امام خمینی (رہ) کی ممتاز شخصیت رہبر معظم کی نظر میں

309

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ بےمثال اور ممتاز خصوصیات کے مالک تھے آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر جتنا ہم غور کرتے ہیں آپ کی شخصیت اور بھی نمایاں اور بےمثال دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ آج انکے فراق کا داغ ہمارے دلوں کو تڑپا رہا ہے اور غم کی سنگینی ہمارے دلوں پر بوجھ بنی ہوئی ہے، انکے فقدان کا کہیں زیادہ احساس ہو رہا ہے لیکن ان کی شخصیت افکار اور کردار آج بھی زندہ ہے۔ ہم ذیل میں قائد انقلاب کے بیانات اور نظریات کی روشنی میں بانی انقلاب کی آفاقی شخصیت کی طرف مختصراً اشارہ کرتے ہیں۔ ایمان اور عمل صالح کا مصداق: امام کی شخصیت بڑی حد تک ان کے عظیم اہداف اور مقاصد سے وابستہ ہے۔ آپ اپنی بلند ہمتی کے باعث اعلٰی اہداف کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ عام لوگوں کے لیے ایسے اہداف کا تصور بھی دشوار تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اعلٰی اہداف ناقابل حصول ہیں لیکن آپ کی بلند ہمتی، ایمان و توکل، جہد مسلسل اور اس عظیم ذات میں پوشیدہ بےپناہ صلاحیتیں اور توانائیاں کارفرما تھیں اور وہ اپنے مطلوبہ اہداف و مقاصد کی سمت بڑھتے چلے جاتے اور اچانک سب دیکھتے کہ وہ اعلیٰ اہداف حاصل ہو گئے ہیں۔ آپ کے کام کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آپ حکم الٰہی اور شرعی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کھو جایا کرتے تھے۔ آپ کے سامنے ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔ آپ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کے مصداق تھے۔ آپ کا ایمان پہاڑ کی مانند مستحکم تھا اور عمل صالح کی انجام دہی میں آپ کھبی نہ تھکنے والی حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ (نیک) کاموں کی انجام دہی میں آپ انتہائی قوی اور باہمت شخصیت کے مالک تھے جو سبھی کے لئے حیران کن تھی1۔ جامع صفات کی حامل عظیم شخصیتہمارے عظیم اور ہر دلعزیز رہبر کبیر کی شخصیت کا درحقیقت انبیائے الٰہی اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بعد کسی بھی اور شخصیت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہمارے لئے عطیہ الٰہی، حجت خدا اور عظمت الٰہی کی نشانی تھے۔ جب انسان انہیں دیکھتا تو بزرگان دین کی عظمت کا اندازہ کر لیتا۔ ہم رسول خدا، امیر المومنین، سید الشہداء، امام جعفر صادق اور دیگر اولیاء علیہھم السلام کی عظمت کا صحیح تصور تک بھی نہی کرسکتے۔ ہمارے ذہن اس سے کہیں چھوٹے ہیں کہ ان عظیم ہستیوں کی عظمت ذاتی کا احاطہ کر سکیں یا اسے دائرہ تصور میں لاسکیں لیکن جب کوئی شخص ہمارے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم اور ہمہ گیر شخصیت کو دیکھتا ہے، قوت ایمانی، عقل سلیم، حکمت و دانائی، صبر و بردباری، سچائی و پاکیزگی، تجملات دنیا سے بےاعتنائی، زھد و تقوٰی و پرھیزگاری، خوف خدا، اور اللہ تعالٰی کی پرخلوص عبادت کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس عظیم انسان اور آسمان ولایت کے خورشید تابناک کے سامنے سر تعظیم خم کر دیتا ہے اور خود کو انکے سامنے ذرے سے بھی کمتر سمجھتا ہے، انسان کو کسی حد تک اندازہ ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء معصومین کی ذات کس قدر عظیم ہے۔ فاتح فتح الفتوحآپ نے محاذ جنگ پر ملنے والی ایک کامیابی کے موقع پر مجاہدین سے فرمایا، “فتح الفتوح” کا مطلب آپ جیسے انسانوں اور جوانوں کی تربیت کرنا ہے۔ درحقیقت اس فتح الفتوح کے فاتح وہ خود تھے۔ وہ تھے جنہوں نے ایسے انسانوں کو تیار کیا تھا۔ وہ تھے جنہوں نے یہ ماحول تیار کیا تھا۔ وہ ہی تو تھے جنہوں نے یہ راستہ بنایا تھا۔ یہ آپ (رہ) ہی تھے جنہوں نے اسلامی اقدار کو زوال اور حاشیے پر چلے جانے کے بعد حیات نو بخشی۔ آپ کی میراث یہی اقدار اور اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو چاہے وہ کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہوں، اسلامی جمہوری نظام اور اس کی اقدار کے تحفظ کے لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اپنے عشق و محبت کا ثبوت پیش کرنا چاہیئے۔2۔ نماز شب کا گریہامام خمینی (رہ) ایسی عظیم شخصیت کے مالک تھے کہ انبیاء اور آئمہ معصومین (علیہم السلام ) کے علاوہ کسی اور میں ایسی خصوصیات اور پہلوؤں کا تصور بھی دشوار ہے۔ اس عظیم انسان نے قوت ایمانی کو عمل صالح کے ساتھ، آہنی ارادے کو بلند ہمتی، اخلاقی شجاعت کو حکمت و تدبیر، جرات اظہار و بیان کو سچائی و متانت، معنوی اور روحانی پاکیزگی کو ہوشیاری و کداست، تقویٰ و پرہیزگاری کو تیز رفتاری و استحکام، قائدانہ رعب و دبدبے کو محبت و الفت کے ساتھ مختصر یہ کہ بہت سی پاکیزہ اور نادر صفات کہ جنکا صدیوں کے دوران بعض عظیم لوگوں میں جمع ہو جانا شاید ہی ممکن ہو اپنے مبارک وجود میں جمع کیا۔ یہ ساری صفات آپ کی نادر روزگار شخصیت میں موجود تھیں، آپ کی شخصیت بےنظیر تھی اور آپ کی انسانی عظمت، تصور و تخیل سے بالاتر ہے۔ وہ ملت ایران کے لئے رہبر، باپ، استاد، مقصود، محبوب اورمستضعفین عالم خاص طور پر مسلمانوں کے لئے روشن مستقبل کی نوید تھے۔ وہ خدا کے صالح و متواضع بندے، نیمہ شب میں پیش پروردگار گریہ کرنے والے ہمارے دور کی عظیم شخصیت تھے۔ وہ مسلمان کامل کے لئے سرمشق عمل اور ایک اسلامی رہنما کا بےبدل نمونہ تھے۔ انہوں نے اسلام کو عظمت دی اور قرآن کے پرچم کو پوری دنیا میں لہرایا۔ انہوں نے ملت ایران کو اغیار کی قید سے نجات دلائی اور حمیت، تشخص اور خوداعتمادی عطا کی۔ انہوں نے خودمختاری اور آزادی کا نعرہ پوری دنیا میں عام کیا اور دنیا کی ستم رسیدہ اقوام کے دلوں میں امید کی شمع روشن کی۔ ایسے دور میں جہاں طاقتور سیاسی ہاتھ دین و روحانیت اور اخلاقی اقدار کو مٹانے پر کمر بستہ تھے، انہوں نے دین و روحانیت اور اخلاقی اقدار کی بنیادوں پر نظام حکومت قائم کیا اور اسلامی سیاست اور حکومت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے دس سال تک تیز ترین طوفانوں اور فیصلہ کن مراحل میں اسلامی جمہوریہ کی پوری طاقت سے حفاظت اور رہنمائی کی اور اسے محفوظ مقام پر لا کھڑا کیا۔ ان کی دس سالہ قیادت کا دور ہمارے عوام اور حکام کے لئے ناقابل فراموش اور قیمتی ذخیرہ ہے۔ 3۔ بےمثال شخصیت امام (رہ) کی شخصیت کا دنیا کے کسی بھی رہنما سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، صرف انبیاء اور آئمہ معصومین کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ان ہی کے شاگرد تھے یہی وجہ ہے کہ( امام خمینی کا) دنیا کے کسی بھی لیڈر کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ 4۔ حکیم و دانا اور دور اندیش انسان امام (رہ) انتہائی دانا، دوراندایش، انسان شناس، حکیم، تیز بین، حلیم الطبع اور مستقبل کو دیکھنے والے تھے، ان صفات میں سے کوئی ایک بھی صفت کسی بھی شخص کو اعلٰی مرتبہ پر فائز کرنے اور دوسروں کے لئے قابل احترام بنانے کے لیے کافی تھی۔ امام (خمینی رہ) ایسے متین، بردبار اور حلیم الطبع تھے کہ اگر کسی محفل میں سو آدمی بات کر رہے ہوں اور انکی بات سے آپ متفق نہ ہوں تب بھی اگر ضروری نہ ہوتا تو آپ کوئی بات نہی کرتے اور خاموش رہتے، حالانکہ اگر معمولی لوگوں کے سامنے انکے مزاج کے خلاف کوئی بات کی جائے تو ان میں فوری جواب دینےکا جذبہ کروٹیں لینے لگتا ہے۔ 5 نفس اور خواہشات پر مسلط انسانحقیقتاً ہمارے ہردلعزیز امام جیسے بےنظیر اور عظیم انسان کو منتخب انسان، عظیم دماغ، پاکیزہ ترین دل نذرانہ تکریم و تعظیم پیش کرتے ہیں۔ ظاہری عہدے اور مقام کی بناء پر جن لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے ان میں اور ایسے شخص میں جسکا اسکی شخصیت و عظمت اسکی گہرائی اور گیرائی اور جس کی حیرت انگیز صفات، ہر محب کمال انسان کو تعظیم و احترام اور تعریف ستائیش کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں، بڑا فرق ہے۔ امام ( رہ) مختلف النوع صفات کے مالک تھے۔ آپ انتہائی خردمند دانا منکسر المزاج، زیرک و ہوشیار و بیدار، محکم و مہربان بردبار اور متقی انسان تھے۔ انکے سامنے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وہ آہنی ارادے کے مالک تھے اور کوئی بھی چیز انکی راہ میں رکاوٹ نہی بن سکتی تھی۔۔ وہ انتہائی رحم دل اور مہربان تھے، چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کا وقت ہو یا انسانی زندگی کے ایسے مواقع ہوں جہاں فطری طور پر دل محبت اور مہربانی پر مجبور ہو جاتا ہے۔ نفسانی خواہشات، مادی لذات انکے وجود کی اعلٰی چوٹیوں کو نہیں چھو سکتے تھے۔ وہ ہوائ نفس اور خواہشات پر پوری طرح مسلط تھے، خواہشات ان پر غلبہ نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ صابر و برد بار تھے اور سخت سے سخت حالات میں بھی انکے بحر بیکراں میں تلاطم پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے) اقتباسات: 1: وزیر اعظم اور کابینہ سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔ 2: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے۔ 3: ملت ایران کے نام پیغام سے اقتباس۔ 4: اسلامی انقلاب کمیٹی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔ 5: اسلامی انقلاب کمیٹی کے ارکان اور کمانڈروں سے بیعت لینے کی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے اقتباس۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.