عصمت اورعلم امامت نیزامام کی تعیین کاطریقہ

320

قرآن اور عصمت اما م (وَاِذابتلیٰ اِبراہیمَ رَبُّہُ بِکلماتٍ فَأَتَمَّھُنَّ قالَ اِنِّی جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّیَّتِی قَالَ لَا یَنالُ عَھدیِ الظَّالَمِینَ)اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ ابراہیم کاامتحان لیا اور انھو ںنے پوراکردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کاامام اورقائد بنا رہے ہیں انھوںنے عرض کیا کہ کیا یہ عہدہ میری ذریت کو بھی ملے گا؟ارشاد ہو اکہ یہ عہدئہ امامت ظالمین تک نہیں پہونچے گا ۔(١)
ظالم اور ستمگر کون ہے ؟اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ اس بلند مقام کاحقدار کو ن ہے او ر کون نہیں ہے یہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآن نے کسے ظالم کہا ہے ۔؟کیونکہ خدانے فرمایاہے :کہ میرا یہ عہدہ ظالمین کو نہیں مل سکتا ۔قرآن نے تین طرح کے لوگو ں کو ظالم شمار کیاہے ۔١۔ جولوگ خد ا کا شریک مانیں (یَا بُنََّ لَاتُشرِک باللَّہِ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلمُ عَظِیمُ) لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا:بیٹا خبردار کسی کو خد ا کاشریک نہ بنانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (2)٢۔ ایک انسان کادوسرے انسان پر ظلم کرنا:(اِنَّما السَّبیلُ عَلیٰ الَّذینَ یَظلِمُونَ النَّاسَ وَیَبغُونَ فِی الأَرضِ بِغَیرِ الحَقِّ أُولئِک لَھُم عَذَابُ ألِیمُ )الزام ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں پھیلا تے ہیں انہیں لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (3) ٣۔ اپنے نفس پر ظلم کرنا:(فَمِنھُم ظَالمُ لِنَفسِہِ وَمِنھُم مُقتَصِدُ وَمِنھُم سَابِقُ بِالخَیراتِ) ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض اعتدال پسند ہیں اور بعض خداکی اجازت سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں ۔(4)انسان کو کمال تک پہنچنے اور سعادت مند ہو نے کے لئے پیدا کیا گیاہے، اب جس نے بھی اس راستہ سے روگردانی کی او رخدا ئی حد کو پار کیا وہ ظالم ہے (وَمَنْ یَتعَدَّ حُدُودَاللَّہِ فَقَد ظَلَمَ نَفسَہُ)جس نے بھی خدا کے حکم سے روگردانی کی، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ (5) قرآن میں ان تینوں پر ظلم کااطلاق ہوتاہے لیکن حقیقت میں پہلی اوردوسری قسم کے ظلم کااطلاق بھی اپنے نفس ہی پر ہوتاہے ۔نتیجہ :چار طرح کے لوگ ہیں ١۔ جوابتداء زندگی سے لے کر آخر عمر تک گناہ اور معصیت کے مرتکب ہوتے رہے ۔٢۔ جنہو ںنے ابتداء میں گناہ کیا،لیکن آخری وقت میں توبہ کر لیا اورپھر گناہ نہیں کرتے ۔٣ کچھ ایسے ہیں جو ابتدا میں گناہ نہیں کرتے لیکن آخری عمر میں گناہ کرتے ہیں۔ ٤۔ وہ لوگ جنہوں نے ابتداء سے آخر عمر تک کوئی گناہ نہیں کیا۔قرآ ن کی رو سے پہلے تین قسم کے لوگ مقام امامت کے ہرگز حقدار نہیں ہوسکتے ،کیو نکہ ظالمین میںسے ہیں اور خدا نے حضرت ابراہیم سے فرمایاکہ ظالم اس عہدہ کا حقدار نہیں بن سکتا، لہٰذا مذکورہ آیة سے یہ نتیجہ نکلاکہ امام او ررہبر کو معصوم ہونا چاہئے اور ہر قسم کے گناہ او رخطا سے پاک ہو اگر ان تمام واضح حدیثوں کو جو رسول اسلام سے امام علی اور گیارہ اماموں کی امامت کے سلسلہ میں ہیں، یکسر نظر اندا ز کر دیا جائے، تب بھی قرآن کی رو سے مسند خلا فت کے دعویدار افراد خلا فت کے مستحق او رپیغمبر کی جانشینی کے قابل بالکل نہیں تھے کیو نکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ظالم کے حقیقی مصداق تھے اور خدا نے فرمایا ہے کہ ظالموں کو یہ عہدہ نہیں مل سکتا اب فیصلہ آپ خو د کریں! ١۔ وہ لوگ جو ابتداء عمر سے ہی کافر تھے ۔ ٢۔ وہ لوگ جنہو ں نے بشریت پر بالخصوص حضرت علی وفاطمہ زہرا ۖ پر ظلم کیا ۔ ٣۔وہ لوگ جنہو ںنے خو د اعتراف کیا کہ میں نے احکام الٰہی کی مخالفت کی اور اپنے نفس پر ظلم کیا ، کیا ایسے لوگ پیغمبر اکرم ۖ کے خلیفہ اور جانشین بن سکتے ہیں۔ ؟علم امام امام کو چاہئے کہ وہ ان تمام احکام وقوانین کوجانتا ہو جولوگوں کے لئے دنیا اور آخرت کی سعادت کے لئے ضروری ہیں یعنی امام کا علم اہل زمین کے تمام لوگو ں سے زیادہ ہو، تاکہ وہ رہبری کا حقدار بن سکے وہ تمام دلیلیں جو امام کی ضرورت کے لئے ہم نے بیان کی ہیں، وہی یہاں بھی امام کے افضل واعلم ہونے پر دلالت کر تی ہیں، قرآن نے اس کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے :(أَفَمَنْ یَھدِی اِلیٰ الحَقِّ أَحَقُ أنْ یُتَّبَعَ أمَنَ لَایَھدِّیِ اِلَّا أنْ یُھدیٰ فَما لَکُمْ کَیفَ تَحکُمُونَ)او رجو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابل اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے آخر تمہیں کیا ہوگیاہے اورتم کیسے فیصلے کر رہے ہو۔ (6) اما م کے تعیین کا طریقہ جب ہم نے امام کے صفات اور کمالات کوپہچان لیاتو اب یہ دیکھنا ہے کہ ایسے امام کو کس طریقہ سے معین ہونا چاہئے۔آج کل کی دنیا میں ذمہ دار اور عہدہ دار کے چننے کابہترین طریقہ انتخا بات ہے( چنائو کے ذریعہ ) البتہ یہ چناؤ را ہ حل تو ہوسکتا ہے لیکن ہمیشہ راہ حق نہیںہوتا کیونکہ چنائو واقعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا نہ حق کو باطل اور نہ باطل کو حق بنا سکتا ہے،ہر چندکہ عملی میدان میں اکثریت کو مد نظر رکھا جاتاہے لیکن یہ چنے ہو ئے فرد کی حقانیت کی دلیل نہیں ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ انتخابات میں بعض لوگ اکثریت کے ذریعہ چنے گئے پھر تھوڑے یازیادہ دن کے بعدیہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ انتخاب اور چنائوسے آنے والا شخص غلط تھا حقیقت یہ ہے کہ ہم علم غیب یاآئندہ کی بات نہیں جانتے لوگوں کے باطن کے سلسلہ میں ہم کس طرح حتمی فیصلہ یا صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں۔؟لہٰذا کبھی بھی اکثریت حق کی دلیل اور اقلیت باطل کی دلیل نہیں بن سکتی دوسری طرف قرآن نے تقریبا ً اسی مقامات پر اکثریت کی مذمت کی ہے اور سورہ انعام کی آیة ١١٦ میں ارشاد ہوتا ہے:(وَأنْ تُطِع أَکثَرمَنْ فیِ الأرضِ یُضلُّوکَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ اِن یَتَّبِعُونَ اِلاَّالظَّنَّ وَاِن ھُم اِلَّایَخرصُوُنَ)اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کریں گے تویہ راہ خدا سے بہکا دیں گے یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں۔اس سے ہٹ کر امامت اوررہبری کاکام فقط دین اور سماجی زندگی کو چلانے کا نام نہیں ہے بلکہ امام دین کا محافظ اور دین ودنیا میںلوگوں کی حفاظت کرنے والا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ ہرگز گناہ وخطا سے معصوم ہواور تمام لوگوں میں افضل واعلم ہو اور ایسے شخص کو لوگ نہیں چن سکتے کیونکہ لوگوں کو کیا معلوم کہ کو ن شخص صاحب عصمت اور علوم الٰہی کاجاننے والا اوردوسری فضیلتوں کامالک ہے تاکہ اسے چنا جائے چونکہ صرف خدا انسان کے باطن اور مستقبل سے باخبر ہے لہٰذا اس کو چاہئے کہ بہترین شخص کو اس مقام کے لئے چنے اور اسے اس کی شایان شان کمال سے نواز کر لوگوں کے سامنے پہچنوائے ۔امام کیسے معین ہوگا ؟رسول کے بعد امامت وپیشوای یعنی کار رسالت کوانجام دینا،امام اوررسول میںبس فرق یہ ہے کہ رسول بانی شریعت اور صاحب کتاب ہوتاہے اور امام اس کے جانشین کی حیثیت سے محا فظ شریعت اور اصول دین وفروع دین کابیا ن کرنے والا اورنبوت کی تمام ذمہ داریوں کونبھانے والاہوتا ہے جس طرح نبی کاانتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح امام کاانتخاب بھی خدا کی جانب سے ہوناچاہئے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیة ١٢٤ میںہے کہ امامت عہدخداوندی ہے اورخدا کاعہدہ انتخاب اور چنائو سے معین نہیں ہوسکتا کیونکہ چنائو اورشوری لوگوں سے مربوط ہے۔جن دوآیتوں میںمشورت کا ذکر کیاہے وہاں لفظ امر آیا ہے (وَأَمرُھُم شُوریٰ بَینَھم )(وشَاورْھُم فیِ الأَمرِ) ان دو آیتوں میں جومشورت کے لئے کہاگیاہے وہ معاشرتی امور لوگو ں کے لئے ہے اور یہ خدا کے عہدوپیمان میں شامل نہیں ہو گا سورہ قصص کی ٦٨ آیة میں ارشاد ہوتا ہے(و َرَبُّک یَخلُقُ مَا یَشائُ وَ یَختَارُ مَا کَانَ لَھُمُ الخِیَرةُ)اور آپ کا پرور دگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتاہے اور پسند کرتاہے ۔ ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کاکوئی حق نہیں ہے مرحوم فیض کاشانی تفسیر صافی میں اس آیت مذکورہ کے ذیل میں حدیث نقل کرتے ہیں کہ: جب خداوند عالم کسی کو امامت کے لئے منتخب کردے تو لوگ دوسرے کی طرف ہرگز نہیں جاسکتے اور دوسری حدیث میں ارشاد ہوا : چنائو میں خطا کے امکان کی بناپر اس کی اہمیت کم ہو جا تی ہے صرف خدا کاچناہوا اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے چونکہ صرف وہ ہمارے باطن اور مستقبل کوجانتا ہے لمّاکَانَ النبّیِّ یَعرضُ نَفسَہُ علیٰ القبائل جائَ الیٰ بنَی کلابِ فقالوا : نُبایعک علیٰ أَن یکون لنا الأمر بعَدک فقال: الأَمر للَّہ فاِن شاَء کان فیکم أَوفیِ غیرکم ،جس وقت پیغمبر اکرم ۖ قبیلوں میںجاکر لوگوں کو دعوت دیتے تھے جب قبیلہ بنی کلاب میں گئے تو ان لوگوں نے کہا ہم اس شرط پرآپ کی بیعت کریں گے کہ امامت آپ کے بعد ہمارے قبیلہ میں رہے حضرت نے فرمایا: امامت کی ذمہ داری خداکے ہاتھ میں ہے اگروہ چاہے گا تو تم میں رکھے گا یاتمہارے علاوہ کسی او ر میں۔ (7)…………..(١) سورہ بقرہ آیة: ١٢٤ (١)سو رہ لقمان آیة: ١٣ (٢) سورہ شوری آیة: ٤٢ (٣) سورہ فاطر آیة: ٣٢ (١) سورہ طلا ق آیة: ١ (١) سو رہ یونس آیة :٣٥ (١) بحارالانوار جلد،٢٣ ص ٧٤

 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.