٢١)’والدین اور مربیّ کومعلوم ہوناچاہئے کہ مذہب ان کا سب سے بڑا معاون ومدد گار ہے،کیونکہ ایمان ایک روشن چراغ کے مانند ہے جو تاریک راہوں کو روشن کرتا ہے اور ضمیروں کو بیدار کرتا ہے اورجہاں کہیں انحراف ہوگا اسے آسانی کے ساتھ اس انحراف وکجروی سے بچاکر حقیقت وسعادت کی طرف رہنمائی کرے گا ۔…………..١٩۔وسائل الشیعہ ج٢،ص٣٢٠۔مستدرک الوسائل ج١،ص١٧١٢١۔مکارم الاخلاق،طبرسی،ص١١٥

بچے میں صحیح تربیت کے آثاربچوں کی صحیح تربیت ان میںاستقلال اور خود اعتمادی کا سبب بنتی ہے اوران کا احترامانھیں با حیثیت انسان بنا تا ہے،کیونکہ جو بچہ ابتداء سے اپنی قدر ومنزلت کو پہچانتا ہے وہ بڑا ہوکراپنے اندر احساس کمتری کاشکار نہیںہو تا ۔چنانچہ اسلامی روایتوں میں آیا ہے کہ بچہ اوراس کا دل ایک صاف وخالی زمین کے مانند ہے کہ جوبھی بیج اس میں بویا جائے گا اسے قبول کر کے اس کی پرورش کرتی ہے۔(٢٢)مثال کے طور پرحضرت علی علیہ السلام کی شخصیت رسول خدا ۖ کی آغوش میں تربیت پانے کے نتیجہ میں رشد و کمال تک پہنچی۔اگرچہ علی علیہ السلام جسم وروح کے اعتبار سے عام بچہ نہیں تھے،بلکہ ان کے وجود مبارک میں مخصوص قابلیتیں موجود تھیں، لیکن ان کے بارے میں پیغمبر اسلام ۖ کی خصو صی نگرا نیوںاور توجہ سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔بچے کی صحیح تربیت کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ وہ شجاع اوربہادر بنتا ہے۔اس چیز کوحضرت امام حسین علیہ السلام کی تر بیت میں بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ابن شہاب کہتا ہے:’ایک مرتبہ جمعہ کے دن خلیفہ دوم منبرپر تھے۔حضرت امام حسین علیہ السلام بچہ تھے مسجد میں داخل ہوئے اور کہا:اے عمر!میرے باپ کے منبر سے نیچے اترو!عمر نے روتے ہو ئے کہا:سچ کہا،یہ منبر آپ کے جدامجد کا ہے، بھتیجے !ذرا ٹھہرو !! امام حسین علیہ السلام عمر کا دامن پکڑے ہوئے کہتے رہے کہ میرے جد کے منبر سے اتر و،عمر مجبور ہو کر اپنی گفتگو روک کر منبر سے اتر آئے اور نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔نماز کے بعد کسی کوبھیجا تاکہ امام حسین علیہ السلام کو بلاکر لا ئے۔جوں ہی امام حسین علیہ السلام تشریف لائے،عمر نے پوچھا:بھتیجے! میرے ساتھ اس طرحگفتگو کرنے کاآپ سے کس نے کہا تھا؟…………..٢٢۔نہج البلاغہ،فیض،خط نمبر٣١،ص٩٠٣امام حسین علیہ السلام نے فر ما یا:مجھے کسی نے یہ حکم نہیںدیا ہے۔اورآپ نے یہی جملہ تین بار دہرایا،جبکہ امام حسین علیہ السلام اس وقت بالغ بھی نہیں ہوئے تھے۔(٢٣)حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی زندگی کے حالات کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی رحلت کے بعد،خلیفہ وقت ،مامون بغداد آیا۔ایک دن شکار کے لئے نکلا راستہ میںایک ایسی جگہ پر پہنچا جہاں چند بچے کھیل رہے تھے۔امام رضا علیہ السلام کے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام ، کہ جن کی عمراس وقت تقریباً گیارہ سال تھی ، ان بچوں کے درمیان کھڑے تھے۔جوں ہی مامون اور اس کے ساتھی وہاں پہنچے تو سب بچے بھاگ گئے۔ لیکن امام محمد تقی علیہ السلام وہیں کھڑے رہے۔جب خلیفہ نزدیک پہنچا حضرت پر ایکنظر ڈالی اورآپ کا نورانی چہرہ دیکھتا ہی رہ گیا۔ اورآپ سے سوال کیا کہ آپ دوسرے بچوں کے ساتھ کیوںنہیں بھاگے؟امام محمدتقی علیہ السلام نے فوراًجواب دیا:اے خلیفہ! راستہ اتنا تنگ نہیں تھا کہ میں خلیفہ کے لئے راستہ چھوڑ کر بھاگتا ۔میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے کہ میں سزا کے ڈر سے بھاگتا۔میں خلیفہ کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہوں اور تصور کرتا ہوں کہ وہ بے گناہوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا۔اسی لئے میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نہیں بھاگا١ ! مامون آپ کے منطقی اور محکم جواب اور آپ کے پر کشش چہرہ سے حیرت زدہ رہ گیا اور کہنے لگا آپ کانام کیا ہے؟امام نے جواب دیا:محمد۔پوچھا:کس کے بیٹے ہو؟ آپ نے فر مایا:علی بن موسی رضا علیہ السلام کا۔(٢٤)…………..٢٣۔تاریخ المدینة المنورہ ج٣،ص٧٩٩٢٤۔بحار الا نور ج٥٠،ص٩١،کشف الغمہ ج٤ ،ص١٨٧

 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.