امامت أئمہ اطہار کی نگاہ میں

260

موجودہ بحث کچھ اس ڈھنگ کی ہے کہ اس کا کچھ حصہ شاید ہم گزشتہ گفتگو میں بھی متفرق طور پر پیش کرچکے ہیں لیکن چونکہ یہ مسئلہ امامت کی روح سے مربوط ہے لہٰذا اب ہم ائمہ معصومین کے اقوال کی روشنی میں اس پر بحث کریں گے۔ اور کتاب ” اصول کافی کی ” کتاب الحجۃ ” کا ایک حصہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ ہم مکرّر عرض کر چکے ہیں کہ امامت کے اس مفہوم ہم شیعہ یا کم از کم ائمہ شیعہ کے اقوال میں پیش کیا گیا ہے وہ امامت کے اس مفہوم سے بالکل الگ ہے جو اہل سنت کے یہاں رائج ہے۔ یہ مسئلہ حکومت سے بالکل الگ ایک چیز ہے جس کا چرچا ہمارے زمانہ میں بہت ہوتا ہے۔ مثلاً، امامت بنیادی طور پر نبوت کے قدم بہ قدم یا اس کے بالکل دوش بدوش والا مسئلہ ہے لیکن اس معنی میں نہیں کہ اس کا مرتبہ ہر نبوت سے کمتر درجہ کا ہے۔ بلکہ اس سے مقصود یہہے کہ نبوت سے مشابہ ایک ایسا منصب ہے جو بڑے انبیاء کو بھی عطاہوا ہے یعنی یہ ایک ایسامعنوی منصب ہے کہ بڑے انبیاء نبوت کے ساتھ ساتھ امامت کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔ ائمہ معصومین نے کلی طور پر اس مسئلہ کے تحت اپنی گفتگو میں انسان کو بنیاد قرار دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں پہلے انسان کے متعلق اپنے تصوّرات و خیالات پر تجدید نظر کرنا چاہیئے تاکہ یہ مسئلہ پورے طور سے واضح ہوسکے۔
انسانآپ جانتے ہیں کہ اساسی طور پر انسان کے سلسلہ میں دو نظریے پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ انسان بھی تمام جانداروں کے مانند صدفی صدا ایک خاکی یا مادی موجود ہے۔ لیکن یہ ایسا مادی وجود ہے جواپنے تغیرات کی راہ طے کرتے ہوئے اس حد کمال کو پہنچ چکا ہے جہاں تک زیادہ سے زیادہ مادہ میں اس کی صلاحیت پائی جاتی تھی۔ حیات، چاہے نباتات میں ہو یا اس سے بلند حیوانات میں یا ان سب سے بڑھ کر انسان میں، یہ خود مادہ کے تدریجی ارتقا وکمال کی نشان دہی کرتی ہے یعنی اس وجود کی بناوٹ اور ساخت میں مادّی عناصر کے علاوہ کوئی اور عنصر کا ر فرما نہیں ہے۔ ( یہاں عنصر کا لفظ اس لئے استعمال ہوا کہ اس کی کوئی دوسری تعبیر ہمارے پاس نہیں ہے )۔ جتنے حیرت انگیز آثار اس وجود میں پائے جاتے ہیں ان کا سر چشمہ یہی مادّی تشکیل ہے۔ اس نظریہ کے مطابق قہری طور پر پہلے انسان کو یا دنیا میں آنے والے ابتدائی انسانوں کو ناقص ترین انسان ہونا چاہیئے اور جوں جوں یہ قافلہ انسانیت آگے بڑھا ہوگا انسان کامل تر ہوتا گیا، خواہ ہم اولین انسان کو قدما کے تصور کے مطابق براہ راست خاک سے پیدا شدہ مانیں یا عہد حاضر کے بعض ( سائنس داں ) حضرات کے مفروضہ کے مطابق جو مفروضہ ہونے کی حیثیت سے قابل توجہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے پست تر اور ناقص تر وجود [34] کی تغییر یافتہ اور کامل شدہ مخلوق ہے۔ جس کی اصل و بنیاد مٹی تک پہنچتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پہلا انسان براہ راست خاک سے خلق ہوگیا ہو۔
پہلا انسان قرآن کی نظرمیںلیکن اسلامی و قرآنی بلکہ تمام مذاہب کے اعتقادات کے مطابق پہلا انسان وہ وجود ہے جو اپنے بعد کے بہت سے انسانوں حتی کہ آج کے انسانوں سے بھی زیادہ کامل ہے۔ یعنی پہلی ابر جب اس انسان نے عرصۂ عالم میں قدم رکھا، اسی وقت سے وہ خلیفہ اللہ یا دوسرے الفاظ میں پیغمبر کے درجہ پر فائز نظر آیا۔ دین کی شکل میں آیا، جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ انسان دنیا میں آتے رہتے اورارتقائی منازل طے کرتے رہتے اور جب عالی مراحل و مراتب سے ہمکنار ہوتے تو ان میں سے کوئی ایک نبوت و پیغمبری کے منصب پر فائز ہوجاتا، نہ یہ کہ پہلا ہی انسان پیغمبر ہو۔قرآن کریم پہلے انسان کے لئے بہت عظیم اور بلنددرجہ کا قائل ہے:”واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء ونحن نسبح بحدک و نقدس لک قال انی اعلم مالا تعلمون وعلم اٰدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علیٰ الملائکۃ فقال انبئونی باسماء ھٰولاء”[35]جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے فرمایا کہ میں زمین پر خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا ( خدا یا) کیا تو انہیں روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا جو زمین پر فساد و خونریزی برپا کریں اور ہم تو تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں ( خداوند عالم نے ) فرمایا، بلا شبہ ( اس انسان کے اسرار کے بارے میں ) جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور اللہ نے آدم کو تمام اسماء تعلیم دیئے پھر ان کے حقائق ملائکہ کے سامنے بھی پیش کئے اور فرمایا ہمیں ان کے نام بتاؤ”۔مختصر یہ کہ جب پہلا انسان عالم وجود میں آیا تو اس ملائکہ کو بھی حیرت میں ڈال دیا کہ آخر اس میں کیا راز پنہاں ہے؟ پہلے انسان کے بارے میں ” نفخت فیہ من روحی” ( اپنی روح اس میں پھونکی) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پیکر کی ساخت اوراس کے ڈھانچہ میں مادی عناصر کے علاوہ ایک علوی عنصر بھی کارفرماہے جو ( اپنی روح ) کی تعبیر کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی جانب سے ایک خصوصی شئے اس وجود کے پیکر میں داخل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اس لئے بھی کہ اس کو خلیفہ اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔” انی جاعل فی الارض خلفیفۃ” میں زمین پر اپنا خلیفہ بنارہاہوں۔بنابر ایں قرآن، انسان کو اس عظمت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ کہ پہلا انسان جب عالم وجود میں قدم رکھتا ہے تو حجت خدا و پیغمبر اور ایک ایسے وجود کے عنوان سے قدم رکھتا ہے جو عالم غیب سے رابطہ رکھتا ہو۔ ہمارے ائمہ کے کلام کی اساس و بنیاد انسان کی اسی اصل و حقیقت پر ہے یعنی پہلا انسان جو اس زمین پر آیا اسی صفت کا تھا اور آخری انسان بھی جو اس زمین پر ہوگا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہوگا اور عالم انسانیت کبھی بھی ایسے وجود سے خالی نہیں جس میں “انی جاعل فی الارض خلیفۃ ” کی روح پائی جاتی ہے۔ ( بنیادی طور سے اس مسئلہ کا محور یہی ہے ) دیگر تمام انسان، ایسے انسانی وجود کی فرع کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اگر یہ انسان نہ ہو تو بقیہ تمام انسان کسی بھی صورت سے باقی نہیں رہیں گے۔ ایسے انسان کو حجت خدا سے تعبیر کرتے ہیں:۔اللّٰھم بلی لا تخلوا لارض من قائم للہ بحجّۃ” ہاں ( مگر ) زمین ایسی فرد سے خالی نہیں رہتی جو اللہ کی حجت ہے یہ جملہ نہج البلاغہ [36] میں ہے اور بہت سی کتابوں میں نقل ہوا ہے۔ میں نے یہ بات مرھوم آیۃ اللہ بروجردی سے سنی ہے، لیکن یہ یاد نہیں کہ میں نے خود اسے جگہ بھی کہیں دیکھا ہے یا نہیں، یعنی اس کی جستجو نہیں کی۔ آپ فرماتے تھے کہ یہ جملہ حضرت کے ان جملوں سے ہے جنہیں آپ نے بصرہ میں بیان فرمایا ہے او شیعہ و سنی دونوں نے اسے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے۔ یہ جملہ مشہور حدیث کمیل کا ایک حصہ ہے۔کمیل کا بیان ہے کہ ایک روز حضرت علی(ع) نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے اپنے ہمراہ لے کر شہر کے باہر تشریف لائے۔ یہا ں تک کہ ہم لوگ” جبّان” نامی ایک جگہ پر پہونچے۔ جیسے ہی ہم لوگ شہر سے خارج ہوکر سناٹے اور تنہائی میں آئے: فتنفس الصمعداء حضرت نے گہری سانس لی، ایک آہ کھینچی اور فرمایا:۔” یاکمیل! ان ھذہ القلوب او عیۃ فخیرھا او عاھا فاحفظ عنّی ما اقول لک”” اے کمیل! اولاد آدم کے دک ظرف کے مانند ہیں اور بہترین ظرف وہ ہے جو کسی چیز کو اپنے اندر محفوظ رکھے ( یعنی اس میں سوراخ نہ ہو ) لہٰذا میں تم سے جو کچھ کہتا ہوں اسے محفوظ کر لو”۔پہلے انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم فرمایا:۔” الناس ثلاثۃ: فعالم ربانی و متعلم فی سبیل نجاۃ و ھمج رعاع”۔” انسان تین قسم کے ہیں:ایک گروہ علماء ربانی کا ہے ( البتہ حضرت علی (ع) کی اصطلاح میں عالم ربّانی سے مراد ہر وہ عالم ربّانی نہیں ہے جو ہم ہر ایک کو تکلّفا کہہ دیا کرتے ہیں، بلکہ اس سے مراد ایسا عالم ہے جو واقعاً صد فی صد الہٰی ہو اور خالص خدا کے لئے عمل کرتا ہو اور شاید یہ تعبیر سوائے انبیاء و ائمہ کے کسی اور پر صادق نہیں آتی ) ” ومتعلم علی سبیل نجاۃ ” ( چونکہ اس عالم کو اس متعلم کے مقانل میں ذکر کیا ہے لہٰذا اُس سے مقصود وہ عالم ہے جو کسی بشر سے علم حاصل نہیں کرتا ) یہ دوسرا گروہ ان سے علم حاصل کرنے والوں اور شاگردوں کا ہے۔ ان لوگوں کو ہے جو ان علماء سے استفادہ کرتے ہیں۔ تیسرے گروہ کے لوگ ” ھمیج رعاع” ہیں ( اس کی تشریح یہ ہے ) کہ:” لم یستضیئوا بنور العلم ولم یلجأوا الیٰ رکن وثیق” جنہوں نے علم کے نور سے نہ کوئی روشنی حاصل کی ہے اور نہ کسی محکم ستون کا سہارا حاصل کیا ہے۔”اس کے بعد آپ نے اہل زمانہ کا گلہ کرنا شروع کیا۔ فرمایا میں بہت سے علوم اپنے سینہ میں رکھتا ہوں۔ لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جس میں ( انہیں حاصل کرنے کی ) صلاحیت موجود ہو۔ آپ نے لوگوں کی گروہ بندی کرتے ہوئے فرمایا، ایسے لوگ بھی ہیں جو زیرک اور عقلمند ہیں لیکن ایسے زیرک ہیں کہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس سے اپنے لئے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی دین کو اپنی دنیا کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا میں ان سے پر ہیز کرنے پر مجبور ہوں۔ کچھ دوسرے افراد ہیں جو اچھے اور نیک تو ہیں لیکن احمق ہیں۔ وہ کچھ حاصل ہی نہیں کرتے یا اگر حاسل بھی کرتے ہیں تو ایک دم اُلٹا اور غلط مطلب سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہاں تک تو امام کی گفتگو مایوسانہ رنگ لئے ہوئے ہے ( کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے ) کہ کوئی اہل موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کے بعد فرماتے ہیں :” اللّٰھم بلی ” نہیں ایسا بھی نہیں ہے کہ کوئی شخص موجود نہ ہو۔ میں تو یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں لوگوں کی اکثریت کو کہہ رہو ہوں ( یہاں آقائے بروجردی فرماتے تھے کہ حضرت نے یہ اشارہ بصرہ میں ایک خطبہ کے ذیل میں فرمایا تھا، ورنہ یہ کمیل کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں بھی موجود ہے )۔اللّٰھم بلی ال تخلو الارض من قائم للّٰہ بححّۃ امّا ظاہراً مشھوراً واماخائفاً مغموراً لئلا تبطل حجج اللہ و بیناتہ وکم ذا واین؟ اولئک واللہ۔ الا قلون عدداً و الاعظمون عنداللہ قدراً، یحفظ اللہ بھم حججہ و بیناتہ حتیٰ یودعونھا نظرائھم ویزرعونھا فی قلوب اشباھھم ھجم بھم العلم علی حقیقتہ البصیرۃ وبا سروا روح الیقین واستلا نوا مااستمورۃ المترفون وانسوا بما استوحش منہ الجاھلون و صحبوا الدنیا بابدان ارواحھا معلقۃ بالمحل الاعلیٰ۔امام علیہ السلام نے فرمایا:ہاں، زمین ہر گز حجّت خدا سے خالی نہیں ہے۔ اب چاہے یہ حجت ظاہر ہو اور لوگوں کے درمیان ہو یا مستور اور پوشیدہ یعنی موجود تو ہو، لیکن لوگ اسے دیکھ نہ پائیں، وہ نگاہ سے پوشیدہ ہو۔ ان ہی حجتوں کے ذریعہ خداوند عالم اپنی دلیلیں اور نشانیاں لوگوں کے درمیان محفوظ رکھتا ہے۔ اور یہ لوگ بھی جو کچھ جانتے ہیں اس کے بیج اپنے ہی جیسے افراد کے دلوں میں بو دیتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ امانتیں ان کے حوالہ نہ کریں ارو چلے جائیں یعنی ایسا نہیں ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے اسے بیان کئے بغیر چلا جاؤں گا۔ اس کے بعد حضرت ان افراد سے متعلق جو ایک ملکوتی مبدأ و مرکز سے استفادہ کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ھجم بھم العلم علی حقیقتہ البصیرۃ خود علم ان پر ہجوم کرتا ہے اور ٹوٹ کر برستا ہے۔ وہ علم کی طرف نہیں بڑھتے۔ ( مطلب یہ ہے کہ ان کا علم تفویضی ہے ) اور وہ علم جو ان پر ہجوم کرتا ہے، انہیں حقیقی معنوں میں بصیرت عطا کرتا ہے یعنی اس علم میں کوئی اشتباہ نقص یا خطا نہیں پائی جاتی۔ ” وباشروا روح الیقین” وہ روح یقین کو متصل رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ عالم دیگر سے بھی ایک طرح کا ارتباط و اتصال رکھتے ہیں۔ ” واستلانوا ما استعورۃ المترفون ” وہ چیزیں جنھیں مترف ( یعنی اہل عیش و طرب ) اپنے لئے بہت دشوار سمجھتے ہیں ان کے لئے آسان ہیں۔ مثلاً عیش و عشرت کے عادی افراد کے گھنٹہ بھر اپنے خدا سے لو لگانا اور اس سے راز و نیاز کی باتیں کرنا گویا سب سے زیادہ دشوار کام ہے۔ لیکن ان کے لئے یہ کام آسان ہی نہیں بلکہ ان کا پسندیدہ عمل ہے۔” وانسوا بما استوحش منہ الجاھلون” جن چیزوں سے نادان اور جاہل افراد وحشت کرتے ہیں یہ ان سے مانوس ہیں۔” وصحبوا الدنیا بابدان ارواحھا معلقۃ بالمحل الاعلیٰ”اپنے جسموں کے ساتھ لوگوں کے ہمراہ رہتے ہیں جبکہ اسی وقت ان کی روحیں مقام اعلیٰ سے تعلق و اتصال رکھتی ہیں۔ یعنی ان کا جسم لوگوں کے ساتھ ہے لیکن ان کی روح یہاں نہیں ہے، جولوگ ان کے ہمراہ ہیں انہیں اپنے ہی جیسا انسان سمجھتے ہیں اور ان میں اور اپنے آپ میں کوئی فرق نہیں سمجھتے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس ( انسان کامل ) کا باطن کسی اور عالم سے وابستہ ہے۔بہر حال امامت کا اصل فلسفہ یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب” کافی” میں” باب الحجۃ” کے عنوان سے ایک مستقل باب موجود ہے۔ اور اس میں ملتا ہے کہ اگر دنیا میں صرف دو انسان باقی رہیں تو ان میں کا ایک اسی طرح اک انسان ہوگا جس طرح دنیا کا پہلا انسان اسی منصب پر فائز تھا ہم اس فلسفہ کی روح کو لوگوں کے ذہنوں سے مزید قریب کرنے کے لئے اور اس حقیقت سے زیادہ آشنا کرنے کے لئے “اصول کافی” سے” کتاب الحجۃ” کی بعض روایتیں اور حدیثیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ اس مسئلہ سے متعلق تمام دوسرے مسائل مثلاً معاشرہ میں امام کا وجود ضروری ہے تاکہ وہ لوگوں پر عذاب و انصاف کے ساتھ حکومت کرے، یا دینی امور میں لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کرسکے۔ یہ سب باتیں اس اصل مسئلہ میں طفیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ امام کو لوگوں پر حکومت کرنے کے لئے امام قرار دیا جائے اور بس، بلکہ یہ مسئلہ ان تمام باتوں سے کہیں بالاتر ہے۔ یہ باتیں گویا امام کے” فوائد جاریہ” یعنی اس کے وجود کے نتیجہ میں مرتب ہونے والے فوائد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہم ہر حدیث سے کچھ جملے منتخب کرکے آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں تاکہ فلسفۂ امامت کی حقیقت پورے طور سے واضح ہوجائے۔
امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایتیہ روایت انبیاء و مرسلین سے متعلق ہے۔ ایک زندیق ( مادہ پرست ) نے امام صادق(ع) سے سوال کیا کہ:” من این اشبتّ الانبیاء والرسل؟” آپ انبیاء و رسل کو کس دلیل سے ثابت کرتے ہیں؟ امام نے جواب میں مسئلہ توحید کو بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا:” انا اثبتنا ان لنا خالقاً صانعاً متعالباً عنّا وعن جمیع ما خلق وکان ذلک الصابع حکیماً متعالیاً لم یجز ان یشاھدہ خلقہ ولا یلا مسوہ فیباشروہ و یحاجھم ویحاجوہ ثبت انّ لہ سفراء فی خلقہ یعبرون عنہ الی خلقہ وعبادہ ویدلونھم علی مصالحھم عمنا فعھم وما بہبقائھم وفی ترکہ فنائھم فثبت الآمرون والناھون عن الحکم العلیم فی خلقہ”مختصر یہ ہےکہ انبیاء و رسل کے ثابت کرنے کی بنیاد، اپنی تمام الٰہی شان و صفات کے ساتھ خود اللہ کے اثبات پر موقوف ہے جب ہم نے یہ جان لیا کہ ہمارا کوئی خالق و صانع ہے جو حکیم ہے اور ہم سے اعلیٰ و ارفع ہے یعنی ہم اپنے حواس و ادراک کے ذریعہ اس سے براہ راست ارتباط پیدا نہیں کرسکتے۔ نہ اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں اور نہ اسے چھو سکتے ہیں اور نہ ہہ اس سے دو بدو سوال و جواب کرسکتے ہیں جبکہ ہم اس کے محتاج ہیں کہ وہ ہماری رانمائی کرے۔ کیونکہ فقط وہی حقیقی حکیم و دانا ہے اور ہمارے واقعی مصالح و مفادات سے آگاہ ہے۔ لہٰذا ایسے وجود کا ہونا ضروری ہے جو بیک وقت دو پہلؤوں کا حامل ہو: ایک طرف وہ خدا سے ارتباط رکھتا ہو یعنی اس پر وحی نازل ہوتی ہو اور دوسری طرف ہم اس سے رابطہ قائم کسرکتے ہوں۔ اور ایسے افراد کا ہونا لازم و واجب ہے۔اس کے بعد امام ان افراد کے بارہ میں فرماتے ہیں:” حکماء مؤدبین بالحکمۃ” خود ان لوگوں کو حکیم دانا ہونا چاہیئے۔ وہ حکمت کی بنیاد پر مؤدب و مہذب کئے گئے ہوں۔” مبعوثین بھا” اور حکمت ہی پر مبعوث کئے گئے ہوں یعنی ان کی دعوت اور ان کا پیغام حکمت پر مبنی ہو۔ ” غیر مشارکین للناس علیٰ مشارکتھم لھم فی الخلق۔” اگر چہ وہ خلقت کے اعتبار سے انسانوں میں شریک ہوں لیکن بعض جہات میں لوگوں سے الگ اور جدا ہوں۔ ایک انفرادی پہلو اور امتیازی روح ان میں پائی جاتی ہو۔” مؤیدین من عندالحکم العلیم بالحکمۃ” خدا ئے حکیم و علیم کی جانب سے حکمت کی بنیاد پر ان کی تائید کی گئی ہو۔” ثم ثبت ذٰلک فی کل دھر ومکان” ایسے واسطوں اور ذریعوں کا وجود ہر زمانہ اور عہد میں لازمی و ضروری ہے۔ ” لکیلا تخلوالارض من حجۃ یکون معہ علم یدل علی صدق مقالتہ و جواز عدالتہ” تاکہ زمین کسی وقت بھی ایسی حجت سے خالی نہ رہے جس کے پاس اس کی صداقت گفتار اور اس کی عدالت و رفتار کے ثبوت میں کوئی علم ( دلیل معجزہ ) موجود ہو۔
زید بن علی اور مسئلہ امامتزید ابن علی ابن الحسین امام محمد باقر(ع ) کے بھائی ہیں اور صالح و محترم شخص ہیں۔ ہمارے ائمہ نے آپ کی اور آپ کے مجاہدانہ اقدام کی تعریف کی ہے۔ اس سلسلہ میں اختلاف ہےکہ جناب زید واقعاً خود اپنے لئے خلافت کے مدعی تھے یا صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض انجام دے رہے تھے اور خلافت کے دعویدار نہیں تھے بلکہ آپ امام محمد باقر (ع) کی خلافت کے خواہاں تھے، یہ بہر حال مسلم ہے کہ ہمارے ائمہ نے آپ کی تعریف و توصیف کی ہے اور آپ کو شہید کہا ہے۔ اور یہی ان کی عظمت کے لئے کافی ہےکہ:” مضیٰ واللہ شھیداً ” وہ شہید ہوکر دنیا سے اٹھے لیکن بحث اس بات پر ہے کہ آپ خود اس مسئلہ (امامت) میں شبہ کا شکار تھے یا نہیں؟ جو روایات اس وقت میں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خود اس سلسلہ میں شبہ مبتلا تھے۔ اب یہ بات کہ ایسا شخص اس مسئلہ میں شبہ کا شکار کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ ایک دوسری بحث ہے۔امام محمد باقر کے ایک صحابی ابو حنیفہ احول بیان کرتے ہیں: جس وقت زید بن علی مخفی تھے انہوں نے میرے پاس پیغام بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ اگر ہم میں سے کوئی جاہد کے لئے قیام کرے تو کیا تمہاری ہم مدد کے لئے آمادہ ہو؟ میں نے جواب دیا اگر آپ کے پدر بزرگوار اور بھائی ( حضرت امام زین العابدین(ع) اور امام محمد باقر (ع) ) اجازت دیں تو میں حاضر ہوں ورنہ نہیں۔ زید نے فرمایا، میں خود قیام کا ارادہ رکھتا ہوں۔ بھائی سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیا اب بھی تم ہماری حمایت پر آمادہ ہو؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیوں؟ کای تم ہمارے سلسلہ میں اپنی جان سے دریغ کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: انما ھی نفس واحدۃ فان کان اللہ فی الارض حجۃ فامتخلف عنک ناج والخارج معک ھالک وان لا تکن للہ حجۃ فی الارض فالمتخلف عنک والخارج معک سواء” میں ایک ہی جان رکھتا ہوں اور آپ بھی حجت خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ اگر زمین پر آپ کے علاوہ کوئی حجت خدا ہے تو جو شخص آپ کے ساتھ قیام کرے اس نے خود کو ضائع کیا بلکہ ہلاک ہوا اور جس نے آپ سے انکار کیا اس نے نجات پائی لیکن اگر زمین پر کوئی حجت خدا نہ ہو تو میں چاہے آپ کے ساتھ قیام کرون یا نہ کروں دونوں باتیں برابر ہیں۔ابو جعفر احول جانتے تھے کہ زید کا مقصد کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس حدیث کے ذریعہ یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ اس وقت روئے زمین پر ایک ” حجت ” موجود ہے۔ اور آپ کے بھائی امام محمد باقر (ع) ہیں۔ آپ نہیں ہیں۔ یہاں روایت میں حضرت زید کی گفتگو کا خلاصہ یہ کہ، تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی جبکہ امام کا فرزند ہوتے ہوئے اس نکتہ سے واقف نہیں ہوں اور میرے پدربزرگوار نے بھی مجھے نہیں بتایا؟ کیا میرے بابا مجھے چاہتے نہیں تھے؟ خدا کی قسم میرے بابا مجھے اس قدر چاہتے ھتے کہ مجھے بچپن میں دستر خوان پر اپنی آغوش میں بٹھاتے تھے اور اگر نوالہ گرم ہوتا تھا تو پہلے اسے ٹھنڈا کرتے تھے اس کے بعد کھلاتے تھے تا کہ میرا دہن نہ جلنے پائے وہ باپ جو مجھ سے اس قدر محبت کرتا تھا کہ اسے ایک لقمہ کے ذریعہ میرا دہن جلنا گوارہ نہ تھا۔ کیا اس نے اتنی اہم بات جسے تم سمجھے ہو، مجھے بتانے سے مضائقہ کیا تاکہ میں جہنم کی آگ سے محفوظ رہوں؟ ( ابوحنیفہ احول نے ) جواب دیا۔ انہوں نے آپ کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھنے کے لئے ہی نہیں بتایاؕ چونکہ وہ آپ کو بہت چاہتے تھے اس لئے آپ کو نہیں بتایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر میں کہہ دوں گا تو آپ انکار کریں گے اور جہنمی ہوجائیں گے چونکہ وہ آپ کی طبیعت کی تیزی سے واقف تھے لہٰذا آپ سے بتانا نہیں چاہا۔ اور یہی بہتر سمجھا کہ آپ لاعلمی کی حالت پر باقی رہیں تاکہ کم از کم آپ میں عناد نہ پیدا ہونے پائے لیکن یہ بات مجھ سے فرمادی تاکہ اسے قبول کرکے نجات حاصل کرلوں یا انکار کر کے جہنمی بن جاؤں اور میں نے بھی اسے قبول کرلیا۔اس کے بعد میں نے زید سے دریافت کیا:”انتم افضل ام الانبیاء” آپ افضل ہیں یا انبیاء؟ فرمایا انبیاء۔” قلت یقول یعقوب لیوسف یا بنی لا تقصص رؤیاک علی اخوتک فیکیدو لک کیداً” میں نے عرض کیا یعقوب جو پیغمبر ہیں اپنے بیٹے یوسف سے جو خود بھی پیغمبر اور ان کے جانشین ہیں، کہتے ہیں کہ اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا۔ آیا یعقوب کا یہ حکم یوسف کے بھائیوں سے دشمنی کی بناپر تھا یا ان کی اور یوسف کی دوستی کی بنیاد پر تھا چونکہ وہ یوسف کے بھائیوں کی طبیعت سے واقف تھے کہ اگر وہ سمجھ گئے کہ یوسف اس مقام و منزلت پر فائز ہونے والے ہیں تو ابھی سے ان کی دشمنی پر کمر بستہ ہوجائیں گے”۔آپ کے ساتھ آپ کء پدر بزرگوار اور بھائی کا قصہ بالکل یعقوب و یوسف اوران کے بھائیوں جیسا ہے۔گفتگو کے اس مرحلہ پر آکر زید بالکل خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہ دے سکے۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے فرمایا:” اما واللہ لان قلت ذٰلک” اب جبکہ تم مجھ سے یہ بات کہہ رہے ہو تو میں بھی تمہیں یہ بتادوں کہ:لقد حدّ ثنی صاحبک بالمدینہ”تماہرے آقا ( یہاں مراد امام ہیں تمہارے امام یعنی میرے بھائی امام محمد باقر (ع) ) نے مدینہ میں مجھ سے فرمایا:” انی اقتل واصلب بالکناسۃ” کہ تمہیں قتل کیا جائےگا اور کانسۂ کوفہ پر سولی دی جائے گی۔” وان عندہ لصحیفۃ فیھا قتلی وصلبی” اور ان کے پاس ایک صحیفہ (کتاب) ہے جس میں میرے قتل کئے جانے اور دار پر چڑھائے جانے کا ذکر ہے۔یہاں زید، ابوحنیفہ کے سامنے ایک دوسرا ورق الٹتے ہیں کیونکہ یک بیک بات ایک دم بدل جاتی ہے اور وہ دوسرے نظر یہ کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس سے قبل جو باتیں آہ ابوحنیفہ سے فرمارہے تھے گویا اس سے اپنے آپ کو پنہاں رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن جب یہ دیکھا کہ ابو حنیفہ مسئلہ امامت کے سلسلہ میں اس قدر راسخ الاعتقاد ہیں تو خود سے فرمایا کہ کہ ان کو بتادوں کہ میں بھی اس نکتہ سے غافل نہیں ہوں۔ وہ کہیں شبہ کا شکار نہ ہوں، میں بھی اس مسئلہ کو نہ صرف جانتا ہوں بلکہ اس کا اعتراف و اعتقاد بھی رکھتا ہوں۔ گفتگو کے آخری جملہ میں اسی مطلب کا اظہار ہے کہ میں پورے علم و ارادہ کے ساتھ نیز اپنے بھائی کے حکم سے جہاد کے لئے اٹھ رہاہوں۔ یہاں تک کہ ( ابو جعفر ) کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے بعد ایک سال میں مکہ مکرمہ گیا اور وہاں میں نے یہ پورا واقعہ حضرت امام صادق (ع) سے بیان کیا۔ حضرت نے بھی میرے نظریات کی تائید کی۔
حضرت امام صادق (ع) سے دو اور حدیثیںامام ایک دوسری حدیث میں فرماتے ہیں: ” ان الارض لا تخلوا لا و فیھا امام ” زمین کبھی بھی امام سے خالی نہیں رہتی۔ نیز حضرت سے ایک اور حدیث نقل ہے: ” لو بقیٰ اثنان لکان احدھما الحجۃ علیٰ صاحبہ” اگر روئے زمین پر دو شخص بھی باقی رہیں تو ان میں کا ایک اپنے ساتھی پر خدا کی حجّت ہوگا۔
حضرت امام رضا(ع) سے ایک روایتاس سلسلہ میں ہمارے یہاں بہت سی حدیثیں موجود ہیں۔ایک مفصل روایت جو امام رضا (ع) سے مروی ہے ملاحظہ فرمائیں۔ عبد العزیز بن مسلم کا بیان ہے کہ: ” کنا مع الرضا علیہ السلام بمرو فاجمعنا فی الجامع یوم الجمعۃ فی بدء مقدمنا” ہم مرد میں امام رضا کے ہمراہ تھے ( یہ اس سفر کی بات ہے جب امام ولی عہدی کے سلسلہ میں خراسان لے جائے جارہے تھے ) جمعہ کے دن ہم مرد کی جامع مسجد میں بیٹھتے تھے اور امام جماعت موجود نہیں تھا لوگ جمع ہوکر مسئلہ امامت گفتگو کررہے تھے۔ اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر امام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ساری باتیں بیان کردیں۔ امام نے تمسخر آمیز تبسم فرمایا کہ آخر یہ لوگ کیا سوچتے ہیں:! یہ لوگ در اصل موضوع (امامت) کو ہی نہیں سمجھتے اس کے بعد امام نے فرمایا” جہل القوم وخدعوا عن ارائھم” یہ لوگ جاہل ہیں اور انہوں نے اپنے افکار و عقاید میں دھوکہ کھایا ہے خدا وند عالم نے اپنے پیغمبر کو اس وقت تک نہیں اٹھایا جب تک دین کامل نہیں ہوا۔ اس نے قرآن نازل فرمایا جس میں حلال، حرام، حدود و احکام اور وہ تمام باتیں جن کی دین کے سلسلہ میں انسان کو ضرورت ہے سب بیانکردی اور اعلان کردیا ” مافرطنا فی الکتاب من شیٔ” ہم نے اس کتاب (قرآن مجید) میں کسی بھی چیز کو نہیں چھوڑا ہے یعنی سب کچھ بیان کردیا ہے ( اس سے مراد حلال و حرام سے متعلق قرآن کے احاکم اور انسانوں کے تمام فرایض ہیں ) اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں پیغمبر اسلام نے حجۃُ الوداع کے موقع پر اس آیت کی تلاوت بھی فرمائی” الیوم اکملت لکمدینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا”یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامنل کردیا تم پر اپنی نعمتیں تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام سے راضی ہوگیا اس کے بعد حضرت امام رضا (ع) نے فرمایا” وامر الامامت من تمام الدین” اور مسئلہ امامت دین کوتمام اور کامل کرنے والے مسائل میں سے ایک ہے” ولم یمظ حتیٰ بین لامتہ معالم دینھم” پیغمبر اسلام اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے جب تک انہوں نے اپنی امت کے درمیان ہدایت کی نشانیوں کو بیان نہ کردیا اور ان کے لئے دین کی راہ روشن نہ کردی” واقام لھم علیاً وعلمن” اور ان ک لئے علیکو رہنما مقرر فرمادیا۔مختصر یہ قرآن ہوری صراحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ ہم نے کسی بھی امر کو فراموش نہیں کیا” اب یہ کہ کیا اس نے تمام جزئیات بھی بیان کردیئے؟ یا نہیں: بلکہ فقط کلیات اور اصول بیان کئے ہیں اوران چیزون کا ذکر کیا ہے جن کی لوگوں کو ضرورت تھی۔ ان ہی کلیات و اصول میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ قرآن نے( پیغمبر اکرم (ص) کے بعد کے لئے) ایک ایسے انسان کا تعارف کروادیا جو قرآن کی تفسیر اس کے معانی کی وضاحت نیز اس کے کلیات کی تشریح سے واقف ہے۔ اس کا یہ علم اجتہاد کی بنیاد پر نہیں ہے۔ جس پہ کچھ باتیں صحیح ہو یا کچھ غلط( بلکہ وہ علم الٰہی کے ذریعہ ان چیزوں سے آگاہ ہے) اور حقیقتت اسلام اس کے پا سمحفوط ہے۔ پس قرآن یہ جو کہتا ہے کہ ہم نے تمام چیزیں بیان کردی اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی۔ ہم نے کلیات کے ساتھ ساتھ جزئیات بھی بیان کردیئے ہیں اور انہیں ایک “دانا” کے پاس محفوظ کردیا۔ اور ہمیشہ اسلام سے آگاہ ایک شخص لوگوں کے درمیان موجود رہتا ہے۔ “: من زعم عن اللہ عز وجل لم یکمل دینہ فقد رد کتاب اللہ” اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خدا وند عالم نے اپنا دین کامل نہیں کیا تو اس نے قرآن کے خلاف بات کہی ہے اور جو بھی قرآن کو رد کرے کافر ہے” وحل یعرفون قدر الامامۃ ومحلھا من الامۃ فیجوز فیھا اختیارھم” جو لوگ کہتے ہیں کہ امامت انتخابی ہے کیا وہ جانتے بھی ہے کہ امام کے کیا معنی ہیں؟ ان لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ امام کا انتخاب کسی سپہ سالار لشکر کے انتخاب کے مانند ہے جب کہ امام وہ ہے کہ ( جس کی تعیین پر ) قرآن فرماتا ہے کہ میں نے دین کامل کردیا ساتھ ہی ہم یہ بھی جانتے ہیں اسلام کے جزئیات قرآن میں نہیں ہے۔ حقیقت اسلام اس (امام ) کے پاس ہے۔ کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا شخص کون ہے کہ خود اسے منتخب کرلیں؟ یہ تو ایسا ہی ہوا جیسے کہاں جائے کہ پیغمبر کا انتکاب ہم خود کرتے ہیں!” ان الامامۃ عجل قدراً وعظم شاناً واعلیٰ مکاناً وامنع جانباً وابعد غوراً من ان یبلغھا الناس بعقولھم او ینالوھا بعرائھم” امامت انسان کی فکری حدود سے اس س ےکہی بالاتر ہے کہ اسے انتخابی قرار دیا جائے اسی مسئلہ کو انتخابی کہا جانا چاہئے جسے لوگ واقعی طور ہرتشخیص دے سکیں، جن مسائل میں انسان خود تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے وہاں دین کبھی براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔ اور بنیادی طور پر ایسے مسائل میں دین کی براہ راست مداخلت بالکل غلط ہے، کیونکہ ایسی صورت میں سوال اٹھے گا کہ پھر انسان کی فکر وعقل آخر کہاں کام آئے گی؟ جہاں تک انسانی فکر و عقل کا دائرہ ہے انسان خود انتخاب کریں لیکن جو بعد عقل و بشر کی حد سے خالی اور بالاتر ہے۔ اس میں انتخابی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ( امامت قدر و منزلت کے اعتبار سے بہت بلند، شان کے اعتبار سے بہت عظیم، مرتبہ کے اعتبار سے بہت عالی ہے، اس کی دیواریں ناقابل عبور ہے اور عقل و فکر کی حد سے عقل سے باہر ہے۔” انسان اپنی عقل کے ذریعے امام کو درک نہین کرسکتے اور نا اس تک اپنی آرا ک ےذریعہ رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور نہ اپنے اختیار سے اس کا انتخاب کرسکتے ہیں” ان الامامۃ خص اللہ عز وجل بھا ابراہیم الخلیل بعد النبوۃ والخلۃ” اگر امامت کے حقیقی مانا سمجھنا چاہتے ہو یہ جان لو کہ (امامت ) ان تمام مسائل سے الگ ہے جن کا آج لوگ اظہار کرتے ہیں کہ پیغمبر کا ایک خلیفہ و جانشین منتخب کریں۔ لیکن یہ جانشین پیغمبر صرف لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کرے۔ امامت تو اصل میں وہ منصب ہے کہ ابراہیم جیسا پیغمبر نبوت کے بعد اس تک رسائی حاصل کرتا ہے اور اس منصب پر فائز ہونے کے بعد مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خدا کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے” ومن ذریتی” خدا وندہ میری ذریت میں سے کچھ افراد کو بھی یہ منصب عطافرما۔ ابراہیم جانتے ہیں کہ یہ عظیم منصب ان کی تمام ذریت کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ جواب دیا جاتا ہے” لا ینال عھدی الظالمین” یہ وہ منصب ہے جو ظالم کو نہیں مل سکتا۔ ہم عرض کرچکے ہیں کہ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ کیا ظالم ہر حال میں ظالم ہے چاہے ماضی میں وہ ظالم رہا ہو یا پہلے نیک اور صالح رہا ہو کیونکہ کہ یہ محال ہے کہ ابراہیم کہیں، خدایا (یہ منصب) میری ذریت میں سے ظالموں کو عطا فرما۔ پس ہر حال ان کی نظر میں آپ کی نیک اور صالح اولاد ہی رہی ہے۔چنانچہ خدا وند عالم کی طرف سے جواب ملا کہ یہ منصب آپ کی ذریت میں سے ان کو عطا ہوگا جن کا ظلم سے سابقہ نہ رہا ہو۔” فابطلت ھٰذہ الآیۃ امامۃ کل ظالم الی یوم القیامۃ و صارت فی الصفوۃ” یہ منصب ان منتخب افراد میں ہے یعنی ذریت حضرت ابراہیم میں اہل صفوۃ ( منتخب اور بہترین افراد کو عطا ہوا ہے۔ ( صفوۃ یعنی مکھن کے مانند ایک ایسی چیز جسے مٹھانکال کر اوپر سے نکال لیتے ہیں اور وہی” زبدہ” کہلاتا ہے)۔” ( اس کے بعد خداوند عالم نے امامت کو بزرگ و مکرّم بنایا اور وہ اس عنوان سے کہ اسے ) صفوۃ اور اہل طہارت یعنی ذریت ابراہیم میں صاحبان عصمت کا حصہ قرار دیا۔ اس کے بعد امام قرآن کی آیات سے استدلال فرماتے ہیں:ووھبنا لہ اسحٰق ویعقوب نافلۃ وکلا جعلنا صالحین وجعلناھم ائمۃ یھدون بامرنا و اوحینا الیھم فعل الخیرات [37] اور ہم نے ابراہیم کو اسحٰق و یعقوب جیسے فرزند عطا کئے اور ہم نے ان سب کو نیکو کار و اصالح ( بنی) قرار دیا۔ اور ان کو لوگوں کا ہادی و پیشوا قرار دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے، اور ہم نے ان کی طرف نیک اعمال بجالانے کی وحی کی۔قرآن مجید میں اس نکتہ پر کافی زور دیا گیا ہے کہ ذریت حضرت ابراہیم کو منصب امامت سے نوازا گیا ہے۔اس کے بعد امام فرماتے ہیں: فمن این یختار ھٰؤلاء الجھال” آخر وہ مقام و منصب جو حضرت ابراہیم کو نبوت کے بعد عطا ہوا، یہ نادان اسے آخر کس طرح انتخاب کرنا چاہتے ہیں؟ کیا بنیادی طور پر یہ منصب انتخاب کے ذریعہ حاصل بھی کیا جاسکتا ہے؟! ” ان الامامۃ ھی منزلۃ الانبیاء وارث الاوصیاء” امامت در اصل مقام انبیاء اور میراث اوصیاء ہے۔ یعنی یہ ایک وراثتی امر و منصب ہے لیکن قانونی میراث کے عنوان سے بلکہ اس اعتبار سے کہ اس کی استعداد و صلاحیت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوئی ہے۔ ” ان الامامۃ خلافۃ اللہ” امامت خلافت الٰہی ہے جو سب سے پہلے آدم کو عطا ہوئی۔” وخلافۃ الرسول” اور خلافت پیغمبر ہے۔ اس کے بعد امام فرماتے ہیں:” ان الامامۃ زمام الدین” امامت زمام دین، نظام مسلمین، صلاح و فلاح دنیا، عزت مسلمین، اسلام کی اصل و اساس اور اسکا بنیادی تنا ہے۔”بالامام تمام الصلوٰۃ والزکوٰۃ والصیام والحج والجھاد تاآخر۔ یعنی امام ہی کے ذریعہ نماز، زکوٰۃ، روزہ حج، جہاد اور دیگر اسلامی احکام و اوامر کامل ہوتے ہیں۔
نتیجہمذکورہ بالا تمام باتوں سے ایک اساسی و بنیادی منطق ہمارے ہاتھ آتی ہے۔ ہاں اگر بالفرض کوئی اسے بھی قبول نہ کرے تو اور بات ہے۔ یہ منطق ان سطحی و معمولی مسائل سے بالکل الگ کہ اکثر متکلمین کی طرح ہم یہ کہیں کہ پیغمبر اسلام کے بعد ابوبکر خلیفہ ہوئے اور علی چوتھے خلیفہ ہوئے۔ آیا علی کو پہلا خلیفہ ہونا چاہیئے یا مثلا چوتھا؟ آیا ابوبکر میں امامت کے شرائط پائے جاتے تھے یا نہیں؟ اس کے بعد ہمن شرائط امامت کو مسلمانوں کی حاکمیت کے عنوان سے دیکھنا اور پرکھنا شروع کریں۔ البتہ یہ بھی ایک بنیادی و اساسی مطلب ہے۔ اور شرائط حاکمیت کے اعتبار سے بھی شیعوں نے اعتراضات کئے ہیں اور بجا اعتراضات کئے ہیں۔ لیکن اصولی طور پر مسئلہ امامت کو اس انادز سے بیان کرنا ہی صحیح نہیں ہے کہ ابوبکر میں امامت کے شرائط پائے جاتے تھے یا نہیں۔ اصل میں خود اہل سنت بھی ان کے لئے اس منصب کا اقرار نہیں کرتے۔اس سلسلہ میں اہل سنت کے عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ آدم و ابراہیم سے لے کر حضرت رسول اکرم (ص) تک خدا وند عالم نے ان افراد سے متعلق انسان کے جتنے ماوراء الطبیعی پہلؤوں کا ذکر کیا ہے آنحضرت کے بعد تمام ہوگئے۔ پیغمبر اکرم کے بعد اب تمام انسان معمولی اور ایک جیسے ہیں۔ اب صرف علماء ہیں جو پڑھنے لکھنے کے بعد عالم ہوئے ہیں اور ان سے کبھی غلطی ہوتی ہے کبھی نہیں ہوتی۔ یا حکام ہیں جن میں سے بعض عادل ہیں اور بعض فاسق۔ اب یہ مسئلہ امامت ان ہی کے درمیان دائر ہوتا ہے۔اب وہ باب جو ہمارے یہاں حجت الٰہیہ کے نام سے پایا جاتا ہے، یعنی وہ افراد جو عالم ماوراء الطبیعہ یا عالم بالا سے ارتباط رکھتے ہیں، ( ان کے یہاں نہیں پایا جاتا، ان کا عیدہ ہےکہ) پیغمبر اکرم کے بعد وہ بساط ہی لپیٹ دی گئی ہے۔شیعہ جواب دیتے ہیں کہ ( پیغمبر اکرم کے بعد) رسالت کا مسئلہ ختم ہوگیا۔ اب کوئی دوسرا انسان کوئی نیا دین و آئین لے کر نہیں آئے گا۔ دین سے ایک سے زیادہ نہیں ہے اور وہ ہے اسلام، پیغمبر اکرم کے ساتھ رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ لیکن حجت اور انسان کامل کا مسئلہ اور اس کی ضرورت انسانوں کے درمیان ہرگز تمام نہیں ہوئی ہے، کیونکہ روئے زمین پر پہلا انسان اس طرح کا تھا اور آخری انسان بھی ان ہی صفات کا نمونہ ہونا چاہیئے۔ ایل سنت میں صرف صوفیا کا طبقہ ایسا ہے جو ایک دوسرے نام سے ہی، اس مطلب کو تسلیم کرتا ہ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ صوفیائے اہل سنت اگرچہ صوفی ہیں لیکن جیسا کہ ان کے بعض بیانات سے ظاہر ہوتا ہے انہوں نے مسئلہ امامت کو اسی عنوان سے قبول کیا ہے۔ جیسے شیعہ مانتے ہیں۔محی الدین عربی، اندلس کا رہنے والا ہے۔ اور اندلس وہ جگہ ہے جہاں کے رہنے والے نہ صرف سنی تھے بلکہ شیعوں سے عناد بھی رکھتے تھے اور ان میں ناصبیت کی بو پائی جاتی تھی اس ک ی وجہ یہ تھی کہ اندلس کو امویوں نے فتح کیا اور بعد میں برسہا برس وہاں ان کی حکومت رہی۔ اور چونکہ یہ لوگ بھی اہل بیت کے دشمن تھے لہٰذا علمائے اہل سنت میں زیادہ تر ناحینی علماء اندلس میں شیعہ ہوں بھی نہیں اور اگر ہوں گے بھی تو بہت کم اور نہ ہو نے کے برابر ہوں گے۔بہر حال محی الدین اندلسی ہے، لیکن اپنے عرفانی ذوق کی بناید پر وہ اس بات کا معتقسد ہے کہ زمین کبھی کسی ولی یا حجت سے خالی نہی رہ سکتی۔ یہاں وہ شیعی نظریہ کو قبول کرتے ہوئے ائمہ علیہم السلام کے ناموں کا ذکر کرتا ہے، یہاں تک کہ حضرت حجت کا نام بھی لیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے سن چھ سو کچھ ہجری میں حضرت محمد بن حسن عسکری سے فلاں مقام پر ملاقات کی ہ ۔ البتہ بعج باتیں اس نے ایسی کہی ہیں جو اس کی ایک دم ضد ہیں اور ہو بنیادی طور پر ایک متعصب سنی ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ اس کا ذوق عرفانی تقاضہ کرتا ہے کہ صوفیوں کے مطابق زمین کبھی کسی ” دلی” ( اور ہمارے ائمہ کے مطابق حجت ) سے خالی نہیں رہ سکتی،ا س مسئلہ کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ مشاہدہ و ملاقات کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ میں حضرت محمد بن عسکری کی خدمت میں پہنچ چکا ہوں، اور اس وقت جبکہ ان کی عمر تین سو کچھ برسوں سے زیادہ ہوچکی ہے اور وہ مخفی ہیں، میں ان کی زیارت سے شرفیاب هوا هوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[34] ڈارون کا مشہور نظریہ۔ انسان پہلے بندر تھا ( مترجم)[35] سورہ بقرہ۔ آیات ۳۰۔ ۳۱۔[36] نہج البلاغہ، فیض الاسلام، حکمت نمبر ۱۲۹۔ مطابق نہج البلاغہ مترجم مفتی جعفر حسین مرحوم، حکمت ۱۴۷[37] سورۂ انبیاء، آیت نمبر ۷۲۔ ۷۳
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.