حشرات اور پھولوں کی دوستی

268

یہ حشرات اس قدر سر گرم عمل ہیں کہ جیسے کوئی مرموز طاقت ایک منتظم کے مانند انھیں حکم دیتی ہے اور ایک کارخانہ میں وردی پوش مزدوروں کی طرح ان کے پر وبال پھولوں کی زردی سے آغشتہ ہو کر مزدوروں کی شکل وصورت اختیار کر لیتے ہیں اور نہایت تندی اور لگن سے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔حقیقت میں یہ ایک اہم ماموریت اور کام انجام دیتے ہیں ۔ان کی یہ ماموریت اس قدر عظیم ہے کہ پروفیسر رلئون برٹن اس سلسلہ میں کہتا ہے:”بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ حشرات کے وجود کی بغیر ہمارے میوؤں کی ٹوکریاں خالی پڑی رہ جائیں گی”ہم اس دانشور کے قول کے ساتھ اس جملہ کا اضافہ کرتے ہیں:”برسوں کے بعد ہمارے باغ اور لہلہاتے کھیت اس طراوت اور شادابی مکمل طور پر کھودیں گے ۔”اس لئے حقیقت میں حشرات میوؤں کی پرورش کرنے والے اور پھولوں کے بیج مہیّا کر نے والے ہیں۔آپ ضرور پوچھیں گے کیوں کر؟اس لئے کہ پودوں کا حساس ترین حیاتی عمل یعنی عمل لقاح (fertilization )انہی حشرات کے ذریعہ انجام پاتا ہے ۔آپ نے ضرور یہ بات سنی ہوگی کہ بہت سے حیوانوں کے مانند پھولوں میں نر و مادہ پائے جاتے ہیں اور جب تک ان کے در میان ملاپ اور پیوند کا کام انجام نہ پائے ،بیج ،دانہ اور ان کے نتیجہ میں میوہ حاصل نہیں ہو گا ۔لیکن کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیاہے کہ پودوں کے بے حس وحرکت مختلف حصے کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جذب ہوتے ہیں اور نر پھولوں کی خلیہ ،جو مرد کے نطفہ(sperm)کے حکم میں ہے،مادہ پھولوں کی خیلہ سے ،جو مادہ کے نطفہ ( )کے حکم میں ہے، ملتی ہے اور ان کے در میان ازدواج کے مقد مات فراہم ہو تے ہیں؟یہ کام بہت مواقع پر حشرات کے ذریعہ انجام پاتا ہے اور بعض مواقع پر ہواؤں کے ذریعہ۔لیکن یہ بات اتنی آسان نہیں ہے جیسا ہم خیال کرتے ہیں۔یہ مبارک اور بابرکت نکاح جو حشرات کی خواستگاری سے انجام پاتا ہے ۔اس کی ایک حیرت انگیز اور طولانی تاریخ ہے۔یہاں پر ہم اس کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں:
دوقدیمی اور جگری دوستعلم طبیعت کے سائنسدان مطالعات و تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نباتات اور پھول زمین شناسی کے دوسرے دور کے دوسرے حصہ میں وجود میں آئے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ اسی دوران میں حشرات بھی وجود میں آئے ہیں اور یہ دونوںحوادث و واقعات سے پُرخلقت کی پوری تاریخ میں ہمیشہ دو وفادار اور جگری دوستوں کے مانند زندگی بسر کرتے ہوئے ایک دوسرے کے لازم و ملزم رہے ہیں۔پھولوں نے اپنے دائمی دوستوں کی محبت کو حاصل کر نے اور ان کے دہن کو شرین کر نے کے لئے ایک بہت ہی لذیز مٹھائی کو اپنے اندر ذخیرہ کیا ہے اور جب حشرات نر پھولوں کی خلیہ کو پیوند اور لقاح کے مقد مات مہیا کر نے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے زحمت اٹھاتے ہوئے پھولوں کے اندر داخل ہوتے ہیں!تو پھول انھیں اس مٹھائی کو مفت میں پیش کرتے ہیں،یہ مخصوص قند حشرات کے لئے اتنا میٹھا اور لذیز ہو تا ہے کہ انھیں بے اختیار اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔علم نباتات کے بعض ماہرین کا اعتقاد ہے کہ پھولوں کے خوبصورت رنگ اورخوشبوبھی حشرات کو اپنی طرف کھینچنے میں موثر ہیں ۔شہد کی مکھیوں پر کئے گئے تجربوں سے ثابت ہوا ہے کہ وہ رنگوں کو تشخیص دیتی ہیں اور پھولوں کی خوشبو کو درک کرتی ہیں۔حقیقت میں یہ پھول ہیں جو خود کو حشرات کے لئے سجاتے ہیں اور خوشبو پھیلاتے ہیں تاکہ بازوق تتلیوں اور نفاست پسند شہد کی مکھیوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔وہ بھی دل کھول کر اس دعوت کو قبول کر کے کام کے مقد مات کو فراہم کرتے ہو ئے ان کی مٹھائی کو تناول کر تے ہیں ۔یہی مٹھائی اور خاص قند ہے جو حشرات کی غذا شمار ہوتی ہے اور جب یہ بہت ڈھیرہو جاتی ہے تو یہی شہد بن جاتا ہے ۔کیو نکہ جب حشرات پھولوں کے پاس آتے ہیں ،تو اس مٹھائی سے تھوڑا سا کھاتے ہیں اور اس کا زیادہ تر حصہ بے تکلّف مہمانوں کی طرح اپنے ساتھ لے جاکر اپنے چھتوں میں ذخیرہ کرتے ہیں۔پھولوں اور حشرات کے در میان دوستی و محبت کا یہ معاہدہ دوطرفہ منافع کی بنیاد پر ہمیشہ تھا اور رہے گا۔
توحید کاایک درسجب انسان حشرات اور پھولوں کی زندگی میں ان حیرت انگیز نکات کا مطالعہ کرتا ہے ،توغیر شعوری طور پر اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے:پھولوں اور حشرات کے در میان اس دوستی و محبت کے عہد و پیمان کو کس نے برقرار کیا ہے؟پھولوں کو یہ مخصوص مٹھاس اور لذیز غذا کس نے دی ہے ؟یہ دلکش اور خوشنما رنگ اور یہ خوشبو پھولوں کو کس نے عطا کی ہے کہ اس طرح حشرات کو اپنی طرف دعوت کرتے ہیں؟حشرات،تتلیوں ،شہد کی مکھیوں اور بھڑوں کو یہ نازک پاؤں اور خوبصورت اندام کس نے عطا کئے ہیں تاکہ پھولوں کی خلیہ کونقل وانتقال دینے کے لئے مستعد و آمادہ رہیں؟شہد کی مکھیاں کیوں ایک مدت تک خاص ایک ہی قسم کے پھولوں کی طرف رخ کرتی ہیں اور پھولوں اور حشرات کی خلقت کی تاریخ کیوں ایک ساتھ شروع ہوئی ہے؟کیا کوئی شخص،جس قدر بھی ہٹ دھرم ہو،باور کر سکتا ہے کہ یہ سب واقعات پہلے سے مرتب ہوئے کسی نقشہ اور منصوبہ کے بغیر انجام پائے ہیں؟اور فطرت کے بے شعور قوانین ان حیرت انگیز مناظر کو خودبخود وجود میں لائے ہیں؟نہیں ،ہر گز نہیںقرآن مجید فر ماتا ہے:<واوحیٰ ربّک إلی النّحل ان اتّخذی من الجبال بیوتاًومن الشّجر وممّا یعرشون۔ثمّ کلی من کلّ الثّمرات فاسلکی سبل ربّک ذللاً >(سورئہ نحل/۶۸،۶۹)”اور تمھارے پر وردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نر می کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے۔”
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.