انتظار کے اصول

329

انتظار کا وہ مفہوم جس کے بارے میں ہم بحث کررہے ہیں یہ انتظار سے مختلف ہے یہ مفہوم ایک مسلمہ اصول کے طور پر تمام نبوت کے دعوے داروں fotorism کے ہاں موجود تھا وہ سب ماورائے انسانیت ایک موجود کے آخر الزمان میں منتظر ہیں جو دنیا میں عدل و نظم کا احیاء کرے گا یہاں تک کہ ھندوستان سے متعلقہ بعض ادیان اور اقوام بھی کہ جنہیں کسی مقدس شی سے دلچسپی نہیں وہ بھی ایک نئے انقلاب کے منتظر ہیں لیکن شیعہ ثقافت اور افکار میں انتطار کی حقیقت موعود کی ضرورت اور اضطرار نے تمام دین کو اپنے اندر سمو لیا ہے لہذا ہمیں اپنی ہم عصر نسل کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسی ہستی کے منتظر ہیں جو خاندان وحی کا چشم و چراغ ہے بالخصوص ایسے زمانہ میں کہ جب انسان نے اپنی صلاحیتوں کو بھانپ لیا ہے اور ابھی تک اسےاپنی ناکامی اور شکست کا احساس نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے راستہ کی دوری اور اس کی مشکلات کو لمس کیا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے تجربات، علم، عقل اور اس کی معرفت ہی کافی ہے مذکورہ نظریات دین کی حقیقت اس کے مبلغ اور حامل رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اس دین کے محافظ (معصومین علیھم السلام) کی زبانی بیان ہونے والے انتظار کو بیان کررہے ہیں جن سے ہمارا مہدی موعود کی طرف اضطرار اور ضرورت واضح ہوتی ہے لہذا ضروری ہے کہ اس انتظار کے مفہوم کے لئے کچھ اور اصول وضع کئے جائیں ۔
 
(۱)حادثات:
حادثات اور مشکلات میں جکڑاہوا اس زمانہ کا انسان اپنی روحانی تسکین کے لئے ایک مضبوط اور مستحکم وسیلے کی تلاش میں ہے اور اسی کی خاطر ادھر ادھر مارا مارا پھر رہا ہے تاکہ کوئی ایسا چشمہ جاریہ اسے مل جائے جو اسے سیراب کرسکے لیکن وہ نہ تنہا ایسے چشمہ کے حصول میں ناکام و نامراد ہوتا ہے بلکہ اسے ایسے عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کی مشکلات کا ازالہ کرنا تو بجای خود اس کی روحی اور جسمانی امراض میں اضافہ کے باعث بنتے ہیں۔ مصلح کی تلاش وہ فکر ہے جسے انسانی اضطراب اور دنیا کے حالات پر مسلط ان مادی افکار سے تھک ہار جانے کا نتیجہ سمجھا جائے کہ معنی طاقت سے خالی متفکرین نے اپنے نئے نظریات پیش کئے ہیں جن کے ذریعہ وہ ان غلط حالات کو تبدیل کرنے کے درپے ہیں ۔
ان حادثات اور ناکامیوں نے عام لوگوں کی زندگی پر برے اثرات چھوڑے ہیں جس کی زندہ مثال ان لوگوں کی طرف سے ہونے والے پے درپے اعتراضات ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقہ سے موجودہ حالات سے چھٹکارا حاصل کرسکیں (جریدہ newsweek ۲۳اگست ۱۹۹۹ء کے شمارہ میں اس رپورٹ کو شایع کیا گیا جس کا عنوان what must be done کیا جائے یعنی انسان موجودہ بحرانوں سے تنگ آچکا ہے اب اس کی نگاہ خودبخود آسمان اور مستقبل پر ہے )[1]
پس ممکن ہے کہ انتظار کی جڑیں بحرانوں ، ظلم و ستم ، جہل ونادانی اور فقر و ھلاکت میں موجود ہوں لہذا بحران اور حادثات عام لوگوں کی نگاہ میں انتظار کی بنیادی جڑیں اور اصول ہیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ دنیا میں موجودہ ترقی کے باعث نہ صرف اخلاقی انحطاط اور انسانیت کی تذلیل ہوئی ہے بلکہ کرہ ارض پر انسانی نسل کی بقاء کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف موجودہ حالات سے چھٹکارہ اور امید کے تمام دروازے بندکردئے گئے ہیں اور ایسے ادارے جو انسانیت کے تحفظ کی خاطر دائر ہوتے تھے وہ بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہوکر رہ گئے ہیں امید کی صرف ایک کرن اور اس کھٹن دور سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو ایک عظیم انقلاب اور عالمی مصلح اور منجی کے ظہور میں ہی مضمر ہے۔
۲۔عالمی تغیر و تبدل اور انسانی تقاضے:
انسانی وجود کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اگر دنیا کی تمام لذتیں بھی اسے مل جائیں اور وہ اپنی تمام امیدوں تک پہنچ بھی جائے تو پھر بھی وہ سیر نہیں ہوتا کیونکہ انسانی خواہشات اس دنیا سے کہیں زیادہ ہیں اور ان محدود امور سے انہیں لبریز نہیں کیا جاسکتا ۔
اکیسویں صدی کے انسان کی ناکامی اور معنویت کا بحران بھی اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہےکئی ایک مغربی مفکرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آج کی دنیا تھک چکی ہے اور جسمانی خواہشات کی بھی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کچھ مدت گزارنے کے بعد تھک جاتا ہے آمریکہ میں یہ اعلان کیا گیا کہ ہم مظاھرے کریں گے تاکہ خدا لوٹ کر آجائے [2]
انسان کی یہ صفت اسے دوسرے عالم سے مربوط اور پیوستہ کرکے غیب پر ایمان اور مادیات سے ماورا عالم کی طرف متوجہ کرتی ہے جب انسان اپنے وجود کی اہمیت کو سمجھ جاتا ہے یا اسے یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ اس دنیا سے وسیع اور باعظمت دنیا بھی موجود ہے تو پھر وہ گھٹن کا احساس کرنے لگتا ہے اس بنا پر دنیا مومن کے لئے زندان بن جاتا ہے جیسا کہ امیر المومنین نے خطبہ متقین میں ارشاد فرمایا انہیں دنیا میں اجل کے پردے میں محفوظ رکھا گیا ہے (لولا اجل الذی کتب اللہ علیھم لم تستقر ارواحھم فی اجسادھم)[3]
جب کسی برتن میں پانی کو ابالا جاتا ہے اور اس میں موجود خس و خاشاک اوپر آجاتے ہیں تو پانی ہلکا ہوکر بخارات بن جاتا ہے اگر برتن کا منہ کھلا ہو تو یہ بخارات پرواز کرجاتے ہیں اسی طرح انسان بھی کچھ اس طرح ہی پرواز کرتا ہے اس کی روح کی عظمت اس کے ایمان کی بدولت ہے جس سے وہ دوسرے عالم سے مربوط ہوتا ہے دنیا اس کے لئے تنگ ہے لیکن کافر کے لئے بڑی اور جنت کی مانند ہےکیونکہ اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں جبکہ مومن کےلئے زندان ہے [4]
کیونکہ مومن کا ظرف وسیع ہے جس کے سامنے متاع دنیا بہت قلیل ہے انسان ہمیشہ سے ہوشیار اور متلاشی رہا ہے اور یہ اس کی ذاتی اور فطری خصوصیات میں سے ہے بچے اس قدر سوالات کرتے ہیں کہ بڑوں کو تھکا دیتے ہیں جبکہ انہیں سوال کرنا کون سکھاتا ہے یہ ان کی ذات میں موجود خصوصیت ہے کیونکہ وہ دوسرے عالم اور دنیاتک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں عصر حاضر کی علمی اور فضائی ترقی اسی انسان کی حس اور شناخت کی عکاسی کرتی ہے گویا انسان دائما دیوار کو کھٹکھٹاتا ہے تاکہ دیوار کی دوسری طرف کا ملاحظہ کرسکے اور دنیا کے حصارکے باہر موجود عالم تک پہنچ سکے۔
انسان کی جب اس دنیا کی بابت نگاہ تبدیل ہوتی ہے اور اپنے تمام وجود سے دنیا کے مستقبل کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو پھر ایک ایسی ہستی کی تلاش میں رہتا ہے جو اسے اس طرف راہنمائی کرسکے اور وہ ایک ایسے موجود کا منتظر اورمحتاج ہوتا ہے جو اسے انسانیت کے عروج تک لے جاسکے یہ انسان تمام سہولیات اور ظاہری عدل و انصاف کے باوجود بھی منتظر رہتا ہے کیونکہ دو عناصر ایسے ہیں جو اسے برقرار رکھتے ہیں انسان اوروجود کے خاص تقاضے کائنات میں آئے دن رونما ہونے والا تغیر و تبدل
یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں تمام دنیاوی سہولیات کے باوجود اسلام کی ترقی ہمیں اس خصوصیت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ معنویت اور دینی اقدار کی پاسداری کے مقابلہ میں صنعتی زندگی میں اجنبیت کا احساس باعث بنا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس انسان بھی مذہب کی طرف توجہ کرے کیونکہ علم اور دانش نے اگرچہ انسان کے بہت سارے سوالات کے جوابات فراھم کئے ہیں اور انسانی زندگی میں بہت سہولیات ایجاد کردیں ہیں لیکن بہت ہی مختصر مدت میں انسان ان سہولیات سے تھک گیا وہ سہولیات تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے یہ سوچتا تھا کہ ان سے اسے سکون و آرام میسر آئے گا لیکن ان سہولیات تک پہنچنے کے بعد وہ مایوسی کا شکار ہوگیا اور اس کی تنہائی کے احساس میں مزید اضافہ ہوا اور آج کے انسان کی صدائے اعتراض گذشتہ انسانوں سے کہیں زیادہ سنائی دینے لگی۔
اوجن یونیسکو جو بے مقصد ڈرامے جیسے ‘کرگڈن اور آوازہ خوان طاس’ لکھنے میں مشہور ہیں وہ ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ :
حقیقت یہ ہے کہ ادبیات سے کوئی اہم بات مجھے نہیں ملی میں ایک عرصہ سے ڈرامے وغیرہ لکھ رہا ہوں کیونکہ کوئی اور کام نہیں کرسکتا تھا لیکن مجھے ہمیشہ سے یہ حسرت رہی کہ اے کاش میں کوئی اور کام کرتا؛ کاش! مجھ میں یہ صلاحیت ہوتی کہ میں ایک پادری بن سکتا صرف ایک امید باقی رہ جاتی ہے اور وہ روز قیامت ہے[5]
نتانیل برانڈون اس بے مقصد اور معنویت کی کمی کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہ اس پہلے مرد کی توصیف بیان کرتا ہے جو جذاب، چالیس سالہ، متحرک، خوشگذران اور جدت پسند ہے وہ اس کے سفروں اور عیاشیوں کو بیان کرتا ہے لیکن اچانک ان تمام اوصاف کے باوجود اس سے خصوصی گفتگو کا تقاضا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ :
نتانیل: میں چاہتا ہوں کہ جیسے بھی ممکن ہوسکے تم سے ایک بات کروں اور میں چاہتا ہوں کہ ایک دن دوپہر کا کھانا اکھٹا کھائیں تاکہ تم سے دل کی بات کرسکوں میں اپنی اندرونی کمزوری کو تحمل نہیں کرسکتا اس کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھ کر کہتا ہے میرا باطن ہرچیز سے خالی ہے اس سینہ میں کوئی شی نہیں نہ احساس نہ کوئی اور چیز، میری زبان بیان سے عاجز ہے اور میں بیان نہیں کرسکتا مجھے معلوم نہیں کہ میں کس طرح اس کی وضاحت کروں[6]
(۳)اصلاح کے دعویداروں کی عاجزی:
انسان ماضی سے اب تک معاشرتی و سماجی اصلاح کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس کام کے لئے کئی راستوں کو آزماتا بھی رہا لیکن اسے ہمیشہ یاس اور ناامیدی کا ہی سامنا کرنا پڑا افلاطون نے ایک ایسے آئیڈیل معاشرہ کا نقشہ کھینچا جس میں نہ ظلم و ستم ہو نہ فقر و تنگدستی اور اس کے سیاسی نظام کی انتہا ایک مدینہ فاضلہ پر ہو ۔
توماس کمپانلا نے شہر آفتاب کا تصور پیش کیا تودیکٹور ھوگو نے عالمی جمہوریت کی فکر دی جبکہ اگست کنت نے ایک ایسے سماج کا تصور دیا جس میں عنان اقتدار عقلا کی ایک جماعت کے ہاتھ میں ہو اور تامس مور نے ایک ایسی جنت ترسیم کی جو انسان کو ایک ایسے عالم تک پہنچائے کہ جس کے تمام عوام قانون اور عدل و انصاف کے سائے میں ایک جیسی زندگی بسر کرسکیں [7]
آلوین ٹفلر امریکی سیاستدانوں کے مشیر نے اس مشکل کے حل اور عالمی معاشرہ کی اصلاح کے لئے تیسری موج نامی نظریہ دیا (وہ معتقد تھا کہ ابھی تک دو انقلابوں زرعی اور صنعتی نے دنیا میں ایک عظیم تبدیلی ایجاد کی ہے اور تیسری موج یعنی الیکٹرانک اور صنعت سے بالاتر انقلاب آنے کو ہے)
اس نے اس حوالے سے عجیب انکشافات کئے ہیں وہ کہتا ہے ہمارا معاشرہ (مغرب)جن مسائل کا شکار ہے اس کی فہرست بہت طولانی ہے صنعتی تمدن کے مختلف ادوار کے ٹوٹنے کے بعد یہ معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوچکا ہے جس سے بآسانی اخلاقی انحطاط دیکھا جاسکتا ہے۔جس کے نتیجے میں اب موجودہ حالات سے نارضایتی اور ان حالات کو تبدیل کرنے کے لئے دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس دباؤ کے مقابلے میں ھزارہا منصوبے پیش کئے گئے ہیں یہ سب کا دعوا ہے کہ وہ بنیادی اور انقلابی ہیں لیکن کئی بار نئے قوانین، منصوبے اور نئے دستوری ڈھانچے جو مسائل کے حل کے لئے تشکیل پاتے ہیں وہ مسائل میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اور اس سے بجائے معاشرتی مسائل میں کمی آنے کے یاس و ناامیدی میں اضافہ ہی ہورہا ہے اور ایسا احساس ھر جمہوری نظام کے لئے خطرہ سے خالی نہیں اور ایسی صورت میں وہی مرد جس کا ضرب المثل میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ سفید گھوڑے پر بیٹھ کر آئے گا اس کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے [8]
لہذا انتظار کا تیسرا عامل ان افراد کی عاجزی اور ناتوانی ہے کہ جو اصلاح کے دعوے دار ہیں وہ انسان کی معرفت اور اس کی مشکلات اور مسائل کو پہچاننے سے عاجز ہیں جبکہ اپنے خیال میں وہ ایک برتر قوم کے معتقد ہیں اور دوسری اقوام کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جب انسان ان عاجز دعوے داروں اور ان کی عاجزی کو دیکھتا ہے تو اسے انتظار کا ایک نیا تجربہ حاصل ہوتا ہے اور اس سے درج ذیل عبارت کو مزید تقویت ملتی ہے کہ جب حضرت مہدی ظہور فرمائیں گے تو زمین عدل و انصاف سے لبریز ہوجائے گی جس طرح کہ ظلم و جور سے پر ہوچکی تھی۔
(۴)ملاقاتیں اور راہنمائی:
انتظار کا چوتھا عامل وہ ملاقاتیں اور آپ کی مختلف زمانوں میں راہنمائی ہے وہ ایک مہربان فرشتہ کی طرح مختلف افراد کا انتخاب اور انہیں ملاقات کے جام سے سرشار کرتے ہیں اور ان کی راہنمائی فرماتے ہیں بعض لوگوں کے مسائل اور مشکلات ان سے توسل کے نتیجے میں معجز نما طریقے سے حل ہوجاتے ہیں اور ایسا رویہ اس لئے اپنایا جاتا ہے تاکہ اس غفلت سے لبریز زمانے میں بھی انتظار کی جڑوں کو مضبوط کیا جائے۔
یہ سنت الہی ہے کہ لہو ولعب اور غفلت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے افراد کے لئے بیداری اور ہدایت کی نوید دی جائے مثلا جب قیامت کے انکار کا سلسلہ عروج پر تھا تو حضرت عزیر دوسوسال تک نیند میں رہے پھر بیدار ہوجاتے ہیں یا اصحاب کہف کا قصہ سامنے آتا ہے تاکہ اس معاشرہ کے لوگوں میں جو غافل ہوچکے تھے نئی روح پھونکی جاسکے اور انسانوں کو ہدایت کی نعمت سے سرشار کیا جائے۔
آج بھی کئی دعوتیں اور ھدایات اس انگیزہ کے ساتھ حضرت ولی عصر عج سے صادر ہوتی ہیں حتی کہ بہت ساری مشکلات اور بلائیں آپ ہی کے وسیلہ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ یا آپ کی دعا کی بدولت رفع ہوتی ہیں (انا غیر مھملین لمراعتکم ولا ناسین لذکرکم ولولا ذلک لنزل بکم الاواء واصطلمکم الاعداء )[9]
آنحضرت کا وہ خط (توقیع) جو شیخ مفید علیہ الرحمہ کے لئے صادر ہوا کہ ‘ہم تمہارے امور کو نمٹانے اور تمہاری سرپرستی میں کوتاہی نہیں کرتے اور تمہیں فراموش نہیں کرتے ورنہ تم پر مصیبتیں اور مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے اور دشمن تم پر غالب آجاتے’۔
زمانہ انتظار میں آنحضرت سے مستفیذ ہونا ایک اور دلیل ہے کہ جو صاحب الزمان کے حضور پر دلالت کرتی ہے اور انتظار کی جڑوں اور اصول کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
الانتفاع بی فی غیبتی فکالانتفاع بالشمس اذا غیبہا عن الابصار والسحاب[10]
زمانہ غیبت میں مجھ سے مستفید ہونا ایسا ہی ہے جیسے سورج سے اس وقت مستفید ہوا جاتا ہے جب وہ بادلوں کے پیچھے چلا جاتا ہے۔آنحضرت کا لوگوں کے درمیان حاضر ہونا بھی اس دعوے پر بہترین گواہ ہے۔
ان یکون صاحبکم المظلوم المحجود حقہ ، صاحب ھذا الامر یتردد بینہم ویمشی فی اسواقھم ویطأفرشھم ولایعرفونہ حتی یاذن اللہ ان یعرفھم نفسہ[11]
صاحب امر لوگوں کے درمیان چلتے ہیں ان کے بازاروں میں آمد ورفت کرتے ہیں ان کی زمینوں پر چلتے ہیں لیکن وہ انہیں نہیں پہچانتے مگر یہ کہ خداوند انہیں امر اور اجازت دے کہ وہ اپنے آپ کو پہچنوائیں زمانہ حج میں بھی حضرت صاحب الزمان کا دائمی حضور اس بات پر بین دلیل ہے کہ وہ مسلمانوں کے حالات سے آگاہ ہیں (یحضر الموسم کل سنۃ فیری الناس فیعرفھم ویرونہ ولا یعرفونہ آنحضرت ہر سال حج کے موسم میں حاضر ہوتے ہیں اور سب کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں اور لوگ انہیں دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں)[12]
دعاؤں، خطوط (توقیعات) زیارت ناموں اور روایات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت اپنے شیعوں کے حالات پر خصوصی نگاہ رکھتے ہیں وہ توقیع جو شیخ مفید کے لئے صادر ہوئی اس میں آیا ہے کہ فانا نحیط علما بانبائکم ولا یعزب عنا شی من اخبارکم[13]
ہم تمہارے حالات سے آگاہ ہیں اور تمہارے حالات سے کوئی چیز بھی ہم پر پوشیدہ نہیں ہے آنحضرت اس زمانے میں شیعوں کے حالات پر بلاواسطہ ناظر اور موثر ہیں بینواؤں کی امداد[14]اور بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھانا امام عصر کے بعض ایسے کام ہیں جو انتظار کے اصولوں کو مضبوط کرنے کے لئے انجام پاتے ہیں۔
شبہات اور اعتراضات کی تاریکیوں میں کئی بار کی گئی راہنمائی اور ملاقاتیں جو ایک ایسے فرد کی طرف سے ہوئیں جو حضرت مہدی کی خصوصیات کا حامل تھا اس سے بھی انتظار کی بنیادیں مضبوط اور عاشقان حضرت مہدی کی دلجوئی ہوتی ہے ۔ اور اس سے شاید وہ لوگ اپنے محبوب کی انتظار اور ان سے مستفید ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ بے تاب ہوتے ہیں اس حوالے سے ایک نمونہ پیش خدمت ہے۔
جب بحرین پر استعمار کا تسلط تھا اور ایک ناصبی اور متعصب وزیر، عوام کی گردن پر سوار تھا تو اسی حیلہ گر وزیر نے وہاں کے شیعوں کو ذلیل کرنے کا پروگرام بنایا اور حاکم وقت کے ہاتھ میں ایک ایسا انار تھمایا جس پر ماہرانہ انداز سے یہ کلمات نقش کئے گئے تھے’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلفاء رسول اللہ’، حاکم اس واقعہ سے بہت متاثر ہوا اور اس کے ہاتھ شیعوں کو ذلیل کرنے کا بہترین بہانہ آیا اس نے وزیر سے مشورہ کیا وزیر توپہلے ہی سے اس لمحہ کا منتظر تھا اس نے کہا: شیعہ کے بزرگوں کو بلایا جائے اور یہ معجزہ انہیں دکھایا جائے اگر انہوں نے اسے قبول کرلیا تو اپنے مذھب سے ہاتھ اٹھالیں گے ورنہ انہیں تین چیزوں کے انتخاب کا اختیار دیا جائے (۱)قانع کنندہ جواب لے کر آئیں (۲)جزیہ دیں، (۳)ان کے مردوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیں گے اور ان کے اموال کو غنیمت کے طور پر اپنے قبضہ میں لے لیں گے۔
شیعہ علماء کو حاضر کیا گیا اور مسئلہ بیان کرکے ان سے جواب طلب کیا گیا انہوں نے تین دن کی مہلت اور پھر ایک طولانی بات چیت کے بعد انہوں نے دس افراد کا انتخاب کیا پھر ان میں سے تین کا انتخاب کیا جو اس خطے کے بہترین علماء تھے ان میں سے ہر ایک ، ایک رات کے لئے بیابانوں میں جاتا تاکہ مسئلہ کا حل تلاش کیا جاسکے ، جب دو راتیں گذر گئیں اور دو افراد گئے اور جواب نہ لاسکے اور تیسرے کی باری آئی جو سب سے زیادہ پرھیزگار تھا وہ جونہی صحرا میں پہنچا سخت گریہ و زاری کی اور آنحضرت سے مدد طلب کی جب رات کا آخری حصہ آیا تو اس نے سنا کہ کوئی شخص اسے خطاب کرکے کہہ رہا ہے کہ اے محمد بن عیسیٰ تجھے کیا ہو گیا ہے اور تم کیوں راہی صحرا ہوئے ہو ؟ محمد بن عیسی نے کہا کہ وہ شخص اسے اپنے حال پر چھوڑ دے اس مرد نے فرمایا اے محمد بن عیسی میں صاحب الزمان ہوں اپنی حاجت بیان کرو محمد بن عیسی جو اشکوں میں غرق اور خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا اس نے پوچھا اگر آپ صاحب الزمان ہو تو پھر آپ میری داستان جانتے ہو اور مجھے کہنے کی ضرورت نہیں اس مرد نے فرمایا تم سچ کہہ رہے ہو پھر فرمایا اے محمد بن عیسی اس وزیر کے گھر میں ایک انار کا درخت ہے جب وہ درخت میوہ دار ہورہا تھا تو اس نے مٹی سے انار کی شکل کا ایک قالب (خول) بنایا پھر اسے آدھا کیا اور اس کے اندر یہ جملات لکھے پھر اس قالب کو چھوٹے سے انار پر چڑھا دیا اور اسے مضبوطی سے باندھ دیا جب انار اس قالب میں پروان چڑھا تو یہ کلمات اس انار پر نقش ہوگئے کل تم جب حاکم کے پاس جاؤ گے تو اسے کہنا میں اس کا جواب وزیر کے گھر میں جاکر دوں گا۔
اور جب وزیر کے گھر پہنچو تو وزیر سے پہلے فلاں مقام پر جاؤ وہاں پر ایک سفید رنگ کی گھٹڑی دیکھو گے جس میں مٹی سے بنا قالب موجود ہوگا اسے حاکم کو دکھاؤ اور حاکم سے کہو کہ ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ اگر تم انار کے دو ٹکڑے کرو تو اس میں راکھ کے علاوہ کچھ نہ پاؤ گے محمد بن عیسی نے اچانک اپنے آپ کو صحرا میں تنہا پایا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالا اور امام کی دوری سے غمزدہ ہوا لیکن انتہائی پرمسرت انداز میں شیعوں کی طرف لوٹ آیا اگلے دن وہ حاکم کے پاس گئے اور جو کچھ امام زمانہ نے فرمایا تھا اس کے لئے بیان کیا حاکم بحرین یہ معجزہ دیکھ کر شیعہ ہوگیا اور حکم دیا کہ اس دھوکہ باز وزیر کو پھانسی لگایا جائے [15]
(۵)بشارت دینا:
انتظار کے عوامل میں سے ایک عامل جو آمادگی اور حرکت کا باعث بنتا ہے وہ ان بشارتوں سے عبارت ہے جو انسان کو مستقبل کی بابت امیدوار کرتی ہیں اور کام اور حرکت اور سعی و تلاش پر انسان کو اکساتی ہیں ، بنیادی طور پر مستقبل کی بابت ایک اچھا تصور رکھنا اگرچہ یہ تصور مبہم ہی کیوں نہ ہو اس کی خصوصیت یہ ہے کہ انسانی زندگی کو بامقصد بنادیتا ہے اور اسے سرگردانی سے نجات دلا دیتا ہے۔
مستقبل کی پہچان، دینی پیشگوئیوں کی روشنی میں ہی واضح ہوتی ہے اور اس پر انسان نے مکررا تجربہ کیا ہے طول تاریخ میں انبیائے الہی نے جو پیشگوئیاں کیں وہ سب حقیقت ثابت ہوئیں اور انہی پیشگوئیوں کے باعث تاریخ میں موجود سلمان جیسے افراد متحرک اور منتظر رہے اور انہیں گھر بار اور آسائش و آرام کو ترک کرنے پر مجبور کیا اور بالاخر وہ حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہوکر رشد و ھدایت کے عروج پر فائز ہوئے (عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کان سلمان رحمۃ اللہ۔۔۔۔۔)امام صادق علیہ السلام نے فرمایا سلمان کئی علماء کے پاس گیا اور آخری فرد جس کے پاس گیا وہ ابی تھا جب پیغمبر اسلام(ص) مبعوث ہوئے تو اس نے سلمان کو کہا تم جس دوست کی تلاش میں تھے اس کا ظہور مکہ میں ہوچکا ہے سلمان یہ سننے کے بعد فورا راھی مکہ ہوا [16]
یہ خدا کی تبدیل نہ ہونے والی سنت ہے کہ وہ اپنی بشارتوں کے ذریعہ ہمیشہ انسان کو یاس و ناامیدی سے نجات دلا کر اسے متحرک اور امیدواری کی طرف ھدایت کرتا ہے اس زمانہ میں حکومت حق کے قیام کا وعدہ دیا گیا ہے اور اس بارے کئی آیات بھی نازل ہوئی ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہوا ‘ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون’ ہم نے زبور میں ذکر (توریت) کے بعد یہ لکھ دیا کہ آخرالزمان میں زمین صالح بندگان کی میراث ہوگی اور وہی کرہ ارض پر حاکم ہوں گے[17]
امام باقر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق وہ صالح افراد جو وارث زمین ہوں گے وہ آخر الزمان میں امام مہدی کے اصحاب ہیں[18]
مستقبل کی یہ پہچان انسان کو انتظار کا ھدیہ دیتی ہے اور اسی وجہ سے قرآن میں آیا ہے ‘فانتظروا انی معکم من المنتظرین'(محمد بن ابی نصر امام رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کتنا اچھا عمل ہے صبر اور فرج کا انتظارکرنا کیا تم نے خدا کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آگاہ رہو میں بھی تمہارےساتھ آگاہ ہوں پس تم منتظر رہو اور میں بھی منتظرین کے ساتھ ہوں پس تم صبر کرو کیونکہ فرج حالت یاس اور ناامیدی میں ہوگا)[19]
اس سے بڑھ کر بہت سی روایات میں بھی ان بشارتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ انتظروا الفرج۔ ۔ ۔افضل العبادۃ المومن انتظار فرج اللہ [20]
[1] ۔منقول از ماھنامہ موعود سال پنجم شمارہ ۳۵
[2] ۔(ماھنامہ موعود سال پنجم شمارہ ۲۵)
[3] ۔نہج البلاغہ صبحی صالح خطبہ ۱۹۳
[4] ۔من لایحضرہ الفقیہ ج۴ ص ۳۶۳ ح ۵۷۶۲ الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر
[5] ۔از پوچی تا خدا ترجمہ سعید شہر تاش منقول از انتظار و انسان معاصر عزیز اللہ حیدری
[6] ۔نتایل بروندون انسان بدون خویشتن ترجمہ جمالی ھاشمی ص ۲۷ ۲۸ بہ نقل از انتظار و انسان معاصر عزیز اللہ حیدری
[7] ۔موج انتظار ص۱۴۱، ۱۴۳
[8] ۔بہ سوی تمدن جدید ٹفلر محمد رضا جعفری
[9] ۔اجتجاج طبرسی ج۲ ص ۵۹۶
[10] ۔بحار الانوار ج۵۳ ص ۱۸۱
[11] ۔مفاتیح الجنان دعای ندبہ این المضطر الذی یجاب اذا دعا
[12] ۔صدوق، کمال الدین ج۲ ص۴۴۰
[13] ۔احتجاج طبرسی ج۲ ص ۵۹۶
[14] ۔اس حوالے کے مطالعے کے لئے رجوع کیا جائے کتاب توجہات ولی عصر بہ علماء مراجع عبدالرحمن باقی زادہ سیمای آفتاب حبیب اللہ طاھری ظہور مہدی از دیدگاہ اسلام عبداللہ ھاشمی شہیدی و۔۔
[15] ۔نجم الثاقب ص۳۱۴
[16] ۔کمال الدین ج۲ باب ۶۲، حدیث۶
[17] ۔انبیاء ۱۰۵
[18] ۔مجمع البیان ج۷ ص۱۶۶
[19] ۔تفسیر برھان
[20] ۔بحار الانوار ج۵۲ ص۱۳۱
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.