Urdu ـ ShiaStudies
 

 
 

رہنما سائٹ

null.gif صفحه اول
null.gif فہرست ممبران
null.gif پیغام خصوصی
null.gif موضوعات
null.gif محفوظ مضامين
null.gif محفوظ و مرتب خبريں
null.gif شبھات و جواباتنئے مقالات !
null.gif ڈاو نلوڈزنئے مقالات !
null.gif ويب روابط
null.gif مقالات
null.gif بہترين مقالات
null.gif گائيڈ بک
null.gif رائےعامہ
null.gif ہمارا رابطہ
null.gif زاتي صفحہ
null.gif روزنامچہ کارکنان
null.gif تلاش
null.gif اعداد و شمار
null.gif دوستوں سے تعارف
null.gif فوري پيغام

تازہ ترین


انتظار امام زمانہ
[ انتظار امام زمانہ ]

·امام مہدی(عج) خون حسین(ع)کا انتقام لیں گے
·قر آ ن ا و ر ا مام مہد ی (ع)
·امام مہدی علیہ السلام کون ہیں؟
·امام مہدی (عج) قرآن مجید میں
·سپاہیان امام مہدی (عج) سے گفتگو
·ایک مصلح، دنیا جس کی منتظر ہے
·اذا قام القائم حکم بالعد ل
·کیا پانچ سال کا بچہ امام ہوسکتا ہے ؟
·عقیدہ مہدویت اور متعرضین کا اعتراض

مختصر پيغام

پرانا تریں پیغام   

 

وضعيت صارفين

خوش آمدید , مهمان
اسمِ صارف
پاسورڈ
(رکنیت)
اراکین سایٹ:
تازہ ترین: realminds
آج : 0
گذشتہ کل : 0
کُل: 21

ناظرین:
مهمان: 33
رکن: 0
کل: 33

نکتہ

مطالعات شيعہ شناسی کے پہنچانے کا بڑا مرکز جو کہ مجمع جھانی شيعہ شناسی سے وابستہ ہے ۔عالجناب حجة الاسلام استاد علی انصاری بوير احمدی کی سرکردگی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

آخری پانچ مقالات

جناب عباس علمدار علیہ السلام[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 21 مشاهده ]
خاک شفاوسجدہ گاہ پر سجدہ کے بارے گفتگو[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 16 مشاهده ]
حسین میراحسین تیراحسین رب کاحسین سب کا[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 21 مشاهده ]
امام مہدی(عج) خون حسین(ع)کا انتقام لیں گے[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 18 مشاهده ]
مقام حسین (ع) سنی مآخذ کی روشنی میں[ 0 آپ کی کیا رائے ہے؟ - 27 مشاهده ]

[ مقالات کے حصہ میں مزید ]

 

ایام عزا تسلیت باد



جناب عباس علمدار علیہ السلام

تاريخی مناسبت
           آپ کی فضیلت کے لئے وہ دعا کافی ھے جسے امام جعفرصادق علیه السلام نے جناب عباس علیہ السلام  کی زیارت کے موقع پر اذن دخول میں پڑھی جس کے الفاظ یہ ھیں  :اے فرزند امیرالمومنین! ”خدااس کے مقرب رشتوں ،رسولوں ،صالح بندوں  تمام شہداء وصدیقین کے پاک وپاکیزہ سلام ھرصبح وشام  آپ   پر ھوں “حضرت امام جعفرصادقں نے حضرت احدیت کے سلام سے شروع کیا،کارزارکربلامیں حضرت عباس ں نے  اپنے بھائی امام حسین   وحجت خداکی تصدیق کرکے مرتبہ حق الیقین حاصل کیا،وفاداری کامظاھرہ انسان یاقرابت وبرادری کی وجہ سے کرتا ھے، یااس لئے کرتا ھے کہ خدانے واجب قراردیا ھے ،کہ اس کے اولیاء سے وفاداری کی جائے، حضرت امام جعفرصادق ں کی زیارت کے فقرات سے وا ضح ھوتاھے ،کہ حضرت عباس  علیہ السلام  نے فقط بھائی ورشتہ داراورفرزندرسول سمجھ کرامام حسین کی نصرت نھیں  کی بلکہ  آپ   امام حسین علیہ السلام کوحجت خدا اورامام علیہ السلام  واجب الطاعة سمجھ رھے تھے ،اگرچہ کربلا کے ھر شھید نے دشت نینوا میں  کسی طرح نصرت امام حسین علیہ السلام  میں دریغ نھیں  کیا، لیکن یہ سارے شھید اپنی ساری قربانیوں  کے باوجودشھیدعلقمہ کے ھم مر تبہ نھیں ھوسکتے ،کیونکہ  آپ   کی بصیرت راسخ، آپ کاعلم وافر، آپ کاایمان محکم، آپ کاکردارمضبوط،اور  آپ کامقصدعالی تھا،لہٰذاامام جعفرصادق ں نے مذکورہ بالاالفاظ میں  آپ کومخاطب فرمایا،کہ یہ فضیلت قمربنی ھاشم سے مخصوص تھی جس میں  کربلاکا کوئی دوسرا شھیدشریک نھیں تھا۔

قسمت نے جب امیدوں کے دامن جھٹک دئے
بچوں نے اپنے  ھاتھوں سے  ساغرپٹخ  دئے

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 16 دی، 1387 (21 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 16343 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

خاک شفاوسجدہ گاہ پر سجدہ کے بارے گفتگو

اعتراضات کے جوابات
مصر کی ”الازہر “یونیور سٹی کے فارغ التحصیل اہل سنت کے ایک عالم دین جن کا نام ”شیخ محمد مرعی انطاکی “تھا اور یہ شام کے رہنے والے تھے انھوں نے اپنی بہت ہی عظیم تحقیق کے بعد مذہب تشیع اختیار کر لیا، وہ اپنی کتاب ”لما ذا اخترت مذہب الشیعة“میں اپنے مذہب شیعہ اختیار کرنے کے سلسلہ میں تمام علل واسباب کے مدارک لکھتے ہیں۔
یہاں پر اہل سنت سے ان کا ایک مناظرہ نقل کر رہے ہیں جو خاک شفا پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں ہوا تھا ملاحظہ فرمائیں:
محمد مرعی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے چند اہل سنت ان کے گھر پر ان سے ملاقات کے لئے آئے جن میں ان کے کچھ جامعہ ازہر کے پرانے دوست بھی تھے۔گھر پر گفتگو کے دوران بات چیت یہاں تک پہنچ گئی۔
علماء اہل سنت: ”تمام شیعہ حضرات خاک شفا پر سجدہ کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ مشرک ہیں“۔
محمد مرعی: ”خاک شفا پر سجدہ کرنا شرک نہیںہے کیوںکہ شیعہ خاک شفا پر خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نہ کہ مٹی کا سجدہ کرتے ہیں البتہ تمہارے فکر میں اگر اس میں کوئی چیز ہے اور شیعہ اس کا سجدہ کرتے ہیں تو وہ شرک ہے لیکن شیعہ اپنے معبود خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں نتیجہ میں وہ خدا کے سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتے ہیں۔اس سے واضح یہ کہ حقیقت سجدہ، خدا کے سامنے خضوع وخشوع کا آخری درجہ ہے نہ کہ خاک شفا کے سامنے خضوع وخشوع ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 16 دی، 1387 (16 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 19587 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حسین میراحسین تیراحسین رب کاحسین سب کا

نئے مقالاتجبہم احساسات کي نگاہ سے ديکھتے ہيں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں ميں امامحسين کے نام کي خاصيت اورحقيقت و معرفت يہ ہے کہ يہ نام دلربائے قلوب ہےاور مقناطيس کي مانند دلوں کو اپني طرف کھينچتا ہے۔البتہمسلمانوں ميں بہت سے ايسے افراد بھي ہيں جو ايسے نہيں ہيں اور امام حسينکي معرفت و شناخت سے بے بہرہ ہيں، دوسري طرف ايسے افراد بھي پائے جاتے ہيںکہ جن کا شمار اہل بيعت  ميں  بھی نہيں ہوتا ليکن اُن کے درميان بہت سےايسے افراد ہيں کہ حسين ابن علي کا  نام سنتے ہي اُن کي آنکھوں سے اشکوںکا سيلاب جاري ہو جاتاہے۔خداوند عالم نے امام حسين کے نام ميںايسي تاثير رکھي ہے کہ جب اُن کا نام ليا جاتا ہے تو  دل و جان پر ايکروحاني کيفيت طاري ہوجاتي ہے ۔
جو کربلا کی اندھیری راتوں میں روشنی ھے حسین وہ ھے
شہادتوں کے سفر کا حاصل جو زندگی ھے حسین وہ ھے
گلاب میں جو لہو کی خؤشبو سے تازگی ھے حسین وہ ھے
بزیرٍ خنجر جو ایک پیاسے کی بندگی ھے حسین وہ ھے
حسین میرا، حسین تیرا، حسین سب کا
حسین حیدر کا،مصطفی کا،حسین رب کا
(صفدر ھمدانی)


مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : دوشنبه، 16 دی، 1387 (21 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 52225 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام مہدی(عج) خون حسین(ع)کا انتقام لیں گے

انتظار امام زمانہامام مہدی جب قیام فرمائیں گے تو سب سے اہم کام جو وہ کریں گے وہ حق و عدالت کا نفاذ ہے اور ظلم اور ظالموں کو حرف غلط کی مانند صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے بالخصوص وہ خونخوار اور ظالم لوگ کہ جنہوں نے محمد و آل محمد علیھم السلام کے حق میں ظلم کیا یا اس ظلم پر راضی ہوئے وہ امام زمانہ کی تلوار سے یقینا نہ بچ سکیں گے۔
اسی حوالے سے چند احادیث قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں :
قرآن مجید کی آیت ہے (ومن یقتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطانا فلا یسرف فی القتل انہ کان منصورا)
ترجمہ: جو بھی مظلومیت کی حالت میں مارا جائے ہم نے اس کا انتقام لینے کے لئے ایک حاکم قرار دیا ہے پس وہ قتل کرنے میں اسراف نہیں کرے گا یقینا وہ وہی ہے کہ جسے نصرت حاصل ہوگی۔
(۱)ابن بابویہ باسنادہ عن عبدالسلام بن الصالح الھروی قال قلت لابی الحسن علی بن موسی الرضا یابن رسول اللہ ما تقول فی حدیث روی عن الصادق انہ قال اذا قام القائم علیہ السلام قتل ذراری قتلہ الحسین علیہ السلام بفعال آبائھم فقال علیہ السلام ھو کذلک فقلت فقول اللہ عزوجل ولا تزروا وازراۃ وزرا اخری مامعناہ فقال صدق اللہ فی جمیع اقوالہ ولکن ذراری قلتلتہ الحسین یرضون بفعال آبائھم و یفتخرون بھا و من رضی شیئا کان کمن اماہ ولو ان رجلا قتل فی المشرق فرضی بقتلہ رجل فی المغرب لکان الراضی عنداللہ عزوجل شریک القاتل فانما یقتلھم القائم علیہ السلام اذا خرج لرضا ھم بفعل آبائھم قال فقلت لہ بای شی یبدء القائم منکم اذا قام قال بنی شبیہ فیقطع ایدیھم لانھم سراق بیت اللہ عزوجل ۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 15 دی، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12256 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مقام حسین (ع) سنی مآخذ کی روشنی میں

تاريخی مناسبتمحرم وہ مہینہ ہے جس میں حق وباطل کی وہ تاریخی جنگ لڑی گئی جو رہتی دنیا تک آزادی وحریت کے متوالوں کے لئے ظلم وجبر سے مقابلے کی راہ دکھاتی رہے گی۔
حقیت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی وشامی
کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا
حق وباطل کے اس معرکے میں ایک طرف فرزند رسول جگر گوشہ بتول (ع)حضرت امام حسین (ع)تھے ،تو دوسری طرف ظالم وجابر اور فاسق وفاجر حکمراں یزید پلیدتھا ۔حضرت امام حسین (ع) نے یزید کے خلاف علم جہاد اس لئے بلند کیا کہ اس نے بیت اللہ الحرام اور روضۂ نبوی کی حرمت کو پامال کرنے کے علاوہ اسلام کی زریں تعلیمات کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہر قسم کی براوئیوں کوفروغ دیا ،اورایک بار پر دور جاہلیت کے باطل اقدارکو زندہ کر کے اس دین مبین اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی ،جس کی خاطر پیغمبر اکرم نے 23برس تک اذیت وتکلیف برداشت کی تھی ۔ حضرت امام حسین دین اسلام کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے اپنے خون مطہر ہ سے اسلام کے درخت کی آبیاری کی ،اسی لئے ایک معاصر عربی ادیب نے کہا ہے:اسلام قیام کے لحاظ سے محمدی ہے اور بقا کے اعتبار سے حسینی مذہب ہے۔ آج ہم اپنے اس پروگرام میں احادیث رسول وسنت نبوی کی روشنی میں اہل سنت کے معتبر ماخذ سے حضرت امام حسین کے اعلی مقام ومنزلت پرروشنی ڈالیں گے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 15 دی، 1387 (27 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12532 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

گریه سے متعلق ایک واعظ کی گفتگو

اعتراضات کے جواباتایک بہت ہی پڑھے لکھے واعظ نے منبر پر تقریر کے دوران امام حسین علیہ السلام پر رونے کے سلسلے میں بہت سی روایتیں نقل کیں جن میں ایک یہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”کل عین باکیة یوم القیامة الاعین بکت علی مصائب الحسین فانھا ضاحکة مستبشرة بنعیم الجنة“۔
”روز قیامت ہر آنکھ گریہ کنا ں ہوگی لیکن امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر رونے والی آنکھیں خدا کی نعمت دیکھ کر ہشاش وبشاس ہوں گی“۔
منبر سے اترنے کے بعد ایک سامع اور واعظ کے درمیان حسب ذیل طریقہ سے مناظرہ ہوا:
سامع: ”یہ تمام اجر وثواب گریہ امام حسین علیہ السلام پر کیوں ہے ؟ جب کہ امام حسین علیہ السلام دنیا میں عظیم انقلاب لا کر کامیاب و سربلند ہوئے اور اپنے خون سے یزیدیوں کو رسوا کیا اور ان کے چہرے ہمیشہ کے لئے کالے کر دیئے اور آخرت میں اس کے بدلے آپ کو بہترین مقام دیا گیا ہے اور آج بھی آپ برزخ اور جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔اور اسلامی نظریہ کے مطابق امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید سورہٴ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے:
”وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون
”اور اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں“۔
واعظ: ”میں نے ایسی متعدد روایتیں دیکھی ہیں جن میں امام حسین علیہ السلام پر گریہ و زاری اور عزاداری کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اس گریہ و زاری کو برابر زندہ رکھنے کے بارے میں کہا گیا ہے اور شیعہ وسنی دونوں روایتوں میں آیا ہے کہ روز قیامت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خداوند متعال کی بارگاہ میں اس طرح عرض کریں گی:

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 15 دی، 1387 (22 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 25674 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

قاتلین حسین (ع) کی حقیقت

نئے مقالاتوہابی: ” شیعہ لوگ جو امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور ان پر گریہ کرتے ہیں وہ اس لئے کہ اپنے اباء واجداد کے گزشتہ ظلم کا جبران کریں کیونکہ انھیں کے باپ داداوٴں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو قتل کیا ، اور پھر ان لوگوں نے توبہ کی اور اس طرح انھوں نے توابین (زیادہ توبہ کرنے والوں) کے عنوان سے اپنے گزشتہ ظلم و ستم کا جبران کرنا چاہا “۔
شیعہ: ”تم شیعوں پر یہ تہمت کس ماخذاور حوالہ سے پر لگار ہے ہو؟ “
وہابی: ”جو لوگ کربلا میں امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے آئے تھے وہ شام و حجاز اور بصرہ کے نہیں تھے بلکہ سب کے سب کوفہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت کوفہ میں اکثر شیعہ ہی رہتے تھے، انھیں لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا“۔
شیعہ: ”اولاً اگر بفرض محال شیعوں ہی میں سے کچھ لوگ خوف و فریب سے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مقابلہ میں جنگ کے لئے آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذہب شیعہ اور اس کے تمام ماننے والوں نے امام حسین علیہ السلام سے منحرف ہو کر یزید کے راستہ کو اختیار کر لیا تھا ،عموما ً یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مذہب وملت میں کچھ نہ کچھ لوگ اپنے مذہب سے منحرف ہوجاتے ہیں لیکن ان کا عمل مذہب کے بے بنیاد ہونے پر دلیل نہیں بن سکتا ہے ،ثانیا ً یہ کہ حقیقت میں یہ سب باتیں محض تہمتیں ہیں جو بالکل بے بنیاد اور جھوٹی ہیں“۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : یکشنبه، 15 دی، 1387 (23 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 16252 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام حسین علیه السلام پر گریه و زاری

اعتراضات کے جواباتجن مقامات پر رونے پر تاکید کی گئی وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رونا ھے، جو ایک عظیم عبادت ھے جس کا ثواب بھی عظیم اور روحانی دردوں کی دوا ھے اور انسان کو توبہ و مغفرت کے لئے تیار کرتا ھے نیز خداوندعالم کی رحمت واسعہ تک پھنچنے کا وسیلہ ھے۔اھل بیت علیھم السلام کے مصائب پر رونے کے سلسلہ میں اتنی زیادہ روایات ھیں کہ اب تک ”بکاء الحسین“ کے عنوان سے چند کتابیں چھپ چکی ھیں۔
اھل بیت علیھم السلام کے مصائب پر رونے کی مخالفت بعض جاھل و نادان گروہ اور بعض اوقات روشن فکرنما لوگوں کی طرف سے هوتی ھے جو حقیقت میں قرآن کریم، سنت پیامبر (ص) اور اولیائے الٰھی کی روش کے برخلاف ھے، لیکن شیعوں کو اس جاھلانہ مخالفت پر توجہ نھیں کرنی چاہئے اور اھل بیت علیھم السلام پر رونے کو ھاتھ سے نھیں دینا چاہئے جو ایک طرح سے ظالموں اور ستمگروں کے خلاف مقابلہ ھے ، بلکہ نسل در نسل اس الٰھی عمل اور عظیم ثواب والے کام کی طرف رغبت کرنی چاہئے اور اس کو گرانقدر میراث کے عنوان سے اپنے وارثوں کے لئے چھوڑیں۔
حضرت امام رضا علیہ السلام ایک اھم روایت کے ضمن میں فرماتے ھیں:
”مَنْ تَذَکَّرَ مُصَابِنَا وَبَکیٰ لِمَااُرْتُکِبَ مِنَّا، کاَنَ مَعَنَا فِی دَرَجَاتِنَا یَوْمَ الْقِیَامَةِ. وَمَنْ ذُکِّرَ بِمُصَابِنَا فَبَکیٰ وَاَبْکٰی لَمْ تَبْکِ عَیْنُہُ یَوْمَ تَبْکِی الْعُیُونُ“
”جو شخص ھم پر پڑنے والے مصائب کو یاد کرے اور دشمنوں کی طرف سے ھم پر هونے والے مظالم کو یاد کرکے روئے تو روز قیامت وہ ھمارے درجہ میں ھمارے ساتھ ھے اور جو شخص ھمارے مصائب پر روئے اور دوسروں کو رُلائے تو جس روز تمام آنکھیں روتی هوئی نظر آئیں گی اس کی آنکھ نھیں روئے گی“۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 14 دی، 1387 (32 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 45275 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

عاشورہ حسینی(ع)

تاريخی مناسبتعاشورہ کے بارے ميں نپولين بونا پارٹ کہتا ہے:
جب ہميں کوئي اجتماعي يا سياسي کام کرنا ہوتا ہے تو اس کے لئے کئي ہزار کارڈ چھاپنے ہوتے ہيں اور انہيں ہزارہا زحمتيں اٹھا کر لوگوں کو پہنچانا ہوتے ہيں، پھر بھي دس ہزار ميں سے ايک ہزار افراد ہي آتے ہيں اور کام بھي ادھورا رہ جاتا ہے۔ ليکن يہ مسلمان اور شيعہ کسي گھر پر ايک سياہ پرچم نصب کر کے يہ کہتے ہيں کہ امام حسينٴ کے لئے مجلس عزا برپا کر رہے ہيں، دسيوں ہزار افراد کسي دعوت نامے کے بغير دو گھنٹوں ميں حاضر ہوجاتے ہيں اور تمام اجتماعي، سياسي اور مذہبي مسائل حل ہوجاتے ہيں۔
ان اعترافات کو ديکھتے ہوئے اور عاشورہ کے گہرے اثرات کے پيش نظر بہتر ہے کہ ايک نظر روايات پر ڈالي جائے اور عاشورہ کي عظمت کو معصومين کي نظر سے ديکھا جائے۔
فرانس کا ڈاکٹر جوزف اسلام اور مسلمان نامي کتاب ميں عاشورہ کے بارے ميں لکھتا ہے: واقعہ کربلا کے بعد پيروانِ عليٴ غضبناک ہوگئے اور انہوں نے وقت کو غنيمت شمار کيا اور جنگوں ميں مشغول ہوگئے۔۔۔ اور عزاداري برپا کرنے لگے۔ يہاں تک کہ شيعوں نے عزاداري حسينٴ بن عليٴ کو اپنے مذہب کا جزو قرار دے ديا اور اس وقت سے لے کر آج تک بزرگانِ دين کے مقاصد کے مطابق کہ جو نسلِ رسول۰ سے بارہ افراد ہيں اور ان ميں سے ہر ايک کي گفتار، کردار اور رفتار رسول۰ کي گفتار و کردار کے برابر اور ہم وزنِ قرآن ہے، عزاداري حسينٴ ميں شريک ہوتے ہيںاور رفتہ رفتہ شيعہ مذہب کا يہ ايک رکن بن چکي ہے۔ تيز رفتار ترقي جو شيعوں نے مختصر مدت ميں کي ہے، اس کو ديکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگلي دو صديوں ميں وہ مسلمانوں کے تمام فرقوں سے تعداد ميں بڑھ جائيں گے اور اس کا سبب عزاداري امام حسينٴ ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 14 دی، 1387 (21 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 42145 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

اجتھاد اور تقلید

نئے مقالاتآج کل اجتھاد و تقلید کا مسئلہ موضوع سخن بنا ھوا ھے ۔ آج بھت سے افراد یہ پوچھتے نظر آتے ھیں یا اپنے ذھن میں سوچتے ھیں کہ اسلام میں اجتھاد کی کیا حیثیت ھے ؟ اسلام میں اس کا ماخذ کیا ھے ؟تقلید کیوں کی جائے ؟ اجتھاد کے شرائط کیا ھیں ؟ مجتھد کی ذمہ داریاں کیا ھیں ؟ مقلد کے فرائض کیا ھیں ؟ وغیرہ وغیرھ۔
اجمالی طور پر ، اجتھاد کا مطلب ”دینی مسائل میں مھارت حاصل کرنا اور صاحب نظر ھونا ھے “ لیکن شیعوں کے نقطہ ٴ نظر سے دینی مسائل میں صاحب رائے ھونے کی دو صورتیں ھیں : جائز اور ناجائز ، اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ھیں جائز و ناجائز ۔ شیعی نظرنقطہ ٴ نظر سے ناجائز اجتھاد کا مطلب ” قانون سازی ھے یعنی مجتھد اپنی فکر اور اپنی رائے کی بنیاد پر کوئی ایسا قانون وضع کرے جو قرآن و سنت میں موجود نہ ھو ۔ اسے اصطلاح میں ” اجتھاد بالرائے “ کھتے ھیں ۔شیعی نقطہ ٴ نظر سے اس قسم کا اجتھاد منع ھے لیکن اھل سنت اسے جائز سمجھتے ھیں ۔ اھل سنت جب قانون سازی کے مصادر اور شرعی دلیلوں کو بیان کرتے ھیں تو کھتے ھیں :” کتاب ، سنت ، اجتھاد “۔اور اجتھادسے مراد اجتھادبالرائی لیتے ھیںجسے وہ قرآن و سنت کی صف میں شمار کرتے ھیں ۔
اس اختلاف نظر کا سبب اھل سنت کا یہ نظریہ ھے کہ : کتاب و سنت کے ذریعہ وضع ھونے والے قوانین محدود ھیں ،جبکہ واقعات و حادثات لامحدود ھیں لھذا کتاب و سنت کے علاوہ ایک اور مصدر ضروری ھے جس کے سھارے الٰھی قوانین بنائے جا سکیں اور یہ مصدر وھی ھے جسے ھم ” اجتھاد بالرائے “ کے نام سے یاد کرتے ھیں ۔ 

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : شنبه، 14 دی، 1387 (18 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 47588 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

حسین ابن علی

تاريخی مناسبت
اب‘ دل تھام کر‘ نگاہ اٹھایئے‘ علی کے سورما بیٹے اور محمد کے لہولہان نواسے‘ حسین کی جانب جو‘ گریاں تاریخ کے سینے کا ناسور اور گزراں وقت کی پیشانی کا نور ہے۔وہ حسین جس کے نظام انفاس کی اطمینان آمیز ہمواری کی زد پر میدان کربلا کی باد سموم کا دم ٹوٹ گیا تھا ۔ جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئی تھیں۔ اورجس کے چہرے کی شادابی کو دیکھ کر کربلا کے تپتے سورج کے ماتھے سے پسینے کی بوندیں ٹپکنے لگی تھیں۔وہ حسین جس نے اس رادے سے کہ ایوان حق کے چراغاں پر کوئی آنچ نہ آ سکے۔ اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا تھا ۔۔۔ اور ناموس انسانی کو بچانے کی خاطر‘ جس نے‘ فولاد کو پگھلا دینے والے عزم‘ اور ‘ زلزلوں کی سانس اکھاڑ دینے والے ثبات کے ساتھ موت سے ٹکر لی تھی۔‘ اور ایسی ٹکر کہ موت کی پیشانی سے لہو کا فوارہ جاری ہو گیا تھا۔ حسین ناتواں تھے یزید توانا تھا قانون قدرت کے مطابق ہونا چاہئے تھا کہ یزید حسین کو شکست دے کر حسینیت کا چراغ گل کردیتا۔لیکن ہوا یہ کہ قانون قدرت کے علی الرغم‘ حسین کی ناتوانی نے یزید کی توانائی کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا اور اپنی مقتولیت کی ایک ضرب سے‘ قاتل کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ وہ موت جس کے صرف تصور سے بڑے بڑے ساونتوں کی پنڈلیاں کانپنے لگتی ہیں۔‘ وہ موت‘ منہ کھولے‘ جب حسین کے سامنے آئی تو حسین اس کو دیکھ کر ایسی حقارت کے ساتھ مسکرائے کہ خود موت کی نبضیں ساقط ہو کر رہ گئیں۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 12 دی، 1387 (28 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 7127 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

ابتدائے اسلام میں خواتین کا کردار

نئے مقالات
ادیان عالم کی ابتدائی تاریخ پر نظر ڈالیں بلکہ ارتقائی منازل کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں عورت کا کردار بالکل مفقود ہے۔ یہ تو گزشتہ ایک دو صدیوں کی بات ہے کہ حواء کی بیٹی کو عزت و احترام کے قابل تسلیم کیا گیا اور عورت کو بھی مرد کے برابر قرار دیا گیا لیکن اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسلم خواتین کا جو کردار رہا وہ آج سب دنیا کے لئے ایک واضح سبق بھی ہے، قابل تحسین کارنامہ بھی اور قابل فخر تاریخ بھی! بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اسلام کی تاریخ کی تو ابتدا ہی عورت کے شاندار کردار سے ہوتی ہے۔ اس دین حق کا تونقطہ آغاز ہی عورت کے عظیم الشان کردار سے عبارت ہے! یہ بات الگ ہے کہ آج ترقی یافتہ ہونے کا دعوی کرنے والی دنیا حقوق نسواں کی علمبردار بنی ہوئی ہے اور چار پانچ صدیوں سے مغرب کی معاندانہ یلغار اور مسلسل لوٹ مار کے ستائے ہوئے مسلمان معاشروں میں جہالت و پسماندگی کے باعث مسلمان عورت سے اس کا تاریخ ساز کردار بھی چھین لیا گیا ہے اور وہ اس کردار سے بھی محروم کردی گئی ہے جو اسے دین اسلام نے سونپا تھا۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : پنجشنبه، 12 دی، 1387 (22 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 15117 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

جہاد کے وقت امام حسین (ع) کی دعائیں

تاريخی مناسبت

روایت ہے کہ سید الشہداء علیہ السلام ایک رات میں گھر سے نکلے اور اپنے جد کی قبر اور مزار کی طرف چل دئیے۔ وہاں پر چند رکعت نماز بجا لائے۔ پھر یوں گویاہوئے:

"پروردگارا! یہ تیرے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر ہے۔ میں ان کی بیٹی کا لخت ِجگر ہوں۔ ایک مشکل درپیش ہے جسے تو جانتا ہے۔ بارِ الٰہا!میں ہر اچھے کام کو پسند کرتا ہوں اور بُرے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ اے صاحب ِجلال و اکرام! تجھ سے اس قبر اطہر کے صدقہ میں اور جو اس میں محو خواب ہیں، سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ اور جس جس پر تو راضی اور خوش ہے، میرے لئے وہی قرار دے۔(بحار۴۴:۳۲۸)

روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام نکلے ، یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ جب دور سے مکہ کے پہاڑوں پر نظر پڑی تو اس آیہٴ مجیدہ کی تلاوت فرمائی:

"جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین آئے تو کہا :شاید میرا پروردگار مجھے راہِ راست کی ہدایت فرمائے"۔

پھر جب مکہ پہنچے تو فرمایا:

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 11 دی، 1387 (37 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 28508 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

خطبہ امام حسین مروان بن حکم کے جواب میں

نئے مقالاتِنّٰا لِلّٰہِ وَ اِنّٰا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ وَ عَلَی الْإِسْلاٰمِ السَّلاٰمُ اِذٰا بُلِیَتِ الْاُمَّةُ بِرٰاعٍ مِثْلِ یَزیدَ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ جَدّی رَسُوْلَ اللهِ صلی الله علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: اَلْخِلاٰفَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلٰی آلِ اَبی سُفْیٰانَ فَاِذٰا رَاَیْتُمْ مُعٰاوِیَةَ عَلٰی مِنْبَری فَابْقَرُوْا بَطْنَہُ وَقَدْ رَآہُ اَھْلُ الْمَدینَةِ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَبْقَرُوا فَابْتَلاٰھُمُ اللّٰہُ بِیَزیدَ الْفٰاسِقِ۔ ترجمہ و توضیح: دوسرے روز: ابا عبد الله الحسین میں آپ کا خیر خواہ ہوں اور آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں اگر آپ اسے قبول فرما لیں تو یہ آپ کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ امام نے فرمایا: اپنی تجویز پیش کرو۔ اس نے عرض کی: ”جب کل رات ولید بن عتبہ نے آپ کو بلا کر آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا تھا تو آپ کو یزید کی بیعت کر لینی چاہیئے تھی اور یہ چیز آپ کے لئے دنیا و آخرت میں سود مند ثابت ہوتی“۔ امام نے اس کے جواب میں فرمایا: ﴿اِنّٰا لِلّٰہِ وَ اِنّٰا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ وَ عَلَی الْإِسْلاٰمِ ۔ الخ﴾ اب اسلام پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے چونکہ مسلمانوں کا حاکم یزید بن گیا ہے۔ ہاں، میں نے اپنے جد امجد رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ ”ابو سفیان کے خاندان پر خلافت حرام ہے اور اگر تم معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے فوراً مار ڈالنا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مدینہ کے لوگوں نے اسے منبر رسول پر دیکھا لیکن اسے قتل نہ کیا۔ اب خداوند تعالیٰ نے ان پر یزید جیسے فاسق و فاجر کو مسلط کر دیا ہے۔“ ۱ امام کے گزشتہ کلام کی توضحیح کے ضمن میں بھی ہم نے اشارہ کیا تھا اور اس کلام سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام نے مدینہ ہی میں اپنا یہ موقف واضح طور پر بیان کر دیا تھا کہ یزید کی حکومت کے خلاف ان کا احتجاج آخر دم تک جاری رہے گا۔ ظلم و جور کے خلاف آئمہ ہدیٰ نے ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے جو جرأت مندانہ موقف اختیار کیا اس کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 11 دی، 1387 (29 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 12177 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

مصائب امام حسین بیان کرنے کا ثواب

تاريخی مناسبتمصائب امام حسین بیان کرنے کا ثواب
١۔ رسول خدا(ص)نے فاطمہ سے فرمایا :
کل عین باکیة یوم القیامة الّا عین بکت علی مصاب الحسین فانّھا ضاحکة مستبشرة بنعیم الجنة
ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی لیکن صرف وہی آنکھ ہنستی ہو گی جو مصائب حسین پر روئی ہو گی وہ بہشت کی نعمتوں سے خنداں و شاداں ہو گی ۔ (١ )
٢۔ حضرت سید سجاد نے فرمایا:
''ایّما مومن زرفت عیناہ لقتل الحسین حتیٰ تسیل علی خدّہ ''
جو مومن امام حسین کی شہادت پر اس طرح آنسو بہائے کہ اس کے رخسار تر ہو جائیں تو خداوند عالم اس کے لئے بہشت کے دریچوں کو مخصوص قرار دے گا جس میں وہ ہزاروں سال رہے گا۔ ہمارے دشمنوں سے جو مصائب ہم پر ڈھائے گئے ان پر جو مومن ہمارے اوپر اس طرح روئے گا کہ آنسو رخسار تک ڈھلک آئیں تو خداوند عالم اسے منزل صدق ( بہشت کے بلند ترین مقام )میں ٹھہرائے گا ۔ (٢)

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : چهارشنبه، 11 دی، 1387 (28 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 9758 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

انساني زندگي ميں فساد کے اسباب

نئے مقالات
انساني زندگي جس قدر اعتقادي و نظرياتي فسادات کاشکار ہوسکتي ہے رب العالمين ميں ان سب کا علاج مضمر ہے۔ انساني زندگي ميں فساد کي جتني صورتيں بھي نظرآتي ہيں اگران کا بنظر غائر جائزہ ليا جائے تووہ بالواسطہ يا بلاواسطہ مندرجہ ذيل اسباب ميں سے کسي نہ کسي ايک پر ضرور مبني ہوتي ہيں :
انساني زندگي ميں فساد کے اسباب ميں سے سب سے اہم صورت يہ ہے کہ بندہ حق بندگي بجا لانے کي بجائے سرے سے اس کائنات اور اس کے نظام کو بغير کسي خالق و مالک کے ماننے لگ جائے اوراسے نقطہء زندگي کے اتفاقي آغاز کا مظہر قرار ديتا پھرے۔
دوسري صورت يہ ہے کہ اﷲ تعالي کو محض خالق تسليم کرنے کے بعد اس کائناتي زندگي کے بقاء و فروغ کے نظام ميں اس کے عمل دخل اور تصرف کي بناء پر انکارکيا جائے کہ اب يہ عالم فقط اسباب و علل (Causes & effects) کے نظام کے تحت آزادانہ طور پر قائم ہے اوراسي صورت ميں چل رہا ہے۔ اس ميں کسي مستقل بالذات، واجب الوجود، قادر مطلق اور موثر حقيقي طاقت کا کوئي ارادہ، تدبير اور تصرف کار فرما نہيں ہے۔ گويا معاذ اﷲ! اﷲ تعالي ہميں تخليق کرنے کے بعد ہمارے معاملات سے بے دخل اور لاتعلق ہوگيا ہے اورہميں اس کي ہرگز حاجت نہيں۔ چنانچہ اس تصور سے انسان خود کو اﷲ تعالٰي کے سامنے جوابدہي سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔
اﷲ تعالي کي شان خلاقيت و ملوکيت پر اعتقاد رکھنے کے ساتھ ساتھ يہ خيال رکھاجائے کہ اس کي ذات، صفات يا افعال ميں کچھ اور افراد يا اشياء شريک ہيں۔ اس بنا پر وہ بھي مستحق عبادت وبندگي ہيں اور ان کا حکم و تصرف بھي خالق و مالک ہي کي طرح کائنات ميں موجود اور موثر ہے۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 10 دی، 1387 (35 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 29067 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

قر آ ن ا و ر ا مام مہد ی (ع)

انتظار امام زمانہ* ملت مسلمہ کے مسلمات اور قرآن کریم کے اپنے ارشاد کے مطابق قرآن وہ کتاب ہے جسے باطل سامنے اور عقب سے کسی طرف سے چھو تک نہیں سکتا۔
* ارشاد باری کے مطابق قرآن میں ہر شے کا بیان ہے ۔
* قرآن کے بیان حق کے مطابق کوئی رطب و یابس ایسا نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو۔
* ارشاد قدرت ہے : ہم نے اس کتاب میں کسی چیز سے غفلت نہیں برتی۔
* جس طرح اسلام آخری دین ہے اسی طرح قرآن آخر ی الہامی کتاب ہے۔
* کیا یہ سوچا جاسکتا ہے کہ قرآن اپنے ان مذکورہ و عادی مسئلہ سے خاموش رہ سکتا ہے جس نے امت مسلمہ کو نہ ختم ہونے والے انتشار میںمبتلا کردیا ہے ؟
* حالانکہ یہ وہ قرآن ہے جس نے ایران پر رومیوں کے قبضہ کی پیشگوئی کردی ہے۔
* قرآن نے دوسری حکومتوں کے تعاون سے فلسطین میں یہودی حکومت کی پیشگوئی کی ہے۔
* قرآن نے مستقبل میں یا جوج ماجوج کے کردار پر روشنی ڈال دی ہے۔
* قرآن ہی نے ،اے قوم جن و انس کسی مضبوط ترین طاقت کے بغیر تم آسمان کی بلندیوں اور زمین کی پستیوں میں نہیں پہنچ سکتے ،فرماکر کرہٴ ارض سے باہر کی دنیا میںقدم رکھنے کی پیشگوئی کردی ہے۔
* اس الہٰی کتاب کے متعلق یہ سوچا جاسکتا ہے کہ اس نے امام مہدی ں اور اس کے ظہور کے متعلق کچھ نہ بتایا ہوگا۔

مرسلہ بذریعہ sadiqi بتاریخ : سه شنبه، 10 دی، 1387 (35 مشاهده)
(مزید پڑھیں ... | 45691 باقی بائٹ | رائے دیں| پرِنٹ کریں | امتیاز : 5)

امام مہدی علیہ السلام کون ہیں؟