رہبرِ انقلاب کی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں سے خطاب

"عورت گھر کی خادمہ نہیں، بلکہ اس کی مدیر اور منتظم ہے"

77

رہبرِ انقلاب کی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں سے خطاب
۱۲ دسمبر ۲۰۲۵
“عورت گھر کی خادمہ نہیں، بلکہ اس کی مدیر اور منتظم ہے”
رہبرِ معظم انقلاب اسلامی نے آج صبح ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں سے خطاب میں حضرت فاطمہ زہراؑ کو ہر میدان میں ایک آسمانی انسان قرار دیا جو اعلیٰ ترین صفات سے مزین ہیں۔ آپ نے گھر اور معاشرے میں عورت کے مقام اور حقوق کے بارے میں اسلام کی نگاہ کی تفسیرکرتے ہوئے، مردوں کے لیے اپنی بیویوں اور خواتین کے ساتھ برتاؤ کے مختلف پہلوؤں میں لازم اور ناگزیر اصولوں کی وضاحت کی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے خاتونِ دو عالمؑ کی بے شمار فضیلتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ هستی عبادت اور خشوع، لوگوں کے لیے ایثار و قربانی، مشکلات اور مصیبتوں میں صبر و استقامت، مظلوم کے حق کے دفاع میں شجاعت، علم کی روشنی پھیلانے اور حقائق کو بیان کرنے ، سیاسی بصیرت رکهنے، گھر کی نگرانی، شوہر کا خیال رکهنے، اولاد کی تربیت اور صدرِ اسلام کے اہم واقعات میں عملی شرکت سمیت ہر میدان میں درخشاں ہیں۔ انہوں نے کہا: ایرانی عورت بحمداللہ ایسے خورشید سے جو پیغمبر اکرمؐ کے فرمان کے مطابق تمام تاریخِ انسانیت کی عورتوں کی سردار ہیں درس و الہام حاصل کرتی ہے اور انہی کے مقاصد کے راستے پر گامزن ہے۔
آپ نے اسلام میں عورت کے مقام کو نہایت بلند اور والا قرار دیتے ہوئے فرمایا: قرآن کریم میں عورت کی شخصیت کے بارے میں جو تعبیریں آئی ہیں، وہ سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔
رہبرِ انقلاب نے قرآنِ کریم کی اُن آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جن میں زندگی اور تاریخِ بشر میں عورت اور مرد کے برابر کردار اور
معنوی و اعلیٰ ترین مقامات تک دونوں کے یکساں طور پر پہنچنے کی صلاحیت بیان ہوئی ہے، فرمایا: یہ تمام نکات اُن لوگوں کی غلط فہمیوں کے سراسر منافی ہیں جو دین رکھتے تو ہیں لیکن دین کو پہچان نہیں پائے، اور اُن افراد کے بھی مخالف ہیں جو سرے سے دین کے منکر ہیں۔
آپ نے معاشرے میں خواتین کے حقوق سے متعلق قرآن کے منطقی اور روشن موقف کو بیان کرتے ہوئے تاکید کی:
اسلام میں اجتماعی سرگرمیوں، کاروبار، سیاسی فعالیت، سرکاری مناصب کے بیشتر شعبوں تک رسائی اور دیگر میدانوں میں عورت کو مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ روحانی طرزِ عمل ، فردی و اجتماعی جدوجہد اور پیش رفت کے تمام راستے اُس کے لیے کھلے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ مغرب اور سرمایہ دارانہ تہذیب کی زوال پذیر اور منحط ثقافت اسلام کے نقطۂ نظر سے یکسر مردود ہے۔ آپ نے کہا:
اسلام نے عورت کی شأن و حرمت کی حفاظت، اور نہایت قوی اور حساس جنسی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے ‘‘عورت اور مرد کے باہمی تعلقات، دونوں کا پرده، عورت کا حجاب اور نکاح کی ترغیب’’ جیسے احکام اور حدود مقرر کیے ہیں، جو عورت کی فطرت اور معاشرے کی حقیقی ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ جبکہ مغربی تہذیب میں لامحدود اور تباہ کن جنسی خواہشات کو روکنے یا نظم دینے کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔
رہبرِ انقلاب نے فرمایا کہ اسلام میں عورت اور مرد دو متوازن عناصر ہیں جن کے درمیان بہت سی مشترکات پائی جاتی ہیں اور بعض فرق اُن کی جسمانی ساخت اور طبیعی سرشت سے پیدا ہوتے ہیں۔ آپ نے کہا:
یہ دونوں تکمیلی عناصر انسانی معاشرے کی تدبیر، نوعِ بشر کی بقا، تہذیب کی ترقی، سماجی ضروریات کی تکمیل اور زندگی کے انتظام میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔
آپ نے اس حیاتی اور سرنوشت ساز کردار کے تسلسل میں، خاندان کی تشکیل کو بنیادی ترین امور میں شمار کرتے ہوئے فرمایا:
مغرب کی گمراہ کن ثقافت میں جس طرح خاندان کو فراموش کردیا گیا ہے، اس کے برعکس اسلام میں ‘‘عورت، مرد اور اولاد’’ کو، جو خاندان کی تشکیل کے بنیادی ارکان ہیں واضح حقوق عطا کیے گئے ہیں۔
رہبرِ انقلاب نے اپنی گفتگو کے اس حصے میں، جو خواتین کے حقوق سے متعلق تھا، “معاشرتی اور خاندانی رویّوں میں عدالت” کو خواتین کا پہلا حق قرار دیتے ہوئے اس حق کے تقاضے پورے کرنے کو حکومت اور پوری سماج کی ذمہ داری ٹھہرایا۔ آپ نے فرمایا کہ “امن امان، عزت اور احترام کا تحفظ” بھی عورت کے بنیادی حقوق میں شامل ہے، اور مغربی سرمایہ داری کے برعکس جو عورت کی عزت کو پامال کرتی ہے اسلام عورت کے احترام کے کامل رعایت پر زور دیتا ہے۔
آپ نے پیغمبرِ اکرمؐ کی اس روایت کا حوالہ دیا جس میں عورت کو “پھول ” سے تشبیه دیا گیا ہے، گھر کے کام کاج کی ذمہ داری عورت تک محدود نہیں۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اس نقطۂ نظر کے مطابق عورت کے ساتھ عتاب و سختی سے گریز کرتے ہوئے، اس کی ایسے دیکھ بھال اور حفاظت کی جانی چاہیے جیسے پھول کی کی جاتی ہے، تاکہ وہ بھی گھر کو اپنی خوشبو اور رنگ سے گلزار بنا دے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای نے قرآنِ کریم میں دو مؤمنه خواتین حضرت مریمؑ اور آسیہ (زوجۂ فرعون) کا بطور مثال ذکر کیے جانے کو اہل ایمان مرد و زن سب کے لیے ایک معیار قرار دیا، اور اسے عورت کی فکر و کردار کی اہمیت کا ثبوت بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ خواتین کے سماجی حقوق جیسے مرد کے ساتھ یکساں کام پر یکساں اجرت، ملازمت پیشہ خواتین یا خاتونِ خانہ کے لیے بیمہ، نوکری کرنے والی عورتوں کے لیے مخصوص چھٹیاں اور درجنوں دیگر مسائل کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر محفوظ رہنے چاہییں اور ان کا پورا پورا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔
رہبرِ انقلاب نے گھر میں عورت کے سب سے اہم حقوق میں سے ایك کو “شوہركی بیوی سےمحبت” قرار دیا اور ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں مردوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ محبت کا اظہار کرنے کی نصیحت کی گئی ہے، فرمایا: گھر میں عورت کا دوسرا اہم اور عظیم حق، اُس کے ساتھ کسی بھی قسم کے تشدد کی ممانعت اور مغرب میں رائج ظلم و ستم جیسے قتل یا عورت کو مارنا سے مکمل اجتناب کرنا ہے۔
آپ نے مزید فرمایا کہ “گھر کے کام عورت پر تھوپنے سے گریز”، “شوہر کی طرف سے بچے کی پیدائش کے مراحل میں مدد”، اور “علمی و پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنا” خواتین کے دیگر حقوق ہیں۔ رہبر انقلاب نے زور دے کر کہا کہ عورت گھر کی مدیر اور سربراہ ہے، اور ہمیں ان خواتین کی قدر کرنی چاہیے جو باوجود محدود اور ایك مقررہ آمدنی اور مہنگائی کے باوجود، مہارت اور ہنر کے ساتھ گھر کو سنبھالتی ہیں۔
آپ نے اسلام اور سرمایہ داری نظام کے نقطہ نظر کے تضاد کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: اسلام میں عورت کو آزادی، صلاحیت، شناخت اور ترقی کے مواقع حاصل ہیں، جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کی شناخت مرد میں ضم کر دی جاتی ہے، اس کی حرمت اور وقار پامال کی جاتی ہے، اور عورت کو صرف مادّی خواہشات كے حصول كا ذریعہ اور شہوت کے آلہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالیہ امریکہ میں پیدا ہونے والے مجرمانہ گروہ اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای نے مزید فرمایا کہ “خاندان کے نظام کو تباہ کرنا”، ایسے نقصانات جیسے بے والد بچے، خاندانی رشتوں میں کمی، نوجوان لڑکیوں کا شکار کرنے والے گروہوں كا وجود میں آنا ، اور جنسی بے راه روی کی بڑھتی ہوئی ترغیب کو سرمایہ دارانہ ثقافت کے بڑے گناہوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے کہا: مغربی سرمایہ داری دھوکہ دہی سے ان وسیع پیمانے پر ہونے والے جرائم کو “آزادی” کے نام پر پیش کرتی ہے، اور یہاں تک کہ ہمارے ملک میں بھی اس نام کو استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ آزادی نہیں بلکہ قید و اسارت ہے۔
آپ نے مغرب کی طرف سے اپنی غلط ثقافت کو دنیا میں برآمد کرنے کی مسلسل کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغرب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خواتین پر مخصوص پابندیاں، جیسے حجاب، ان کی ترقی میں رکاوٹ بنیں گی، لیکن جمہوریہ اسلامی ایران نے اس غلط منطق کو رد کر دیا اور ثابت کیا کہ ایک مسلمان اور اسلامی حجاب کی پابند عورت ہر میدان میں، دیگر افراد سے زیادہ، سرگرمی اور اثر و نفوذ رکھ سکتی ہے۔ ۔
رہبر انقلاب نے ایران کی تاریخ میں خواتین کی بے مثال کامیابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی میدان، کھیلوں، فکری، تحقیقی، سیاسی، سماجی، حفضان صحت سے متعلق سرگرمیوں اور شہداء کے شریک حیات کی جهاد میں معاونت اور تعاون میں خواتین نے تاریخی طور پر غیر معمول کارنامے انجام دیے ہیں۔ ایران کی تاریخ میں کبھی بھی آج کے مقابلے میں اس قدر دانشور، متفکر اور صاحبِ رائے خواتین نہیں تھیں، اور جمہوریہ اسلامی نے خواتین کو ہر اہم میدان میں ترقی اور قیادت کے مواقع فراہم کیے۔
آپ نے ایک اہم ہدایت دیتے ہوئے میڈیا کو تنبیہ کی کہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظریے کو عورت کے بارے میں نہ پھیلایا جائے، اور فرمایا: جب خواتین کے حجاب، لباس اور مرد و عورت کے مشترکہ کردار پر گفتگو کی جاتی ہے، تو ملکی میڈیا کو مغربی نظریات کو نہ دہرانا چاہیے اور انہیں غیر معمول طور پر نمایاں نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسلام کے عمیق اور مؤثر نقطۂ نظر کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر اور فروغ دینا چاہیے، جو اسلام کی ترویج کا بہترین ذریعہ ہے، اور اگر ایسا ہوا تو یقیناً دنیا کے بہت سے افراد، خصوصاً خواتین، اس کی طرف مائل ہوں گے۔
رہبر انقلاب کے خطاب سے قبل، سردار شہید غلامعلی رشید کی زوجہ اور شہید امین عباس رشید کی والدہ، نیز سردار شہید حسین سلامی کی دختر نے خواتین، ان کی ذمہ داریوں اور ضروریات کے حوالے سے نکات بیان کیے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.