آئمہ کي سياسي جدوجہد کے مظاہر و آثار

85

 

ائمہ کي سياسي جدوجہد کے مظاہر و آثار

ان ميں سے ايک مسئلہ امامت کا دعويٰ کرنا اور اس کي طرف لوگوں کو دعوت دينا ہے۔ يہ چيز آئمہ کي زندگي ميں جگہ جگہ نظر آتي ہے اور ان حضرات ٴ کي سياسي جدوجہد کي غماز ہے۔ دراصل يہ ايک مبسوط فصل ہے جس کے ذيل ميں مختلف ابواب کے تحت روايات موجودہيں۔ ان روايات ميں سے کافي کي روايات ’’ الائمۃ نور اللہ ۔۔۔ اور امامت کو پہچنوانے کے ذيل ميں امام رضا ٴ کي روايت نيز امام جعفر صادق ٴ سے مروي مختلف روايات اور طرح طرح کے مخالفين سے آئمہ کے اصحاب کے مجادلے، اس کے علاوہ اہل عراق کو دعوت ديتے ہوئے امام حسين ٴ کي روايات اور اس موضوع پر موجود بکثرت روايات۔
دوسرا مسئلہ يہ ہے کہ آئمہ کي کوششوں اور دعو و ں سے خلفائے وقت کيا سمجھتے تھے۔ آپ ٴ نے ملاحظہ فرمايا کہ عبدالملک بن مروان کے زمانہ سے لے کر متوکل عباسي کے دور تک آئمہ کے مقاصد اور منصوبوں کے سلسلہ ميں مسلسل ايک ہي فکر و خيال پايا جاتا ہے اور ہميشہ خلفائ اور ان کے عمال و کارندے آئمہ عليہم السلام کو ايک ہي نظر سے ديکھتے رہے ہيں اور اس کے لازمي نتيجے کا حامل ہے، اسے آساني سے نظر انداز کرکے آگے نہيں بڑھا جاسکتا۔
آئمہ کے سلسلہ ميں يہ سب اسي ايک نظريہ کے قائل کيوں تھے ؟ مثال کے طور پر امام موسيٰ ابن جعفر عليہ السلام کے سلسلے ميں يہ کہا جاتا ہے کہ خليفتان يجبي اليھما الخراج ۔۔۔ (خراج جمع کرنے والے دو خليفہ ) يا امام علي رضا عليہ السلام کے لئے يہ جملہ کہ ھذا علي ابنہ قد قعلوا دعي لنفسہ ( يہ علي اس کا بيٹا ہے جو اس امر کا مدعي تھا ) يا ديگر آئمہٴ کے بارے ميں اسي قسم کے جملے اس بات کي واضح نشاندہي کرتے ہيں کہ خلفائے وقت اور ان کے رفقائ کار آئمہ ٴ کے طرز عمل سے کس قسم کے دعوو ں کا استنباط کرتے تھے۔ يہ نہايت ہي قابل توجہ اور اہم ترين نکتہ ہے۔
ايک اور اہم مسئلہ خلفائے وقت کا اپني امامت پر اصرار اور شيعيان آل محمد ۰ کا اس امر کي نزاکت کے پيش نظر مسلسل اس کي مخالفت کرنا ہے۔ مثال کے طور پر يہ واقعہ جس کي اور بھي مثاليں موجود ہيں ملاحظہ فرمائيے : کثير جو بني اميہ کے پہلے دور کے صف اول کے شعرائ ميں سے ہے ( يعني فرزدق ، حرير ، اخطل ، جميل اور نصيب وغيرہ کا ہم پلہ شمار کيا جاتا ہے) شيعہ اور امام محمد باقر عليہ السلام کے عقيدتمندوں ميں سے تھا۔ ايک دن امام محمد باقر ٴ کي خدمت ميں حاضر ہوتا ہے، امام ٴ شکايت کے لہجہ ميں اس سے سوال کرتے ہيں امتدحت عبدالملک ؟ ( ميں نے سنا ہے کہ تم نے عبدالملک کي مدح سرائي کي ہے ؟) وہ ايک دم گھبرا کر امام ٴ سے عرض کرتا ہے : يا بن رسول اللہ ! ما قلت لہ يا امام الھديٰ ( اے فرزند رسول ! ميں نے اس کو امام ہديٰ تو نہيں کہا ہے) وانما قلت لہ اسلوالا سد کلب و يا شمس والشمس جمادو يا بحر والبحر موات ۔۔۔ ( ہاں ميں نےئ اس کو شير ، سورج ، سمندر ، پہاڑ اور اژدھا جيسے خطابات ضرور دئيے ہيں اور کسي کے لئے درندہ ہونا يا جماد سے قرار ديا جانا وغيرہ کي کوئي فضيلت کي بات تو نہيں ہے) اس طرح امام ٴ کے سامنے کثير اپنے عمل کي توجيہہ پيش کرتا ہے۔ امام ٴ کے لبوں پر مسکراہٹ آجاتي ہے اور تب شاعر آل محمد ٴ کميت اسدي اٹھتا ہے اور وہ معروف ’’ قصيدہ ہاشميہ ‘‘ سناتا ہے جس کا مطلع يہ ہے۔
’’من لقلب متيم مستھام غير ما صبوۃ والا احلام‘‘
يہاں تک کہ وہ اس شعر پر پہنچتا ہے :
’’ ساسۃ لا کمن يريٰ رعيۃ الناس سوائ و رعيۃ الانعام ‘‘
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آئمہ عليہم السلام عبداملک جيسے کي مدح سرائي کے سلسلہ ميں کتنے حساس تھے اور دوسري طرف کثير کے مثل آپ ٴ کے دوستوں کي حساسيت ’’ امام الھديٰ ‘‘ پر مرکوز تھي۔جب ہي تو وہ فوراً کہتا ہے کہ مولا ميں نے عبدالملک کو ’’ امام الھديٰ ‘‘ تو نہيں کہا ہے۔ اور يہي مثال اس بات کي بھي صاف نشاندہي کرتي ہے کہ خلفائے وقت کو اپنے ’’ امام الھديٰ ‘‘ کہے جانے کي کتني تمنا تھي۔
چنانچہ بني عباس کے زمانے ميں يہ تمنا اور اس پر اصرار کچھ زيادہ ہي شدت اختيار کرليتا ہے۔ مروان ابن ابي حفصہ اموي جو بني اميہ اور بني عباس دونوں ہي درباروں سے وابستہ ، ان کا ملازم اور کاسہ ليس تھا۔ ( يہي تعجب ہے کہ يہ شخص بني اميہ کے زمانہ ميں درباري شاعر تھا اور جب بني عباس بر سر اقتدار آئے تو ان کا بھي درباري شاعر بن گيا !! چونکہ اس کو زبان و بيان پر بڑي قدرت حاصل تھي لہذا بني عباس نے بھي اس کو پيسوں کے ذريعہ خريد ليا ) چنانچہ جب يہ بني عباس کي مدح سرائي پر کمر باندھتا ہے تو ان کي شجاعت و کرم جيسي صفات کے بيان پر اکتفا نہيں کرتا بلکہ انہيں پيغمبر اسلام ۰ سے نسبت ديتا ہے اور ان کے لئے اس مقام کو ثابت کرتا ہے جس کے وہ ديرينہ متمني تھے۔ اس کا ايک شعر يہ ہے :
’’ اني يکون و ليس ناک بکائن لبني البنات وراثۃ الاعمام ‘‘
’’ يہ کيسے ممکن ہے کہ دختر زادے چچا کي ميراث کے حقدار بن جائيں ؟ پيغمبر کے چچا عباس کي ميراث يہ دختر زادے ( اولاد فاطمہ ) نہ معلوم کيوں ہڑپ کرلينا چاہتے ہيں۔‘‘
آپ نے ملاحظہ فرمايا سارا جھگڑا خلافت کے مسئلہ پر ہے اور حقيقتاً يہي سياسي و ثقافتي جنگ رہي ہے۔ چنانچہ اس کے جواب ميں مشہور و معروف شيعہ شاعر جعفر بن عفان طائي کہتا ہے :
’’لم لا يکون ؟ وان ناک لکائن لبني البنات وراثۃ الاعمام للبنت نصف کامل من مالہ والعم متروک بغير سھام ‘‘
’’ بيٹي اپنے باپ کے نصف مال کي وراث ہوتي ہے اور بيٹي کي موجودگي ميں چچا کا مرنے والے کے ترکہ ميں کچھ بھي حق نہيں ہوتا لہذا ميراث ميں تمہارا حق ہي کيا ہے جو طلب کررہے ہو ۔‘‘
اس مثال سے بھي امامت کے مسئلہ ميں شيعيان آل محمد ۰ کي حساسيت کا اندازہ لگايا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ايک مسئلہ آئمہ عليہم السلام کي طرف سے خونريز تحريکوں کي تائيد و حمايت ہے۔ جس شمار آئمہ کي زندگي سے متعلق گرما گرم بحثوں ميں ہوتا ہے اور جو آئمہ ٴ کي سياسي جدوجہد کي پاليسي کو بيان کرتا ہے۔ مثلاً امام جعفر صادق ٴ کے تاثرات ملاحظہ فرمائيں جب معلي بن خنيس داو د بن علي کے ہاتھوں مارے جاتے ہيں ، يا اسي طرح جناب زيد شہيد، حسين ابن علي( شہيد فخ) نيز بعض دوسرے حضرات کے سلسلہ ميں امام صادق ٴ کے خيالات۔ ميں نے ’’ نور الثقلين ‘‘ ميں ايک عجيب و غريب روايت ديکھي۔ يہ روايت علي ابن عقبہ سے منقول ہے وہ کہتے ہيں:
’’ ميں اور معلي ابو عبداللہ ( امام جعفر صادق عليہ السلام ) کي خدمت ميں حاضر ہوئے۔ حضرت ٴ نے فرمايا : تم لوگوں کو بشارت ہو کہ دو ميں سے ايک انجام (کاميابي يا شہادت)تمہارا منتظر ہے۔ خداوند عالم نے تمہارے سينوں کو شفا دي (يا دے گا)اور تمہارے دلوں کے غيظ و غضب کو ٹھنڈا کرديا (يا کرے گا)اور تم کو دشمنوں پر مسلط کرديا (يا کرے گا)اور يہي وہ وعدہ ہے جو خدا نے (مومنين سے)کيا ہے ’’ ويشف صدور قوم مومنين ‘‘قبل اس کے کہ يہ کاميابي تمہارے قدم چومے اگر تم دنيا سے رخصت ہوجاتے (يا رخصت ہو جاو )تو تمہاري قرباني خدا کے اس دين کے لئے ہے (يا ہوگي)جس کو پروردگار نے اپنے نبي (محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)اور علي (عليہ السلام)کے لئے پسند فرمايا ہے ۔‘‘
يہ روايت اس اعتبار سے اہميت کي حامل ہے کہ اس ميں جہاد و مبارزہ ، کاميابي و کامراني اور قتل کرنے اور قتل کردئيے جانے کي بات کي گئي ہے، بالخصوص اس کے مخاطب معلي بن خنيس ہيں جن کے انجام سے ہم سب واقف ہيں۔ يہاں امام عليہ السلام نے بغير کسي تمہيد و مقدمہ کے بات شروع کي ہے اور ظاہر ہے کہ امام عليہ السلام کسي خاص چيز يا حادثہ سے متعلق گفتگو کررہے ہيں، جب کہ کسي کو حادثہ کا علم بھي نہيں ہے۔ ممکن ہے ’’ شفي اللہ صدور کم ۔۔۔‘‘
کي عبارت امام عليہ السلام نے دعا کے طور پر ارشاد فرمائي ہو اور زيادہ احتمال اس بات کا ہے کہ امام ٴ اس واقعہ کي خبر دے رہے ہوں جو پيش آيا ہے۔ يہ دونوں حضرات کسي مہم سے واپس آئے ہوئے تھے جس کي حضرت ٴ کو خبر تھي ؟ يا ہوسکتا ہے کہ خود امام ٴ نے ان کو اس مہم پر مامور کيا ہو ؟
حقيقت کچھ بھي ہو حديث کا لب و لہجہ ان ميں سے کسي بھي معني و احتمال کي بنياد پر واضح طور پر بتاتا ہے کہ امام عليہ السلام اس تيز و تند اور مخاصمت آميز طريقہ کار کے حامي تھے جو معلي بن خنيس کي روز مرہ زندگي ميں بھي ديکھنے ميں آتا ہے ۔ اور يہ چيز بھي قابل توجہ ہے کہ معلي امام صادق ٴ کے ’’ باب ‘‘ کي تعبير ان مباحث ميں خود اپني جگہ ايک مستقل فکر و تحقيق کا موضوع ہے۔
وہ حضرات جو روايات ميں آئمہ عليہم السلام کے ’’ باب ‘‘ کے طور پر پيش کئے گئے ہيں کون لوگ ہيں ؟ غالباً وہ سب کے سب يا تو مقتول ہيں يا وہ جن کو قتل کي دھمکي دي گئي ہے۔ جيسے يحييٰ بن ام الطويل ، معلي بن خنيس ، جابر بن يزيد جعفي ۔۔ وغيرہ ۔
آئمہ عليہم السلام کي زندگي سے متعلق ايک اور بحث ان کا قيد خانوں ميں رکھا جانا ، گھر سے دربدر کيا جانا ، انہيں زير نظر رکھا جانا بھي ہے اور ميري نظر ميں يہ موضوع بہت زيادہ تحقيق و تدقيق کا طالب ہے کيونکہ اس سلسلہ ميں بہت سے مطالب تحقيق و دقت نظر کے محتاج ہيں اور دامن وقت ميں اتني گنجائش نہيں ہے کہ ميں اس سلسلہ ميں کوئي خاطر خواہ بحث کرسکوں۔
ايک اور مسئلہ خلفا ميں آئمہ عليہم السلام کا بے خوف و خطر، صاف و صريح اور بے باک رويہ ہے۔ اس بحث کے ذيل ميں قابل غور و فکر نکتہ يہ ے کہ اگر يہ حضرات بھي معاذ اللہ دبو، مفاہمت پسند اور حالات سے سمجھوتہ کرنے والے ہوتے تو اپنے دور کے دوسرے علما و زہاد کي طرح کسي مخالفانہ لب و لہجہ کے بجائے نرم و شيريں انداز کلام کا انتخاب کرتے۔ يہ تو آپ جانتے ہي ہيں کہ اس وقت بہت سے ايسے علمائ اور زہاد موجود تھے جن سے خلفانہ صرف علاقہ ، محبت ارادت بھي رکھتے تھے۔ ہارون کہتا تھا
کلکم يمشي رويد
کلکم يطلب صيد
غي عمرو بن عبيد
’’ تم ميں سے ہر ايک ٹھہر ٹھہر کر چلتا ہے اور ہر ايک شکار کا طلبگار ہے سوائے عمر اور ابن عبيد کے۔‘‘
يہ لوگ خلفا کو نصائح کرتے ہيں، حتيٰ ان کي ناصحانہ باتوں پر کبھي کبھي خلفا کے آنسو بھي نکل آتے تھے البتہ وہ خلفا کو ظالم و جابر و طاغي و غاصب يا شيطان اور اس کے ہم معني دوسرے الفاظ کہنے ميں احتياط برتتے تھے۔ اس کے برخلاف آئمہ عليہم السلام ايسي کوئي رعايت نہيں کرتے تھے ، حقائق کا برملا اظہار فرماديتے تھے اور ارباب حکومت کا ظاہري جاہ و حشم اور سطوت و ہيبت ان کي زبانيں بند نہ کرسکتا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.