معرفت امام ، خدا کی معرفت کا ذریعہ

1,294

انسان کی سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری اپنے خالق اور پروردگار کی معرفت حاصل کرنا ہے، چونکہ جب تک اس کی معرفت حاصل نہ ہوگی ،بندگی اور اطاعت کا صحیح راستہ انسان کے لئے نہیں کھلتا[1]۔ اس وجہ سے قرآن مجید اور روایات میں معرفت خدا کے ضروری ہونے پر بہت سے مطالب ذکر ہوئے ہیں۔
بعض قرآنی آیات میں اللہ تعالی کی حمد وثناء اور اس کی مختلف صفات کو ذکر کیا گیا ہے، اس طرح ائمہ معصومین علیھم السلام نے روایات، دعاؤں اور خطبات میں وسیع پیمانے پر خدا کی حمد اور اس کی صفات کو بیان کیا ہے [2]
روایات کی نگاہ میں معرفت پروردگار کا حصول اولیائے خدا اور آئمہ معصومین علیھم السلام کی معرفت کے ذریعہ سے ممکن ہے، چونکہ یہ ہستیاں اسماء و صفات الھی اور پروردگار کے جمال و جلال کی مظہر ، معصومین اور انسان کامل ہیں کہ جن کو اللہ تعالی نے زمین پر اپنا خلیفہ اور نمائندہ قرار دیا ہے۔ اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ان ہستیوں کے ذریعہ سے پہچانا جائے، ان کے ذریعہ سے اس کی اطاعت ہو اور ثواب و عذاب کا معیار بھی ان پر ایمان اور ان کی اطاعت کے مطابق ہو۔ جب امام حسین علیہ السلام سے معرفت خدا اور اس کےطریقہ حصول کے بارے میں سوال کیا گیا، تو حضرت نے جواب دیا:
« معرفت اھل کل زمان امامہم الذی یجب علیھم طاعتهَ» [3]
یعنی معرفت خدا سے مراد ہر زمانے کے لوگوں کا اپنے امام کی معرفت کو حاصل کرنا ہے، وہ امام کہ جس کی اطاعت ان پر واجب ہے۔
واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ا مام کی پہچان معرفت خدا اکا ذریعہ ہے اور انسان امام کی معرفت حاصل کرکے اور اس کےفرامين اور احکام پر عمل کرتے ہوئے زندگی کے صحیح اور مستقیم راستے پر قدم رکھ سکتا ہے ،نیزوہ سعادت جو خداوندعالم نے اس کے لئے محفوظ رکھی ہے، اس تک پہنچ سکتا ہے۔ معرفت خدا کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں ہے، جب تک اس شخص کی پہچان نہ ہو، جو اس کی طرف سے بندوں کے لئے راہنمائی اور رہبری کے مقام پر فائز ہے۔
شیخ صدوق رہ مذکورہ احادیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں :
اس سے مراد یہ ہے کہ ہر زمانے کے لوگ یہ جان لیں کہ خداوند عالم وہ ہستی ہے کہ جس نے انہیں کسی زمانے میں بھی امام معصوم کے بغیر نہیں چھوڑا، لہذا جو شخص بھی اس خدا کی عبادت کرے کہ جس نے ان پر کوئی حجت (امام)قرار نہ دی ہو تو اس نے گویا غیر خدا کی عبادت کی ہے۔[4]
[1] ۔ ر ک شیخ کلینی، کافی، ج۸، ص۲۳۷، ح۳۴۷۔
[2] ۔ تفسیر نمونہ کی موضوعی فہرست ۔میزان الحکمۃ اللہ کے نام کے ذیل میں۔
[3] . شیخ صدوق، علل الشرائع ،ج۱ ،ص۹، ح1۔
[4] ۔ سابقہ ماخذ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.