ہوم پیج > تربیت > احترام والدین کا دنیامیں نتیجہ
رہائی کی تاریخ : 26 مارس 2018


اگر احترام والدین سے مربوط روایات معصومین علیھم السلام کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت اور احترام کا نتیجہ دو قسم کا ہے:١۔ دنیوی نتیجہ۔٢۔ اخروی نتیجہ ۔یہاں اختصار کے ساتھ دنیوی اور اخروی نتا ئج کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے دنیوی نتائج میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا :١۔ ان اللّٰہ تعالی وضع اربعا فی اربع برکۃ العلم فی تعظیم الا ستاذ وبقاء الایمان فی تعظیم اللّٰہ ولذت العیش فی بر الوالدین والنجات من النار فی ترک ایذاء الخلق۔(١)خدا وند متعال نے چار چیزوں کو چار چیزوں میں قرار دیا ہے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١) کیفر کر دار ج ١ص ٢٢٤.
———————————-
١۔ علم کی بر کت کو استا د کے احترام میں۔٢۔ ایمان کی بقاء کو خدا کے احترام میں۔٣۔ دنیوی زندگی کی لذت کوو الدین کے ساتھ نیکی کرنے میں۔٤۔ جہنم کی آگ سے نجات پا نے کو لوگوں کو اذیت نہ پہچانے میں ۔ہر با شعور انسان کی یہ کو شش ہو تی ہے کہ اس کی زندگی خوش گوار ہواور اس سے لذت اٹھائے زندگی کی شیرینی اور لذت سے بہرہ مند ہونے کی خاطر مال اولاد خوبصورت بنگلہ گاڑی اور بیوی وغیرہ کی آرزو ہو تی ہے لیکن اگر ہم غور کریں کہ ہمارے پاس یہ ساری چیزیں مہیا ہوں لیکن والدین سے رشتہ منقطع اور ان کی خد مت انجام دینے سے محروم ہو تو وہ زندگی ان لوازمات زندگی کے باوجود شیرین اور لذت آور نہیں ہو سکتی ۔لہٰذا پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ دنیوی زندگی کی لذت ماں باپ کی خدمت اور احترام رکھنے میں پوشیدہ ہے پس اگر کوئی شخص دنیوی لوازمات زندگی کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھے لیکن والدین کا احترام نہ کرے تو یہ خام خیالی اور کج فکری کا نتیجہ ہے کیونکہ والدین کا احترام دنیوی زندگی میں سعاد ت مند ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے ، لہٰذا ذات باری تعالی کی اطاعت کے بعد والدین کی اطاعت ہم پر لازم ہے، تب ہی تو متعدد روایات میں ان کے حقوق اور احترام کی سفارش کی گئی ہے لہٰذا امام جعفر صادق علیہ السلام نے والدین کی خدمت اور احترام کی تاکید کرتے ہوئے یوں ذکر فرمایا ہے :”ویجب للوالدین علی الولد ثلا ثہ اشیاء شکر ہما علی کل حال وطاعتھما فیما یا مر انہ و ینہیا نہ عنہ فی غیر معصیۃ اللّٰہ ونصیحتھما فی السر والعلانیۃ وتجب للولد علی والدہ ثلا ثۃ خصال اختیا رہ لوالدتہ وتحسن اسمہ والمبا لغۃ فی تا دیبہ ”(١)” فرزند پر ماں ،باپ کے حق میں سے تین چیزیں لازم ہیں:١۔ ہر وقت ان کا شکر گزار ہونا۔٢۔ جن چیزوں سے وہ نہی اور امر کرے اطاعت کرنا بشر طیکہ معصیت الہی نہ ہو۔٣۔ ان کی موجود گی اور عدم موجود گی میں ان کے لئے خیر خواہی کرنا۔اسی طرح باپ پر اولاد کے تین حق ہیں:١۔ اچھا نا م رکھنا ۔٢۔ اسلامی آئین کے مطابق تر بیت کرنا۔٣۔ ان کی تربیت کیلئے اچھی ماں کا انتخاب کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)تحف العقول ص ٣٣٧.
————————————-
لہٰذا جو شخص دنیامیں زندگی کی لذت اور سعادت کے خواہاں ہے اسے چاہئے کہ والدین کی خدمت سے کبھی کو تا ہی نہ کریں ۔
الف۔ ماں باپ کی طرف دیکھنا عبادت ہےاسلام میں کئی ہستیوں کے چہروں کو دیکھنا عبادت قرار دیا ہے:١۔ عالم دین کے چہر ے کو دیکھنا ۔٢۔ معصومین کے چہرے کو دیکھنا ۔٣۔ والدین کے چہرے کو دیکھنا عبادت کا درجہ دیا گیا ہے کہ یہ حقیقت میں ما ں باپ کی عظمت اور فضیلت پر دلیل ہے ۔ماں باپ کی طرف دیکھنے کی دو صورتیں ہیں :١۔ ناراضگی اور غم وغصہ کی حالت میں دیکھنا کہ اس طرح دیکھنا باعث عقاب اور دنیوی زندگی کی لذتوں سے محروم ہو نے کا سبب ہے کہ جس سے شدت سے منع کیا گیا ہے چنا نچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا :”من العقوق ان ینظر الرجل الی ابویہ یحد الیھما النظر”(١)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)بحار ج ٧١
——————–
برے اور عقاب آور کا موں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان والدین کی طر ف تند وتیز نگاہوں سے دیکھے۔ایک اور روایت میں فرمایا :”من نظر الی ابوبیہ بنظر ماقت وہما ظالمان لہ لم یقبل اللّٰہ لہ صلواۃ ”(١)اگر کو ئی شخص اپنے ماں باپ کی طرف ناراض اور غضب کی نگاہ سے دیکھے تو خدا اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا اگر چہ والدین نے اس پر ظلم بھی کیا ہو۔لہٰذا اگر کسی روایت میں والدین کی طرف دیکھنے کی تعریف آئی ہے اسے عبادت قرار دی ہے تو اس سے مراد محبت اور پیار کی نگاہ ہے۔دوسری قسم یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا” النظر الی وجہ الوالدین عبادۃ ”(٢)ماں باپ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے یعنی باعث نجات اور سعادت ہے ۔ دوسری روایت میںامام رضا علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا:”النظرالی الو الدین برأ فۃ ورحمۃ عبادۃ۔”(٣)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)اصول کافی ج ٢ ص ٣٤٩.
———————————–(٢)مستدرک ج١٥ ص ٣٠٤.(٣)حقوق زن وشوہر.
ماں باپ کی طرف مہرو محبت کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے اسی طرح پیغمبر اکرم (ص) نے یوں فرمایا:” نظرالولد الی والدیہ حبا لھما عبادۃ”(١)ماں باپ سے مہر ومحبت کی نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے ۔ نیز ایک روایت جنا ب اسماعیل نے اپنے والدبزرگوار حضرت امام جعفر صادق + سے اور امام نے اپنے آباء علیہم السلام سے نقل کی ہے:” قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نظرالولد الی والدیہ حبالھما عبادۃ”(٢)پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا فرزند کا ماں باپ کی طرف محبت بھری نگاہ سے دیکھنا عبادت ہے ۔اسی طرح ایک روایت میں ما ں باپ کی طرف دیکھنے کو حج مقبول جیسا ثواب ذکر ہوا ہے :”عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ما من ولد بار ینظر الی والد یہ نظر رحمۃ الا کا ن لہ بکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)کشف الغمتہ (ص ٢٤٢ نقل ارزش پدر ومادر .(١)بحار الانوار ج ٧٢ .
—————————-
نظرۃ حجۃ مبرورۃ فقالو یا رسول اللّٰہ وان نظر فی کل یوم مائۃ قال نعم اللّٰہ واطیب ۔”(١)ابن عباس نے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کوئی بھی فرزند محبت کی نگاہ سے والدین کی طرف دیکھے تو ہر نظر کے بدلے حج مقبول کے برابر ثواب ہے اس وقت لوگوں نے کہا اے رسول خدا اگر ایک دن میں سودفعہ دیکھے پھر بھی حج کے برابر ہے ؟ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہا ں حج کے برابر ہے (کیو نکہ ) خدا ہر چیز سے بزرگ تر اور ہر عیب سے منزہ ہے ۔گذشتہ روایات کی روشنی میں کئی مطالب واضح ہو جاتے ہیں:١۔ ماں باپ کی طرف دیکھنے کی دوصورتیں ہیں غم وغصہ کی نگاہ سے دیکھنا یہ شریعت اسلام میں شدت سے منع کیا گیا ہے۔٢۔ مہر ومحبت سے دیکھنا یہ عبادت ہے۔٣۔ ماں باپ کی طرف دیکھنے کا ثواب حج مقبول کے برابر ہے والدین مومن ہو یا فاسق فاجر ہو یا کافر قابل احترام ہےں ۔
ب۔ ماں باپ کی خدمت میں طول عمروالدین کی خدمت اور احترام کرنے کے دنیا وی نتائج میں سے اہم ترین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)بحار الانوار .
————————
نتیجہ یہ ہے کہ ماں باپ کا احترام اور ان کی خدمت کرنے سے خدا اس کو دنیا میں طویل اور لمبی زندگی عطا کر تا ہے چنا نچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم (ص) نے یوں فرمایا :” قال النبی من احب ان یکو ن اطول النا س عمرا فلیبر والدیہ”(١)اگر کوئی شخص طول عمر کے خواہان ہو تو ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو ۔اس روایت میں پیغمبر نے شرط کے ساتھ فرمایا جو لوگ دنیوی زند گی کے تمام مراحل میں کا میابی اور طولانی عمر چا ہتے ہیں تو والدین کے ساتھ نیکی اور ان کا احترام فراموش نہ کرے۔نیز دوسری روایت میں آنحصرت (ص) نے فرمایا :”من سرہ ان یمد لہ فی عمرہ ویبسط لہ فی رزقہ فلیصل ابویہ فان صلتھا من طاعۃ اللّٰہ ” (٢)اگر کو ئی شخص عمر طولانی اور رزق میں اضافہ ہونے کا خواہاں ہو تو والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرے اور ہمیشہ رابط رکھے چو نکہ ان سے نیک رفتار ی اوراچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)مستدرک ج ١٥ .
(٢) بحارج ٧٤ صفحہ ٨٦.
———————-
سلوک کرنا اطاعت الٰہی کے مصادیق میں سے ایک ہے۔نیز ایک اوردوسری روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :” ان کنت ترید ان یزاد فی عمر ک فبر شیحک یعنی ابویہ” (١)اگر تم اپنی عمر میں تر قی اور اضافہ ہونا چاہتے ہو تو اپنے ماں باپ کی خدمت انجام دو اور ان کے ساتھ نیکی کرو اسی طرح ایک اور روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :”من بر والد یہ طوبٰی لہ و زادا لہ فی عمرہ”(٢)خوش نصیب بند ہ وہ ہے جو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتا ہے کیو نکہ ایسے بندے کو خدا اس کے عوض میں اس کی دینوی زندگی میں اضا فہ فرماتاہے۔اگر انسان ان تمام روایات کی تحلیل وتفسیر کرے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ طول عمر کا مسالہ بہت ہی مشکل اور اہمیت کا حامل ہے لیکن انسان غور کرے تو والدین کی برکت سے اور ان کی خدمت کرنے کے نتیجے میں خدا انسان کی دنیوی زندگی میں اضافہ فرماتا ہے جبکہ آیت یہ ہے کہ اگر مو ت کے مقررہ وقت آپہنچے تو ایک لحظہ تقدم و تاخر کی گنجائش محال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١) بحار ج ٧١ .(٢)بحار الانوار.
———————–
لیکن والدین کی خدمت اور احترام ایسا سبب ہے کہ اس کو انجام دینے والے کو خدا طویل عمر اور لمبی زندگی عطا کرتا ہے کہ جس کے خواہاں ہر انسان ہیں چاہے امیر ہو یا غریب عورت ہو یا مرد۔لہٰذاان احادیث کی روشنی میں بخوبی کہہ سکتا ہے کہ سعادت دنیوی اور اخروی ماں باپ کی خد مت میں پوشیدہ ہے کیونکہ روایات میں آیا ہے کہ خداوندعالم ماں،باپ کی خدمت کر نے والوں کو عمر اور دولت میںاضافہ کرتا ہے کہ یہ دونوں سعادت دنیا وآخرت کا سبب ہیں لہٰذا اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ والدین کتنی بڑی نعمت ہیں کہ خداہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق اور ان کے تابع ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔
ج ۔والدین کے احترام میں دولتدنیوی نتائج میں سے تیسرا اہم نتیجہ یہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اور خوش رفتار ی سے پیش آنے کے نتیجے میں خدا اس کو دنیا میں دولت مند اور فقر وفاقہ سے نجات دیتا ہے کہ یہ والدین کی عظمت اور حقوق کی ادا ئیگی شر یعت اسلام میں لازم ہو نے کی دلیل ہے ۔کیو نکہ دنیا میں ہر انسان کی خواہش یہی رہتی ہے کہ اپنے آپ کو دولت مند اور امیر بنائے تا کہ کسی کا بوجھ نہ بنے اور معاشرے میں باوقار اور عزت مند نظر آئے، لہٰذا ہزاروں مشقتیں اٹھا نے پر آمادہ ہے تا کہ دولت سے محروم نہ ہو پائے ،اگر انسان شریعت اسلام کے اصول و ضوابط سے واقف ہو تو کبھی بھی دولت میں اضافہ کا میا ب زندگی گذار نے میں مانع پیش نہیں آتا کیو نکہ نظام اسلام نے دنیوی زندگی کو آباد کرنے میں اتنی اہمیت دی ہے کہ جتنی اہمیت ابدی زندگی کو دی گئی ہے۔چنانچہ اس مطلب کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے علماء یوں نقل کرتے ہیں:”اعملوا لدینا کم کا نک تعیش ابداً و اعملوا لآ خرتکم کانک تموت غدا ”(١)تم لوگ دنیا میں اتنی زحمت اٹھا ؤکہ گویا ہمیشہ زندہ رہو گے اور آخرت کیلئے اتنا کام کرو کہ گویا کل ہی مر جاؤ گے۔لہٰذا اگر ہم غور کریں تو عقل بھی دنیوی زندگی کو حلال طریقے کے ساتھ آباد کرنے کی تاکیدکرتی ہے کیونکہ یہی دنیوی زندگی میں ہی ابدی زند گی کی آبادی اور نا بودی پو شیدہ ہے اور دولت دنیوی زند گی کو آباد کرنے کے ذرا ئع میں سے ایک اہم ذر یعہ ہے کہ اگر ہم والدین کے حقوق کی رعایت کر ینگے تو خدا نے اس کو دولت مند بنانے کی ضمانت دی ہے کہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم (ص) نے یوں فرمایا ہے :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)نہج البلاغہ.
——————
”من یضمن لی برالوالدین وصلۃ الرحم اضمن لہ کثرۃ المال وزیادۃ العمر والمحبۃ فی العشیرۃ ”(١)یعنی اگر کوئی شخص مجھے ضما نت دے کہ میں والدین کا احترام اور صلہ رحم ترک نہیں کروں گا تو خدا اس کے مال اور عمر میں اضافہ کرنا اور ان کے خاندان میں وہ عزیز ہونے کی میں ضمانت دیتا ہوں .نیزدوسری روایات میں اس طرح کی تعبیریں بہت زیادہ ہیں کہ ویبسط الرزق یعنی اگر ہم والدین کے حقوق کو ادا کریں تو خدا ہماری دولت میں مزید اضافہ فرمائے گا بہت ساری روایات جو عاق والدین کی مذمت پر دلالت کرتی ہے کہ ان میں سے بھی کچھ روایات سے واضح ہو جا تا ہے کہ والدین کا احترام نہ کرنے کے نتیجہ میں اس کی عمر میں کو تا ہی دولت میں کمی آجاتی ہے کہ ان روایات سے انشاء اللہ بعد میں تفصیلی گفتگو ہو گی۔لہٰذا والدین کا احترام رکھنا حقیقت میں ہما ری زندگی آباد ہو نے کا ذر یعہ ہے لیکن ہماری نا دانی ہے کہ ہم والدین کے حقوق کو ادا کرنا وبال جان سمجھتے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیمات سے محروم اور اصول وضوابط کے پا بند نہ رہنے کا نتیجہ ہے وگر نہ بہت ساری روایات اس طرح کی ہے کہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١) مستدک نقل از کتاب ارزش پدر ومادر .
————————–
احترام سے پیش آئیں تا کہ کل ہمارے فرزندان بھی ہمارے ساتھ احترام سے پیش آسکیں۔پس اگر ہم دولت مند اور امیر ہو نے کی خواہش رکھتے ہیں تو والدین کے حقوق کو کبھی فرامو ش نہ کریں اور یہ خیال نہ کرے کہ والدین کے حقوق ادا کئے بغیر ہم دولت مند اور امیر بن سکتے ہیں کیونکہ ایسا خیال اور فکر تعلیمات اسلامی سے دور ہے .ماں باپ کے حقوق ادا کئے بغیر کبھی دولت مند نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا دنیا میں بہت زحمتوں کے باوجود ہماری دولت میں تر قی نہ ہو نے کا سبب یہ ہے کہ ہم والدین کے حقوق کو ادا نہیں کرتے اور ان کو اپنے بچے اور بیوی کے حد تک عملی میدان میں احترام کے قائل نہیں ہیں کہ اس کا نتیجہ دنیا میں دولت مند ی اور لمبی زندگی سے محرومی ہے ،لہٰذا امام رضا علیہ السلام نے باپ کی اطاعت اور حقوق ادا کرنے کو اس طرح بیان فرمایا ہے”قال الرضا علیک بطا عۃ الاب وبرہ والتو اضع والخضوع والا عظام والا کرام لہ وخفض الصوت بحضرتہ فانّ الاب اصل الا بن والابن فرعہ لولاہ لم یکن لقدرۃ اللّٰہ ابذ لوا لھم الامو ال والجاہ و النفس ”(١)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)۔ بحار ج١٧ چاپ بیروت.
————————
” تم پر باپ کی اطاعت کرنا اور ان سے خوش فتا ری سے پیش آنا اور ان کے سامنے انکسار ی اور ان کو بز رگی کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کے سا منے آ واز بلند نہ کرنا لازم ہے ۔ کیونکہ باپ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ فرزند اس کے شاخہ کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اگر باپ نہ ہو تا تو خدا اس کو خلق ہی نہ کرتا پس اپنے اموال کو اور مقام ومنزلت کو ان پر فدا کر ۔”
د۔ والدین کے احترام میں کامیابیہر معا شرہ ا ور سو سائٹی کے باشعور افراد کی کو شش یہی رہی ہے کہ ہم اپنے فیلڈ اور شعبہ میں کامیابی سے ہمکنار ہو لیکن کامیابی کے حصول کی خاطر شب وروز تلاش کے باوجود بہت ایسے افراد نظر آتے ہیں کہ جو بر سوں مشقتیں اٹھا نے کے باوجود کا میا بی سے محروم رہ جاتے ہیں کہ شاید جس کی علت یہ ہو کہ ہم نے والدین جیسی عظیم ہستیوں کے احترام کی رعایت نہیں کی ہے جسکا نتیجہ دنیا میں کا میا بی سے محروم اور معا شرہ میں بد نا می کا باعث بنتا ہے کیو نکہ ہم والدین کے نیک نصیحتوں پر عمل کے بجا ئے لاابالی قسم کے افراد کے مشوروں پر چلتے ہیں اور والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے کہ جس کا لازمہ دنیا میں ہزاروں زحمتیں اٹھا نے کے باوجود کا میابی جیسی نعمت سے محروم رہنا ہے، چو نکہ جب کو ئی فرزند والدین کی نصیحت اور مشورے پر عمل کئے بغیر ان کو ناراض ہو نے دیتا ہے تو والدین ان کی ناکامیابی دیکھ کر ایک لمبی سی سانس ناراضگی کی حالت میں لیتے ہیں تو وہ عرش تک پہونچتی ہے کہ اس کا نتیجہ فرزند مزید ناکامی اور بربادی میں مبتلا ہوتا ہے۔لہٰذا روایت میں ہے کہ والدین جب اولاد کے حق میں دعا کرتے ہیں تو کبھی خدا اس کو رد نہیں کرتا ہے کہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم (ص) نے یوں فرمایا ہے:” اربعۃ لاترد دعوۃ ویفتح لہم ابواب السماء ویصیر الی العرش دعاء الوالد لولدہ والمظلوم علی من ظلمہ والمعمر حتی یرجع والصائم حتی یفطر۔”(١)چار ہستی خدا کی نظر میں اس طرح کے ہیں کہ اگر وہ دعا کرے تو کبھی استجابت سے محروم نہیں ہوتے:١۔باپ فرزند کے حق میں دعا کرے۔٢۔مظلوم ظالم کے خلاف دعا کرے۔٣۔عمرہ انجام دینے والے کی دعا عمرہ سے واپس آنے تک۔٤۔روزہ دار کی دعا افطار کرنے تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١) کتاب ارزش پدر ومادر.
—————————
یہ وہ افراد ہیں جن کے لئے خداوندعالم نے رحمتوں کے دروازے کھول رکھے ہےں، تاکہ ان کی فریاد عرش تک پہنچ جائے ۔لہٰذا انسان کی کامیابی اور دنیوی زندگی کو شادابی کے ساتھ گزارنے میں ماں باپ کی بہت بڑی دخالت ہے تب بھی تو دنیا میں ایسے فرزند بھی نظر آتے ہیں کہ والدین کی نیک نصیحتوں او راچھے مشوروں پر نہ چلنے کے نتیجہ میں دنیوی زندگی اوراخروی زندگی دونوں کی سعا دتمند ی سے محروم رہے ہیں لہٰذا قدیم زمانے میں ایک دولت مند کہ جس کا ایک عیاش فرزندتھا اس دولت مند باپ نے اس عیاش بیٹے سے بارہا لوگوں کے ساتھ اچھے سلوک اور نیک رفتار ی سے پیش آنے کی نصیحت کی مگر اس نے نہیں مانا۔لیکن جب باپ کی موت قریب ہوئی تو باپ نے اس کو اپنے قریب بلایا اور کہنے لگا کہ اے میرے عیاش بیٹے میرا آخری وقت ہے لہٰذا میں تجھے وصیت کرتا ہوںاوراس گھر کے فلاںکمرے کی چابی تیرے حوالے کرتا ہوں کہ جب تو ہر قسم کی منزلت ومقام سے کھوبیٹھے تو اس کمرے کے دروازے کو کھولنا اور اس کی چھت کے ساتھ ایک رسی آویزان کی گئی ہے اس وقت اس رسی کو کھینچ کر اپنے گردن کو لٹکانا تاکہ تو زندگی سے نجات پائے وہ فرزند باپ کے مرنے کے کچھ سالوں بعد ثروت اور دیگر عیاشی کے ضروریات کھوبیٹھا تو باپ کی وصیت یاد آئی۔لہٰذا فورا کمرے کی چابی کھولنے لگا تو دیکھا کہ چھت کے ساتھ ایک رسی آویزان ہے کہ وہ عیاش بیٹا زندگی سے تنگ آچکا تھا لہٰذا فوراً زندگی سے نجات پانے کی خاطر رسی کو مضبوطی سے کھینچ کر گردن سے لٹکانے کی کوشش کی کہ اتنے میں رسی کے ساتھ سونے کی ایک تھیلی چھت سے گرپڑی تو فوراً باپ کی نصیحتوں اور نیک مشوروں کو یاد کرنا شروع کیا اور اپنی بدبختی اور نا کا میا بی کی ملامت شروع کردی اور کہنے لگا کہ میرے باپ میری کا میابی کو کسی حد تک دل سے چاہتے تھے لیکن میں نے ان کی نصیحتو ں پر عمل نہیں کیا نتیجہ خود کشی تک پہنچا لیکن پھر بھی باپ نے مجھے نجات دی (١) ۔لہٰذا روایت میں ایسا جملہ مکر ر آیا ہے کہ الاب اصل وفرعہ ابنہ یعنی باپ علت ہے فرزند معلول ہے کہ معلول کی کا میا بی اور نا کامی علت میں پوشیدہ ہے ۔پس اگر غور کر یں تو معلو م ہو گا کہ ہمیں دنیا میںکا میابی کی طرف لے جانے والے صرف والدین اور انبیا ء اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں لہٰذا انہیں کے نصیحتوں اور مشورں پر چلنا ہمار ی کا میا بی کا سبب بنتا ہے ۔
ز۔ ماں ،باپ پر سختی کی ممانعتماں ،باپ کے متعلق احکامات میں سے ایک یہ ہے کہ اولاد کا ان پر سختی کرنا فقہی رو سے حرام ہے چاہے ناز یبا الفاظ استعمال کر کے اذیت پہنچائے یا ناشائستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)داستان ہائے شیرین ،ص ١٣٠ .
——————–
فعل کے ذریعے ان کو ناراض کرے ،شر عا ًقابل مذمت ہے چنا نچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابن مہزم نے یوں نقل کیاہے :”عن ابن مھزم قال فلمادخلت علیہ قال لی مبتد أً یا ابامھزم مالک ولخالدہ (یعنی ام) اغلظت فی کلا مھا البار حۃ اما علمت ان بطنھا منزل قد سکنتہ وان حجرہا مھدقدعمر تہ وثدیہا وعاء قد شربتہ قلت بلی قال علیہ السلام فلا تظفہا۔”(١)ابن مہزم نے کہا کہ جب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو امام علیہ السلام کی نظر مجھ پر پڑ تے ہی فرمایا ۔اے ابن مہز م کل تو اپنی ماں کے ساتھ کسی چیز پر جھگڑا کر رہا تھا اور تو ان کی گفتگو سے کیوں ناراض ہوا کیا تم نہیں جانتے کہ ان کا شکم تمہاری منزل تھی کہ جس میں تو رہا کرتا تھا اور ان کا دامن تیرا گہوار تھا کہ جس میں تو آرام سے لطف اندوز ہوتا تھا اور ان کا دودھ تیر ا کھانا اور پینا کہ جس سے تو شرب ونوش کرتا تھا ۔(ابن مہزم نے کہا ) جی ہاں اس طرح تھا پھر آپ (ص)نے فرمایا پس ان پر سختی نہ کر۔اس حدیث سے والدین کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہٰذا ماں باپ کو کسی قسم کی سختی اور اذیت پہنچانا شر یعت اسلام میں حرام اور ہر انسان کی نظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١۔ مستدر ک ج ١٥ ص١٩١.
———————–
میںمستحق مذمت ہے ۔ نیز اور ایک روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا ہے :”ملعون من سب امہ ”(١)١۔ جو شخص ماں کو دشنام اور گالی دے یا ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کرے گا وہ خدا کی رحمت سے دور ہے خواہ وہ فعلی اذیت ہو یا قولی، اسلام کی نظر میں کوئی فرق نہیں ہے پس ماں، باپ کی شان میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا موجب عقاب او رنابودی کا سبب ہے ۔اسی طرح روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ ماں باپ کو مارنا بہت ہی شدت کے ساتھ ممنوع قرار دیا گیا ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا:”ملعون ملعون من ضرب والدہ او والدتہ ”(٢)معلون ہے ملعون ہے وہ شخص جو اپنے ماں باپ کو مارے۔
تفسیر وتحلیل:ان روایات سے کئی مطلب کا استفادہ ہوتا ہے:١۔ قول وگفتار کے ذریعہ ماں باپ پر سختی کی ممانعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١) نہج الفصاحہ .(٢)ارزش پدر ومادر.
———————————
٢۔ ان کو گالی دینے کی شدت سے ممانعت کی گئی ہے۔٣۔ ان کو مارنا پیٹنا حرام ہے۔یہ مطالب توضیح طلب ہیں لیکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف اسی اجمالی تذ کر پر اکتفا کرتا ہوں اگر چہ اخبار ی کتب میں روایات صحیح السند کی شکل میں یا مر سلہ اور مسند کی صورت میں بہت زیادہ ہیں لیکن تحصیلات کے اوقات کو نعمت سمجھ کر اجمالی اشارہ کو کا فی سمجھتا ہوں ۔لہٰذا اگر کو ئی شخص والدین پر سختی سے پیش آیا یا نعوذ بااللہ مارنے پیٹنے کی حد تک پہونچ گیا تو خدا اس کی دولت میں کمی عمر میں کو تا ہی ،دنیوی کا مو ں میں نا کا میابی ،معا شرے میں بد نامی ، اور ہر قسم کی عزت وشرافت سے محروم کرنے کے علاوہ موت کے وقت بہت ہی اذیت اور عالم برزخ میں سختی اور قیامت کے دن حساب وکتا ب کے مو قع پر خسارہ سے دو چار ہو گا پس والد ین کا احترام کرنا اور ان پر ہر قسم کی سختی پہنچانے سے پر ہیز کرنا ، فطری اور عقلی دلیلوں کی چاہت کے باوجود انبیاء اور ائمہ معصومین (ع) کے فرامین کا خلاصہ ہے ۔ لہٰذا اگر آپ ماں باپ پر سختی کریں گے تو کل آپ کی اولاد بھی آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے چنانچہ اس مطلب کو معصوم(ص) نے یوں فرمایا : ”بروا آبائکم تبر ابنا ئکم ”(١)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)اصول کافی.
———————–
تم اپنے والدین کے سا تھ نیکی کرو تا کہ کل تمھا رے فرزندان بھی تمہارے ساتھ نیکی کریں
ر۔ والدین کی رضایت میں خدا کی رضایتپورے مسلمانوں کی کو شش یہی رہتی ہے کہ خدا وندعالم ہماری ہر حرکات وسکنات پر راضی ہو اسی لئے طر ح طرح کی زحمتوں کے باوجود فروع دین اور اصول دین کے احکام کے پابند ہو جا تے ہیں تا کہ خدا وند علی الا علی کی رضایت جلب کرنے سے محروم نہ رہیں ،لہٰذاہزاروں روپئے خمس کی شکل میں یا صدقہ اور دیگر وجوہات کو ادا ء کر کے خداکی خوشنودی حاصل کرنے میں سر گرم رہتے ہیں لیکن اگر ہم اسلام کے اصول وضوابط سے تھوڑی سی آگا ہی رکھتے ہوں تو معلوم جائے گا کہ خدا نے اپنی رضایت وخوشنودی اور ناراضگی کو ماں، باپ کی رضایت اور نارضگی میں مخفی رکھا ہے ،جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے :”اول ما کتب علی اللوح انااللّٰہ ولاالہ الا انا من رضی عنہ والد ہ فانا عنہ راض ومن سخط علیہ والدہ فانا علیہ ساخط”(١)یعنی لوح محفوظ پر سب سے پہلے یہ لکھا گیا ہے :میں اﷲ ہوں اور میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(١)معراج السعادۃ ص ٨٤ ٣ .
—————————-
علاوہ کوئی معبود نہیںہے کہ اگر کسی پر اس کے ماں باپ خوش ہو تو میں بھی اس پر خوش ہوں لیکن اگر کسی پر اس کے والدین ناراض ہوں تو میں بھی اس سے ناراض ہوں۔.نیز دو سری روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا :”رضاء الر ب فی رضاء الوالدین وسخطہ فی سخطھما”(١)خدا کی رضایت ما ں باپ کی رضایت میں پو شیدہ ہے اور ان کی ناراض گی ماں باپ کی نا راضگی میں مخفی ہے ۔مذ کورہ روایات کے مضمون کے مطابق ایک حکایتبھی ہے جو قابل ذکر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دن حضرت داؤد علیہ السلام زبور کی تلاوت کررہے تھے اتنے میں اچانک ایک خاص کیفیت اور حالت آنحضرت (ص) پر طاری ہو ئی اور سوچ کرکہنے لکے کہ شائید دنیا میں مجھ سے زیادہ عبادت گذار کوئی اور نہ ہو کہ جب اس طرح سوچنے لگے تو خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی :”اے داؤد اگر اتنی عبا دت سے اپنے آپ کو دنیا میں عابد تر سمجھتے ہو تو اس پہاڑکے اوپر جاکر دیکھو کہ میرا ایک بندہ سات سو سال سے میری عبادت اور مختصر سی کو تا ہی پر مجھ سے طلب مغفرت کررہا ہے جب کہ وہ کو تا ہی میر ی نظر میں جرم نہیں ہے چنا نچہ جب حضرت داؤد نے اس پہاڑپر جا کر دیکھا کہ ایک عابد عبادت اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ١)کنز العمال ج ١٦ ص ٨٠ ٣ نقل از اخلاق زن وشوہر .
—————————
رکوع وسجود کے نتیجے میں بہت ہی کمزور ہوچکا ہے اورنماز میں مشغول ہے تھوڑی دیر جناب داؤد منتظر رہے جیسے ہی اس عابد نے نماز تمام کی حضر ت داؤد(ع) نے اس کو سلام کیا عابد حضرت (ع) کے سلام کے جواب دینے کے بعد پوچھنے لگا کہ تو کون ہے ؟حضرت داؤد نے فر مایا کہ میں داؤد ہوں کہ جیسے ہی داؤد کا نام سنا تو کنے لگا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو داؤد ہے تو میں تیر ی ترک اولی کی وجہ سے تیرے سلام کا جواب نہیں دیتا لہٰذا اس پہا ڑ پر ہی خدا سے معا فی ما نگیں ۔کیو نکہ میں ایک دن گھر کی چھت پررفت آمد کرنے کے نتیجہ میں میری ما ں پر کچھ خاک آپڑی تھی کہ اسی کی معافی کے لئے سات سو سال سے میں اس پہاڑ پر خدا سے طلب مغفرت کررہا ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میری ماں مجھ سے راضی ہو ئی ہے یا نہیں ؟(١)پس والدین کی عظمت اور بزرگی کی وجہ سے خدانے اپنی رضایت کو ان کی رضایت میں مخفی رکھا ہے اگر خدا کی رضا یت چاہتے ہو تو والدین کے احترام اور حقوق کو ادا کرکے ان کو راضی کریںکہ اس کا نتیجہ خو شنودی الہی کا حصول ہے دنیا وآخرت میں سعادت سے مالا مال ہو نے کا سبب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١۔ الدین فی نصص ج٣ ،٢٣نقل از ارزش درومادر .
———————————–
 


لیبل :
تبصرے