نصوص اور ظواهر قرآن کی حجیت

16

  قرآن مجید صدور کے لحاظ سے قطعی هے هماری بحث دلالت قرآن کے بارے میں هے اس میں کوئی شک نهیں که قرآن کی آیات قابل فهم هیں لیکن ایسا بھی نهیں هے که سارے کاسارا قرآن دلالت کے لحاظ سے قطعی اور یقینی هو اس لئے که خود قرآن نے آیات کو محکم اور متشابه میں تقسیم کیا هے جیساکه ارشاد هے :”*مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ “*”جس میں سے کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں” ۔لیکن آیات متشابه کو آیات محکمات کی روشنی میں تفسیر کیا جاسکتا هے ۔دوسرا مطلب یه هے که خود محکمات بھی دوقسموں میں تقسیم هوتے هیں :1- بعض نصوص ا س حدتک اپنے معنی پر روشن طریقه سے دلالت کرتے هیں که ان میں اختلاف معنی کا تصور بھی محال هے ۔2- اور بعض نصوص ظواهر کے لحاظ سے ظنی الدلاله هیں ۔اهم بحث انهی ظواهر کی حجیت کے بارے میں هے ۔ تمام علمائے اسلام ظواهر قرآن کو فی الجمله حجت مانتے هیں گرچه بعض اخباریوں نے حجیت ظواهر کو مورد تردید قرارد یا هے ان کی باتوں سے یه سمجھ میں آتا هے ظهور قرآن بطور مطلق حجت هے لیکن قرآن کی ایک خصوصیت یه هے که اس میں کوئی ظهور واقع نهیں هوا هے اور جو ظواهر قرآن شمار هوتے هیں وه در حقیقت متشابهات هیں که جسے هم ظواهر سمجھ بیٹھتے هیں ۔
حجیت ظواهر کے دلائلکلی طور پر الفاظ قرآن کے ظواهر کا حجت هونا مسلمات میں سے هے که جس پر کسی دلیل و برهان کی ضرورت نهیں پھربھی حجیت ظواهر پردو دلیلیں پیش کی جاسکتی هیں ۔
1- ارتکاز عقلاعام طور پر لوگ گفتگو کے دوران جو الفاظ اداکرتے هیں انهی الفاظ کے ظواهر پر اعتماد کرتے هیں معاملات کی اسناد کا عدالت کے مقدمات ، مکاتبات اور استدلال میں انهی ظواهر پر اعتماد کیا جاتا هے او رهر قائل کے ظواهر سخن کو فائده اورنقصان میں حجت قرار دیاجاتا هے شارع مقدس نےبھی اهل سخن کے اس طریقه کو نهیں چھوڑا اور لوگوں سے گفتگو میں کسی نئی روش کو ایجاد نهیں کیا بلکه انهیں کے طریقه کی تائید کرتے هوئے ظواهر قرآن کوحجت قرار دیا هے ۔
3- وضع الفاظحقیقت و مجاز اور کنایه و استعاره کا مقصدتفهیم و تفهم هے ایک دوسرے کی بات کو سمجھ اور سمجھانے کے لئے انهیں وضع اور قوانین لغت کو مرتب کیا گیا اب اگر ظواهر کو حجت قرار نه دیا جائے تو وه عمل خلاف مقصد لازم آئے گا پس ظواهر قرآن حجت هیں ۔3
حجیت ظواهر قرآن اور اخباری مسلکاخباری ظواهر قرآن کی حجیت کو مسلم مانتے هیں ان کا کهنا هے ظاهر قرآن حجت هے مگر یه که ظواهر کی تاویل،تخصیص یا نسخ پر کوئی دلیل موجود هو -4 اس بحث کو شیعوں نے اپنی علم اصول کی کتابوں میں مفصل طریقه سے بیان کیا هے ۔ اس کی وجه وه فکر هے جو اخباری مسلک کے درمیان پیداهوئی ان کا کهناتھا که ظواهر قرآن سے احکام اسنتباط کرناناممکن هے . و ه کهتے هیں متعدد روایات هیں جس میں قرآن کی تفسیر اور اس سے احکام کے استنباظ سے منع کیا گیا هےاس لئے همارے سامنے اب ایک راسته هے که ضروریات دین کے علاوه تمام امور میں صرف روایات معصومین پر کان دهریں ان تعبیرکے حساب سے” سماع الصادقین” پر گامزن رهیں ۔5 اور وه کبھی کهتے هیں : قرآن کا علم صرف پیغمبر(ص)اور ائمه علیهم السلام سے مخصوص هے اس لئے قرآن کے حقیقی مخاطب وه هیں نه که دوسرِے لوگ اس لئے فهم قرآن میں لازم هے که ان کی جانب رجوع کیا جائے -6. علمائے امامیه نے اخباریوں کے اس عقیده کی شدت سے مخالفت کی اور ان کا جواب دیا لیکن افسوس که بعض افراد یا اخباری اور دوسروں کے درمیان فرق نهیں کرتے هیں یا نهیں چاهتے وه اخباریوں کی خاص فکر کو تمام مکتب اهل بیت کے علماء کی جانب نسبت دیتے هیں ۔ اس موضوع سے مربوط روایات کی تحقیق اور دانشمندان شیعه کی آراء کو جاننے کے بجائے بعض مخصوص روایات کو اکٹھا کرکے بلکه بعض روایات کو کانٹ چھانٹ کر بغیر کسی تحقیق اور دوسری روایات سے مقابله کئےے بغیر اور مخصوص و مقید یا ناسخ و معارض کی توجه کے بغیر اخباریوں کے عقیده قرآن کو تمام علمائےشیعه کی جانب نسبت دیتے هیں اور اسےی مذهب اهل بیت علیهم السلام کے مسلّم عقائد پر شمار کرتے هیں-7۔عجب تو یه هے که اهل سنت نے انهی کتابوں میں سے ایک کتاب میں قرآن کے بارے میں ان مطالب کی نسبت شیعوں کی جانب دی اور اس کا حواله اخباریوں کی کتاب مشارق السموس الدریه سے دیا -8۔بهرحال اخباریوں نے روایات کے ظواهر سے استدلال کیا جب که کوئی بھی روایت ان کے ادعا پر دلالت نهیں کرتی9انهی میں سے وه روایات بھی هیں جو تفسیر بالرأی سے نهی کرتی هیں جب که که ظواهر قرآن جوکه ادبیات عرب کے مطابق اور سب کے لئے قابل فهم هے اسے چھوڑ کر اپنے خواهشات اور میلانات کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنے کو کهتے هیں بعبارت دیگر اپنے افکار اور پیشد رویوں کو قرآن پر تحمیل کرنا جایز نهیں اور اس بات کا ظواهر قرآن سے اس کا کوئی ربط نهیں هے؟؟یا وه روایات جو کهتی هیں فهم قرآن صرف پیامبر(ص)اور ائمه معصوم علیهم السلام سے مخصوص هے10 جب که ان روایات کا اشاره متشابهات اور بطون قرآن کی جانب هے نه که ظواهر قرآن کیونکه ائمه اهل بیت بارها اپنے اصحاب کو قرآن کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیتے اور تشویق فرماتے تھے یهاں تک که تعارض روایات کی صورت میں فرماتے جو حدیث قرآن سے مطابقت رکھتی هو اسے لے اور جو حدیث ظاهر قرآن کے خلاف هو اسے چھوڑدو . هم بعض احادیث میں پڑھتے هیں : جس وقت ایک راوی نے کسی مئله مسئله میں امام سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا :یعرف هذا و امثاله من کتاب الله عزوجل-11(*و ماجعل علیکم فی الدین من حرج )*یا جس وقت راوی نے امام سے پوچھا آپ کے پاس کیاا دلیل هے که سرکے ایک حصه کا مسح، وضو ء میں کافی هے آپ نے فرمایا :”*لمکان الباءوَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ “. *۔ 12” آیت میں باء کا پایاجانا کیونکه باء باء تبعیض اور بعض کے معنی میں هے”13۔حجیت نصوص اور ظواهر قرآن کا مسئله اتنا واضح هے که اس میں کسی طولانی گفتگو کی گنجائش نهیں اور اخباری مسلک کے افکار متروک هوچکے هیں اور حوزه های علمیه میں آج ان افکار کا کوئی خریدار نهیں بلکه کها جاسکتا هے که اخباری مسلک کے افکار کا شمار منقرض اور نابود شده عقائد میں هوتا هے ۔————–1 . فصلت ، 42 .2 . حجر ، 9 .3 . انوار الاصول ، ج2 ،ص 324 /323 .4 . المهذب فی اصول الفقه المقارن ، ج3 ،ص 1202 .5 . الفوائد المدنیه ،ص47 .6 . هدیه البرار ، ص155 .7 .اصول مذهب شیعه الاثنی عشریه ، ج1 ،ص155 به بعد .8 . موقف الرفضه فی القرآن ، ص 362 .9 . وسائل شیعه ،ج18 ، ابواب صفات القاضی باب 13 ، ح28/66/79 .10 . سابقه مدرک ، ح3/6/9/10/12/15 وغیره .11 . سابقه مدرک ،ب9 .12 . مائده ، 6 .13 . وسائل الشیعه ، ج1 باب 23 ابواب وضو ،ح1 .
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.