جن کب بوتل سے باہر آ گيا ہے صیہونیوں کو پتہ ہی نہیں!

ٹھیک ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بڑا الٹ پھیر شروع ہو گيا ہے۔ وہ لوگ جو اس کا حصہ ہوتے ہیں وہ اکثر اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اسے "بوائلنگ فراگ سنڈروم" کہا جاتا ہے۔ خیر، آپ ذرا سا زوم کیجیے تو آپ پائيں گے کہ پرانے نظام کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ کسی نے کبھی بالکل صحیح کہا تھا کہ مغربی نظام کا بکھراؤ سلطنت روم کا شیرازہ بکھرنے کی طرح ہی ہے لیکن ہم اس نظارے کا انٹرنیٹ پر ریئل ٹائم لطف لے سکتے ہیں۔

107

جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، مقبوضہ فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والی سامراجی حکومت نے اپنے زمینی حملے شروع کر دیے ہیں۔ البتہ وہ زمینی لشکرکشی کو باضابطہ طور پر کنفرم کرنے میں بھی ناکام ہے اور اسے “جوابی اٹیک کی توسیع” کا نام دے رہی ہے۔ یہ اس لحاظ سے قدرے مضحکہ خیز ہے کہ صیہونیوں کو علم ہے کہ اگر یہ حملہ اپنے بیان کردہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو انھیں باہر نکلنے کی ایک اسٹریٹیجی کی ضرورت ہوگی۔ پھر وہ غزہ پر باضابطہ زمینی کارروائی کا ہمیشہ انکار کر سکتے ہیں۔

فی الحال ہم ایک وسیع تر تصویر پر نظر ڈالتے ہیں، میں اس کالم میں اس چھوٹی تصویر کے بارے میں بعد میں بات کروں گا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکا کی قیادت والا بین الاقوامی نظام دم توڑ رہا ہے۔ نیٹو نے یوکرین میں یوکرین کے عام شہریوں کی جان کی قیمت پر روس کے خلاف جوش میں آکر جنگ کی۔ وہ جنگ اب شکست کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ جنگ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مغربی طاقتوں کی نام نہاد ‘ڈٹرینس پاور’، یوریشیا میں کبھی بھی قائم نہیں ہو سکتی۔ برادرکشی کے سبب کچھ ہی برسوں میں یہ اتحاد، عضو معطل بن کر رہ جائے گا۔

تاہم، صرف یہی نہیں ہے۔ مشرق وسطی میں بھی یہی انجام اس کا منتظر ہے۔ بائیڈن انتظامیہ اس تصور میں ہے کہ غزہ میں آپریشن کے بعد سب کچھ نارمل ہو جائے گا۔ کچھ بھی ہو لیکن یہ تو نہیں ہو پائے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ غزہ میں مزاحمت اب ویسی نہیں ہے جو پندرہ سال یا حتی نو سال پہلے تھی۔ یہ نئی حماس تیز، زیرک، صحیح تخمینے اور آگے کی صحیح سوچ رکھنے والی نئی تنظیم ہے۔ اس کی تربیت ان لوگوں نے کی ہے جو ان امور میں بے نظیر ہیں۔ جن کی جڑیں 1979 کے انقلابی نظریے سے جڑی ہوئی ہیں۔

حماس بہت سے پہلوؤں سے اب حزب اللہ کی طرح ہے، ڈسپلن والی اور جذبات میں نہ بہنے والی فورس۔ اس کی مثال دیکھنا ہو تو حماس کے ان حملوں کو دیکھیے جو اس نے مقبوضہ فلسطین میں سات اکتوبر کو کیے تھے۔ یہ محض فوجیوں کو قتل کرنے اور انھیں پکڑنے کے لیے کی جانے والی ریڈ نہیں تھی بلکہ یہ صیہونی حکومت کو اندھا کرنے کے لیے کیا گيا حملہ تھا۔ مشہور غزہ ڈویژن کی ناک، جس نے برسوں سے غزہ کی آبادی کا گلا گھونٹ رکھا تھا، اس طرح رگڑ دی گئی ہے کہ وہ شاید ہی ٹھیک ہو سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد اس ڈویژن کی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا۔ یہ چیز اس وقت بالکل واضح ہو جاتی ہے جب کوئی اعداد و شمار پر ایک سرسری نظر ڈالتا ہے۔ مثال کے طور پر سگنل انٹیلی جنس یونٹس کے اندر IDF کے ہونے والے نقصانات اسے مفلوج بنا رہے تھے۔ یونٹ 414، نیشر بٹالین کے اہم 19 افراد مارے گئے اور 30 ​​کے قریب فوجی زخمی ہوئے اور پکڑے گئے۔ کیمپ اوریم میں ان کے انٹیلی جنس آلات تباہ کر دیے گئے۔ اس کی سگنل بٹالین کے کمانڈر کو گھوسٹ یونٹ کے کمانڈر کے ساتھ کیمپ ریم میں ختم کر دیا گیا۔

بالکل یہی کہانی 933ویں نہل انفینٹری بریگیڈ کی تھی جہاں اس کے کمانڈر اور اس کے دو نائبوں کو دو درجن فوجیوں کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔ اس بات نے اب اس ڈویژن کو اندھا بنا دیا ہے کیونکہ مارے گئے لوگ وہ تھے جو غزہ کے جغرافیا کو جانتے تھے اور انسانی انٹیلی جنس کے اثاثوں کو مین ٹین رکھتے تھے۔

جہاں تک آپریشنل صلاحیت کے محاذ کی بات ہے تو پریمیئر اسپیشل آپریشنز فورسز یونٹ سایرت متکل، شایتیت 13 نیول اسپیشل فورسز اور شالداگ ایئر ایس او ایف نے اپنے مختلف کمانڈرز کو کھو دیا۔ پچھلی کسی بھی جھڑپ میں صیہونی حکومت کو ایسا دھچکا نہیں پہنچا تھا۔ وہ کبھی اس کی تلافی نہیں کر پائے گي۔

بڑی تصویر کی طرف لوٹتے ہوئے، وہ ساری ڈیٹرنس، جس کے بارے میں صیہونی حکومت اور امریکا نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اسے نافذ کر سکتے ہیں، ختم ہو گئي ہے۔ اس کا نمونہ؛ امریکہ نے یمن میں انصاراللہ کو ممکنہ سخت ترین وارننگ بھیجی تو اس نے اسے پلٹ کر دیکھا تک نہیں اور بھرپور عملی اقدامات کے ساتھ صیہونی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور امریکا سب نے حزب اللہ کو خاموش بیٹھے رہنے کی ہدایت کی تو حزب اللہ نے 130 سے زیادہ صیہونی فوجیوں کو ختم کرکے اور نسل پرست صیہونی حکومت کے اربوں ڈالر مالیت کے کئی انٹیلی جنس اڈوں کو تباہ کرکے جواب دیا ہے۔ امریکا نے شام اور عراق کے اندر مزاحمتی گروہوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ باز رہیں جبکہ انھوں نے دونوں ممالک میں امریکا کے غیر قانونی اڈوں پر 34 حملے کیے ہیں۔

امریکا اور صیہونی حکومت کا سب سے بڑا نقصان، مزاحمتی محاذ کی جانب سے ان کی ڈیٹرنس کا مذاق بنا دیا جانا ہے۔ یہاں سے ان کے لیے واپسی ممکن نہیں ہے۔

بڑی تصویر کے بارے میں بات کریں تو مزاحمتی محاذ نے بعض عرب سلطنتوں اور امریکا اور صیہونی حکومت کے اتحادیوں کی طرف سے فلسطینیوں پر قبضے کی قیمت پر صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون اور اپنے تعلقات کو وسعت دینے کی سازش کو بھی ہمیشہ کے لیے روک دیا ہے۔ اب مغربی گھمنڈ چکناچور ہو چکا ہے۔ پورے امریکا اور یورپ میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں کا حکمراں ٹولہ صہیونی لابی کے مفادات کو اپنی آبادی کی مرضی پر ترجیح دینا جاری نہیں رکھ سکتا، اگرچہ صیہونی لابی کی گرفت کو توڑنے میں وقت لگے گا لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اب پرانے راستوں پر واپس جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہم فلسطینیوں کو انصاف دلانے کے لیے مغربی حکومتوں کے اندر رفتہ رفتہ گہما گہمی بڑھنے کا مشاہدہ کریں گے۔ صیہونی لابی کی آہنی گرفت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو چکی ہیں۔ یورپی ممالک کے متعدد موجودہ اور سابقہ وزراء اور عہدیدار جس طرح سے فلسطینی کاز کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، جن میں اسپین، یونان اور آئرلینڈ بھی شامل ہیں البتہ یہ دائرہ ان ہی تک محدود نہیں ہے، اس نے صیہونی لابی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسے احساس ہو گيا ہے کہ غزہ میں انجام جو بھی ہو؛ یلغار کے آپریشنل حقائق جو بھی ہوں، اب جمود کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مفادات کو ہونے والا افرادی اور مادی نقصان اس عمل کی رفتار مزید بڑھا دے گا۔ امریکیوں کو اشارہ سمجھ لینا چاہیے۔ خوش قسمتی سے شام اور عراق دونوں ہی ملکوں میں مزاحمتی محاذ ان کی معقول خدمت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

ادھر معاشی جھٹکے کا وقت بھی آ گيا ہے۔ کئی برسوں کی ‘ڈالر کی چھپائی’ نے امریکی معیشت کو مختلف مسائل میں مبتلا کر دیا ہے تاہم امریکی اسے سنبھالنے کے بجائے اس کی لت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اقتصادی اور صنعتی شعبے کے ماہرین اس صورت حال کو اختصار سے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ موجودہ خسارے کی سطح کو دیکھتے ہوئے امریکی حکومت کے 34 ٹریلین ڈالر کے قرضے میں تین سال کے اندر ہی مزید 10 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ سالانہ سود کی لاگت ایک ایسے وقت میں ڈیڑھ ٹریلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ جائے گی جب بڑی معیشتیں تجارت میں امریکی ڈالر سے کنارہ کشی کر رہی ہیں۔ اب اس صورت میں ملمع کاری کی گنجائش نہیں بچی ہے۔ امریکا برباد ہو چکا ہے۔

یہ بات قابل فہم ہے کہ بہت سے لوگ اپنے ارد گرد ہونے والی ان تمام تبدیلیوں کو محسوس کرنے کا لازمی ادراک نہیں رکھتے۔ یہ چیز مجھے اس نتیجے تک پہنچاتی ہے جس کا میں نے پہلے پیراگراف میں ذکر کیا تھا: “بوائلنگ فراگ سنڈروم” اگر آپ مینڈک کو کھولتے ہوئے پانی میں ڈالیں گے تو وہ باہر کود جائے گا تاہم اگر آپ اسے ٹھنڈے پانی میں ڈالیں اور پھر پانی کو دھیرے دھیرے ابالیں تو مینڈک درجۂ حرارت میں اضافے کو نہیں سمجھ پاتا اور مر جاتا ہے۔ امریکا اور صیہونی حکومت، وہی مینڈک ہیں۔

سوربھ کمار شاہی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.