تعدّد ازواج

22

اسلام كے بر خلاف كلیسا اور مسیحی مبلغین نے تعدّد ازواج كے مسئلہ كو اس طرح غلط طریقے سے پیش كیا كہ آج یہ مسئلہ دنیا میں محل بحث بن گیا ھے۔ اپنی كمزور و سست پوزیشن كو بچانے كے لئے كلیسا ناواقف لوگوں پر تعدد ازواج كے مسئلے كوھزاروں تھمت و تبدیلی ٴحقائق كے ساتھ پیش كرتا ھے اور یہ ثابت كرنے كی كوشش كرتا ھے كہ یہ مسئلہ عورتوں پر ظلم و جور كے مرادف ھے كیونكہ عیسائی مبلغین لوگوں كو یہ باور كراتے ھیں كہ مردوں كو حسب دل خواہ كسی قید و بند كے بغیر عورتوں سے شادی كرنے كا اختیار ھے اور اپنی سختیوں كا پابند بنانے كا حق ھے ۔در حقیقت اسلام كے خلاف یہ پروپیگنڈہ ھے جس كی كوئی حقیقت نھیں ھے حالانكہ ان لوگوں كے ذھنوں میںاس مسئلے كے خلاف دور از كار اور خلاف انصاف باتیں موجود ھیں لیكن اگر تعصب كی عینك اتار كر واقع بینی كے ساتھ عقل و منطق كی رو سے، انسانی معاشرے كی فطرت پر غور كر كے بے شمار واقعات و حادثات كو نظر میں ركھتے ھوئے اور قوموں كی زندگی كے تغیرات اور تحولات كو دیكھتے ھوئے اس اسلامی قانون كے بارے میں سوچا جائے اور انصاف كے تقاضوں كو پورا كرتے ھوئے فیصلہ كیا جائے تو اس قانون كے اصولی و منطقی ھونے میں كوئی شك و شبہ باقی نھیں رھے گا ۔گذشتہ انبیاء كی تاریخ اور موجودہ ادیان كے مطالعہ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ھو جاتی ھے كہ تعدد ازواج كا مسئلہ اسلام سے پھلے رائج و مرسوم تھا یہ كوئی نئی بات نھیں ھے جس كو صرف اسلام نے ایجاد كیا ھو ۔ مثلا چین میں ” لیكی ” قانون كی بناء پر ایك شخص كو ۱۳۰ عورتوں سے شادی كرنے كا حق تھا اور یھودی قانون میں ایك مرد كئی سو عورتوں سے شادی كر سكتا تھا ۔ 1اسی طرح ” ارد شیر بابكان ” اور ” شارلمانی ” كے لئے لكھا گیاھے كہ ان میں سے ھر ایك كے حرم سرا میں تقریباً چار سو عورتیں تھیں ۔توریت (جو تعدد ازواج كو جائز سمجھتی ھے) كے خلاف انجیل نے بھی كوئی آواز نھیں اٹھائی بلكہ اس مسئلے میں خاموش ھے۔ اسی لئے آٹھویں صدی عیسوی كے نصف آخر تك یعنی شارلمانی بادشاہ فرانس كے زمانے تك مسیحی یورپ میں تعدد ازواج كی باقاعدہ رسم تھی اور كلیسا اس كی مخالفت نھیں كرتا تھا لیكن اسی بادشاہ (شارلمانی) كے زمانے میں كلیسا كے حكم سے پورے یورپ كے اندر یہ مسئلہ منسوخ قرار دیا گیا اور جن لوگوں كے پاس كئی كئی عورتیں تھیں ان كو شرعی لحاظ سے صرف ایك ایك عورت پر اكتفا كرنا پڑا اور اسی باعث عیسائی بد كاری و زنا كاری كی طرف مائل ھونے لگے اور جن كے پاس صرف ایك بیوی تھی وہ فسق و فجور كی طرف مائل ھو گئے زمانھٴ جاھلیت میں عرب كے مختلف قبیلوں میں نھایت نا پسند یدہ طریقے سے تعدد ازواج كا مسئلہ رائج تھا اورعدالت، مالی حیثیت اور دیگر شرائط كا لحاظ كئے بغیر ھر شخص اپنی حسب ِ خواھش جتنی عورتیں چاھے ركہ سكتا تھا ۔ اس وقت عورتوں كی كوئی قدر و قیمت نھیں تھی، ان پر ظلم و ستم كے پھاڑ توڑنا ایك عام بات تھی ۔ مردوں كی مطلق العنانی نے عورتوں پر عرصھٴ حیات تنگ كر ركھا تھا ۔اسلام نے اس ظلم كی مخالفت كی اور اس فساد كا خاتمہ كر دیا لیكن مخصوص شرائط كے ساتھ ۔اسلام نے اصل مسئلہ تعدد ازواج كو قبول كیا البتہ معاشرے كی ضرورتوں اور مرد و عورت كے مصالح كو پیش نظر ركھتے ھوئے عورتوں كی تعداد كو صرف چار میں محدود كر دیا ۔یہ بات قابل لحاظ ھے كہ اسلام كی نظر میں شادی بیاہ كے مسئلے میں اصل تعدد نھیں ھے بلكہ یہ ایك اجتماعی پیش بندی ھے جس كی بنیاد یہ ھے كہ مختلف خطروں كو دور كیا جا سكے كیونكہ كبھی ایسا ھوتا ھے كہ بڑے ضرر سے بچنے كے لئے چھوٹا ضرر انسان كو برداشت كرنا پڑتا ھے ۔ مثلا جان بچانے كے لئے مال كی قربانی مذموم نھیں ھے ۔اس كے علاوہ تعدد ازواج كا قانون تمام مسلمانوں كے لئے نماز، روزے كی طرح ھر شخص پر واجب و لازم نھیں ھے كہ اگر ایك شخص چند عورتوں كے ساتھ عادلانہ برتاؤ كر سكتا ھو اور اس كے معاشی حالت بھی چند عورتوں سے شادی كی اجازت دیتی ھو اور وہ اس كے باوجود صرف ایك عورت سے شادی كرے تو گویا اس نے فعل حرام كا ارتكاب كیا ! ایسا قطعاًنھیں ھے ۔تعدد ازواج كے مسئلے میں عورتوں كو بھی ارادہ و عمل كی آزادی بخشی گئی ھے تاكہ وہ اپنی مرضی سے اس كام كو كریں كوئی جبر نھیں كیا گیا ھے ۔ تعدد ازواج كی اجازت دے كر اسلام نے عورتوں كی كسی قسم كی اھانت نھیں كی ھے بلكہ عورتوں كو صرف اجازت دی گئی ھے كہ حالات كے لحاظ سے اگر وہ چاھیں تو ایسا كر سكتی ھیں ان كو قید تنھائی پر مجبور نھیں كیا گیا ھے ۔اگر شادی كرنے والے مردوں اور عورتوں كی تعداد برابر ھو تو وھاں پر ھر مرد كے حصے میں ایك ھی عورت آئے گی اور تعدد ازواج كا مسئلہ خود بخود حل ھو جائے گا ۔ لھذا جب معاشرے كو ضرورت نہ ھو تو پھر اس مسئلے كا وجود ھی نہ ھو گا لیكن اگر معاشرے كو شدید ضرورت ھو مثلاً عورتوں اور مردوں كا توازن مختلف اسباب كی وجہ سے باقی نہ رھے بلكہ مردوں كی تعداد عورتوں كے مقابل میں كم ھو جائے تو فاضل عورتوںكے لئے كیاحل ھونا چاھئے؟آئے دن كی جنگوں، مشكل كاموں كی انجام دھی، معادن كے اندر كام كرنا (جس میں ھزاروں آدمی ھلاك ھوتے رھتے ھیں) وغیرہ ان اسباب كی بناء پر مردوں كی تعداد كم ھوتی جاتی ھے اور عورتوں كی تعداد بڑھتی جاتی ھے ۔ اب یھاں پر اعداد و شمار كر كے فیصلہ كیجئے كہ كیا كیا جائے كیونكہ صحیح فیصلہ تو مردم شماری كے بعد ھی ھوگا ۔ اعداد و شمار كے مطابق پوری دنیا میں قطعی طور پر عورتوں كی تعداد بھت زیادہ ھے اور یہ زیادتی مندرجہ بالا اسباب كی بنا پر ھمیشہ سے دنیا میں رھی ھے ۔ یہ ایك ایسی حقیقت ھے جس سے فرار ممكن نھیں ھے ۔ اس صورت حال میں تعداد ازواج كے علاوہ اس كا اوركیا حل ھو سكتا ھے؟فرانس كے اعداد و شمار كے مطابق وھاں ھر سو پیدا ھونے والی لڑكیوں كے مقابلے میں ایك سو پانچ بچے پیدا ھوتے ھیں لیكن اس كے با وجود عورتوں كی تعداددس لاكہ سات سو پینسٹہ ھزار سے زیادہ ھے ۔ حالانكہ پورے فرانس كی آبادی پانچ كروڑسے زیادہ نھیں ھے ۔ اس كی وجہ یہ ھے كہ عورتوں كے مقابلے میں مردوں میں امراض كا مقابلہ كرنے كی طاقت كم ھے اس لئے پانچ فیصد لڑكے انیس سال كی عمر تك ختم ھو جاتے ھیں، كچہ پچیس سال تك اسی طرح مردوں كی تعداد گھٹتی رھتی ھے اور اب یہ حال ھے كہ ۶۵ سال كی عمر میں پندرہ لاكہ عورتوں كے مقابلے میںساڑھے سات ھزار سے زیادہ مرد باقی نہ رھیں گے ۔ 2اس وقت امریكہ میں دو كروڑ عورتیں شوھر نہ ملنے كی وجہ سے كنواری ھیں اور مختلف عادتوں كی شكار ھیں ۔ 3پروفیسر ” پیٹر مڈاوار (PROFESSOR PETER MUDAWAR) مندرجہ بالا نظریے كی تائید كرتے ھوئے لكھتے ھیں: اس سبب سے اور دوسرے اسباب كی بناء پر بھی دنیا میں مردوں كی تعداد رو بہ نقصان ھے ۔ 4جس طرح عورت ضروریات زندگی كا احساس كرتی ھے اسی طرح وہ اندرونی طور پر شوھر، تولید نسل، پرورش اولاد كی بھی ضرورت كا احساس كرتی ھے اور اس كی یہ خواھش شادی كے بغیر پوری نھیں ھو سكتی ۔ محض وسائل زندگی كا مھیا ھو جانا اس كے باطنی التھاب كو ختم نھیں كر سكتا اور عورت ھی كیا مرد كے یھاں بھی یہ احساس موجود ھے اور اصولا ًان باتوں كا انكار ممكن نھیں ھے ۔دنیا میں عورتوں كی كثرت كی علت بیان كرتے ھوئے اخبار اس اھم مسئلے كا بھی ذكر كرتے ھیں ۔ عورتوں كی تعداد روز بروز دنیا میں كیوں بڑہ رھی ھے؟ اس كی دو علتیں ھیں ۔1۔ عورتوں كی پیدائش (مردوں كے بہ نسبت) زیادہ ھوتی ھے ۔2۔ مردوں كے مقابلے میں ان كی عمریں بھی لمبی ھوتی ھیں ۔یہ حقیقت ھے كہ عورتوں كی بہ نسبت مردوں كی عمر یں كم ھوتی ھیں ۔ اعداد و شمار كے مطابق ایك غیر شادی شدہ مردكے مقابلے میں بیس بیوہ عورتیں موجود ھیں۔ عورت كی تنھائی اس كے لئے بھت دشوار اور افسردہ كرنے والی چیز ھے ۔ غیر شوھر دار عورتیں ھمیشہ شریك زندگی كے انتظار میں رھتی ھیں اور ان كی پوری زندگی انتظار كے كمرے میں گزر جاتی ھے ۔آخر كیا بات ھے كہ بڑی زحمت و محنت سے پكائے ھوئے كھانے عورتوں كو تنھا كھانے میں لطف نھیں آتا؟ اس كی وجہ یہ ھے محض اپنے لئے كام كرنے كو عبث و بیكار سمجھتی ھیں، حالانكہ بچوں اور شوھر كے لئے كام بڑی رغبت سے كرتی ھیں ۔ كنواری اور بیوہ عورتیں زیادہ تر اپنے دن كوبے مقصد اور بد دلی سے گزارتی ھیں ۔ دوستوںاورقرابت داروں كے یھاں شوھر دار عورتوں كو دیكہ كر ان كایہ احساس مزید بڑہ جاتا ھے ۔ 5فاضل اور زائد عورتوں كا حل اسلام نے تعدد ازواج كی صورت میں نكالا ھے كہ عورتوں كو یہ حق ھے كہ شادی شدہ مرد كے ساتھ شادی كر كے اپنے رنج وتنھائی اور دیگر محرومیتیوں سے نجات حاصل كریں ۔مردوں میں تولید نسل كی صلاحیت اور جنسی خواھش تقریباً ھمیشہ باقی رھتی ھے لیكن عورتیں پچاس سال كے بعد حمل و پیدائش كی صلاحیت كھو بیٹھتی ھیں ۔ اب جس زمانے میں عورت كی صلاحیت ختم ھو جاتی ھے مرد كی شھوت پھر بھی بیدار رھتی ھے ۔ اس لئے اگر مردوں كے لئے دوسری شادی كرنا غیر قانونی ھو جاتا ھے تو اس كا مطلب یہ ھوا كہ عمر كے ایك حصے میں مرد كو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا نانا ممكن ھو جائے گا ۔اس كے علاوہ بھت سی عورتیںعقیم ھوتی ھیں لیكن میاں بیوی كے آپسی محبت كی بناء پر مرد سے جدائی بھی نھیں چاھتیں اور ادھر مرد كے اندر وجود فرزند اور بقائے نسل كی فطری خواھش موجود ھے، ایسی صورت میں كس جرم كی بناء پر مرد پوری زندگی اولاد كی خاطر آتش حسرت میں جلتا رھے اور اپنے مقصد كو كیوں نہ حاصل كرے؟ایرانی اخبار” اطلاعات ” ” ایك مرد كی تین بیویاں شوھر كی چوتھی شادی پر راضی ” كے عنوان سے لكھتا ھے: كل ظھر كے بعد ایك مرد اپنی تین عورتوں كو لے كرایران كے شھر رشت كی عدالت میں حاضر ھوا اور حاكم سے خواھش كی كہ میں ایك لڑكی سے محبت كرتا ھوں مجھے اس سے شادی كی جازت دی جائے اور میری موجودہ بیویاں اس پر راضی ھیں اور لطف كی بات یہ ھے كہ تینوں عورتوں نے عدالت كے سامنے اپنی رضا مندی كا اظھار كیا ۔ اس شخص نے عدالت كے سامنے اپنی مجبوری اس طرح بیان كی كہ میری تینوں بیویاں بانجہ ھیں لیكن زراعت كے كاموں میں میرا ھاتہ بٹاتی ھیں اس لئے ان كو طلاق بھی نھیں دینا چاھتا اور چاھتا ھوں كہ ایك اور لڑكی سے شادی كروں جس سے میرے یھاں اولاد پیدا ھو ۔ لڑكی نے بھی ھمارے رشت كے نامہ نگار سے كھاكہ ھمارا ھونے والا شوھر ھمارے دیھات ” سفید كپلتہ ” كے بھت اچھے لوگوں میں سے ھے ۔ اس كے علاوہ ھمارے دیھات میں دو ھزار عورتیں اور صرف چار سو مرد ھیں ۔ مردوں میںبھی آدھے دس سے سولہ سال كے لڑكے ھیں یعنی ھمارے دیھات میں ایك مرد كے حصے میں پانچ عورتیں پڑتی ھیں ۔ ان دلائل كے پیش نظر اگر میں چوتھی بیوی بنوں تو جائے تعجب نھیں ھے ۔ 6جو قانون مرد كو اس كی خواھش پوری نہ كرنے دے یعنی اولاد كی خواھش كو پوری نہ ھونے دے، كیا وہ مرد كے حق میں ظالم قانون نھیں ھے ۔؟اسی طرح زائد عورتوں كی صورت میں جب مردو عورت دونوں كے مصالح پیش نظر ركھے جائیں تو تعدد ازواج كی صورت كے علاوہ كون سا ایسا طریقہ ھے كہ معاشرے میں خلل واقع نہ ھو اورنسل كے اندر تعاون و توازن موجود رھے؟یہ ایك روحی، حیاتی و اجتماعی ضرورت ھے اور ایك واقعی حقیقت ھے جس كا سامنا كرنا ھی ھے، یہ كوئی افسانہ یا تخیل نھیں ھے ۔ اسی طرح كبھی یہ بھی ھو سكتا ھے كہ عورت كسی زمانے میں كسی زمین گیر بیماری میں گرفتار ھو جائے جو ناقابل علاج ھو اور ھمبستری كے لائق بھی نہ ھو، دوسری طرف مرد كی شھوت میں كوئی كمی نہ ھو اور اسلام عفت و پاكدامنی كے مخالف كام كی اجازت تو دیتا نھیں اب دوسری شادی كو بھی روك دے تو یہ كتنا بڑا ظلم ھو گا ۔ اس موقع پر تعدد ازواج كے قانون سے بھتر كون سا طریقہ ھے جس سے مرد كی ضرورت پوری ھوجائے؟اسی طرح اگر شوھر كسی ایسی بیماری میں مبتلا ھو جائے جو ناقابل علاج ھو اور جنسی رابطہ عورت كے لئے نقصان دہ ھو تو اس كو بھی حق ھے كہ قاضی اسلام كی طرف رجوع كر كے طلاق كی خواھش كرے اور حاكم شرع شوھر سے اس كو طلاق دلوا دے گا ۔ اگر شوھر طلاق دینے پر تیار نہ ھو تو حاكم شرع اپنے اختیارات كو استعمال كر كے خود طلاق نافذ كر سكتا ھے ۔اب ایسی صورت میں كہ جب عورت زمین گیر مرض میں مبتلا ھو كیا یہ بھتر ھے كہ مرد اس كو طلاق دیدے اور اس عضو معطل كے ذریعہ معاشرے كے بے سر و ساماں لوگوں میںایك اور فرد كا اضافہ كر دے؟ یا پھر تعدد ازواج پر عمل كرتے ھوئے دوسری شادی كر لے اور اس عورت كو اپنی سر پرستی میں ركہ كر علاج و معالجہ كرائے؟ ظاھر ھے دوسری صورت بھتر ھے كیونكہ جس عورت نے اپنی زندگی كے قیمتی حصے كو شوھر كے گھر میں گزارا ھو اس كے رنج و غم خوشی و مسرت میں برابر كی شریك رھی ھو كیا انصاف اور وجدان كا تقاضا یہ ھے كہ شوھر تندرستی كے زمانے میں تو شریك زندگی بنائے لیكن بیمار ھونے كے بعد اس كو علیحدہ كر دے؟ كیا یھی انسانیت اور شرافت ھے؟حفظ عفت عمومی اور جنسی بے راہ روی كی روك تھام كرنے ھی كے لئے اسلام نے ” تعدد ازواج ” جیسا موثر قانون ایجاد كیا ھے جس سے لاكھوں عورتوں كو انحرافات جنسی سے بچا كر ان كی فطری شوھر و اولادكی خواھش كو پورا كیا جا سكتا ھے ۔دوسری جنگ عظیم میں جب كروڑوں افراد لقمہٴ اجل بن گئے اور بھت سی عورتیں بغیر شوھر كے رہ گئیں تو عورتوں كی انجمن نے جرمنی حكومت سے جرمن كے اندر ” تعدد ازواج ” كے قانون كے نفاذ كی مانگ كی لیكن كلیسا كی مخالفت كی وجہ سے ان كی مانگ پوری نھیں كی گئی اور خود كلیسا نے اس مسئلے كا كوئی عملی و منطقی حل نھیں پیش كیا اس لئے عورتیں مختلف اخلاقی مفاسد اور جنسی بے راہ روی كی شكار ھو گئیں اور ناجائز اولاد كی بھر مار ھو گئی ۔اخباروں نے اس طرح تفصیل لكھی ھے:” دوسری عالمگیر جنگ كے بعد جرمنی كی بے شوھر عورتوں نے حكومت سے تعدد ازواج كے قانون كے نفاذ كا مطالبہ كیا تاكہ عورتوں كی شرعی و فطری مانگ (شوھر و اولاد) پوری ھو سكے مگر كلیسا نے مخالفت كی جس كا نتیجہ یہ ھوا كہ پورا یورپ بد كاری كا اڈا بن گیا ۔ 7زندگی كی وحشت تنھائی، بیس سالہ عورتوں تك میں عام ھو رھی ھے تیس چالیس سالہ عورتوں كا پوچھنا ھی كیا ۔ مردوں اور عورتوں كی آزادی بھی عورتوں كے دل سے (شوھر) كی خواھش نھیں نكال سكی ۔ آج بھی “بنت حوا” كی نظریں “ابن آدم” كی متلاشی ھیں ۔ تمام امكانی صورتوں اور ترقیوں كے باوجود جو اتحادی جرمنی كے اندر عورتوں كے لئے مھیا كی گئی تھیں، آج بھی عورت اپنی حفاظت و پاسداری كے لئے شوھر كی تلاش میں ھے ۔مغرب كا دعویٰ ھے كہ اس نے عورتوں كے ساتھ بڑی مھربانی برتی ھے اور ان كو كامل آزادی بخشی ھے۔ اگر ایسا ھے تو ان كی جائز خواھشوں اور گھر بسانے كی تمنا كے سامنے كیوں دیوار كھڑی كرتا ھے؟ ان كو ان كے اصلی فریضے ۔ تولید فرزند و تربیت اولاد ۔ سے كیوں محروم كرتا ھے؟ایك مرد كے گھر میں ایك یا چند عورتوں كے ساتھ رہ كر زندگی بسر كرنے پر آمادگی خود بتاتی ھے كہ بے شوھری اور تنھائی كی زندگی سے “تعدد ازواج ” بھتر ھے ۔ یہ بے چارہ مرد ھے جو كئی شادیاں كر كے اپنی ذمہ داریوں میںاضافہ كر لیتا ھے ۔ایك پڑھی لكھی معزز خاتون جنھوں نے حقوق میں ڈاكٹریٹ كی ڈگری حاصل كی ھے اس مسئلے پر اظھار رائے كرتے ھوئے واضح الفاظ میں تحریر كرتی ھیں: كوئی بھی عورت چاھے وہ پھلی بیوی ھو یا دوسری یا كوئی اور ” تعدد ازواج ” سے اس كو كوئی نقصان نھیں ھوتا ! بلكہ طے شدہ بات یہ ھے كہ اس قانون سے مردوں كو ضرر پھونچتا ھے كیونكہ ان كا بوجہ بڑہ جاتا ھے ان كی تكلیف زیادہ ھو جاتی ھے اس لئے كہ جب كوئی مرد كسی عورت سے شادی كرے گا تو شرعاً، اخلاقاً، قانوناً اور عرفاً اس عورت كا ذمہ دار ھو گا اور آخر عمر تك اس عورت كے شایان شان وسائل زندگی مھیا كرنا مرد كا فریضہ ھو گا ۔ اسی طرح عورت كے صحت كی ذمہ داری بھی اس پر ھو گی یعنی بیماری كی صورت میں علاج معالجہ كرانااور اس كے مصارف برداشت كرنا ھوں گے اور خطرات سے بچانا بھی اس كا فریضہ ھو گا ۔ !اگر مردان چیزوں میں كوتاھی كرتا ھے تو عرف اس كو فرائض كی انجام دھی پر مجبور كرے گا اس خاتون كے عقیدے كے لحاظ سے تعدد ازواج كے سلسلے میں نادانستہ جتنے اعتراض عورتوں كی زبان سے ھوتے ھیں یہ در حقیقت مردوں كے اعتراض ھیں جو عورتوں كی زبان سے ھوتے ھیں ۔ عورتیں طوطی كی طرح رٹ كر ھر جگہ اس راگ كو الاپتی رھتی ھیں (گویا یہ عورتوں كی بے وقوفی اور مردوں كی عقل مندی ھے) كیونكہ در حقیقت مرد مختلف شبھات پیدا كر كے شادی سے روكتے ھیں كیونكہ اس قانون سے انھیںكو نقصان ھے عورتوں كو كوئی نقصان نھیںھے اور مرد یہ چاھتا ھے كہ قانونی پابندی سے بچ كر اپنی جنسی خواھش پوری كرتا رھے مگر نادان عورت اس بات كو نھیں سمجہ پاتی ۔ اگر كسی مرد كی دو بیویاں ھیں تو جنسی تعلق سے عورت كو كوئی نقصان نھیں ھے بس روحانی طور پر عورت كو یہ احساس ھوتا ھے كہ میرے شوھر كی دوسری بیوی بھی ھے لیكن یہ روحانی تكلیف بھی حقیقی چیز نھیں ھے بلكہ مردوں كی سمجھائی ھوئی بات ھے اور اس كی دلیل یہ ھے زمانھٴ سابق میںلوگوں كی كئی بیویاں ھوتی تھی اب بھی ایسی مثالیں مل جائیں گی كہ ایك گھر میں دو تین بیویاں مل كر زندگی بسر كرتی ھیں اور كسی كو كسی قسم كی كوئی تكلیف نھیں ھے لیكن مردوں كے بھكائے میں آكر اب ان كو بھی تكلیف كا احساس ھونے لگا ھے اگر واقعاً دوسری بیوی باعث تكلیف ھوتی تو پھلے زمانے میں یہ احساس كیوں نھیں تھا؟اب آپ سمجھئے كہ مغرب نے جنسی بے راہ روی توجائزقرار دے دی لیكن فطری خواھش (شوھر و اولاد) پر پابندی لگا دی لیكن اسلام لوگوں كو معقول آزادی دیتا ھے اور ایسی آزادی جو مصالح فرد یا اجتماع كے لئے نقصان دہ ھو، اس كی كسی قیمت پر اجازت نھیں دیتا ۔چونكہ اسلام كی نظر میں عدل و انصاف، فرد و اجتماع كی سعادت كا اھم جزو ھے اسی لئے ” تعدد ازواج ” میں بھی اسلام نے عدالت كی شرط ركھی ھے اور مختلف امور میں عورتوں كے ساتھ كیسی عدالت برتی جائے اس سلسلے میں فقہ اسلامی كے اندر بھت زیادہ دستور بتائے گئے ھیں اور عورتوں كی آزادی و برابر ی كے حقوق وغیرہ كی بھت عمدہ طریقے سے ضمانت دی گئی ھے ۔بھت سی ایسی عورتیں بھی ھیں جو رضا و رغبت كے ساتھ اپنے شوھروں كو دوسری شادی كی اجازت دے دیتی ھیں، عورتوں كی یہ رضا مندی اس بات كی دلیل ھے كہ ” تعدد ازواج ” كا مسئلہ انسانی فطرت سے ھم آھنگ ھے ۔ اگر یہ خلاف فطرت قانون ھوتا تو عورت كسی بھی قیمت پر مرد كو دوسری شادی كی اجازت نہ دیتی۔اگر كسی گھر میں ناراضگی، اختلافات دكھائی دیتے ھیں تو اس كی وجہ صرف یہ ھے كہ وھاں امتیاز برتا جاتا ھے عورتوں كے ساتھ انصاف نھیں ھوتا ھے اسلام كا اعلان ھے”اور اگر یتیموں كے بارے میں انصاف نہ كر سكنے كا خطرہ ھے تو جو عورتیں تمھیں پسند ھیں دو تین ۔چار ان سے نكاح كر لو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ كر سكنے كا خطرہ ھے تو صرف ایك یا جو كنیزیں تمھارے ھاتہ كی ملكیت ھیں یہ بات انصاف سے تجاوز نہ كرنے سے قریب تر ھے ” ۔ 8مختصر یہ بعض اوقات كچہ مردوں كے غیر معقول اور سخت گیر رویہ سے گھروں میں شدید اختلاف پیدا ھو جاتا ھے اور شرعی و اخلاقی فریضہ میںبیویوں سے انصاف نہ كرنے كی وجہ سے گھر یلو ماحول مھر و محبت كے بجائے دھكتا ھوا جھنم بن جاتا ھے ۔ اس لئے مسلمانوں كے اعمال كی طرف توجہ دئے بغیر اسلام كے احكام كی گھرائی كو سوچنا چاھئے تاكہ حقیقت كا پتہ چل سكے ۔ اسلام كے اندر ایسے بھی دستور و قانون موجود ھیں جن كی بناء پر مردوں كو عورتوں سے منصفانہ سلوك كرنے پر مجبور كیا جا سكتا ھے مثلاً اگر كوئی مرد بیوی كا نان و نفقہ نھیںدیتا یا بیویوں میں عدالت سے كام نھیں لیتا اور اپنی ذمہ داری كا احساس نھیں كرتا تو اس سے شرعی باز پرس ھو گی اور اس كو سز ابھی دی جائے گی ۔البتہ دلی لگاؤ اور قلبی جھكاؤ انسان كی قدرت سے باھر كی چیز ھے اور بھت ممكن ھے كہ كسی عورت كے اندر زیادہ خصوصیات ھوں جس كی بناء پر مرد اس سے زیادہ محبت كرتا ھو، اسی لئے اسلام نے مرد كونان و نفقہ، مكان، ھمبستری اور تمام روحانی، جسمانی اور مالی خواھشات كی مساوات پر مجبور كیاھے یعنی جو چیزیں انسان كے بس كی ھیں ان میں عدالت شرط ھے اس میں كسی قسم كی زیادتی اور ظلم و ستم جائز نھیں ھے لیكن جو باتیں انسان كے بس سے باھر ھیں ان میں عدالت شرط نھیں ھے ۔عورتوں كے لئے جن حقوق كی خانگی زندگی میں زیادہ اھمیت ھے اسلام نے ان كی حفاظت كی ھے اور یہ طے شدہ بات ھے كہ دلی لگاؤ كی وجہ سے اگر برتاؤ میں فرق پڑ جائے تب تو عورت كے حقوق ضائع ھوتے ھیں لیكن اگر كسی عورت سے قلبی لگاؤ ھونے كے باوجود لباس، خوراك، مكان، اور دیگر ضروریات زندگی میں مثلا ھمبستری وغیرہ میں كوئی فرق نھیں پڑتا بلكہ عدالت كے موافق كام ھوتا ھے تو پھر اس قلبی لگاؤ كی كوئی اھمیت نھیں ھے ۔ اسی لئے خانگی زندگی میں بے مھری، كے آثار نھیں پیدا ھونے دنیا چاھئے۔ قرآن كھتا ھے: عورت كو معلق (نہ شوھر دار نہ بے شوھر) نہ كرو اس كو موت و زندگی كے بیچ میں مت پھنساؤ ۔ اسی لئے كسی مرد كو یہ حق نھیں ھے كہ اپنی كچہ بیویوں كے ساتھ بے رخی سے پیش آئے اور ان كو بیچ منجدھار میں چھوڑ دے ۔حضور سرور كائنات كے زمانے میں جب یہ حكم نافذ ھوا تو جن اصحاب كے پاس چار بیویاں تھیں ان كو پابند بنایا گیا كہ اگر سب كے ساتھ انصاف نہ كر سكو تو صرف ایك بیوی پر اكتفا كرو اور اگر انصاف بھی كر سكتے ھو تو چار بیویوں سے زیادہ نھیں ركہ سكتے ۔ اس حكم كے ذریعے اسلام نے “تعدد ازواج” كے غیر عادلانہ برتاؤ، عورتوں كے حقوق سے لا پرواھی اورمطلق العنان جنسی بے راہ روی پر پابندی عائد كر دی اور ھر ظلم و ستم كا خاتمہ كر دیا ۔مسلمانوں میں جو مذھبی قانون كے پابند تھے ان میں ایسے لوگ بھی ملتے ھیں جنھوں نے عورتوں كے مرنے كے بعد بھی عدالت و انصاف كے دامن كو ھاتہ سے نھیں چھوڑا مثلاً “معاذ بن جبل” صحابی پیغمبر كی دو بیویاں تھیں اور طاعون میں دونوں ایك ساتھ مر گئیں ۔ معاذ اس وقت بھی عدل انصاف سے كام لینا چاھتے تھے كہ كس كو پھلے دفن كیا جائے ۔ چنانچہ انھوں نے اس كام كے لئے قرعہ اندازی سے كام لیا” 9مغرب میںبھی بعض ایسے منصف مزاج دانش مند پیدا ھوئے ھیں جنھوں نے اس مسئلے پر كافی غور و خوض كے بعد فیصلہ دیا ھے كہ ” تعدد ازواج ” معاشرے كی ایك اھم ضرورت ھے ۔ مشھور جرمنی فلسفی شوپنھاور (SCHOPENHAUER) اپنی كتاب عورتوں كے بارے میں چند باتیں میں تحریر كرتا ھے: جس مذھب میں ” تعدد ازواج ” كا قانون موجود ھے اس میں اس كا امكان ھے كہ عورتوں كی ایسی اكثریت جوكُل كے قریب ھو شوھر، فرزند اور سرپرست سے ھمكنار ھو ۔ لیكن یورپ كے اندر كلیسا ھم كو اس بات كی ا جازت نھیں دیتا اس لئے شوھر دار عورتیں بغیر شوھر والی عورتوں سے كئی گنا كم تعداد میں ھیں۔ بھت سی كنواریاں شوھر كی آرزو لے كر اور بھت سی عورتیں اولاد كی خواھش لے كر اس دنیا سے چلی گئیں اور بھت سی عورتیں اور لڑكیاں جنسی خواھش كے ھاتھوں مجبور ھو كر اپنی عفت كھو بیٹھیں اور بد نام ھو گئیں اور ساری زندگی آتش عصیاں و تنھائی میں جلتی رھیں اور انجام كار اپنی فطری خواھش تك نہ پھنچ سكیں اگر تعدد ازواج كا قانون ھوتا تو یہ بات نہ ھوتی ۔كافی غور وخوض كے بعد بھی كوئی دلیل نھیں ملی كہ اگر كسی مرد كی بیوی زمین گیر مرض میں گرفتار ھو یا بانجہ ھو، یا عمل حمل و وضع سے عاجز ھو تو وہ بے چارہ دوسری عورت سے شادی كیوں نہ كرے؟ اس كا جواب كلیسا كو دینا چاھئے مگر كلیسا كے پاس كوئی جواب نھیں ھے ۔ بھترین قانون وہ ھوتا ھے جس كے سھارے زندگی كی سعادت محفوظ رھے نہ كہ وہ جس كی بدولت زندگی جھنم كا نمونہ بن جائے ۔آنی بسنٹ (ANIE BESANT) تحریر كرتی ھے: مغرب كا دعویٰ ھے كہ اس نے ” تعدد ازواج ” كے قانون كو نھیں قبول كیا لیكن واقعیت یہ ھے كہ بغیرقبول كئے یہ قانون مغرب میں موجود ھے بایں معنی كہ مرد جب اپنی معشوقہ سے سیر ھو جاتا ھے تو اس كو بھگا دیتا ھے اور یہ بے چاری گلی كوچوں میں ماری ماری پھرتی ھے كیونكہ پھلا عاشق اپنی كوئی ذمہ دار ی محسوس ھی نھیں كرتا اور عورت كی یہ حالت ھزار درجہ اس عورت كی حالت سے بدتر ھے جو قانونی شوھر ركھتی ھے بال بچے والی ھے، خاندان میں شوھر كے زیر حمایت زندگی بسر كر رھی ھے ۔ میں جب ھزاروں عورتوں كو رات كے وقت سڑكوں پر حیران و سر گرداں دیكھتی ھوں تو مجبورا ًسوچتی ھوں كہ اھل مغرب كو اسلام كے “تعدد ازواج ” كے قانون پر ھرگز اعتراض نھیں كرنا چاھئے ۔جو عورت “تعدد ازواج” قانون كے ماتحت شوھر ركھتی ھے، گود میں چھوٹے چھوٹے بچے ركھتی ھے اور نھایت احترام كے ساتھ شوھر كے خاندان میں زندگی بسر كرتی ھے وہ ھزاروں ھزار درجے اس عورت سے بھتر ھے جو گلی كوچے میں حیران و پریشاں گھومتی ھے، گود میں نا جائز بچہ ركھتی ھے جس بچے كو كوئی قانونی حمایت حاصل نھیں ھے، جو دوسروں كی شھوتوں كے قربان گاہ پر بھینٹ چڑہ چكی ھے ۔ڈاكٹر گوسٹاو لبون (Dr. GUSTAVELEBON) لكھتا ھے: مشرقی رسم و رواج میں سے ” تعدد ازواج ” كے مسئلے كو مغرب میں جس قدر غلط طریقے سے پیش كیا گیا ھے كسی بھی رسم كے بارے میں ایسا نھیں ھوا ھے، اور كسی بھی مسئلے پر مغرب نے اتنی غلطی نھیں كی ھے جتنی ” تعدد ازواج ” كے مسئلے پر كی ھے، میں واقعاً متحیر ھوں اور مجھے نھیں معلوم كہ مشرق میں” تعدد ازواج ” كا مسئلہ مغرب كے ” فریبی ازدواج ” سے كس طرح كم ھے اور اس میں كیا كمی ھے ۔ میرا تو یہ عقیدہ ھے كہ ” تعدد ازواج ” كا شرعی مسئلہ ھر لحاظ سے بھتر و شائستہ ھے ۔ 10www.ishraaq.net——————————————————————————–1. حقوق زن در اسلام و اروپا / ص ۲۱۵2. ایرانی اخبار” اطلاعات” ۱۱/ ۹/ ۳۵3. خواندین ھا شمارہ ۷۱ سال ۱۴4. ایرانی اخبار” كیھان” ۳/۱۲/۳۸5. سروس مخصوص خبر گزاری فرانسہ اطلاعات ۱۲۲۳۹6. ایرانی اخبار” اطلاعات” ۲۰ بھمن ۴۸ شمارہ ۱۳۱۶7. ایرانی اخبار” اطلاعات” ۲۹/۸/۴۰8. سورہ ٴنسا /۳9. مجمع البیان ج۳ /ص ۱۲۱10. تمدن اسلام و عرب/ ص ۵۲۶ ۔ ۵۲۷
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.