خداوند متعال کی عظیم الشان صفات

489

صفات خداقابل غور بات ہے کہ جس قدر خلقت کائنات کے اسرار کا مطالعہ کر نے کے طریقہ سے خدا کو پانا یعنی وجود خدا کے بارے میں علم حاصل کر ناآسان ہے،اسی قدر خداوند متعال کی صفات کو بھی دقّت اور کافی احتیاط کے ساتھ پہچاننے کی ضرورت ہے۔آپ ضرور پوچھیں گے کیوں ؟اس کی دلیل واضح ہے، کیونکہ خدا وند متعال ہماری کسی چیز سے یا جو کچھ ہم نے دیکھا ہے یا سنا ہے ان سب سے شباہت نہیں رکھتا ہے ۔ اسی لئے خدا کی صفت کو پہچاننے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس مقدس ذات سے مخلوقات کی تمام صفات کی نفی کریں ۔یعنی خداوند عالم کو اس محدود عالم طبیعت کی مخلوقات میں سے کسی ایک سے بھی تشبیہ نہ دیں یہ ایک بہت ہی نازک مرحلہ ہے،کیونکہ ہم اس طبیعت کے اندر نشوونما پائے ہیں ،ہم طبیعت سے متصل ومرتبط رہے ہیں ،اس سے اُنس پیدا کر چکے ہیں ،اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہرایک چیز کو اس کے پیمانہ پر تولیں۔دوسرے الفاظ میں ہم نے جو دیکھاہے وہ جسم اور جسم کی خاصیت رکھنے والی چیزیں تھیں،یعنی ایسی موجودات جوایک معین زمان و مکان کی حامل تھیں،ان کے مخصوص ابعاد اور اشکال تھیں ۔اس حالت میں ایک ایسے خدا کا تصورکہ نہ جسم رکھتا ہے اور نہ زمان و مکان ،اس کے باوجود تمام زمان و مکان پر وہ احاطہ رکھتا ہے اور ہر لحاظ سے لا محدود ہے، ایک مشکل کام ہے۔یعنی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اس راستہ پر دقت کے ساتھ قدم رکھیں۔لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا انتہائی ضروری ہے کہ ہم خدا وند متعال کی ذات کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہو سکتے اور اس کی ہمیں توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے ،کیونکہ اس قسم کی توقع اس بات کے مانند ہے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ ایک عظیم سمندر کو ایک چھوٹے سے کوزے میں سمو دیں یا ماں کے بطن میں موجود بچے کو باہر کی تمام دنیا سے مطلع کردیں،کیا ایسا ممکن ہے؟اس نازک مرحلہ پر ممکن ہے ایک چھوٹی سی لغزش انسان کو معرفت خدا کے راستہ سے کوسوں دورلے جاکر پھینک دے اور بت پرستی ومخلوق پرستی کی سنگلاخ وادیوں میں آوارہ کر دے۔(توجہ کیجئے!) مختصر یہ کہ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ صفات خدا کا مخلوقات کی صفات سے کبھی موازنہ نہ کریں۔
صفات جمال و جلالعام طور پر خداوند متعال کی صفات کو دوقسموں میں تقسیم کیاگیا ہے :صفات ثبوتیہ یعنی وہ صفات جو خداوند متعال میں پائی جاتی ہیں اور صفات سلبیہ یعنی وہ صفات جن سے خداوند متعال منزّہ ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا وند متعال کی ذات کتنی صفتوں کی مالک ہے؟اس کا جواب یہ ہے :خداوند متعال کی صفات ایک لحاظ سے لامحدود ہیں اور دوسرے لحاظ سے خداوند متعال کی تمام صفات ایک صفت میں خلاصہ ہو تی ہیں کیو نکہ خداوند متعال کی تمام ثبوتی صفات کو مندر جہ ذیل ایک جملہ میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:خدا وند متعال کی ذات،ہر جہت سے لا محدود اور تمام کمالات کی مالک ہے۔اس کے مقابلہ میں سلبی صفات بھی اس جملہ میں خلاصہ ہوتی ہیں:ذات باری تعالٰی میں کسی لحاظ سے کوئی نقص نہیں ہے۔لیکن چونکہ دوسرے لحاظ سے کمالات اور نقائص کے در جات ہیں ،یعنی لا محدود کمال اور لا محدود نقص کا تصور کیا جاسکتا ہے،لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا وند متعال لا محدود صفات ثبوتیہ اور لا محدود صفات سلبیہ رکھتا ہے۔کیو نکہ جس کمال کا بھی تصور کیا جائے وہ خدا میں مو جود ہے اور جس نقص کا بھی تصور کیا جائے خداوند متعال اس سے پاک و منزّہ ہے۔لہذا خدا وند متعال کی ثبو تی و سلبی صفات لا محدود ہیں۔
خدا کی مشہور ترین صفات ثبوتیہخدا وند متعال کی معروف ترین صفات ثبوتیہ وہی ہیں ،جن کو مندرجہ ذیل مشہورشعر میں ذکر کیا گیا ہے:عالم و قادروحیّ است و مرید ومدرک ہم قدیم ازلی پس متکلم صادق۱۔خدا وند متعال عالم ہے،یعنی ہر چیز جانتا ہے۔۲۔قادر ہے،یعنی ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔۳۔حیّ ہے،یعنی زندہ ہے،کیونکہ زندہ موجود وہ ہے جو علم وقدرت رکھتا ہو چونکہ خداوند متعال عالم وقادر ہے،اس لئے زندہ ہے۔۴۔مرید ہے،یعنی صاحب ارادہ ہے اور اپنے کاموں میں مجبور نہیں ہے جو کام بھی انجام دیتا ہے اس کا کوئی مقصد اور فلسفہ ہوتا ہے اور زمین وآسمان میں کوئی بھی چیز فلسفہ اور مقصد کے بغیر نہیں ہے۔۵۔خداوند متعال مدرک ہے،یعنی تمام چیزوں کو درک کر تا ہے،تمام چیزوں کو دیکھتا ہے،تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام چیزوں سے آگاہ وباخبر ہے۶۔خدا وند متعال قدیم اور ازلی ہے،یعنی ہمیشہ تھا اور اس کے وجود کا کوئی آغاز نہیں ہے ،کیونکہ اس کی ہستی اسی کی ذات کے اندر سے ابلتی ہے ،اسی وجہ سے ابدی اور جاودانی بھی ہے ۔اس لئے کہ جس کی ہستی اس کی ذاتی ہو اس کے لئے فنا اور نابودی کوئی معنی رکھتی۔۷۔خداومد متعال متکلم ہے،آواز کی لہروں کو ہوا میں ایجاد کر سکتا ہے تا کہ اپنے انبیاء ومرسلین سے بات کرے،نہ یہ کہ خدا وند متعال زبان،ہونٹ اور گلا رکھتا ہے۔۸۔خداوند متعال صادق ہے ،یعنی جو کچھ کہتا ہے سچ اور عین حقیقت ہے،کیونکہ جھوٹ بولنا یا جہل و نادانی کی وجہ سے ہو تا ہے یا ضعیف وناتوانی کی وجہ سے،چونکہ خداوند متعال عالم اور قادر ہے اس لئے محال ہے کہ وہ جھوٹ بولے۔
خدا کی مشہورترین صفات سلبیہ ۔خدا وند متعال کی معرو ف ترین سلبی صفات مندرجہ یل شعرمیں ملاحظہ فر مائیں:نہ مرکب بود وجسم ،نہ مرئی نہ محل بی شریک است ومعانی ،توغنی دان خالق۱۔وہ مرکب نہیں ہے۔یعنی اس کے اجزائے ترکیبی نہیں ہیں ،کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے اجزاء کی احتیاج پیدا کر تا ،جبکہ وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔۲۔خداوند متعال جسم نہیں ہے ،کیونکہ ہر جسم محدود،متغیر اورنا بودی کے قابل ہو تا ہے ۔۳۔خداوند متعال مرئی نہیں ہے یعنی دکھائی نہیں دیتا ،کیونکہ اگر وہ دکھائی دیتا تو جسم ہو تا اور محدود اور قابل فنا ہو تا۔۴۔خدا وند متعال کو ئی محل نہیں رکھتا ہے ،کیو نکہ وہ جسم نہیں ہے تاکہ اسے محل کی ضرورت پڑے۔۵۔خدا کا کوئی شریک نہیں ہے ،کیو نکہ اگر اس کا شریک ہو تا تو اسے ایک محدود مو جود ہو نا چاہئے تھا ،چونکہ دو لا محددودمو جودات ہر جہت سے نا ممکن ہیں،اس کے علاوہ اس دنیا کے قوانین کی وحدت اس کی وحدا نیت کی علامت ہے۔۶۔خداوند متعال کے معانی نہیں ہیں، کیونکہ اس کی صفات اس کی عین ذات ہیں۔۷۔خداوند متعال محتاج اور نیاز مند نہیں ہے ،بلکہ غنی اور بے نیاز ہے،کیو نکہ علم و قدرت اور ہر چیز کے لحاظ سے ایک لا محدود وجود،کسی قسم کی کو ئی کمی نہیں رکھتا ہے ۔قرآن مجید فر ماتا ہے:<لیس کمثلہ شیءٍ> (سورہ شوری ٰ آیت/۱۱)”اس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے۔”
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.