انتظار کے ثمرات

327

فرزندان انتظار ضروری شرائط فراھم کرنے اور بیان شدہ مراحل طے کرنے کے بعد ان کے وجود میں وہ تراوت آجاتی ہے جس سے وہ دھیرے دھیرے اس کے ثمرات اور نتائج تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔وہ مشکلات میں صبر، اذیت و آزار اور مصیبتوں اور آلام سے گذر جاتے ہیں اور فتنہ و فساد اور غفلتوں کے مقابلے میں ذکر و فکر میں رہتے ہیں اور معاشرتی اصلاح ، اچھے مستقبل کے امیدوار ، حجت خدا کی اطاعت، دشمنوں کے اعتراضات کے مقابلے میں بصیرت اور ہوشیاری دکھاتے ہیں اب ہم انتظار کے کچھ ثمرات کو قارئین کے لئے بیان کرتے ہیں:
۱۔صبر:
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”من دین الآئمۃ الورع۔ ۔ ۔ و انتظار الفرج بالصبر” دین آئمہ میں سے پرہیزگاری اور صبر و شکیبائی سے انتظار فرج کرنا ہے [1]
زمانہ غیبت کے مشکل حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہر منتظر شیعہ مشکلات اور مصائب کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے اور اپنی حیثیت اور وجود کا دفاع کرے جو شخص اپنے مستقبل کے لئے پروگرامنگ کرتا ہے اور اپنے اھداف تک رسائی کے لئے ضروریات کا تعین کرتا ہے اور ان کے حصول کے راستے تلاش کرتا ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ ایک اچھا منصوبہ اور پروگرام اس کے کاموں کو جلد اور بہتر حل تک پہنچا سکتا ہے کیونکہ ایک عام پروگرامنگ کے ذریعہ رکاوٹوں کو بہتر طریقے سے جائزہ لیا جاسکتا ہے اور ان کو راستے سے ہٹانے کے لئے چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے ایسے لوگ مشکلات کا سامنا کرتے وقت نہ غافل ہوتے ہیں اور نہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے اور نہ ہی وہ داد و فریاد اور ذلت و خواری کا شکار ہوتے ہیں خوف کا سامنا کرنا ایک فطری امر ہے اور ہر انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اس سے دوچار ہوجاتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس سے کس طرح مستفید ہوا جائے طول تاریخ میں انسان نے خوف و ھراس کے ذریعہ قدرت حاصل کی (متفکرین حالیہ صعنتی تمدن کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا محصول قرار دیتے ہیں)اورمحبت و عشق کے ساتھ پہاڑوں کو تسخیر کیا ہے انسان نے مصائب و آلام سے پنجہ آزمائی اور مکرر تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ کس طرح خوف اور عشق کو طاقت کا جانشین بنایا جائے اور کیسے مصائب کا راہ حل تلاش کیا جائے حقیقی منتظر وہ ہے جو زمانہ انتظار کی مشکلات کی پیشگوئی کرسکے اور پھر ان کا حل بھی ڈھونڈ سکے تاکہ اس کا صبر واقعات و سانحات سے مغلوب نہ ہونے پائے۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
امام مہدی کے لئے ایسی غیبت ہے جس کے دوران ایک گروہ دین کو چھوڑ دے گا اور ایک گروہ دین کا پابند رہے گا اور اسے اذیت و آزار کا سامنا کرنا پڑے گا ، انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ امام مہدی کے ظہور کا وعدہ کب پورا ہوگا؟ لیکن وہ جو زمانہ غیبت میں ان مشکلات اور جھٹلائے جانے پر مضبوط رہے گا وہ گویا ایسے مجاہد کی مانند ہے جو رسول خدا کے ہمراہ تلوار سے جہاد کررہا ہو۔[2]
امام صادق علیہ السلام نے رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب قتل و غارت کے علاوہ حکومت ہاتھ نہ آئے گی اور مال و ثروت سوائے غصب اوربخل کے نہ ملے گا محبت اور دوستی دین سے خارج ہوئے بغیر حاصل نہ ہوگی پس جو بھی اس زمانے کو پائے اور اپنی تنگدستی پر صبرکرے اگرچہ لوگوں کی محبت کو جلب کرسکتا ہو اور ذلت و خواری پر صبر کرے جب کہ عزت دار بننے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسے شخص کو خداوند صدیق کے برابر جو میری تصدیق کرنے والے ہیں اجر و ثواب عطا کرے گا [3]
اس روایت میں عزت و ذلت سے مراد دنیاوی و ظاھری عزت و ذلت ہے ورنہ مومن تو ہمیشہ ہی عزت سے سرشار ہوتا ہے چاہے وہ فقر و تنگدستی میں ہو یاتونگری میں وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین[4]
امام کاظم علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں جو بھی صبر کرے اور منتظر رہے اسے فرج اور کامیابی حاصل ہوگی اور انتظار فرج کشادگی کا ایک حصہ ہے[5]
یہ مسئلہ ایک ایسا بنیادی اور حیاتی مسئلہ ہے کہ زمانہ انتظار کے صابرین کو مفلحین ڈرنے والوں اور کامیاب لوگوں سے تعبیر کیا گیا ہے[6]
قال رسول اللہ طوبی للصابرین فی غیبتہ اولئک وصفہم اللہ فی کتابہ فقال ”والذین یومنون بالغیب و قال اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون”۔
۲۔ذکر :
انتظار کا زمانہ مصائب و مشکلات کا زمانہ ہے ہر وہ چیز جو ایک شیعہ منتظر کے قلبی سکون اور روحانی تسکین کا باعث بنتی ہے اور اسے وسوسوں غفلت سے نجات دلاتی ہے وہ ذکر اور توجہ ہے انسان کی انسانیت دو عظیم چیزوں علم اور ذکر کی مرھون منت ہے علم کے ذریعہ و جہالت سے آزادی اور ذکر کے ذریعہ غفلت سے آزادی حاصل کرتا ہے انسان ایک مرحلہ میں جاھل ہوتا ہے اور اسے علم کی ضرورت ہوتی ہے لہذا اسے علم کی تلاش میں ہرطرف جانا ہوگا دوسری طرف سے حصول علم پر اس قدر زور دیا گیا ہے جو اس کی اہمیت کو دوگنا کردیتا ہے لیکن اس امر کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے کہ علم انسانی سعادت کے لئے ایک لازمی شرط ہے جبکہ اس کا ہونا انسان کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ حاصل کرنے اور سمجھنے کے بعد ایک اور خطرہ موجود ہے جسے غفلت اور بے خبری سے تعبیر کیا جاتا ہے اس مرحلہ میں علم کارساز نہیں بلکہ ذکر اور تذکر انسان کے لئے چارہ ساز ہوگا انتظار کرنے والا مومن بھی اس حقیقت سے علیحدہ نہیں ہے کیونکہ فتنہ و فساد اور وسوسوں کا وجود اسی دنیا میں ہے [7]
اور زمانہ غیبت میں ان کا حملہ کہیں زیادہ ہے اور فطری طور پر یہ دل کو دھلا دیتے ہیں اور غفلت کا باعث ہیں لہذا منتظر شیعہ کو چاہئے کہ وہ ذکر و توجہ سے انس رکھتا ہو اور اس سے روح کی قوت اور کلید حیات قلب اور دل کی نورانیت کے لئے مدد طلب کرے[8]
خدا کی خلقت میں دنیا کی بھی عجیب حکمت ہے کہ اس نے انسان کی کیا ہی اچھی تربیت کی ہے کہ وہ مادیت اور ھوا وھوس کے شدید دباؤ میں بھی ذکر، نورانیت، عبادت کی حلاوت اور خودباوری کو منتظر انسان کے لئے ھدیہ کرتا ہے اور یہی انتظار اور آمادگی کا ثمر ہےجو اس کے ہاتھ آگیا ہے۔
۳۔ اصلاح:
ایک ثمرہ جو ہر شیعہ منتظر میں نمودار ہوتا ہے وہ اپنی اصلاح اور بری صفات سے اپنے آپ کو خالی کرکے اخلاق حسنہ سے آراستہ کرنا ہے اور یہ حقیقی انتظار کا فطری نتیجہ ہے اس نے تاریخ میں کئی افراد کا نظارہ کیا ہے جنہوں نے سخت حالات میں اپنے ولی اور امام کو تنہا چھوڑ دیا اس نے تاریخ میں پائے جانے والے طلحہ و زبیر اور عمر سعد جیسوں کا مطالعہ کیا ہے لہذا وہ اپنی کمزوریوں کی طرف متوجہ ہے اور ان کی اصلاح کے درپے ہے منتظر شیعہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح سے صرف خود ہی درست نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک سماج کا حصہ ہے اور جانتا ہے کہ برا معاشرہ صالح فرد کو بھی بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے اس ضرورت کا احساس اسے معاشرتی اصلاح کی طرف راہنمائی کرتا ہے یہ دو علامتیں ہیں جنہیں پیغمبر اسلام(ص)نے کئی سال پہلے تاریخ کے سینے میں رکھ دیا کہ مسلمان کو صالح ہونا چاہئے ”المسلم من سلم المسلمون من یدہ و لسانہ”،[9]
اور مصلح بھی ہونا چاہئے ”من اصبح و لم یہتم بامور المسلمین فلیس بمسلم”،[10]
امام صادق علیہ السلام سے اس بارے میں منقول ہے کہ جو شخص بھی حضرت قائم کے انصار میں سے ہونا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ منتظر رہے اور اس حالت میں پرہیزگاری اور اخلاق حسنہ کو اپنا شعار بنائے[11]
امام عصر نے بھی زمانہ غیبت میں اپنے تمام شیعوں کو نیک اعمال انجام دینے اور برے اعمال سے دوری کی تلقین فرمائی ہے چونکہ ظہور آنحضرت اچانک ہوگا آپ فرماتے ہیں: تم میں سے ھر ایک کو چاہئے کہ وہ ہر کام جو ہماری محبت کا باعث بنے اسے اپنائے اور جوکام ہماری ناراضگی کا سبب ہو اس سے پرہیز کرے کیونکہ ہمارا فرمان اچانک ہو گا اور پھر اس وقت توبہ اور لوٹنا کسی کو فائدہ نہ دے گا اور گناہ پر پشیمانی کسی کو ہمارے غضب سے نجات نہ دلائے گی [12]
اس موضوع کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ مرحوم شیخ مفید کے نام حضرت صاحب امر کی طرف سے صادر ہونے والی توقیع میں بھی یہ وارد ہوا ہے کہ صرف وہ چیز جو ہمیں ان سے پنہان رکھے گی وہ ان کے ناپسندیدہ اعمال ہیں جو ان کی طرف سے ہم تک پہنچتے ہیں اور ہماری خوشی کا باعث نہیں ہیں اور جن اعمال کی ان سے توقع نہیں کی جاسکتی[13]
۴۔ امید:
انتظار فرج پر اھلبیت (ع)کی طرف سے اس لئے بہت تاکید آئی ہے کیونکہ اس سے منتظر شیعہ میں امید کی کرن پیدا ہوتی ہے اور یہی مستقبل کی بابت خوش بین ہونا ہی اس کی زندگی میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اگر کوئی یہ سوچ کے بیٹھ جائے کہ کوئی جدوجہد نتیجہ خیز نہیں ہے تو پھر اس کے اندر طاغوت اور ستمگروں سے جنگ کا کوئی انگیزہ باقی نہ رہے گا لیکن اگر کوئی مستقبل کی بابت امید لگائے ہو اور جانتا ہو کہ کبھی نہ کبھی زمین پر صلحاء کی حکومت قائم ہوگی اور معاشرتی امور کی اصلاح ہوگی اور ظلم و ستم کا جنازہ اٹھ جائے گا تو وہ ایسے آئیڈیل معاشرہ تک رسائی کے لئے دوسروں کی بھی تربیت کرے گا تاکہ حکومت کریمہ کا راستہ ہموار کرسکے انتظار کی کیفیت اور پیشوا کے حاضر ہونے کا یقین معاشرہ پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جب یہ پیشوا معاشرہ میں حاضر ہو تو امت کی راہنمائی اور معاشرتی امور پر نگرانی اس پر لازم اور ضروری ہے لیکن جب یہ رہبر کسی بنیاد پر جیل میں یا تبعید یا مریض ہو تو پھر بھی لوگ اس کے وجود کی امید پر ہاتھ میں ہاتھ دیئے مصروف عمل رہتے ہیں ۔
طول تاریخ میں جب زندہ اقوام کی تحریکوں کا مطالعہ کیا جائے تو جب تک کسی تحریک کا رہبر زندہ ہوتا ہے اگرچہ وہ قریب سے رہبریت کے فرائض انجام نہ بھی دے رہا ہوتو پھر بھی یہ تحریک متحد رہتی ہے لیکن جونہی اس کی وفات ہوجاتی ہے تو پھر اس کے پیروکاروں میں اختلاف اور گروہ بندی شروع ہوجاتی ہے لہذا انتظار کی کیفیت اور ایک زندہ حاضر و ناظر امام کے وجود پر عقیدہ رکھنا عوامی وحدت کے تحفظ اور انہیں ظلم و ستم کے خلاف تحریک چلانے کے لئے تیار کرنا بہت موثر ہے۔
۵۔ امام کی معیت:
ایک شیعہ منتظر کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنےگفتار و کردار اور سوچ میں اپنے امام کی اعلی صفات کے قریب ہو اس کا مقصد وہی ہوتا ہے جو امام کو پسند ہو اور اس فعل کو انجام دیتا ہے جس سے اس کا امام خوش ہوتا ہو یہی وجہ ہے کہ اس کا اخلاق لوگوں کو اس امام غائب کی یاد دلاتا ہے اور وہ اس قدر پسندیدہ صفات سے آراستہ ہوتا ہے کہ اپنے زمانے کے بہترین افراد میں اس کا شمار ہوتا ہے منتظرین امام سماجی اقدار میں اس قدر عدل و انصاف کے پابند ہوتے ہیں کہ لوگ عدالت اجتماعی کا جلوہ انہی میں دیکھ سکتے ہیں اور منتظرین یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کے نزدیک لوگوں میں سے سب سے زیادہ منفور وہ شخص ہے جو امام کی سیرت کو اپنائے نہ ان کے امور میں ان کی پیروی کرے[14]
دعاؤں میں سے ایک دعا جو منتظر شیعہ کی منظر کشی کرتی ہے اور ہمیں امام کی اپنے شیعوں سے توقعات سے آگاہ کرتی ہے وہ دعائے اللھم ارزقنا توفیق الطاعۃ و ۔ ۔ ۔ ہے[15]
اپنے وقت کے امام سے ہم آھنگی ہر قسم کے دنیاوی لگاؤ سے آزادی کا مرھون منت ہےاور اسی شرح صدر سے انسان کو عظمت حاصل ہوتی ہے اور پھر وہ ”واجعل لی مع الرسول سبیلا”،[16]کا ورد کرسکتا ہے کیونکہ جب تک کوئی اس حد تک کمال حاصل نہ کرپائے وہ رسول اللہ اور ان کے ولی علیہ السلام سے ھمراہی اور ھم آھنگ نہیں ہوسکتا ان بزرگان کی داستانیں ہمارے سامنے ہیں جو امام کے دیدار کا اشتیاق رکھتے تھے لیکن ان کی دنیا سے محبت امام موعود سے جدائی کا سبب بنا [17]
رسول خدا اور ان کے ولی سے معیت اور ھمرنگ ہونا ان کے اھداف سے عملی نگاہ کا طالب ہے اگر میرا نصب العین متاع دنیا ہے اور اسی زندگی پر رضایت حاصل کرنا ہے [18]
تو پھر امام کے مقاصد سے ھم آھنگی نہیں ہوسکتی اور امام کی معیت اور ان کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس ظاھری لگاؤ کو ترک کیا اور دنیا سے آزادی اختیار کی اور ایسی وسیع النظری حاصل کرلی تو پھر وہ اس دنیا میں محدود رہ ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ امام معصوم کی معیت اور ان کے خیمہ میں رہنے کی صلاحیت پیدا کرلیتے ہیں[19]
قال ابوعبداللہ علیہ السلام من مات منکم وھو منتظر لہذا الامر کمن ھو مع القائم فی فسطاطہ اگر کوئی تم میں سے اس حالت میں مرجائے کہ وہ امام زمانہ کی حکومت کا منتظر تھا تو وہ اس شخص کی مانند ہے جوامام قائم کے خیمہ میں تھا۔
۶۔ بصیرت:
منتظر مومن زندگی کے تمام پہلوؤں میں اپنے آپ کو تیار کرتا ہے جن میں سے ایک فکری اعتبار سے تیار رہنا ہے مومن منتظر کی فکری جدوجہد کا نتیجہ بصیرت اور معرفت کی صورت میں سامنے آتا ہے مختلف حوادث اور فتنہ و فساد غفلت کے علاوہ انسانی افکار میں تردد و تزلزل بھی ایجاد کرتے ہیں لیکن مکتب انتظار میں پروان چڑھنے والا شخص اپنی بصیرت کے باعث بیدار رہتا ہے کیونکہ اس نے علی علیہ السلام کی زبان مبارک سے یہ سن رکھا ہے کہ ”فانما البصیر من سمع فتفکر و نظر فابصر”،[20]
وہ جانتا ہے کہ آئین تشیع آغاز سے ہی دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے اور عصر غیبت میں تو اس میں بہت شدت آئی ہے انہوں نے زمانہ غیبت میں وحی رسول کی جگہ خالی دیکھ کر فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے لوگوں کی گمراہی میں پیش قدمی کی وہ جانتا ہے کہ اس دوران جہاں تک ممکن ہوسکے وہ آنحضرت کے آئین اور اھداف کا دفاع کرے اور دشمنوں کے اعتراضات کے دندان شکن جواب دے۔
منتظر شیعہ تاریخ کی آغوش میں ہے اور اس سے سبق لیتا ہے وہ سردار وفا حضرت ابوالفضل العباس ع کو اپنے لئے اسوہ قرار دیتے ہوئے درس بصیرت لیتا ہے[21]
منتظر مومن بیدار ہے اور خداوند نے اسے اتنی عقل و شعور دیا ہے کہ اس کے لئے زمانہ غیبت، عصر ظہور کی طرح ہے اور اس کی بصیرت کا یہ حال ہے کہ وہ زمانہ انتظار کے اعتراضات کا بہ آسانی جواب دے سکتا ہے امام سجاد علیہ السلام اسی مناسبت سے فرماتے ہیں یا ابا اخالد! ان اھل زمانہ القائلین بامامتہ والمنتظرین لظہورہ افضل من کل زمان لان اللہ تبارک و تعالی اعطاھم من العقول والافہام والمعرفۃ ما صارت بہ الغیبۃ عندھم بمنزلۃ المشاھدۃ[22]
اے ابا خالد زمانہ غیبت کے لوگ ان کی امامت کے معتقد اور ان کے ظہور کے منتظرہیں اور تمام زمانوں کے لوگوں سے بہتر ہیں کیونکہ خداوند نے انہیں اس قدر عقل و شعور دیا ہے کہ ان کے لئے غیبت ظہور کی طرح ہے۔
فرزند انتظار کی معرفت اس معیار پر پہنچ چکی ہے کہ وہ اپنی آمادگی اور تیاری کے ساتھ کسی قسم کے اعتراض اور شبہ کا راستہ بند کردیتا ہے اور اپنی روح و قلب کو ہر قسم کے شر سے محفوظ کرلیتا ہے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: طوبی لمن تمسک بامرنا فی غیبۃ قائمنا فلم یزغ قلبہ بالھدایۃ[23]
خوشخبری ہے ایسے شخص کے لئے جو ہمارے قائم کے زمانہ غیبت میں ہمارے فرمان سے متمسک رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کا ھدایت یافتہ دل باطل کی طرف نہیں جھکتا منتظر شیعہ ایسی معرفت اور بصیرت سے لبریز ہوتا ہے کہ اسے ایمان میں کمال اور یقین میں عظمت کا لقب دیا گیا ہےپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اے علی: جان لو کہ لوگوں میں باکمال اور ایمان میں صاحب عظمت وہ گروہ ہے جنہوں نے آخرالزمان میں پیغمبر(ص)کو نہیں دیکھا اور اپنے امام علیہ السلام سے دور ہیں[24]
بحث کے اس مرحلے میں مناسب ہوگا کہ شبہات و اعتراضات کے تین نمونے پیش کردیئے جائیں :
پہلا نمونہ: ایک اعتراض جو مختلف مجالس ، محافل اور جرائد میں بیان کیا گیا ہے وہ شدت پسندی کی بحث ہے بالخصوص کچھ ایسی روایات بھی ہیں جو زمانہ ظہور میں شدت پسندی پر دلالت کرتی ہیں امام باقر علیہ السلام سے روایت منقول ہے کہ لیس امرہ الا السیف[25]
آپ کا کام صرف اور صرف تلوار کے بل بوتے پر ہوگا
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ لایعطھم الا السیف یضع علی عاتقہ ثمانیۃ اشھر ھرجا حتی یقولوا واللہ ما ھذا من ولد فاطمہ لوکان من ولدھا لرحمنا[26]
وہ تلوار کے ذریعے ان سے برخورد کریں گے بحرانی دور میں وہ آٹھ ماہ تک تلوار چلائیں گے حتی کہ لوگ کہیں گے کہ خدا کی قسم وہ فرزند زھراء نہیں ہیں اگر فرزند زھراء ہوتے تو ہم پر رحم کرتے۔
لہذا وہ باتیں جو آخری امام کے قیام کی بابت کی گئی ہیں وہ صحیح ہوں تو ظہور کا وجود ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا جس کا نتیجہ صرف اور صرف یہی ہوگا کہ ایک شخص پورے کرہ ارض پر قابض ہوگا اور اپنا سخت گیر موقف تمام انسانوں پر تحمیل کرے گا۔
اس کے جواب میں کہا جاسکتاہے کہ اسلامی تفکر میں طاقت کا حصول انسانی اختیار اور آزادی کی بنیاد پر ہے نہ اجبار و تحمیل پر اور اسلامی انتظام و مدیریت توافق کے اسلوب پر استوار ہے نہ کہ تلوار کے زور پر یا تحقیر کرکے ، حکومت دینی کا رویہ اپنے شہریوں سے محبت اور عطوفت کی بنیاد پر ہے نہ کہ شدت پسندی پر، جنگیں اور ٹکراؤ کا مرحلہ تبین اور صفوں کی علیحدگی کے بعد ہے، تہذیبوں کے مابین گفتگو اور ادیان کا آپس میں لین دین کبھی جنگ و جدال تک بھی پہنچ جاتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ یہ تہذیبوں کے مابین گفتگو ھمیشہ انسانی مصلحتوں کے مطابق اختتام پذیر ہو، دوسری طرف سے ضروری نہیں ہے کہ پہلا مرحلہ بات چیت ہی ہو بلکہ اس سے پہلے کہ گفتگو کی جائے منصوبے کے تحت ٹکراؤ یا محبت کی بنیاد پر فضا ہموار کی جائے اور پھر بات چیت کی جائے اور پھر فرصت دی جائے کہ وہ سوچ سمجھ کر آگے بڑھیں اس کے بعد صف آرائی اور برسر پیکار ہونے کا مرحلہ آتا ہے وہ ممکن ہے کہ ہم سے بھی مقابلہ کریں کیونکہ یہاں بات مفادات اور مقاصد کے اختلاف کی ہے فکر اسلامی یہ ہے کہ جنگ کی صورت گذشتہ مراحل گذارنے کے بعد پیش آتی ہے جنگ صفین میں امیر المومنین نے بہت تعلل اور دیر کی حتی کہ بعض اصحاب امام علی نے سوچا کہ خود امام کو شک ہے اور وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تو پھر آنحضرت نے فرمایا نہ میں اس لئے ایسا نہیں کررہا کہ مجھے شک ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ممکن ہے اس وقت بھی کوئی شخص بیدار ہو جائے اور ہدایت کی طرف آنکلے ۔
اس بیداری اور معرفت کے بعد شدت پسندی نہیں آتی بلکہ قاطعیت آجاتی ہے یہ وہ امور ہیں جو عقل و منطق کے عین مطابق ہیں اور انسانی کرامت بھی انہیں سے محفوظ رہتی ہے شدت پسندی یہ ہے کہ کسی کو مہلت دینے سے پہلے ھدایت کے بغیر اور فکر و انتخاب کی فضا ھموار کرنے سے پہلے مقابلہ شروع کردیا جائے لہذا مذکورہ مراحل گذارنے کے بعد یہ شدت پسندی نہیں کہلائے گی حضرت مہدی اسی اسلوب کے ساتھ عام لوگوں سے برتاؤ کریں گے لیکن وہ لوگ جو دشمن ہیں اور حق و حقانیت کو سمجھ کر اس سے مقابلے کے درپے ہیں اگر ان کا راستہ نہ روکا جائے تو وہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور اسے منحرف کردیں گے واضح ہے کہ ان کے ساتھ نرمی برتنا درست نہیں ہے بلکہ عقلی بنیاد پر بھی ایسے ستمگر اور ظالموں سے جو لوگوں اور خدا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ان سے مقابلہ کی ضرورت ہے پس حضرت مہدی(عج) کا تلوار چلنا بھی حقیقت رکھتا ہے اور آپ کی رافت اور مہربانی بھی اپنے مقام پر صحیح ہے دوسرے الفاظ میں طاقت کے بل بوتے پر تلوار چلانا اور عدل و انصاف کی خاطر تلوار چلنا ان دونوں میں فرق ہے مھدی کی تلوار نہ طاقت کے حصول کے لئے ہے اور نہ طاقت کے تحفظ کے لئے بلکہ عدل و انصاف کے قیام کے لئے ہے اگر یہ تلوار طاقت کے تحفظ کے لئے ہوتی تو پھر زمانہ غیبت کا وجود نہ ہوتا اور اگر ان کی تلوار طاقت کے حصول کی خاطر ہوتی تو پھر زمانہ انتظار کا کوئی مفہوم نہ ہوتا۔
دوسرا نمونہ:
منتظر مومن ہمیشہ بے راہ روی کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کی شناخت کے بعد اس کے منفی آثار کو زائل کرتا ہے یقینی طور پر بے راہ روی کی ایک بارز مثال حضرت مہدی کو دیکھا اور ان سے ملاقات کا مسئلہ ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت ساری محفلیں اسی نمونے سے سجائی جاتی ہیں جن میں آنحضرت سے ملاقات وغیرہ کی حکایت کو بغیر کسی سند و مصدر کے بیان کیا جاتا ہے اس بات پر توجہ انتہائی ضروری ہے کہ اس کام کے چند منفی اثرات ہیں (۱)لوگوں کی معرفت اور ان کے ایمان کو بہت نچلی سطح پر لے آتا ہے اور ان کے اعتقادات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ فورا انہیں منحرف کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایسے لوگ جو صرف ایک خواب کی وجہ سے مہدویت کے عنوان پر مجذوب ہوگئے ہیں اگر انہیں ذرا سا شک و شبہ کا شکار کیا جائے تو فورا متزلزل اور پریشان ہوجاتے ہیں(۲) یہ ایسے مطالب ہیں جو بیان کرنے والوں اور سامعین کو ان کی ان ذمہ داریوں سے غافل اور دور کردیتے ہیں جو حضرت حجت کی بابت ان کے کندھوں پر عائد ہوتی ہیں اور ہمیشہ اس چیز کے درپے رہتے ہیں کہ کون سی دعا اور توسل کیا جائے جس سے آنحضرت سے ملاقات ہوسکتی ہے اور اگر ایسے افراد ا پنی اس آرزو کو حاصل نہ کرپائیں تو پھر ناامید اور مایوس ہوجاتے ہیں (۳)ان مطالب کو بیان کرنے سے ایک اور خطرہ جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ مہدویت کے بارے عقیدہ کو ان لوگوں کے لئے جو ابھی تک شیعہ حقائق اور نظریہ مہدویت کی گہرائیوں کو نہیں جانتے ایک موھوم اور خرافاتی نظریہ بنا دیا جاتا ہے [27]
تیسرا نمونہ:
شاید یہ اعتراض کئی بار قارئین کے ذہن میں بھی آیا ہو کہ مستکبرین کی اتنی بڑی طاقت سے مقابلہ کرنا کیسے ممکن ہے جب کہ ہم اس قدر ضعیف اور اختلاف کا شکار ہیں اور اس سے نیوورلڈ آرڈر سے مقابلہ کرنا بہت مشکل لگتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر منتظرین امام بصیرت سے نہ سوچیں گے اوراپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کریں گے تو پھر یہ ظلم و جور [28]عدل و انصاف کے لئے حالات فراھم کرے۔
دوسری طرف سے سہولیات کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی بلکہ وہ انگلی اور آلہ اہم ہوتا ہے جو ان سہولیات سے استفادہ کرتا ہے اور پھر اس انگلی میں وہ اعصاب اہم ہیں جو انگلی کو حرکت میں لاتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر وہ مغز اور دل ہیں جو ان سب پر حکم فرما ہیں اور جب ان دو بنیادی عناصر پر حملہ ہوجاتا ہے تو پھر یہ خود ھی پوری عمارت کو خراب کردیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں جس طرف سوچتے بھی نہ تھے خدا نے انہں وہاں سے دبوچ لیا ہے اور ان کے دلوں کو خوفزدہ کردیا ہے[29]
یہ رعب و وحشت کہاں سے ناشی ہوتی ہے سنلقی فی قلوبھم الرعب[30]
ہم جلد ہی ان کے دلوں میں وحشت ڈال دیں گے۔
”بما اشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطانا”،[31]
اور یہ رعب ان کے شرک اور باطنی توانائی کے بکھر جانے اور ان کے بے شمار خودساختہ بتوں کی بابت ہے اور یہ شرک (نائین الیون کا واقعہ اگر ان آیات کا واضع مصداق قرار نہ پائے تو لااقل امریکہ جیسی سپر پاور کی ناتوانی اور بے بسی کا واضح ثبوت ہے جس نے یہ بتا دیا کہ اس قدر وسیع پروپیگنڈے کے بعد بھی وہ اندر سے خالی ہے اور ادنی اشارے سے تباہ و برباد ہوسکتا ہے)اور یہ رعب و وحشت ایسی واضح نشانیاں ہیں کہ جنہوں نے آج بھی طاقتور انسان کا محاصرہ کرکے اسے بے بس کردیا ہے [32]
اس سے بڑھ کر یہ کہ کوئی ایسی روایت نہیں ہے جس میں یہ آیا ہو کہ امام مہدی(عج) جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کریں گے بلکہ احادیث اس بات کی تائید میں ہیں ان صاحبکم لیرکب السحاب ویرقی فی الاسباب و ینزل العراق فی سبع قباب من النور لایعلم بایھا ھو؛ [33]
تمہارا رہبر بادلوں پر سوار ہوگا اور جدید وسائل سے اوپر جائے گا اور جب حجاز سے عراق میں وارد ہوگا تو سات نورانی گنبد ہوں گے کہ معلوم نہ ہوسکے کہ وہ کس میں ہیں ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ”ان اللہ عزوجل اعطی ذی القرنین السحاب الذلول و ادخر الصحب لصاحبکم سالتہ ما الہوا الصعب قال الذی فی رعد و قذف وبرق”،[34]
پروردگار نے ذی القرنین کو بادل اور نرم و ملائم ہوا عطا کی ہے اور اس نے تمہارے رہبر کے لئے اسے سختی اور مضبوطی سے ذخیرہ کیا راوی کہتا ہے میں نے آنحضرت سے عرض کیا یہ سخت ہے آپ(ص) نے فرمایا ایسی فضا جو آسمانی گرد و چمک اور خوف سے مخلوط ہو۔
[1] ۔بحار الانوار ج۵ ص ۱۲۲
[2] ۔بحار الانوار ج۵۱ ص ۱۳۲
[3] ۔کافی ج۲ ص۹۱ ح۱۲
[4] ۔منافقون۸
[5] ۔مکیال المکارم ج۲ ص۴۱۱۔۴۲۶
[6] ۔بحار الانوار ج۵۲، ص۱۴۳
[7] ۔حدید ۲۰ اعلموا ان الحیاۃ الدنیا لعب و لہو و زینۃ و تفاخر بینکم
[8] ۔میزان الحکمۃ ج۳ ص ۴۱۷، ۴۱۸ ، روایات میں ذکر کو روح کی قوت اور چابی دل کی جلا اور قلب کی نورانیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[9] ۔من لا یحضرہ الفقیہ ج۴ ص ۳۵۸
[10] ۔کافی ج۲ ص ۱۶۳ ح۱ ص ۱۶۴ ح۵
[11] ۔الغیبۃ نعمانی ص۲۹۱ ح ۱۶ بحار الانوار ج۵۲ ص۱۴۰ ح ۵۰
[12] ۔احتجاج طبرسی ج۲ ص ۳۲۲
[13] ۔احتجاج طبرسی ج۲ ص ۳۲۲
[14] ۔کافی ج۸ ص ۲۳۴
[15] ۔مفاتیح الجنان دعائے امام زمانہ عج
[16] ۔مفاتیح الجنان ماہ مبارک رمضان میں نماز کی تعقبیات
[17] ۔انتظار اور انسان معاصر عزیز ا للہ حیدری ص ۷۱۔ ۷۳
[18] ۔یونس ۷ ان الذین لایرجون لقائنا رضوا بالحیاۃ الدنیا واطمأنوا
[19] ۔بحار الانوار ج۴۲ ص ۱۲۶
[20] ۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۹ ص ۱۵۸
[21] ۔مفاتیح الجنان زیارتنامہ حضرت ابوالفضل اشھد انک مغیت علی بصیرۃ من امرک
[22] ۔کمال الدین ص۳۳۰
[23] ۔بحارالانوار ج۵۲ ص ۱۲۲
[24] ۔من لایحضرالفقیہ ج۴ ص۳۶۶ وسایل الشعیہ ج۱۸ ص۶۵
[25] ۔کافی ج۸ ص۳۶۲
[26] ۔الغیبۃ نعمانی ص۲۸۴ ح۶
[27] ۔منقول از ماھنامہ موعود شمارہ ۲۷ ص۲۸
[28] ۔عبارت گنگ ہےص۹۳
[29] ۔فاتاھم اللہ من حیث لم یحتسبوا حشر ۲
[30] ۔احزاب ۲۶
[31] ۔آل عمران ۱۵۱
[32] ۔تومی آئی علی صفای حائری ص۲۸
[33] ۔ماھنامہ موعود میں حجۃ الاسلام کورانی سے انٹرویو سے اقتباس شمارہ ۲۵
[34] ۔وہی مصدر
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.