سنت تک پهنچنے کے راستے

295

جیساکه یه بات گذر چکی که قول وفعل تقریر معصوم کو سنت کهتے هیں اسی لئے اخبار اور احادیث سنت نهیں بلکه سنت کی حکایت کرتے هیں اور درحقیقت سنت تک پهنچنے کے راستے شمار هوتے هیں ۔یهاں پر سنت کی تلاش اور اس تک پهنچنے کے بعض قطعی او ربعض غیر قطعی راستون کو پیش کیاجاتاهے -1۔
الف : سنت تک پهنچنے کے قطعی راستے
1- خبر تواترامت اسلامی اور معصومین کے درمیان زمانی فاصله کی وجه سے روایات متعدد واسطوں سے آئی هے ۔1- اهل سنت کے ایک گروه نے خبر کی تین قسمیں کی هیں : ایک خبر وه هے که جس کی تصدیق واجب هے اورایک خبر وه هےکه جس کی تکذیب واجب هے اور ایک وه هے که جس میں توقف کیاجانا چاهیئے. ان کا کهنا جس خبر کی تصدیق واجب هے اس کی سات قسمیں هیں ۔(1)خبرمتواتر(2) خبر واحد(3) خبر رسول الله (ص)(4) خبر امت پیغمبر (ص)کیونکه امت کی عصمت پیغمبر (ص)کی جانب سے مختص هوچکی هے ضمنا هر اس شخص کی خبر جسے امت سچا اور راستگو مانتی هے وه اسی چوتھی قسم میں داخل هے ۔(5) هر اس شخص کی خبر جو الله، رسول اور امت کی اخبار سے مطابقت رکھتی هو ۔(6)هر وه خبر جسے مخبر و پیغمبر کے آگے بیان کرے اور پیغمبر اس کی تکذیب نه کریں ۔(7) هروه خبر که جسے مخبر کسی جماعت کے آگے بیان کرے اور جماعت اس خبر کی تکذیب نه کرے البته اس شرط کے ساتھ که ان کا پشت پرده سازش اور باهم توافق کرنامحال هو ۔ لیکن وه خبر که جس کا تکذیب کرنا و اجب هے اس کی چار قسمیں هیں :1- وه خبر جو عقل ضروری اور عقل نظری کے حکم یا حسن ومشاهده اور اخبار متواتر کے خلاف هو ۔2- وه خبر جو کتاب وسنت واجماع کے مخالف هو ۔3- وه خبر که جسے کثیر جماعت نے جھوٹی خبر قرار دیا هو او رعادتا اس خبر کے خلاف انکا پشت پرده توافق کرنا ناممکن هو ۔4- ایسی خبر که جسے ایک کثیر جماعت نقل کرنے سے انکار کرے جبکه اس کے نقل کرنے کا امکان موجود هو ۔
اور خبر کی تیسری قسم :وه خبر هے که جس میں خبر کا سچا اور جھوٹا هونا مشخص نه هو اور کتب حدیث میں اکثر اخبار اسی قسم کی هیں .اسے او ریه اخبار امت تک پهنچتی هیں اور جنتا یه فاصله بڑھتا جائے اتنے هی واسطے بڑھتے جاتے هیں هر واسطه کو اصطلاحاً طبقه کها جاتا هے ۔ خبر متواتر وه خبر هے که ان طبقات میں سے هر ایک طبقه میں ایساگروه موجود هو که جس کا کذب وجعل حدیث پر توافق کرنا عام طور پر ناممکن هو اسی لئے خبر متواتر یقین آور هے 2۔
2- وه خبرواحد جو قرینه قطعیه کے همراه هو .جو روایت حد تواتر تک نه پهنچے اسے اصطلاحاً خبرواحد کهتے هیں کبھی خبرواحد میں ایسے قرائن هوتے هیں جس سے یقین هوجاتا هے که یه خبر معصوم سے صادر هوئی هے ، اخباری علماء کے نزدیک کتب اربعه کی روایات ان خبرواحد جیسی هیں جو قرینه قطعیه کے همراه هوں . اسی لئے ان کی نظر میں کتب اربعه کی ساری روایات حجت هیں اور اسی لئے وه روایات کی صحیح ، ضعیف، مرسل اور مرفوع جیسی تقسیم بندی کو قبول نهیں کرتے اور یهی حال اهل سنت کے اکثر محدثین کا هے وه بھی صحاح سته خاص طور سے بخاری اور صحیح مسلم کی تمام روایات کو حجت مانتے هیں 3 ۔
3- اجماعمذهب امامیه کا اجماع چونکه رائے معصوم کا کاشف هے اس لئے حجت هے اور اسی بناپر خبرمعصوم اور وه خبر جو محفوف به قرینهسے ملی هو کی مانند کاشف سنت هے لیکن اهل سنت کے نزدیک اجماع دلائل استنباط میں مستقل دلیل شمار هوتی هے ۔اسی لئے هم اهل سنت کی رعایت کرتے هوئے اسے آئنده صفحات میں مستقل عنوان کے تحت پیش کریں گے اور اس سلسله میں فریقین کے نظریات کو بیان کریں گے ۔
4- سیرۀ عقلاءتمام لوگوں کا چاهے وه مسلمان هوں یا غیر مسلمان کسی فعل کو بطور مستمرمسلسل انجام دینا یا ترک کرنا سیره یا بنائے عقلاء کهلاتا هے مگر سیرۂ عقلا کے حکم شرعی هونے کےلئے معصوم کی تائید اور امضاءضروری هے اور معصوم کا کسی فعل کی انجام دهی سے روکنا اس فعل کی تائید او رامضا ء کےلئے کافی هے-4 کیونکه اگر وه فعل حرام هوتا تو امام کےلئے اس فعل سے روکنا لازم هوتا ۔
5- سیرۀمسلمینوه افراد جو دین اسلام کے پابند هیں ان کا کسی فعل کو انجام دینا یا ترک کرنا ایک طرح سے مسلمانوں کاعملی اجماع شمار هوتا هے کسی عمل کی انجام دهی اور ترک عمل میں انکاا موقف اور ان کی روش سیرۂمسلمین کهلاتی هے یه سیرت اگر زمانه ءمعصوم سے متصل هو تو حجت هوگی کیونکه سیرت مسلمین اس بات کی دلیل هے که ان کی سیرت معصوم سے صادر دشده قول یا فعل سے ماخوذ هے لیکن اگر ان کی سیرت کا زمانه ء معصوم سے متصل هونا مشخص نه تو ایسی صورت میں وه سیرت حجت نهیں هوگی کیونکه شاید یه سیرت اسلامی سماج میں ایک عادت بن گئی هو اس لئے که بعض اوقات کسی شخص یا گروه کی خاص روش اور رفتار اس حدتک لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز هوتی هے جو دھیرے دھیرے ایک رسمی اور عمومی عادت بن جاتی هے . کسی عادت کی ابتداء میں علماء اور متدین افراد کی سهل انگاری او رغفلت کی وجه سے یا اس کے خلاف کوئی ٹھوس موقف اختیار نه کرنے کی وجه سے یاموقف تو اختیار کیا لیکن اس عادت کو مٹانے میں اس موقف کے کافی نه هونے کی وجه هے سے اکثر لوگ اس میں دلچسپی لینے لگتے هیں اور آهسته آهسته وه عادت اتنی مضبوط هوجاتی هے که اکثر افراد اس عادت کا احترام کرنے لگتے هیں آج مساجد کے خرچے اور تشریفاتی امور انهی سهل انگاریوں کا نتیجه هوں هیں جوآج ایک عادت بن گئی اور لوگ اسے هی سیرت مسلمین سمجھ بیٹھے هیں -5۔
ب: سنت دستیابی حاصل کرنے سنت کے غیر قطعی راستےبه بات گذرچکی هے که جس طرح کشف سنت کے کچھ قطعی راستے هیں اسی طرح کچھ غیر قطعی راستے بھی هیں که جن کا خود بخود کوئی اعتبار نهیں کیونکه حکم شرعی کی دلیل کا قطعی هونا لازمی هے صرف احتمال و گمان کی عقل کے نزدیک کوئی ارزش نهیں هے . قرآن ظن و گمان کی پیروی کو قابل قبول نهیں جانتا :”*وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا “*” گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے” ۔6″*وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً”*” اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے مت جانا کہ روزِ قیامت سماعتً بصارت اور قوائے قلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا-7 ۔لیکن اگر یه غیر قطعی راستے معقول هوجائیں اور ان کے اعتبار پر قطعی دلائل موجود هوں تو یهی غیر قطعی راستے حجت هوں گے اور ان پر عمل ظن و گمان کی پیروی نهیں هوگی ۔ وه غیر قطعی لیکن معتبر راستے کچھ اس طرح هیں :
1- خبرواحدایسی خبر که جس کے راوی تمام یا کسی ایک طبقه میں ایک یا ایک سے زیاده هوں لیکن حدتواتر تک نه پهنچیں تو ایسی خبر یقین آور نهیں هوگی او رایسی خبر کو اصطلاح میں خبرواحد کهتے هیں ۔خبر واحد کی بحث منابع استنباط کے اهم ترین مباحث میں سے هے اور اس کی حجیت میں علماء کے درمیان اختلاف پایاجاتا هے سید مرتضیٰS ابن زهرهS ابن براجS طبرسی8 اور ابن ادریسS اس کی حجیت کا انکار کرتے هیں اهل سنت میں قدریه اور فرقه ظاهریه9 کے بعض افراد اسکی حجیت کے منکر هیں جب که شیخ طوسی اور فقهائے تشیع کے اکثر بزرگ افراد اسی طرح تمام اخباری او ر اهل سنت کے اکثر افراد خبرواحد کی حجیت کے قائل هیں 10 ۔حجیت خبرواحد کے شرائط میں کوئی ایک مشخص رائے نهیں هے مسلک امامیه کے قدما ء اس خبر واحد کومعتبر مانتے هیں جو قرائن صحت کے همراه هو چاهے وه قرائن صحت داخلی هوں جیسے راوی کی وثاقت یا خارجی هوں جیسے کسی معتبر کتاب میں اس کا وجود یا کسی کتاب میں اس کی تکرار . ، اور روایت غیر معتبر اسی روایت کو مانتے هیں جس میں اس قسم کے قرائن موجود نه هوں11 لیکن چھٹی صدی سے شیعه علماء نے خبر واحد کی حجیت کےلئے راوی کی عدالت کو شرط قرار دیا هے اور بعض نے راوی کی وثاقت کو شرط قرار دیا اور اسی نظریه کی اساس پر روایات کی چار قسمیں کیں صحیح، حسن، موثق اورضعیف . البته اخباری کتب اربعه کی تمام روایات کو حجت مانتے هیں اور حدیث کی مذکوره تقسیم بندی کو غلط اور بے اثر جانتے هیں لیکن ان کے پاس اپنے نظریه کے اثبات میں کوئی قابل قبول دلیل نهیں هے ۔
روایت صحیح .اهل سنت کے نزدیک وه خبر واحد که جس کی سند متصل هو ( یعنی جس کے سلسلهء سند میں کوئی افتاد گی نه هو ) اورجس کے راوی عادل مضبط اور مخفی عیب سے دور هوں ایسی روایت کو روایت صحیح کهتے هیں :”” ماتصل سند بعدول ضابطین بلا شذوذ ولاعلة خفیة””
روایت حسن .اس روایت کوکهتے هیں جس روایت کے صدور اورا س کے رجالی شناخته شده هوں مگر روایت صحیح کی حدتک نه هوں ۔””ماعرف مخرجه و رجاله لاکرجال الصحیح””
روایت ضعیفوه روایت هے که جس میں روایت حسن کے درجات سے کوئی درجه نه هوں اور خود روایت ضعیف کے کئی مرتبے هیں ۔””ماقصر عن درجه الحسن وتفاوت درجاته فی الضعف بحسب بعده من شروط الصحة “” 12————–1 .المصتفیٰ، ج1 ،ص 144/142 .2 . مصباح الاصول ،ج2 ،ص 192 .3 . حدائق الناظره ، ج1 ،ص 23 .4 . اصول القه ، ج2 ،ص 171 .5 . اصول الفقه، ج2 ، ص 175 .6 . نجم،28 .7 . اسراء ،36 .8 . کفایه الاصول ،ج2،ص79 .9 . روضه الناظر ،ج1 ،ص313 .10 . وهی مدرک ،11 .مقباس الهدایه فی علم الدرایایه ،ج1،ص19/24 .12 . امنی المطالب ، ص 17 .
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.