مولا ئے کا ئنا ت کی امامت اور آیة تبلیغ

301

(یَاأَیُّھا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنِزلَ اِلیکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتہُ وَاللَّہُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللَّہ لَا یَھدِی القَومَ الکَافِرِین)اے پیغمبر!ٍ آپ اس حکم کوپہنچادیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ۔(١)خطاب کا انداز بتا رہا ہے کہ کو ئی اہم ذمہ داری ہے کہ جس کے چھو ڑنے سے رسالت ناقص ہو جائیگی اور یہ آیت یقینا توحید یا جنگ یادوسری چیزوں کے واسطے نہیں تھی چونکہ اس آیت کے نازل ہو نے سے پہلے یہ تمام مسائل حل ہو چکے تھے کیونکہ یہ آیت پیغمبر کی زندگی کے آخری وقت میں نازل ہو ئی ہے بغیر کسی شک کے یہ آیت مسئلہ امامت اور جانشین پیغمبر سے متعلق ہے۔ یہا ںتک کہ اہل سنت کے بے شمار علماء ،مفسرین اور مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مذکو رہ آیت…………..(١)سورہ مائدہ آیة: ٦٧
واقعہ غدیر اور مولا ئے کا ئنا ت کے لئے نازل ہوئی ہے مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب مقدس الغدیر میں حدیث غدیرکو ١١٠ صحابہ سے اور ٣٦٠ بزرگ علماء اور مشہو ر اسلا می کتابو ں سے نقل کیاہے اورکسی نے اس حدیث کے صدور پر شک نہیں کیا ہے اگر آیة تبلیغ اور حدیث غدیر کے علا وہ کوئی دوسری آیت یا حدیث نہ بھی پا ئی جاتی تب بھی مولائے کا ئنات کی خلا فت بلا فصل کو ثابت کرنے کے لئے یہی دوآیتیں کا فی تھیں اس کے باوجود بے شمار آیتیں مولا ئے کا ئنا ت اور ان کے فرزندوں کی امامت کے سلسلہ میں نازل ہو ئی ہیں اورہمارا اعتقاد ہے کہ پوراقرآن مفسر اہل بیت ہے اور اہل بیت مفسر قرآن ہیں اور حدیث ثقلین کی نظر سے یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ،اس سلسلہ میں روائی تفسیروں میںمن جملہ نورالثقلین ،تفسیر برہان ،تفسیر عیاشی اور کتاب غایة المرام او ر دوسری بہت سی کتابو ں میں دیکھ سکتے ہیں ہم یہیں پر اس بحث پر اکتفا کرتے ہو ئے بحث کو مکمل کرنے کے لئے مشہور حدیث غدیر کو نقل کرتے ہیں ۔
مولا ئے کا ئنات کی امامت اور حدیث غدیرپیغمبر اسلام ۖ ١٠ھمیں مکہ کی طرف حج کے قصد سے گئے یہ پیغمبرۖ کا آخری حج تھا لہٰذا تاریخ میں اسے حجة الوداع بھی کہتے ہیں اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ ایک لا کھ بیس ہزار صحابی تھے مدینہ کی طرف واپسی پر ١٨ ذی الحجہ کو غدیر خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے ) میں جبرئیل نازل ہو ئے او راس آیت کو پیش کیا (یَاأَیُّھاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنِزلَ اِلیک مِنْ رَبِّک وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتہُ وَاللَّہُ یَعصِمُک مِنَ النَّاس اِنَّ اللَّہ لَا یَھدِی القَومَ الکَافِرِین)قبل اس کے کہ مسلمان یہا ں سے جداہو ں پیغمبر اسلام ۖنے سب کو رکنے کاحکم دیا جوآگے بڑھ گئے تھے انہیں پیچھے بلا یا اورجو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظارکیا بہت گرم اور جھلسا دینے والی ہوا چل رہی تھی مسلمانوں نے نماز ظہر پیغمبر اسلام کی امامت میں ادا کی، نماز کے بعد آنحضرت نے طویل خطبہ پڑھااور اس کے ضمن میں فرمایا :میں جلد ہی خدا کی دعوت پر لبیک کہنے والا ہوں اور تمہارے درمیان سے چلاجائو ں گا پھر فرمایا :اے لوگوں! میری آواز سن رہے ہو سب نے کہا ،ہاں ، پیغمبر اسلام ۖنے فرمایا :یَا أَیُّھاالنَّاس مَن أولَیٰ النّاس بالمُؤمنین من أ نفسھم اے لوگو! مومنین کے نفوس پر کون زیادہ حقدار ہے ، سب نے ایک آواز ہوکر کہا خدا اوراس کا رسول بہتر جانتا ہے حضرت نے فرمایا خدا میرا رہبر ومولاہے اور میں مومنین کارہبر ومولاہوں او رمومنین پر ان سے زیادہ میراحق ہے پھر مولا ئے کا ئنا ت کو ہاتھو ں پہ بلند کیا اور فرمایا: ”مَنْ کنت مولاہ فعلِّمولاہ”جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں اس جملہ کو تین بار دہرایا پھر آسمان کی طرف سر کو بلند کیا اور فرمایا:”اللَّھمَّ والِ مَن وَالاہ وعاد مَنْ عاداہ وانصر من نصرہ واخذل مَن خذلہُ”خدا یا! تو اس کو دوست رکھ جو اس (علی )کو دوست رکھے تو اس کی مدد کر جو اس کی مددکرے تواس کو رسواوذلیل کر جوان کی عزت نہ کرے پھر فرمایا : تمام حاضرین غائبین تک یہ خبر پہونچا دیں ابھی مجمع چھٹا نہیں تھا کہ جبرئیل نازل ہو ئے اور اس آیت کی پیغمبر پر تلا وت کی :(الیَومَ أکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَأَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِ وَرَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دیناً)”آج میں نے تمہارے لئے دین کوکامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتوں کوتم پر تمام کر دیاہے او رتمہارے دین اسلام سے راضی ہوگیا”۔ (١)اسی وقت پیغمبر اسلامۖ نے فرمایا :اللَّہُ أَکبرُ اللّّہ أکبرُ علیٰ ٰاِکمال الدِّین واِتمام النّعمة ورِضیٰ الرّب برسالتِوالولایة لعلیّ مِن بعدیِ اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے دین کو کامل کرنے ،اور اپنی نعمتوں کے تمام کرنے اورمیری رسالت پر راضی ہونے ،اور میرے بعد علی کی ولایت پر راضی ہو نے پر ، اسی وقت لوگو ں کے بیچ ایک خبر گشت کرنے لگی او ر تمام لوگ مولائے کائنا ت کو اس مقام و منزلت پر مبا رک باد پیش کرنے لگے یہاں تک عمر نے لوگو ں کے درمیان مولا ئے کا ئنا ت سے کہا: ”بخِِ بخِِ لَک یابنَ أَبیِ طالب أَصبحتَ وأَمسیتَ مولایِ ومولیٰ کُلّ مُؤمن ومؤمنة”مبارک ہو مبارک اے ابو طالب کے بیٹے آپ کی صبح وشام اس حالت میں ہے کہ میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہیں اس حدیث کو مختلف الفاظ میں کبھی تفصیل کے ساتھ کبھی اختصار سے بے شمار علماء اسلام نے نقل کیا ہے اس حد تک کہ کسی کو بھی اس کے صادر ہونے پر شک نہیں ہے مرحوم بحرانی…………..(١)سورہ مائدہ آیة:٣
نے اپنی کتاب غایة المرام میں اس حدیث کو ٨٩ سند کے ساتھ اہل سنت سے اور٤٣ سند کے ساتھ شیعہ سے نقل کیاہے اوراس سلسلہ میں بہترین کتاب جولکھی گئی ہے وہ ”الغدیر ”ہے جسے علامہ امینی نے بے انتہا زحمتوں کے بعد لبا س وجود عطا کیا ہے ۔
لفظ مولا کے معنی پر اعتراض اور اس کا جو ابجب بعض نے یہ دیکھا کہ حدیث کی سند انکا ر کے قابل نہیں تو لفظ مولا کے معنی میں شک ایجاد کیا اور کہنے لگے کہ یہ دوست کے معنی میں ہے ۔
جو اب :دس دلیلوں کی بنا پر لفظ مولی صرف ولا یت ورہبری کے معنی میں ہے اور دوست کے معنی ہر گز نہیںہو سکتے ۔١۔ خو د پیغمبر اسلام نے علی کے تعارف سے قبل فرمایا :”مَنْ أَولیٰ النّاس بالمؤمنین مِن أنفسھم” اور پھر یہ جملہ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ” ‘ فرمایا توپھر جس طرح پہلا جملہ ولا یت کے لئے ہے ، دوسرے کو بھی اسی طرح ہو نا ضروری ہے تاکہ دونو ں جملہ میں ربط باقی رہے ۔٢۔ آیة تبلیغ جو مولا ئے کا ئنا ت کو پہنچنوانے سے قبل نازل ہو ئی پیغمبر سے خطاب کرکے فرمایا : اگر آپ نے یہ نہ کیاتوگویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا،کیا اگر پیغمبرۖ علی سے دوستی کا اعلان نہیں کرتے تو رسالت ناقص رہتی ؟ جبکہ متعدد بار رسول اسلا م حضرت علی سے بے انتہا محبت اور دوستی کا اظہار کر چکے تھے یہ کو ئی نئی بات نہیں تھی ۔٣۔ کیا یہ بات معقول ہے کہ وہ پیغمبر جسے” مَایَنطِقُ عن الھَویٰ”کا خطاب ملا ہو ا س سخت گرمی میں ہزاروں لوگو ں کوروک کر کہے :اے لوگو ں جس کا میں دوست ہو ں علی بھی اس کے دوست ہیں۔ ؟٤۔ جو آیتیں علی کے تعارف کے بعد نازل ہوئیں ہیں جیسے الیوم … آج دین کامل ہوگیا نعمتیں تم پر تمام کردیں او رتمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا۔(١) دوسری آیت الیَومَ یَئِس الّذین کَفَرُوا…..اور کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے (٢) یہ تمام چیزیں کیا اس بناپر تھیں کہ پیغمبر نے علی کو دوست بنایا تھا۔ ؟٥۔ وہ تمام خو شیاں اور حتی عمر کی مبارکبادی صرف پیغمبر اور علی کی دوستی کی وجہ سے تھی کیا یہ کوئی نئی بات تھی۔ ؟٦۔پیغمبر اسلام اورائمہ معصومین نے یوم غدیر کومسلمانوں کے لئے سب سے بڑی عید قرار دیا ہے تاکہ ہر سال یہ واقعہ زندہ رہے کیا صرف دوستی کااعلان کرنا ان تمام چیزوں کا باعث بنا کہ اسے سب سے بڑی عید قرار دے دیا جائے ۔؟٧ ۔تعارف کرانے سے پہلے آیت آئی ”واللّہ یَعصِمُک مِنْ النَّاسِ”کیا پیغمبر اسلام علی سے دوستی کا اعلا ن کرنے سے ڈر رہے تھے کہ خدا کو کہنا پڑا کہ خدا آپ کو دشمنو ں کے شر سے محفوظ رکھے گا یاامامت اورجانشینی کااہم مسئلہ تھا۔ ؟٨۔ شعراء اور ادیبوں نے اس وقت سے لے کر آج تک جو اشعار غدیر کے سلسلہ میں کہے ہیں ان سب نے خطبہ غدیر کو ولا یت اور امامت مولائے کا ئنات…………..(١) سورہ مائدہ آیة٣(٢) سورہ مائدہ آیة ٣
سے مرتبط ماناہے اور مولائے کائنات کی جانشینی کو بیان کیاہے ان اشعار کا تذکرہ علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر کی پہلی جلد میں کیا ہے۔ ؟٩۔ مولائے کائنات اور دوسرے ائمہ معصومین نے بہت سی جگہوں پر حدیث غدیر کے ذریعہ اپنی امامت ثابت کی ہے اور سب نے ان کے کلام سے ولایت ورہبری کو جانا،قائل ہوئے اور قبول کیا ۔١٠۔ مرحوم علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد کے ص ٢١٤ پر اہل سنت کے مشہو ر مفسر ومورخ محمد جریر طبری سے نقل کیاہے کہ پیغمبر اسلام نے آیت تبلیغ کے نازل ہونے کے بعد فرمایا : کہ جبرئیل خداکی طرف سے حکم لائے ہیں کہ اس جگہ رک کرسبھی اورسب کالے اور گورے کو بتادیں کہ: علی ابن ابی طالب میرے بعد میرے بھائی میرے وصی و جانشین اورامام ہیں۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.