نادر الظہور صہیونی وہابیت

123

وہابی تاریخ کا اجمالی جائزہ:
محمد بن عبدالوہاب سنہ 1115 ہجری کو نجد کے نواحی علاقے عُیَینَہ میں پیدا ہوئے. ان کے والد عبدالوہاب اس شہر کے قضات میں شمار کئے جاتے تھے. محمد نے فقہ حنبلی کو اپنے آبائی شہر میں ہی سیکھ لیا اور اپنی تعلیم جاری رکهنے کے لئے مدینہ منورہ چلے گئے. وہاں انہوں نے فقہ اور حدیث میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا.
ایک یا دو بار اپنے والد کے دور میں بھی اس نے ایسے گمراہ کن اقدامات کئے کہ انہیں اپنے والد کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر کہا جاتا ہے کہ جب تک ان کے والد زندہ تھے وہ خاموش ہی رہتے تھے. بہر حال کبھی کبھی باپ بیٹے کے درمیان نزاع و کشمکش کی صورت حال سامنے آجایا کرتی تھی. مگر جب والد کا انتقال ہؤا محمد نے 1153 ہجری میں اپنے عقائد فاش کرنا شروع کردئے.
حریملاء شہر میں محمد بن عبدالوہاب کی تبلیغ نے رائے عامہ کو بے قرار کردیا اور شہر میں بے چینی اور تناؤ پیدا کی صورت حال پیدا ہو‏ئی چنانچہ وہ مجبور ہوکر حریملاء سے اپنے آبائی شہر عیینہ چلے گئے. عیینہ میں انہوں نے شہر کے حاکم عثمان بن معمر، سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی جدید دعوت سے آگاہ کیا. حاکم نے ان سے اتفاق کیا اور قرار پایا کہ وہ حاکم کی سرپرستی میں اپنے نئے دین کی تبلیغ کا آغاز کریں. در حقیقت ان ہی ایام میں معلوم ہؤا کہ ان کا دین حکام کے دامن میں ہی پهل پهول سکتا ہے اور ہر دور میں کسی نہ کسی حاکم کو یہ یتیم بچہ گود لینا پڑے گا.
تھورا عرصہ بعد احساء کے حاکم نے اپنے ماتحت عثمان بن معمر کے اس عمل کو ناروا قرار دیا اور حکم دیا کہ وہ محمد بن عبدالوہاب کو بہت جلد عیینہ شہر سے نکال باہر کریں. چنانچہ محمد ابن عبدالوہاب نے درعیہ میں سکونت اختیار کرنے کا ارادہ کیا. اتفاق سے آل سعود کے دادا محمد بن سعود درعیہ کے حاکم تھے اور محمد نے ان کی قربت حاصل کرلی. ان دو افراد نے معاہدہ کیا اور دونوں نے عہد کیا کہ مل کر کام کریں گے اور محمد ابن عبدالوہاب اپنی دعوت کا درعیہ سے آغاز کریں گے اور ابن سعود بھی ان کی حمایت کریں گے اور اگر یہ دعوت کامیاب ہوئی تو ابن عبدالوہاب دعوت کے عہدہ دار رہیں گے اور حکمرانی ابن سعود کے ہاتھ میں رہے گی. تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے دو خاندانوں نے آپس میں رشتہ داریاں بھی کیں.
محمد بن عبدالوہاب نے حاکم کی طاقت کی بدولت اپنی دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا. اطراف کے قبائل ان کی دعوت سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے تو لشکر تیار کئے گئے اور بہت جلد قبائل کے خلاف لشکرکشیاں شروع ہوئیں. اب مال غنیمت (!) درعیہ کی جانب آنے لگا اور بڑی دولت جمع ہونے لگی. اور درعیہ جیسا غریب و فقیر شہر دولت سے مالامال ہونے لگا. البتہ یہ مال غنیمت نجد ہی کے گرد و نواح کی مسلم آبادیوں سے چهینا جانے والا مال تھا اور یہود و نصاری یا دیگر افراد سے اکٹھا نہیں ہؤا تھا. ابن عبدالوہاب ان کے خلاف کفر وشرک کا فتوی دیا کرتے تھے اور ابن سعود ان کی خانہ بربادی کے لئے اقدام کیا کرتے تھے. کیونکہ ابن عبدالوہاب کا فتوی آتے ہی ان کے اموال لشکریوں کے لئے حلال ہوجاتے تھی!. دو چیزوں نے بادیہ نشینوں کے درمیان محمد ابن عبدالوہاب کے مکتب کی ترویج میں مدد دی:
1- آل سعود کی سیاسی اور فوجی حمایت.
2- نجد کے عوام کی اسلامی تمدن، معارف و تعلیمات اور حقائق سے دوری.
جو جنگیں وہابیوں کے توسط سے نجد اور نجد سے باہر (حجاز، یمن، شام اور عراق میں) لڑی جاتی تھیں، دلفریب تھیں اور نہایت دلچسپ، کیونکہ وہابی لشکری جس شہر کے اموال اور دولت پر زبردستی قبضہ کرتے وہ ان کے لئے حلال تھیے، اور اگر ممکن ہوتا کہ ان اموال و املاک کو اپنے نام کردیں تو یہ کام بھی کرلیا کرتے تھے اور بصورت دیگر غنائم پر اکتفا کیا کرتے تھے.
عین ممکن ہے کہ تصور کیا جائے کہ وہابی صرف شیعہ آبادیوں پر حملے کیا کرتے تھے مگر یہ تصور بالکل درست نہیں ہے کیونکہ انہوں نے حجاز، نجد، یمن اور شام کی تمام سنی اور شیعہ آبادیوں پر حملے کئے. انہوں نے طائف کی سنی آبادی کا قتل عام کرنے کے بعد مکہ معظمہ کے علماء کے نام خط لکھا اور انہیں بھی اپنے دین کی دعوت دی. مکہ کے عوام وحشت و اضطراب کا شکار ہوئے اور لگتا تھا کہ گویا قیامت برپا ہوگئی ہے.
علماء مسجدالحرام میں منبر کے گرد جمع ہوئے. خطیب مکہ ابوحامد منبر پر بیٹھ گئے اور علماء کے نام وہابیوں کا خط پڑھا جس میں انہوں علمائے اہل سنت کے عقائد رد کردئے تھے. انہوں نے علماء، قضات اور مفتیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: تم نے نجدیوں کی بات سنی اور ان کے عقائد سے آگاہی حاصل کی.
اب بتائیں ان کے بارے میں آپ حضرات کی رائے کیا ہے؟ مکہ معظمہ میں مقیم چار مذاہب اہل سنت کے علماء اور مفتیوں سمیت مختلف ممالک سے حج کے لئے آئے ہوئے علماء اور مفتیوں نے متفقہ طور پر ان کے کفر کا فتوی دیا اور امیر مکہ پر فرض قرار دیا کہ ان کے مقابلے کے لئے ضروری اقدامات کریں. اور مسلمانوں پر بھی واجب کردیا کہ وہابیت کے خلاف جہاد میں امیر مکہ کی مدد کریں. اور یہ کہ جو شخص اس جہاد میں شرکت کرے وہ مجاہد ہے اور اگر مارا جائے تو شہید ہے اور جو شخص اس جھاد مین شرکت نہ کرے وہ گنہگار ہے. اس سلسلے میں مکمل اتفاق رائے تھا اور فتوی لکھا گیا مفتی حضرات ان پر اپنی مهریں ثبت کردیں……
اس طرح ہم دیکهتے ہیں کہ وہابی دین ابتدا ہی سے تمام شیعہ اور سنی مکاتب فکر کی رائے میں باطل اور مردود ہے.
وہابیت کی جڑیں:
جیسا کہ اشارہ ہؤا وہابیت آل سعود کے دامن میں پلی اور بڑھی. «صفحة عن آل سعود،  الوھابیین و آراء علما السنة فی الوھابیة» نامی کتاب میں وہابی دین کے بانی «محمد بن عبدالوہاب»، کے بارے میں آیا ہے: «محمد ابن عبدالوہاب کے دادا «سلیمان قرقوزی» نامی یہودی تھے جنہوں نے ترکی سے حجاز ہجرت کی تھی.(ناصرالسعید بھیاپنی کتاب " تاریخ آل سعود " میں لکهتے ہیں کہ محمد ابن عبدالوہاب کے دادا کا نام در حقیقت" سلیمان القرقوزی الیہودی"ہے.) اسی طرح «صفحة عن آل سعود، الوھابیین و آراء علماء السنة فی الوہابیة» میں خاندان آل سعود – جو دو صدیوں سے حکمرانی کررہا ہے – کے بارے میں آیا ہے کہ"آل سعود کے یہودی جد اعلی – جنہوں نے بظاہر اسلام کا دعوی کیا تھا – مردخای بن ابراهیم ابن موشے تھا جو بصرہ کے یہودیوں میں سے تھے.»
http://www.arabtimes.com/A2006/June/63.html
"تاریخ آل سعود"کے مؤلف ناصر السعید لکهتے ہیں «1960 کی دہائی میں ریڈیو "صوت العرب" اورصنعا سے ریڈیو "ازاعة الثورة الیمنیة" نے "یہودیت آل سعود" کے عنوان سے اپنے پروگراموں کا ایک سلسلہ چلایا۔ ان پروگراموں میں شاه فیصل سے کئی بار انٹرویو لئے گئے جن میں شاہ فیصل بڑے اعزاز کے ساتھ یہ امر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ ان کے جد اعلی ایک یہودی تھے. شاہ فیصل البتہ پوری مکاری کے ساتھ اسلام کے ساتھ اپنا پیوند بھی برقرار رکھا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ آل سعود کا یہود کے ساتھ پیوند در حقیقت سامی نسل کی طرف لوٹتا ہے. یہ بات روزنامہ واشنگتن پوست کے 17 سپتامبر 1969 کے شمارے کے علاوہ عرب روزنامے "الحیاة" نے بھی شائع کی ہے.
مذکورہ بالا روزناموں میں شائع ہونے والی رپورٹ میں شاہ فیصل ابن عبدالعزیز کے حوالے سے آیا ہے کہ: «ہم اور یہودی آپس میں چچا زاد بھائی ہیں اور اسی بنا پر ہم اس بات پر آمادہ نہ ہوئے کہ بعض لوگوں کی خواہش پر انہیں سمندر میں غرق کردیں. بلکہ ہم ان کے ساتھ امن و آشتی کی فضا میں بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق جینا چاہتے ہیں.» (قابل ذکر ہے کہ 1967 میں یہودیوں نے فلسطین، صحرائے سینا اور جولان کی پہاڑیوں سمیت غرب اردن کے علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا اور شاہ فیصل ان صہیونی جارحیتوں کے فورا بعد ان سے اپنی قربت کے ترانے گا رہے تھے تا کہ تاریخی قربتوں پر آنچ نہ آنے پائے!)
مذکورہ بالا رپورٹ کے مطابق فیصل نے مزید کہا تھا: «جس طرح کہ آپ جانتے ہیں ہمارا اور یہودیوں کا سلسلہ نسب سام تک جا پهنچتا ہے اور اس کے علاوہ ہمارے درمیان سرزمیں کے حوالے سے بھی متعدد اشتراکات ہیں. ہماری سرزمیں ابتدائے یہودیت کے ظہور کا مرکز ہے اور یہیں سے یہودی دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئے ہیں.»
ناصر السعید لکهتے ہیں: «شاہ فیصل کی یہ باتیں اور اسی طرح کے ایک اور بیان کو اتنی توجہ نہیں دی گئی کیونکہ اس وقت عرب لیگ نہایت بری صورت حال سے دوچار تھی اور دوسری طرف سے عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی مقدس سرزمیں پر مسلط بادشاہ کی ان باتوں کا وسیع انعکاس نہیں ہونے دیا.»
ناصر السعید کی کتاب " تاریخ آل سعود" کے صفحات 446 تا 449 (طبع سوئم مطبوعہ بیروت) میں ہے کہ «سرزمیں نجد میں آل سعود کا یہودی شجرہ نامہ کسے سے بھی مخفی نہیں ہے. اور بہت سے لوگ ان کی جڑوں سے آگاہ ہیں حتی انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سعودیوں نے اپنے اہداف و اغراض کے حصول کے لئے کس طرح اپنے آپ کو عربوں اور مسلمانوں کے درمیان جگہ بنائی؟. مشہور نجدی شاعر حمید الشویعر (یا حمیدان الشویعر) ان افراد میں سے ہیں جنہوں نے سعودی شجرہ نامے کی طرف اشارہ کیا ہے. اس شاعر کی وطن پرستانہ شاعری بہت ہی معروف و مشہور ہے. »
مگر وہابی فرقے کی اسلامیت کی جڑیں سلفی مکتب فکر میں پیوست ہیں. اور سلفی دلفریب نعرہ یہ ہے کہ دین اسلام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور اسلام کو بدعتوں سے صاف کرکی خالص توحید پر استوار کرنا چاہئے.
یہ فرقہ پیغمبر (ص) اور صالحین سے شفاعت طلب کرنے کے عمل کو شرک سمجھتا ہے اور ان سے توسل کرکے ان سے دعا طلب کرنے کو بدعت سمجھتا ہے (گو کہ صدام سے بچنے کے لئے امریکہ کی گود میں بیٹھنے کی عملی تصدیق فراہم کرتا ہے) مقدسات سے تبرک کا حصول، رسول اللہ (ص) اور اولیاءاللہ کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا، میت پر گریہ کرنا، عزاداری کی محفلیں برپا کرنا، میلاد النبی (ص) اور دیگر موالید پر جشن منانا، خدا کے نام کے بغیر کسی اور نام کی قسم کھانا، اولیاء الہی کی قبروں کی مرمت کرنا اور اولیاء اللہ کی روحوں سے مدد مانگنا ان لوگوں کے ہاں شرک اور بدعت ہے. مگر یہ امر قابل توجہ ہے کہ پورے عالم اسلام اور (ریالوں کے سہارے فتنہ گری کرنے والے) متهی بهر وہابیوں کے درمیان منازعات کی راہ حل اس میں ہے کہ عبادت کے مفہوم کا تجزیہ کیا جائے اور شرک کی سرحدوں اور اس کی وسعتوں اور معانی و مفاہیم کو واضح کردیا جائے. (گو کہ مسلمان کہلانے والا کوئی بھی فرقہ مشرک نہیں ہے اور ان سب کے ہاں توحید و یکتا پرستی کا مفہوم بیان ہؤا ہے اور شرک کی حدیں بھی معلوم ہیں.)
وہابی کہتے ہیں: «وہ بہت سے اعمال جو تم (مسلمان فرقے) رسول اللہ (ص) یا اولیاء اللہ کے لئے انجام دیتے ہو، در حقیقت رسول اللہ اور اولیاء اللہ کی عبادت کے زمرے میں آتے ہیں. اور یہ اعمال در حقیقت شرک در عبادت کے زمرے میں آتے ہیں.» (آیین وہابیت، ص 208) فکری جمود، انتہاپسند وہابیت کی سب سے اہم دشواری شمار ہوتا ہے. یہ لوگ قرآن کی 5 یا 6 آیت کے ظاہری مفہوم کو لے کر دیگر آیات کو چهوڑ گئے ہیں (اگرچہ بعض دیگر آیات کے مطابق انہوں نے عقیدہ تجسیم اپنایا ہے اور وہ یہ کہ خداوند متعال شب جمعہ اور روز عرفہ (معاذاللہ) آسمان اول پر بیٹھ کر اپنے بندوں کے اعمال کی نگرانی کرتا ہے!!). مثال کے طور پر یہ حضرات جو رسول اللہ (ص) اور اولیاء اللہ کی قبروں کا بوسہ لینے کو شرک تصور کرتے ہیں مگر حجر الاسود کو چومنے کو سنت سمجھتے ہیں حالانکہ شرک میں استثنا نہیں ہے. (قاعدہ یہ ہے کہ اللہ کے لئے مخصوص اعمال اگر دوسروں کے لئے انجام دئے جائیں جن میں عبودیت اور بندگی کا بھی شائبہ ہو تو یہ شرک کے زمرے میں آتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا تقبیل اور بوسہ خدا کے لئے مخصوص ہے؟!)
وہابی صہونیت کےحالیہ فتاوی:
حالیہ برسوں میں حرمیں شریفین کے شیعہ زائرین کو نہایت شدید دباؤ اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. طالبان کے زمانے میں وہابیت افغانستان میں استوار تھی. اس دوران کثیر تعداد میں افغانی شیعوں کا قتل عام کیا گیا. عراق میں شیعوں کا وسیع قتل عام جاری ہے (پاکستان مرکزی حکومت کے خلاف برسر پیکار جنگجو اگر سرکاری فوجیوں کو قیدی بنائیں تو وہ تحقیق کرتے ہیں اور اگر ان سپاہیوں میں کوئی شیعہ نظر آئے تو نہایت بے دردی سے اس کا سر قلم کردیتے ہیں اور یہ مساجد اور امام بارگاہوں میں خودکش بم دھماکوں کے علاوہ ہے) لیکن سب سے زیادہ غبر معمولی اور غیر متوقع امر یہ تھا کہ انہوں نے مقدس مقامات کو بم سے اڑا دینے کے فتاوی کا سلسلہ جاری کیا. حالانکہ اس سے پہلے سنی علماء نہ صرف ایسا عمل انجام نہیں دیتے تھے بلکہ خود بھی ان مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے سفر کی مشقت برداشت کیا کرتے تھے.
(حزب اللہ نے اسرائیل کو شکست دی تو بہت سے عرب ممالک کے مفتیوں نے مذہب تشیع کے وسیع پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور اس کے بعد تشیع کے خلاف بهونڈا انداز اپنایا گیا اور) سعودی عرب کے مفتی اعظم «عبدالرحمن البراک»، «شیخ ممدوح الحربی»، «شیخ ناصر العمر»، «عبداللہ بن جبرین»، «سفر الحوالی» و «حامد العلی» – جو اہم ترین وہابی مفتی ہیں – نے شیعوں کی تکفیر کے علاوہ عراق میں شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے ائمہ کے مزارت شریفہ کے انہدام کے فتوے دئے. ان لوگوں نے اپنے فتاوی میں ان مزارات کو بتوں کا نام دیا اور ان کے انہدام کا مطالبہ کیا.
ان لوگوں کے یہ فتاوی در حقیقت القاعدہ کی دہشت گردی کی نہایت غیر انسانی اور وحشیانہ اقدامات کو شرعی اور قانونی حیثیت دیتے ہیں. (اور عالم اسلام کے لئے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کے اس دور میں ان لوگوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ القاعدہ کے ساتھ مل کر دشمنوں کی سازشوں کو عملی صورت دینے میں ان کی مدد کرتے رہیں گے. یہ لوگ درحقیقت القاعدہ کو نظریاتی پشت پناہی فراہم کرتے ہیں. یہ لوگ ایسے گروہ کی حمایت کررہے ہیں اور انہیں دینی اور نظریاتی حمایت فراہم کررہے ہیں جس کو پوری دنیا نے مسترد کیا ہے اور آہستہ آہستہ وہ سنی گروہ بھی اس کو مسترد کرنے لگے ہیں جو مغرب کے شدید مخالف ہیں. کیا سعودی عرب کو یہ نامطلوب نتائج حاصل کرنے کے بعد بھی القاعدہ کو مشروعیت اور قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنی چاہئے؟
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب کی حکومت اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی؛ کیونکہ یہ مفتی سعودی عرب سے تنخواہ لے رہے ہیں اور اگر یہ حکومت ان لوگوں کو ان اقدامات سے روکنا چاہے تو ان کی تنخواہیں بند کرکے ان کو سزا دے سکتی ہے اور ایسا کرکے وہ انہیں اس عمل سے روک سکتی ہے. حقیقت یہ ہے کہ ان فتاوی کی وجہ سے دنیا والے دین اسلام اور دنیائے اسلام کے سامنے سوالیہ نشان ثبت کررہے ہیں. اور اسلام کو فائدہ پهنچانے کی بجائے امریکی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں. اور معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب ان مفتیوں اور القاعدہ کے دہشت گردوں کی حمایت کرکے امریکہ کی زیادہ سے زیادہ رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے درپے ہے.
البتہ اس وہابی اقدام کے مقابل علمائے اسلام نے ہوشیاری اور بیداری کا ثبوت دیا اور آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی، آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی، آیت اللہ العظمی صافی‌گلپایگانی جیسے عظیم الشأن مراجع تقلید کے علاوہ متعدد سنی علمائے کرام نے تاکید فرمائی کہ اس سال کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی جانب سے "قومی اتحاد اور اسلامی یکجہتی کے سال کا نام دیا گیا ہے اور وہابی علماء کے فتاوی صہونیت کی سیاسی اغراض و مقاصد کی بنا پر جاری کئے جارہے ہیں.  اہل سنت کے علماء نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ یہ فتاوی نہ صرف اہل سنت و الجماعت کے نزدیک ناقابل قبول ہیں بلکہ اہل سنت کے تمام فرقوں کے نزدیک اہل بیت علیہم السلام کا مقام نہایت اعلی اور قابل احترام ہے.
ان فتاوی کے صہیونی ہونے کے حوالے سے جو بات ہمیں یاد آتی ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ سال حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی 33 روزہ جنگ میں سعودی عرب کے حکام نے اسرائیل کے ساتھ اتحاد کیا اور کفر و شرک کے خلاف جہاد کے مدعی وہابی مفتیوں نے صہیونیت کا مقابلہ کرنے والے حزب اللہ کے مجاہدین کے خلاف فتوے جاری کئے. سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے سربراہوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے والی اس جہادی قوت کو منظر سے ہٹانے کی غرض سے اسرائیلی سرغنوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کئے. بهر حال اسلام کے خلاف وہابیت کی لبادے میں صہیونیت کی جنگ  کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اس جنگ کے پہلو روز بروز روشن سے روشنتر ہورہے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.