استنباط میں زمان و مکان کی تاثیر

344

:جوکچھ بیان کیا گیا اس سے واضح هوتاهے که” اجتهاد میں زمان و مکان “کی بحث تاریخی اعتبار سے آغاز فقه شیعه کی پیدائش کے ساتھ ساتھ هے اور یه بحث فقه کی ترقی اور تازگی اور واقعاتت و حوادث کی جوابدهی میں خاص اهمیت کی حامل هے موجوده دور میں اس فقهی مبناکے علمدار آیۀالله خمینیR تھے هماری کوشش یه هے اس سلسلے میں ان کے بعض نکات اور جودیگردانشمندوں نے بیان کیا هے اسے مختصر اور آشنائی کی حدتک بیان کریں. اس لئے که اس موضوع میں تفصیلی گفتگو بالخصوص اس بحث میں موجود اختلاف نظر ایک مستقل کتاب کی طلبگارهے هم نے پهلے بھی اس نکته کی جانب اشاره کیا هے که همارے عقیده کے حساب سے اسلام میں کوئی قانونی خلاءنهیں پایاجاتا اس لئے قیاس ورای کے سهارے کی کوئی ضرورت نهیں هے . اگر همارا هدف قانوں سازی هوتا تواس صورت میں هم قیاس ورائ وغیره پرتکیه کرتے اور اس کی ضرورت اهمیت کے اثبات پر زورلگاتے اور یه کوشش کرتے که کسی طرح همارا بنائے هوئے قانون کی کوئی ضرورت نهیں هے بلکه جس طرح امام صادقنے فرمایا: یه اور اس جیسے (احکام و مسائل) کو کتاب خداسےسمجھاجاسکتاهے ، پس عمل کی صورت میں هم اپنی ذمه داری اور تکلیف شرعی (جو ادله شرعی سے کشف احکام) کو ادا کرتے هیں هاں یه ضرورهے که چونکه هم معصوم نهیں هیں اس لئے بهرحال خطاکاامکان هے . اس لئے هم تخطئه (امکان خطا) کے قائل هیں نه که تصویب کے .زمان و مکان کی نیازمندوں کی شناخت هر دور میں اهم رهی هے .لیکن همارے دور میں اس کی اهمیت اور بھی بڑھ گئی هے هم ان نیامندوں کی شناخت کے بغیر رائج مشکلات و مسائل تو حل نهیں کرسکتے خاص طور سے حکومت اسلامی میں انسان کی فردی اور اجتماعی، سیاسی ، اقتصادی، و حقوقی، مسائل کی جانب توجه نه کی گئی تو وه اپنے مسائل بیگانوں سے حل کروائیں اور یه اسلام و مسلمانوں کے حق میں بهت بڑی خیانت هوگی .آیۀ الله خمینیR فقه شیعه کی غنایئیت کے پیش نظر اس سلسلے میں فرماتے هیں :میں سنتی فقه اور اجتهاد جواهری کا قائل هوں او راس سے تجاوز کو جایز نهیں سمجھتا اجتهاد کی وهی پرانی روش صحیح اور درست هے اس کےمعنی یه نهیں که اسلامی فقه میں نوآوری اور پیشرفت و ترقی نهیں هے بلکه زمان اور مکان اجتهاد کے دو اهم ترین اور فیصله کن عناصرهیں جو مسئله پهلے هی سے کسی حکم کا حامل تھا اب وهی مسئله ممکن هے جدید سیاسی، اقتصادی ،اور اجتماعی روابط کے پیش نظر اس کا حکم بدل جائے یعنی اقتضادی سیاسی اور اجتماعی روابط کی دقیق شناخت کی بناپروه موضوع اول جو قدیم حکم کا حامل هے وهی موضوع ان جدید روابط کی وجه سے ایک نیا موضوع بن گیاهے.اور نیا موضوع اس لئے نیاحکم چاهتاهے پس مجتهدکو چاهیے ، که اپنے دورکے مسائل سے آگاه هو او ران پر احاط رکھے. ایک اور جگه فقهاء کی موجود مسائل سے آشنائی کے سلسلے میں فرماتے هیں: حوزے اور روحانیت کو چاهیئے که سماج کی فکر اور مستقبل کی باگ ڈور کو همیشه اپنے هاتھ میں رکھیں زیرا ممکن هے لوگوں کے امور کو آج اپنے مشکلات کے حل کے لئے اسلام کے جدید مسائل کی ضرورت محسوس کرے ،اس لئے علماء اسلام کو ابھی سے آینده در پیش مسائل کی فکر کرنی هوگی . 1زمان و مکان کی تاثیر گذاری اتنی اهم هے که غیر مستقیم طورپر ناخوداگاه اچانک فقیه که استنباط میں ظاهر هوجائے اسی لئے ایک زمان شناش فقیه کا اجتهاد موجود مسائل سں ناآشنا فقیه کے نزدیک نادرست اور غیر فنی هوگا.شهید مطهری فرماتے هیں :اگر کوئی فقهاء کے فتووں کا ایک دوسرے سے مقابله اور مقایسه کرے اور ضمنا فقیه کے حالات اور اس کے ظرز تفکر کو نظر میں رکھے تو اسے اندازه هوگا که کسی فقیه کے ساتھ حالات اور خارجی اطلاعات کا اس کے فتوون پر کتنا اثر پڑاهے یهاںتک که فقیه عرب کے فتووں سے عرب کی بو اور عجم کے: فتوں سے عجم کی بو آتی هے . ایک دھاتی کا فتوی دھات کی بو اور ایک شهرکا فتوی شهر کی بودےگا.یه دین دین خاتم هے اور کسی خاص زمانے سے مخصوص نهیں هے اور اس کا تعلق تمام مناطق اور تمام ادوار سے هے اسلام ایسادین هے که جو انسان کی زندگی کے نظام اور ترقی کے لئے آیا هے .کیسے ممکن هے که کوئی فقیه موجوده حاکم نظاموں سے بے خبر هو او زندگی کے تکامل اور ترقی پر ایمان نه رکھتاهو اور اس کے باوجود اس دین کے اعلی دستورات جو انهی موجوده نظام کے لئے آئے هیں اور اس ترقی وور کامل طور سے صحیح استنباط کرسکے . 2البته شهید مطهری (رح) کے اس بیان کو بصورت کلی ماننا تامل هے کیونکه اس کے موارد بهیت محدود هے شهید کے مذکوره قول صرف انهی موارد سے مربوط هیں ورنه ساری فقه اور سارے فقهاء زیر سوال آجائیں گے .————–1 .صحیفه نور ،ج21،ص 982 . شهید مطهری ، اجتهاد در اسلام مجموعه آثار ،ج20 ص181و182 .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.