ہوم پیج > تربیت > بچو ں کے ساتھ کھیلنا
رہائی کی تاریخ : 26 مارس 2018


بچو ں کے ساتھ کھیلناجس شخص کے یہاںکوئی بچہ ہو،اُسے اس بچہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔( پیغمبر اکرم ۖ)بچوں کی شخصیت کوسنوار نے کے لئے مئوثر طریقہ بڑوں کاان کے ساتھ کھیلنا ہے۔ کیونکہ بچے ایک طرف تو اپنے اندر جسمانی کمزوری کا احسا س کرتے ہیں اور دوسری طرف بڑوں کے اندر موجود طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیںتو فطری طور پر ان کو رشد وکمال سے جو عشق ہو تا ہے وہ اس امر کا سبب بنتا ہے کہ وہ بڑوں کے طریقہ کار پر عمل کریں اور خود کو ان کا جیسا بنا کر دکھائیں۔جب والدین بچے بن کر ان کے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوتے ہیں ،تو یقینا بچہ مسرور اور خوش ہوتاہے اور جذ بات میں آکر محسوس کرتا ہے کہ اس کے بچگا نہ کام کافی اہمیت رکھتے ہیں۔اس لئے آج کل کے تربیتی پرو گراموں میں بڑوں کا بچوں کے ساتھ کھیلنا ایک قابل قدر امر سمجھا جاتا ہے اور علم نفسیات کے ماہرین اس طریقہ کار کو والدین کی ذمہ داری جانتے ہیں۔ٹی،ایچ،موریس(T.H.MORRIS)’اپنی کتاب والدین کے لئے چند اسباق’میں لکھتا ہے:’اپنے بچوں کے رفیق اور دوست بن جائو،ان کے ساتھ کھیلو،ان کو کہا نیاں سناؤ۔اور ان کے ساتھ دوستانہ اور مخلصا نہ گفتگو کرو۔بالخصوص والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ساتھ بچہ بن جا ئیں اور ان سے ایسی بات کریں کہ وہ ان کی بات کو سمجھ سکیں۔(٧٧)’ایک اور ماہر نفسیات لکھتا ہے:’باپ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے تفریحی پروگراموں میں شرکت کرے۔یہ حسن تفاہم ضروری ہے۔لیکن بچوں کی زندگی سے مربوط زمان ومکان اور موسم مختلف ہوتے ہیں۔جو باپ اپنے بچوں کے کھیل کود میں شرکت کرتا ہے، بیشک وہ مختصر مدت کے لئے ایسا کرتا ہے،لیکن اس کا بچوں کے ساتھ بچہ بننا، چاہے کم مدت کے لئے ہی ہو بچوں کی نظر میں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو بہر حال اس کے لئے وقت نکالنا چاہئے خواہ کم ہی ہو ۔(٧٨)…………..٧٧۔’ماوفرزندان،’ص٤٥٧٨۔ماو فرزندان،ص٢٢بچوں کے کھیلنے کی فطرتخدا وند متعال نے جو جبلّتیںبچوں میں قراردی ہیں،ان میں سے ایک ان کی کھیل کودسے دلچسپی بھی ہے۔وہ دوڑ تا ہے،اچھل کود کرتا ہے اور کبھی اپنے کھلونوں کے ساتھ مشغول رہتا ہے اور ان کو اُلٹ پُلٹ کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔اگر چہ اس کی یہ حرکتیںابتداء میں فضول دکھائی دیتی ہیں،لیکن حقیقت میں یہ بچے کے جسم وروح کے کمال کا سبب بنتی ہیں ،اس کے نتیجہ میں بچے کا بدن مضبوط ہو جاتا ہے اور اس کے اندرغور وفکر اور تخلیق کی قوت بڑھ جاتی ہے اور اس کے اندرموجود پوشیدہ توانائیاں آشکار ہوجاتی ہیں۔شاید اسلامی روایات میں بچوں کے کھیل کود کو اہمیت دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔بچے کا کھیلنا،اس کے ارادہ کی آزادی اور قوت تخلیق کو زندہ کرنے کی مشق ہے،کیونکہجب بچہ کھلونوں سے ایک عمارت بنانے میں مشغول ہوتا ہے ،اس کی فکر ایک انجینئر کے مانند کام کرتی ہے اور وہ اپنی کامیابیوں سے لذت محسوس کرتا ہے۔جب وہ اس کام کو انجام دینے کے دوران کسی مشکل سے دو چار ہوتا ہے تو اس کا حل تلاش کر تا ہے ،نتیجہ میں یہ تمام کام اس کی فکر کی نشو ونمااور اس کی شخصیت کو بنانے میںکافی مؤثر ہو تے ہیں۔رسول خدا ۖ نے فرمایا:’جس شخص کے یہاں کوئی بچہ ہواسے اس بچہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔(٧٩)’نیزفرمایا:’اس باپ پر خدا کی رحمت ہوجو نیکی اور کار خیر میںاپنے بچے کی مدد کرتاہے۔ اس کے ساتھ نیکی کرے اور ایک بچے کے مانند اس کادوست بن جائے اور اسے دانشور اور باادببنائے۔(٨٠)’حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:’اپنے بچے کو سات سال تک آزاد چھوڑدو تاکہ وہ کھیلتا رہے۔(٨١)’امام جعفر صادق علیہ السلا م نے فرمایا:’بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی سات سال کے دوران کھیلتا ہے۔دوسرے سات سال کے دوران علم سیکھنے میں لگتا ہے اور تیسرے سات سال کے دوران حلال وحرام(دینی احکام) سیکھتا ہے۔(٨٢)’حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا:’جس شخص کے یہاں کوئی بچہ ہو اسے اس کی تربیت میں اس کے ساتھ بچے جیسابر تائو کرنا چاہئے۔(٨٣)
پیغمبر اسلام ۖکا بچوں کے ساتھ کھیلنارسول اکرم ۖاپنے بچوں،امام حسن و امام حسین علیھماالسلام کے ساتھ کھیلتے تھے۔اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں،ہم یہاں ان میں سے چند روایتیں بیان کرتے ہیں:منقول ہے کہ’پیغمبر اکرم ۖہر روز صبح اپنے بچوں اور ان کی اولاد کے سروں پر دست شفقت پھیرتے تھے اور حسین علیہ السلا م کے ساتھ کھیلتے تھے۔(٨٤)’یعلی ا بن مرّہ کہتا ہے:’رسول خدا ۖکی( ایک دن کہیں )دعوت تھی ،ہم بھی آنحضرت ۖکے ہمراہ تھے، ہم نے دیکھا کہ امام حسن علیہ السلام کوچہ میں کھیل رہے ہیں۔پیغمبر اکرم ۖنے بھی انھیں دیکھا ،اور آپ ۖ لوگوں کے سامنے دوڑتے ہوئے امام حسن علیہ السلام کی طرف گئے اور ہاتھ بڑھا کر انھیں پکڑ نا چاہا۔لیکن بچہ ادھراُدھر بھاگ رہا تھا اور اس طرح رسول خدا ۖکو ہنساتاتھا،یہاں تک کہ رسول خدا ۖنے بچے کو پکڑ لیا اور اپنے ایک ہاتھ کو امام حسن علیہ السلام کی ٹھوڑی پر اور دوسرے ہاتھ کوان کے سر پر رکھ کر اپنے چہرے کو ان کے چہرے سے ملاکرچومتے ہوئے فرمایا:حسن مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں،جو اسے دوست رکھے گاخدا وند متعال اس کو دوست رکھے گا۔(٨٥)’لیکن بہت سی روایات میںنقل ہوا ہے کہ یہ واقعہ حسین علیہ السلام کے بارے میں ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:’ایک دن امام حسین علیہ السلام پیغمبر اکرم ۖکی آغوش میں تھے ،آنحضرت ۖ ان کے ساتھ کھیل رہے تھے اور ہنس رہے تھے ۔عائشہ نے کہا :اے رسول خدا! ۖ!آپ ۖاس بچے کے ساتھ کتنا کھیلتے ہیں ؟! رسول خدا ۖنے جواب میں فرمایا:افسوس ہے تم پر!میں کیوں اس سے پیار نہ کروںجبکہ وہ میرے دل کا میوہاور میرا نور چشم ہے۔(٨٦)’جبیرا بن عبداللہ کا کہنا ہے:’رسول خدا ۖاپنے اصحاب کے بچوں سے کھیلتے تھے اور انھیںاپنے پاس بٹھاتے تھے۔(٨٧)’انس ابن مالک کاکہنا ہے:’پیغمبر اکرم ۖلوگوں میں سب سے زیادہ خوش اخلاق تھے۔میرا ایک چھوٹا بھائی تھا،اس سے دودھ چھڑایا گیا تھا ،میں اس کو پال رہا تھا ،اس کی کنیت ابو عمیر تھی۔آنحضرت ۖجب بھی اسے دیکھتے تھے تو فرماتے تھے:تمہارا دودھ چھڑا نے سے تمھیںکیسی مصیبت آ گئی ہے؟آپ ۖخود بھی اس کے ساتھ کھیلتے تھے۔(٨٨)’ایک حدیث میں نقل ہوا ہے:’پیغمبر اکرم ۖ،عباس کے بیٹوں،عبداللہ،عبیداللہ اور کثیر یا قشم کو اپنے پاس بلاتے تھے،وہ چھوٹے تھے اور کھیلتے تھے۔ان سے آنحضرت ۖفرماتے تھے:جو تم میں سے پہلے اور جلدی میرے پاس پہنچے گااس کو میں انعام دوں گا ۔بچے مقابلہ کی صورت میں آپ ۖکی طرف دوڑ تے تھے ۔رسول خدا ۖ انھیں آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیتے تھے(٨٩)!! اور کبھی ان کو اپنے پیچھے مرکب پر سوار کرتےتھے،ان میں سے بعض کے سر پر دست شفقت پھیرتے تھے(٩٠)!!…………..٧٩۔وسائل الشیعہ ج١٥،ص٢٠٣،من لایحضرہ الفقیہ ج٣،ص٣١٢،کنز العمال،خ٤٥٤١٣٨٠۔مستدرک الوسائل ج٢ص٦٢٦٨١۔کافی ج ٦،ص٤٧٨٢۔کافی ج ٦ ،ص٤٧٨٣۔وسائل الشیعہ ج٥ ،ص١٢٦٨٤۔سنن النبی،ص٢ ١٥،رحمت عالمیان،ص٦٥٨،بحارالانوار،ج٤٣ ،ص٢٨٥٨٥۔بحار الانوار ج٤٣ ،ص٣٠٦٨٦۔بحار الانوار،ج ٤٤ ،ص٢٦٠۔کامل الزیارہ،ص٦٨۔حیاة الحیوان ج ١،ص١١١٨٧۔شرف النبی خرگوشی ،ص١٠٢۔نہایة المسئوول فی روایة الرسول،ج١ ،ص٣٤٠٨٨۔صحیح بخاری ،ج٨ ،ص٣٧ و٥٥۔دلائل النبوة بیہقی ،ص١٥٤ تر جمہ دامغانی،نقل ازصحیح مسلم۔٨٩۔السیرةالحلبیة ج٣،ص٣٤٠ ۔اسدالغابہ ج٥،ص٢١٠۔مجمع الزوائد الرسول ج٩ ص٢٨٥٩٠۔مجمع الزوائد ج٩ ،ص٢٨٥۔مسند احمد ج١،ص٣٣٧
بچوں کو سوار کرنا۔پیغمبر اسلام کا بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک اور نمونہ یہ تھاکہ آپ ۖ انھیں کبھی اپنی سواری پر اپنے پیچھے اور کبھی اپنے سا منے بٹھاتے تھے ۔نفسیاتی طور پر پیغمبر اسلام ۖکا یہ طرز عمل بچوں کے لئے انتہائی دلچسپ تھا ۔کیونکہ وہ پیغمبر اکرم ۖکے اس برتائو کو اپنے لئے ایک بڑا فخر سمجھتے تھے اور یہ ان کے لئے ایک ناقابل فراموش واقعہ ہوتا تھا ۔قابل غور بات یہ ہے کہ آنحضرت ۖکبھی اپنے بچوںکواپنے کندھوں پر اور کبھی اپنی پشت پر سوار کرتے تھے اور دوسروں کے بچوں کو اپنے سواری پر بٹھاتے تھے ۔ان میں سے کچھ نمونے ہم اس فصل میں ذکر کریں گے۔جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ پیغمبر اسلامۖ اپنے بچوں کو اپنی پشت مبارک پر سوار کرتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے ۔اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پیغمبر اکرم ۖکے عظیم صحابی،جابر کہتے ہیں:’میں پیغمبر اسلام ۖکی خدمت میں حاضرہوا،اس وقت حسن وحسینعلیھما السلام آنحضرت ۖکی پشت مبارک پر سوار تھے ،آپ ۖاپنے ہاتھوں اور پائوں سے چل رہے تھے اور فرمارہے تھے :تمھاری سواری کیااچھی سواری ہے اور تم کیا اچھے سوار ہو۔(٩١)’ابن مسعود کا کہنا ہے کہ’پیغمبر اسلام ۖ،حسن وحسین علیھما السلام کو اپنی پشت پر سوار کرکے لے جارہے تھے،جبکہ حسن علیہ السلام کو دائیں طرف اور حسین علیہ السلام کو بائیں طرف سوار کئے ہوئے تھے ۔آپ ۖچلتے ہوئے فرماتے تھے:تمھاری سواری کیا اچھی سواری ہے اور تم بھی کتنے اچھے سوار ہو۔تمھارے والد تم دونوں سے بہتر ہیں۔ (٩٢)’
پیغمبر اسلام ۖکا لوگوں کے بچوں کو اپنی سواری پر سوار کرناپیغمبر اسلام ۖجیسا برتائو اپنے بچوں سے کرتے تھے ویسا ہی برتائو اپنے اصحاب کے بچوں سے بھی کرتے تھے اور انھیںاپنی سواری پر سوار کرتے تھے ۔اس سلسلہ میں ہم چند روایتیں ذکر کرتے ہیں :عبداللہ ابن جعفرا بن ابیطالب کہتے ہیں:’ایک دن رسول خدا ۖنے مجھے اپنے مرکب پر اپنے پیچھے سوار کیا اور میرے لئے ایک حدیث بیان فر مائی ،جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔(٩٣)’مروی ہے کہ جب کبھی رسول خدا ۖسفر سے لوٹتے ہوئے راستہ میں بچوں کو دیکھتے تو حکم فر ماتے تھے کہ انھیں اٹھا لو ۔ان میں سے بعض بچوں کو اپنے مرکب پراپنے سامنے اور بعض کو اپنے پیچھے سوار کرتے تھے ۔کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ بچے ایک دوسرے سے کہتے تھے:رسول خدا ۖنے مجھے اپنے سامنے سوار کیا لیکن تجھے پیچھے سوارکیا!!اور دوسرے کہتے تھے:رسول خدا ۖنے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ تجھے آپۖ کے مرکب پر آپ ۖکے پیچھے سوار کریں۔(٩٤)’فضیل بن یسار کہتا ہے :میں نے امام باقر علیہ السلام کویہ فرماتے ہوئے سنا:’پیغمبر اکرم ۖکسی کام کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلے ۔فضیل بن عباس کو دیکھا توفرمایا:اس بچے کو میرے مرکب پر میرے پیچھے سوار کرو ۔اس بچے کوپیغمبر اکرم ۖکے پیچھے مرکب پر سوار کیا گیا اور آپ ۖاس بچے کا خیال رکھے ہوئے تھے۔(٩٥)’عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں:’میں عباس کے بیٹوں،قثم اور عبیداللہ کے ہمراہ تھا اور ہم کھیل رہے تھے ۔رسول خدا ۖ ہمارے پاس سے گزرے اور فرمایا :اس بچے(عبداللہ ابن جعفر)کو اٹھا کر سوار کر دو ۔اصحاب نے اسے اٹھا کر رسول اﷲ ۖکے آگے بٹھا دیا۔اس کے بعد آپ ۖنے فرمایا :اس بچے(قثم)کو اٹھا لو۔اسے بھی اٹھا کرآنحضرتۖ کے پیچھے سوار کیا گیا…(٩٦)’پیغمبر اسلام ۖکے اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر سوار کرنے کی چند صورتیں نقل کی گئی ہیںکہ ہم ان کو ذیل میں بیان کرتے ہیں:١۔دونوں(حسن وحسین علیھما السلام)کو اپنے کندھوں پر اس طرح سوار کرتے تھے کہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہوں۔٢۔دونوں کو اپنے کندھوں پر ایک دوسرے کی طرف پشت کرکے سوار کرتے تھے۔٣۔ایک کو اپنے دائیں کندھے پر آگے کی طرف رخ کرکے اور دوسرے کو اپنے بائیں کندھے پر پیچھے کی طرف رخ کر کے سوار فرماتے تھے۔(٩٧)…………..٩١۔احقاق الحق ج١٠ ،ص٧١٤ ۔بحار الانوار ج٤٣ ،ص٢٨٥ ۔سنن نسائی ج٢،ص٢٢٩۔مستدرک حاکم ج٣،ص١٦٦۔مجمع الزوائد ،ج٩ ،ص١٨٢٩٢۔بحار الانوارج٤٣ ،ص٢٨٦٩٣۔مسند احمد حنبل ج١،ص٣٣٥،صحیح مسلم ج١٥ ،ص١٩٧٩٤۔المجحة البیضا ج٣،ص٣٦٦٩٥۔بحارالانوار،ج٧٧،ص١٣٥۔امالی صدوق ج٢ ،ص٢٨٧٩٦۔مجمع الزوائدج٩ ،ص٢٧٥،مسند احمدج ١،ص٣٣٧٩٧۔مناقب ابن شہرآشوب ج٣،ص٣٨٧۔بحار الانورج ٤٣،ص٢٨٥
 


لیبل :
تبصرے