امامان شیعہ اہل سنّت کی نگاہ میں

470

کتاب
تشیّع کے امام(اہل بیت علیہم السلام )اہل سنّت کی نگاہ میں
کا مقدمہ جو عالیجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی نے تحریر فرمایا ہے کو ہم یہاں بطور تعارف کتاب پیش کر رہے ہیں ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تشیّع کے امام(اہل بیت^)
اہل سنّت کی نگاہ میں
(مکتب خلفاء کے پیروکار)
مقدمه: استاد انصاری بویر احمدی:
الحمد لله رب العالمين والصلواة والسلام علی اشرف الانبياء واعظم المرسلين ابی القاسم محمد و علی اهل بيته الطيبين الطاهرین المعصومين.
پیغمبر اکرم|اورآپ کے اہل بیت ^ کی شناخت کاملہ خداوند متعال کی عطا کردہ اور ہمیشہ رہنے والی ایک نعمت ہے ۔ یہ نعمت الٰہی اورپروردگار عالم کا لطف خاص ان لوگوں کے شامل حال ہوتا ہے جو پیامبر اکرم|کی عظمت اوراہل بیت ^ کی اصالت, وصایت اور ولایت کے بارے میں پاک و پاکیزہ فکر اور گہر ی و وسیع معلومات رکھتے ہوں۔
فریقین,(سنی ا ورشیعہ)کے قدیم, متاخر اورمعاصر(دورحاضر کے مضبوط مآخذ)متقن اورمضبوط روائی و احادیثی منابع ان مستدل اورموثق مستندات سے بھرئے پڑے ہیں جو رسول خدا| کے بعد اہل بیت ^ کی خلافت و ولایت کی حقانیت کو ثابت کرتے ہیں۔
آج کل کی دنیا جوکہ عالمی گاوں (Global Village)کے نام سے مشہور ہے اورمعلومات پہنچانے کے جدیداورترقی یافتہ وسائل وابزار سے مالا مال ہے ۔ منصف محقق اس چیز کی قدرت رکھتا ہے کہ وسیع اورگہری تحقیقات انجام دیئےبغیر اہل بیت ^ کے مذہب کی حقانیت سے واقف اورباخبر ہوکر دوسرے مسلمانوں کے اعتقادات کو قوی کرنے میں مشغول ہوجائے ۔ البتہ ائمہ معصومین^کی شناخت ومعرفت اورامت مسلمہ کے سامنے ان رہبران الٰہی کا تعارف, خدا کی طرف سے عنایت کی گئی توفیق ا ورعظیم نعمت ہے, اورکلمة اللہ جل جلالہ کے بلند کرنے مین بہت بڑا قدم اور اسی طرح انحراف سے دور اور اصل اسلام کا پھیلانا ہے۔
اسلام کا وجود میں آنا اور اس کاارسال اسلام پیغمبر اکرم |کے مقدس وجود کا محتاج ہے جبکہ اس کا باقی رہنا ائمہ معصومین| کی ہدایت کا محتاج ہے ۔اس حقیقت کا ادراک کہ اسلام کے وجو دمیں لانے کا سبب و عامل پیغمبراسلام|اور اس کے باقی رہنے کا سبب وعامل اہل بیت^ ہیں, ائمہ معصومین^ کی مکمل معرفت وپہچان کا محتاج ہے جس کی پیامبر اسلام | نے بھر پورتاکید فرمائی ہے ۔
قال رسول الله|:
{من منّ الله عليه بمعرفة اهل بيتی وولايت هم فقد جمع الله له الخير کلّه}[1]
جس شخص پر خدا وند کریم احسان کرنا چاہئے اسے میرے اہل بیت^ کی معرفت و ولایت عطا کر تا ہے (اورجسے معرفت و ولایت عنایت کردے )گویا خدا نے اس میں تمام خوابیاں رکھ دی ہیں۔
امیر المؤمنین علی (ع)اہل بیت ^ کے بارے میں فرماتے ہیں:
خدا نے پیامبر اکرم| کا راز ان ہی لوگوں کے سپر د کیا ہے, جس نے بھی ان کی پناہ لی اس نے حق کو پالیا ۔ یہی علمِ پیامبر|کا مخزن ہیں ,احکام شریعت و قرآن و سنت ان کے پاس محفوظ ہے , یہی لوگ دین کے کوہ گراں ہیں, دین کے نگران و محافظ یہی ہیں ,انہی کے ذریعے پشت ِاسلام سیدھی ,ثابت اورقائم ہے۔[2]
زرعه نے امام جعفرصادق (ع)کی خدمت میں عرض کیا:
پروردگار عالم کی معرفت کے بعداعمال میں سے کو نسا عمل بہتر اور افضل ہے؟
حضرت (ع)نے فرمایا:
معرفت خداکے بعد کوئی عمل بھی نماز کی مانند نہیں ہے, معرفت خدااور نماز کے بعد کوئی عمل بھی زکات کے ہم پلہ نہیں ہے۔ ان کے بعد کوئی عمل بھی روزہ کے برابر نہیں ہے, ان اعمال کے بعد حج کی اہمیت تمام اعمال سے بڑھ کر ہے,”فاتحة ذالک کله معرفتنا وخاتمته معرفتنا“ان تمام اعمال کی ابتدابھی ہماری معرفت پر ہے اوران کی انتہا بھی ہماری ہی معرفت پر ہے [3]
مکتب خلفاء کے پیروکاروں (اہلسنت) نے اپنی کتب تفاسیر, صحاح ستہ اوردوسرے معتبر منابع کے علاوہ, متأخیرین , متقدمین اور دور حاضر کے علماء کی کتابوں میں اہل بیت ^کی اطاعت و پیروی کے لازم ہونے کے بارے میں بہت سارے مطالب اور حدیثیں بیان کی ہیں ,جبکہ ان تمام مستندات کے ہوتے ہوئے بھی ان کی ان تمام مستندات کے ساتھ عملی و علمی مخالفت کرنا تعجب آور اور حیرت انگیز ہے۔
بطور نمونہ علی(ع) کی بلافصل خلافت کے بارے میں اس حدیث(جس کو اہل سنت کے ستر سے زیادہ منابع میں ذکر کیا گیاہے ), پرغور فرمائیں:
قال رسول الله|:
ان علياً منی و أنا منه و هو ولی کل مؤمن بعدی.[4]
رسول خدا|نے فرمایا:
بے شک علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ میرے بعد تمام مؤمنین کے ولی وسرپرست ہیں ۔
قرآن کی آیات کے ساتھ بھی ان کی عملی مخالفت تعجب آورا ورحیرت انگیز ہے۔ بعض وہ آیات جن کا ذکر اہل سنت نے اپنی ا کثر تفاسیر میں کیاہے کہ وہ اہل بیت^ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔آیہ مودت[5] ۲۔آیہ ولایت[6] ۳۔آیہ اصطفاء[7] ۴۔آیہ وراثت الکتاب[8]
۵۔آیہ اہل الذکر[9] ۶۔آیہ الراسخون فی العلم[10] ۷۔آیہ ھل اتی[11] ۸۔آیہ مباہلہ[12] وغیرہ۔
ابن عباس معتقد ہیں , کہ قرآن کاایک تہائی حصہ اہل بیت پیغمبر|کے بارے میں نازل ہوا ہے۔
مسلم کتاب صحیحین میں نقل کرتےہیں کہ پیغمبراکرم|نے فرمایا:
اما بعد! اے لوگو! میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں اور ممکن ہے کہ جلدہی پروردگارعالم کا بھیجا ہوا (عزرائیل(ع)) آجائے اور میں اس کی دعوت پر لبیک کہوں , بتحقیق میں تمہارے درمیان دو قیمتی و گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں , پہلی خدا کی کتاب جو ہدایت اورنور ہے,تو تم خدا کی کتاب کو پکڑو اور اس کو تھام لو اور دوسری میرے اہل بیت^, تمہیں خدا کی قسم میرے اہل بیت^کو بھولنا نہیں, تمہیں خدا کی قسم میرے اہل بیت ^کوبھولنا نہیں, تمہیں خدا کی قسم میرے اہل بیت ^کو بھولنانہیں[13]
اسی طرح بخاری اپنی صحیح میں پیغمبراسلام| سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
اے علی(ع)تمہاری منزلت میرے ساتھ وہی ہے جوہارون(ع) کی موسیٰ (ع) کے ساتھ تھی , مگر یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔[14]
احمد ابن حنبل بھی اپنی مسند میں پیغمبراسلام |سے نقل کرتےہیں کہ انہوں نے فرمایا:
میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جارہاہوں , خدا کی کتاب اور میری عترت و اہل بیت^, اگر تم ان سے متمسک رہے تو ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے۔[15]
حاکم اپنی کتاب مستدرک میں نقل کرتےہیں کہ پیغمبراسلام|نے فرمایا:
بتحقیق تمہارے درمیان میرے اہل بیت^کی مثال نوح (ع) کی کشتی جیسی ہے, جو بھی اس میں سوار ہوا , وہ کامیاب ہو جائے گااور جس نے بھی اس سے منہ موڑا وہ ہلاک ہوجائے گا اور ڈوب جائے گا ۔[16]
اہل سنت کے مشہورومعروف دانشور, خطیب خوارزمی حنفی اہل بیت^کے نورانی اورسرچشمہ زلال حضرت امیرالمؤمنین علی (ع)کے بارے میں لکھتے ہیں:
وہ(علی(ع))ہی امیر المؤمنین ہیں, مردانگی کے دائرہ کا قطب و محور , نبوت کے علم کا وارث , قضاوت میںتمام صحابہ سے زیادہ اعلم, مضبوط قلعہ, امانتدار خلیفہ, زمین کی وسعتوں میں اورآسمان کے زیر سایہ رہنے والے ہر انسان سے بڑھ کر اعلم, رسول خدا| کا چچا زاد بھائی , ان کا غم واندوہ دورکرنے والا,علی(ع)کا بیٹاپیغمبر|کا بیٹا, ان کا خون پیغمبر|کا خون, اس کے ساتھ صلح و دوستی پیغمبر|کے ساتھ صلح و دوستی ہے , ان کے ساتھ جنگ پیغمبر| کے ساتھ جنگ کرنا ہے ,دنیا میں فضائل و مناقب کے پھوٹتے ہوئے چشمے اسی کے دریا ئے فضائل کی ادنیٰ سی جھلک ہے۔ ان کا گوشت پیغمبر|کا گوشت, ان کے اعضاء پیغمبر| کے اعضاء ہیں, ان کا علم پیغمبر|کا علم ہے , تو حیدو عدل کے غنچے اسی کے گلستان ِ کلام اورنوشتہ جاتمیںکھلتے ہیں, وہی ہدایت کے دائرہ کامحور ومرکز اور گمراہی وضلالت کی تاریکیوںمیں روشن چراغ ہیں, عقل و فہم اور ادراک کی کنہ حقیقت,سرسے لیکر پاؤں تک فرشتہ غیب (جبرائیل امین) نے ان کی مدح سرائی کی ہے اور آپ کے تمام فضائل کاگواہ ہے۔[17]
اہل سنت کے بزرگان کی ایک اورقیمتی اوربارزش کلام جو علی(ع) کی بلا فصل خلافت کے اعترا ف کے علاوہ اہل بیت^ اور حضرت امام زمانہ(عج) کے مقدس وجودکی حقانیت کاکھلا اعتراف ہے۔
جوینی لکھتے ہیں:
اس پروردگار عالم کی حمد وسپاس ہے کہ جس نے نبوت اور رسالت کو مقام امن و امانت کے مالک یعنی پیغمبرامی حضرت محمد مصطفی|کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایااور ان کے چچا زاد بھائی کے ذریعے ولایت کا آغاز کیا وہ بھائی جونبوت کی فضلیت کے علاوہ محمد| کے لئے وہی مقام و مرتبہ رکھتا ہے جوموسیٰ(ع) کے لئے ہارون(ع) کا مقام ہے ,یعنی رسول خدا|کا انتخاب شدہ اورپسندیدہ وصی علی(ع), نبی کے پوشیدہ علم کے شہر کادروازہ , بخشش و احسان کاروشن چراغ, حکمت و عرفان کے پھیلنے کا مرکز,قرآن کے سر بستہ رازوں سے واقف و باخبر, اپنے پنہائی و پوشیدہ علوم و حکمتوں کے ذریعے مفاہیم قرآن کے لطائف سے مکمل مطلع و آگاہ۔ اس کے بعدخدا نے و لایت کو اس کے فرزند, حضرت حجت (عج) کے ذریعے خاتمہ بخشا۔[18]
اہل سنت کے مشہور ومعروف فرقہ شافعیہ کے رہبر, امام شافعی کہتے ہیں:
اگر علی مرتضیٰ(ع) اپنے حالات اور اپنے امر باطن کی حقیقت کو ظاہر و آشکار کریں تو لوگ کافر ہوجائیں گے۔کیونکہ وہ ان کے خدا ہونے کے شبہ کی وجہ سے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے, ان کی فضیلت و منقبت میں یہی کافی ہے کہ بعض لوگوں نے ان کے بارے میں شک کیاہے کہ کیاوہ خدا ہے یا مخلوق ؟[19]
اس بناپر اہل بیت ^کی حقیقی معرفت حاصل کرنا, اسلام کے اعتقادی مبانی و ضروریات میں سےہے, مسلمانوں نے اہل بیت^ کی معرفت و شناخت حاصل کرنے میں تین راستے طے کئے ہیں:
پہلا:
بعض وہ لوگ جو ائمہ^ سے مربوط تمام مسائل سے مطلع و باخبر ہیں, اورصحیح راستہ کے ذریعے ان کی حقانیت وعظمت سے واقف و باخبر ہوئے ہیں, انہوں نے ان کے پوشیدہ حالات اور باطنی مقامات درک کئے ہیں۔یہ لوگ تمام زمانوں اور حالات میں انسانوں کی ہدایت و رہبری میں اہل بیت کے اساسی و بنیادی کردار اداء کرنے پرمکمل اعتقاد و یقین رکھتے ہیں,ان لوگوں نے معتدل اور درمیانی راستہ اختیارکیا ہے اور پیغمبراسلامۖ کی اس حدیث مبارکہ کو دل و جان سے قبول کیا ہے کہ جس میں آنحضرت|نےفرمایا:
میری امت کی ہر نسل کے درمیان , میرے اہل بیت^ میں سے کچھ عادل افراد موجود ہیں جو گمراہ لوگوں کی تحریفات, باطل پرست افراد کی کژرویوں اور جاہلوں کی تأویل کو دین سے دور کرتے ہیں۔ اے لوگو! تمہارے ائمہ ^, خدا کی طرف تمہاری راہنمائی کرنے والے ہیں, لہذا تم دقت و توجہ کرو کہ کن لوگوںکو اپنے رسول, و رہبر قرار دے رہے ہو۔[20]
یہ افرادجو اس قسم کے اعتقاد ات رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں, اہل بیت ^کے حقیقی پیروکار, شیعہ اور ان کے راستہ پر چلنے والے ہیں؛ { کثر الله امثالهم}
دوسرا:
بعض لوگوں نے اہل بیت^ کی معرفت وشناخت حاصل کرنے میں زیادہ روی کی ہے اور افراط کا راستہ طے کیاہے اورغلو میں گرفتار ہوئے ہیں ۔انہوں نے بعض ائمہ معصومین^ کی شان بشریت کو فراموش کرکے ان کو مقام الوھیت تک پہنچایا دیاہے,مکتب تشیع ایسے افراد کو غلات سمجھتا ہے اورانہیں اسلام سے خارج قرار دے کران سے سخت قسم کی بیزاری و برأت کا اظہار کرتاہے۔[21]
تیسرا:
جبکہ ایک گروہ نے ائمہ معصومین ^ کی مکمل و حقیقی معرفت و شناخت حاصل کرنے میں کوتاہی و سهل انگاری کی ہے اور ان کو ان کے حقیقی مقام و مرتبہ سے نیچے لے آئے ہیں,یہ لوگ قرآن کریم کی آیات اورپیغمبراسلام| کی احادیث کے مقابلے میں اجتھاد کرتے ہیں اوریوں اجتہاد در مقابل نص جیسے فعل قبیح وحرام کے مرتکب ہوئے ہیں۔ دین میں انحراف کی وجہ سے اصلِ مسلّم یعنی امامت و ولایت سے پیچھے رہ گئے ہیں اور پیغمبراسلام|کی حدیث منزلت,حدیث ثقلین, حدیث غدیر,حدیث ولایت وغیرہ کے علاوہ دوسری مختلف و متعدد احادیث کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اہل بیت^ کے مقام عظمیٰ اوران کی لیاقت و شائستگی کو نادیدہ لیا ہے۔
یہ لوگ مفضول کو افضل پر مقدم کرنے کی وجہ سے خدا اور رسول| اوران کے حقیقی جانشینوں کی ولایت سے دورہوگئےہیں پیغمبر|کے شہر میں حقیقی دروازہ اور اصلی راستہ سے داخل نہیں ہوئے ہیں اور بڑے فتنہ کےوجود میں آنے کے بعد سچے اوراسلام ناب محمدی سے دور ہوگئے ہیں۔
لیکن! ان لوگوں کے درمیان کچھ ایسے افرادبھی دیکھے جاسکتے ہیں جو تنگ نظر نہیں تھے, جنہوں نے وسعت نظری کے ساتھ اورتعصب ولجاجت سے د ور رہ کرحقیقت کو بیان اوراس کا اعتراف کیاہے ۔یہ لوگ چونکہ میزان عقلائیت, ضمیر کی پاکیزگی, روشن فکری اورشخصی مشروعیت سے ہمکنار تھے ۔ لہذا معرفت اورحق و حقانیت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے ۔آئمہ اطہار ^ کی معرفت کے حصول میں ہمت سے کام لیا ہے اوران کی عظمت کا بھی اعتراف کیا ہے ۔
البتہ اگر وہ عقل و منطق کے تقاضوں سے, اصل اسلام کے اعتقادی مبانی خصوصاً امامت کو احساسات , تعصبات اور اموی میلان سے دور رہ کر و حیانی معارف وعلوم کے براہین و استدلال کے مطابق حاصل کریں گے اور ان پر عمل کریں گے تو اہل بیت^ کی حقانیت کےتابناک انوار ان کے وجودمیں حیرت انگیز اورتعجب آور تحول و تغیر وجود میں لائیں گے ۔ ایسا تحول وتغیر جو اہل بیت^ کی رہبری وہدایت سے ہمکنار ہوگا اور حقیقی بصیرت اور پاک عشق کی ضمانت دے گا اور دنیا وآخرت کی سعادت کا ذمہ دار ہوگا۔
تمام ادیان الٰہی توحید, نبوت, عدل اور معاد کی تعلیم دیتے تھے , لیکن مکتب اسلام کی منحصر بہ فردخصوصیت, نبوت کا اختتام اور انبیا ء کی تحریک کا اصل ولایت و امامت اور پیغمبراسلام|کے اہل بیت^کے ذریعے آگے بڑھانا تھالیکن افسوس ہے کہ بہت سے مسلمان اس مہم اصل سے غافل وبے خبر ہیں۔
ائمہ معصومین^ کے مقام رفیع کی مکمل معرفت و شناخت , بہت سارے آثار کا منبع و منشأ اوردنیای اسلام کا سب سے عظیم موضوع و مسئلہ ہے ۔ وسیع تحقیقات,روشن و واضح دلائل اور مستند و مستدل براہین,(اگرچہ اہل سنت کے منابع میں ہی ہوں), کے ذریعے اس مھم کام کا انجام دینا, دین کے دانشوران اور علماء کے کاندھوں پرایک عظیم ذمہ داری ہے۔اس سلسلہ میں عالم جلیل القدر حضرت حجة الاسلام و المسلمین الحاج شیخ قربان علی محقق ارزگانی نے کافی سعی ومحنت کے بعد یہ گران سنگ وگرانقدرکتاب تحریر کی ہے امام صادق (ع)نے فرماتے ہیں:
ہاتھ کی زکات خرچ کرنا اورعطاء کرنا ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے کہ جو خدا نے تمہیں عطا کی ہیں۔اوران علوم و منافع کو لکھنے میں کوشش کرناجن سے مسلمان خداوند متعال کی اطاعت و فرمانبرداری کے راستے میں بہرہ مند ہوں۔[22]
معلوم ہے کہ خداوند متعال کی نعمت اوراس کی اطاعت کی راہ مین سعی و کوشش اوراہل بیت ^ کے مقام شامخ کے دفاع میں رحمت الٰہی آپ کے(مولف محترم کے) شامل حال ہوئی ہے ۔
جزاه الله عن الاسلام اجراً و ادام الله توفيقاته و السلام عليکم ورحمة الله وبرکاته.
سرپرست مجمع جہانی شیعہ شناسی
علی انصاری بویر احمدی
حواشی
[1]۔ ”بشارة المصطفی“ص١٧٦.
[2]۔”نهج البلاغه“خطبه٢.علامہ سید ذیشان حیدر جوادی, ص٣٧.
[3]۔ شیخ طوسی”امالی“ ص۶۹۳۔
[4]۔ متقی ھندی”کنزالعمال“ج ۱۱, ص۶۰۸و ج ۱۳, ص۱۴۲, چاپ بیروت, و ج ۶, ص ۱۵۳, ۱۵۵ و۱۵۹,چاپ قدیم؛ ۲۔”سنن بيهقی“ ج۸, ص۵؛ ۳۔ھیثمی, ”مجمع الزوائد“ج ۹, ص۱۲۷؛ ۴۔متقی ھندی”کنزل العمال“ج ۶, ص ۳۹۹, ۵۔ بغوی”معجم الصحابه“ ص۲۰؛ ۶۔”تاريخ ابن عساکر“ج ۱۲, ص۱۰۸؛ ۷۔”مسند طيالسی“ ص ۸۲۹؛ ۸۔ابن اثیر”جامع الاصول“ج ٩, ص۴۷۰؛ ۹۔ابن الشجری ”الامالی“ ج ۱, ص۱۳۴؛ ۱۰۔ابن حجر عسقلانی ”الاصابة“ج ٢, ص ۵۰۳؛ ۱۱۔”مناقب خوارزمی“ص ۹۲؛ ۱۲۔ محب الدین”بشارة المصطفی“ص۴۴ ۱۳۔ترمذی”سنن“ ج۵, ص۵۹۱؛ ۱۴۔ حاکم”مستدرک“ج ۳, ص۱۰۰؛ ۱۵۔ابن حبان”صحيح“ ح ۲۲۰۳؛ ۱۶۔ ابن ابی شیبہ”المصنف“ ج۱۲, ص۷۹؛ ۱۷۔”تاريخ خطيب بغدادی“ ج۳, ص۳۳۹, چاپ بیروت؛۱۸۔محب الدین طبری” ذخائر العقبیٰ“ ص۶۸؛ ۱۹۔ حاکم نیشابوری”مستدرک“ج۳, ص ۱۱۱, چاپ بیروت؛ ۲۰۔علامہ کشفی”مناقب مرتضويه“ ص۷۴؛ ۲۱۔جمال الدین زرندی حنفی” نظم درر السطين“ ص۹۸؛ ۲۲۔ شیخ منصور علی ناصف ”التاج“ج۳,ص۳۳۵, چاپ بیروت؛ ۲۳۔ علامہ ابن حجر مکی”صواعق المحرقه“ص۱۲۴,چاپ مصر؛ ۲۴۔علامہ بیہقی”سنن الکبرای“ج۸, ص۵؛ ۲۵۔علامہ عینی”مناقب سيدنا علی(ع)“ص۲۸, چاپ حیدر آباد؛ ۲۶۔ محمد بن اسماعیل بخاری”صواعق المحرقه“ج۳,ص۲۲۹, چاپ بیروت؛ ۲۷۔ابوداود”مسند“ج٣ ص۱۱۱؛ ۲۸۔علامہ سیوطی”تاريخ الخلفاء“ ص١٥٩؛ ۲۹۔نسائی”خصائص“ ص٣٩؛ ۳۰۔احمد بن حنبل”مناقب“ج ۱, ص۲۱۵,چاپ بیروت؛ ۳۱۔علامہ دھلوی”اشعة اللمعات“ج۴, ص۶۶۵؛ ۳۲۔علامہ ابن طلحہ شافعی”مطالب السئول“ص۴۵؛ ۳۳۔شھاب الدین حسینی شافعی”توضيح الدلائل“ ص٣٥١؛ ۳۴۔ علامہ ابن مغازلی”مناقب“ص۲۲۴؛ ۳۵۔علامہ گنجی شافعی”کفاية الطالب“ص۱۱۵ ؛۳۶۔حافظ ابی عیسی محمد بن عیسی بن سورہ الترمذی ”سنن“ ج٥, ص۶۳۲؛ ۳۷۔علامہ امرتسری” ارجح المطالب“ ص۴۵۲؛ ۳۸۔ابن کثیر”البدية و النهاية“ج۷,ص۳۴۳؛ ۳۹۔شیخ الاسلام جوین”فرائد السمطين“ج۱, ص۵۶, چاپ بیروت؛ ۴۰۔ ابن عساکر” ترجمة الامام علی“ ج۱, ص۳۷۹, چاپ بیروت ؛ ۴۱۔ علامہ بدخشی ”مفتاح النجاہ“ ص۵۹؛ ۴۲۔ شیخ محمد صبان مصری”اسعاف الراغبين“ ص۱۸۸, چاپ مصر؛ ۴۳۔ شیخ سلیمان حنفی”ينابيع المودة“ج۱, ص۵۲,ج۲, ص۳۱ و ۱۰۸, چاپ بیروت؛ ۴۴ علامہ شافعی یمانی”شرح الارجوزه“ ص۲۹۳؛ ۴۵۔ علامہ مناوی”کنوزالحقائق“ص۳۷ و ۴۱؛ ۴۶۔ علامہ ابن اثیر”اسد الغابه“ ج۴, ص۲۷؛ ۴۷۔ امام احمد حنبل”مسند“ ج۳ ص۳۳۷ و ج۴, ص۱۶۴ و ۱۶۵؛ ۴۸۔علامہ بدخشی”نزل الابرار“ ص۲۲؛ ۴۹۔حافظ ابونعیم”حلية الااوليائ“ج۲, ص۲۴۹؛٥٠۔ علامہ بدخشی”تعفة المحبين“ ص۱۶۸؛ ۵۱۔ علی بن حسام الدین”منتخب کنزالعمال“ج۵,ص۳۰ و ج۴,ص۶۴۰,بیروت.
[5]۔ {قُلْ لَا أَسْئلکُمْ عَلَيْه اَجْراً اِلاَّ المُودّةَ فِیْ الْقُرْبَیٰ}; (سورہ شوریٰ آیہ ٢٣).
[6]۔ {اِنَّما وَلِيُّکُمُ اللّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذینَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ راکِعُونَ} (سورہ مائدہ آیہ٥٥)
[7]۔ {قُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ وَ سَلام عَلی عِبادهِ الَّذينَ اصْطَفی} (سورہ نمل آیہ٥٩)
[8]۔ {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا} (سورہ فاطر آیہ ٣٢)
[9]۔ {فَسْئَلُوا اهْلَ الذِّکْرِ ِنْ کُنْتُمْ لا تَعْلَمُون} (سورہ نحل آیہ٤٣)
[10]۔ {وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اَمَنّا بِه کُلّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا} (سورہ آل عمران آیہ ٧)
[11]۔ {هَلْ أَتی عَلَی اْلِنْسانِ حين مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَکُنْ شَيْئًا مَذْکُورًا} (سورہ انسان آیہ١)
[12]۔ {فَمَنْ حَاجَّکَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّهِ عَلَی الْکاذِبين} (سورہ آل عمران آیہ٦١)
[13]۔ مسلم”صحيح مسلم“ ج۴, باب فضائل علی ,ص۱۸۷۳, ح ۲۴۰۷.
[14]۔ بخاری”صحيح بخاری“ج ۶,”کتاب المغازی“ ص۳, باب غزوة تبوک”صحيح مسلم“ ج۴, ص۱۸۷۳, ۲۴۰۴.
[15]۔ احمد”مسند احمد“ج۳, ص۲۶؛ ”احقاق الحق“ج۱۸,ص۲۶۱.
[16]۔ حاکم”مستدرک حاکم“ج۳, ص۱۵۱.
[17]۔ سراج محمد ابراہیم”امام علی, خورشيدی بی غروب“(غروب نہ ہونے والا سورج)ص۲۷۶.
[18]۔ جوینی”فرائد السمطين“ج۱۱, ص۱۲.
[19]۔ سراج محمد ابراھیم”امام علی, خورشيد بی غروب“ ص۲۷۰.
[20]۔ ابن حجر شافعی“الصواعق المحرقه“ ص۱۵۰.
[21]۔ بندہ حقیر نے “غلو تشیع کی نظر میں”عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے اس میں غلات کے ساتھ تشیع کی بیزاری و مخالفت کی متعدد و مختلف علتیں اورقوی و مستند ادلہ و براھین ذکر ہوئی ہیں, اور اسی طرح اس بری بیماری کے خطرناک نتائج بھی ذکر ہوئے ہیں۔
[22]۔ ”سفينة البحار“ج۲, ص۴۲۱, قال الصادق: {زکوة اليد البذل والعطاء و الرخاء بما انعم الله عليک به تحريکها بکتبه العلوم ومنابع ينتفع بها المسلمون فی طاعة الله تعالی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.