اخلاقي انقلاب

300

اخلاقي انقلاب

اخلاقي انقلاب يعني يہ کہ انسان تمام رزائل اخلاقي ، صفات بد ، اخلاق بد وغيرہ مختصراً يہ کہ ان تمام صفات سے کنارہ کش ہو جائے جو دوسروں کي يا خود کي اذيت و ضرر کا باعث ہوتي ہوں اخلاقي انقلاب یعني يہ کہ انسان خود کو مکارم اخلاق اور فضائل اخلاق سے آراستہ کرے ۔
اگر کسي معاشرہ ميں صاحب فکر و نظر افراد پائے جاتے ہوں اور وہ اپنے افکار کو دوسرے افراد کے خلاف استعمال نہ کرتے ہوں يا تعليم يافتہ افراد پائے جاتے ہوں اور وہ اپنے علم کو دوسرے افراد کو نقصان پہنچانے اور دشمن کو قوي کرنے کا ذريعہ نہ بناتے ہوں بلکہ معاشرے کے تمام افراد ايک دوسرے کا خيال رکھنے والے اور خير سگالي کے ساتھ زندگي گذارنے والے ہوں ، حاسد اور کينہ پرور نہ ہوں ، فقط اپني زندگي کا اور اپنا خيال نہ رکھتے ہوں تو ايسے معاشرے کے لئے کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے ميں اخلاقي انقلاب آگيا ہے ۔
مسائل بشر
اخلاقيات اور تزکيہ نفس بھي زندگي کے ان اہم نکات ميں سے ہيں جن کے لئے قرآن کريم اور احاديث ميں شديد تاکيد کي گئي ہے ۔ عالم اسلام ميں متفقہ عليہ حديث نبوي موجود ہے کہ ’’ بعثت لا تمم مکارم الاخلاق ‘‘ يعني ميں اس لئے مبعوث کيا گيا ہوں کہ فضائل اخلاقي کي تکميل کروں واضح ہے کہ جس معاشرہ ميں اخلاقي اقدار ، صفات حسنہ اور مکارم اخلاقي وغيرہ رائج ہوں گے اس معاشرے کي عام انساني زندگي کا معيار کتنا بلند و عالي ہوگا ۔
آج بشريت کے مسائل و مشکلات انھيں مذکورہ صفات و اقدار کے نہ ہونے کي بنا پر پيدا ہو رہے ہيں ۔ اگر معاشرہ اسلامي خلقيات و اخلاقي اقدار مثلاً صبر و استقامت کا حامل ہو ،توکل ، تواضع ، حلم جيسي صفات کا احترام کرتا ہو اور پابند ہو تو يقينا جنت نشان بن جائے گا ۔
معاشرے کے بنيادي ستون
اسلامي اخلاق سے بہرہ مند ہونے سے مراد يہ ہے کہ معاشرے ميں پرہيز گاري ، بردباري ، شہوت پرستي سے اجتناب ، دنيا طلبي ، حرص ، ذخيرہ اندوزي جيسي صفات سے دوري ، اخلاص ، پارسائي ، نيکي اور ديگر اخلاقي صفات پائي جاتي ہوں اور ان صفات کو اہميت بھي دي جاتي ہو ۔
اگر ان اسلامي اقدار اور اخلاقي صفات پر عمل کر ليا جائے تو معاشرہ اسلامي رشد و ارتقائ کي منزليں طے کرتا اور قوي سے قوي تر ہوتا جائے گا۔ استعداد اور صلاحتيں سامنے آنے لگيں گي اور پھر ايسا اسلامي معاشرہ دوسري اقوام اور ملتوں کے لئے نمونہ بن جائے گا ۔
طالب علم اور خود سازي
نوجوان طالب علموں کي ايک اہم ترين ذمہ داري خود سازي اور تکميل اخلاق ہے ۔ نوجواني خود سازي اور تزکيہ نفس کے لئے بہترين وقت ہوتا ہے ۔ اس سے استفادہ کيجئے ۔ علم اور صنعتي ، سياسي ، سماجي رشد و ارتقائ ، اخلاق کے زير سايہ ہو تو قابل تعريف ہے ۔ يہاں پر قابل غور نکتہ يہ ہے کہ قرب خدا ، اخلاقي رشد و ارتقائ کي بنياد و اساس ہے ۔
اخلاق تمام امور کي بنیادہے
تبليغ دين اور حقائق دين کي ترويج علمائ اور مبلغين اسلام کي ذمہ داري ہے ۔ اگر ہم اقتصادي نقطہ نظر سے اپنا ايک مقام بنا ليں ، سياست کے شعبے ميں اپنا تشخص قائم کرليں، اپنے موجود ہ مقام و منزلت ميں خاطر خواہ اضافہ کر ليں ليکن ہمارا اخلاق اسلامي اخلاق نہ ہو يعني ہمارے درميان صبر ، علم ، ايثار ، عفو جيسي صفات کا فقدان ہو تو اس کا مطلب يہ ہے کہ ہمارا ظاہر تو خوبصورت اور حسين ہے ليکن ہماري بنياديں کھوکھلي ہيں کيونکہ اخلاق تمام افعال و امور کي بنياد و اساس ہے ۔ زندگي کے دوسرے تمام شعبوں ميں ترقي و ارتقائ اخلاق حسنہ کے لئے مقدمہ کے مانند ہے ۔ رسول اکرم کا فرمان ہے: ’’ بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ‘‘ يعني مجھے مبعوث اسي لئے کيا گيا ہے کہ فضائل اخلاقي کي تکميل کروں ۔ اسلامي حکومت کا فلسفہ يہي ہے کہ معاشرے کي تربيت کرے ، معاشرے ميں اخلاق حسنہ کي ترويج کرے ، معاشرہ قرب خدا حاصل کرے ، تمام افعال و امور قربت کي نيت سے انجام دئے جائيں ۔ اسلامي نقطہ نظر سے سياست ميں بھي قصد قربت ضروري ہے ۔ قصد قربت کس وقت کيا جاتا ہے ؟ اس وقت کيا جاتا ہے جب انسان مطالعہ و جستجو کرے اور ديکھے کہ خدا وند عالم کي رضا کس چيز ميں پوشيدہ ہے ۔ لہذا انسان جس فعل ميں رضائے خدا کا مشاہدہ کرتا ہے اسے انجام ديتا ہے اور جس فعل ميں رضائے خدا کا مشاہدہ نہيں کرتا ہے اس فعل کو انجام نہيں ديتا ہے ۔
راہ امام خميني ۲
ايک بار ميں نے امام خميني ۲ سے سوال کيا کہ مشہور دعاوں ميں سے کونسي دعا سے آپ زيادہ انس رکھتے ہيں ؟ اور کس دعا پر آپ کو زيادہ اعتقاد و يقين ہے ؟ آپ نے کچھ دير بعد فرمايا : دعائے کميل اور مناجات شعبانيہ ۔ ان دونوں دعاوں ميںمناجات ، حالت استغفار ، استغاثہ اورخضوع و خشوع کو عاشقانہ انداز ميں پيش کيا گيا ہے ۔ يہ دعائيں ايسي دعائيں ہيں کہ ہمارے اور خدا کے درميان رابطہ عشق و محبت کو مستحکم اور عميق کرتي ہيں ۔ يہي وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے امام خميني ۲ نے اپني پوري حيات گذار دي تھي ۔
انساني کمال خواہشات نفساني سے مقابلہ ہے
انسان کي عالي ترين اور کامل ترين زندگي وہ ہے کہ جس ميں وہ راہ خدا ميں قدم آگے بڑھاتا ہے اور خداوند عالم کو خود سے راضي کرتا ہے اور ہوا و ہوس کو اپنے اوپر غالب نہيں ہونے ديتا ہے ۔ ايسا شخص انسان کامل ہے ۔ اس کے برعکس وہ انسان جو اپنے جذبات و احساسات ، ہوائے نفساني اور غيض و غضب کا اسير ہوتا ہے ،وہ انسان پست اور حقير ہے خواہ وہ ظاہراً مقام و مرتبت کا حامل ہو۔ دنيا کے بڑے سے بڑے ملک کا وزير اعظم يا امير ترين شخص اگر اپني خواہشات نفساني کا مقابلہ نہ کر سکے تو وہ بھي ايک حقير انسان ہے ليکن ساتھ ہي ساتھ ايک عام سا اور نادار شخص اگر اپني خواہشات پر قابو پا لے اور غلبہ حاصل کر لے تو انسان بزرگ اور کامل ہے ۔
تحول اخلاقي جوانوں کے لئے آسان ہے
خوش قسمتي سے ان آخري کچھ برسوں ميں جمہوري اسلامي نے معنوي لحاظ سے خاطر خواہ پيشرفت کي ہے ۔ جوانوں ميں معنويات ، دين و عبادت کي طرف رغبت ، نماز و روزہ ميںخضوع و خشوع اور قرب خدا رائج اور عام ہو گيا ہے ليکن فقط يہي سب کچھ تحول اخلاقي نہيں ہے اور شايد کہا جا سکتا ہے کہ ايک ملت کے لئے تحول اخلاقي کس حد تک مشکل ہے اور اسي لئے جب اخلاقي تحول کے حوالے سے گفتگو کي جاتي ہے تو پہلے مرحلے ميں جوانوں کو مخاطب قرار دياجاتا ہے کيونکہ ان کے اندر تبديلي اور تغير کا مادہ زيادہ پايا جاتا ہے ۔ جوانوں کے قلوب روشن اور ان کي طبيعت پاک و سالم ہوتي ہے ۔ ان ميں جاہ طلبي ، شہرت طلبي ، ثروت طلبي وغيرہ نہايت کم پائي جاتي ہے۔ لہذا جوانوں ميں تحول اخلاقي آسان تر ہے البتہ بزرگ اور سن رسيدہ افراد کو مايوس نہيں ہوجانا چاہيے کہ ان کے اندر اخلاقي تحول نہيں ہو سکتا ۔
انقلاب ، معنويات اور اخلاق اسلامي کے بغیر ناممکن ہے
انقلاب اسلامي مکمل طور پر فقط اس صورت ميں تحقق پا سکتا ہے جب ملت حقيقي طور پر مسلمان اور مومن ہو جائے ۔ اسلام کا ايک حصہ افراد کے عمل سے متعلق ہے جس کي بنا پر نظام کلي اجتماعي عالم وجود ميں آتا ہے اور دوسرا حصہ افراد کے ذاتي اور شخصي عقائد ، کيفيات روحي اور عمل و کردار پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اگر اسلامي انقلاب اور جمہوري حکومت تمام مادي اور معنوي وسائل کے ہوتے ہوئے لوگوں کے قلوب اور خلقيات کو اسلامي نہيں کر سکي ہے جو ديرينہ غلط تربيت کي بنا پر عالم وجود ميں آئے ہيں تو يہ انقلاب قطعاً کامياب اور حقيقي نہيں ہے ۔ حقيقي انقلاب وہ انقلاب ہے جو عوامي ہے ، اجتماعي اور اقتصادي حوالوں سے انقلاب ، عوامي انقلاب کي فرع و شاخ ہے ۔ اگر لوگوں کے قلوب تبديل نہ ہوں تو ايسا انقلاب اور اقتصادي۔ سياسي تبديلياں لا حاصل ہيں۔ بحمد ا? ہمارے يہاں اوائل ميں روحي انقلاب رونما ہوا کہ جو بذات خود ايک نہايت اہم قدم تھا اور جس کا نتيجہ وہي سامنے آيا جو آج ہم خود اپني آنکھوں سے ديکھ رہے ہيں ۔
اس انقلاب کي بدولت جو کچھ رونما اور واقع ہوا اگر مزيد دوام اور استحکام حاصل نہ کر سکے اور موجودہ اور آئندہ نسلوں کو اپنے اندر شامل نہ کر سکنے کے علاوہ خدا نخواستہ ظاہراً تو اسلام ، جمہوري اسلامي اور انقلاب اسلامي باقي رہ جائے ليکن در حقيقت واقعہ کچھ اور ہو تو يہ انقلاب قطعي طور پر موفق اور کامياب نہيںہے ۔ خدا نخواستہ ايسي صورت پيش آنے سے پہلے ہم خدا سے پناہ کے خواستگار ہيں ۔ ہميں کسي بھي صورت ميں ايسے حالات پيدا نہيں ہونے دينا چاہيے۔ دشمن آج انھيں نکات اور پہلووں پر آنکھيں گاڑے ہوئے ہے ۔ تمام افراد مخصوصاً علمائ حضرات کي ذمہ داري ہے کہ معاشرے کي تربيت اور قلبي ، روحي اور اخلاقي انقلاب کے استحکام کے لئے کوشاں رہيں ۔
يہ ايک حقيقت ہے کہ جنگ کے دوران اس مملکت کے بعض جوانوں ميں ايک معنوي اور حقيقي انقلاب پيدا ہو گيا تھا ۔ شہدائ کے وصيت نامے کہ جن کے مطالعہ کے لئے امام خميني ۲ نے تاکيد کي ہے اسي لئے ہيں کہ ان ميں سے ہر ايک منفرد شخص کے انقلاب کي عکاس ہیں ۔ ان وصيت ناموں کو جب ايک انسان پڑھتا ہے تو خود بخود ان شہدائ کے اندر پيدا ہونے والے ذاتي اور دروني انقلاب سے آگاہ ہو جاتا ہے ۔ آج ہماري ذمہ داري ہے کہ ہم اس روش کو عا م اور رائج کر ديں اور ايسا کرنا ممکن بھي ہے ۔ اگر سو فيصد ممکن نہ ہو تو کم از کم يہ تو ممکن ہے کہ اکثريت کے اندر اس اندروني اور ذاتي انقلاب کي آبياري کي جا سکے ليکن اس کے لئے پہلي شرط يہ ہے کہ دوسروں کو نصيحت کرنے سے پہلے خود نصيحت کرنے والے شخص کے اندر انقلاب پيدا ہو جائے اور اخلاق معنويات کے علاوہ توکل بر خدا مستحکم ہو جائے ۔
بہتر ہے اس سمت ميں قبل از ہمہ ہم لوگ قدم آگے بڑھائيں يعني خود اپني ذات سے شروع کريں ۔ واقعيت يہي ہے کہ اگر ہم ميں سے کسي کے اندر بھي اس سلسلے ميں نقص يا کمي باقي رہ گئي تو دوسروں پر ہماري بات کا غلط اثر پڑے گا ۔
اخلاق، بعثت کا ایک اہم پیغام
ہميں چاہيے کہ اپني اصلاح کريں ، اپنے اخلاق کي اصلاح کريں ، خود کو باطني لحاظ سے خدا سے قريب کريں ، ايک فرد کي حيثيت سے شخصي اور ذاتي اصلاح کريں ، خدا وند کريم کي آيات کا مشاہدہ کريں اور قرب خداوند حاصل کريں ۔ يہ ہماري ذمہ داري ہے ۔ ہماري يہ ذاتي و فردي مسؤليت کي انجام دہي، ہمارے دوسرے افراد اور معاشرے سے متعلق امور اور وظائف کي بہتر طور پر انجام دہي ميں معاون ثابت ہو گي ۔ آج ہميں ضرورت ہے کہ اخلاق اور تزکيہ نفس کے سلسلے ميں اپنے اور اپنے دوسرے افراد کے لئے مجاہدت کريں ۔ بعثت کے اہم پيغامات ميں سے ايک پيغام يہي تھا ۔
اخلاق حسنہ
ہمارے يہاں الہي حدود و مقررات نافذ ہو چکے ہيں ، اسلامي نظام اور عدالت اجتماعي تحقق پا چکي ہے ليکن حقيقت يہ ہے کہ ان تمام مراحل کو طے کرنے کے بعد بھي ہم ابتدائي منازل يا پہلے ہي مرحلے ميں ہيں ۔ دوسرا مرحلہ يہ ہے کہ وہ افراد جو اس اسلامي نظام کے تحت پر سکون اور عادلانہ زندگي بسر کر رہے ہيں ان ميں اخلاق حسنہ کے حصول کے لئے رغبت اور شوق پيدا ہو جائے ۔ تشکيل حکومت کا اصل ہدف يہي ہے ۔
لوگ خود بخود اخلاق کي جانب قدم بڑھائيں ۔ اخلاق حسنہ کا حصول، تکامل معنوي ، روحي اور معرفت کا موجب ہوتا ہے ۔ اسي راستے کے ذريعہ انسان کامل بنا جا سکتا ہے ۔ رسول اکرم نے فرمايا تھا : انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ‘‘ مجھے اسي لئے مبعوث کيا گيا ہے کہ فضائل اخلاقي کي تکميل کروں ۔ يہ حديث شيعہ اور سني دونوں ہي جانب سے نقل ہوئي ہے ۔
يہاں لفظ ’’ انما ‘‘ نہايت اہميت کا حامل ہے يعني ميري بعثت کا ہدف ہي فضائل اخلاقي کي تکميل ہے ۔بقيہ تمام چيزيں مقدمہ کے طور پر ہيں ’’ لا تمم مکارم الاخلاق ‘‘ تاکہ مکارم اخلاق تمام ابنائے نوع کے درميان جگہ بنا لے اور ميري امت کمال تک پہنچ جائے ۔
اگر کسي اسلامي معاشرہ ميں اخلاق الہي اور اخلاق اسلامي کو طاق پر رکھ ديا جائے اور معاشرہ بے راہ روي ، خود پرستي ، کجروي جيسي صفات کے دلدل ميں پھنس کر رہ جائے تو کس طرح اس حکومت کو اسلامي اور الہي حکومت کہا جا سکتا ہے ؟
حکومت اسلامي فقط وہي حکومت ہو سکتي ہے جس ميں تمام اخلاق صفات رائج ہوں اور يہي بعثت لاتمم مکارم الاخلاق کي اساس بھي ہے ۔ آج موجودہ دنيا کو اسي اساسي چيز کي ضرورت ہے ليکن مادي دنيااس خصوصيت سے کلي طور پر محروم ہے ۔
اخلاق کے اثرات وثمرات
پيغام انقلاب اسلامي ، پيغام معنويت ، اخلاق ، قرب خدا اور اس عنصر کو انساني زندگي ميں راسخ کرتا ہے۔ جہاں جہاں اسلامي انقلاب کے پيغام نے اپنا جھنڈا گاڑا ہے وہاں وہاں معنويت کو اپنے ساتھ لے کر گيا ہے حتي بعض عيسائي اور غير اسلامي ممالک اورمعاشروں ميں بھي مشاہدہ کيا جا سکتا ہے کہ اگر ان معاشروں ميں انقلاب اسلامي سے درس ليا گيا اور استفادہ کيا گيا ہے تو معنويت نے بھي اپني جگہ بنائي ہے اور يہي معنويت انقلاب اسلامي کا اولين پيغام ہے ۔
معنويت اور اخلاق سے عاري علم ايٹم بم کے مانند ہے
اگر علم ، معنويت ، وجدان ، اخلاق ، عواطف اور بشري احساسات سے عاري ہو تو کسي بھي صورت ميں بشر کے لئے مفيد ثابت نہيں ہو سکتا ۔ علم اخلاق و معنويت کے بغیر ايٹم بم کے مانند ہے جہاں گرے گا معصوم افراد کو قتل کرے گا ۔ ايسا علم ، علم نہيں بلکہ اسلحہ بن جاتا ہے اور پھر لبنان ، فلسطين اور ديگر جگہوں کے غير فوجي افراد کو اپنا ہدف قرار ديتا ہے ۔ ايسا علم مہلک کيميکل بن جاتا ہے اور پھر دنيا بھر ميں نہ جانے کہاں کہاں مرد و عورت اور بچوں کو اپني لپيٹ ميں لے ليتا ہے ۔ اس طرح کے مہلک کيميکل کہاں سے نمودار ہوئے ؟ يہ سب انھيں علمي مراکز اور يوروپي ممالک سے صادر ہوئے ہيں ۔ ان جگہوں پر ان مہلک اشيائ کو تيار کيا گيا اور پھر نااہل حکومتوں کے حوالے کر ديا گيا ہے اور پھر نتيجہ وہي ہے جو آپ کے سامنے ہے ۔
موجودہ مختلف النوع اسلحہ جات ابھي تک دنيا کو آرام نہيں بخش سکے ہيں اور نہ ہي بخش سکتے ہيں ۔يہ سب اس لئے ہے کیونکہ اخلاق و معنويات کو علم سے جدا کر ديا گيا ہے ۔ ہم نے تمدن اسلامي اور نظام جمہوري اسلامي ميں اس بات کي کوشش کي ہے اور اسي کو اپنا ہدف بنايا ہے کہ علم کو اخلاقيات اور معنويات کے ساتھ ساتھ لے کر چليں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.