روایت ہے کہ سید الشہداء علیہ السلام ایک رات میں گھر سے نکلے اور اپنے جد کی قبر اور مزار کی طرف چل دئیے۔ وہاں پر چند رکعت نماز بجا لائے۔ پھر یوں گویاہوئے:
"پروردگارا! یہ تیرے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر ہے۔ میں ان کی بیٹی کا لخت ِجگر ہوں۔ ایک مشکل درپیش ہے جسے تو جانتا ہے۔ بارِ الٰہا!میں ہر اچھے کام کو پسند کرتا ہوں اور بُرے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ اے صاحب ِجلال و اکرام! تجھ سے اس قبر اطہر کے صدقہ میں اور جو اس میں محو خواب ہیں، سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ اور جس جس پر تو راضی اور خوش ہے، میرے لئے وہی قرار دے۔(بحار۴۴:۳۲۸)
روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام نکلے ، یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ جب دور سے مکہ کے پہاڑوں پر نظر پڑی تو اس آیہٴ مجیدہ کی تلاوت فرمائی:
"جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین آئے تو کہا :شاید میرا پروردگار مجھے راہِ راست کی ہدایت فرمائے"۔
پھر جب مکہ پہنچے تو فرمایا: