تاریخ وهابیت اور آل سعود

112

اسی وجہ سے وھابیوں كی تاریخ میں آل سعود تاریخ اھم كردار ركھتی ھے، خاندان آل سعود، حافظ وھبہ كی تحریر كے مطابق قبیلہٴ”عَنَزَہْ” سے تعلق ركھتا تھاجن كی نجد علاقہ میں چھوٹی سی حكومت تھی، جن كی جزیرہ نما عربستان میں كوئی حیثیت نھیں تھی، لیكن جب محمد بن عبد الوھاب، محمد بن سعود كے پاس گیا اور دونوں نے آپس میں ایك دوسرے كی مدد اور نصرت كرنے كا وعدہ كیا تو محمد بن سعود كے ساتھ سعودی عرب كے دوسرے امیروں اور قبیلوں كے سرداروںمیں جنگ اور لڑائیاں هونے لگیں، عوام كی اكثریت سعودی امیر كی اطاعت كرتی تھی، لیكن آہستہ آہستہ آل سعود كی حكومت بڑھتی چلی گئی اور نجد او ردوسرے علاقوں میں اس كا مكمل طور پر قبضہ هوگیا اور وھابیت كے پھیلنے میں بڑی موثر ثابت هوئی۔
اسی زمانہ سے آج تك یعنی تقریباً ۲۴۰ سال سے نجد كی حكومت اور تقریباً ۲۴۵سال سے نجد اور حجاز كی حكومت اس خاندان كے ھاتھوں میں ھے، صرف تھوڑی مدت كے لئے آل رشید نے نجد پر حكومت كی تھی اور عبد الرحمن بن سعود كو نجد سے باھر نكال دیا تھا (جس كی تفصیل انشاء اللہ بعد میں بیان هوگی) ورنہ ان كی حكومت كو كوئی طاقت ختم نہ كرسكی یھاں تك كہ عثمانیوں اور محمد علی پاشا كی حكومت نے بھی ان كی حكومت او ران كے نفوذ كو كلی طور پر ختم نھیں كیا۔
آل سعود كی حكومت كا آغاز
خاندان آل سعود كا تعلق عشیرہٴ مقرن كے قبیلہ (“عَنَزَہ” یا “عُنَیْزَہ”) سے تھا جو نجد اور اس كے اطراف مثلاً قطیف اور احساء میں رھتے تھے۔
سب سے پھلے ان میں سے جو شخص ایك چھوٹی سے حكومت كا مالك بنا اس كا نام “مانع” تھا كیونكہ وہ “یمامہ” كے امیر كا رشتہ دار تھا جس نے اس كو “درعیہ” كے دو علاقوں پر حاكم بنا دیا، مانع كی موت كے بعد اس كی ریاست اس كے بیٹوں كو مل گئی، چنانچہ مانع كے بعد اس كے بیٹے”ربیعہ” نے حكومت كی باگ ڈورسنبھالی، اس نے آہستہ آہستہ اپنی حكومت كو وسیع كیا اس كے بھی موسیٰ نام كا ایك بیٹا تھا جو بھت هوشیار اور بھادر تھا، چنانچہ موسیٰ نے اپنے باپ كے ھاتھوں سے حكومت چھین لی اور قریب تھا كہ اس كو قتل كردیتا، یھاں تك كہ اس كی طاقت روز بروزبڑھتی گئی وہ اسی علاقہ كے اطراف میں موجود آل یزید كی حكومت كو گراكر اس پر بھی قابض هوگیا۔
اس طرح آل مقرن یا قبیلہ عنیزہ نے اپنے لئے ایك مختصر سی حكومت بنالی اور نجد او راس كے قرب وجوار میں شھرت حاصل كرلی، لیكن جیسا كہ عرض كیا جاچكا ھے كہ اس حكومت كی كوئی خاص حیثیت نھیں تھی یھاں تك كہ محمد بن سعود كی حكومت بنی اور محمد بن عبد الوھاب اور محمد بن سعود میں معاہدہ هوا۔
“دائرة المعارف اسلامی” نے درعیہ میں وھابیوں (یا آل سعود) كی حكومت كو تین حصوں میں تقسیم كیا ھے:
1۔ وھابیت كے آغاز سے مصریوں كے حملہ تك (۱۸۲۰ء) اس وقت درعیہ شھر دار السلطنت تھا۔
2۔ تركی اور فیصل آل سعود نے دوبارہ حكومت حاصل كی اس زمانہ ابن رشید حائل كا حاكم تھا (یعنی۱۸۲۰ء سے۱۹۰۲ء تك) اس وقت حكومت كا مركز ریاض تھا۔
3۔ ۱۹۰۲ء جب ابن سعود نے آل رشید سے حكومت كو چھین كر اپنے قبضہ میں لیلیا، 1 چنانچہ اس وقت سے سعودی حكومت نے بھت تیزی كے ساتھ پیشرفت اور ترقی كی ھے، سعوی حكومت كو مذكورہ تین حصوں پر تقسیم كرنامناسب ھے كیونكہ ان تینوں حصوں میںھر حصے كی كیفیت ایك دوسرے سے جدا ھے۔
محمد ابن سعود كون تھا؟
محمد بن عبد الوھاب كے حالات زندگی میں مختصر طور پر بیان كیا گیا كہ محمد بن سعود نے وھابیت كو پھیلانے میں بھت كوشش كی، اور اس بات كی طرف بھی اشارہ كیاگیاكہ محمد بن عبد الوھاب نے اس كو دوسرے علاقوں پر غلبہ پانے كے سنھرے خواب دكھائے ۔
محمد بن سعود نے اپنے مقصد تك پهونچنے كے لئے حسن انتخاب اور اس راستہ میں مستحكم پائیداری كا ثبوت دیا جس كی وجہ سے وہ كبھی مشكلات كے سامنے مایوس نھیں هوا، اور نہ ھی اس كو مشكلات كا احساس هوا، اور یہ بات سب كو معلوم ھے كہ جو لوگ ایك طولانی عرصے سے اپنے عقائد پر عمل كرتے آئے ھیں او ردوسروں كے عقائد كو باطل سمجھتے رھے ھیں ان كے سامنے نئے عقائد كو پیش كرنا اوران كو قبول كرانا كوئی آسان كام نھیں تھا، اسی وجہ سے شیخ محمد بن عبد الوھاب اور محمد بن سعودكو شروع شروع میں بھت سی مشكلات كا سامنا كرنا پڑا۔ 2
حافظ وھبہ صاحب كھتے ھیں كہ۱۱۸۷ھ محمد بن سعود كے لئے بھت سختی كا سال تھا كیونكہ “عر عر بن خالدی” احساء كے حاكم، اور” سید حسن بن ھبة اللہ” نجران كے حاكم نے آپس میں معاہدہ كیا كہ درعیہ شھر پر حملہ كریں اور ان كے نئے مذھب كو نیست ونابود كردیں، اور اس مذھب كے مروّج افراد كو بھی درھم وبرھم كردیں، ادھر سے عرعر اور دوسرے مخالفوں كی فوج ابھی تك نھیں پهونچی تھی كہ محمد بن سعود نے دیكھا كہ اس كا بیٹا “حائر” (خرج اور ریاض كا درمیانی علاقہ) علاقہ میں شكست كھاچكا ھے، یہ سب كچھ دیكھ كر محمد بن سعود كوبڑی فكر لاحق هوئی، لیكن شیخ محمد بن عبد الوھاب نے اس كی حوصلہ افزائی كی۔
اور اسی دوران شیخ محمد بن عبد الوھاب اور محمد بن سعود اور امیر نجران میں صلح هوگئی 3 لہٰذا محمد بن سعود كے لئے در پیش خطرہ ٹل گیا۔
“دائرة المعارف اسلامی ” نامی كتاب اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ھے كہ۱۱۵۹ھ میں محمد بن سعود نے محمد بن عبد الوھاب سے مل كر قرب جوار كے علاقوں پر حملہ كردیا اور ان كے تمام مال ودولت كو غارت كرایا، ان سب چیزوں كو دیكھ ان كے دوسرے قرب جوار كے امراء مثلاً بنی خالد (حاكم احساء) یا آل مكرّمی (حاكم نجران) نے ان سے چھیڑ خوانی شروع كی لیكن وہ پھر بھی وھابیت كی پیشرفت كو نہ روك سكے، اور اشراف مكہ 4 بھی وھابیوں كو دین سے خارج سمجھتے تھے، لہٰذا ان كو اماكن متبركہ كی زیارت كرنے كی اجازت نھیں دیتے تھے۔
زینی دحلان صاحب كھتے ھیں كہ وھابیوںنے كچھ لوگوں كو شریف مسعود كے پاس بھیجا تاكہ ان كو حج كی اجازت مل جائے اور ان كامقصد یہ تھا كہ یہ لوگ اپنے عقائد كو حرمین شریفین كے افراد كے سامنے پیش كریں، البتہ انھوں نے اس سے پھلے بھی تیس علماء پر مشتمل ایك وفد ان كے پاس بھیجا تھا تاكہ مكہ ومدینہ كے لوگوں كے عقائد كو فاسد اور باطل ثابت كیا جاسكے۔یھاں تك كہ وھابیوں كو حج كی اجازت كے بدلے معین مقدار میں سالانہ ٹیكس دینا بھی منظور تھا، مكہ اور مدینہ كے لوگوں نے وھابیت كے بارے میں سنا تھا، لیكن ان كی حقیقت كے بارے میں معلومات نھیں ركھتے تھے اور جب نجدی علماء (وھابی گروپ) مكہ پهونچے تو شریف مسعود نے حرمین كے علماء كو ان لوگوں سے مناظرہ كرنے كا حكم دیدیا، مناظرے كے بعد شریف مكہ نے اپنے قاضی شریح كو حكم دیا كہ ان لوگوں كے كفر پر ایك تحریر لكھ دے، چنانچہ ان سبھوںكے گلے میں طوق اور پیروں میں زنجیریں ڈال كر زندان بھیج دیا گیا۔ 5۱
۱۶۲ھ میں اشراف مكہ نے وھابیوں كے بارے میں تفصیلی رپورٹ عثمانی بادشاہ كے سامنے پیش كی، اور یہ سب سے پھلا موقع تھا كہ عثمانی بادشاہ وھابیت سے آگاہ هوا، آخر كار محمد بن سعود۱۱۷۹ھ میں تیس سال حكومت كرنے كے بعد اس دنیا سے چل بسا۔ 6
عبد العزیز بن محمد بن سعود
عبد العزیز (تاریخ پیدائش۱۱۷۹ھ متوفی۱۲۱۸ھ) محمد بن سعود كا بڑا بیٹا تھا اس نے باپ كے مرنے كے بعد حكومت كی باگ ڈور سنبھالی، اور اپنی حكومت كی توسیع اور وھابیت كی تبلیغ میں بھت كوشش كی، اس نے اپنی حكومت كے تیس سالوں میں ھمیشہ اپنے قرب وجوار كے قبائل سے جنگ وجدال كی، ۱۲۰۸ھ میں احساء كے علاقہ كو فتح كیا، یا حافظ وھبہ كے قول كے مطابق :سپاہ اسلام نے احساء كے حاكم بنی خالد كو نیست و نابود كیا، اور احساء اور قطیف كے فتح كرنے كے بعد وھابیوں نے خلیج فارس كے سواحل كا رخ كیا۔
عبد العزیز اور شریف مكہ
ھم نے پھلے یہ بیان كیا كہ محمد بن عبد الوھاب نے كچھ افراد كو اپنے عقائد كو پیش كرنے اور حج كی اجازت كے لئے شریف مسعود كے پاس بھیجا، لیكن شریف مسعود نے ان كی گرفتاری كا حكم صادر كردیا اور ان كے كفر كا حكم دیدیا، اور انھیں حج كی اجازت بھی نہ دی۔
وھابی لوگ شریف مسعود كی موت تك (۱۱۶۵ھ) اعمال حج سے محروم رھے، اور جب شریف مسعود كی موت كے بعد اس كے بھائی مساعد بن سعید نے مكہ كی حكومت حاصل كی تو ایك بار پھر وھابیوں نے حج كی اجازت كے لئے كچھ افراد كو ان كے پاس بھیجالیكن اس نے بھی حج كی اجازت نھیں دی۔
۱۱۸۴ھ میں مساعد شریف مكہ كا بھی انتقال هوگیا اور اس كا بھائی احمد اس كی جگہ پر بیٹھا تو ایك بار پھر نجدی علماء نے كچھ افراد پر مشتمل وفد كو احمد كے پاس بھیجا تاكہ حج كی اجازت حاصل كریں، اس نے بھی مكی علماء كو وھابی علماء كے عقائد كا پتہ لگانے كا حكم دیا، چنانچہ انھوں نے وھابی علماء كو “زندیق”(بے دین) قرار دیدیا، اور شریف نے ان كو اعمال حج كی اجازت نھیں د ی۔
 ۱۱۸۶ھ میں شریف سُرور بن شریف مساعد نے مكہ كی حكومت اپنے چچا كے ھاتھوں سے چھین لی 7 اور و ھابیوں كوجزیہ دینے كی شرط پرحج كی اجازت دیدی، لیكن ان لوگوں نے جزیہ دینے سے انكار كردیا، 8 اور یہ حق ان كو۱۲۰۲ھ تك حاصل رھالیكن اسی سال شریف غالب، شریف سرور كا جانشین بنا، اور اس نے مذكورہ حق كو ان سے سلب كرلیا، اور عبد العزیز سے آمادہ جنگ هوگیا۔
عبد العزیز كی بھی ھمیشہ یھی كوشش تھی كہ كسی طرح سے مكہ كو فتح كرلے، اور كسی بھانہ كی تلاش میں تھا، چنانچہ جب اس نے شریف غالب كو آمادہٴ جنگ دیكھا تو اس نے بھی اپنے لشكر كو مكہ كی طرف روانہ كردیا، اور جب شریف غالب اور عبد العزیز كے درمیان جنگ چھڑی تو یہ جنگ تقریباً نو سال تكجاری رھی، اور اس مدت میں تقریباً پندرہ بڑے حملے هوئے جس میں كسی ایك كو بھی فتح حاصل نہ هوئی۔
اس سلسلہ میں “تاریخ المملكة العربیة السعودیہ” كے موٴلف كھتے ھیں :۱۲۰۵ھ میں شریف غالب نے نجدیوں سے لڑنے كے لئے اپنے بھائی عبد العزیز كی سرداری میں دس ہزار كا لشكربھیجا جس كے پاس بیس توپیں بھی تھی، لیكن پھر بھی مذكورہ لشكر فتح یاب نہ هوسكا۔
مذكورہ كتاب كے موٴلف نے نجدی وھابیوں كی طرفداری میں بھت مبالغہ كیا ھے، چنانچہكھا جاتا ھے كہ شریف غالب كے عظیم لشكر جس كے ساتھ حجاز، شَمّر اور مُطیّروغیرہ كے بھت لوگ “قصر بسّام” كو فتح كر نے كی غرض سے ان كے لشكر میں شامل هوگئے تھے، جبكہ ان كے فقط تیس لوگ دفاع كرتے تھے اور اسی طرح وہ شعراء نامی علاقہ كو ایك مھینہ محاصرہ كے بعد بھی اس پر قبضہ نہ كرسكے جبكہ اس علاقہ میں چالیس افراد سے زیادہ نھیں تھے۔ 9
آخر كار۱۲۱۲ھ میں “غزوة الخرمہ” نامی حملہ میں عبد العزیز، شریف غالب كے لشكر پر غالب هوگیا، لیكن جیسا كہ حافظ وھبہ صاحب كھتے ھیں كہ اس وقت كی سیاست اس بات كا تقاضا كرتی تھی كہ دونوں فریقوں میں صلح برقرار هوجائے، اور نجدیوں كے لئے صرف حج كا راستہ كھول دیا جائے، ۱۲۱۴ھ میں امیر نجد حج كے لئے روانہ هوا یہ سب سے پھلا موقع تھا كہ كسی نجدی امیر نے اعمال حج انجام دئے، اس سے پھلے یعنی۱۲۱۳ھ میں صرف نجدی عوام حج كے لئے جا چكے تھے۔
بھر حال صلح نامہ پر كچھ ھی مدت تك عمل هوا، اور پھر یہ صلح ختم هوگئی، كیونكہ ان میں سے ایك دوسرے پر تھمت لگاتا تھا كہ اس نے صلح كی شرطوں اورصلح نامہ پر صحیح سے عمل نھیں كیا ھے، نجدیوں كی یہ عام سیاست تھی كہ پورے جزیرة العرب میں ھماری بتائی هوئی توحیدنافذ هو، اور ان كے تمام مخالفین ختم هوجائیں۔
چنانچہ چند سال كچھ آرام سے گذرے، اور۱۲۱۵ھ میں عبد العزیز اور اس كا بیٹا نجد كے بھت سے لوگوں (زن ومرد اور بچوں) كے ساتھ حج كے ارادے سے نكلا اور ابھی سات منزل ھی طے كی تھیں كہ تھكن كا احساس هونے لگا، اور اسی وجہ سے نجد میں واپس آگئے، لیكن سعود نے جاكر اعمال حج انجام دئے مكہ پهونچ كر شریف مكہ سے ملاقات كی۔ 10
اس سفر كا نتیجہ یہ هوا كہ “عسیر”، “تھامہ” اور “بنی حرب” كے قبیلے سعود سے مل گئے اور جب شریف غالب نے یہ خبر سنی تو بھت ناراض هوا، اسی اثنا میں سعود اور شریف غالب كے كارندوں میں كسی بات پر كچھ اختلاف هوگیا تو ایك بار پھر دونوں میں جنگ كی تیاریاں شروع هوگئیں، اوریہ جنگ بھی كئی سال تك هوتی رھی، اور دونوں فریقوں كے درمیان تیرہ جنگی واقعات پیش آئے، وھابیوں كی طاقت ھر لحاظ سے شریف غالب كی طاقت سے زیادہ تھی، اسی وجہ سے وھابیوں نے شریف غالب پر دائرہ تنگ كردیا، چنانچہ نجدیوں طائف شھر (مكہ كے نزدیك) پر قبضہ كرلیا۔
جمیل صدقی زھاوی، فتح مكہ كے بارے میں كھتے ھیں كہ وھابیوں كے سب سے برے كاموں میں سے (مسلمانوں) كا قتل عام ھے جس میں چھوٹے بڑوں كے علاوہ وہ شیر خوار بچے بھی ھیں جن كو ان كی ماوٴں كے سینہ سے چھین كر ان كے سروتن میں جدائی كردی، اور ایسے بچوں كو بھی تہہ تیغ كردیا جو قرآن پڑھنے میں مشغول تھے، اور جب گھروں میں كوئی باقی نھیں بچتا تھا تووھاں سے مسجدوںاور دكانوںكا رخ كیا كرتے تھے اور وھاں پر موجود تمام لوگوں كو قتل كردیتے تھے یھاں تك كہ جو لوگ ركوع اور سجدے كی حالت میں هوتے تھے ان كو بھی قتل كردیا كرتے تھے 11 یھی نھیں بلكہ ان كے گھروں میں جو كتابیں قرآن مجید، صحیح بخاری وصحیح مسلم اور حدیث وفقہ كی دوسری كتابیں هوتی تھیں ان سب كو باھر پھینك كر پامال كردیتے تھے، یہ واقعہ۱۲۱۷ھ میں رونما هوا، 12 اس كے بعد ان لوگوں نے مكہ كا رخ كیا لیكن چونكہ حج كا زمانہ تھا اور اس موقع پر وھاں حملہ كرتے تو تمام حجاج مل كران سے جنگ كے لئے تیار هوجاتے اسی وجہ سے انھوں نے حج كا زمانہ گذر جانے تك صبر كیا، اور جب حجاج اپنے اپنے وطن لوٹ گئے تو انھوں نے مكہ پر حملہ شروع كردیا۔ 13
نجدی علماء كے نام مكی علماء كا جواب
شاہ فضل رسول قادری (ہندی) متوفی۱۲۸۹ھ سیف الجبار نامی كتاب میں اس خط كو پیش كرتے ھیں جس كو نجدی علماء نے طائف میںقتل وغارت كے بعد مكی علماء كے نام لكھا ھے، اور اس كے بعد مكی علماء كا جواب بھی نقل كیا، اور خود موصوف نے بھی بعض جگهوں پر فارسی زبان میں كچھ توضیحات دیں ھیں، مكہ كے علماء نجدیوں كے خط كا جواب دینے كے لئے نماز جمعہ كے بعد خانہ كعبہ كے دروازہ كے پاس كھڑے هوئے اور اس مسئلہ كے بارے میں گفتگو كی اس جلسہ كے صدر جناب احمد بن یونس باعلوی نے ان كی باتوں كو قلم بند كرنے كے لئے كھا، (چنانچہ وہ خط لكھا گیا)
نجدیوں كی باتیں اور مكی علماء كا جواب شاہ فضل قادری كی توضیحات كے ساتھ تقریباً ۸۹ ستونوں (ھر صفحہ میں دو ستون) میں ذكر هوا ھے، یہ باتیں جو ھم ذكر كریں گے وہ نجدیوں كے خط كے باب اول (باب الشرك) اور باب دوم (باب البدعة) سے متعلق ھیں۔
اس خط كو لكھنے والے احمد بن یونس باعلوی خط كے آخری حصے میں لكھتے ھیں، كہ باب اول كے بارے میں ھمارا نظریہ تمام هوا، نماز عصر كا وقت قریب آگیا، اور نماز پڑھی جانے لگی اور علماء اپنی جگہ سے اٹھ كھڑے هوئے، شیخ عمر عبد الرسول اور عقیل بن یحيٰ علوی اور شیخ عبد الملك اور حسین مغربی اس خط كا املاء بول رھے تھے۔
اور جب علماء نماز سے فارغ هوئے تو دوسرے باب (یعنی باب البدعة) كے بارے میں گفتگو شروع هوئی كہ اچانك طائف كے ستمدیدہ او رمظلوم لوگ مسجد الحرام میں وارد هوئے اور لوگوں كو اپنی روداد سنائی اور ان كو یہ خبر بھی دی كہ نجدی مكہ میں بھی آئےں گے، اور یھاں آكر قتل وغارت كریں گے۔
چنانچہ اھل مكہ نے جب یہ خبر سنی تو بھت پریشان هونے لگے گویا كہ قیامت آنے والی ھے، علماء مسجد الحرام كے منبر كے پاس جمع هوگئے اور جناب ابوحامد منبر پر تشریف لے گئے اور نجدیوں كا خط اور اس كا جواب لوگوں كو پڑھ كر سنانے لگے۔
اور اس كے بعد علماء، قضات اور مفتیوں سے خطاب كیا آپ حضرات نے نجدیوں كی باتوں كو سنا اور ان كے عقائد كو جان لیا اب ان كے بارے میں آپ لوگوں كی كیا رائے ھے؟۔
اس وقت تمام علماء، قضات او راھل مكہ اور دوسرے اسلامی ملكوں سے آئے حاجی مفتیوں نے نجدیوں كے كفر كا فتویٰ دیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی كھا كہ امیر مكہ پر ان سے مقابلہ كے لئے جلدی كرنا واجب ھے اور تمام مسلمانوں پر بھی ان كی حمایت اور مدد كرنا واجب ھے، اور ان كے مقابلہ میں شركت كرنا واجب ھے اور اگر كوئی شخص بغیر عذر خواھی كے جنگ سے منھ موڑے گا تو وہ شخص گناہكار ھے، اور ان لوگوں سے جنگ كرنے والا مجاہد ھے اور اسی طرح ان كے ھاتھوں سے قتل هو نے والا شخص شھید هوگا۔
علماء اور مفتیوں نے اس بات سے اتفاق كرتے هوئے مذكورہ فتوے پر اپنی اپنی مھر لگائی، اور نماز مغرب كے بعد شریف مكہ كے حضور میں پهونچے اور سب لوگوں نے مل كر یہ طے كرلیا كہ جنگ كے لئے تیار هوجائیں اور كل صبح كے وقت نجدیوں سے مقابلہ كرنے كے لئے حدود حرم سے خارج هوجائیں۔ 14
لیكن شریف غالب مكہ میں نہ رہ سكے، اسی بنا پر اپنے بھائی عبد المعین كو مكہ میں اپنا جانشین بنایا اور خود جدّہ بندرگاہ نكل گئے، لیكن عبد المعین سعود سے مل بیٹھا اور ایك خط لكھ كر اس سے امان چاھی، اور اس نے اپنے خط میں یہ بھی لكھا كہ اھل مكہ آپ كی پیروی كرنے كے لئے حاضر ھیں، اور وہ خود بھی سعود كی طرف سے مكہ كا والی هونا پسند كرتا ھے۔
شریف كے بھیجے هوئے افراد سب لوگ بزرگ ہستیاں تھیں، اور “وادی السّیل” (طائف اور مكہ كے درمیان) میں سعود سے ملاقات كی۔
چنانچہ ان كے درمیان ضروری گفتگو انجام پائی، اس گفتگو كے بعد سعود نے عبد المعین كی اس پیشكش كو بھی قبول كرلیاجو اس نے اپنے خط میں لكھی تھی، اور اھل مكہ كو دین خدا و رسول كی طرف دعوت دی، اور اپنے ایك خط میں عبد المعین كو مكہ كا والی مقرر كیا، عبد المعین كے بھیجے هوئے افراد بھی صحیح وسالم مكہ پلٹ گئے، سعود كا خط ۷محرم الحرام۱۲۱۸ھ كو روز جمعہ مفتی مالكی كے ذریعہ سب كے سامنے پڑھا گیا۔
خط كی عبارت اس طرح ھے:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
” مِنْ سُعُوْدْ بِنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اِلٰی كَافَّةِ اَہْلِ مَكَّةَ وَالْعُلَمَاءِ وَالاَغَاوٰاتِ وَقَاضِی السُّلْطَانِ۔
اَلسَّلاٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدیٰ اَمَّا بَعْد:
فَاَنْتُمْ جِیْرَانُ اللّٰہِ وَسُكَّانُ حَرَمِہ، آمِنُوْنَ بِاٴَمْنِہ، اِنَّمَا نَدْعُوكُمْ لِدِیْنِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ۔
<قُلْ یَا اَہْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سِوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ اَنْ لاٰ نَعْبُدَ اِلّٰا اللّٰہَ وَ لاٰ نُشْرِكَ بِہ شَیْئاً وَلاٰ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْااَشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ>
فَاَنْتُمْ فِی وَجْہِ اللّٰہِ وَ وَجْہِ اَمِیْرِ الْمُسْلِمِیْنَ سُعُوْد بِنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَاَمِیْرُكُمْ عَبْدُ الْمُعِیْنِ بْنُ مُسَاعِدِ فَاسْمَعُوْا لَہُ وَاَطِیْعُوْا مَا اَطَاع َاللّٰہَ ۔ وَالسَّلاٰمْ”۔
(شروع كرتا هوں اس اللہ كے نام سے جو بڑا رحمن اور رحیم ھے، یہ خط سعود بن عبد العزیز كی طرف سے تمام اھل مكہ، علماء، خواجگان 15 اور سلطان عثمانی كی طرف معین قاضی كی طرف، سلام هو ان لوگوں پر جنھوں نے ہدایت كا اتباع كر لیا ھے، اما بعد: (بعد از حمد خدا اور درود سلام بر پیغمبر اكرم)
تم لوگ خدا كے ھمسایہ اور پڑوسی هو اور اس كی امان، خانہ خدا میں رھتے هو، خدا كی امان سے امان میں هو، ھم تم كو دین خدا او ردین رسول اللہ كی دعوت دیتے ھیں۔
“اے پیغمبرآپ كہہ دیں كہ اے اھل كتاب آوٴ اور ایك منصفانہ كلمہ پر اتفاق كرلیں كہ خدا كے علاوہ كسی كی عبادت نہ كریں، كسی كو اس كا شریك نہ بنائیں، آپس میں ایك دوسرے كو خدا كا درجہ نہ دیں، او راگر اس كے بعد بھی یہ لوگ منھ موڑیں تو كہہ دیجئے كہ تم لوگ بھی گواہ رہنا كہ ھم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گذار ھیں”
تم لوگوں كو چاہئے كہ خدا اور سعود امیر مسلمین كی راہ پر چلو، اور تمھارا والی عبد المعین بن مساعد ھے اس كی باتوں كو سنو، اورجب تك وہ خدا كی اطاعت كرے تم سب اس كی اطاعت كرو والسلام۔ )
سعود ۸ محرم كوبحالت احرام مكہ میں وارد هوا، طواف اور سعی كے بعد شریف غالب كے باغ میں مھمان هوا، اس كے بعد مسجد الحرام گیا اور لوگوں كے سامنے ایك تقریر كی جس میں اھل مكہ كو توحید كی دعوت دی، اور ایك دوسری تقریر كے درمیان تمام لوگوں كے لئے یہ حكم صادر كیا كہ جتنی قبروں پر بھی گنبد ھیں سب كو گرادو۔ 16
اس سلسلہ میں “جبرتی” كھتا ھے كہ بھت سے اھل مكہ دوسرے حجاج كے ساتھ وھابیوں كے سامنے سے بھاگ نكلے، كیونكہ لوگ وھابیوں كے عقائد كے برخلاف عقائد ركھتے تھے، مكہ كے علماء اور عوام الناس وھابیوں كو خوارج اور كافر كھتے تھے، صرف اھل مكہ ھی نھیں بلكہ دوسرے لوگ بھی ان عقائد كے برخلاف اظھار عقیدہ كرتے تھے۔
اس كے بعد وھابیوں كے رئیس (سعود) نے یمن كے امیر حجاج كو بھی ایك خط لكھا او ركئی صفحات میں اپنے عقائد لكھ كر بھیجا، سعود نے اس خط میں جس كو جبرتی نے نقل كیا ھے، اس بات پر توجہ دلائی كہ جو لوگ مُردوں سے لَو لگاتے ھیں ان سے حاجت طلب كرتے ھیں، قبروں كے لئے نذر یا قربانی كرتے ھیں یا ان سے استغاثہ كرتے ھیں، یہ نہ كریں اس نے لوگوں كو بھت ڈرایا دھمكایا، اسی طرح انبیاءعلیهم السلاماولیاء اللہ كی قبور كی تعظیم كرنا قبروں پر گنبد بنانا، ان پر چراغ جلانا قبروں كے لئے خدمت گذار معین كرنا وغیرہ وغیرہ ان سب كی شدت كے ساتھ ممانعت كردی، قبروں كی گنبدوں كو ویران اور مسمار كرنے كو واجب قرار دیا، ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان كیا كہ جو شخص بھی ھمارے عقائد كو قبول نھیں كرے گا ھم اس سے جنگ كریں گے۔ 17
زینی دحلان كھتے ھیں كہ وھابی افراد مكہ میں چودہ دن رھے، اس دوران انھوں نے وھاں كے مسلمانوں سے توبہ كرائی اور اپنے خیال خام میں انھوں نے لوگوں كے اسلام كو تازہ كیا اور جو عقائد مثلاً توسل اور زیارات، شرك تھے ان سب كو ممنوع قرار دیا۔ 18
اپنے قیام كے نویں دن وھابیوں نے كثیر تعداد میں لوگوں كو جمع كیا جن كے ھاتھوں میں بیلچے (پھاوڑے)تھے تاكہ اس علاقہ میں موجود قبروں كی گنبدوں كو مسمار كردیں، سب سے پھلے انھوں نے قبرستان “معلی”19 جھاں بھت سی گنبدیں تھیں، سب كو مسمار كردیا اس كے بعد پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی جائے ولادت اسی طرح ابوبكر اور حضرت علیںكی جائے ولادت، اسی طرح جناب خدیجہ كی گنبد، نیز چاہ زمزم پر موجود قبہ اور خانہ كعبہ كے اطراف میں موجود تمام قبروں كو نیز خانہ كعبہ سے اونچی تمام عمارتوں كو مسمار كردیا۔
اس كے بعد ان تمام مقامات كو مسمار كردیا جھاں پر خدا كے صالح بندوں كے كچھ بھی آثار تھے، وھابی حضرات جس وقت قبروں اور گنبدوں كو مسمار كرتے تھے تو طبل بجاتے تھے اور رجز پڑھتے تھے، اور صاحب قبور كو برے برے الفاظ سے یاد كرتے تھے، چنانچہ انھوں نے تین دن كے اندر تمام آثار اور قبور كو نیست ونابود كردیا۔ 20
ابن بشر صاحب كھتے ھیں كہ سعود تقریباً بیس دن سے زیادہ مكہ میں رھا اور اس كے ساتھی صبح سویرے ھی قبروں اور گنبدوں كو گرانے كے لئے نكل جاتے تھے یھاں تك كہ یہ كام دس دن میں تمام هوگیا، اور یہ لوگ اس كام میںخدا كا تقرب سمجھتے تھے یھاں تك كہ انھوں نے تمام قبور كو منہدم كردیا۔ 21
سعود كے دیگر كارنامے اور شریف غالب كی واپسی
سعود نے ایك انوكھا حكم یہ صادر كیا كہ نماز عشاء كے علاوہ مذاھب اربعہ كے پیروكاروں كو یہ حق حاصل نھیں ھے كہ ایك ساتھ مسجد الحرام میںنماز میں شریك هوں، بلكہ صبح كی نماز میں شافعی ظھر كی نماز میں مالكی عصر كی نماز میں حنفی مغرب كی نماز میں حنبلی اور نماز جمعہ مفتی مكہ سے مخصوص كردی گئی۔ 22
سعود نے یہ بھی حكم صادر كیا كہ محمد بن عبد الوھاب كی كتاب كشف الشبھات كو مسجد الحرام میں پڑھایا جائے اور تمام خاص وعام اس میں شریك هوں۔
سعود ۲۴دن مكہ میں رھا اس كے بعد شریف غالب كی گرفتاری كے لئے جدہ روانہ هوا، اور اس علاقہ كو گھیر لیا لیكن چونكہ جدّہ كے اطراف میں اونچی اونچی پھاڑیاں ھیں اور ان كے دفاع كے وسائل بھی بھت مضبوط تھے جس كی بناپر سعود، شریف غالب كو گرفتار نہ كرسكا اور مایوس هوكر نجد پلٹ گیا۔
شریف غالب نے مكہ میں سعود كے نہ هونے سے فائدہ اٹھایا اور مكہ واپس آگئے، اور اپنے بھائی عبد المعین كی طرح بغیر كسی روك ٹوك كے شھر كو اپنے قبضہ میں كر لیا، 23 لیكن وھابی راضی نہ تھے كہ مكہ معظمہ ان كے ھاتھوں سے چلا جائے، شریف غالب بھی چاھتے تھے كہ پھلے كی طرح مكہ میں حكمرانی كریں، اسی وجہ سے دونوں میں ایك بار پھر جنگ كا بازار گرم هوگیا، ذیقعدہ۱۲۲۰ھ تك یہ جنگ چلتی رھی، پھر صلح هوگئی، جس میں طے پایا كہ وھابی لوگ صرف حج كے لئے مكہ معظمہ میں داخل هونگے اور پھر واپس چلے جایا كریں گے۔
شریف غالب بھی وھابیوں سے جنگ كرتے هوئے تھك چكے تھے اپنے اندر مقابلہ كرنے كی طاقت نھیں پارھے تھے، اور اپنی پھلی حكمرانی پر باقی بھی رہنا چاھتے تھے، لہٰذا اس كے پاس ظاھری طور پر وھابی مذھب كو قبول كرنے كے علاوہ اور كوئی چارہ نھیں رہ گیا تھا، اور یہ كہ وھابی حضرات جو چاھیں عمل كرےں، اور صلاح الدین مختار كے قول كے مطابق خدا اور اس كے رسول كے دین كو قبول كرنے میں سعود كی بیعت كریں۔ 24
شریف غالب نے اپنے خلوص كو سعود كے نزدیك ثابت كرنے كے لئے لوگوں كو حكم دیا كہ جو گنبد اور مقبرے باقی رہ گئے ھیں ان سب كو گرادیا جائے كیونكہ بعض مقبروں كو وھابیوں نے نھیں گرایا تھا چنانچہ اس نے مكہ معظمہ اور جدّہ میں كوئی مقبرہ نھیں چھوڑا، لیكن پھر بھی شریف غالب كے ھاتھوں كچھ ایسے كام هوتے رھتے تھے جن كی وجہ سے سعود اس سے بد گمان رھتا تھا۔
شریف غالب كے قابل توجہ كاموں میں سے ایك یہ تھا كہ وہ تاجر لوگوں سے ٹیكس لیتا تھا اور سعود اعتراض كرتا تھا تو یہ كھتا تھا كہ یہ لوگ مشرك ھیں (اس كا مقصد یہ تھا كہ چونكہ یہ لوگ وھابی نھیں ھیںلہٰذا مشرك ھیں) اور میں یہ ٹیكس مشركوں سے لے رھا هوں مسلمانوں سے نھیں۔ 25
مدینہ پر قبضہ
۱۲۲۰ھ میں سعود نے مدینہ پر بھی قبضہ كرلیا، اور روضہ رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی قیمتی چیزوں كواپنے قبضے میں لے لیا، اس نے عثمانی بادشاهوں كی طرف سے مكہ او رمدینہ میں معین كئے گئے قاضیوں كو بھی شھر سے باھر نكال دیا۔ 26
صلاح الدین مختار صاحب كی تحریر كے مطابق جس وقت مدینہ كی اھم شخصیات نے یہ دیكھ لیا كہ شریف غالب سعود سے بیعت كرنے كے خیال میں ھے تو انھوں نے سعود كو پیشكش كی كہ اھل مدینہ دین خدا ورسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سعود كی اطاعت كو قبول كرلے، یعنی ان كی بیعت كو قبول كرلے، انھوں نے یہ پیش كش كرنے كے بعد مدینہ منورہ میں موجود گنبدوں اور مقبروں كو گرانا شروع كردیا۔ 27
اس طرح وھابیوں نے ایك بھت بڑی حكومت تشكیل دی كہ جس میں نجد اور حجاز شامل تھے اور عثمانی كارندوں كو باھر نكال دیا، نیز عثمانی بادشاهوں كا ذكر خطبوں سے نكال دیا، اور وہ اسی پر قانع نھیں هوئے بلكہ عراق كا رخ كیا مخصوصاً عراق كے دو مشهور شھر كربلائے معلی اور نجف اشرف پر حملے كئے۔
كربلا اور نجف اشرف پر وھابیوں كاحملہ
ابتداسے ھی آل سعوداور عراقیوں میں جو اس زمانہ میں عثمانی بادشاہ كے تحت تھے، لڑائی جھگڑے هوتے رھتے تھے اور وھابی لوگ عراق كے مختلف شھروں پر حملہ كرتے رھتے تھے، لیكن عراق كے دومشهور شھر نجف اور كربلا پر حملہ ایسا نھیں تھا جو مختلف شھروں پر هوتا رھتا تھا، بلكہ اس حملہ كا انداز كچھ اور ھی تھا او ر اس حملہ میں مسلمانوں كا قتل عام اور حضرت امام حسینںكے روضہٴ مبارك كی توھین كے طریقہ سے یہ معلوم هوتا ھے كہ ان كے مذكورہ كاموں كا بنیادی مقصد ان كے مذھبی عقائد تھے اور وہ بھی شدت اور تعصب كے ساتھ، كیونكہ انھوں نے تقریباً دس سال كی مدت میں كئی مرتبہ ان دونوں شھروں پر حملہ كیا ھے۔
ھم نے پھلے بھی عرض كیا ھے كہ ابن تیمیہ اور اس كے مرید اس وجہ سے شیعوں سے مخالفت اور دشمنی ركھتے تھے كہ ان كو قبروں پر حج كرنے والے یا قبروں كی عبادت كرنے والے كھا كرتے تھے اور بغیر كسی تحقیق كے ان كا گمان یہ تھا كہ شیعہ حضرات اپنے بزرگوں كی قبروں كی پرستش كرتے ھیں اور خانہ كعبہ كا حج كرنے كے بجائے قبور كا حج كرتے ھیں، اور اسی طرح كے دوسرے امور جن كی تفصیل ھم نے پھلے بیان كی ھے، سب كی بڑی وضاحت كے ساتھ تردید بھی كردی ھے۔
بھر حال چونكہ یہ دو شھر، (كربلا اور نجف اشرف) شیعوں كے نزدیك خاص اھمیت كے حامل تھے اور ھیں، اس بناپر ان دونوں زیارتگاهوں پر بھت بھترین، اور عمدہ گنبدیں بنائی گئی ھیں او ربھت سا نذر كا سامان او ربھت سی چیزیں ان روضوں كے لئے وقف كرتے ھیں اور ھر سال ہزاروں كی تعداد میں دور اور نزدیك سے مومنین كرام زیارت كے لئے جاتے ھیں، اور جیسا كہ پھلے بھی عرض كرچكے ھیںوھابی لوگ اپنی كم علمی كی وجہ سے بھت سے شبھات او راعتراضات كے شكار تھے جن كی بناپر شیعوں سے بھت زیادہ تعصب ركھتے تھے اور ھمیشہ ایسی چیزوں كی تلاش میں رھتے تھے جن كے ذریعہ اپنے مقصد تك پهونچ سكیں۔
دائرة المعارف اسلامی كی تحریر كے مطابق، “خزائل نامی شیعہ قبیلہ” كی طرف سے نجدی قبیلہ پر هوئی مار پیٹ كو انھوں نے كربلا اور نجف پر حملہ كرنے كا ایك بھانہ بنا لیا۔ 28
كربلا اور نجف پر وھابیوں كے حملے۱۲۱۶ھ میں عبد العزیز كے زمانہ سے شروع هوچكے تھے جو۱۲۲۵ھ سعود بن عبد العزیز كی حكومت كے زمانہ تك جاری رھے۔
ان حملوں كی تفصیل وھابی اور غیر وھابی موٴلفوں نے لكھی ھے اور اس زمانہ كی فارسی كتابوں میں بھی یہ واقعات موجود ھیں، نجف اشرف كے بعض علمائے كرام جو ان حملوں كے خود چشم دید گواہ ھیں اور ان میں سے بعض اپنے شھر كے دفاع میں مشغول تھے انھوں نے ان تمام چیزوں كو اپنی كتابوں میں لكھاھے جن كو خود انھوں نے دیكھا ھے یا دوسروں سے سنا ھے، ھم یھاںپر ان كی كتابوں سے بعض چیزوں كو نقل كرتے ھیں:
كربلا پر حملہ
وھابی موٴلف صلاح الدین مختار اس سلسلہ میں كھتے ھیں:
“۱۲۱۶ھ میں امیر سعود (ابن عبد العزیز) نے اپنی پوری طاقت كے ساتھ نجد اور عشایر كے لوگوں كے ساتھ او راسی طرح جنوب، حجاز اور تھامہ وغیرہ كے لوگوں كی ھمراھی میں عراق كا رخ كیا اور ذیقعدہ كو شھر كربلا پهونچ كر اس شھر كو گھیر لیا، اور اس لشكر نے شھر كی دیوار كو گرادیا، اور زبردستی شھر میں داخل هوگئے كافی لوگوں كو گلی كوچوں میں قتل كرڈالا اور ان كے تمام مال ودولت لوٹ لیا، اور ظھر كے وقت تك شھر سے باھر نكل آئے اور ” ماء الابیض ” نامی جگہ پر جمع هوكر غنیمت كی تقسیم شروع هوئی اور مال كا پانجواں حصہ (یعنی خمس) سعود نے لے لیا اور باقی مال كو اس طرح اپنے لشكر والوں میں تقسیم كیا كہ پیدل كو ایك اور سوار كو دوحصّے ملے”۔ 29
پھر چند صفحہ بعد لكھتے ھیں كہ امیر عبد العزیز بن محمد بن سعود ایك عظیم لشكر كو اپنے بیٹے سعود كی سرداری میں عراق بھیجا جس نے ذیقعدہ۱۲۱۶ھ میں كربلا پر حملہ كیا۔
صلاح الدین مختار صاحب، ابن بشر 30 كی باتوں كو نقل كرنے كے بعد كھتے ھیں كہ امیر سعود نے اس شھر پر حملہ كیا جس كا شیعوں كی نظر میں احترام كرنا ضروری ھے۔ 31
شیخ عثمان بن بشر نجدی مورخ مذكور واقعہ كی تفصیل اس طرح بیان كرتے ھیں كہ ذی قعدہ۱۲۱۶ھ میں سعود بھاری لشكر كے ساتھ جس میں بھت سے شھری اور خانہ بدوش (نجد، جنوب، حجاز اور تھامہ وغیرہ كے) تھے حضرت امام حسینںكی بارگاہ كربلا كا رخ كیا اور شھر كے باھر پهونچ كر پڑاوٴ ڈال دیا۔
مذكورہ لشكر نے شھر كی دیوار كوگرادیااور شھر میں داخل هوگئے اور شھر میں پهونچنے كے بعد گھروں او ربازاروں میں موجود لوگوں كا قتل عام كردیا، اور حضرت امام حسین ں كی گنبد كو بھی گرادیا، اور آپ كی قبر پر موجود ہ صندوق (ضریح) جس پر یاقوت اور دیگر جواھر ات لگے هوئے تھے اس پر قبضہ كرلیا، اور ان كے تمام مال ودولت، اسلحہ، لباس، فرش، سونا چاندی بھترین اور نفیس قرآن كو مال غنیمت میں لے لیا نیز اس كے علاوہ تمام چیزوں كو غارت كردیا، اور ظھر كے وقت شھر سے باھرنكل گئے، اس حملہ میں وھابیوں نے تقریباً دو ہزار لوگوں كو قتل كیا ۔ 32
شیعوں كے عظیم عالم دین مرحوم علامہ سید جواد عاملی، نجف اشرف پر وھابیوں كے حملہ كے چشم دید گواہ ھیں، وہ وھابی مذھب كی پیدائش كے ضمن میں اس طرح فرماتے ھیں كہ۱۲۱۶ھ میں حضرت امام حسین ں كے روضہٴ مبارك كو غارت كردیا چھوٹے بڑوں كو قتل كر ڈالا لوگوں كے مال ودولت كو لوٹ لیا خصوصاً حضرت امام حسین ں كے روضہ كی بھت زیادہ توھین كی اور اس كو گراڈالا۔ 33
جن شیعہ موٴلفوں نے كربلا كے قتل عام كی تاریخ ۱۸ ذی الحجہ (عید غدیر)۱۲۱۶ ھ ق۔ بیان كی ھے ان میں سے ایك صاحب “روضات الجنات”بھی ھیں جنھوں نے مولیٰ عبد الصمد ھمدانی حائری كے حالات زندگی كے ضمن میں فرمایاھے: بروز چھار شنبہ ۱۸ ذی الحجہ (عید غدیر)۱۲۱۶ ھ ق۔ كا دن تھا كہ وھابیوں نے مرحوم ھمدانی كو اپنی مكاریوں كے ساتھ گھر سے نكالا اور شھید كردیا۔ 34
لیكن اس واقعہ كی تفصیل ڈاكٹر عبد الجواد كلید دار (جو خود كربلا كے رہنے والے ھیں) اپنی كتاب تاریخ كربلا وحائر حسینی میں “تاریخِ كربلائے معلی” (ص ۲۰، ۲۲)سے كچھ اس طرح نقل كرتے ھیں :
” ۱۲۱۶ھ میں وھابی امیر سعود نے اپنے بیس ہزار جنگجو بھادروں كا لشكر تیار كیا اور كربلا شھر پر حملہ ور هوا، اس زمانہ میں كربلا كی بھت شھرت اور عظمت تھی اور ایرانی، تركی اورعرب كے مختلف ممالك سے زائرین آیا كرتے تھے، سعود نے پھلے شھر كو گھیرا اور اس كے بعد شھر میں داخل هوگیا، اور دفاع كرنے والوں كاشدید قتل عام كیا، شھر كے اطراف میں خرمے كی لكڑیوں اور اس كے پیچھے مٹی كی دیوار بنی هوئی تھی جس كو انھوں نے توڑ ڈالا۔
وھابی لشكر نے ظلم اور بربریت كا وہ ناچ ناچا جس كو بیان نھیں كیا جاسكتا، یھاںتك كہ كھا یہ جاتا ھے كہ ایك ھی دن میں انھوں نے بیس ہزار لوگوں كا قتل عام كیا۔ 35
اور جب امیر سعود كا جنگی كام ختم هوگیا تو وہ حرم مطھر كے خزانہ كی طرف متوجہ هوا، یہ خزانہ بھت سی نفیس اور قیمتی چیزوں سے بھرا هوا تھا، وہ سب اس نے لوٹ لیا، كھا یہ جاتا ھے كہ جب ایك خزانہ كے دروازہ كو كھولا تو وھاں پر كثیر تعداد میں سكّے دكھائی دئے اور ایك گوھر درخشان جس میں بیس تلواریں جو سونے سے مزین تھیں اور قیمتی پتھر جڑے هوئے تھے اسی طرح سونے چاندی كے برتن اور فیروزہ اور الماس كے گرانبھا پتھر تھے ان سب كو لوٹ لیا، اسی طرح چار ہزار كشمیری شال، دوہزار سونے كی تلواریں اور بھت سی بندوقیں اور دیگر اسلحوں كو غارت كرلیا۔
اس حادثہ كے بعد شھر كربلا كی حالت یہ تھی كہ شاعر لوگ اس كے لئے مرثیہ كھتے تھے، اور جو لوگ اپنی جان بچا كر بھاگ نكلے تھے، شھر میں لوٹ آئے، اور بعض خراب شدہ چیزوں كے ٹھیك كرنے كی كوشش كرنے لگے۔
“لونكریك” نے اپنی تاریخ (چھار قرن از عراق)میں لكھا ھے كہ اس واقعہ كو دیكھ كر اسلامی ممالك میں ایك خوف ووحشت پھیل گئی۔ 36
مذكورہ موٴلف دوسری جگہ پر “لونكریك” سے نقل كرتے هوئے اس طرح لكھتے ھیں وھابیوں كے كربلا سے نزدیك هونے كی خبر۲نیسان(جولائی)۱۸۰۱ء كو شام كے وقت پهونچی اس وقت كربلا كے لوگوں كی كثیرتعداد زیارت كے لئے (عید غدیر كی مناسبت سے) نجف اشرف گئی هوئی تھی، جو لوگ شھر میں باقی تھے انھوں نے جلدی سے شھر كے دروازے بند كردئے، وھابیوں كی تعداد ۶۰۰پیدل اور ۴۰۰ سوار تھے، چنانچہ شھر سے باھر آكر جمع هوگئے اور اپنے خیمہ لگادئے او راپنے كھانے پینے كی چیزوں كو تین حصوں میں تقسم كیا اور “باب المخیم” نامی محلہ كی طرف سے دیوار توڑ كر ایك گھر میں داخل هوگئے اوروھاں سے نزدیك كے دروازے پر حملہ كردیا اور پھر شھر میں داخل هوگئے ۔
اس موقع پر خوف ودہشت كی وجہ سے لوگوں نے ناگھانی طور پر بھاگنا شروع كردیا، وھابیوں نے حضرت امام حسین ں كے روضہ كا رخ كیا، اور وھاں پر توڑ پھوڑ شروع كردی، اور وھاں پر موجود تمام نفیس اور قیمتی چیزوں كو جن میں سے بعض ایران كے بادشاهوں اور دیگر حكّام نے نذر كے طور پر بھیجی تھی ان تمام چیزوں كو غارت كرلیا، اسی طرح دیوار كی زینت اور چھت میں لگے سونے كو بھی ویران كرڈالا، قیمتی قالینوں، قندیلوں اور شمعدانوں وغیرہ كو بھی لوٹ لیا، اور دیواروں میںلگے جواھرات كو بھی نكال لیا۔
ان كے علاوہ ضریح مبارك كے پاس تقریباً ۵۰لوگوں كو اور صحن میں ۵۰۰لوگوں كو قتل كردیا، وہ لوگ جس كو بھی پاتے تھے وحشیانہ طریقہ سے قتل كردیا كرتے تھے، یھاں تك كہ بوڑھوں اور بچوں پر بھی كوئی رحم نھیں كیا، اس حادثہ میں مرنے والوں كی تعداد كو بعض لوگوں نے ایك ہزار او ربعض لوگوں نے پانچ ہزار بتائی ھے۔ 37
سید عبد الرزاق حسنی صاحب اس سلسلہ میں فرماتے ھیں كہ۱۲۱۶ھ میں وھابیوں كے لشكر نے جس میں ۶۰۰ اونٹ سوار اور ۴۰۰ گھوڑے سوار تھے كربلا پر حملہ كردیا اور یہ اس وقت كا واقعہ ھے جب اكثر لوگ نجف اشرف كی زیارت كے لئے گئے هوئے تھے۔
حملہ آوروں نے حضرت امام حسینں اور جناب عباسں كے روضوں كو بھت زیادہ نقصان پهونچایا، اور ان دونوں روضوں میں جوكچھ بھی تھا وہ سب غارت كردیا، اور ساری قیمتی چیزیں جیسے قیمتی پتھر “ساج” كی لكڑی، بڑے بڑے آئینے اور جن ہدیوں كو ایران كے وزیروں اور بادشاهوں نے بھیجا تھا ان سب كو لوٹ لیا، اور در ودیوار میں لگے قیمتی پتھروں كو ویران كردیا اور چھت میں لگے سونے كو بھی لے گئے اور وھاں پر موجود تمام قیمتی اور نفیس قالینوں، قندیلوں اور شمعدانوں كو بھی غارت كرلیا۔ 38
قارئین كرام!جیسا كہ آپ حضرات نے ملاحظہ كیا كہ مختلف كتابوں نے وھابیوں كی تعداد اور مقتولین كی تعداد میں اختلاف كیا ھے ۔ لیكن وھابی موٴلف كی تحریر كے مطابق جس كو ھم نے پھلے ذكر كیا ھے اور دوسرے شواہد كی بناپر وھابیوں كی تعداد بیس ہزار او رمرنے والوں كی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ صحیح دكھائی دیتی ھے۔
حسینی خزانہ كے بارے میں
حاج زین العابدین شیروانی صاحب جو تقریباً محمد بن عبد الوھاب كے ھم عصر تھے اور ایك طولانی مدت سے كربلا میں مقیم تھے اور كربلا پر وھابیوں كا حملہ ا نھیں كے زمانہ میں رونما هوا ھے، موصوف اپنی كتاب ” حدائق السیاحہ” میں وھابیوں كے حملے كی تفصیل اس طرح لكھتے ھیں: “روضہ امام حسین ں كا تمام زر وزیور، قندیلیں، سونے اور چاندی كے ظروف او رجواھر وغیرہ سب وہ (وھابی) ظالم لوٹ لے گئے اور باقی تمام دوسری چیزیں غارت كردیں، سوائے وہ سامان جو ان كے پهونچنے سے پھلے پھلے كاظمین پهونچادیا گیا تھا بچ گیا۔
میر عالم صاحب جو دكھن (ہند وستان) كے نوابوںمیں سے تھے انھوں نے اس واقعہ كے بعد كربلا شھر كے چاروں طرف دیوار بنوائی اور اس كے قلعہ كو گچ (چونے) اور اینٹوں سے مضبوط كرایا، اسی طرح آقا محمد خان شھریار ایران نے وھابیوں كے حملے سے پھلے حضرت امام حسین ں كے روضہ كو بنایا اور اس كے گنبد كو سونے كی اینٹوں سے بنوایا۔ 39
وھابیوں كے نجف اشرف پر حملے كے ضمن میں یہ بات بیان كی جائے گی كہ جب نجف كے علماء اور اھم لوگوں كو یہ پتہ چلا كہ وھابی نجف پر بھی حملہ كرنے والے ھیں تو انھوں نے حضرت امیر المومنینں كے خزانہ كو كاظمین پهونچادیا۔
لیكن حضرت امام حسین (ع) كے خزانہ كو كاظمین لے جانے كے بارے میں صرف جناب شیروانی صاحب نے نقل كیا ھے اس كے علاوہ اگر كسی نے بیان كیا هو، توموٴلف كی نظر وں سے نھیں گذرا، جبكہ تمام لكھنے والوں نے یھی لكھا ھے كہ كربلائے معلی كا سب سامان غارت كردیا گیا، جیسا كہ ھم نے وھابیوں كے كربلا پر حملہ كے ضمن میں اشارہ بھی كیاھے، اور یھی بات صحیح بھی دكھائی دیتی ھے كیونكہ ساكنین كربلا كو اس حملہ كے بارے میں كوئی خبر نھیں تھی وہ بالكل بے خبر تھے تو كس طرح وہ سامان كاظمین لے جانا ممكن هوسكتا ھے۔
اور ادھر سے یہ بھی معلوم ھے كہ كربلا كے مومنین خصوصاً جوان اور كار آمد لوگ وھابیوں كے حملے سے ایك یا دو دن پھلے ھی عید غدیر كی مناسبت سے نجف اشرف زیارت كے لئے گئے تھے اور اگر ان لوگوں كو وھابیوں كے اس حملہ كا ذرا سا بھی احتمال هوتا تو یہ لوگ اپنے شھر كو چھوڑ كر نہ جاتے اور عورتوں اور بچوں او ربوڑھوں كو دشمن كے مقابلے میں چھوڑ كر نہ جاتے۔ ظاھر ھے كہ كاظمین اس خزانہ كا منتقل كرنا اسی صورت میں ممكن تھا جب ان كو اس حملہ كی خبر هوتی یا اس كا احتمال دیتے۔ 40
كربلا ئے معلی پر وھابیوں كا حملہ، عثمانی موٴلفوں كی نظر میں
“شیخ رسول كركوكلی” تیرهویں صدی ہجری كی ابتداء كے عثمانی موٴلف نے۱۱۳۲ھ سے ۱۲۳۷ھ تك كے عراق، ایران اور عثمانی واقعات پر مشتمل ایك كتاب اسلامبولی تركی میں لكھی ھے، اور موسیٰ كاظم نورس نے مذكورہ كتاب كا عربی میں ترجمہ كیا ھے جو “دوحة الوزرا” كے نام سے طبع هوچكی ھے۔
كتاب”دوحة الوزرا” میں ایسے واقعات موجود ھیں جو خود موٴلف كے زمانہ میں رونما هوئے، اور شاید بھت سے واقعات كے وہ خود بھی شاہد هوں، لہٰذا اس كتاب كے واقعات خاص اھمیت كے حامل ھیں۔
اس كتاب كے تفصیلی اور دقیق مطالب میں سے عراق پروھابیوں كے حملے بھی ھیں اور بغداد كے والیوں كی طرف سے هونے والی تدبیروں اور عراق كے حكام كی طرف سے نجد كے علاقہ پر لشكر كشی كرنا بھی موجود ھے لہٰذا ھم یھاں پر كربلائے معلی پر وھابیوں كے حملہ كو اس كتاب سے نقل كرتے ھیں:۱۲۱۴ھ میں قبیلہ خزائل اور وھابیوں كے درمیان نجف اشرف میں هوئی لڑائی اور وھابیوں كے تین سو كے قریب هوئے قتل كو دےكھتے هوئے عبد العزیز سعودی بادشاہ نے عراق كے حكام كو ایك خط لكھا كہ جب تك مقتولین كی دیت ادا نہ كی جائے اس وقت تك عراق اور نجد میں هوئی صلح باطل ھے۔ 41
سلیمان پاشا والی ٴبغداد نے صلح نامہ كو برقرار ركھنے كے لئے عبد العزیز كے پاس “عبد العزیزبیك شاوی” (اپنے ایك اھم شخص) كو بھیجا جو حج كا بھی قصد ركھتا تھا اس كو حكم دیا كہ اعمال حج كے بجالانے كے بعد وھابی امیر كے پاس جائےں اور اس سے صلح نامے كو باطل كرنے سے پرھیز كرنے كے بارے میں گفتگو كریں۔
عبد العزیز بیك نے والی بغداد كے حكم كے مطابق عمل كیااور سعودی امیر عبد العزیز سے گفتگو كی لیكن كوئی فائدہ نھیں هوا، آخر میں عبد العزیز نے یہ پیشكش كی كہ وھابیوں كے بھے خون كے بدلے میں نجد كے عشایر كو “شامیہ” (عنّہ اور بصرہ كے درمیان) علاقہ میں اپنے چارپایوں كو چرانے دیا جائے، او راگر ان كو روكا گیا تو پھر صلح نامہ كے پیمان كو توڑنے میں كوئی حرج نھیں هوگا۔
جب عبد العزیز شاوی، عبد العزیز وھابی كو قانع كرنے سے ناامید هوگئے تو انھوں نے ایك قاصد بغداد كے والی كے پاس بھیجا اور اس كو گفتگو كی تفصیل سے آگاہ كیا اور یہ بھی بتایاكہ وھابی لوگ اپنے مقتولین كا انتقام لینے كی غرض سے عراق كا رخ كرچكے ھیں ۔
والی بغداد نے وھابیوں كے احتمالی حملہ كی وجہ سے كافی انتظامات كئے، كئی مھینہ گذر جانے كے بعد بھی وھا بی حملہ كرنے كے لئے نھیں آئے۔۱۲۱۶ ھ میں شھر بغداد میں وباپھیل گئی اور آہستہ آہستہ یہ وبا شھر كے قرب وجوار میں بھی پھیلنے لگی، یہ دیكھ كر شھر كے لوگ بھاگ نكلے، اسی وقت شیخ حمود رئیس قبیلہ منتفق نے والی شھر كو خبر دار كیا كہ سعود بن عبد العزیز اپنے ایك عظیم لشكر كے ساتھ عراق پر حملہ كرنے كے لئے آرھا ھے۔
بغداد كے والی نے علی پاشا كو حكم دیا كہ وہ وھابیوں كو روك دے اور قتل غارت نہ هونے دے، علی پاشا “دورہ” نامی علاقہ كی طرف چلے تاكہ دوسرے لشكر بھی اس سے ملحق هوجائیں، راستہ میں بعض عشایر كا لشكر بھی اس سے ملحق هوگیا۔
ادھر جب علی پاشا اپنے لشكر كو وھابیوں سے مقابلہ كرنے كے لئے تیار كررھے تھے تو ان كو یہ خبر ملی كہ وھابیوں نے كربلا پر حملہ كردیا ھے اور وھاں پر بھت زیادہ قتل وغارت كرڈالاھے، جس میں تقریباً ایك ہزار لوگوں كو تہہ تیغ كردیا، اس وقت علی پاشا نے محمد بیك شاوی كو وزیر كے پاس بھیجا تاكہ اس كو مذكورہ واقعہ سے خبردار كرے اور یہ خبر پاتے ھی فوراً وہ كربلا كی طرف روانہ هوئے تاكہ حملہ آوروں پر كامیابی حاصل كرے اور ان سے اس قتل وغارت كا انتقام لے، اور شھر كو دشمنوں كے پنجہ سے نجات دلائے، لیكن ابھی علی پاشا شھر حلہ میں ھی پهونچے تھے كہ اس كو خبر ملی كہ وھابی لوگ قتل وغارت كے بعد “اخیضر” نامی علاقہ كی طرف چلے گئے ھیں، یہ سننے كے بعد علی پاشا بعض وجوھات كی بناپر حلّہ میں ھی رہ گئے، كیونكہ جب انھوں نے یہ خبر سن لی كہ وھابی لشكر كربلا سے نكل چكا ھے تو ان كا كربلا جانا بے فائدہ تھا پھر بھی احتیاط كے طور پر مختصر سے لوگوں كو كربلا بھیج دیا۔
چنانچہ وھابیوں كے حملہ كے خوف سے نجف اشرف كے خزانہ كو بغداد بھیج دیا اور مذكورہ خزانہ كو حضرت امام موسی كاظم ں كے روضہ میں ركھ دیا گیا، مذكورہ خزانہ كو لے جانے والے محمد سعید بیك تھے، اور یہ خبریں نیز وھابیوں كے حملہ كے سلسلہ میں هوئی تدبیروں كو ایرانی حكومت كے پاس پهونچادیا گیا۔ 42
شھر كربلا پر وھابیوں كی كامیابی كے وجوھات
جیسا كہ ھم بعد میں بیان كریں گے كہ وھابیوں نے نجف اشرف پر بھی حملہ كیا او رنجف كو فتح كرنے كی بھت كوششیں كی لیكن وہ لوگ اپنے اس مقصد میں كامیاب نہ هوسكے، لیكن كربلا شھر میں انھوں نے جو كچھ كرنا چاھا وہ با آسانی كرڈالا، موٴلف كی نظر میں اس كی كچھ وجوھات ھیں جن كو چند چیزوں میں خلاصہ كیا جاسكتا ھے:
1۔ سلیمان پاشا والی بغداد ا ور عثمانی بادشاہ كی طرف سے معین شدہ كربلا كے حاكم عمر آقا ن

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.