شہید قاسم سلیمانی کی مذاکراتی صلاحیت جو جنرل حجازی نے بیان کی

جنرل حجازی کی دسمبر 2020 کی ایک گفتگو سے اقتباس سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت کا ایک خاص پہلو جو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ ان کی مذاکراتی صلاحیت تھی۔ رہبر انقلاب اسلامی بھی فرما چکے ہیں کہ شہید قاسم سلیمانی کی گفتگو موثر اور قائل کر دینے والی ہوتی تھی۔

177

کسی کے اندر دوسروں کو قائل کر دینے کی صلاحیت تبھی پیدا ہوتی ہے جب اس کے ذہن میں صورت حال بالکل واضح ہو۔ یعنی جب تک صورت حال کی واضح تصویر انسان کے ذہن میں نہیں ہوگی وہ دوسروں کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ دوسرے یہ کہ اس کے بیان کی بنیادیں صحیح ہونی چاہئیں، محکم، پختہ اور مضبوط بنیادیں ہونی چاہئیں۔ اگر نظرئے کی بنیادیں محکم، مضبوط اور پختہ ہوں گی، فکر و عمل میں کوئی تضاد نہیں ہوگا تو دوسروں کو قائل اور مطمئن کرنا ممکن ہوگا۔

وہ جاتے تھے اور بہتوں سے مذاکرات کرتے تھے۔ رونما ہونے والے واقعات کی تازہ ترین صورت حال اور تمام تفصیلات سامنے رکھ دیتے تھے، ان کی تشریح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان وجوہات کی بنا پر اور اس بنیاد پر یہ کام انجام دینا ضروری ہے۔ وہ ذاتی چیزوں اور سیاسی رجحان وغیرہ پر دھیان نہیں دیتے تھے۔ ان کی صداقت اور سیاسی حربوں سے ان کی دوری کا یہ اثر تھا کہ جب وہ کسی سے گفتگو کرتے تھے تو اس کے ذہن میں کبھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ سردار قاسم سلیمانی کہہ کچھ رہے ہیں اور ان کے ذہن کے اندر کوئي اور بات ہے۔ ان کی صداقت اور صریحی گفتگو کی وجہ سے لوگ مطمئن اور قائل ہو جاتے تھے۔

بعض اوقات جب وہ شام کے اہم کمانڈروں اور عہدیداران سے گفتگو کرتے تھے تو میدانی حالات کے تعلق سے ان کی معلومات زیادہ اور بالکل درست ہوتی تھیں، اس کی وجہ سے ظاہر ہے کہ بہتر راہ حل کی تجویز دی جا سکتی ہے اور دوسروں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ میدان میں دائمی موجودگی، زمینی حالات سے براہ راست رابطہ اور مکمل اطلاعات ایک طرف اور دور اندیشی، گہری سوچ دوسری طرف، یہ چیزیں ان کے اندر یہ خاص مہارت پیدا کر دیتے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.