نمازمعنوی طہارت و پاکیزگی

189

نماز
 
 
 
 

نماز وہ حقیقت ہے جس سے انسان کے ظاہر و باطن میں مادی اور معنوی طہارت و پاکیزگی پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان کا ظاہر و باطن مزین ہوجاتا ہے، اور نمازی کے لئے ایک خاص نورانیت حاصل ہوتی ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن کریم نے بہت سی آیات میں نماز کی طرف دعوت دی ہے، اور اس کو ایک فریضہ الٰہی کے عنوان سے بیان کیا ہے، نہ صرف یہ کہ نماز کاحکم دیا ہے بلکہ واجبی حکم دیا گیا ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

(وََقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لَِنفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوہُ عِنْدَ اﷲِ ِنَّ اﷲَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر).(١)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو کہ جو کچھ اپنے واسطے پہلے بھیج دوگے سب خدا کے یہاں مل جائے گا .خدا تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے بہت سی آیات میں مشکلات کے دور ہونے، سختیوں کے آسان ہونے اور بہت سے نیک کاموں میں امداد ملنے کے لئے نماز اور صبر کی دعوت دی ہے:

 
 
 
 

(وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَِنَّہَا لَکَبِیرَة ِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِینَ).(٢)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو .نماز بہت مشکل کام ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو خشوع و خضوع والے ہیں’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

البتہ یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ وہی نماز انسان کو طاقت و بلندی عطا کرتی ہے جس میں فقہی اور معنوی شرائط پائے جاتے ہوں، جس نماز میں لباس اور مکان مباح ہو، وضو اور غسل کا پانی اور تیمم کی مٹی مباح ہو، جس نماز میں ترتیب اور طمأنینہ ]یعنی اطمینان[ اور وقت کی رعایت کی گئی ہو، جس نماز میں سستی اور بے توجہی نہ پائی جاتی ہو، جس نماز میں نیت پاک ہو اور اس میں اخلاص پایا جاتا ہو، تو اس طرح کی نماز انسان کی مشکلات اور سختیوں میںمددگار ثابت ہوتی ہے، اور پھر انسان کے لئے تمام نیک کام کرنے کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے بہت سی آیات میں نماز کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

(اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ آیَا تُہُ زَادَتْھُمْ اِیمَاناً وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ٭الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُونَ).(۳)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘صاحبان ایمان در حقیقت وہ لوگ ہیں جن کے سامنے ذکر خدا کیا جائے تو ان کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو اور اس کی آیات کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ لوگ اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں.وہ لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے رزق سے انفاق بھی کرتے ہیں’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن کریم نے سستی ،حالت غنودگی اور حضور قلب میں مانع ہونے والی ہر چیز کو حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، بلکہ ایسے وقت میں نماز کی ادائیگی چاہی ہے کہ جب خوشی و نشاط، صدق و صفااور خلوص اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھی جاسکے اور تمام ظاہری و باطنی شرائط کا لحاظ کیا جائے:

 
 
 
 

(یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وََنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ…).(۴)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘اے ایمان والو ! خبر دار نشہ کی حالت میں نما زکے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو…’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے اپنے اہل و عیال کو نماز کی دعوت کو اخلاق انبیاء بتایا ہے، اور نمونہ کے طور پر حضرت اسماعیل کی دعوت کو بیان کیاہے:

 
 
 
 

(وَکَانَ یَْمُرُ َہْلَہُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہِ مَرْضِیًّا).(۵)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘اور وہ اپنے گھر والوں کو نما ز اور زکوٰة کا حکم دیتے تھے اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے’۔ 

 
 
 
 

قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ نمازانسان کو فحشاء و منکر سے روکتی ہے. جی ہاں، یہ بات تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے کہ واقعی نماز انسان کو برائیوں سے روک دیتی ہے، اور انسان کے دل و جان میں پاکیزگی بھر دیتی ہے، اعضاء وجوارح کو خدا کی اطاعت کرنے پر آمادہ کردیتی ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

(… وََقِمْ الصَّلَاةَ ِنَّ الصَّلاَةَ تَنْہَی عَنْ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ…).(۶)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘…اور نماز قائم کرو کہ نماز ہربُرائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے….’

 
 
 
 

قرآن کریم نے بے نمازی، بخیل، اہل باطل اور قیامت کی تکذیب کرنے والوں کو جہنمی قرار دیا ہے:

 
 
 
 

(قَالُوا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّینَ٭وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِینَ٭ وَکُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِینَ٭ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّینِ).(۷)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘وہ کہیں گے ہم نماز گذارنہیں تھے.اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے. لوگوں کے بُرے کاموں میں شامل ہو جایا کرتے تھے.اور روز قیامت کی تکذیب کیاکرتے تھے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے حقیقت نماز سے غافل اور ریاکاری کرنے والے نمازی کو دین کا جھٹلانے والا قرا دیا ہے:

 
 
 
 

(فَوَیْل لِلْمُصَلِّینَ ٭الَّذِینَ ھُمْ عَن صَلَاتِھِمْ سَاھُونَ٭الَّذِینَ ھُمْ یُرَآئُ ونَ ).(۸)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘تو تباہی ہے ان نمازیوں کے لئے .جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں.دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں ‘۔

 
 
 

 

 
 
 
 

نماز اور اس کے فقہی و معنوی شرائط کے سلسلہ میں بہت سی روایات بھی بیان ہوئی ہیں جن میں چند کو بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے:

 
 
 
 

حضرت امام باقر علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں کچھ چیزوں کی سفارش کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اپنی نماز کو بھی سبک نہ سمجھو کیونکہ حضرت رسول خدا ۖ نے اپنے آخری وقت میں فرمایاہے:

 
 
 
 

‘لَیْسَ مِنّی مَنِ اسْتَخَفَّ بِصَلاتِہِ لَایَرِدُّ عَلَیَّ الْحَوْض لَا وَاللّٰہِ ،لَیْسَ مِنّی مَنْ شَرِبَ مُسْکِراً لَا یَرِدُّ عَلَیَّ الْحَوْضَ لَا وَاللّٰہِ.'(۹)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘جو شخص نماز کو سبک سمجھے وہ مجھ سے نہیں ہے، خدا کی قسم حوض کوثر پر میرے پاس ایسا شخص نہیں پہنچ سکتا، اور ایسا شخص بھی مجھ سے نہیں ہے جو شراب پئے، خدا کی قسم ایسا شخص ]بھی[ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں پہنچ سکتا’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کیا:پالنے والے!ایسے وقت پر نماز پڑھنے والے کی کیا جزاء ہے ؟ تو خطاب ہوا:

‘اُعْطِیہِ سُؤْلَہُ ،وَاُبیحُہُ جَنَّتِی’۔(۱۰)
 
 
 
 

‘میںاس کے سوالوں کو پورا ،ا اور اس کے لئے جنت مباح کردوں گا’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

 
 
 
 

‘اَحَبُّ الْعِبادِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ رجل صَدوق فی حَدِیثِہِ مُحافِظ عَلیٰ صَلَواتِہِ وَمَاافْتَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْہِ مَعَ اَدائِ الْاَمانَةِ’۔(۱۱)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘خداوندعالم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اپنی گفتگو میں صداقت سے کام لے ،نماز و دیگر عبادتوں کی حفاظت کرے اور امانت ادا کرے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

ابن مسعود کہتے ہیں: میں نے حضرت رسول خدا ۖ سے سوال کیا: کونساعمل خداوندعالم کے نزدیک سب سے بہترہے؟ تو آنحضرت ۖ نے فرمایا:

‘اَلصَّلَاةُ لِوَقْتِھَا’۔(۱۲)
‘نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا’۔
 
 
 
 

حضرت رسول خدا ۖ نے فرمایا:

 
 
 
 

‘لَا تُضَیِّعُوا صَلاَتَکُمْ فَاِنَّ مَنْ ضَیَّعَ صَلَاتَہُ حُشِرَ مَعَ قَارُونَ وَھامانَ ،وَکاَنَ حَقّاً عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُدْخِلَہُ النّارَ مَعَ الْمُنافِقینَ ، فَالْوَیْلُ لِمَنْ لَمْ یُحافِظْ عَلیٰ صَلَاتِہِ وَاَدائِ سُنَّةِ نَبِیِّہِ’۔(۱۳)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘اپنی نمازوں کو برباد نہ کرو، بے شک جس نے نماز کو ضایع کیا وہ قارون اور ہامان کے ساتھ محشور ہوگا، اور خداوندعالم اس کو منافقین کے ساتھ جہنم میں ڈال دے گا، پس وائے ہونماز اور سنت پیغمبر کی حفاظت نہ کرنے والے شخص پر !’

 
 
 
 

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

 
 
 
 

‘ یُعْرَفُ مَنْ یَصِفُ الْحَقَّ بِثَلَاثِ خِصالٍ:یُنْظَرُ اِلیٰ اَصْحابِہِ مَنْ ھُمْ؟وَاِلیٰ صَلَاتِہِ کَیْفَ ھِیَ وَفِی اَیِّ وَقْتٍ یُصَلّیھا ،فَاِنْ کَانَ ذَا مالٍ نُظِرَ اَیْنَ یَضَعُ مالَہُ ؟’۔(۱۴)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘جو شخص حق کی معرفت کا دعویٰ کرے وہ تین خصلتوں کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے، اس کو دیکھا جائے کہ اس کی دوستی کن لوگوں سے ہے، اور اس کی نماز کس طرح کی ہے اور کس وقت پڑھتا ہے، اور اگر مالدار ہے تو اپنی دولت کہاں خرچ کرتا ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعوں کو تین چیزوں کے ذریعہ پہچانو: نماز کے اوقات پر، کہ کس طرح اس کے معین وقت پر ادا کرتے ہیں، دوسرے رازداری میںکہ کس طرح ہمارے دشمنوں سے اسرار کو چھپاتے ہیں، تیسرے مال و دولت کے سلسلہ میں کہ اپنے دینی بھائیوں سے کس طرح مواسات کرتے ہیں۔(۱۵)

 
 
 

 

 
 
 
 

انفاق

 
 
 
 

جو کچھ خداوندعالم مومنین کو عطا کرتا ہے وہ اس کو راہ خدا میں خرچ کردیتے ہیں۔

 
 
 

 

(…وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ).(۱۶)
 
 
 
 

‘…اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

اہل ایمان لوگوں کی مشکلات دور کرنے کے لئے اپنے مال و دولت، مقام، آبرو، عہدہ اور موقعیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور خلوص و محبت کے ساتھ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو کسی ریاکاری اور کسی احسان کے بغیر خرچ کرتے ہیں۔

 
 
 

 

 
 
 
 

اہل ایمان کی زکوٰة پر توجہ ،نماز، روزہ اور حج کی طرح ہوتی ہے، اور مالی واجبات کو نماز کی ادائیگی کی طرح اہمیت دیتے ہیں۔

 
 
 

 

 
 
 
 

اہل ایمان زکوٰة، انفاق، صدقہ اور مومنین کے مدد کرنے میں ذرہ بھی بخل نہیں کرتے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے بہت سی آیات میں لوگوں کو انفاق کا حکم دیا ہے اور اس سلسلہ میں اس قدر اہمیت دی ہے کہ راہ خدا میں انفاق نہ کرنے کوخود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالنے کے برابر مانا ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

(وََنفِقُوا فِی سَبِیلِ اﷲِ وَلاَتُلْقُوا بَِیْدِیکُمْ ِلَی التَّہْلُکَةِ وََحْسِنُوا ِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ).(۱۷)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘اور راہ خدا میں خرچ کرو اور اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالو .نیک برتاؤ کرو کہ خدا نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے انفاق نہ کرنے کو انسان کی آخرت خراب ہونے کا باعث بتایا ہے، اور اس کو کفر و ظلم کے برابر قرار دیا ہے، نیز یہ اعلان کرتا ہے کہ جن لوگوں نے انفاق میں بخل سے کام لیا وہ روز قیامت اپنا کوئی دوست یا شفیع نہیںپائیں گے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

 (یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا َنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ َنْ یَْتِیَ یَوْم لاَبَیْع فِیہِ وَلاَخُلَّة وَلاَشَفَاعَة وَالْکَافِرُونَ ہُمْ الظَّالِمُونَ)(۱۸)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘اے ایمان والو ! جو تمہیں رزق دیا گیا ہے اس میںسے راہ خدا میں خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ تجارت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش .اور کافرین ہی اصل میںظالمین ہیں’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید انفاق کو انسان کے لئے خیر سمجھتا ہے، اور بخل سے محفوظ رہنے کو فلاح و بہبودی کا باعث مانتا ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

(فَاتَّقُوا اﷲَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وََطِیعُوا وََنفِقُوا خَیْرًا لَِنْفُسِکُمْ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ).(۱۹)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘لہٰذا جہاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرو اور ان کی بات سنو اور اطاعت کرو اور راہ خدا میں خرچ کرو کہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے اور جو اپنے ہی نفس کے بخل سے محفوظ ہو جائے وہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید راہ خدا میں انفاق کرنے کا اجز و ثواب ٧٠٠برابر اور اس سے بھی زیادہ شمار کرتا ہے، چنانچہ انفاق کے مسئلہ کو ہماری آنکھوں دیکھی حقیقت سے مثال بیان کی ہے تاکہ اس خداپسند عمل کے سلسلہ میں لوگوں کا ایمان پختہ ہوجائے:

 
 
 
 

(مَثَلُ الَّذِینَ یُنفِقُونَ َمْوَالَہُمْ فِی سَبِیلِ اﷲِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ َنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِی کُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاﷲُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَشَائُ وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم).(۲۰)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سو سو دانے ہوںاور خدا جس کے لئے چاہتا ہے اضافہ بھی کردیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورعلیم و دانا بھی’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

 شب و روز ، ظاہر بظاہر اور مخفی طور پر انفاق کرنا ایک ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن کریم نے بہت زور دیاہے،اور یہ ایک خداپسند عمل ہے جس کا اجر بھی خداوندعالم عنایت فرماتا ہے، جس کی بدولت انسان کو موت اور قیامت کا خوف نہیں رہتا:

 
 
 
 

(الَّذِینَ یُنفِقُونَ َمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلاَنِیَةً فَلَہُمْ َجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَخَوْف عَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ).(۲۱)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘جو لوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں .دن میں خاموشی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ہیں ان کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے اورانھیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ حزن’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

قرآن مجید نے آیات الٰہی کی تلاوت کرنے، نماز قائم کرنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کو ایسی تجارت قرار دیا ہے جس میں کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں اور جس میںفائدہ ہی فائدہ ہے:

 
 
 
 

 (ِنَّ الَّذِینَ یَتْلُونَ کِتَابَ اﷲِ وََقَامُوا الصَّلَاةَ وََنْفَقُوا مِمَّارَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً یَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُور ) .(۲۲)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘یقینا جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اورا نھوں نے نماز قائم کی ہے اور جو کچھ ہم نے بطور رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خفیہ اور علانیہ خرچ کیا ہے یہ لوگ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جس میں کسی طرح کی تباہی نہیں ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

 
 
 
 

‘تمہارے بدن کے تمام اعضاء و جوارح پر زکوٰة واجب ہے، بلکہ ہر بال اور عمر کے ہر لمحہ پر زکوٰة واجب ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

آنکھ کی زکوٰة اور اس کا انفاق یہ ہے کہ دوسروں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھے اور خدا کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

کان کی زکوٰة یہ ہے کہ انسان علم و حکمت، قرآن اور موعظہ و نصیحت کو سنے،اور ان چیزوں کو سنے جن کے ذریعہ دنیا و آخرت کی نجات شامل ہو خصوصاً جھوٹ، غیبت ا ورتہمت وغیرہ جیسے شیطانی کاموں سے پرہیز کرے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

زبان کی زکوٰة یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے ساتھ نیکی کرنے، خواب غفلت میں سوئے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور خداوندعالم کی تسبیح و تہلیل کرنے کے لئے اپنی زبان کھولے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

ہاتھ کی زکوٰة یہ ہے کہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور مال و دولت کو اس کی راہ خرچ کرے، اس سے ایسے مطالب لکھے جس سے مسلمانوں کی فلاح و بہبودی ہو اور لوگوں کو اطاعت خدا پر آمادہ کرے، اور اپنے ہاتھ کو ظلم و ستم اور فساد سے محفوظ رکھے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

پیروں کی زکوٰة یہ ہے کہ راہ خدا میں اٹھیں، خدا کے حقوق کی ادائیگی میں چلیں، خدا کے مخلص بندوں کی زیارت کے لئے بڑھیں، علمی مجالس میں شرکت کریں، اصلاح معاشرہ اورصلہ رحم کے لئے بڑھیں، اور ایسے کاموں کی طرف اٹھیں جن سے دین و دنیا کی اصلاح ہوسکے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

یہ ایسے مسائل ہیں جن کو ایک انسان انجام دے سکتا ہے، اور سبھی اتنی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان تمام چیزوں پر عمل کریں، لیکن وہ تجارت جس سے خدا کے مقرب بندوں کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہے، اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ ہم شمار کریں، صرف ارباب عمل ہی اس سے آگاہ ہیں، اولیاء الٰہی کا شعار زکوٰة ِکامل کے سلسلہ میں دوسروں سے بالکل الگ ہے۔(۲۳)

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت امام عسکری علیہ السلام قرآن مجید میں بیان ہونے والی آیات میں (وَ آتُوْا الزَّکوٰة) کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

 
 
 
 

مال ، آبرو اور قدرت بدن کی زکوٰة دینا مراد ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

مال کی نسبت اپنے مومن بھائیوں سے مواسات کرنامراد ہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

آبرو کے سلسلہ میں زکوٰة یہ ہے کہ اپنی عزت و آبرو کے ذریعہ اپنے دینی بھائیوں کی مدد کرے اور ان کی مشکلات کو دور کرے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

طاقت کی زکوٰة انسان کااپنے برادر مومن کی ہر ممکن طریقہ سے مدد کرناہے۔

 
 
 

 

 
 
 
 

یہ تمام چیزیں یعنی مال ، آبرواور طاقت کی زکوٰة کے ساتھ ساتھ حضرت محمد مصطفی ۖ اورآپ کے اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کا معتقد رہے، اسی صورت میں خداوندعالم ہمارے اعمال کو پاکیزہ قرار دیتا ہے، اور ان کا چند برابر اجر دیتا ہے کیونکہ یہ عنایت اور توفیق ان حضرات کے لئے ہے جو ولایت محمد و آل محمد(ص) کو قبول کریں اور ان کے دشمنوں سے بیزار رہیں۔(۲۴)

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت امیر المومنین علیہ السلام رسول خدا ۖ سے روایت فرماتے ہیں:

 
 
 
 

   ‘قِرائَ ةُ الْقُرآنِ فِی الصَّلاةِ اَفْضَلُ مِنْ قِرائَ ِة الْقُرآنِ فِی غَیْرِالصَّلاةِ، وَذِکْرُاللّٰہِ اَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ، وَالصَّدَقَةُ اَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ ،وَالصَّوْمُ جُنَّة’۔(۲۵)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘نماز میں قرآن پڑھنا غیر نماز میں پڑھنے سے بہتر ہے، اور زندگی کے تمام حالات میں یاد خدا کرنا صدقہ دینے سے بہتر ہے، اور صدقہ روزہ سے افضل ہے، اور روزہ آتش جہنم کے لئے سپر اور ڈھال ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

امام زین العابدین علیہ السلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

 
 
 
 

‘بے شک جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے اوپر سے نئے لباس نکلتے ہیں، اور اس کے نیچے سے خاکستری رنگ کے گھوڑے نکلتے ہیں، جن پر زین اور لگام ہوتے ہیں، ان گھوڑوں کے پر ہوتے ہیں! وہ پیشاب پاخانہ نہیں کرتے، ان پر اولیاء الٰہی سوار ہوتے ہیں اور جنت میں جہاں جانا چاہیں جاتے ہیں۔

 
 
 

 

 
 
 
 

ان میں سے کم ترین درجہ والے افراد بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے: پالنے والے! کس چیز کی وجہ سے تیرے بندے اس عظیم مرتبہ پر پہنچے ہیں؟ اس وقت خداوندعالم جواب دے گا: نماز شب، روزہ، دشمن سے بے خوف جہاد، اور راہ خدا میں صدقہ دینے میں بخل نہ کرنے کی وجہ سے یہ لوگ اس عظیم مرتبہ پر پہنچے ہیں’۔(۲۶)

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت رسول خدا ۖ نے فرمایا:

 
 
 
 

‘اَلا وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَلَہُ بِوَزْنِ کُلِّ دِرْھَمٍ مِثْلُ جَبَلِ اُحُدٍ مِنْ نَعِیمِ الْجَنَّةِ؛'(۲۷)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘آگاہ ہوجائو! کہ جس شخص نے بھی راہ خدا میں صدقہ دیا تو اس کے ہر درہم کے بدلے جنت میں کوہ احد کے برابر نعمتیں ملیں گی’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے متعلق حضرت رسول اکرم ۖ سے روایت کرتے ہیں:

 
 
 
 

‘کُلُّ مَعْروفٍ صَدَقَة ،وَالدَّالُّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ ،وَاللّٰہِ یُحِبُّ اِغاثَةَ اللَّھْفانِ’۔(۲۸)

 
 
 

 

 
 
 
 

‘ہر نیک کام صدقہ ہے،اور ہر خیر کے لئے رہنما ہے جیسے خود اس کا فاعل ہو، خداوندعالم صاحب حزن و ملال کی فریاد کو سنتا ہے’۔

 
 
 

 

 
 
 
 

صدقہ و انفاق کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب و اقعہ

 
 
 
 

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں : امام صادق علیہ السلام ایک قافلہ کے ساتھ ایک بیابان سے گزر رہے تھے. اہل قافلہ کو خبردار کیا گیا کہ راستے میں چور بیٹھے ہوئے ہیں. اہل قافلہ اس خبر کو سن کر پریشان اور لرزہ براندام ہوگئے. اس وقت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا ہوا؟ تو لوگوں نے بتایا کہ ہمارے پاس ]بہت[ مال و دولت ہے اگر و ہ لوٹ گیا تو کیا ہوگا؟! کیا آپ ہمارے مال کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں تاکہ چور آپ کو دیکھ کر وہ مال آپ سے نہ لوٹیں. آپ نے فرمایا: تمہیں کیا خبر شاید وہ ہمیں ہی لوٹنا چاہتے ہوں؟ تو پھر اپنے مال کو میرے حوالے کرکے کیوں ضایع کرنا چاہتے ہو، اس وقت لوگوں نے کہا: تو پھر کیا کریں کیا مال کو زمین میں دفن کردیا جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ایسا نہ کرو کیونکہ اس طرح تو مال یونہی برباد ہوجائے گا،ہوسکتا ہے کہ کوئی اس مال کو نکال لے یا پھر دوبارہ تم اس جگہ کوتلاش نہ کرسکو. اہل قافلہ نے پھر کہا کہ تو آپ ہی بتائیے کیاکریں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کو کسی کے پاس امانت رکھ دو، تاکہ وہ اس کی حفاظت کرتا رہے ، اور اس میں اضافہ کرتا رہے، او رایک درہم کو اس دنیا سے بزرگ تر کردے اور پھر وہ تمہیں واپس لوٹادے، اور اس مال کو تمہارے ضرورت سے زیادہ عطا کرے!!

 
 
 
 

سب لوگوں نے کہا: وہ کون ہے؟ تب امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ’ربّ العالمین’ ہے. لوگوں نے کہا: کس طرح اس کے پاس امانت رکھیں؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: غریب اور فقیر لوگوں کو صدقہ دیدو. سب نے کہا: ہمارے درمیان کوئی غریب یا فقیر نہیں ہے جس کو صدقہ دیدیں. امام علیہ السلام نے فرمایا: اس مال کا ایک تہائی حصہ صدقہ کی نیت سے الگ کرلو تاکہ خداوندعالم چوروں کی غارت گری سے محفوظ رکھے، سب نے کہا: ہم نے نیت کرلی. اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:

‘فَأَنْتُمْ فِی أمَانِ اﷲ فَامْضُوْا’۔
‘پس ]اب[ تم خدا کی امان میں ہو لہٰذا راستہ چل پڑو’۔
 
 
 
 

جس وقت قافلہ چل پڑا راستہ میں چوروں کا گروہ سامنے دکھائی دیا، اہل قافلہ ڈرنے لگے. امام علیہ السلام نے فرمایا: ]اب[ تم کیوں ڈررہے ہو؟ تم لوگ تو خدا کی امان میں ہو. چور آگے بڑھے اور امام علیہ السلام کے ہاتھوں کو چومنے لگے اور کہا: ہم نے کل رات خواب میں رسول اللہ ۖکو دیکھا ہے جس میں آنحضرتۖنے فرمایا: کہ تم لوگ اپنے کو آپ کی خدمت میں پیش کرو. لہٰذا اب ہم آپ کی خدمت میں ہیں تاکہ آپ اور آپ کے قافلہ والوں کوچوروں کے شر سے محفوظ رکھیں. امام علیہ السلام نے فرمایا: تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے جس نے تم لوگوں کے شر کو ہم سے دور کیا ہے وہ دوسرے دشمنوں کے شر کو ہم سے دور کرے گا. اہل قافلہ صحیح و سالم شہر میں پہنچ گئے؛ سب نے ایک سوم مال غریبوں میں تقسیم کیا، ان کی تجارت میں بہت زیادہ برکت ہوئی، ہر ایک درہم کے دس درہم بن گئے، سب لوگوں نے تعجب سے کہا:واقعاً کیا برکت ہے؟

 
 
 

 

 
 
 
 

امام صادق علیہ السلام نے اس موقع پر فرمایا:

 
 
 
 

‘اب جبکہ تمہیں خدا سے معاملہ کرنے کی برکت معلوم ہوگئی ہے تو تم اس پر ہمیشہ عمل کرتے رہنا’۔(۲۹)

 
 
 

 

 
حوالہ جات
 
 
 
 

(١)سورۂ بقرہ آیت ١١٠.                          

 
 
 
 

(٢)سورۂ بقرہ آیت ٤٥.

 
 
 
 

(۳)سورۂ انفال آیت ٢۔٣.

(۴)سورۂ نساء آیت ٤٣.
 
 
 
 

(۵)سورۂ مریم آیت ٥٥.

 
 
 
 

(۶)سورۂ عنکبوت آیت ٤٥.

 
 
 
 

(۷)سورۂ مدثر آیت ٤٣۔٤٦.

 
 
 
 

(۸)سورۂ ماعون آیت ٤۔٦.

 
 
 
 

(۹)من لا یحضرہ الفقیہ ج١،ص٢٠٦،باب فرض الصلاة ،حدیث ٦١٧؛علل الشرایع ج٢،ص٣٥٦،باب ٧٠،حدیث ١؛بحار الانوار ج٨٠،ص٩،باب ٦،حدیث٣.

 
 
 
 

(۱۰)امالی صدوق ص٢٠٧،مجلس ٣٧ ،حدیث ٨؛بحا ر الانوار ج٨٠،ص٩،باب٦،حدیث ٦.

 
 
 
 

(۱۱)مشکاة الانوار ،٥٣، الفصل الرابع عشر فی اداء الامانة ؛بحار الانوار ج٨٠،ص١١،باب٦،حدیث ١٠.

 
 
 
 

(۱۲)خصال ج١،ص١٦٣،حدیث ٢١٣؛وسائل الشیعہ ج٤،ص١١٢،باب ١،حدیث ٤٦٥١.

 
 
 
 

(۱۳)عیون اخبار الرضا ج٢،ص٣١،باب٣١، حدیث ٤٦؛بحار الانوار ج٨٠،ص١٤،باب ٦،حدیث ٢٣.

 
 
 
 

(۱۴)محاسن ج١،ص٢٥٤،باب ٣٠،حدیث٢٨١؛بحار الانوار ج٨٠،ص٢٠،باب ٦،حدیث٣٦؛مستدرک الوسائل ج٣، ص٩٦،باب١،حدیث٣١٠٦.

 
 
 
 

(۱۵)عن جعفر بن محمد علیہما السلام قال:امتحنوا شیعتنا عند ثلاث :عند مواقیت الصلوات کیف محافظتھم علیہا ،وعند أسرارھم کیف حفظھم لھا عن عدونا.والی أموالھم کیف مواساتھم لا خوانھم فیھا.

 
 
 
 

خصال ج١،ص١٠٣،حدیث ٦٢؛وسائل الشیعہ ج٤، ص١١٢،باب ١،حدیث ٤٦٥٠.

 
 
 
 

(۱۶)سورۂ بقرہ آیت ٣.

 
 
 
 

(۱۷)سورۂ بقرہ آیت١٩٥.

 
 
 
 

(۱۸)سورۂ بقرہ آیت٢٥٤.

 
 
 
 

(۱۹)سورہ تغابن آیت ١٦.

 
 
 
 

(۲۰)سورۂ بقرہ آیت٢٦١.

 
 
 
 

(۲۱)سورۂ بقرہ آیت ٢٧٤.

 
 
 
 

(۲۲)سورۂ فاطر آیت ٢٩.

 
 
 
 

(۲۳)مصباح الشریعہ :١٥،باب الثانی والعشرون فی الزکاة؛بحار الانوار ج٩٣،ص٧،باب ١،حدیث١.

 
 
 
 

(۲۴)قولہ عزوجل:(وَآ تُوا الزَّکوٰةَ)من المال والجاہ وقوة البدن.فمن المال:مواساة اخوانکم المؤمنین؛ ومن الجاہ:ایصالھم الی ما یتقا عسو ن عنہ لضعفھم عن حوائجھم المترددة ف صدورھم ؛وبالقوة:معونة أخ لک قد سقط حمارہ أو جملہ ف صحراء أو طریق ،وھو یستغیث فلا یغاث تعینہ،حتی یحمل علیہ متاعہ ،وترکبہ ]علیہ[و تنھضہ حتی تلحقہ القافلہ ،وأنت ف ذلک کلہ معتقد لموالاة محمد وآلہ الطیبین ،فان اللہ یزک اعمالک ویضاعفھا بموالاتک لھم،وبراء تک من اعدائھم.

 
 
 
 

تفسیر امام حسن عسکری :٣٦٤،فی مدارة النواصب ،حدیث٢٥٤،ذیل سورۂ بقرہ آیت ٨٣ ،بحار الانوار ج٩٣، ص٩، باب١، حدیث ٥.

 
 
 
 

(۲۵)بصائر الدرجات ص١١،حدیث ٤؛بحار الانوار ج٩٣،ص١١٤،باب١٤،حدیث٢.

 
 
 
 

(۲۶)زید بن عل عن ابیہ عن جدہ علیہم السلام قال:قال أمیر المؤمنین عل ابن اب طالب علیہ السلام :ان ف الجنة لشجرة یخرج من أعلاھا الحلل ومن اسفلھا خیل بلق مسرجة ملجمة ذوات أجنحة لا تروث ولا تبول ،فیرکبھا أولیاء اللہ فتطیر بھم ف الجنة حیث شاء وا ،فیقول الذین اسفل منھم:یا ربنا !ما بلغ بعبادک ھذہ الکرامة ؟فیقول اللہ جل جلالہ :انھم کانوا یقومون اللیل ولا ینامون ،ویصومون النھار ولا یأکلون ویجاھدون العدوا ولا یجبنون ،ویتصدقون ولا یبخلون.

 
 
 
 

امالی صدوق ص٢٩١،مجلس ٤٨،حدیث ١٤؛بحار الانوارج٩٣،ص١٥،باب ١٤،حدیث ٤.

 
 
 
 

(۲۷)من لایحضرہ الفقیہ ج٤،ص ١٧،باب ذکر جمل من مناھی النبی ،حدیث٤٩٦٨؛بحار الانوار ج٩٣،ص١١٥،باب ١٤، حدیث ٥.

 
 
 
 

(۲۸)کافی ج٤،ص٢٧،باب فضل المعروف ،حدیث ٤؛بحار الانوار ج٩٣،ص١١٩،باب ١٤،حدیث ٢٠.

(۲۹)عیون اخبار الرضا ج٢،ص٤،باب ٣٠،حدیث ٩؛وسائل الشیعہ ج٩،ص٣٩٠،باب١٠،حدیث١٢٣٠٩؛ بحارالانوار ج٩٣،ص١٢٠،باب ١٤،حدیث ٢٣.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.