مہدویت اور سیاست

399

 
تمام مکاتب اس کوشش میں ہیں کہ انسانی ضروریات اور مسائل کا حل پیش کریں۔اہم ترین مسائل مثلاً عدالت خواہی،طلب کمال اور آسائش وسکون کی خواہش نیز امیدیں …ان سب کا تحقق ایک سسٹم کا محتاج ہے،ایسا سسٹم جس میں قوانین کی تنظیم و تدوین ہو اور ان قوانین کے اجراء کے لیے مستحکم سیاسی نظام اور حکومت تشکیل ہو۔پس ہر مکتب کوشش کررہا ہے کہ ان انسانی تقاضوں کو لباس حقیقت پہنانے کے لیے یہاں سسٹم کا ایک خاص ماڈل پیش کرے ۔
عقائد ونظریات کی بناء پر مختلف حکومتیں سامنے آئیں، بہت سے پروگرامز اور روشیں بیان کی گئیں ،لیکن کچھ عرصہ بعد لوگوں نےان پروگرامز اور نظریات بے فا ئدہ ہونے ،عوام کے ان پر اعتماد ختم ہونے اور آخرکار عالمی سطح پر مسلسل مختلف مکاتب اور حکومتوں کی ناکامیوں کا نظارہ کیا۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی حکومتیں فریب اور جھوٹ کی بنیاد پر وجود میں آئی تھیں ۔مثلاً گذشتہ کئی سالوں سے دو غالب نظریات کیپیٹل ازم جو مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کا نمائندہ ہے اور کیمونیزم جو مزدوروں کے حقوق کے دفاع کا مدعی ہے، دو وحشی درندوں کی طرح ، اٹیمی اسلحوں کی طاقت کے ساتھ عصر حاضر کو خطرے سے دوچار کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں ۔ ان کا یہ طولانی تنازع اور کسی وقت بھی شروع ہونے والی عالمی ایٹمی جنگ کا خطرہ دنیا پر منحوس سایہ ڈالے ہو ئے ہے اور عصر حاضر کا فہمیدہ انسان نفسیاتی سکون اور پا ئیدار امن کے احساس سے محروم ہے.
یہ دھمکیاں اور خطرات ان دو مکاتب کے کمزور پروگرام اور ناتوان نظریات پر آشکار دلیل ہے۔یہ دو نظریے اگرچہ سالھا سال تک انسانی معاشرے کے سیاسی افکار پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے ایک نے اپنے ناکارہ ہونے کا ثبوت دے دیا اور تاریخ کے کوڑے دان کی زینت بنا ۔
دوسری طاقت جو کیمونزم کے مقابلے میں تھی بظاھر رقیب نہ ہونے کی وجہ سے غرور اور تکبر میں مبتلا ہوکر دنیا کو اپنے پنجے اور دانت دکھا کر اپنے آپ کو جدید عالمی نظام کی رہبریت کے لئے مناسب ترین آئیڈیالوجی سمجھتی ہے اور اس کوشش میں ہے کہ ہر ممکن طریقے سے مخالف آواز کو سینوں میں ہی دبا دیا جائے۔
البتہ یہ خام خیالی سے زیادہ کچھ بھی نہیں چونکہ لبرل ڈیموکریسی کی دنیا میں مخالفت کو باآسانی مشاھدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس مکتب فکر نے نہ صرف بشریت کو ساحل نجات تک نہیں پہنچایا، بلکہ اس کو معرفتی اخلاقی، نفسیاتی ، ٹیکنالوجی اور دیگر بحرانوں سے دوچار کردیا ہے ۔
بعنوان مثال کسی دور میں مادی فلسفہ کے دانشور فرانسیس بیکن (Francis Bacon ) اور دیگر حضرات مدعی تھے کہ مادی تجربی علوم کے ذریعے فطرت و طبعیت پر تسلط پایا جا سکتا ہے؛لیکن آج مغربی مفکرین اس سوال کا سامنا کر رہے ہیں کہ مادی و تجربی علوم کی وسعت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیوں دنیا کو رفاہ وعدالت نہیں دے سکی؟ہر روز غربت کی لکیر کے نیچے ممالک کی تعداد میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟کیوں آج کا انسان مضطرب اور بے سکون ہے؟اسی دسیوں دیگر سوالات اس عالمی استکبار کی عنقریب حتمی شکست کی نشانیاں ہیں ۔
آج کے انسان کی ضرورت
اب سوال یہ ہے کہ “اس شکستہ حال اور سرگران انسان جو ناکامیوں اور عمل کے بغیر خالی نعروں اور شکست و سراب کا مشاھدہ کررہا تھا” اسکا کیا بنے گا؟آج کا انسان گذشتہ تجربات کی بدولت دنیا کے لئے ایک نئی نگاہ اور جدید منصوبے کی تشنگی کا احساس کررہا ہے اور کوئی چیز اس کو سیراب نہیں کرسکتی مگر یہ کہ مہدویت کا مدینہ فاضلہ، کیونکہ : «یقوم القائم بامر جدید وکتاب جدید وقضاء جدید…ولایاخذہ فی اللہ لومۃ لائم»۔[1]
قائم ایک جدید امر(سسٹم) برپا کریں گے اور نئی کتاب نیز نیا قضاوت کا نظام لائیں گے… اور اللہ کی راہ میں کسی کی ملامت پر توجہ نہیں کریں گے۔
مہدویت کا نظریہ ایک محدود علاقے کا نظریہ نہیں بلکہ یہ عالمی نظریہ ہے اور یہ جدیدنظریہ دنیا اور اس کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے جامع، بنیادی اور عملی منصوبہ پیش کررہا ہے۔ دنیا بھی اس طرح کے نظام اور فکر کی تشنگی محسوس کرتی ہے اس لئے ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ عصر حاضر کے انسان کو جو نظام مطمئن کرسکتا ہے اور اس کی مادی و معنوی احتیاجات کو پورا کرسکتا ہے وہ صرف اور صرف نظریہ اور نظام مہدویت ہے چونکہ مہدویت کا نظام سیاسی اور حکومتی پہلو سے اعلی مقاصد اور اقدار کا حامل ہے۔
امام مہدی (عج)کا سیاسی اور حکومتی نظام اپنے سے پہلے نظاموں مثلاً سرمایہ داری اور سوشلسٹ نظام سے کوئی شباہت نہیں رکھتا ۔جب بھی بشریت مہدوی نظام کا مشاہدہ کرے گی بغیر کسی تردید کے اسکی گذشتہ تمام تجربوں اور دعووں پر برتری کا یقین پیدا کرے گی اور یہ ایمان رکھے گی اسے مشکلات اور مصائب کے گرداب سے نجات دینے کے لیے تنہا راہ حل یہی نظام ہے۔
امام مہدی (عج) کی حکومت بشریت کی تمام دیرینہ آرزؤں کی تجلّی گاہ ہے۔شیعہ احادیث میں اس موضوع پرواضح اشارے موجود ہیں: «ان دولتنا آخر الدول و لم يبق اهل بيت لهم دوله الا ملكوا قبلنا، لئلا يقولوا اذا راوا سيرتنا: لو ملكنا سرنا مثل سيره هولاء، و هو قول الله عز و جل و العاقبه للمتقين»[2]
بلا شبہ ہماری حکومت آخری حکومت ہے اور حکومت کرنے والا کوئی خاندان نہیں بچے گا مگر یہ کہ ہم سے پہلے حکومت کرے گا، تاکہ جب ہمارا طرز حکومت دیکھیں تو یہ نہ کہیں اگر ہم حکومت تک پہنچیں، انکی مانند عمل کریں گے ۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اچھا انجام متقین کے لیے ہے۔
یا وہ روایت جو ھشام بن سالم ،امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں ،اس میں آیا ہے:
«مایکون ھذا الامر حتی لایبقی صنف من الناس الا وقد ولوا من الناس لا یعنی باشروا الحکم فیہم حتی لایقول قائل:انا لو ولّینا لعدلنا»[3]
امام مہدی (عج) کی حکومت برپا نہیں ہوگی مگر یہ کہ سب گروہ حکومت تک پہنچ جائیں،تاکہ کوئی یہ نہ کہے اگر ہم حکومت کرتے تو عدالت برپا کرتے ۔
ان روایات میں حکومت وعدالت کے سب دعویداروں کے لیے پیغام ہے کہ تم سب کو دنیا میں حکومت کا موقعہ ملا ،لیکن تم لوگوں نے بھی دوسروں جیسا راستہ اختیار کیا اور عدل الہی سے دور ہوگئے۔پس امام مہدی(عج) حکومتی مسائل میں کسی سابقہ نظام کو اپنا ماڈل قرار نہیں دیں گے بلکہ قران وحدیث کی رو سے حق وعدالت محور اورالہی رضایت کا حامل ایک مکمل اور جامع نظام پیش کریں گے کہ دیگر تمام قسم کے سیاسی وحکومتی نظاموں کلی طور پر بےنیاز ہوجائیں گے۔
امام باقر علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: «…لئلا یقولوا اذا راو سیرتنا،اذا ملکنا ،سیرتنا مثل سیرۃ ھولاء»[4]
یعنی جب ہماری سیرت وطرزعمل دیکھیں تو یہ نہ کہیں کہ اگر ہم حاکم ہوتے تو ہمارا طرز عمل بھی انکی مانند ہوتا۔
لہذا حضرت(عج) کی آخر الزمان میں حکومت کی ایک حکمت بشریت کا امتحان جانی جاسکتی ہے ،کیونکہ عدالت کے اجراء کے دعویداروں کو انکی حکومت کی تشکیل میں آزمایا گیا تاکہ وہ عدالت کے اجراء میں اپنی ناتوانی اور عجز سے واقف ہوسکیں۔
ایک اور مقام پر امام باقر علیہ السلام اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«… ولم یبق اہل بیت لہم دولۃ الّا ملکواقبلنا »[5]
کوئی ایسا خاندان نہیں رہے گا جو حکومت کا دعویدار ہو اور ہم سے پہلے حکومت تک نہ پہنچا ہو۔
بہرحال یہ نکتہ پیش نظر رہے کہ عصر غیبت میں جو تحریکیں اور انقلابات حضرت(عج) کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لیے برپا ہوں ،وہ ان روایات کی مصادیق اور موضوع بحث نہیں ہیں ،کیونکہ یہ انقلابات ،تحریکیں ،قیام اور اقدامات اس عظیم عالمگیر انقلاب اور اسکے ضمن میں الہی وعدہ کولباس حقیقت پہنانے میں نصرت شمار ہوتے ہیں اور یہ چیز بذات خود منتظرین کے وظائف میں سے بھی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی حکومت کے مقاصد ممکن ہیں کہ وسیع و بلند اور دینی حکومت کے اسٹریٹیجک کےطور پر بیان ہوں، لہذا جو لوگ بھی اس زمانے میں دینی حکومت کے نظام کے دعوے دار ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے تمام حکومتی نظام کو امام زمانہ عج اللہ فرجہ الشریف کے مقاصد اور اھداف سے نزدیک کریں اور ان کی سیرت کو اپنے نظام میں سیاسی، اجتماعی ، ثقافتی اور عدالتی لحاظ سے مدنظر رکھیں۔ اگرعقیدہ مہدویت اچھے انداز سے بیان کیا جائے، تو دنیا بھر کی اصلاحی تحریکوں میں بہترین انداز سے روح و حیات پیدا ہوجائے گی جس طرح سے ایران کا اسلامی انقلاب امام مہدی(عج) کے عظیم انقلاب کا پیش خیمہ بن گیا ہے۔
[1]:الغیبۃ نعمانی،محمد بن ابراہیم ،ص۱۲۲
[2] :الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد ،شیخ مفید ،ص۳۴۴ ،اعلام الوری ،احمد بن علی طبرسی ،ص۴۳۲
[3] :تاریخ الغیبۃ الکبری ،سید محمد باقر ،ص۳۸۹
[4] :اصول کافی،ج۱،ص۴۰۷
[5] :الغیبۃ ،طوسی،ص۴۷۲
 
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.