اَئمہ علیہم السلام کی عصمت پر قر آ نی دلیل

394

کیاقرآن کریم کی آیات سے ان ذواتِ مقدسہ کی عصمت پر کو ئی دلیل مو جو د ہے یا نہیں ؟اس کے جواب میں متعدد آیات مو جو د ہیںلیکن ہم ان میں سے نمو نہ کے طور پرصرف دو آ یتیں پیش کررہے ہیں ارشاد ہو تا ہے:( یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنَوُااَطِیْعُوْااللَّہَ وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ وَاُوْلِیْ الْاَمْرِمِنْکُمْ ۔۔۔)(١)”اے ایما ن لا نے وا لو اﷲ کی اطاعت کر واور اپنے رسول اور اولی الا مر کی اطا عت کرو ”۔اہل تشیّع اور اہل سنّت دونوں کی معتبر روایات کے مطا بق او لی الامر سے مراد با رہ امام ہیں حتی برادران اہلسنّت نے کچھ ایسی روا یتیں نقل کی ہیں کہ جن میں پیغمبر اسلام ۖنے اولی الا مر کے عنوان سے بارہ اما موں کا تعا رف…………..١۔سو رۂ نسا ء آیت٥٩۔کرا یا ہے۔ شیعہ حضرات سے تو اس سلسلہ میں بہت سی روا یتیں نقل ہو ئی ہیں ہم روا یا ت کے قطع نظرپہلے یہ جا ئزہ لیتے ہیں کہ کیا خوداس آیت سے اولی الامر کے لئے عصمت ثا بت کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ پھر مقام تطبیق میں ہم یہ دیکھیں کہ او لی الامر کو ن لوگ ہیں ؟آیۂ کریمہ میں یہ بیا ن کہاگیا ہے کہ اے ایما ن لا نے وا لو خدا، رسو ل اور او لی الا مر کی اطاعت کرو ۔ آیت کے آغاز میں ”اَ طِیْعُوْا اﷲ” اس کے بعد ”اَطِیْعُوْا الرَّ سُوْل ”اور اس کے بعد ”وَاُوْ لِیْ الاَمْرِمِنْکُمْ ” آ یا ہے۔ خدا کی اطا عت کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا کے نا زل کر دہ احکام پر عمل کر ے اور ہر گز مخا لفت نہ کرے لیکن اطا عتِ رسول اور او لی لامر کا جہاں تک سوال ہے تورسول کی اطا عت کے دو پہلو ہیں ۔ ایک یہ کہ لو گو ں تک رسالتِ الٰہیہ کے عنوان سے جو کچھ پہنچا یا ہے یعنی وہ احکام جو خدا نے اس کے ذریعہ نا زل کئے ہیں اُن پر عمل کریںدر حقیقت خدا کے ان اوا مر و نوا ہی پر عمل کر نا اطا عتِ رسول بھی ہے کیو نکہ پیغمبر ، خدا اور لو گو ں کے درمیا ن ابلاغ کا ذریعہ ہیں ۔ اس کے علاوہ پیغمبر اکر م ۖکی ایک اور حیثیت ا ور منزلت بھی ہے جس کی وجہ سے ان کی اطا عت وا جب ہے اور وہ مقامِ ولا یت و حکو مت ہے۔ ہم پر صرف اس چیز کا حکم نہیں ہے کہ پیغمبر کی بس انھیں احکام میں اطاعت کریں جو اس نے خدا کی جانب سے احکام کلی کے طور پر بیان کئے ہیں بلکہ ان کے علاوہ ہما را فریضہ ہے کہ اپنی زندگی کے دوران جو بھی اوامرو نوا ہی پیغمبر ۖنے مولویت اور ولا یت کے عنوان سے دیئے ہیںہم ان کی بھی اطاعت اور پیر وی کریں ۔ مزیدوضا حت کے لئے عرض کروںکہ ایک دفعہ پیغمبر اکرم ۖایک آیت کی تلا وت فر ما تے جوکسی حکمِ الٰہی پر دلالت کر تی ہے تو ہم اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً نماز وروزہ وغیر ہ وا جب ہیں اور اس واجب پر عمل ضروری ہے پس ان احکام پر عمل کر نا خدا کی اطا عت بھی ہے اور اس کے رسو ل کی بھی اطاعت ہے ۔خدا کی اطا عت اس لئے ہے کہ وہ حکم نا زل کر نے والا ہے اور پیغمبر کی اطا عت اس لئے ہے کہ وہ اس حکم کو پہنچا نے والے ہیں ۔بنیادی طور پر نبوّ ت اور رسالت اس سے زیا دہ کا تقاضا نہیں کر تی، جب ہم یہ سمجھ گئے کہ ایک شخص اﷲ کا رسو ل ہے تو اس کے رسو ل ہو نے تقا ضا یہ ہے کہ وہ جو کچھ رسا لتِ الٰہی کے عنوا ن سے ہما رے لئے لے کر آ ئے اسے قبول کریں لیکن اس کے ہر حکم کی اطا عت ضروری ہے یا نہیں ؟ خود رسا لت اس کا تقاضانہیں کر تی اس کے لئے ایک اوردلیل کی ضرو رت ہے ایک مرتبہ وحی کے ذریعہ حکم ہو تا ہے کہ ر سول جو کچھ دے یاکہے اس کی اطاعت کر و،تو اب اس حکم سے رسول کے لئے ایک دو سرا مقام ثا بت ہو تا ہے کہ عا م امو ر میں بھی اس کی اطا عت ضروری ہے ۔ کبھی خود وحی کے الفاظ میں یہ بات نہیں ملتی بعد میں جب نبی اکرم ۖ کی رسا لت ہما رے لئے ثابت ہوگئی آ نحضر ت ۖ کی رسا لت میںہی یہ بات کہی جاتی ہے:( وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَسُوْلٍ اِلَّالِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللَّہِ ۔۔۔)(١)”اور ہم نے کسی پیغمبر کو نہیںبھیجا مگر یہ کہ لو گ اذنِ خدا سے ان کی اطا عت کریں ”۔ہم اس قرآنی دلیل کے تحت چونکہ ہر رسو ل کی اطا عت کر نا وا جب سمجھتے ہیں اگر یہ آیت نا زل نہ ہو ئی ہوتی تو صرف عقلی دلیل کے تحت چونکہ یہ پیغمبر ہے اور پیغمبر کی تمام مسا ئل میں اطا عت ہو نی چاہئے ہم نہ سمجھ پا تے لیکن چونکہ یہ آیت نازل ہوئی لہٰذا اس دلیل نقل پر اعتما د کر تے ہو ئے کہتے ہیں کہ رسو ل کی اطاعت ضروری ہے ۔ لہٰذا پیغمبر حکو مت سے متعلق معا ملات اور لو گو ں کی زندگی سے متعلق امو ر میں جو امر و نہی کرتا ہے ” ولیِ امر ” کی حیثیت سے اس کی اطا عت واجب ہے ۔ یہ رسالت کے علاوہ ایک دوسرا مقام ہے ۔ اسی طرح اگر وہ کسی معا ملہ کا فیصلہ کریں تو ان کے فیصلہ کو بھی تسلیم کر نا چا ہئے کیونکہ وہ خدا وند عا لم کی طرف سے قا ضی بن کر آ ئے ہیں ۔معلوم ہوا مندر جہ با لاجا ئزے کی روشنی میں تین مقام ثابت ہو تے ہیں :ایک مقا مِ حکومت :یعنی نبی اکرم ۖولیِّ امر ، مد بّر اورمعا شرہ کی عنان ہاتھ میں رکھنے والے سائس رہبر ( ساسة العباد )ہیں ۔یعنی حاکم ہیں۔دو سرا مقا مِ قضا وت : یعنی دو فریقوں کے مابین فیصلہ کر نا ،قاضی و منصف ،اورتیسرا مقام، رسالت اور الٰہی پیغام رسانی،یعنی رسول ہیں اور ان تینو ں مقا ما ت کے لئے قرآن کریم میں آ یات موجو د ہیں :پہلے مقام و مرتبہ سے متعلق خدا وند عالم قرآ ن کریم میں ارشاد فر ماتا ہے 🙁 اِ نَّآاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآاَرَٰکَ اللَّہُ۔۔۔) (٢)”(اے رسو ل )ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتا ب اس لئے نا زل کی ہے کہ جس طرح خدا نے تمہا ری رہنمائی کی ہے لو گو ں کے در میا ن فیصلہ کرو ”۔اور اسی سو رئہ نساء کی دوسری آیت میں ارشا د ہو تا ہے :(فَلَا وَرَبِّکَ لَایُوْمِنُوْنَ حَتَّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَبَیْنَھُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْافِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجاًمِمَّاقَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْاتَسْلِیْماً )(١)” پس (اے رسول ) آ پ کے پر ور دگا ر کی قسم یہ لوگ صاحبِ ایمان نہ ہو ں گے جب تک اپنے با ہمی جھگڑو ں میں آپ کو اپنا حا کم (نہ) بنا ئیں اور جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس سے کسی طرح دل تنگ بھی نہ ہوں اور آپ…………..١۔سورئہ نساء آیت ٦٤ ۔٢۔سو رئہ نساء آیت١٠٥۔٣۔سورئہ نساء آیت ٦٥۔کے فیصلے کے سا منے سرا پا تسلیم ہو جا ئیں ” ۔اسی طرح ولا یتِ امر ، تد بیر اور حا کمیت کے مسئلے میں کہ وہ مسلما نو ں کو جس چیز کا بھی حکم دیں سب کو تسلیم کرلینا چا ہئے ۔ خدا وند عا لم ارشاد فرما تا ہے :(اَ لنَّبِیُّ اَوْلَیٰ بِالْمَوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ )(١)”نبی تو مو منین پر خود اُن سے بڑھکر حق رکھتے ہیں ” ۔اس سلسلہ میں دو سری آ یتیں بھی ہیں منجملہ وہ آیت جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں: (اَطِیْعُوْااللَّہَ وَاَطِیْعُوْاالرَّسُوْلَ وَاُوْلِیْ الْاَمْرِمِنْکُمْ )(٢)”خدا کی اطاعت کرو اور رسو ل کی اور تم میں سے جو صا حبانِ امر ہیں اُن کی اطاعت کرو ”۔اس آیۂ شریفہ میں کلمۂ(اَطِیْعُوْ ا ) دو مر تبہ استعما ل ہو ا ہے ایک مرتبہ اس کو خدا سے منسو ب کیا گیا ہے اور دوسری مر تبہ اسکی رسو ل اور او لی الامر سے نسبت دی گئی ہے اور رسو ل اور او لی الا مر کی اطاعت کا ایک(اَطِیْعُوْا)کے تحت ایک ساتھ حکم ہوا ہے ۔ خدا وند عا لم نے (اَطِیْعُوْااﷲَ وَالرَّسُوْلَ وَاَطِیْعُوْااُولِی الاَمْرِمِنْکُمْ)نہیں فر ما یا ہے ۔ خدا کو ایک (اَطِیْعُوْا)کے ساتھ بیا ن فر مایا اور رسو ل اور اولی الامر کو ایک ساتھ ایک ہی امر کامتعلق قرار دیا ہے، اس سے یہ ظا ہر ہو تا ہے کہ دوسرا (اَطِیْعُوْا)رسول اور اولی الا مر کے درمیان مشترک ہے ۔
…………..١۔سو رئہ احزاب آیت ٦۔٢۔سورئہ نساء آیت ٥٩۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.