استحسان

933

استحسان منابع اجتهاد میں بعض اهل سنت کی جانب سے بیان کرده ایسی اصطلاح هے که جس کی مختلف تعریفیں ذکر کی گئیں هیں .1 – بعض نے کها کهایسی دلیل جو مجتهد کے ذهن میں خطور کرے لیکن اس کی تبیں کے لئے مجتهد کے پاس مناسب عبارت نه هو وه استحسان کهلاتی هے-1 ۔3-2- استحسان یعنی وه چیز جومجتهد کو اچھی لگے لیکن اس کی کوئی شرعی دلیل نه هو-2 بعض نے کها که کسی قیاس کو اس سےقوی تر قیاس سے تخصیص دینے کو استحسان کهتے هیں یا قیاس مخفی کو قیاس جلی پر مقدم کرنے کو استحسان کهتے هیں3- قیاس سے دلیل اقوی کی جانب عدل کرنے کو استحسان کهتے هیں اور وجود نص ، سهولت ،مصلحت مصلحت،اجماع ،ضرورت یا عرف و عادت کو محرکات عدول میں شمار کیا گیا هے ۔ 4ان تعریفات میں اختلاف هی نهیں بلکه تضاد بھی پایا جاتا هے کیونکه اگر تعریف کو بغور دیکھا جائے تو معلوم هوگا که بعض تعریفات میں خود مجتهد یا عقل مجتهد کی عقل کوتعریف کی اساسبنیاد تعریف قرار دیا گیا جیساکه پهلی اور دوسری تعریف سے واضح هوتا هےکه لیکن دوسری تعریفات میں یه خصوصیت نهیں پائی جاتی اسی طرح بعض تعریفات کے مطابق استحسان کو قیاس کا نقطهء مقابل قرار دیا گیا لیکن دوسری تعریفات میں استحسان کو ایک قسم کاقیاس شمار کیا گیا اور شاید استحسان کامعروف ترین معنی وهی حکم هے جس پر نص نه ملے لیکن عقل مجتهد کی عقل اسے پسند کرتی هو ۔ابو حنیفه کی نظر میں استحسان حجت هے اور یهی نسبت مالک وحنبلی کی جانب بھی دی گئی هے -5 مالک کا یه جمله معروف هے که 90 در صد فقه استحسان پر استوار هے لیکن ان کےمقابل بعض دیگر اهل سنت خاص طور سے شافعی-7اور بعض حنفی جسے شاطبی اور طحاوی نے اس کی حجیت کا انکار کیا هے-8 اسی طرح امامیه زیدیه او رظاهر یه کےنزدیک بھی استحسان باطل اور غیر معتبر هے-9 ۔استحسان کی حجیت پر آیات و روایات دونوں سے استدلال کیا گیا هے قرآن سے سوره زمر کی تین آیات اور سوره اعراف کی ایک سو پنتالسیویں آیت سے استدلال کیا گیا هے ۔”*فَبَشِّرْ عِبادِالَّذينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَه‏ وَاتَّبِعُوا اَحسنَ ما أُنْزِلَ مِنْ رَبِّكُم‏”‏*”بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں” ۔ 10سوره زمرکی آیت نمبر 55سے بھی یهی استدلال کیا گیا هے ۔ اسی طرح سوره اعراف کی آیت نمبر 145سےاستدلال کیا گیا که” * فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِهَا “*”مضبوطی کے ساتھ پکڑلو اور اپنی قوم کوحکم دو کہ اس کی اچھی اچھی باتوں کو لے لیں” ۔ان آیات میں مشاهده سے واضح هوتاهے که خداوند عالم نے قول احسن کی پیروی کی ترغیب دلاتی دلائی هے او راحسن کی پیروی کے لئے لازم هے که پهلے احسن کی شناخت هو لیکن چونکه مصادیق احسن کو لوگوں کے لئے بیان نهیں کیاگیا اسی لئے اس کی ذمه داری خود لوگوں پر چھوڑدی 11
جوابغزالی نے اس استدلال کا جواب دیتے هوئے کها که آیات کا مفاد یه نهیں هے که جو تم بهتر سمجھو اس کی پیروی کرو بلکه ان آیات کا مفهوم یه هے که احسن واقعی کی پیروی کرو اور خداوند عالم نے لوگوں کو پهنچوادیا که احسن واقعی کیا هے احسن واقعی کتا ب و سنت کی موافقت هے کیونکه احکام ان مصالح اور مفاسد کے تباع هے جسے شریعت نے کاملا احاطه کیا هے اور عقل بشر اور عقل بشر کو سوائے خاص موارد کے ان مصالح اور مفاسد تک رسائی نهیں لیکن اس چیز کو جسے لوگ بهتر اور اچھا سمجھتے هیں صرف هوا اور هوس هے جهت استحسان کی حجیت پرعبدالله بن مسعود کی روایت سے بھی استدلال کیا گیا هے ۔مارای المسلمون حسنا فهو عبدالله حسنیعنی جس چیز کولو گ بهتر سمجھیں وهی چیز خداکے نزدیک بهترهے ۔ 12مخالفین استحسان کے مخالفوں نے اس استدلال کا جواب دیتے هوئے کها1- یه جمله عبدالله بن مسعود کا قول هے نه پیغمبر (ص)کا فرمان جو حجت هو مگر یه که هم قول صحابی کو حجت مانیں.2- کلمه روئیت در حقیقت میں علم و اطمینان کے معنی میں هے یعنی جو چیز مسلمانوں کے نزدیک بطور قطع طور پرنیکو هو خدا کے نزدیک بھی نیکو هوگی اور یه بات استحسان جو دلیل ظنی هے میں شامل نهیں هوگی اسی لئے ماننا پڑے گا که حدیث حسن و قبح عقلی سے مربوط هے که جس کا در ک کرنا سب کےلئے ممکن هے پس موارد ظن وگمان کے موارد جو که همارا موردعادی بحث میں هے شامل نهیں هوگا 133- آمدی او رغزالی اس حدیث کا جواب دیتے هوئے کهتے هیں که یه حدیث اجماع مسلمین پر دلالت کرتی هے نه اس بات پر که جسے افراد مسلمین بهتر سمجھیں خدا بھی اسے بهتر سمجھے گا 144- یه بھی غزالی کا قول هے که یه حدیث خبر واحد هے اور خبر واحد سے اصول کو ثابت نهیں کیا جاسکتا ۔ 15————–1 . الاحکام فی اصول الاحکام ،ج4 ،ص 157 .2 . کتاب قوانین میں اس تعریف کی نسبت اهل سنت کی جانب دی گئی .3 . المبسوط سید حسنی ،ج10،ص145 .4 . الموسوعة الفقهیه المیسره ،ج2،ص43/44.5 . اصول الفقه ،محمد ابوزهره ، ص 263 .6 . الامام الشافعی ،ج10 ،ص119 .7 . ابطال القیاس ابن حزم ، ص51 .8 . الاصول العامر ،ص363 .9 . زمر، 17/18 .10 . الاحکام فی اصول لااحکام ،ج 3 /4،ص 165 .11 .المستصفی ، ج 1 ،ص411 ، روضة الناظر ،ج1 ،ص475 .12 . مسند احمد ،ج1 ص379 .13 . انوار الاصول ،ج2 ،ص533 .14 . الاحکام ،ج4 ،ص159، المستصفی ،ص 172 .15 . المستصفی ، ص 172 .مصالح مرسلهیه اصطلاح ان مصلحتوں کےلئے استعمال هوتی هے جسے کے بارے میں شریعت کا کوئی خاص یا عام خطاب موجود نه هولیکن شریعت کے مزاج اور مذاق شریعت سے اسے مشخص کیا جاسکتاهے ۔وه مصلحتیں دوقسم کی هوتی هیں :
1- مصالح معتبرهوه مصلحتیں جن کے اعتبار اور رعایت میں شرعی دلائل موجود هوں ۔
2- مصالح ملغیوه مصلحتیں جسے شارع مقدس نے بے ارزش سمجھا اور ان کی رعایت کو لازم نهیں جانا جسے دشمن کے آگے تسلیم هونا اگرچه اس میں حفظ جان کی مصلحت هے لیکن چونکه اسلام خطر ے میں پڑرها هے اس لئے حفظ نفس کی مصلحت کو لغو کرکے جهاد کا دستور دیا پس دین کا بچانا مصلحت هے چاهے اس میں جان هی کیوں نه چلی جائے ۔
3- مصالح مرسلهوه مصلحتیں جو اجتبار یا الغاء شرعی سے آزاد هیں-1 مصالح مرسله کو بطور مطلق حجت مانتے هیں جب که جمهور اهل سنت اس کی حجیت کے منکر هیں یهاں تک که بعض مالکیوں نے کها که مالک سے بعید هے که مصالح مرسله کو حجت مانے-2 لیکن بعض اس میں تفصیل کے قابل هیں اور کهتے هیں : فقط وه ضروری مصلحتیں جو قطعی اور بدیهی هوں معتبر هیں-3 مصالح مرسله کےلئے جو مثال پیش کی گئی وه یه هے که اگر کفار جنگ کے دوران ان کی آڑ میں مسلمانوں کو نقصان پهچانا چاهیں ایسی صورت میں ان سے مقابله لازمی هے کیونکه اگر ان سے مقابله نه کیا گیا تو وه مسلمانوں کو بھی نقصان پهنچائیں گے اور خود اسیروں کو بھی قتل کردیں گے لیکن اگر ان سے مقابله کیا جائے تو ایسی صورت میں اسیر مارے جائیں گے چاهے کفار کے هاتھوں مارے جائیں یا مسلمانوں کے هاتھوں تو یهاں مصالح مرسله کے مطابق مسلمانوں کا قتل جائز هے کیونکه شریعت کا مزاج یهی هے که مسلمانوں کے مصالح کو مقدم رکھا جائے اور مسلمان اسیروں کا قتل مصالح مسلمین سے نزدیک تر هے -4 مصالح مرسله اور استحسان کا فرق یه تبایا گیاکه استحسان میں غالبا قواعد و نصوص عامه سے ایک قسم کا استثناء پایا جاتا هے دوسری بعبارت دیگر میں استحسان ثابت شده احکام سے ایک قسم کا عدول هے لیکن مصالح مرسله ان موارد سے مربوط هے که جهاں حکم کے لئے کوئی شرعی دلیل نهیں هے بلکه فقیه مزاج شریعت کے پیش نظر مصلحت کی بنیاد پر حکم لگاتاهے . البته استحسان میں بھی مصلحت پائی جاتی هے لیکن یه مصلحت اکثرا وقات استثنائی شکل اختیار کرجاتی هے -5۔مصالح مرسله کو حجت ماننے والوں کی دلیل یه هے که احکام مصالح کے تابع هیں اور تمام مصالح نصوص میں مذکور نهیں هیں کیونکه مصلحتیں زمان و مکان کے لحاظ سے بدلتی رهتی هیں اگر صرف ان مصلحتوں پر تکیه کیا جائے جس کا ذکر نصوص میں هو تو ایسی صورت میں گئی ایک مصلحتیں که جن کا ذکر نصوص میں نهیں آیا هے ان سے هاتھ دھونا پڑے گا اور یه بات شارع کی غرض وهدف کے خلاف هے -6۔
جواب :مسلما احکام مصالح کے تابع هیں اور اگر وه مصلحتیں نصوص اور ادله شرعیه میں معتبر شمار کی گئیں یا یه مصلحتیں ادراک عقلی کے اعتبار سے مستقلات عقلیه کامقام رکھتی هوں اور فقیه کے لئے یقین آور هوں تو یهی قطع و یقین فقیه کے لئے حجت هوگا . لیکن اگر مصلحت ایسی هو که جس کو معتبر جاننے یا الغاء کرنے کے لئے کوئی دلیل نه هو اور صرف حکم شرعی کا گمان پیدا هوتا هو تو ایسی مصلحت کی بنیاد پر کسی حکم کو معتبر ماننے کے لئے دلیل قطعی کی ضرورت هے اور ایسی کوئی دلیل نهیں جو اس حکم کو ثابت کرے کیونکه ظن و گمان میں اصل عدم حجیت هے -7 جیساکه قرآن میں ارشاد هے :” * وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا”*” گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے” ۔ 8خلاصه یه که اگر مصالح مرسله قطع و یقین تک پهنچ جائیں تو ان کی حجیت مسلم هے لیکن مصالح ظنی میں اشکال هے کیونکه ان کے اعتبار پر کوئی قطعی دلیل همارے پاس نهیں هے ۔————–1 .اصول الفقه الاسلامی ، ص 286 .2 . ارشاد العقول ، ج 2 ،ص 184 .3 . اصول الفقه الاسلامی ، ص 289 .4 . المستصفی ، ج1 ، ص 424 .5 . اصول الفقه الاسلامی ، ص 299/298 .6 . اصول الفقه اسلامی ،ص 259 .7 . انوار الا صول ،ج2 ، ص538 .8 . نجم ، 28 .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.