وھابیوں کے اعتقادی اصولوں پرتحقیق و تنقید

128

ھم اس حصہ میں خداوندعالم کی مدد سے موٴسس وھابیت کے زبدہٴ افکار پرایک تحقیقی اور تنقیدی نظر ڈالیں گے اور اس کے نظریات اور افکار کے بنیادیاصولوںکو بھی پرکھیں گے۔

جن مطالب کے بارے میں ”محمد ابن عبدالوھاب“ نے بحث کی ھے[1]ان کی تعداد بہت زیادہ ھے اگر ھم چاھیں ان میں سے ھر ایک مسئلہ کے بارےمیں مفصل بحث کریں تو بحث طولانی ھو جائے گی اور کئی مختلف رسالوں کوتاٴلیف کرنے کی ضرورت پڑے گی لہٰذا مجبوراً اس کے اساسی افکار، گزیدہنظریات اور اعتقادی مسائل کے بارے میں تحقیق و بحث کریں گے اور تنھا اسمقدار کو جو اسکے اسلامی تعالیم عالیہ سے منحرف اور ہٹ جانے کی طرف اشارہکرنے پر کافی ھو، اپنی بحث و تحقیق کا مورد قرار دیں گے اور اس کے افکارکے جزئیات میں داخل ھونے سے پرھیز کریں گے۔

موٴسسِ وھابیت کی تاٴلیفات میں جو چیز تمام چیزوں سے زیادہ دکھائی دیتیھے وہ شرک و بت پرستی سے ممانعت“ کو قرار دیا جاسکتا ھے توحید اور اس پردعوت دینا عبدالوھاب کےبیٹے ”محمد “ کے نظریات و آراء میں ایک کلیدیحیثیت رکھتا ھے، البتہ انھوں نے دعا کے اصلی ھدف و منشاء کو گم کردیا ھےاور بے راہ چلے گئے ھیں اور عملی میدان میں ”توحید کے منافات و اضداد“ اور”شرک و بت پرستی کی اقسام“ میں غوطہ زن ھوکر ”اصل توحید، خدا پرستوں اوردینداروں“ کے ساتھ خصومت و دشمنی کے گڈھے میں جاگرے ھیں۔

وھابیت کا موٴسس، توحید کو ”اصل الاصول“، اساسِ اعمال، بندوں پر خدا کےواجب حق اور دعوت انبیاء کے اصلی ھدف کی حیثیت سے جانتا ھے۔ ھم بھی اسعقیدے میں اس کے حامی ھیں لیکن ھم اس کو بتائیں گے کہ جس توحید کا وہ قائلھے وہ ایک ایسی توحید نھیں ھے جس کی طرف انبیاء الٰھی اور سچے ادیان نےلوگوں کو دعوت دی ھے بلکہ ایک ایسی توحید ھے کہ جو وھابیت کے موٴسس کے غلطاستنباط اور فکری انحرافات کا نتیجہ ھے جو توحید الٰھی اور توحید اسلام کےسازگار نھیں ھے، کامل وضاحت کے لئے ھم تفصیل سے بحث کرنا چاہتے ھیں:
وھابیوں کے اعتقادی اصول

محمد ابن عبدالوھاب کہتا ھے: ”صالحین اور نیک حضرات کے بارے میں غلو سےکام لینا بت پرستی کی ایک قسم ھے اور غلوکی صورتوں میں سے ایک قبروں کیپرستش یا قبروں کے کنارے خدا کی پرستش ھے اوراسی طرح غیر خدا کے لئے نذرکرنا اور غیر خدا کو شفیع قرار دینا بھی بت پرستی ھے“ [2]

وہ کہتا ھے: ”اپنے اور خدا کے درمیان کسی چیز کو واسطہ قرار دینا شرکھے، جو توحید کے ساتھ سازگار نھیں ھے، تقّرب جوئی، خدا کا خالص حق ھے جوکسی دوسرے کے لئے شائستہ نھیں ھے یھاں تک کہ مقّرب فرشتہ اور نبی مرسل ھیکیوں نہ ھوں، دوسرے افراد تو دور کی چیز ھیں۔“ [3]

اس کا قول ھے: ”جو لوگ خدا اور مخلوق کے درمیان واسطہ کے قائل ھیںوہمشرک ھیں اس لئے کہ واسطہ قرار دینا اصل توحید اور ” لاالہ الااللّٰہ“کےشعار کے ساتھ نھیں ملتا ھے اور یہ اصل توحید کو ختم کردیتا ھے“ [4]

بھرحال عبدالوھاب کا فرزند، تنھا اپنے آپ کو ”توحیدکامحافظ اور پاسدار“ اور ”اھل توحید“ جانتا ھے اور گویا عالم موحدی میں اس کے سوا کوئی نھیںآیا ھے اور اس کے علاوہ کسی نے توحید کے معنی کونھیں سمجھاھے، تنھا وھیشخص ھے کہ جس نے توحید حقیقی کو سمجھا ھے اور کفرو شرک، زندقہ اور بتپرستی کے خطرات سے توحید کی حفاظت و پاسداری کے لئے کھڑا ھوا ھے،غافل اسسے کہ اس نے اصلاً قرآن اور سچے اسلام کی توحید خالص کی بو تک نھیںسونگھی ھے ورنہ وہ اس طرح کی بیھودہ باتوں کے لئے زبان نہ کھولتا۔
محمدابن عبدالوھّاب کہتا ھے: ”انبیاء سے استغاثہ اورندبہ کرنا ان کو پکارنا،کفر اور اسلام کے دائرہ سے خارج کردیتا ھے“ [5]
اسکا کھنا ھے: ”صالحین، مقربان اور اولیاء خدا کے حضور عرضنیازاور حاجت مانگنا، شرک و کفر اور توحید کے خلاف ھے“ [6]
وہکہتا ھے: ”غیر خدا کے لئے قربانی اورذ بح کرنا شرک ھے،
خدااور مخلوقین کے درمیان واسطہ کا قائل ھونا اور اس پر توکل کرنا کفرھے“ [7]
شیعوں کی نسبتموٴسسِ وھابیت کی تھمتیں

محمد بن عبدالوھاب اپنی کتاب ”الرّد علی الرّافضة“ میں جو آئین تشیعکی رد میں لکھی گئی ھے، کچھ مطالب شیعوں کے عقائد کے بارے میں لکھتا ھے جودرحقیقت قابل تنقید تحقیق یا جواب نھیں ھیں بلکہ خود مصنف کے ظرفِ کاھلیاور بے دینی پر دلالت کرتا ھے ۔

وہ کتاب کے آغاز میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت و وصایت کے بارےمیں بحث کرتے ھوئے کہتا ھے کہ جو شخص بھی آیہٴ بلّغ اور حدیث غدیر کامعتقد ھو اور خلافت علی علیہ السلام کو ”منصوص من اللّٰہ والرسول“ جانتاھو، کافر ھے[8]وہاسی کتاب میں کہتا ھے: ”شیعہ تحریف قرآن کے قائل ھیں اور قرآن کو ناقصجانتے ھیں اور جو لوگ نقص و تحریف کے قائل ھیں وہ کافر ھیں“ [9]

موٴسسِ وھابیت اسی مذکورہ کتاب میں اختصار کے ساتھ ایک بحث تقیہ کےبارے میں بھی کرتا ھے اور جوکچھ ناسزا، تھمت اورگالیاں اپنے پاس رکھتا تھاوہ سب اس نے شیعوں کی جان پر نثار کردیتا ھے اور تقیّہ کے مسئلہ پر اعتقادرکھنے کی وجہ سے وہ شیعوں کو کافر کہتا ھے۔[10]

اور شیعوں کو اس عقیدہ کی وجہ سے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے جنگکرنے والے شخص اور ان کے دشمن کو کافر جانتے ھیں، فاسق و کافرکہتا ھے[11]

ائمہ طاھرین (ع) کی عصمت سے متعلق شیعوں کے عقیدہ کے بارے میں کہتا ھےکہ: ”اماموں کے بارے میں عصمت کا دعویٰ اور اثبات کرنا، شیعوں کے جھوٹ اورافترء ات میں سے ھے جبکہ کتاب، سنت، اجماع، صحیح قیاس اور عقل سلیم میں سےکوئی بھی دلیل اس پر دلالت نھیں کرتی ھے اور خدا مار ڈالے ان کو کہ ایساعقیدہ رکھتے ھیں“ [12]

اسی کتاب ”الرّد علی الرافضة“ میں افضلیت علی(ع) کے بارے میں شیعوں کےعقیدہ کو مورد نشانہ بناتے ھوئے اپنے ھمعصر اور ھم روزگار کے ساتھ ملکرکہتا ھے:

”علی علیہ السلام کی افضلیت کا اعتقاد رکھنا کفر ھے“ [13]

مسئلہ ”رجعت“ سے متعلق شیعوں کے عقیدہ کے بارے میں جو کچھ گالیاں اورنازیبا الفاظ جانتا تھا، سب شیعوں کو ھدیہ کرتا ھے،آپ حضرات! ادب و تربیتکو ملاحظہ کریں کہ اس نے شیعوں کو نافھم گدھوں کے لقب سے یاد کیاھے،اورایسی باتوں کے ذریعہ جن میں عفت قلم، ادب کلام، اسلامی تربیت اور رسولگرامی اسلام(ص) کی سنّت کی پیروی موجزن ھے!! شیعوں کو مخاطب قرار دے کرکہتا ھے:

”خداوندعالم نے تم جیسے شقی لوگوں کی عقل کو سلب کرلیا ھے اور تمکو ذلیل و خوار کیا ھے“ [14]

ایک دوسری جگہ اس طرح کہتا ھے: ”شیعوں نے اذان کے فقروں میں اضافہ کیاھے، جو بدعت ھے اور خلاف دین و سنّت ھے نہ اس پر اجماع کی کوئی دلیل ھےاور نہ ھی صحیح قیاس کی دلیل ھے اور نہ ھی کتاب و سنّت کی کوئی دلیل اس پردلالت کرتی ھے۔“ [15]

اسی کتاب میں متعہ کے متعلق بھی اشارہ کرتا ھے اور اس کو شیعوں کی طرفسے ”زنا“ جائز ھونے کے معنی میں خیال کرتا ھے اور اس کو ایک منسوخ حکم اورحرام عمل کی حیثیت سے معرفی کرتا ھے“۔[16]کتاب کے آخر میںشیعوں کو یھودیوں سے مشابہ قرار دیتا ھے اور کھنا چاہتا ھےکہ آئین تشیّع یھودیوں کے ھاتھوں بنایاگیا ایک دین ھے“۔[17]

قابل ذکر ھے کہ یہ ایک ایسا مطلب ھے جسے وھابی مصنّفین اپنی کتابوں اورفحش ناموں میں تشیع کے خلاف ایک حربہ کے بطور استعمال کرتے ھیں،ایک دوسرااعتراض جسے یہ جناب شیخ الاسلام، شیعوں پر تھوپتے ھیں وہ جمعہ اور جماعتکا ترک کرنا ھے۔

اس کے بعد، اسی کتاب میں عیسائیوں سے شیعوں کی مشابہت نیز مجوسیوں سےشیعوں کی شباہت کے بارے میں بحث کرتا ھے اور کہتا ھے کہ شیعہ بھی مجوسیوںاور زردشتیوں کے مانند خدا کو خیر کا خالق اور شیطان (اھرمن) کو شر کاخالق جانتے ھیں۔[18]

آخر میں حضرت سید الشھداء امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے مسئلہکو اس طرح بیان کرتے ھوئے کہتا ھے: ”امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداریمنانا دین سے خارج ھونے کے برابرھے، امام حسین (ع)کی عزاداری بدعت ھے اوراسے روکنا چاہئےے اور اس سلسلہ میں اپنے معلم فکری ”ابن تیمیہ“ کے نظریہسے استناد کرتا ھے اور سیدالشھداء کے لئے عزاداری کو منکرات، قبیح افعال،خلاف شرع اور بدعتوں میں شمار کرتا ھے“۔[19]

بس اس مقدار میں آئین تشیّع سے موٴسسِ وھابیت کی آشنائی ھے اور نیزناسزا کھنے اور تکفیر و تفسیق کرنے میں اس کی مھارت، تربیت و ادب کی مقداربھی یھیں تک محدود ھے۔

محمد بن عبدالوھاب کی یھی تمام باتیں ھیں جنھیں منجمد افکار اور بےشعور لوگوں نے جیسے شریعت سنگلجی نے اپنی کتاب ”توحید عبادت“ اور احمدکسروی اور دوسرے افراد نے اپنی اپنی کتابوں میں”طابق النعل بالنعل(ھو بھو) “ نقل کیا ھے اور دینی اصلاح اور احیاء دین کے نام پر ایک بے خبر اورنامتمیّز افراد کے لئے بیان کیا ھے۔

جی ھاں یہ عقل و دین کے دشمن افراد نے اپنی تعصّب آلود اور عامیانہعقل کے ذریعہ تھمت اور جسارت کرنے میں کسی طرح کی کوئی شرم و حیاء نھیں کیھے، ان عالم نما جاھل عوام کا مبلغ علم،

مقدار شعور اور ان کی نھایت درجہ علمی صلاحیت فقط چند حدیثوں کو نقلاور حفظ کرنا ھے اور وہ بھی ان میں نہفتہ عمیق معانی و معارف پر غور و فکرکئے بغیر ھے خرافات اور بدعتوں سے مبارزہ، شرک و بت پرستی، سنّت صحیح اورصالحین سلف کے مذھب کی پیروی کے دعوئے کے نام پر ھر طرح کی تھمت اورنازیبا الفاظ سے غیر وھابی مسلمانوں خصوصاً شیعوں کو نوازتے ھیں اور اپنےاس عمل کے ذریعہ اعلان کرتے ھیں کہ ھم کس حد تک حضرت سیدالمرسلین صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم کی سنّت کے پیروکار ھیں۔

وھابی ایسے عام لوگ ھیں جنھوں نے علماء کا لباس پھن لیا اور تناقضگوئی، ان کی دیرینہ میراثِ تعصّب، جمود اور ان کے درمیان رائج روشوں میںسے ایک ھے، خود دوسروں سے زیادہ خرافات اور وھم پرستی میں مبتلا ھیں، لیکنشرک و خرافات کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ھیں، جن لوگوں کی فکری پرواز،تجسّم خدا (خدا کو جسم والا ماننا) تشبیہ حق اور جبر پر اعتقاد ھو کیا وہاحیاء دین کرسکتے ھیں؟! حقیقت تویہ ھے کہ دین ان کے ھاتھوں میں اسیر ھےجیسا کہ خانہ کعبہ ان کے ھاتھوں میں اسیر ھے؟

یہ ھو س باز اور شھوت پرست مکار لوگ جو خود کو ”خادم الحرمین“ اور شیخالاسلام، عالم اسلام، امام مسلمین اور اتقیاء میں سے اپنے آپ کو پہچنواتےھیں، بدعت گذار، مشرک، جلاد اور آدم کش ھیں۔

جو ھمیشہ مسلمانوں کے اتحادپرکاری ضرب لگاتے آئے ھیں اور اسلام کو محواور نابود کرتے رہتے ھیں ، اُجرت خوار اور مزدور مصنفین شب وروز مسلمانوںکے خلاف ردّ اور فحش نامے لکھ رھے ھیں اور پھر اُس وقت محمد بن عبدالوھاباپنی کتابوں میں مسلمانوں میں تفرقہ، دشمنی اور اختلاف سے پرھیز کا دمبھرتا ھے۔

ایک معاصر وھابی مصنف کے مقالہ کا خلاصہ

یھاں پر ھم بعنوان نمونہ اور وھابی مصنفین کے علم و درایت اور ادب وتربیت کی گھرائی سے مزید آشنائی کے لئے عربی مقالہ کے ترجمہ کا خلاصہ جووھابی مزدور مصنفین میں سے ”ابراھیم سلیمان جھمان“ [20] کا لکھا ھوا ھے اور جو شیعوں کی بدعتوں اور خرافات کی رد میں لکھا گیا ھے،بیان کرتے ھیں تا کہ ھمارے عزیز قارئین، وھابیوں کی تھمت زنی اور جھوٹوتھمت لگانے کی روش سے مزید آشنا ھوجائیں۔

یہ خائن وھابی مصنف جو اپنے کو عالم سمجھتا ھے حالانکہ ایک مزدور اورنوکر کے علاوہ کچھ بھی نھیں ھے، اپنے مقالہ کے آغاز میں لکھتا ھے: ”میںیہ مقالہ اپنے واجب فریضہ پر عمل اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ھوئےلکھ رھا ھوںمیں اسلام کے نام پر بول رھا ھوں اور اعلان کرتا ھوں کہ:

۔شیعہ حضرات خرافات کے قائل ھیں، جو اسلامی صریحنصوص کے خلاف ھے ۔

۔شیعہ اھل غلو ھیں ۔

۔شیعوں کا جرم، لاکھوں انسانوں کو گمراہ اور فریب دیناھے۔

۔اسلام سے شیعوں کا ارتباط اور رشتہ، مکڑی کے تار سے بھیباریک تر ھے۔

۔شیعہ اعتقادی اصول پنجگانہ کے قائل ھیں اور مسئلہولایت و امامت کو
اصولعقاید کی ردیف میں شمار کرتے ھیں اور دوسروںکی مانند تنھا تین اعتقادی اصول (توحید، نبوت اور معاد) کے قائل نھیں ھیں۔

۔شیعہ اسلامی اصول کو نیست و نابود کرناچاہتے ھیں۔

۔شیعہ تحریف قرآن کے قائل ھیں اور حدیث کو قرآن سے بالاتر اور برترجانتے ھیں اور حدیث کے لئے قرآن سے بھی زیادہ اھمیت کے قائل ھیں۔

۔شیعہ عصمت ائمہ(ع) کے قائل ھیں اور قاعدہٴ حُسن و قبحعقلی کے بھی قائل ھیں۔

۔شیعہ ائمہ طاھرین (ع) سے استغاثہ، ان کی قبور کی زیارت کے جواز اورایام وفاتِ ائمہ معصومین(ع) کی عزاداری خصوصاً امام حسین(ع) کی سوگواری کےجواز کے بھی قائل ھیں۔

۔شیعہ علی(ع) کو خدا کا شریک جانتے ھیں اور حُبّعلی(ع) کی تاٴثیر کے قائل ھیں۔

۔شیعہ متعہ کے قائل ھیں۔

۔شیعہ مسئلہ ”بداء“ کے قائل ھیں جبکہ علمائے اسلام کا اجماعھے،جوبداء کا قائل ھو وہ کافر ھے۔

۔ شیعہ ”تقیہ“ سے کام لیتے ھیں۔

۔شیعوں کی اذان بھی ھم مسلمانوں سے فرق کرتی ھے، ان کا وضو، نماز اورروزہ بھی ھم سے مختلف ھے، شیعوں کا زکوة دینا اور حج کا بجالانا بھی ھممسلمانوں سے جدا ھے۔
یہوھابی موٴلف تھمت لگانے میں اپنے بزرگوں(وھابیت کےبانی محمد ابن عبد الوھاب اور ابن قیم جوزی وغیرہ) سے کمنھیں ھے۔
اسکے بعد کہتا ھے:

۔ سنیوں کا قتل جائز جاننا،ان کوتحت فشا ر قرار دینا، اذیت پھونچانا،ان کے خلاف شھادت دینا اور ان کی جان و مال اور ناموس کو مباح جاننا،شیعوں کے عقاید میں سے ھے۔

۔شیعہ خمس فقراء اور اس کے مستحقین کو نھیں دیتے ھیں بلکہ ایک ایسےشخص کو دیتے ھیں جس کو وہ نائب امام کہتے ھیں، تا کہ بدعتوں کی ترویج اورمسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازشوں میں ھر ممکن ذریعہ سے صرف ھو۔

۔ شیعہ ”رجعت“ کے قائل ھیں۔

۔شیعوں نے جمعہ و جماعت کو ساقط کر دیا ھے اور اس پر عملنھیں کرتے ھیں، جھاد اور اس کی حدود پر عمل نھیں کرتےھیں۔

۔شیعہ امام غائب کے قائل ھیں۔

۔شیعہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایکمعلون امت کہتے ھیں، نیزصحابہ کو گالی دینا ان کیعبادات میں شامل ھے۔
آگےکہتا ھے :

۔ شیعہ اپنے اماموں کے لئے حق تشریع اور نسخ احکامشرعی کے قائل ھیں۔

۔شیعہ علی (ع) کو انبیاء کے برابر جانتے ھیں۔

۔ غیر خدا کے لئے قربانی کرنا، غیر خدا کی قسم کھانا اور غیر خدا سےاستغاثہ کرنا جو کہ تمام شرک و کفر ھے یہ تمام امور شیعوں کے عقاید کےارکان ھیں۔

۔”وصایت“ کے مسئلہ پر عقیدہ رکھنا،ان کے خرافات میں سےایک ھے۔

۔ حقیقت میںتشیع کا موٴسس در واقع ”عبداللہبن سبا“ نامی ایک یھودی تھا۔
آخر میں لکھتا ھے:

۔ تشیع کو عیسائیوں، صھیونسٹوں اور لندن کی مخفی کمیٹی کے ارکان نےتشکیل دیا ھے، مذھب تشیع مذکورہ کمیٹی کے ارکان ”فراماسون“ عیسائیوں،یھودی صھیونسٹوں اور جاسوسی کمیٹیوں کی ھمکاری، حمایت اور سازشوں سے وجودمیں آیا ھے۔
اُسوقت کہتا ھے:

۔ شیعہ چاہتے ھیں کہ اسلام کو نابود کر ڈالیں اورشیعہ امت اسلام کے قلب پہ ایک خنجر کی مانند ھیں۔

۔ شیعہ چاہتے ھیں کہ اسلام کو یھودیوں کےپیروں پر قربان کر دیں۔
مقالہکے آخر میں (بلکہ بہتر ھے کھیں فحش نامہ کے آخرمیں) کہتا ھے:

۔ اصلا ً ھمیں شیعوں کو انسان ھی نھیں سمجھناچاھیئے۔

۔ شیعہ خدا و رسول کے ساتھ محارب اور مفسد فی الارضھیں۔

اس کے بعد شیعوں کے خلاف احساسات کو تحریک کرنے کے لئے علماء اسلام سےخطاب کر کے کہتا ھے: باطل پر سکوت اختیار نہ کریں اور چین سے نہ بیٹھیںبلکہ شیعوں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں۔ خدا را ! میں تم سے چاہتا ھوںاور درخواست کرتا ھوں کہ بزرگان شیعوں کے خلاف فتویٰ صادر کریں۔ خوف نہکھائیں اور خاص شرائط کوبیان نہ کریں کہ یہ شیطانی وسوسہ ھے، شیعوں کےخلاف اقدام کریں اور ان مشرکوں کو صفحہٴ ھستی سے مٹا دیں۔ اسلام سے دفاع،شیعوں کی سازشوں اور مکاریوں کو ختم کرنے اور مسلمانوں کو ان کے شر سےنجات دلانے کی خاطر کوئی ایک فتویٰ صادر کریں۔

قارئین کرام ! یہ تھا وھابی مصنّفین میں سے ایک مصنف کے مقالہ کا خلاصہکہ اس مقالہ میں عفت ِ قلم، مخالف کے عقائد کا احترام اور انسانی شرافت کوبخوبی ملاحظہ کیا جاسکتا ھے۔
صاحب ” فتح المجید “ کےنظریات

شیخ عبدالرحمن ابن حسن آل الشیخ، صاحب کتاب ”فتح المجید“ جو محمد بنعبدالوھاب کی کتاب ”التوحید“ کی شرح ھے اور خود شارح (شیخ عبدالرحمن) موٴسس وھابیت کا پوتا ھے، اپنی کتاب ”فتح المجید“ میں کچھ مطالب بیان کرتاھے، جو ھم اپنے قارئین کی خدمت میں فھرست وار بیان کریں گے۔

قابل ذکر ھے کہ وھابیوں کے نزدیک مذکورہ کتاب ایک خاص اھمیت کی حامل ھےاس لئے مسجد الحرام کے طلاب علوم دینی کے کورس میں شامل ھے اور ان کی درسیکتابوں کا جزء قرار پائی ھے۔

یہ کتاب سعودی عرب کے پائے تخت ”ریاض“ سے ۴۸۰ صفحے پر اور بیروت لبنانسے ۵۱۸ صفحے پر مشتمل طبع ھوئی ھے ، ھم ان مطالب کو طبع لبنان کے مطابقنقل کرتے ھیں، عبدالرحمن آل الشیخ شفاعت کے بارے میں اپنی اس کتاب ”فتحالمجید“ میںیوں رقمطراز ھے:

”چونکہ ان بتوں (قبور و حرم) کی پرستش کرنے والے معتقد ھیں کہ ان قبروںکی تعظیم، ان سے مدد طلب اور دعا مانگنے اور ان صاحبان قبور کی شفاعت وبرکت کے ذریعہ اپنی آرزووٴں کو پھنچ جائیں گے،لہٰذا صالحین کی قبور سے ھرطرح کا تبرک حاصل کرنا اوران کا احترام کرنا، لات و عزیٰ کی پرستش کےمانند ھے اور جو شخص اس طرح کے کام کرے اور ایک صاحب قبر کا معتقد ھو تووہ بت پرستوں کی مانند ھے۔“ [21]
ایکدوسری جگہ اپنے دعوے پر ابن تیمیہ کے شاگرد ”ابن قیّم“ کی باتوں سے استدلال کرتے ھوئے کہتا ھے:

”شرککی اقسام میں سے ایک مورد، مُردوں سے استغاثہ، اپنی حوائجکی درخواست اور ان کی طرف ھر طرح کی توجہ کرنا بھیھے۔“ [22]

شیخ عبدالرحمن اس کے بعد، اپنے ایک بے سابقہ اور دلچسپ فتوے کے ذریعہ،اپنے ایک ھمفکر ”ابن قدامہ“ کی گفتار کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ یوںاستدلال کرتا ھے :

”ایسی مسجدوں میںنماز پڑھنا جو حرم کے کنارے بنائی گئی ھوں جائز نھیںھے خواہ اس مسجد اور حرم کے درمیان کوئی دیوار حائل ھو یا حائل نہ ھو۔البتہ اس طرح کی مسجدوں میں جس نماز کا پڑھنا جائز ھے وہ تنھا نماز میّتھے۔“ [23]

محمد ابن عبدالوھاب اپنی کتاب ”التوحید“ کے ایک حصّہ کو حرم کے کنارےمساجد اور انبیاء و اولیاء کی قبور کے لئے بارگاہ اور گنبد بنانے سے متعلقمختص کرتے ھوئے تاکید اور اصرار کرتا ھے کہ اس طرح کی مسجدیں، حرم اورعمارتیں بنانا حرام اور ویران کرنا واجب ھے تو اس کا پوتا شیخ عبدالرحمناپنے دادا کی گفتار کی شرح کرتے ھوئے ابن تیمیہ کے عقیدہ کو بعنوان دلیلپیش کرتا ھے اور کہتا ھے:

”قبروں پر حرم اور عمارتیں بنانا اور ایسے ھی ان کے کنارے مسجدیں بناناتمام مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حرام ھے، لہٰذا جس طرح بھی ممکن ھو پھلیفرصت میں ان مسجدوں اور عمارتوں کو منھدم کرناواجب ھے جو انبیاء اورصالحین کی قبور کے کنارے بنائی گئی ھیں اور ان آثار کو ختم کرنا ضروریھے۔“ [24]

شیخ عبدالرحمن آل الشیخ، اولیاء و صالحین کی قبور سے شفاعت، استغاثہاور مدد چاھنے کے سلسلہ میں دوسرے موارد کی طرح ابن تیمیہ کی گفتار سےمستند کرتے ھوئے ”رسالة السنّة“ میں یوں کہتا ھے:

”جاننا چاھیئے کہ جو لوگ اسلام اور اھل سنّت سے منتسب ھیں وہ ممکن ھےمختلف انگیزوں کے ذریعہ دین اسلام سے خارج ھو جائیں ، مثلاً اپنے دینیرھبروںمیں سے کسی ایک ،یا علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں غلّوسے کام لیں اور کھیں: ”اے آقا میری مدد کرو“ یا ”ھماری مدد کو پھنچو“وغیرہ وغیرہ یہ تمام چیزیں شرک اور گمراہ ھیں، ایسے لوگوں سے توبہ کرانیچاھیئے اور اگر قبول نہ کریں اور اپنے عمل و عقیدہ پر اٹل رھیں تو ان کوقتل کر دینا چاھیئے۔“ [25]

وہ اضافہ کرتا ھے : ”جو شخص اپنے اور خدا کے درمیان وسائط اور شفاعتکرنے والوں کو قرار دے اور وساطت کے عنوان سے (نہ کہ مستقلاً) ان پراعتماد کرے، ان کو پکارے اور ان سے مدد طلب کرے تو ایسا شخص اجماعاً اسلامسے خارج ھے۔“ [26]کتاب ”فتح المجید“ میںباقی مطالب اس طرح سے ھیں ۔

۔ توحید کے معنی (توحید عبادی کے معنی)یہ ھیں کہ: انگوٹھی پھننا شرک ھے۔

۔ غیر خدا کے لئے قربانی کرنا شرک ھے۔

۔ غیر خدا سے استعاذہ اور پناہ حاصل کرنا شرک ھے۔

۔ غیر خدا سے شفاعت طلب کرنا شرک ھے۔

۔ قبور کی زیارت کرنا شرک ھے۔

۔(سحر و جادو گری، خُرافہ پرستی سے بحث کرنا اور) غیر خداکی قسم کھانا شرک ھے۔

۔ عرش وکرسی ،قضا وقدر اور تصاویر وغیرہ کے بارےمیں بحث کرنا شرک ھے۔

قارئین کرام! آپ نے اچھی طرح ملاحظہ فرمایا جو مسائل وھابیوں کی طرف سےزیر بحث ھیں وہ اتنے زیادہ اور بے شمار ھیں کہ کئی جلدوں میں ان پر بحث کیجاسکتی ھے حتی ان میں سے بعض مسائل تو ایسے ھیں کہ ان پر مستقل کتابیںلکھی جاسکتی ھیں۔

چنانچہ ھم یھاں پر اختصار کو ملحوظ خاطر رکھتے ھیں تاکہ بحث طولانی اورکتاب بھی زخیم نہ ھو ، اس وجہ سے ھم فقط اھم مسائل اور ان شبھات پر تحقیقو تنقید کریں گے کہ جو وھابیوں کی طرف سےبیان ھوئے ھیں تا کہ حق وباطلروشن ھو جائے، حق کے تلاش کرنے والے اور حقیقت پسند حضرات ھدایت پا جائیںاور باطل کو اس کے مکروہ چھرے کے ساتھ پہچان لیں اور اس طرح کی بے ھودہگفتگو کرنے سے ،منحرف وخرافات پرستوں اور ملحدوں کے ھاتھوں سے قوت چھین لیجائے۔
وھابیوں کے افکار پر تحقیقو تنقید

ھم وھابیوںکے نظریات کی تحقیق و بررسی کی خاطر اور محمد ابن عبدالوھابکے سطحی، ظاھربینانہ اور شرک آلود نظریات پر تنقیدی نظر ڈالنے کے لئےپھلے اس کے عقائد کے کلیات و اصول جیسے ”شرک، توحید اور اس کی اقسام“ اور”عالم ھستی میں وساطت کی نفی“ اور انبیاء و اولیاء سے توسل کی حرمت و نفی“ اور مسئلہ ”شفاعت“ جس پر وھابیوں نے بڑاایڑی چوٹی کا زور لگاکربہت تاکیدکی ھے، مورد بحث قرار دیں گے اور پھر وھابیوں کے اصلی منابع سے مسائلکونقل کرکے ان کی جزئیات میں جائیں گے اور اس کے اھم مسائل کی تنقید اورردّ کریں گے۔

اگر چہ ھمارے اعتقاد کے مطابق وھابیوں کے اعتقادی اصول و کلیات کےسلسلہ میں بحث کرنے سے ان کے انحرافی عقائد کا اثبات، ھیچ اور باطل ھوناثابت ھو جائے گا اور قرآن و اسلام کی حیات بخش نورانی تعالیم سے ان کیبیگانگی اور دوری کا بھی پتہ چل جائے گا اور ان کے دعووٴں کا جھوٹا ھونابھی ثابت ھو جائے گا۔لہٰذا ضرورت ھی نھیں ھے کہ ھم ان کے عقائد کی جزئیاتمیں داخل ھوں لیکن اس شجرہٴ ملعونہ(فرقہ وھابیت) کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کےلئے ھم ان کے عقائد کے بعض جزئیات کی طرف ضرور اشارہ کریں گے۔
شبہٴ شرک

جیسا کہ ھم پھلے بھی کہہ چکے ھیں کہ وھابیوں کی طرف سے جو شبھات پیشکئے گئے ھیں ان میں سے ایک مھم ترین شبہ جو سادہ اندیش لوگوں کے ذھن میںبیٹھایا جاتا ھے وہ شبہٴ شرک ھے اور دلچسپ یہ ھے کہ فرقہٴ وھابیت کلمہٴ”شرک“ کے معنی کے لئے اپنے نزدیک اس قدر وسعت و توسیع کے قائل ھوتے ھیں کہذرا سے بھانہ پر فوراً ”شیعوں“ کے اکثر توحیدی عقائد پر شرک کا فتویٰ لگادیتے ھیں اور ان حقیقی مواحدوں کو بزدلانہ طور پر مشرک کہہ کر پکارنے لگتےھیں۔

گویا ان کے ھاتھوں میں لغات و الفاظ کے معانی ھیںجس میںھر طرح کا تصرفاور مفاھیم کو تطبیق کرنے میں مطلق آزادی رکھتے ھیں۔ جبکہ کلمہٴ ”شرک“ شرع متشرعہ کے عرف کے لحاظ سے ایک شخص اور خاص معنی پرحمل ھوتاھے جو شیعوں(اَعْلیَ اللّٰہ کَلِمَتَھُمْ) کے عقائد میں ذرہ برابر نھیں پایا جاتا۔

لہٰذا ھم مطلب روشن ھونے کے لئے بطور اجمال ”توحید کے معنی اور اس کےمراتب “ کی طرف اشارہ کرتے ھیں کہ جو عقلی دلیلوںکا مدلول اور قرآنی آیاتسے ماخوذ ھے ،اس کے بعد ھم ”شرک“ کے معنی اور اس کی اقسام سے بحث کریں گےاور پھر شیعوں کے عقیدہ اور طرز تفکر کو اولیاء اللہ اور مقربین درگاہ خداسے ”توسل اور شفاعت“ طلب کرنے کے بارے میں مورد تحقیق و بررسی قرار دیں گےتا کہ ”جو لوگ اپنے گھمنڈ اور تعصب کا شکار ھوں، اور عقل کے اندھے ھوں انکے چھرے سیاہ ھو جائیں“۔[27]
حوالہ جات

[1]اس بحث کے اکثر مطالب او رمحمد ابن عبد الوھاب کے نظریات درج ذیل کتابوںمیں موجود ھیں جو شیعوں کی رد میں لکھی گئی ھے :”التوحید الذی ھو الحقالعبید “ ”کشف الشبھات“ اور ”الرد علی الرافضة“

[2]الشیخ الامام محمد ابن عبد الوھاب ، دیوان النہضة،توسط ادویینس وخالد سعید ، دار العلمالملاتین ،بیروت ص۸۔

[3]الشیخ الامام محمد ابن عبد الوھاب ، دیوان النہضة،توسط ادویینس وخالد سعید ، دار العلم الملاتین ، بیروتص۶۱۔
[4]الشیخ الامام محمد ابن عبد الوھاب ص ۶۰۔
[5]الشیخ الامام محمد ابن عبد الوھاب ص۶۲۔
[6]الشیخ الامام محمد ابن عبد الوھاب ص ۶۴۔
[7]الشیخ الامام محمد ابن عبد الوھاب ص ۶۸۔
[8]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۶چاپ ریاض۔
[9]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۱۴، طبع ریاض۔
[10]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۲۰، طبع ریاض۔
[11]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۲۶، طبع ریاض۔
[12]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۲۷، طبع ریاض۔
[13]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۲۸، چاپ ریاض۔
[14]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۳۱، طبع ریاض۔
[15]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۳۲، طبع ریاض۔
[16]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص ۳۴، طبع ریاض۔
[17]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص۴۳ ، طبع ریاض۔
[18]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص۴۶ ، چاپ ریاض۔
[19]رسالة فی الردّ علی الرافضة ، موٴلف شیخمحمد ابن عبد الوھاب ص۴۷ ، طبع ریاض۔
[20]یہبحث آقای مھدی حسین روحانی کی کتاب ”بحوث مع اھلالسنة والسلفیہ“ کے شروع میںموجود ھے۔
[21]فتح المجید ، موٴلف شیخ عبد الرحمن آلشیخ ص۱۵۱، طبع بیروت۔
[22]فتح المجید ، موٴلف شیخ عبد الرحمن آلشیخ ص ۱۷۷ طبع بیروت۔

[23]فتحالمجید ، موٴلف شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص۲۴۰، طبع بیروت۔
[24]فتح المجید ، موٴلف شیخ عبد الرحمن آلشیخ ص ۲۳۸ طبع بیروت۔
[25]فتح المجید ، موٴلف شیخ عبد الرحمن آلشیخ ص ۱۷۶ طبع بیروت۔
[26]فتح المجید ، موٴلف شیخ عبد الرحمن آلشیخ ص۱۷۷، طبع بیروت۔
[27]توسل ازدیدگاہ عقل،قرآن و حدیث ، تالیفسید محمد ضیا آبادی واحد تحقیقات اسلامی ص۷۳۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.