ہوم پیج > تربیت > نفس پر كنٹرول
رہائی کی تاریخ : 26 مارس 2018


نفس پر كنٹرول كرنے اور اسے پاك كرنے كا اہم سبب مراقبت ہوتا ہےاپنے آپ كو بنانے او رسنوار نے اور نفس كو پاك كرنے كا ايك اہم سبب نفس پر مراقبت اور توجہ ركھنا ہوتا ہے_ جو انسان اپنى سعادت كے متعلق سوچنا اور فكر ركھتا ہو وہ برے اخلاق اور نفسانى بيماريوں سے غافل نہيں رہ سكتا بلكہ اسے ہر وقت اپنے نفس پر توجہہ ركھنى چاہئے اور تمام اخلاق اور كردار ملكات اور افكار كو اپنے كنٹرول ميں ركھنا چاہئے اور اس پر پورى نگاہ ركھے_ ہم اس مطلب كو كئي ايك مطالب كے ضمن ميں بيان كرتے ہيں_
اعمال كا ضبط كرنا اور لكھناقرآن اور احاديث پيغمبر اور اہلبيت عليہم السلام سے معلوم ہوتا كہ انسان كے تمام اعمال حركات گفتار سانس لينا افكار اور نظريات نيت تمام كے تمام نامہ اعمال ميں ضبط اور ثبت كئے جاتے ہيں اور قيامت تك حساب دينے كے لئے باقى رہتے ہيں اور ہر ايك انسان قيامت كے دن اپنے اچھے برے اعمال كى جزا اور سزا ديا جائيگا جيسے خدا قرآن مجيد ميں فرماتا ہے كہ ‘ قيامت كے دن لوگ گروہ در گروہ خارج ہونگے تا كہ وہ اپنے اعمال كو ديكھ ليں جس نے ايك ذرا بھر نيكى انجام دى ہوگى وہ اسے ديكھے گا اور
153جس نے ذرا بھر برائي انجام دى ہوگى اسے ديكھے گا_(274)نيز فرماتا ہے كہ ‘ كتاب ركھى جائيگى مجرموں كو ديكھے گا كہ وہ اس سے جو ان كے نامہ اعمال ميں ثبت ہے خوف زدہ ہيں اور كہتے ہونگے كہ يہ كيسى كتاب ہے كہ جس نے تمام چيزوں كو ثبت كر ركھا ہے اور كسى چھوٹے بڑے كام كو نہيں چھوڑااپنے تمام اعمال كو حاضر شدہ ديكھيں گے تيرا خدا كسى پر ظلم نہيں كرتا_(275)خدا فرماتا ہے ‘قيامت كے دن جس نے جو عمل خير انجام ديا ہوگا حاضر ديكھے گا اور جن برے عمل كا ارتكاب كيا ہوگا اسے بھى حاضر پائيگا اور آرزو كرے گا كہ اس كے اور اس كے عمل كے درميان بہت زيادہ فاصلہ ہوتا_(276)خدا فرماتا ہے ‘ كوئي بات زبان پر نہيں لاتا مگر اس كے لكھنے كے لئے فرشتے كو حاضر اور نگاہ كرنے والا پائے گا_(277)اگر ہمارا يہ عقيدہ ہے كہ انسان كے تمام اعمال اور كردار حركات اور گفتار يہاں تك كہ افكار اور نظريات سوچ اور فكر لكھے جاتے ہيں تو پھر ہم كس طرح ان كے انجام دينے سے غافل رہ سكتے ہيں؟
قيامت ميں حساببہت زيادہ آيات اور روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ قيامت كے دن بہت زيادہ وقت سے بندوں كا حساب ليا جائيگا_ بندوں كے تمام اعمال چھوٹے بڑے كا حساب ليا جائيگا اور معمولى سے معمولى كام سے بھى غفلت نہيں كى جائيگى جيسے خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘ عدالت كے ترازو كو قيامت كے دن نصب كيا جائيگا اور كسى طرح ظلم نہيں كيا جائيگا اگر خردل كے دانہ كے ايك مثقال برابر عقل كيا ہوگا تو اسے بھى حساب ميں لايا جائيگا او رخود ہم حساب لينے كے لئے كافى ہيں_(278)
نيز فرماتا ہے ‘ جو كچھ باطن اور اندر ميں ركھتے ہو خواہ اسے ظارہ كرو يا چھپائے ركھو خدا تم سے اس كا بھى حساب لے گا_(279)نيز خدا فرماتا ہے ‘ اعمال كا وزن كيا جانا قيامت كے دن حق كے مطابق ہوگا جن كے اعمال كا پلڑا بھارى ہوگا وہ نجات پائيں گے اور جن كے اعمال كا پلڑا ہلكا ہوگا تو انہوں نے اپنے نفس كو نقصان پہنچايا ہے اس لئے كہ انہوں نے ہمارى آيات پر ظلم كيا ہے_(280) قرآن مجيد ميں قيامت كو يوم الحساب كہا گيا ہے اور خدا كو سريع الحساب يعنى بہت جلدى حساب لينے والا كہا گيا ہے_آيات اور بہت زيادہ روايات كى رو سے ايك سخت مرحلہ جو تمام بندوں كے لئے پيش لانے والا ہے وہ اعمال كا حساب و كتاب اور ان كا تولا جانا ہے_ انسانى اپنى تمام عمر ميں تھوڑے تھوڑے اعمال بالاتا ہے اور كئي دن كے بعد انہيں فراموش كر ديتا ہے حالانكہ معمولى سے معمولى كام بھى اس صفحہ ہستى سے نہيں مٹتے بلكہ تمام اس دنيا ميں ثبت اور ضبط ہوجاتے ہيں اور انسان كے ساتھ باقى رہ جاتے ہيں گرچہ انسان اس جہان ميں بطور كلى ان سے غافل ہى كيوں نہ ہوچكا ہو_ مرنے كے بعد جب اس كى چشم بصيرت روشن ہوگى تو تمام اعمال ايك جگہ اكٹھے مشاہدہ كرے گا اس وقت اسے احساس ہوگا كہ تمام اعمال گفتار اور كردار عقائد اور افكار حاضر ہيں اور اس كے ساتھ موجود ہيں اور كسى وقت اس سے جدا نہيں ہوئے_خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے كہ ‘ ہر آدمى قيامت كے دن حساب كے لئے محشر ميں اس حالت ميں آئے گا كہ ايك فرشتہ اسے لے آرہا ہوگا اور وہ اس كے ہر نيك اور بد كا گواہ بھى ہوگا اسے كہا جائے گا تو اس واقعيت اور حقيقت سے غافل تھا ليكن آج تيرى باطنى انكھ بينا او روشن ہوگئي ہے_(281)
رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ‘ قيامت كے دن خدا كا بندہ ايك قدم نہيں اٹھائيگا مگر اس سے چار چيزوں كا سوال كيا جائيگا_ اس كى عمر سے كہ كس راستے ميں خرچ كى ہے_ اس كى جوانى سے كہ اسے كس راستے ميں خرچ كيا ہے_ اس كے مال سے كہ كس طريقے سے كمايا اور كہاں خرچ كيا ہے_ اور ہم اہلبيت كى دوستى كے بارے ميں سوال كيا جائيگا_(282)ايك اور حديث ميں پيغمبر(ص) نے فرمايا ہے كہ ‘ بندے كو قيامت كے دن حساب كے لئے حاضر كريں گے_ ہر ايك دن كے لئے كہ اس نے دنيا ميں زندگى كى ہے_ ہر دن رات كے ہر ساعت كے لئے چوبيس خزانے لائيں گے ايك خزينہ كو كھوليں گے جو نور اور سرور سے پر ہوگا _ خدا كا بندہ اس كے ديكھنے سے اتنا خوشحال ہوگا كہ اگر اس كى خوشحالى كو جہنميوں كے درميان تقسيم كيا جائے تو وہ كسى درد اور تكليف كو محسوس نہيں كريں گے يہ وہ ساعت ہوگى كہ جس ميں وہ اللہ تعالى كى اطاعت ميں مشغول ہوا تھا_ اس كے بعد ايك دوسرے خزينہ كو كھوليں گے كہ جو تاريك او ربدبو دار وحشت آور ہوگا خدا كا بندہ اس كے ديكھنے سے اس طرح جزع اور فزع كرے گا كہ اگر اسے بہشتيوں ميں تقسيم كيا جائے تو بہشت كى تمام نعمتيں ان كے لئے ناگوار ہوجائيں گى يہ وہ ساعت تھى كہ جس ميں وہ اللہ تعالى كى نافرمانى كر رہا تھا_ اس كے بعد اس كے لئے تيسرے خزانہ كو كھوليں گے كہ جو بالكل خالى ہوگا نہ اس ميں خوش كرنے والا عمل ہوگا اور نہ غم لانے والا عمل ہوگا يہ وہ ساعت ہے كہ جس ميں خدا كا بندہ سويا ہوا تھا يا مباح كاموں ميں مشغول ہوا تھا_ خدا كا بندہ اس كے ديكھنے سے بھى غمگين اور افسوس ناك ہوگا كيونكہ وہ اسے دنيا ميں اچھے كاموں سے پر كر سكتا تھا اور كوتاہى اور سستى كى وجہ سے اس نے ايسا كيا تھا_ اسى لئے خداوند عالم قيامت كے بارے ميں فرماتا ہے كہ يوم التاغبن يعنى خسارے اور نقصان كا دن_(283)
قيامت كے دن بندوں كا بطور وقت حساب ليا جائيگا اور انكا انجام معين كيا جائيگا تمام گذرے ہوئے اعمال كا حساب ليا جائے گا_ انسان كے اعضاء اور جوارح پيغمبر اور فرشتے يہاں تك زمين گواہى دے گى بہت سخت حساب ہوگا اور اس پر انسان كا انجام معين كيا جائے گا دل حساب كے ہونے كى وجہ سے دھڑك رہے ہونگے اور بدن اس سے لرزہ باندام ہونگے ايسا خوف ہوگا كہ مائيں اپنے شيرخوار بچوں كو بھول جائيں گى اور حاملہ عورتيں بچے سقط كرديں گى تمام لوگ مضطرب ہونگے كہ ان كا انجام كيا ہوگا كيا ان كے حساب كا نتيجہ اللہ تعالى كى خوشنودى اور آزادى كا پروانہ ہوگا اور پيغمبروںاور اولياء خدا كے سامنے سر خروى اور بہشت ميں ہميشہ كى زندگى ہوگى _ اللہ كے نيك بندوں كى ہمسايگى ہوگى يا اللہ تعالى كا غيظ اور غضب لوگوں كے درميانى رسوائي اور دوزخ ميں ہميشہ كى زندگى ہوگي_احاديث سے معلوم ہوتا ہے كہ بندوں كا حساب ايك جيسا نہيں ہوگا_ بعض انسانوں كا حساب بہت سخت اور مشكل اور طولانى ہوگا_ دوسرى بعض كا حساب آسان اور سادہ ہوگا_ حساب مختلف مراحل ميں ليا جائيگا_ اور ہر مرحلہ اور متوقف ميں ايك چيز سے سوال كيا جائے گا سب سے زيادہ سخت مرحلہ اور موقف مظالم كا ہوگا اس مرحلہ ميں حقوق الناس اور ان پر ظلم اور جور سے سوال كيا جائيگا اس مرحلہ ميں پورى طرح حساب ليا جائيگا اور ہر ايك انسان اپنا قرض دوسرے قرض خواہ كو ادا كرے گا_ جائے تاسف ہے كہ وہاں انسان كے پاس مال نہيں ہوگا كہ وہ قرض خواہوں كا قرض ادا كر كرسكے ناچار اس كو اپنى نيكيوں سے ادا كرے گا اگر اس كے پاس نيكياں ہوئيں تو ان كو لے كر مال كے عوض قرض خواہوں كو ادا كرے گا اور اگر اس كے پاس نيكياں نہ ہوئيں تو قرض خواہوں كى برائيوں كو اس كے نام اعمال ميں ڈال ديا جائيگا بہرحال وہ بہت سخت د ن ہوگا_ خداوند عالم ہم تمام كى فرياد رسى فرمائے_ آمين_البتہ حساب كى سختى اور طوالت تمام انسانوں كے لئے برابر نہ ہوگى بلكہ انسان كى اچھائيوں اور برائيوں كے حساب سے فرق كرے گى ليكن خدا كے نيك اور متقى اور لائق بندوں كے لئے حساب تھوڑى مدت ميں اور آسان ہوگا_ پيغمبر اكرم نے اس شخص كے جواب ميں كہ جس نے حساب كے طويل ہونے كے بارے ميں سوال كيا تھا_ فرمايا_ ‘خدا كى قسم كہ مومن پر اتنا آسان اور سہل ہوگا كہ واجب نماز كے پڑھنے سے بھى آسانتر ہوگا_( 284)
274_يومئذ: يصدر الناس اشتاتاً ليروا اعمالہم فمن يعمل مثقال ذرّہ خيراً يرہ و من يعمل مثقال ذرّہ شرّاً يرہ_ زلزال/ 9_275_و وضع الكتاب فترى المجرمين مشفقين ممّا فيہ و يقولون يا ويلتنا ما لہذا الكتاب لا يغادر صغيرة و لا كبير الّا احصاہا و وجدوا ما عملوا حاضراً و لا يظلم ربّك احداً_ كہف/ 50_276_يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرا و ما عملت من سوء تودّ لو انّ بينہا و بينہ امداً بعيداً آل عمران/ 30_277_ما يلفظ من قول الّا لديہ رقيب عتيد_ ق/ 18_278_و نضع الموازين القسط ليوم القيامة فلاتظلم نفس شيئاً و ان كان مثقال حبّة من خردل اتينا بہا و كفى بنا حاسبين_ انبيائ/ 47_279_و ان تبدوا ما فى انفسكم وتخفوہ يحاسبكم بہ اللہ_ بقرہ/ 284_280_و الوزن يومئذ الحق فمن ثقلت موازينہ فاولئك ہم المفلحون و من خفّت موازينہ فاولئك الذين خسروا انفسہم بما كانوا باياتنا يظلمون_ اعراف/ 8_281_و جائت كل نفس معہا سائق و شہيد لقد كنت فى غفلة من ہذا فبصرك اليوم حديد_ ق / 22_282_قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: لا تزول قد ما عبد يوم القيامة حتى يسال عن اربع: عن عمرہ فيما افناہ، و شبابہ فيما ابلاہ، و عن مالہ من اين اكتسبہ و فيما انفقہ، و عن حبنا اہل البيت _ بحارالانوار/ ج7 ص 258_283_فى الخبر النبوي: انہ يفتح للعبد يوم القيامة على كل يوم من ايام عمرہ اربعة و عشرون خزانة عدد ساعات الليل و النہار_ فخزانة يجدہا مملوّة نوراً و سروراً فينالہ عند مشاہدتہا من الفرح و السرور ما لو وزع على اہل النار لا دہشہم عن الاحساس بالم النار و ہى الساعة التى اطاع فيہا ربّہ ثم يفتح لہ خزانة اخرى فيراہا مظلمة منتتة مفزعة فينالہ عند مشاہدتہا من الفزع و الجزع ما لو قسّم على اہل الجنة لنقص عليہم نعيمہا و ہى الساعة التى عصى فيہا ربّہ_ ثم يفتح لہ خزانة اخرى فيراہا فارغة ليس فيہا ما يسّرہ و لا ما يسوئہ و ہى الساعة التى نام فيہا او اشتغل فيہا بشيء من مباحات الدنيا من الغبن و لاسف على فواتہا حيث كان متكمنا من ان يملا حسنات ما لا يوسف و من ہذا قولہ تعالي، ذالك يوم التغابن_ بحارالانوار/ ج7 ص 262_284_قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: لمّا سئل عن طول ذالك اليوم فقال: والذى نفسى بيدہ انّہ ليخفّف على المؤمن حتى يكون اہون عليہ من الصلوة المكتوبة يصلّيہا فى الدنيا_ مجمع الزوائد/ ج 1 ص 337_


لیبل :
تبصرے