‘قرآن سے انس’ روحانی نشست سے خطاب

پہلی رمضان المبارک سنہ 1444 ہجری قمری کو 'قرآن سے انس' کے عنوان سے روحانی نشست کا 23 مارچ 2023 کو انعقاد ہوا جس میں قاریان قرآن اور قرآن کے میدان میں مختلف پہلوؤں سے کام کرنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں قرآن اور تلاوت قرآن سے متعلق اہم نکات بیان کئے۔ (1) خطاب حسب ذیل ہے؛

100

بسم اللہ الرحمن الرحیم

و الحمد لله ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا محمّد و آله الطّاهرین سیّما بقیّة الله فی الارضین.

آج کی یہ نشست بہت اچھی اور پسندیدہ تھی ہمارے لئے۔ در اصل آج آپ لوگوں نے یہاں آکر اور دلکش اور خوبصورت پروگرام پیش کرکے ماہ رمضان کے آغاز کو پر نور تو بنایا ہی اس کے ساتھ ہی اس خوبصورت آغاز کے ذریعے، نئے سال کے آغاز میں بھی خوبصورتی اور مٹھاس بھر دی، بہت شکریہ۔ جو پروگرام پیش کئے گئے بہت اچھے تھے، جناب پراقبافان کی زبان سے بھی ہمیشہ کی طرح پھول جھڑ رہے تھے خدا ان کی حفاظت کرے۔

میں ريڈیو اور ٹی وی پر نشر ہونے والے قرآنی پروگراموں کو کسی حد تک سنتا اور دیکھتا ہوں جب بھی میں کوئي ایسی تلاوت سنتا ہوں جو دلکش، پختہ اور اچھی ہوتی ہے تو میں تہہ دل سے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ ایسا بہت ہوتا ہے۔ یعنی آج ہمارے ملک میں اچھے، معروف، خوش الحان اور پختگی کے ساتھ تلاوت کرنے والے قاریوں کی تعداد بہت زيادہ ہے۔ ہر طرف قاری نظر آتے ہيں۔ اس پر ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہم اس کا موازنہ، انقلاب کے پہلے کے دور سے کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ انقلاب سے قبل پورے مشہد میں جسے اس دور میں تلاوت و قرائت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، شاید صحیح طور پر قرآن کی تلاوت کرنے والے ایک یا دو یا زیادہ سے زيادہ تین قاری ہی تھے۔ وہ جو سن رسیدہ اساتذہ تھے ان کی بات نہيں ہے۔ میں ان کی بات کر رہا ہوں جو ہمارے جلسوں میں شریک ہوتے تھے اور ہم جنہيں دیکھتے تھے مثال کے طور پر جناب فاطمی، جناب مختاری، یہی دو تین لوگ تھے لیکن آج قاریوں کی تعداد کو گننا ممکن نہيں ہے کیونکہ پورے ملک میں الحمد للہ اتنے زیادہ قاری ہيں۔

آپ نے بو شہر کے اس نوجوان کو دیکھا! (3) وہ مجھے ياد آ گیا، اس سال جب یہاں قرآن کی تلاوت کی تھی تو اس بچے نے بتایا تھا کہ ایک ایسے گاؤں سے ہے جہاں کے سب لوگ قرآن مجید سے متعلق کسی نہ کسی کام میں مشغول ہیں۔ ایک گاؤں ہے جو قرآن سنٹر بن گیا ہے۔ یہ سب تو ہم دیکھتے ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں جس پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ مجھے احباب نے بتایا ہے کہ معاشرے میں قرآن مجید کے شعبے میں ترقی، ملک کے تمام شعبوں میں ہونے والی ترقی سے زیادہ ہے۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے۔

یہاں پر میں قاری قرآن کی قدر و قیمت تمام لوگوں اور خود ان کے لئے واضح کرنے والی ایک بات کہتا چلوں، قاری اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا در اصل سننے والوں تک خدا کا پیغام پہنچاتا ہے۔ یعنی آپ یہاں بیٹھ کر جب تلاوت کرتے ہيں تو در اصل ایک ذمہ داری پوری کرتے ہيں، آپ پیغام پہنچاتے ہيں، خدا کا پیغام لوگوں کے دلوں تک پہنچاتے ہيں، یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور بڑے فخر کی بات ہے آپ لوگوں کے لئے۔ لیکن اس پیغام کو اچھی طرح سے لوگوں تک پہنچانے کے لئے کچھ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سے ایک، اچھی آواز ہے، ایک اور وسیلہ، تلاوت کو موثر بنانے کے طور طریقے ہيں، جیسے لحن یا اسی طرح کی دوسری چیزيں ہيں جن میں سے کچھ کا ذکر آگے چل کر میں کروں گا۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ کچھ ہمارے قاری جن کی تلاوت میں ريڈیو سے سنتا ہوں، وہ ان تمام نکات سے اچھی طرح سے واقف ہوتے ہيں، ان کا استعمال کرتے ہيں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی تلاوت کا اثر کئي گنا بڑھ جاتا ہے۔

قرآن مجید کی تلاوت کو سننا ایک واجب اور لازمی کام ہے، اب خود پڑھ کر سنے یا پھر کسی اور کی تلاوت سنے، ہر حال میں یہ ایک ضروری کام ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وحی پر ایمان کا لازمہ ہے: اَلَّذینَ آتَیناهُمُ الکِتابَ یَتلونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ اُولئِکَ یُؤمِنونَ بِه‌؛(4) جو لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہيں، تلاوت کے حق کا خیال رکھتے ہوئے، یہ لوگ صاحبان ایمان ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت، لازمہ ایمان ہے۔ اسی طرح کہا گیا ہے کہ «اَ فَلا یَتَدَبَّرونَ القُرآن» (5)‌

تدبر و غور کب ہوتا ہے؟ جب آپ تلاوت کرتے ہيں یا تلاوت کو غور سے سنتے ہيں تب۔ لہذا قرآن مجید کی تلاوت سننا، کوئي تفریح نہيں۔ میرے پاس جب بھی احباب آتے ہيں، سرکاری حکام یا دوسرے لوگ، نوجوان بھی جب کبھی آتے ہيں ہم قرآن کے بارے میں بات کرتے ہيں اور ان سے کہتے ہيں کہ آپ لوگ ہر روز قرآن کی تلاوت کریں۔ اب میں یہ نہیں کہتا کہ مثال کے طور پر ہر روز آدھا یا ایک پارہ پڑھ لیں۔ ایک دن میں آدھا یا ایک صفحہ ہی پڑھيں، لیکن تلاوت چھوڑیں نہیں۔ پورے سال میں کوئی ایسا دن نہ گزرے جس دن آپ نے قرآن کھولا ہی نہ ہو اور اس کی تلاوت ہی نہ کی ہو۔ سب سے پہلے تو ایمان کی وجہ سے قرآن کی تلاوت سننا ایک فریضہ ہے اور دوسری بات یہ کہ یہ خدا کی رحمت کے لئے آمادگی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے وَ اِذا قُرِئَ‌ القُرآنُ فَاستَمِعوا لَهُ وَ اَنصِتوا لَعَلَّکُم تُرحَمون؛(6)

یعنی قرآن کی تلاوت سننا رحمت الہی کا باعث بنتا ہے۔ اب اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے! یہ انسان کو خدا کی رحمت سے آشنا کرنے کا ایک بہترین اور بے حد اہم سبب ہے۔

تلاوت، غور و فکر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یقینا ہمارے ملک کے عوام کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ قرآن کی زبان سے آشنا نہيں ہیں۔ عرب ملکوں میں آپ مشاہدہ کرتے ہيں کہ عام لوگ جو نماز کے لئے بیٹھے ہوتے ہیں مثال کے طور پر امام حسین علیہ السلام مسجد میں (7) یا کہیں اور بھی جب قاری، قرآن کی تلاوت کرتے ہيں تو بات عام لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے یعنی وہی قرآن کا ظاہر ان کی سمجھ میں آتا ہے اور یقینا «ظاهِرُهُ اَنیقٌ وَ باطِنُهُ عَمیق‌»؛(8) قرآن کا باطن بہت گہرا ہے جو ہو سکتا ہے کہ اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے اور اسے سمجھنے کے لئے صاحب علم کی وضاحت اور تفسیر کی ضرورت ہو لیکن قرآن کی ظاہری شکل ہمیشہ سب کے لئے سودمند ہوتی ہے۔ سب لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، مسئلہ یہ ہے جس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

یہاں پر میں نے نوٹ کیا ہے کہ ایک اہم کام جو ہمیں کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن مجید کو تفسیری ترجمہ کے ساتھ پڑھنا چاہیے، صرف معانی کے ترجمے کے ساتھ ہی نہيں، بلکہ تفسیر کے ساتھ کئے جانے والے ترجمے کے ساتھ قرآن کی تلاوت کی جانی چاہیے جیسا کہ آج جو کچھ ترجمے ہیں وہ اسی طرح کے ہیں کہ جن کے ترجمے میں کچھ نکات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں بہت سی اچھی اور رواں تفسیریں بھی موجود ہیں، یعنی آج کے دور میں ہمیں کتابوں، قرآن کے ترجمے اور تفسیر کے شعبے میں کوئي کمی نہیں ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس شعبے میں بہت کچھ ہمارے پاس ہے، یہی جو تفسیر نمونہ ہے یا اسی طرح کی دوسری تفسیریں جو موجود ہيں ان کی تعداد کافی ہے۔ کوئي طریقہ نکالیں، قرآن کے سلسلے میں کام کرنے والے اور اس شعبے میں مصروف عمل افراد کو ایک ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے کہ جس سے ہمارے لئے یہ ممکن ہو کہ جب کسی محفل میں قرآن مجید کی تلاوت ہو تو اس کا ترجمہ بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

ویسے آج کل ‘تلاوت ریڈیو’ میں ایک چھوٹا سا کام ہو رہا ہے جو مجھے کافی پسند ہے : تلاوت نشر کرنے سے قبل، یہی جو تفسیریں موجود ہیں ان کی بناء پر پریزنٹیٹر ان آیتوں میں سے ایک دو کی تفسیر بیان کرتا ہے جو قاری پڑھنے والا ہوتا ہے، یہ بہت اچھی بات ہے، یہ بہت ہی اچھا کام ہے۔ بھلے ہی قاری بیس تیس آیتیں پڑھے اور میزبان ایک یا دو ہی آیتوں کی وضاحت کرے لیکن یہ بھی بہت اچھا ہے۔ یہ کام تلاوت ریڈیو میں ہو رہا ہے۔ اس طرح کا کام ہم انقلاب سے قبل قرآنی جلسوں میں کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میں مثال کے طور پر شاید ایک گھنٹہ ایک موضوع کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتا تھا، اس موضوع کے بارے میں آیتوں کا انتخاب کیا ہوتا تھا۔ میری تقریر کے بعد کوئي ایک قاری، وہی احباب جو مشہد میں تھے اور ان میں سے کچھ الحمد للہ اب بھی با حیات ہیں جبکہ کچھ اس دنیا سے چا چکے ہیں، آکر وہاں بیٹھ جاتا تھا۔ میں کہتا تھا کہ دوسرے لوگ جلسات میں قرآن کو اپنی تقریر کا مقدمہ قرار دیتے تھے لیکن میں، اپنی تقریر کو، قرآن مجید کا مقدمہ قرار دیتا تھا، میں کھڑے ہوکر تقریر کرتا تھا۔ وہاں پر کرسی تھی، منبر تھا میری تقریر کے بعد قاری آتا تھا اور منبر پر بیٹھ کر تلاوت کرتا تھا، ہم اس دور میں یہ کام کرتے تھے، اب پتہ نہيں، اس طرح کے جلسوں میں ایسا کام کرنا کتنا ممکن ہے۔ بہرحال کوئي طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے اور یہ کام شاید قرآن کے شعبے میں سرگرم انہی لوگوں کی ذمہ داری ہو کہ وہ دیکھيں کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔ جب آپ تلاوت کریں تو عام لوگ اس کے مضامین، اس کے معانی سمجھیں اور اس کا ادراک کریں۔

ایک اور اچھی بات، تمام مسجدوں میں قرآن خوانی اور تلاوت سننے کا رواج ہے۔ بہت سی مسجدوں میں تلاوت ہوتی ہے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر ہم ہر مسجد کو قرآنی مرکز بنا سکیں یعنی ایک دو قاری بلائے جائيں، خدا کا شکر ہے کہ قاری بہت زيادہ ہيں۔ وہ نماز سے پہلے مسجدوں میں جائيں، اگر ممکن ہو تو ہر دن یہ کام ہو جو تھوڑا مشکل بھی ہے لیکن کم سے کم ہفتے میں ایک قاری ایک تلاوت کرنے والا مسجد میں آئے اور وہاں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرے اور لوگ سنیں۔ اس کے ساتھ ہی خود قاری یا کوئي اور اس کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کو مختصر تفسیر اور آیتوں کا ترجمہ بتائے۔ میرے خیال میں یہ اچھا کام ہے۔

قرآن سے متعلقہ امور پر ذرا توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قرآن، زندگی کی کتاب ہے، حکمت کی کتاب ہے، سبق آموز کتاب ہے، ہم نے اس سلسلے میں بہت بات کی ہے اور یہاں میں ان باتوں کو پھر سے دوہرانا نہیں چاہتا۔ قرآن میں زندگی کے ہر شعبے کے لئے درس ہے۔ قرآن کا ہر صفحہ اگر آپ دیکھیں، غور کریں تو انسان قرآن مجید کے ہر صفحے سے زندگي کے لئے دسیوں سبق حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب اہم باتیں ہیں۔ صرف آخرت کے امور سے متعلق چیزيں ہی نہیں ہیں، اس بارے میں تو بہت زیادہ اور وسیع پیمانے پر بات کی گئي ہے لیکن ہماری ذاتی زںدگي، ہماری گھریلو زندگي، حکومت، بین الاقوامی تعلقات، ان سب کے بارے میں قرآن مجید میں باتيں اور حکمتیں موجود ہيں، راستہ دکھایا گیا ہے۔ تو ہمیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ہمیں قرآن سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

خدا کا شکر ہے کہ آج قرآنی برادری بہت وسیع ہے۔ ایک دور تھا جب ہم یہ باتیں ایسے حالات میں کرتے تھے کہ جب اس کے لئے کوئي بنیادی ڈھانچہ موجود ہی نہيں تھا۔ اس دور میں بہت کم لوگ قرآن سے انس رکھتے تھے یہاں تک کہ جو لوگ وعظ و نصیحت بھی کرتے تھے وہ بھی اپنی باتوں میں قرآن مجید کی آیتوں کا زيادہ استعمال نہيں کرتے تھے۔ آج خدا کے شکر سے بہت کچھ ہے۔ قاریوں کی بڑی تعداد ہے، حافظوں کی بہت بڑی تعداد ہے، قرآن کی تلاوت کرنے والے بہت زیادہ ہیں، قرآن سے محبت کرنے والے اور قرآن کی تلاوت سننے کا شوق رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو محافل قرآنی میں شرکت کرتے ہيں، جو ہم سب کو نظر آتے ہيں۔ اس بنا پر تلاوت قرآن پر، قرآن اور اس کے مفہوموں کے بارے میں آشنائي کے سلسلے میں جو بھی ممکن ہو وہ کیا جانا چاہیے اور زيادہ کام کیا جانا چاہیے یہ بہت اہم بات ہے۔

کچھ باتیں، قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں؛ آپ لوگوں میں سے جو تلاوت کرتے ہيں، جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور جن کو خداوند عالم نے یہ عظيم مرتبہ دیا ہے کہ آپ خدائي پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہيں اور ہمارے دلوں سے مخاطب ہوتے ہیں تو کچھ باتیں آپ لوگوں کے لئے بھی عرض کرتا ہوں۔ تلاوت کو دوسروں پر اثر انداز ہونا چاہیے کہ جس کے اپنے طریقے ہيں، جن کا میں بعد میں ذکر کروں گا۔ ویسے آپ میں سے زیادہ تر لوگوں کو اس کا علم بھی ہے۔ “لوگوں پر اثر انداز ہونا” یعنی جب آپ تلاوت شروع کرتے ہيں تو آپ کا ارادہ یہ ہو کہ آپ کی یہ تلاوت لوگوں پر اثر کرے، تلاوت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ تلاوت جس کا مقصد اثر ڈالنا ہوتا ہے اور ایک وہ تلاوت جس کا مقصد گانا ہوتا ہے، آپ کو حیرت ہو رہی ہے، حیرت نہ کریں! اب آپ لوگ چونکہ سب لوگ اچھے، پاکیزہ اور سچی نیت کے حامل ہيں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس پر حیرت ہو، لیکن نہيں! جو لوگ بیرونی ملکوں کے قاریوں سے، میں کسی ملک کا نام نہيں لوں گا لیکن جو ان قاریوں سے آشنا ہیں وہ جانتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے قاری ہيں جو جب تلاوت کرتے ہيں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اصلی مقصد یہ ہے کہ مختلف دھنوں، لحنوں اور طریقوں کی لوگوں کے سامنے بس نمائش ہی کرتے رہیں۔ سامعین بھی پیشہ ور ہوتے ہيں، کچھ لوگ پیشہ ور سامع ہوتے ہیں۔ یہ جو آپ کچھ قاریوں کی تلاوت کے دوران شور شرابہ اور ہنگامہ سنتے ہيں اور سمجھ میں نہيں آتا کہ کیا کہہ رہے ہيں یہ وہی پیشہ ور سامعین ہوتے ہيں، ان میں سے اکثر کو یہی چاہیے ہوتا ہے۔ عام اجتماعات میں آپ دیکھتے ہيں کہ لوگ با آواز بلند “اللہ” کہتے ہيں، کبھی روتے ہيں، اسے اثر کہتے ہيں۔ لیکن کچھ مختلف طرح کے جلسوں میں صاف نظر آتا ہے کہ بیس، تیس، پچاس یا سو لوگ قاری کے چاروں طرف بیٹھے ہوتے ہيں، شور مچاتے ہيں، ہنگامہ کرتے ہيں کیونکہ انہيں، قاری کی دھن، لحن اور موسیقیت سے مزہ آتا ہے شاید وہ آیت کے معنی پر توجہ ہی نہ دیتے ہوں۔ قاری کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔

میں ایک مثال دے دوں۔ یقینا میں کسی کا نام نہيں لینا چاہتا۔ بہت دلکش اور اچھی آواز کا مالک ایک قاری ہے مثال کے طور پر محمد عمران، نام لے لیا، بہت اچھی آواز ہے، موسیقی کا بھی پورا علم ہے۔ میں نے تو سنا ہے کہ اسے عرب موسیقی پر سب سے زیادہ عبور حاصل ہے۔ وہ قرآن پڑھتا ہے، سورہ یوسف کو اس طرح سے پڑھا ہے: “«بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیمِ‌ * الر» پھر «تِلکَ آیاتُ الکِتابِ المُبین». اور کچھ آیتیں پڑھنے کے بعد پھر شروع سے پڑھتا ہے «بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیمِ‌ * الر»؛ آگے کی آیتیں نہیں پڑھتا . پھر «بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیمِ‌ *‌ الر». میں نے گنا تلاوت کی شروعات میں شاید اس نے آٹھ نو بار پڑھا :

بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیمِ *‌ الر۔ کیوں؟ آيتوں کو بار بار دوہرانا بہت اچھا ہے وَ مَن اَحسَنُ قَولاً مِمَّن دَعا اِلَى الله‌؛ (9) اسے آپ سوچیں کہ قاری پڑھ رہا ہے، اسے بار بار پڑھنا بہت اچھا ہے یہی جو شروعاتی آیتیں جناب فردی نے پڑھیں۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ شروع کی دو تین آیتوں کو دوہرائيں گے۔ ایسی آیتوں کو دوہرایا جانا چاہیے، کہیں کہیں تو ان آیتوں کو بار بار پڑھنا بہت اچھا ہے بلکہ ضروری ہے۔ یعنی اسے دوہرانے میں بھی اثر ہوتا ہے۔ لیکن «بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحیمِ‌‌ * الر» کو بار بار پڑھنے سے کیا حاصل؟ سننے والوں پر کیا اثر ہوتا ہے؟ سوائے اس کے کہ قاری، تلاوت کے مختلف انداز اور موسیقی کے مختلف مقامات کی نمائش کرتا ہے اور وہ سب سنتے ہيں۔ ایسا پڑھنا، ایسی تلاوت اچھی نہيں ہے۔ تلاوت میں اثر ہونا چاہیے۔ یقینا اثر کا سب سے پہلے تعلق خود پڑھنے والے سے ہوتا ہے۔ اگر قاری خود اپنی تلاوت سے متاثر ہوتا ہے جیسا ہم کچھ مصری قاریوں کو دیکھتے ہيں کہ خود ان پر بھی اپنی تلاوت کا اثر ہوتا ہے، تو ظاہر سی بات ہے ایسی تلاوت کا اثر زیادہ ہوگا۔ اس کے کچھ طریقے بھی ہیں جن میں سے میں کچھ کا ذکر کروں گا۔ یقینا اس میں میرا ایک مقصد ہے، آپ لوگوں کو وہ طریقے سکھانا مقصود نہیں ہے، کیونکہ آپ لوگ مجھ سے زيادہ بہتر طریقوں سے واقف ہیں، میرا مقصد کچھ اور ہے۔

ایک طریقہ، قرائت کے اختلاف سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مختلف طرح کی قرائت کا جو معاملہ ہے اسے کچھ لوگ صرف خود نمائی کے لئے استعمال کرتے ہیں یعنی در اصل اس کا کوئي فائدہ نہیں ہوتا۔ شاذ اور کمزور قرائتیں، متروکہ قرائتيں۔ آپ تصور کریں کہ کـبھی کسی ایک آیت کو مثال کے طور پر پانچ چھے قرائتوں میں الگ الگ طرح سے پڑھیں تو اس کا کوئي فائدہ نہيں ہے اور یہ اچھی بات بھی نہيں ہے۔ اس طرح سے الگ الگ قرائتوں میں پڑھنا اچھا نہیں ہے۔ میں اس کی سفارش نہيں کروں گا، حالانکہ کچھ مقامات پر تلاوت میں اختلاف اچھی چیز ہے کہ جس کی کچھ مثالیں میں ابھی دوں گا۔ قرائتوں میں کچھ مقامات پر اختلاف بہت اچھا ہے لیکن کہیں کہیں قرائت کا یہ فرق جس کی وجہ سے آيت کو بار بار دوہرایا جاتا ہے، اس کا لوگوں پر اثر کے لحاظ سے کوئي فائدہ نہيں ہوتا، کوئي فائدہ تو نہيں ہوتا، بلکہ الٹے ذہن ہٹ جاتا ہے اور دوسری چیزوں پر توجہ جانے لگتی ہے۔ لیکن کہیں کہیں یہ اعادہ اچھا ہوتا ہے۔ میں دو تین مثالوں کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک تو عبد الباسط کی تلاوت ہے جو سورہ یوسف میں ہے۔ ‘ھیت لک’ جو ہے اس کو بار بار دوہراتے ہيں یعنی وہ انتظار نہيں کرتے کہ آيت ختم ہو جائے پھر دوہرائيں۔ وَ قالَت هَیتَ لَک، وَ قالَت هِئتَ لَک، وَ قالَت هِئتُ لَک؛‌(10) اسی طرح سے وہ دوہراتے چلے جاتے ہيں۔ وہ اس مقام کی اہمیت واضح کرنا چاہتے ہيں۔ اگر یونہی پڑھتے پڑھتے گزر جائيں تو اس طرح کی اہم پوزیشن پر سامع توجہ نہيں دے پائے گا۔ ایک نوجوان لڑکا، ایک خالی کمرے میں، جہاں اس جیسی ایک عورت، اتنی ضد کر رہی ہے اور وہ نوجوان انکار کر رہا ہے۔ یہ اس معاملے کی اہمیت ہے؛ یعنی قاری یہاں پر اس صورت حال کو اس طرح سے واضح کرنا چاہتا ہے کہ گویا سامع اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ اسی لئے قاری اسے بار بار دوہراتا ہے۔ اس طرح کا اعادہ، عرب کے معروف اور بڑے قاریوں کی تلاوتوں میں کم ہے کہ اس طرح سے مسلسل کسی ٹکڑے کو بار بار دوہرایا جائے۔ یہ ایک مثال ہے۔ یہ اچھی چیز ہے۔ اب اگر احباب اس کی مشق کریں اور ایسا کام کریں مثال کے طور پر کہيں قرائت کا اختلاف ہے تو اسے اس طرح سے بیان کریں تو میرے خیال سے یہ اچھا کام ہوگا۔ مثال کے طور پر «سَلامٌ عَلیٰ اِل یاسین»،(11) میں ورش کی قرائت «آل یاسین» ہے۔ «سَلامٌ عَلیٰ اِل یاسین»، «سَلامٌ عَلیٰ آلِ یاسین»؛ صرف ورش نے یہاں پر «آل یاسین» پڑھا ہے باقی تمام لوگوں نے «اِل یاسین» پڑھا ہے۔ مثال کے طور پر اسے بار بار دوہرانا اچھا کام ہے۔ «سَلامٌ عَلیٰ اِل یاسین»، «سَلامٌ عَلیٰ آلِ یاسین».

ایک اور مثال جو میرے لئے بہت اچھی اور پر کشش تھی، شیخ مصطفی اسما‏عیل کی تلاوت تھی۔ سورہ نمل میں جب حضرت سلیمان کہتے ہيں کہ «اَیُّکُم یَأتینی بِعَرشِها»،(12) تو یہاں، قالَ عِفریتٌ مِنَ الجِنّ»؛ میں قرائت کا اختلاف خود واضح کرتے ہيں۔ اصل میں جن یوں تو حضرت سلیمان کے ساتھ تھے لیکن ان کے دل، ان کے ساتھ نہیں تھے «تَبَیَّنَتِ الجِنُّ اَن لَو کانوا یَعلَمونَ الغَیبَ ما لَبِثوا فِی العَذابِ المُهین»(13) یہ آيت سورہ سبا میں ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنوں پر ان کی حکومت تھی لیکن یہ لوگ مجبور تھے، حضرت سلیمان نے انہيں اپنے قبضے میں کر لیا تھا لیکن ان کے دل حضرت سلیمان کے ساتھ نہیں تھے۔ اب یہاں پر قرآن میں کہا گیا ہے کہ «قالَ عِفریتٌ مِنَ الجِنِّ اَنَا آتیکَ بِهِ قَبلَ اَن تَقومَ مِن مَقامِک»،(14) یہاں پر شیخ مصطفی اسماعیل کیا کرتے ہيں؟ پہلے وہ یہی پڑھتے ہيں: قالَ عِفریتٌ مِنَ الجِنِّ اَنَا آتیکَ بِهِ قَبلَ اَن تَقومَ مِن مَقامِک؛ اور پھر «اَنَا آتیکَ بِه» کو ورش کی قرائت میں پڑھتے ہيں یعنی آیت کو ورش کی قرائت میں دوہراتے ہيں۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں پر ورش کی قرائت، اس عفریت کے غرور کو زیادہ ظاہر کرتی ہے، دیکھیں اس طرح کی تلاوت کا طریقہ، اس میں وہ خود نمائی کرتا ہے، اس لئے آیت دوہرائی جاتی ہے۔ میری نظر میں مصطفی اسماعیل جیسا عظیم اور معروف قاری جان بوجھ کر اس قرائت کو یہاں دوہراتا ہے یعنی یہ انتظار نہيں کرتا کہ آيت ختم ہو جائے پھر دوہرائے بلکہ وہیں پر «اَنَا آتیک» کو عاصم سے حفص کی معروف قرائت میں پڑھ کر اسے ورش کی قرائت میں دوہراتے ہيں تاکہ یہ واضح کر سکیں کہ وہ عفریت اپنی تعریف کر رہا ہے۔

اس کے بعد «اَلَّذی عِندَهُ عِلمٌ مِنَ الکِتاب» کے ذریعے اسے منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ «اَنَا آتیکَ بِهِ قَبلَ اَن یَرتَدَّ اِلَیکَ طَرفُک» (15) یہاں پر بھی شیخ مصطفی اسماعیل وہی کام کرتے ہيں۔ وہاں پر بھی ویسے ہی پڑھتے ہيں۔ یعنی جنوں کے ایک عفریت کی غلط مغرورانہ حرکت کا، حضرت سلیمان کے صحابیوں میں سے ایک با اخلاص و با ایمان شخص نے جواب دیا اور در اصل اسے چپ کرا دیا۔ دیکھيں قرائتوں میں اختلافات کو اس طرح سے استعمال کرنا بہت اچھی بات ہے۔ لیکن اگر اس قسم کی ظرافت اور اس توجہ کے بغیر قرائتوں میں اختلافات کو استعمال کیا جائے گا تو ٹھیک نہیں ہے۔ ویسے معمولی حد تک استعمال میں میری نظر میں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔ آپ کو علم ہے کہ چونکہ ورش مصر میں رہتا تھا اور مصریوں کا ورثہ در اصل، نافع سے ورش کی قرائت ہی ہے۔ اس لئے مصری اسے اہمیت دیتے ہيں۔ یقینا آپ نے سنا ہوگا کہ مصر میں ایسی ترتیل بھی ہے جو صرف ورش کی قرائت میں کی گئي ہے۔ یعنی شروع سے آخر تک بس ورش کی قرائت ہے۔ مصر اور شمالی افریقا کے بہت سے ملکوں میں جو عالم اسلام کے مغرب میں واقع ہيں، نافع سے ورش کی قرائت رائج ہے۔

قرائت حمزہ بھی ساکن حرف کے بعد ہمزے کی وجہ سے ایک سکتہ پیدا ہو جاتا ہے، اس کی اپنی ایک خوبصورتی ہے جسے کچھ مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مختلف قرائتوں میں حد سے زیادہ مصروف ہو جانا اور طرح طرح کے حروف کو بیان کرنا خاص طور پر وہ جو عجیب و غریب قسم سے “امالہ” کیا جاتا ہے تو وہ سمجھ میں نہيں آتا کہ آخر یہ کیوں ہے؟ یہ صحیح نہيں ہے۔ مجھے نہيں لگتا کہ آج کی عرب دنیا میں کوئي اس طرح سے امالہ کرتا ہوگا۔ اب شاید اس دور میں جب سات قاریوں میں شامل جناب حمزہ نے اسے بیان کیا تھا تو عرب اس طرح سے بولتے رہے ہوں گے لیکن مجھے نہيں لگتا کہ آج عرب دنیا میں، مطلب میں نے آج تک نہ سنا ہے نہ دیکھا کہ عرب اس طرح سے بات کریں یا “زیر” کا تلفظ اس طرح سے کریں۔ بہرحال یہ تو معنی کے بارے میں بات ہوئي۔

ایک اور بات مطلب ایک اور طریقہ جو ہے وہ ” قطع و وصل” کے سلسلے میں ہے۔ آج یہاں پر جو ایک قاری نے تلاوت کی وہ اس لحاظ سے کافی اچھی تھی۔ یعنی آج جتنے قاریوں نے بھی تلاوت کی ان میں سے اکثر اور خاص طور پر ایک قاری نے ایسی جگہوں پر تلاوت روکی جس سے سامع کو زیادہ اچھی طرح سے معنی سمجھ میں آئے۔ کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ تلاوت کے دوران آیت پڑھتے وقت ایسی جگہ رکیں جس سے آیت کی بات ذہن میں بیٹھ جائے۔ کبھی کبھی یہ روکنا، آیت میں کہی گئي بات کی اہمیت اور اس نکتے کو واضح کرنے کے لئے ہوتا ہے جو اس آیت میں ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ یقینا ان سب کے لئے مثال کی ضرورت ہے تاکہ بات پوری طرح سے واضح ہو جائے کہ کہنے کا مطلب کیا ہے۔ لیکن ابھی گنجائش نہيں ہے اور بہت سی چیزيں مجھے یاد بھی نہيں ہیں۔ اب جو چیز مثال کے طور پر میرے ذہن میں ہے وہ شیخ مصطفی اسماعیل کی ایک اور تلاوت ہے، سورہ قصص کی: فَجائَتهُ اِحداهُما تَمشی عَلَی استِحیاءٍ.(16) جی تو اگر ہم اس آیت کو پڑھنا چاہیں گے تو کیسے پڑھيں گے؟ ہم اسی طرح پڑھیں گے: فَجائَتهُ اِحداهُما تَمشی عَلَی استِحیاءٍ؛ ان میں سے ایک لڑکی آئي، جو شرم و حیا کے ساتھ چل رہی تھی۔ اچھی بات ہے یہ عام تلاوت ہے۔ مصطفی اسماعیل ایسے نہیں پڑھتے؛ وہ کہتے ہيں «فَجائَتهُ اِحداهُما تَمشی»، «عَلَی استِحیاءٍ» نہيں پڑھتے، تھوڑا فاصلہ پیدا کرتے ہيں پھر کہتے ہيں «عَلَی استِحیاءٍ»؛ کیوں؟ اس لئے کیونکہ لڑکی کی شرم و حیا کے معانی ہوتے ہيں۔ اچھا یہ تو وہی لڑکی ہے جو اب سے آدھے ایک گھنٹے پہلے، اسی نوجوان کے پاس تھی جس نے اس کی بھیڑوں کو پانی دیا اور چلا گيا تو اب کیوں شرما رہی ہے؟ لیکن اس وقت شرما نہيں رہی تھی؟ کیونکہ وہ گئي اور اپنے والد سے بات کی اور اس نوجوان کی تعریف کی، گھر میں اس نوجوان کے بارے میں کچھ باتیں ہوئی ہيں۔ اسی لئے اب جب یہ لڑکی آتی ہے تو شرماتی ہوئي آتی ہے۔ «عَلَی استِحیاءٍ» وہ اسے واضح کرنا چاہتے ہیں، اسے سامنے لانا چاہتے ہیں اس لئے «تَمشی» کہتے ہیں اور «عَلَی استِحیاءٍ» کو الگ کر دیتے ہيں، الگ سے پڑھتے ہيں۔ اس طرح کی تلاوت کی بات ہے، اگر ان سب چیزوں پر توجہ ہو تو میرے خیال میں یہ بہت اچھی بات ہے۔ کچھ آیتوں کو دوہرانا، کچھ جملوں کا اعادہ یا کچھ مقامات پر آواز اونچی اور نیچی کرنا، یہ سب اہم طریقے ہيں جن سے سامعین کے دلوں پر تلاوت کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔

بہرحال آپ لوگوں کا کام اہم ہے، بڑا ہے، واضح ہے، فن ہے اور کئي فنون کا مجموعہ ہے۔ یہ جو آپ کرتے ہيں یہ ہنر ہے، فن ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت ایک بہت بڑا ہنر اور فن ہے اور یہ در اصل دھن اور مختلف چيزوں کا ایک مجموعہ ہے جس پر تلاوت کے وقت خاص توجہ دی جاتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سننے والے پر اس کا زیادہ سے زيادہ اثر ہو۔ بس یہ خیال رہے کہ تلاوت، دھن کے لئے نہ کریں، قرآن کو جس دھن اور طرز میں پڑھیں اس کا مقصد سننے والوں پر اثر ڈالنا ہونا چاہیے۔ یعنی آپ کی نیت اور مقصد یہ ہو۔ عرب کے کچھ معروف قاریوں کی طرح نہ ہو۔ میں نے مصطفی اسماعیل کی تعریف کی ہے لیکن وہ بھی کبھی کبھی ایسے ہی بن جاتے ہيں، کبھی کبھی وہ ایسے تلاوت کرتے ہيں کہ سننے والے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ لحن اور دھن اور پڑھنے کے طریقے کے لئے سامعین کے سامنے فخر کر رہے ہیں تاکہ اس طرح سے انہيں متاثر کیا جائے۔ لیکن بہت سے مواقع پر ان کی تلاوت روحانی اثر لئے ہوئے ہوتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی آپ سب کو توفیقات سے نوازے گا۔ ہم سب کو قرآن سے زیادہ قریب ہونے کی توفیق عنایت کرے گا، قرآن سے زیادہ آشنا ہونے کی توفیق دے گا اور ہم قرآن کے اس شعبے میں اپنے فرائض پر عمل در آمد کر پائيں گے۔ اہم حصہ، قرآن پر عمل ہے جو ایک الگ موضوع ہے اور اس پر وسیع بحث و گفتگو ہو سکتی ہے، ہم نے قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے احترام کے سلسلے میں کچھ باتیں عرض کی ہیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ سب کو کامیابی عطا کرے۔

پروردگارا! تجھے محمد و آل محمد کا واسطہ ہمیں قرآن کے ساتھ محشور کرنا، ہمیں قرآن سے زندہ رکھ اور قبر و قیامت میں قرآن کے ساتھ محشور کر، قرآن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ہمیں توفیق دے، ہمارے سماج کو قرآنی معاشرہ قرار دے، جن لوگوں نے ہمیں قرآن کی تعلیم دی ہے، جن لوگوں نے ہمیں تجوید پڑھائي ہے، جنہوں نے ہمیں قرآن کے اسرار سمجھائے ہیں خدایا ان پر اپنی رحمت نازل کر اور ان کی مغفرت کر۔ خداوند عالم ان شاء اللہ قرآن کے ہمارے اساتذہ کو اپنے اولیاء کے ساتھ محشور کرے گا۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

1) سن 1444 ہجری قمری کے ماہ رمضان میں ہونے والی اس ملاقات کے آغاز میں کچھ قاریوں اور ٹیموں نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔

2) پروگرام کے ناظم، جناب مجید یراقبافان

3) جناب سید طہ حسینی، چارک خور موج گاؤں کے باشندے

4) سورہ بقرہ آیت 121

5)سورہ نساء آيت 82 میں بھی ہے، کیا تم لوگ قرآن کے معانی پر غور نہيں کرتے؟

6) سورہ اعراف، آیت 204

7) قاہرہ میں

8) نہج البلاغہ خطبہ 18 ” قرآن کی ظاہری شکل خوبصورت اور باطن بہت عمیق ہے۔

9) سورہ فصلت، آیت 33 ” اور اس سے زيادہ خوش گفتار کون ہے جو خدا کی سمت لوگوں کو دعوت دے؟ ”

10) سورہ یوسف آیت 23

11) سورہ صافات آیت 130 الیاس کے پیروکاروں پر سلام

12) سورہ نمل، آیت 38 ” تم لوگوں میں سے کون اسے میرے پاس لے آئے گا؟ ”

13) سورہ سبا، آیت 14 ” جنوں کے لئے یہ واضح ہو گيا کہ اگر انہيں غیب کا علم ہوتا تو اس ذلت آمیز عذاب میں باقی نہ رہتے۔”

14) سورہ نمل آیت 39 “… جنوں میں سے ایک عفریت نے کہا کہ میں اسے اس سے پہلے کہ آپ یہاں سے اٹھیں لے آؤں گا ”

15) سورہ نمل آيت 40 ” جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں اسے آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لا دوں گا ”

16) سورہ قصص، آیت 25 ” تب ان میں سے ایک عورت، شرم سے قدم بڑھاتی ہوئي ان کے پاس آئي۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.