دفاع مقدس میں روحانیت کا کردار

317

کتاب
عالمانه شهادت کي تصوير(دفاع مقدس میں روحانیت کا کردار)
کا مقدمہ جو عالیجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی نے تحریر فرمایا ہے کو ہم یہاں بطور تعارف کتاب پیش کر رہے ہیں ۔
بسم الله الرحمن الرحيم
عالمانه شهادت کي تصوير
(دفاع مقدس میں روحانیت کا کردار)
مقدمه
استاد انصاری بویر احمدی
عالمانه شهادت کي تصوير,سلسله جليله روحانيت کي دفاع مقدس (ایران پر عراق کی ٹھونسی گئی آٹھ سال کی جنگ) میں بھر پور شرکت کي خوبصورت منظر کشي هے ۔ وہ سلسله جليله روحانيت جو نہ صرف زمانہ حاضر , بلکہ تاریخ اسلام میں ابھی تک مکتب تشیع کی حفاظت اور اس کي وسعت کا عہدہ دار اور غیبت کبرٰی کے سخت بحرانوں میں شیعہ امامیہ کی نجات کا ضامن بھی رها هے۔
مکتب تشیع میں اصل اسلام کی ھویت کے وجود میں آنے اور اس کے مضبوط و محکم ہونے کی مھم ترین علت اور اس کا سبب , ائمہ معصومین^ کے بعددینی اور مذہبی امور میں سلسله جليله روحانىت کا سرفہرست موجود وحاضر ہوناہے۔ اس کے علاوه محکم و مضبوط بنيادوں اورصحيح اصول پر استوار ره کر اس پرقائم رهنا بھى ايک ايسي ضرورت هے جس کا انکار نهيں کيا جاسکتا ۔
سلسله روحانيت اورعلماء کي جانفشانه کوششوں ,اوروسيع تبليغ اوران کے متعددمحکم دلائل ,مضبوط براهين اورعلمي و منطقي مستندات کے ذريعه دفاع نے هي اسلام عزيز اورتشيّع کے بلند اهداف کي حفاظت کي هے۔اگر اسلام شناس اورمجاهد علماء موجود نه هوں اندرونی و بیرونی دشمنوں کى دشمنياں,ان کي کوششيں ,اوران کے انحرافی افکار و عقائد , مکتب تشیع کی اساس و بنیاد کوخراب کر کے اسلامی معاشرہ کوھویت و معنویت کے مهلک بحرانوں میں گرفتار کرڈاليں ۔
دینی علوم و مفاهیم کو حد کمال تک پہنچانا اور مذہبی عقائد کي مختلف جہات کو اچھی طرح بیان کرنا, اس طرح کہ وہ صحیح راستہ اور ائمہ معصومین ^ کی سنت وسیرہ کے مطابق ہواور دنیاء وآخرت کی سعادت کے راستہ میں قرار پائے , زندہ و جاوید اور انحراف سے دور مکتب تشیع کے لئے اساسی وحیاتی کا رنامہ ہے۔
مکتب تشيّع کي تعليمات اورتمدن و ثقافت کو اس لئے عروج پر پهنچانا تاکه فکر و انديشه کي مضبوطي کا باعث هو اور عقيدتي يقينيات کي تقويت وتکميل کا موجب بنے,نيز لوگوں کے عقائد و اعمال يکساں هوں اور اسلامي معاشرے ميں ايسي عدالت برقرار هو جو حقيقي اسلام رسول خدا| اورائمه اطهار^ کي سيرت طيبه کے عين مطابق اور اسلام کے وسيع هونے پر مشتمل هو۔علماء کے دوسرے سنگین و ظائف میں سے ہے۔صحیح,عاقلانہ, تفکرّپر مشتمل اوردنیاء کو شامل ہونے والے عکس العمل کا اتخاذ,جبکہ وہ سیاسی کارناموں میں عمومی مصلحتوں کے درک کرنے,دینی محبوبیت کے محفوظ رکھنے اور شیعه تعلیمات کی حفاظت کرنے پرمشتمل هو-کا- اپني گفتار,لکھنے , پڑھانے ,مباحثہ و مناظرہ اورهر ممکنه طريقه کے ذريعه دفاع علماء کي اصلى ذمه داريوں میں سے ہے۔
خرافات و موہومات, غلط تفکرات , فکری غلطیوں, خود خواھی, زبردستی تسلط و غلبہ, دھوکہ بازی , شک ڈالنے , فتنہ وفساد برپاء کرنے, تفرقہ ڈالنے, اخلاقی خرابیوں, حق کے لبادےمیں چھپے هوئے مبطل و مفسد کو رسواء کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا مقابلہ کرنا جسے ایک جملہ میں ہم اس طرح کہہ سکتے ہیں:
“امر دنیا اورآخرت میں امت کي دستورات اسلام کے مطابق اصلاح کرنا علماء دین کے کاندھوں پر ایک سنگین وظیفہ ہے”
یہ سب اوران کے علاوه دوسرے مهم وظائف جن کا هم نے ذکر نهيں کيا , تاریخ کے مختلف ادوار میں, مجاهد علماء اور سلسله جليله روحانيت کي جانوں کے نذرانے , ان کي شهادت طلبانه ايثار و قرباني اور انتھک کوششوں سے انجام پائے هيں۔
عالمانه شهادت کي تصوير علم وعمل , جھاد واجتھاد, معرفت وحميّت ,خط و خون کا حسين پيونداورمجاهد علماء کئ قلموں کي سیاہی اور ان کے مقدّس خون کے آپس ميں خوبصورت امتزاج کي اعلي مثال هے.دفاع مقدس ميں سلسله جليله روحانيت کے کليدلي رول کي تحقيق و جستجو ميں قلم کي عظمت و قداست کے ساتھ ساتھ جهاد و شهادت کي عظمت, رفعت اورقداست کا تذکره بھي هوناچاهئے ۔مکتب تشیع نے ان ميں سےہر ایک کے لئے انتہائی کمال و عروج اور اس کی بلندی بیان کی ہے۔علم وجھاد کی مقدس وادی میں قدم رکھنا, ,بلند پایہ قلعوں تک پہنچنے کی راہ کوطے کرنا ہے۔ اسلام جب بھی علم وعالم کی توصیف و تمجيد بيان کرتا هے تو عقل سلیم اور آزاد فکر رکھنے والےهر انسان کو تعجب میں ڈال ديتا ہے اور جب جھاد و شہادت کے بارے میں گفتگو کرتا تو تاريخ بشر کو جاودانه زندگي, موت کے بغير حيات اوردنيا و آخرت کےکمال, اورسعادت وخوش بختي کي نويد ديتا هوا نظر آتا هے۔
حق تو یہ ہے کہ قلم ان میں سے کسی ایک کے بھي اثرات, برکات ,عظمت اورخصوصیات بیان کرنے سے عاجز و ناتوان ہے ۔کهاں يه که يه دونوں(علم و جهاد),گرانقدر و همسنگ اوصاف ايک شخص ميں اکٹھے هوکر اسے مجاهد و مبارز عالم کا روپ دے ديں۔
عالمانه شهادت کي تصوير کا موضوع, ان دوبیکراں دریائوں کو آپس میں ملانا اور اُن مجاہدين اور بزرگوں کوياد کرنا هے جن کا دفاع مقدس میں بنيادي ,عظيم اورکليدي کردار رها هے۔سادہ اور روان زبان میں اس عظيم طائفه الٰهي (گروه علماء)کی عظمت اجاگر کرنے سے , پہلے اسلام میں عالم کی منزلت وعظمت کی تحقیق کی جانی چاہئے اور اس کے بعد بزرگوں اور علماء دین کی شھادت اوران کے جھاد کے بارے میں بحث کی جانی چاہئے۔
حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں:
همارےشیعہ علماء ان سرحد وں کی حفاظت کرنے والے سپاهي ہیں جو شیطان اور اس کے لشکروالوں کی سرحدوں کے کنارے پر واقع ہیں۔ وہ ہمارے شیعوں پر دشمنوں اور شیاطین کے ہجوم و حملہ سے مانع اوررکاوٹ ہیں,آگاه رهو کہ يه علماء اُن جہاد کرنے والوں پر جو جنگی اسلحوں کے ساتھ دشمن کے ساتھ جنگ کرتے ہیں, زیادہ فضیلت رکھتےہے؛ کیونکہ وہ مسلمانوں کے پانی,مٹی اور جسموں کا دفاع کرتے ہیں۔ لیکن یہ دلوں کے حریم وناموس کا دفاع کرتے ہیں اور دشمنان دين کو مومنین کے دلوں اور اعتقادات میں رخنہ نهيں ڈالنے دیتے[1]
یہ مقام و منزلت اور عظمت ان علماء کے لئے مخصوص ہے کہ جو صرف شیعان على(ع) کے اعتقاد اور دین کا دفاع کرتے هيں لیکن اگر یہی علماء مجاہد( جھاد کرنے والے)بھی ہوں اوراپنے جسموں پرجنگي اسلحه سجا کر دشمن کے ساتھ برسر پيکار هوجائيں اور مسلمانوں کے جسموں اوران کے آب وخاک کادفاع بھی کریں تو, ان کا مقام ومرتبہ نه صرف بڑھ جائے گا بلکہ کئي برابر ہوجائے گا ۔ یہ حضرات منطقی اور مستند دلائل و براھین کے ذریعے دین کا دفاع کرنے کےلئےاٹھ کھڑےہوتے ہیں اوراہلبیت^کے دشمنوں کے ساتھ علمی و اعتقادی جنگ کرتے ہیں اوروقت پڑنے پر ایران پر عراق کی ٹھونسی گئیء آٹھ سالہ جنگ کی طرح مسلحانہ جنگوں میں بدن کو اسلحے سے مزين کر کےجانوں کو طَبَقِ اخلاص میں رکھ کر جان و مال ا ور ناموس کی بازی بھی لگا دیتے ہیں اوراپنےاسلامی ملک کا دفاع کرتےہوئےاپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
اگرمعارف و مکتب الٰہی میں عظمتوں اورفضیلتوں کی دقیق و عمیق تحقیق و جستجو کی جائے تو دو اساسی و بنیادی عنصر(طلب علم اورجہاد فی سبیل اللہ) ابھر کر سامنے آتے ہیں۔مکتب تشیّع کی تعلیمات کا طرّہ امتیاز ان دوتوانمند و طاقتور بازؤں کا ہونا ہے۔ان هى دو اصولوں (یعنی علم و جہاد) نے ائمہ معصومین^کی ہدایت و رہنمائی کے ساتھ عظیم مکتب ِاسلامی تشیّع کو ایک پاک و پاکیزہ مطبوع , مقبول , مکتوب اور معصوم مکتب و مسلک قرار دیا ہے۔[2]
اگر فرمايا کیا گیاہے کہ:قلم پہلی مخلوق ہے[3] اور علماء کی سیاہی شہید کے خون سے افضل اور بہتر ہے۔[4]تو اسی طرح اس کے مقابلہ میں فرمایا گیاہے کہ:
(فضل الله المجاهدين علی القائدين اجراً عظيماً)[5]
مقصد وہدف ان دوگراسنگ فضیلتوں کی نشاندہی اورعظمت بیان کرناہے۔اوردونوں کو ہم سنگ وہم پلہ قرار دینا ہے پیغمبراکرم| کتنا خوبصورت فرماتے ہیں:
علم ڈھونڈنا خدا کی راہ میں جھاد کرنے کی طرح ہے[6]
اب سوال یہ ہے کہ: جب کوئی عالم جھاد کے لئے جائے اور وہ مجاہد عالم شھادت کےعظیم درجہ پرفائز ہو جائے۔ (اُس تمام اجر وبدلہ کے باوجود) پروردگار عالم کےنزدیک اس کی پاداش اورمقام کتنااور کس طرح ہوگا؟
اس سؤال کا بہترین جواب حضوراکرم|کافرمان ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:
«فوق کل ذی برٍّ برٌّ حتی تقتل فی سبيل الله فاذا قتل فی سبيل الله فليس فوقه برّ»
ہر نیکی سے برتر ایک نیکی ہے,یہاں تک کہ انسان خدا کی راہ میں شهیدہوجائے پس اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں شهید کردیا جائے تو, اس نیکی سے برتر کوئی نیکی نہیں ہے۔
ہاں!اگر کوئی عالم مجاہدبن جائے ,اور کوئی مجاہد عالم شہید ہوجائے تو, زمانہ اس کی توصیف, تعریف,اجراور عظمت بیان کرنے سے عاجز ہے۔
کتاب”عالمانہ شہادت کی تصویر”جس میں مجاہدین علماء کی شہادت طلبانہ سیرہ طبیّہ کے درخشند ہ آسمان کا حسین افق طلوع کررہا ہے کے مقدمہ کا حُسنِ اختتام پیامبر اعظم |کی ایک نایاب حدیث مبارک کے ذریعے کرتے ہیں جس میں آپ |فرماتے ہیں:
تین آوازیں اور فریادیں اس طرح گونجتی ہیں کہ حجابوں اور پردوں کو پھاڑڈالتی ہیں اورآخر کاران کااثرخداتک جاپہنچتاہے,علماءکےقلموں کی آواز,مجاہدين کے قدموں کی آواز اور پاک و نیک عورتوں کے چرخ کی آواز[7]
یہ گران سنگ اور گرانقدر کتاب اس خاتون کے فکری اورقلمی صلاحیت کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس ہم ذمہ داری کو اچھی طرح محسوس کیا ہے اور خود بھی ان تینوں آوازوں کے اتحاد کی مصداق بن گئی ہیں۔
ينفع الله بها الناس, جزها الله عن الاسلام اجراً .والسلام عليکم ورحمة الله وبرکاته.
علی انصاری بویراحمدی
سرپرست مجمع جہانی شیعہ شناسی
[1]. حضرت امام جعفر صادق(ع)فرماتے ہیں:
{علماء شيعتنا مرابطون باالثغر الذی يلی ابليس وعفاريته يمنعونهم عن الخروج علی ضعفاء شيعتنا وعن أن يسلط عليهم ابليس وشيعته النواصب ألافمن انتصب لذالک من شيعتنا کان افضل ممن جاه الروم والترک و الحزر الف الفامرة لأنہ يدفع عن أديان محبينا و ذالک يدفع عن ابدانهم}.
آیت اللہ نور ی همدانی “ اسلام مجسم” (علماء بزرگ),ج١,ص٣٧,انتشارات مهدی موعود(عج)١٣٨٤قم”بحارالانوار“ج٢, ص٥ سے نقل کر کے۔
[2]۔فرهنگ معصوم سے مراد, ائمہ معصومین ^اورپیغمبراکرم| کی سیرہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی لغزش وغلطی اورخلل کا امکان نہیں ہے۔
[3]۔قال الصادق: اول ما خلق الله القلم…” تفسير نور الثقلين“ج٥,ص٣٨٩.
[4]۔مِدَاد العلماء افضل من دماء الشهداء
[5]۔سورہ نساء آیہ ٩٥«اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں کے مقابلہ میں اجر عظیم عطا کیاہے ۔»
[6]۔”کنزالعمال“ج١, ص١٤٣:قال رسول الله| طالب العلم له کان الغازی رائح فی سبيل الله ….
[7]۔ ”تفسير نمونه“ ج٢٤, ص٣٧٧؛ قال رسول اللہ|: { ثلاث تخرق الحجب و تنتهی الی ما بين يدی الله؛ صرير اقلام العلمائ, وطی اقدام المجاهدين وصوت مغازل المحسنات}.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.