غير خدا کي ولايت

114

 ہر مسلمان اور ہر وہ شخص جو خدا کي بندگي کا دعويدار ہے ‘اُسے چاہئے کہ اپنا ولي اور فرمانروا اور اپني پوري زندگي کي تمام سرگرميوں کاقائد اور مختارِ کُل خدا کي طرف سے متعين شخص کو قراردے‘اپنے پ کو خداوند ِ عالم کے مامور اور مقرر کردہ ولي کے سپردکرے‘ا کے ولي کے ہاتھ پر اطاعت کي بيعت کرے۔
مختصر يہ کہ اپني زندگي کي تمام سرگرميوں کے لئے فقط خداوند ِ عالم کواور ہر اُس شخص کو جسے خدا نے اپني جانشيني کے لئے منتخب کياہے اپنا حاکم اور فرمانروا سمجھے۔
البتہ ہم نے اس نکتے پر بھي گفتگو کي ہے کہ وہ اشخاص جنہيں خدا نے اپني جانشيني کے لئے منتخب کيا ہے وہ کون لوگ ہيں ‘اور بتايا ہے کہ پہلے مرحلے ميں انبياٴ اور انبيا ٴ کے بعد اوليا اس منصب کے حقدارہيں۔ مختصر يہ کہ ولي اور الٰہي حکمراں يا تو نام اور علامات دونوں کے ساتھ معين ہوتا ہے‘ يا يہ کہ نام کے ساتھ اس کا تعين نہيںکيا جاتا بلکہ صرف علامات کے ذريعے اسے معين کيا جاتا ہے ۔
يہ وہ نکات تھے جنہيں ہم پہلے واضح کر چکے ہيں ۔
ج جو نکتہ پيشِ نظر ہے‘ وہ يہ ہے کہ اگر کوئي خدا کي ولايت قبول نہ کرے اور غيرِ خدا کي فرمانروائي ميں چلاجائے‘توپہلي بات تو يہ ہے کہ ايسے دمي کے بارے ميںکيا حکم ہے ؟دوسري بات يہ ہے کہ اس عمل کوکيا کہيں گے ؟اور تيسري بات يہ ہے کہ اس عمل کا نتيجہ کيا ہوگا؟
البتہ يہ وہ سوالات ہيں جو ولايت کے حوالے سے گفتگو کے دوران سامنے تے ہيں ۔ ليکن جب ہم بحث و گفتگوکے بعد انہيں قبول کرليں‘اور ہمارا ذہن انہيں مان لے‘ تو پھر اسکے بعد اِن کا شماراسلام کے ثابت شدہ عملي اصولوں ميںہونے لگے گا۔ اگر چہ اصولِ ولايت کے بارے ميںکي جانے والي گفتگو ميں يہ مسائل فرعي اور ضمني نوعيت کے ہيں ‘ ليکن يہ خوداپني جگہ ايک اصول ہيں ۔
قرنِ کريم ‘خدا کي ولايت کے سوا ہر ولايت کو طاغوت کي ولايت قرار ديتا ہے ‘ اور کہتا ہے کہ : جو کوئي بھي خدا کي ولايت کے تحت نہ ہو ‘ وہ طاغوت کي ولايت کے تحت ہے ۔
طاغوت سے کيا مراد ہے ؟
لفظ طاغوت کا مادہ طغيان ہے ۔ يعني سرکشي کرنااور انسان کي طبيعي اور فطري زندگي کے دائرے سے باہر نکل جانا۔مثلاً فرض کيجئے کہ انسان حصولِ کمال کے لئے پيدا ہوا ہے ‘اب جو کوئي انسان کو کامل ہونے سے باز رکھے ‘ وہ طاغوت ہے ۔
انسانوں پر لازم ہے کہ وہ خدا ئي دستور کے مطابق زندگي بسر کريں ۔يہ ايک فطري ‘ طبيعي اور انسانوں کي سرشت کے مطابق بات ہے ۔اب اگر کوئي انسانوں کي نشوونمااس طرح کرے ‘ اُن کے ساتھ ايسا عمل کرے ‘ اور اُن پر ايسا تصرف کرے کہ وہ خدائي دستور کي بجائے کسي اور ئين کے تابع زندگي بسر کريں ‘ تو وہ طاغوت ہے ۔
انسان کواپنے وجود کو مفيد اور ثمر ور بنانے کے لئے ہميشہ جدوجہد اور سعي و کاوش ميں مصروف رہنا چاہئے۔لہٰذا ہر وہ عمل جو انسان کوغيرسنجيدگي‘ سستي‘کاہلي‘عيش کوشي‘ عافيت طلبي کي ترغيب دے ‘ وہ طاغوت ہے ۔
انسانوں کو خدا ئي فرمان کے تابع ہونا چاہئے ۔ہر وہ چيز جو انسان کو فرمانِ الٰہي کي اطاعت سے باز رکھے اور انسان کو خدا کے مقابل سرکش بنائے ‘وہ طاغوت ہے۔
پس طاغوت اسمِ خاص نہيں ہے ‘ اور بعض لوگوں کا يہ سمجھنا درست نہيںہے کہ طاغوت ايک بت کا نام ہے ۔ہاں‘يہ ايک بت کا نام ضرور ہے ‘ ليکن يہ بت کوئي متعين بت نہيں ہے۔کبھي يہ بت خود پ ہوتے ہيں‘ کبھي پ کا روپيہ پيسہ ہوتا ہے‘کبھي يہ پ کي راحت پسندي کي زندگي ہوتي ہے ‘ کبھي يہ بت پ کي خواہش ہوتي ہے ‘ کبھي يہ بت وہ شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ ميں پ اپنا ہاتھ دے کراپني نکھيں بند کر ليتے ہيں ‘اپنا سر جھکا ديتے ہيں تاکہ وہ جہاں چاہے پ کو لیجائے۔ کبھي يہ بت سونااور چاندي ہوتے ہيں ‘کبھي خودانسان بھي ہوتا ہے اور کبھي اجتماعي نظام اور قانون ہوتا ہے۔پس طاغوت ايک اسمِ خاص نہيںہے ۔
ولايت ِ طاغوت اور ولايت ِ شيطان
ياتِ قرني سے يہ نتيجہ سامنے تا ہے کہ}قرني اصطلاحات{ مَلا‘ مترف‘ احبار اور رہبان کے مقابل طاغوت ان سے بالا تر مقام ہے ۔يہ ايک عليحدہ موضوع ہے‘ في الحال ہميں اس پر گفتگو نہيں کرني۔لہٰذا جو کوئي بھي خدا کي ولايت سے خارج ہوا ہے‘ وہ لازماً طاغوت اور شيطان کي ولايت ميں داخل ہوا ہے ۔
ليکن شيطان اور طاغوت کے درميان کيا باہمي نسبت ہے ؟
ان کے درميان پائي جانے والي وابستگي نسبت سے بڑھ کر ہے۔ شيطان طاغوت اور طاغوت شيطان ہے۔ جيسا کہ قرنِ مجيد فرماتا ہے :
اَلَّذِيْنَ ٰامَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اِ( اہلِ ايمان راہِ خدا ميں جہاد کرتے ہيں)
وَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ(اور کفار طاغوت کي راہ ميںلڑتے ہيں ہے )
اسکے بعد فرماتا ہے :
فَقَاتِلُوْآ اَوْلِيَآئَ الشَّيْطٰنِ اِنَّ کَيْدَ الشَّيْطٰنِ کَانَ ضَعِيْفًا( لہٰذا تم شيطان کے ساتھيوں سے جہاد کرو‘ بے شک شيطان کا مکروفريب بہت کمزورہوتاہے۔سورہ نسا٤ ۔يت ٧٦)
اس يت ميں ہم ديکھتے ہيں کہ شيطان کي جگہ طاغوت اور طاغوت کي جگہ شيطان کا نام ليا گيا ہے ۔پس شيطان بھي ايک ايسا عنصر ہے جودمي کو اسکے وجود کے باہرسے شرارت ميز اور فساد انگيز کاموں ‘ انحطاط ‘ تسليم ‘ ذلت ‘ ظلم ‘ بدي اورگمراہي پر ابھارتا ہے ۔
شياطينِ انس بھي ہيں اورشياطينِ جن بھي پائے جاتے ہيں ۔ايسے شياطين بھي ہيں جو عزيز رشتے داروں ‘ بيويوں اور باؤاجداد سے تعلق رکھتے ہيں ۔ شيطان کا ايک مصداق اور نمونہ ابليس ہے ‘جس نے دم صفوۃا کے خلاف پرچم بلند کيا‘اور وہ باتيں کيںجن کا ذکر ہم سنا کرتے ہيں۔ ہم اورپ اپني پوري عمر جس شيطان کو لعنت کرتے ہيں ‘وہ يہي بيچارہ اوّلين شيطان ہے ‘جبکہ شيطان صرف وہي نہيں ہے ۔شايد وہ پہلا اور خري شيطان نہ ہو ۔دنيا ميں بہت سے شياطين ہيں جو محسوس بھي کئے جاسکتے ہيں ‘ ہاتھوں سے بھي‘ نکھوں سے بھي اور کبھي کبھي يہ انسان کے معاصر بھي ہوتے ہيں ۔مجموعي طور پر ولايت ِ الٰہي کے سوا ہر ولايت شيطاني اور طاغوتي ولايت ہے ۔
ايک ايسا شخص جو حقيقي ولي کي حاکميت ميں زندگي بسر نہيںکرتا ‘اسے يہ بات پتا ہوني چاہئے کہ پھر وہ طاغوت اور شيطان کي حاکميت ميں زندگي گزار رہا ہے ۔
ممکن ہے پ پوچھيں کہ شيطان اور طاغوت کي حاکميت ميں زندگي بسر کرنے اور اسکے احکام وفرامين پر سر جھکادينے ميں کيا خرابي ہے ؟
يہ بھي يات ميں پيشِ نظر نکات ميں سے ايک نکتہ ہے ۔قرنِ مجيد اس بارے ميں ہميں چند جواب ديتا ہے ۔پہلا جواب يہ ہے کہ اگر پ نے شيطان کي ولايت قبول کي‘ تو شيطان پ کے وجود ميں پائي جانے والي تمام تعميري‘ تخليقي اور مفيد قوتوں پر مسلط ہوجائے گا ۔اگر پ نے شوق ورغبت کے ساتھ شيطان اور طاغوت کي حاکميت کا طوق اپنے گلے ميں پہن ليا‘تو پھر پ اس سے نجات حاصل نہ کر سکيںگے ‘ چاہے پ کے وجود ميں کتني ہي تعميري اور تخليقي قوتيںاور صلاحيتيںپائي جاتي ہوں۔ پ پرطاغوت اور شيطان قابض ہوجائے گا‘اور جب پ کا پورا وجود اسکے قبضے ميں چلا جائيگا‘ تو وہ پ کو اس راستے پر جس پر وہ چاہتا ہے ‘ اور اس وسيلے سے جو اسے پسند ہے کھينچے لئے جائے گا ۔ اور ظاہر ہے کہ شيطان اور طاغوت انسان کي رہنمائي نور‘ معرفت ‘ سائش‘ رفاہ اور معنويت کي جانب نہيں کرے گا ۔اسکے لئے يہ چيزيں ہدف اور مقصد کي حيثيت نہيں رکھتيں۔ بلکہ شيطان اور طاغوت کے لئے اس کے شخصي اور ذاتي مفادات اوّلين ہدف اور مقصد ہيں ‘ اور وہ ان کا حصول چاہتاہے ۔پس وہ پ کواپنے ذاتي مفادات کے لئے استعمال کرے گا ۔
اگر پ ہمارے عرض کئے ہوئے اِن چندجملوں پرغور کريں ‘ تو ديکھيں گے کہ ان تمام جملوں کے بين السطور ميں ايک مفہوم پوشيدہ ہے جس کي تاريخي حقائق سے تصديق ہوتي ہے ۔
اگر پ نے طاغوت کي ولايت قبول کرلي‘تو پ کي تمام قوتيں اورتخليقي صلاحيتيں طاغوت کے قبضے ميںچلي جائيں گي ‘ اور اس صورت ميں پھروہ پ کے کسي کام کي نہيں رہيں گي۔ شيطان کے پيشِ نظر خود اسکي اپني ذات اوراپنے مفادات ہوتے ہيں۔اگر پ اسکي راہ پر چل پڑے‘ تو وہ پ کو اپنے فوائد اور مفادات کي بھينٹ چڑھا دے گا ‘اور گمراہي کي طرف کھينچ لے جائے گا ۔قدرت و طاقت اسکے اختيار ميں ہے اور کيونکہ پ نے اپنے پ کو اسکے سپرد کر ديا ہوگا ‘ لہٰذا وہ اپني مرضي اور خواہش کے مطابق پ کو لئے پھرے گا ۔

حلقہ اي درگرد نم افکندہ ’’دوست‘‘
مي کشد ہر جاکہ خاطر خواہ اوست(١)
سورہ نساکي درجِ ذيل يت انتہائي قابلِ توجہ اور غور وفکر کے لائق ہے :
’’وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُداٰاي وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُْمِنِيْنَ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰي۔‘‘(١)
جو کوئي بھي راہِ حق واضح ہونے کے بعد ‘ رسولِ خدا کي مخالفت کرے گا ‘ پيغمبر سے جدا ہوگااور اپني راہ کو راہِ نبوت (وہي راہ جس کے بارے ميں ہم نے پہلے پ کو بتايا ہے ) سے جدا کرے گا اور مومنين اور اسلامي معاشرے اور ايماني مقاصد سے ہٹ کر کوئي اور راہ اختيار کرے گا‘ وہ اپنے پ کو مسلمانوں کے گروہ سے عليحدہ کرلے گا ۔ پھرہم اُسي طوق کو جسے خود اُس نے اپني گردن ميں ڈالا ہے‘اُسکي گردن ميںاور مضبوط کرديں گے ۔وہي ولايت جسے اس نے خود اپنے

١۔’’دوست‘‘نے ميري گردن ميں ايک طوق ڈال ديا ہے‘اور جہاں اُس کا دل چاہتا ہے مجھے گھسيٹے پھرتا ہے۔
٢۔سورہ نسائئ٤۔ يت
ہاتھوں قبول کيا ہے ‘ اور جس حلقے ميں وہ خود اپنے قدموں سے چل کر گيا ہے ‘ اور جسے اُس نے اپنا مسکن بنايا ہے ‘ ہم اسے وہيں پھنسا ديں گے ۔ کيونکہ يہ قرن :اِنَّ اَ لااَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۔(١)کے مطابق تم نے اپني لگام شيطان کے ہاتھ ميں دے دي ہے ‘ پس اس لگام کو شيطان ہي کے ہاتھ ميں رہنے دو ‘ يہ خدا کي سنت ہے ‘يا قانونِ خلقت ہے ۔
اس يت ميں يہاں تک اِس دنيا سے متعلق تھا‘ گے چل کريت اُس دنيا(خرت) کے بارے ميں کہتي ہے کہ:
وَنُصْلِہ جَہَنَّمَ وَ سَآئَتْ مَصِيْرًا۔ (٢)
يہاں سے وہ سيدھا دوزخ ميں جائے گا اور پروردگار کے قہر اور خدا کے دائمي عذاب کا مزا چکھے گا ۔
جب انسان تاريخ پر نظر دوڑاتا ہے ‘ تو ديکھتا ہے کہ با لکل ايسا ہي ہے ۔يہ بات بہت اہم اور انتہائي اہم ترين اجتماعي مسائل ميں سے ہے ۔ان مسائل پر قرن کے نکتہ نظرکے بارے ميں ہمارا کام بہت کم ہے‘ اورہم نے انہيں تاريخِ اسلام سے بہت کم منطبق کيا ہے۔ کتنا اچھا ہو اگر قرنِ کريم سے شغف رکھنے والے اور اجتماعي مسائل اور خصوصاً قرن کے تاريخي مسائل ميں غور و فکر کرنے والے افراد ان مسائل ميں زيادہ سے زيادہ غور وخوض کريں اور اُنہيں تاريخي حقائق پر منطبق کريں ۔
اس يت کي تفسير واضح کرنے کي غرض سے ‘ ج ہم پ کے سامنے کچھ تاريخ بيان کرنا چاہتے ہيں۔

١۔اورخدا کسي قوم کے حالات کو اُس وقت تک نہيں بدلتا جب تک وہ خود اپنے پ کو نہ بدل لے۔(سورہ رعد١٣۔يت١١)
٢۔اور اسے جہنم ميں جھونک ديں گے جو بدترين ٹھکانہ ہے۔(سورہ نسا٤۔يت١١٥)
کوفي معاشرے کا جائزہ
کوفہ کا شمار تاريخِ اسلام کے انتہائي عجيب شہروں ميں ہوتا ہے ۔پ کے ذہن ميں کوفہ سے متعلق کئي قسم کي باتيں ہوں گي ۔ جو کچھ ہم بيان کريں گے وہ کوئي نئي بات نہيں ہے ۔
کوفہ وہ شہر ہے جسے امير المومنين حضرت علي عليہ السلام نے اپنے دارالخلافہ کے لئے منتخب کيا ‘جبکہ اُس زمانے کي عظيم اسلامي مملکت ميںاوردوسرے شہربھي موجود تھے ۔يہ کوفہ کا ايک امتياز ہے۔اس شہر کادوسراامتياز يہ ہے کہ اہلِ کوفہ نے امير المومنين ٴکاساتھ ديتے ہوئے متعددجنگوںميں پ کے ہمراہ شرکت کي۔يہ جنگ ِجمل ميں شامل رہے ‘ جنگ ِنہروان ميں حصہ ليا‘ جنگ ِصفين ميں بھي کوفہ کے اطراف کے قبائل ‘يہاں کے جنگجو افراداور بعض دوسرے قبائل شامل تھے۔
پھر يہي کوفي تھے جن سے امير المومنين ٴشکوہ کيا کرتے تھے ۔پ ان سے گلہ کيا کرتے تھے کہ جب ميں تم سے جنگ کے لئے نکلنے کو کہتا ہوں ‘تو تم کيوں نہيں نکلتے ۔اسکے بعد يہي کوفہ تھا جس کے بزرگوں نے خط لکھا اور امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام کي خدمت ميں گئے اور اُن سے کہا کہ : قا! چلے ئيے ‘ ہم اس شہر کوپ کے حوالے کرتے ہيں۔ ليکن امام حسن ٴوہاں تشريف نہ لائے ۔پھر يہي شہر تھا جس کي ممتاز شخصيات نے حسين ابن علي عليہما السلام کے نام خط لکھا کہ :اِنَّہُ لَيْسَ عَلَيْنَااِمٰام۔ ہمارا کوئي امام اور پيشوا نہيں ہے‘ہمارا کوئي حاکم ورہنما نہيں ہے ‘ اور اب جبکہ خدا نے اس طاغوت کو نابود کر ديا ہے‘پ چلے ئيے ۔سليمان ابن صرد ‘ حبيب ابن مظاہر ‘ مسلم ابن عوسجہ ‘ وغيرہ جيسے يہ لوگ سچ کہہ رہے تھے ۔
پھر يہي اہلِ کوفہ تھے جو ايک انتہائي غير مساوي جنگ ميں حسين ابن علي ٴکے مقابل صف را ہوگئے اور کربلا کا الميہ وجود ميں يا۔
کچھ ہي عرصے بعدانہي لوگوں کے ہاتھوں ايک ايسا تاريخي واقعہ ظہور ميںيا جس کا شمار تاريخِ اسلام کے انتہائي نادر اور پر شکوہ واقعات ميں ہوتا ہے ۔اور وہ توابين کاواقعہ ہے ‘جنہوں نے توبہ کي غرض سے اور عاشورا کے واقعے ميںامام حسين ٴکي مدد کو نہ پہنچ سکنے کي تلافي کے لئے اپني جانيں فداکرنے کي خاطر قيام کيا ۔پھر يہي شہر تھا جس ميں بني اميہ اور بني عباس کے خلاف اکثر انقلابات کے بيج بوئے گئے ‘جو پھلے پھولے اور سرسبز ہوئے۔ ان لوگوں نے بے انتہا قربانياں ديں ‘بے حساب مارے گئے ‘ بہت سے کارہائے نماياں انجام ديئے ۔
پھر انہي اہلِ کوفہ ميں وہ لوگ بھي شامل ہيں جنہوں نے بعض مواقع پر سُستي ‘ کمزوري اور بزدلي کا مظاہرہ کيا ۔
اسکي کيا وجہ ہے ؟
کيا ان افرادکي دو روحيں اور دوچہرے تھے ؟!
کوفے کے بارے ميں شناسائي ايک اہم مسئلہ ہے ۔
ہمارے خيال ميں کوفہ کا مطالعہ اور تاريخ کے مختلف ادوار ميں اہلِ کوفہ کي نفسيات کا جائزہ انتہائي دلچسپ بحث ہوگي۔جو لوگ اس کام کي لياقت رکھتے ہيں ‘ ماہرين ‘ معاشرہ شناس اورنفسيات داں ‘اُنہيں چاہئے کہ وہ بيٹھيںاورکوفہ کے بارے ميں گفتگو کريں ‘ سوچ بچار کريں ‘ بحث کريں اور ديکھيںکہ يہ کيسا عجيب مقام ہے جہاںايک موقع پرانتہائي حيرت انگيز عظيم انساني کمالات کا مظاہرہ ہوتا ہے اوردوسرے موقع پر اس قدر بے ضميري ‘کمينگي ‘ سستي ‘ کا ہلي اور ذلت کا ۔
ايسا کيوںہے ؟
کوفہ وہ شہر ہے جس کے افرادکي تربيت امير المومنين ٴ کے متين اور بليغ کلمات کے سائے ميں ہوئي ہے‘ پ ہي نے اُن کي شخصيتوںميں نکھا ر پيدا کيا ہے‘ لہٰذا تاريخِ تشيع کے اکثر عظيم اور جري افراد اسي شہرِ کوفہ سے تعلق رکھتے ہيں۔ حتيٰ ان کي تعداد مدينہ سے تعلق رکھنے والے افرادسے بھي زيادہ ہے۔ اسکي وجہ امير المومنين ٴکي(مدتِ خلافت کے دوران)چند سالہ تعليمات اور تلقينات ہيں۔امير المومنين حضرت علي ابن ابي طالب ٴجيسي ہستي کا اِس شہر پر حکومت کرنا کوئي معمولي بات نہيں ہے ۔يہ ٹھيک ہے کہ چار سال کے عرصے ميںعالمِ اسلام کي سطح پريہ حکومت ناکامي سے دوچار ہوئي تھي ‘ ليکن شہرِ کوفہ کي سطح پر يقيني طور پر کامياب رہي تھي اورقطعي طور پر اس نے حيرت انگيز اور عجيب اثرات مرتب کئے تھے‘اور کوفہ کو شيعيت کا گہوارہ اور شيعي خصوصيات اورفضيلتوں کي زاد گاہ ميں تبديل کرديا تھا ۔البتہ ہر وہ مقام جو اعليٰ صفات اور فضيلتوں کي جائے پيدائش ہو ‘ ضروري نہيں کہ وہاں رہنے والے تمام افراد اِ ن صفات کے مالک ‘ با فضيلت اور ئيڈيل ہوں ۔
ہميشہ ہي جوش و خروش سے بھرپورنظر نے والے معاشرے ميں لوگوں کا صرف ايک طبقہ معاشرے کے اس جوش و خروش کاترجمان ہوتا ہے۔ کبھي کبھي تو ايسا بھي ہوتا ہے کہ کسي جگہ بسنے والے لاکھوں افراد ميں سے صرف چند ہزار انسان مجاہدانہ عمل انجام ديتے ہيں ‘جس کي وجہ سے مجاہدت اور ولولہ فريني کے لئے اس جگہ کا نام دنيا ميں معروف ہوجاتا ہے ۔
کوفہ ميں بھي انتہائي اچھے لوگوں پر مشتمل صرف ايک گروہ تھا‘ وگرنہ وہاں کے عام افراد دوسري جگہوں کے لوگوں ہي کي طرح تھے ‘ ايسا نہ تھا کہ اُن سے بدترہوں‘ مشہد کے لوگوں کي طرح ‘ تہران کے لوگوں کي طرح‘ اصفہان کے لوگوں کي طرح ‘ مدينہ کے لوگوں کي طرح ‘ دوسرے علاقوں کے لوگوں کي طرح ۔ليکن مملکت ِاسلامي کے اس گوشے (يعني کوفہ) ميں يہ مختصر گروہ اُس زمانے کي حکومتوں کے لئے خوف اور وحشت کا سبب تھا‘اس لئے وہ حکومتيں ہميشہ بد ترين عناصر‘کمين ترين گورنروں‘ پست ترين دميوں اور اپنے نوکروں اور جلادوں کو اس شہر ميں تعينات کياکرتي تھيں‘ اوروہ لوگوں کے خلاف ظالمانہ طرزِ عمل اختيار کرکے‘ زہريلا پروپيگنڈا کرکے اوراُن کے درميان فقر اور بيچارگي کورواج دے کر اِس شہر کے لوگوں سے ايسا سلوک کرتے تھے کہ وہ لوگ لاشعوري طور پر‘ بے سوچے سمجھے انتہائي شوق اور رغبت کے ساتھ بُرائيوں اورپستيوں کي طرف قدم بڑھائيں۔
اہلِ کوفہ کے ساتھ يہ سلوک اس لئے تھاکہ دوسرے شہروں کے برخلاف يہاں ايک مبارز اورممتاز گروہ پايا جاتا تھا‘ اور ان حکومتوں کا مقصد يہ تھا کہ وہ معاون و مساعد خصوصيات جن سے يہ پاک طينت ‘ بزرگ منش اور مجاہد گروہ فائدہ اٹھا سکتا تھا ‘انہيںوہاں کے لوگوں ميں سے مکمل طور پر ختم کرديا جائے ۔لہٰذا وہ زہريلا پروپيگنڈا کيا کرتے تھے ‘لوگوں کو دباؤ اور گھٹن کے ماحول ميں رکھتے تھے‘انہيںدنياوي اعتبار سے کمزور کرتے تھے۔مختصر يہ کہ طرح طرح کے ذرائع اختيار کرکے شہرِ کوفہ کے لوگوں پر دباؤ ڈالتے تھے ۔دوسرے شہروں کے يہ حالات نہ تھے اور يہي وجہ تھي کہ ظالم و جابراور فريب کارحکومتوں کي سرگرميوں کے زير اثر کوفہ سے تعلق رکھنے والے عوام الناس کے ہاتھوں ناشائستہ اعمال انجام پاتے تھے ۔البتہ اِن بُرائيوںکي بنياد يہ نہيں تھي کہ اس شہر کے لوگ ہي بُرے تھے۔
بہر حال يہ کوفہ کے بارے ميں ايک مختصر وضاحت تھي ۔اگرکچھ لوگ اسکي تاريخ کا مطالعہ کريں ‘ اور اس پر سوچ بچار کريں‘ توبہت سي دلچسپ چيزيںاُن کے علم ميں ئيں گي ۔
اموي خليفہ عبدالملک بن مروان جانتا تھا کہ کوفہ کے انقلابي اورجنگجولوگوں سے حجاج بن يوسف کے سوا کوئي اور نہيں نمٹ سکتا ۔لہٰذا اُس نے اپنے جلاد ترين اور پست ترين نوکر حجاج بن يوسف کو کوفہ کا گورنر مقرر کيا ۔ حجاج بن يوسف دھي رات کے وقت شمشير زن افراد کے ايک گروہ کے ساتھ کوفہ ميں داخل ہوا ۔کسي کو اُس کي مد کي خبر نہ ہوسکي ۔کوفہ کے لوگوں نے اپنے سابقہ حاکم کوبظاہر کوفہ سے باہر نکال ديا تھا‘يا اسے عضو ِ معطل بنا ديا تھا۔ حجاج دھي رات کے وقت کوفہ ميں داخل ہوااور فوراً مسجد کا رخ کيا ۔اُس دھي رات کے وقت مسجدميںنمازيوں ‘ تہجد گزاروں اور مقدس افراد کے زمزمیسنائي دے رہي تھيں ۔
وہاں پہنچ کر سب سے پہلے اُس نے اپنے غلاموں اور نوکروں کو ضروري ہدايات ديں۔ہر ايک کوايک مخصوص مقام پر متعين کيا اور خود اس اندازسے مسجد ميں داخل ہوا کہ کسي کو معلوم نہ ہوسکے ‘ پھر بغير کسي کو متوجہ کئے ‘ اچانک لوگوں کے درميان سے اٹھا اورمنبر پر جابيٹھا ۔
کيونکہ مسجد ِکوفہ بہت بڑي ہے ‘اس لئے پہلے تو لوگ متوجہ ہي نہ ہوئے‘ ليکن رفتہ رفتہ بعض لوگوں نے ديکھا کہ عجيب حالت بنائے ايک شخص خاموشي کے ساتھ منبر پر بيٹھاہوا ہے ۔اس موقع پر حجاج نے سر پر سرخ رنگ کي پگڑي باندھ رکھي تھي اور اُس کا ايک سرا کھول کر اُسے ڈھاٹے کي سي صورت ميں ناک تک لپيٹ رکھا تھا ۔اس حالت ميں اُسکي صرف نکھيں نظر رہي تھيں اور وہ ايک عجيب سي چيز لگ رہا تھا ۔
تصور کيجئے تلوار سے مسلح ايک شخص ‘ سرخ رنگ کي عبا اور پگڑي پہنے ہوئے اس انداز سے مسجد ِکوفہ کے منبر پر خاموش بيٹھا ہے۔اچانک ايک شخص سراٹھاتا ہے تو اسکي نظر اُس فرد پر پڑتي ہے جو اس عجيب صورت سے منبر پر بيٹھا ہوا ہے۔وہ شخص اپنے قريب بيٹھے ہوئے دمي سے پوچھتا ہے: يہ کون ہے ؟ رفتہ رفتہ وہاں موجود ہر فرد ايک دوسرے سے يہي سوال کرتا ہے ۔خر تمام لوگوں کي سر گوشياں‘ جو عليحدہ عليحدہ ايک دوسرے سے سوال کر رہے تھے‘ گونجنے لگتي ہيں‘ اُن کي توجہ مبذول ہونے لگتي ہے اور وہ منبر کي طرف ديکھنے لگتے ہيں ۔
ذرا غور کيجئے ‘يت ِقرن کيا کہہ رہي ہے :َ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰي۔وہ شخص جو ايمان اور مومنين کي راہ سے ہٹے گا ‘ہم اسکي گردن ميں پڑے طوق کو اور مضبوطي سے کس ديں گے ۔
تم جو مسلمان تھے ‘ اور تم نے ديکھا تھا کہ تمہاري مسجد کے منبر پر ايک ايسا دمي بيٹھا ہوا ہے جسے تم نہيں جانتے۔خر تم کيوں يہ ديکھنے کے باوجود خاموش بيٹھے رہے ؟تمہيں چاہئے تھا کہ قريب جاکر اس سے پوچھتے کہ تم کون ہو ؟ اپنا تعارف کراؤ ۔اسي طرح دوسرادمي ‘ تيسرا دمي کرتا اور سب کے سب افراد اس سے يہي سوال پوچھتے۔اگر تمام لوگ اس سے يہ سوال کرتے‘تو صورتحال بدل جاتي۔ ليکن ان لوگوں نے سستي کا مظاہرہ کيا ‘بے حوصلہ ہونے اور بزدلي کا مظاہرہ کيا اور اس انتظار ميں بيٹھے رہے کہ وہ خودکوئي گفتگو کرے ۔
جب حجاج نے ديکھا کہ تمام افراد کا رُخ اسي کي طرف ہے ‘ تو بولا: ميرا خيال ہے کہ اہلِ کوفہ مجھے پہچانتے نہيں ہيں ۔
لوگ ايک دوسرے کو ديکھنے لگے ‘ جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اُسے نہيں پہچانتے ۔حجاج نے کہا : چلو‘ ميں خود تم سے اپنا تعارف کرائے ديتا ہوں ۔اس نے اپنے سر سے پگڑي اُتاري ‘ ڈھاٹے کو بھي ہٹايا ‘ لوگوں پرايک نگاہ ڈالي اور يہ عربي شعر پڑھا :

اَنَابْنُ جَلاٰوَطَلَاعِ الثَّنايٰا

اذٰانَزَعَ الْعَمَامَۃَ تَعْرِفُوني

’’جب ميں اپني پگڑي اتاروں گا توتم مجھے پہچان لوگے۔ ‘‘ کيونکہ حجاج ايک مرتبہ پہلے بھي کوفہ چکا تھا ‘لہٰذا ايک دو افراد نے کہا کہ ہمارے خيال ميں يہ حجاج ہے ۔اور پھر حجاج ‘ حجاج کي سرگوشياں گونجنے لگيں۔جب اُن پر واضح ہوگيا کہ اُن کے سامنے منبر پر حجاج بيٹھا ہے ‘تو وہ خوف اوردہشت کا شکار ہوگئے ۔يہ ديکھ کر حجاج نے کہا : ہاں‘ تم لوگوںنے صحيح پہچانا ہے‘ ميں حجاج ہوں۔
لوگوں پر رعب طاري ہوگيا‘اُن ميں سے کسي ايک نے بھي يہ نہ سوچا کہ حجاج ميري ہي طرح کا ايک انسان ہے ‘بس فرق يہ ہے کہ وہ اوپر جابيٹھا ہے اور ميں نيچے ہوں‘ جو کچھ اُسکے پاس ہے وہ ميرے پاس بھي ہے۔لوگ بزدلي کا شکار ہوگئے ۔
حجاج نے کہا:اے اہلِ کوفہ ! ميں تمہاري گردنوں پر ايسے سر ديکھ رہا ہوں‘ جن کے پکے ہوئے پھلوں کي طرح اتارے جانے کا وقت گيا ہے ۔ميں ديکھ رہا ہوں کہ ان تنوں سے کچھ سر جدا ہونے چاہئيں ۔
لوگ يہ کھوکھلي باتيں سن کر مزيد مرعوب ہوگئے۔خر حجاج ايٹم بم لے کر تو کوفہ نہيں ياتھا؟ اگر اُسکے پاس ايٹم بم ہوتا بھي‘ تو وہ اسے پھاڑ توسکتا نہ تھا ۔کيونکہ اگر وہ اسے پھاڑتا ‘ تو کوئي باقي نہ بچتا جس پر وہ حکومت کرے ۔ضروري تھا کہ کچھ لوگ زندہ رہيں ‘ سب کو تو نہيں مار ڈالتا ۔اگر وہ سب کو مار ڈالتا ‘تو پھرحکومت کس پرکرتا ؟ درو ديوار پر تو حکومت ہو نہيںسکتي ۔
ليکن لوگوں نے يہ بات نہيں سوچي ۔
حجاج يہ جملہ کہنے کے بعد کہ ميں ديکھ رہا ہوں کہ گردنوں پر موجود کچھ سروں کو اُتارلينے اور انہيں تن سے جدا کردينے کا وقت پہنچا ہے ‘بولا : اب ميں فيصلہ کروں گا کہ کس کا سر اُتارنا چاہئے۔ اس نے اپنے غلام کو واز دي ۔اس کا غلام کھڑا ہوا ۔حجاج نے کہا کہ اِن لوگوں کو امير المومنين کا خط پڑھ کر سناؤ۔پ جانتے ہيں کہ اس نے عبد الملک بن مروان کو امير المومنين کہا تھا۔غلام نے عبدالملک بن مروان کا خط کھولا اور اسے پڑھنے کي تياري کرنے لگا ۔اس خط کا غاز اس جملے سے ہوا تھا :بِسْم ا الرَّحْمٰنِ الرَّحيمِ‘مِنْ اَمِيرِالْمُوْمِنينَ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مَرْوان عَليٰ اَھْلِ الْکُوفَۃِ۔يٰااَھْلَ الْکُوفَۃِ سَلاٰم عَلَيْکُمْ (بسم ا الرحمن الرحيم ‘امير المومنين عبدالملک بن مروان کي جانب سے اہلِ کوفہ کے لئے ۔اے اہلِ کوفہ ! تم پر سلام ہو)
جب غلام يہاں تک پڑھ چکا‘ تواچانک حجاج نے اُس کي طرف رخ کيا اور کہا: خاموش ہوجاؤ‘ چپ ہوجاؤ ۔اسکے بعد اُس نے اہلِ کوفہ کو مخاطب کيا اور کہا : تم بہت بد تہذيب ہوگئے ہو‘ امير المومنين تمہيں سلام کرتے ہيں اور تم اُن کے سلام کا جواب نہيں ديتے ؟!
غلام! دوبارہ پڑھو ۔
غلام نے دوبارہ پڑھنا شروع کيا :مِنْ اَمِيرِالْمُوْمِنينَ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مَرْوان عَليٰ اَھْلِ الْکُوفَۃِ۔يٰااَھْلَ الْکُوفَۃِ سَلاٰم عَلَيْکُمْ۔يہ سنتے ہي پوري مسجد سے صدا بلند ہوئي :وَعَليٰ اَمِيرِالْمُوْمِنين السَّلام۔
سلام کا يہ جواب سن کر حجاج کے لبوں پر پسنديدگي کے اظہار سے بھر پور ايک مسکراہٹ نمودار ہوئي اور اُس نے دل ميں کہا کہ بس کام ہوگيا ۔اور واقعاً اہلِ کوفہ کا کام تمام ہوگيا ۔انہوں نے امير المومنين کے سلام کا جواب ديا‘جو درحقيقت امير الکافرين اور امير الفاسقين تھا ۔يعني اِن لوگوں نے حجاج کو قبول کر کے دراصل اپنا کام تمام کرليا :
’’وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُداٰاي وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُْمِنِيْنَ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰي۔‘‘
اب جبکہ تم نے اس کا جواب دے ديا‘ اور اسکي تائيد کر دي ہے ‘ تو حجاج تمہاراحکمراں ہوا ‘ تم نے حجاج کے لئے دروازہ کھول ديا ہے ۔خداتو معجزے کے ذريعے حجاج کو ختم کرکے اُس کي جگہ امام زين العابدين ٴ کو نہيں بٹھائے گا ۔اب حجاج تمہاراحکمراں ہوا‘ اور جب تک تم حجاج سے نفرت کااظہار کرکے اُسے حکمراني سے بے دخل نہ کردو‘ اُس وقت تک تمہاري پوري زندگي ‘ سوچ اور روح حجاج کے اختيار ميں رہے گي ۔يہ کائنات کي سنت ہے ‘ يہ سنت ِ تاريخ ہے ۔
خط پڑھے جانے کے بعد حجاج منبر سے نيچے اُترا ‘دارلامارہ گيا اوروہاں جاکر کہا : کيونکہ اہلِ کوفہ ميں سے کچھ لوگوں نے ايک باغي اور مداخلت کاربظاہر محمد بن اشعث }مراد ہے{ کا ساتھ ديا ہے ‘ لہٰذا تمام اہلِ کوفہ ئيں اور اعتراف کريں کہ وہ کافر ہوگئے تھے ‘اور دوبارہ مومن بنيں ۔
تمام اہلِ کوفہ (يعني ہوا کے رُخ پرچلنے والے تمام عوام الناس ‘ وگرنا يقيني طور پر ايسے خواص بھي تھے جو ايساکرنے پر تيار نہيں ہوئے ‘اِن ميں سے کچھ لوگ گھروں ہي ميں رہے ‘کچھ نے تلواريںکھينچ ليں يادوسرے طريقے اختيار کئے )گروہ در گروہ اپنے کفر کا اقرار کرنے کے لئے دارلامارہ کي طرف چل پڑے۔(وہاں پہنچ کر) انہيں کرنايہ تھا کہ پہلے اس بات کا اقرار کريں کہ وہ دين خدا سے خارج ہوگئے ہيں اوردائرہ اسلام سے باہر نکل گئے ہيں ۔ يہ اقرار کرنے کے بعد توبہ کريں اور کہيں کہ اب جب ہم نے توبہ کر لي ہے ‘تو انشائ ا اميرہماري توبہ قبول کريں گے‘ تاکہ ہم مسلمان ہوجائيں ۔
ايک بوڑھا شخص حجاج کے پاس گيا ۔حجاج نے ديکھا کہ اس شخص ميںکچھ حد تک ن پائي جاتي ہے ۔بولا : بڑے مياں!يوں محسوس ہوتا ہے کہ تمہيں اپنے کفر کے بارے ميں شک ہے ۔ان الفاظ کا مطلب يہ تھا کہ اگر تمہيں شک ہے تو ميں تمہيں تلوار سے اسکي سزاديتا ہوں ۔کيونکہ جو کوئي بھي اپنے کفر کااقرار نہيں کرتا تھا ‘ وہ مارا جاتا تھا۔ بوڑھے نے فوراً جوب ديا : نہيں نہيں جنابِ عالي ‘ ميںتو تمام کفار سے زيادہ کافر ہوں ۔
يہ تاريخ ہے ۔تاريخ درس ہے۔
خوشترن باشد کہ وصف دلبران

گفتہ يد درحديث ديگران
تاريخ تفسيرِ قرن ہے‘ قرن کو تاريخ ميں تلاش کيجئے ۔جان ليجئے کہ :
مردخرد مند جہان ديدہ را

عمر دوبا يست درا ين روزگار
تا بہ يکي تجربہ اندوختن

با دگري تجربہ بردن بہ کار
تاريخ ہماراماضي ہے ۔تاريخ ميں غور و فکر کيجئے ۔تاريخ سے شغف پيدا کيجئے اور جو کچھ تاريخ ميں پوشيدہ ہے ‘اُسے دريافت کرنے کي کوشش کيجئے ۔صرف قصيدہ سرائي اور داستانيں بيان کرنے پر اکتفا نہ کيجئے‘بلکہ ديکھئے کہ تاريخ ہميں کيا سبق دينا چاہتي ہے ۔حجاج کا قصہ ہم سے کيا کہتا ہے ؟ يہ بتا دينے ميں بھي کوئي مضائقہ نہيں کہ يہي حجاج ‘انہي لوگوں کے ہاتھوں دردناک ترين طريقے سے مارا گيا جن کے لئے اُس نے لوگوں پر يہ مظالم ڈھائے تھے۔يہ حقيقت جاننے ميں بھي کوئي مضائقہ نہيں کہ :مَنْ اَعٰانَ ظٰالِماًسَلَّطَہُ اُ عَلَيْہِ (جو کوئي ظالم کي مدد کرتاہے ‘تو خدا اسي ظالم کو اس پر مسلط کر ديتاہے ) يہ بھي ايک سنت ہے ۔
تاريخ کامطالعہ کيجئے‘ديکھئے کہ اِس ميںہمارے لئے کيا کيا سبق موجود ہيں؟ اِس ميں ہمارے لئے کيا کيا ہدايتيں ہيں ؟ اِ س ميں ہمارے لئے کيا کيا پيغام‘ کيا کيا نصيحتيںپائي جاتي ہيں ؟
انتہائي غور و فکر کے ساتھ تاريخ کا جائزہ ليجئے ۔تب پ ديکھيں گے کہ ہمارے لئے يہ قرن کے معني بيان ہورہے ہيں ۔
ہم نے تاريخ کے اُس حصے کے متعلق عرض کياہے ۔حال کا اِس سے ارتباط اوراِس سے تعلق پيدا کرناخود پ پر چھوڑاہے ۔ہم اسي مقام سے يات ِقرني کي طرف واپس پلٹتے ہيں ‘ اور سلسلہ دوبارہ شروع کرتے ہيں:
فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ(جب قرن کو پڑھ ليا تو شيطان مردودکے ضررسے خدا کي پناہ طلب کيجئے۔سورہ نحل ١٦۔يت ٩٨)
اب جب کہ تم نے قرن کو پڑھ لياہے اور معارفِ اسلامي کو سيکھ لياہے ‘ تو اپنے پ کو شيطان کے ضرر سے خدا کي امان ميں لے جاؤ‘ شيطان جو چاہتا ہے کہ تم قرن کو نہ جانو ‘ اُسے نہ سمجھو ۔ يعني اس بات کي کوشش کرو کہ تمہيں حاصل ہونے والي قرن کي معرفت ‘ تم سے شيطان چھين نہ لے‘ اور تم پر راہِ عمل اور اسکي مزيد فہم کے راستے بند نہ کر دے ۔لہٰذا شيطانِ مردود کے شر سے بچنے کے لئے خدا کي پناہ ميں چلے ؤ ۔
اِنَّہ لَيْسَ لَہ سُلْطٰن عَلَي الَّذِيْنَ ٰامَنُوْا وَ عَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ(بے شک فساد پيدا کرنے والا شيطان ہر گز اُن لوگوں پر غلبہ نہيں پاسکتا جو صاحبانِ ايمان ہيں اور جن کا اللہ پر توکل اور اعتماد ہے۔سورہ نحل ١٦۔يت٩٩)
وہ لوگ جو اپنے پ کو خدا کي ولايت کے زيرِسائے رکھتے ہيںاور ولايت ا کے دائرے ميں داخل ہوتے ہيں ‘ شيطان ان پر تسلط نہيںرکھتا ۔
اِنَّمَا سُلْطٰنُہ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَہ(بے شک شيطان کا غلبہ صرف اُن لوگوں پرہوتا ہے جو اُسکي ولايت قبول کرتے ہيں)
جن لوگوں نے اپنے گلے کي رسي خود اپنے ہاتھوں سے اسکے حوالے کي ہے: اِنَّمَا سُلْطٰنُہ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَہ۔يعني شيطان کا غلبہ اور تسلط صرف اُن ہي لوگوں پرہوتا ہے اور اُس کا بس فقط اُن ہي لوگوں پر چلتا ہے جو اُسکي ولايت قبول کرليتے ہيں:وَ الَّذِيْنَ ہُمْ بِہ مُشْرِکُوْنَ(اور ان لوگوں پرہوتا ہے جواللہ کے بارے ميں شرک کرتے ہيں۔سورہ نحل١٦۔يت١٠٠)
اور جيسا کہ ہم نے پہلے سورہ نسا ميں کہا ہے کہ:
وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ( ايسا شخص جو پيغمبر کے ساتھ لڑائي کرے اور ان سے جدا ہو)
مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُداٰاي( اپنے سامنے راہِ ہدايت کے واضح ہوجانے کے بعد )
وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُْمِنِيْنَ(اور مومنين کي راہ کے علاوہ کسي اور راہ کي پيروي کرے)
نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰي (تواُس نے جس کسي چيز اور جس کسي شخص کي ولايت کو قبول کيا ہو ا ہے ‘ ہم اسي کو اس کا ولي اور فرمانروا بنا ديتے ہيں)
وَ نُصْلِہ جَہَنَّمَ وَ سَآئَتْ مَصِيْرًا( اور اسے دوزخ ميں اٹھا پھينکتے ہيں ‘ اور يہ کيسا بُرا انجام ہے )
اِنَّ اَ لااَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَکَ بِہ(خدا اپنا شريک بنانے والے شخص کو معاف نہيں کرتا۔ سورہ نسا ٤۔يت١١٥‘١١٦)
يہاں ‘ توحيد اور شرک کے معني کي جانب واپس تے ميں ‘ تاکہ ديکھيں کہ شرک کيا ہے ؟ توحيد کيا چيز ہے ؟ اور جس گناہ سے خدا درگزر نہيں کرتا وہ کيا ہے ؟
اِنَّ اَ لاَ يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَکَ بِہ۔خدا کسي ايسے شخص کو معاف نہيں کرتا جس نے ولايت ميں شرک کو قبول کيا ہوا ہو۔ايسا شخص جو مشرک ہوگيا ہے ‘ جس نے خدا کي حاکميت کا دائرہ غير خدا کے سپرد کر ديا ہے ‘ اُس کا وہ زخم جو اس گناہ و نافرماني ‘ بُرائي اور بد بختي کي وجہ سے اُسکي روح پر لگاہے‘کبھي نہيں بھرے گا۔يعني وہ ہر گزمغفرت نہيں پائے گا۔غفرانِ گناہ ‘ يعني نافرماني‘ خطا‘ لغزش اورگمراہي کے نتيجے ميں انسان کي روح پر لگنے والے زخم کا بھر جانا۔اور اس زخم کے بھر جانے سے مراد يہ ہے کہ اُسے خدا کي طرف سے مغفرت اور غفران مل گئي ہے ۔ اگر تم غير خدا کي ولايت ميں ہوئے ‘ تو اس گناہ کا داغ اور دھبّا کسي صورت دور نہ ہوگا۔
وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ يَّشَآئُ۔ليکن اگر انسان چاہے تو شرک سے کمتر اور اس سے نچلے درجے کے گناہ بخش ديئے جائيں گے ۔البتہ خدااس شخص کي مغفرت کردے گا جو توبہ اور تلافي کرے اور خدا کي طرف واپس پلٹ ئے۔
’’وَ مَنْ يُّشْرِکْ بِاِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلااً بَعِيْدًا۔‘‘
’’ اورجو کوئي خدا کا شريک قرار دے گاوہ راہِ ہدايت سے بہت دور اور گمراہ ہوگيا ہے ۔‘‘(سورہ نسا ٤۔يت ١١٦)
کبھي ايسا ہوتا ہے کہ پ کسي بيابان ميں راستے سے بھٹک جاتے ہيں ‘ ليکن صحيح راستے سے صرف ايک کلو ميٹر دور ہوئے ہوتے ہيں۔ اور کبھي يوں بھي ہوتا ہے کہ صحرا ميں راستہ گم کر بيٹھتے ہيں اور مطلوبہ راستے سے دسيوں کلو ميٹر دور چلے جاتے ہيں ‘اتنے دور کہ پلٹ کر نا سان کام نہيں رہتا‘اوراِسکے لئے بہت زيادہ کوشش اور ہوشياري درکار ہوتي ہے ‘ايک مضبوط رہنماچاہئے ہوتا ہے۔جن لوگوں نے خدا کے لئے شريک بنا لياہوتا ہے ‘ وہ صراطِ مستقيم اور ہدايت کے سيدھے راستے سے بہت دور ہوگئے ہوتے ہيں :فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلااً بَعِيْدًا۔بہت دور کي گمراہي سے دوچار ہوگئے ہوتے ہيں ۔ اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ اِلَّاآ اِٰنثًا( يہ لوگ خدا کے سوا جس کسي کو پکارتے ہيں ‘ وہ بس چند عورتيںہيں)وَ اِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا(اور وہ سرکش اورنيکي و فضيلت سے عاري شيطان کے سوا کسي اور کو نہيں پکارتے۔سورہ نسا ٤۔يت ١١٧)
ہم نے يہاں لفظ ’’مريد‘‘ کے معني سرکش کئے ہيں‘ليکن پ اسکے معني نيکي اور فضيلت سے عاري بھي کر سکتے ہيں ۔يہ بھي ’’مريد‘‘ کے ايک معني ہيں۔
خدا کے دھتکارے ہوئے شيطان پر خدا کي لعنت ‘ ابتدا ہي سے اُس نے خدا کي مخالفت کا عہد کيا ہوا ہے ‘ اور بنيادي طور پرطبيعي اور خصلتي اعتبار سے خدااور شيطان کے درميان صلح وشتي ہوہي نہيںسکتي۔اس مقام پر قرنِ مجيد شيطان صفت افراد اور دنيا کے شياطين کي خصلت اور طبيعت کو بيان کرتا ہے : وَ قَالَ لااَا َاتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ شيطان نے عہد کيا ہے اور کہا ہے کہ ميں بندگانِ خدا ميں سے ايک خاص حصے کو اپنا طرفدار بنا لوں گا ۔يعني کچھ بندوں کو راہِ راست سے گمراہي کي طرف کھينچ لے جاؤں گا ‘اُن کي عقل سلب کر لوں گا‘اُن کي بصيرت زائل کر دوں گا‘اُنہيں تيري ولايت کي بجائے اپني ولايت اور فرمانروائي ميں لے ؤگا:وَّ لااَاُاضِلَّنَّہُمْ وَ لااَاُامَنِّيَنَّہُمْ(اُنہيں شدت کے ساتھ دور دراز رزؤں اور تمناؤں کا اسير کر دوں گا)
ذرا لفظ ’’وَ لااَاُامَنِّيَنَّہُمْ ‘‘ پر غور فرمائيے ۔اِس کلمے ميں دور دراز رزوئيں اوروہ تمام چيزيں شامل ہيں جو انسان کو راہ ِخدا ميں ہر قسم کي جدوجہد سے روک ديتي ہيں ۔
ّّ دس سال مزيد خوشي ‘ راحت اور سائش کے ساتھ زندگي گزارنے کي رزو‘بڑے بيٹے کو دولہا بنانے کي رزو‘اپني بچيوں کو دلہن بنا ديکھنے کي رزو‘اس چھوٹے گھر اور اس چھوٹي دکان کو بڑا کرنے کي رزو‘ فلاں ادارے اور تنظيم کا سربراہ اور صدر بننے کي رزو ‘ فلاں مقدار ميں روپيہ کما لينے کي رزو ‘ اپنے بيٹے کوانجينئر ديکھنے کي رزو ۔دور دراز رزوئيں اور ايسي تمنائيں جن کے بوجھ سے انسان کي گردن جھک جاتي ہے ‘جو انسان کے گھٹنے ٹکا ديتي ہيں‘جن کے سامنے انسان بے بس ہوجاتا ہے ‘اگر پ ان رزؤں کي تڑپ اپنے دل سے نکال ديں ‘تو ايک عمر زاد رہيں گے ‘ زادي کے ساتھ زندگي بسر کريںگے اوراپنے پ کو کسي قيد وبند کا اسير محسوس نہيں کريں گے۔
لہٰذا شيطان کہتا ہے :
وَ لااَاُامَنِّيَنَّہُمْ(اُنہيں دور دراز رزؤں کا اسير کردوںگا)وَ لااَاٰامُرَنَّہُمْ فَلَيُبَتِّکُنَّ ااٰاذَانَ الْاَنْعَامِ (اُنہيں حکم دوں گا کہ وہ جانوروں کے کان کاٹ ڈاليں)يہ جاہليت کي غلط سنتوں ميں سے ايک سنت کي جانب اشارہ ہے۔البتہ ممکن ہے اِس جملے ميں ايک بڑا راز اور رمز پوشيدہ ہو جس پر حقير نے بہت زيادہ کام نہيں کياہے اور اِس بارے ميں جو کچھ کہا گيا ہے اُسے ديکھنے کا موقع بھي نہيں ملا ہے ۔ظاہراً مسئلہ يہ ہے کہ پيغمبر اسلام صلي ا عليہ و لہ وسلم کے زمانے کي جاہلي سنت ميں يہ دستور تھاکہ وہ لوگ جانور کے کان کاٹتے تھے ‘اُس ميں سوراخ کرتے تھے ‘تاکہ اس ذريعے سے رزق ‘ برکت اور سلامتي حاصل کريں۔ يہ زمانہ جاہليت کي سنت تھي ‘ قرنِ مجيد غير الٰہي سنتوں‘ افکار ‘ طريقوں اوررسموں کي علامت کے طور پر اس کا ذکر کرتا ہے۔
ديکھئے کس قدر مضحکہ خيز اور کھوکھلي بات ہے ۔بنيادي طور پر شيطاني سنتيں سب کي سب اسي طرح ہيں : وَ لااَااٰامُرَنَّہُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اِ۔ قرنِ کريم شيطان کي گفتگوکو گے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ لوگ جو ميرے حکم کے تابع ہيںميں اُنہيںحکم دوں گاکہ وہ الٰہي خلقت ‘ فطرت اور سرشت ميں ردوبدل کريں اورجن لوگوں کو ميں تيري حکومت اور ولايت کے علاقے سے شکار کرکے اپني ولايت کے ويرانے ميں لے ؤںگا ‘اُنہيں حکم دوںگا اور اُنہيں اکساؤںگا کہ وہ خلقت اور فطرت ِ الٰہي کوترک کر ديں ‘اور جس راہ ِ عمل کو تو نے اُن کے لئے مقرر کيا ہے اُس سے دور ہوجائيں ۔ميںاُن کے لئے خلاف ِ فطرت قانون بناؤں گا‘اوراُن کے سامنے خلاف ِفطرت راستہ رکھوں گا‘ايک ايسا راستہ جو اُنہيں انسان کي فطري منزل کے سوا کسي اور منزل پر پہنچاتا ہے: وَلااَااٰامُرَنَّہُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اِ۔ميں اُنہيں حکم دوںگاکہ وہ خدا کي خلقت ‘ فرينش اور فطرت کو بدل ديں ۔
يہ خدا کے ساتھ شيطان کا عہد ہے ۔اس عہدسے خدا سے اُس کي ضد اورخدا سے اُس کي عنادظاہر ہوتي ہے ۔ تمام شيطانوں کا لائحہ عمل اور اسکيم يہي ہے۔ دنيا کے تمام شيطان يہي کرتے ہيں ۔يہ بات ذہن نشين رکھئے کہ اگر لوگ خداداد فطرت اورسرشت کے مطابق زندگي بسر کرنا چاہيں ‘ تو شيطان اُن کي راہ ميں نہيں ئے گا ۔بلکہ وہ اُن لوگوں کو فطرت وسرشت ِ الٰہي سے دور کرتا ہے جو اُسکي ولايت اور تسلط کو قبول کرليتے ہيں۔ کيونکہ بغير اسکے اس کا بس نہيں چلتا‘اس کا کام گے نہيں بڑھتا ‘ اور اسکي شيطانيت بے کار ہوجاتي ہے ۔
لہٰذا اسکے بعد خدا ہميں اور پ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :
وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا(جو کوئي خدا کي بجائے شيطان کي ولايت قبول کرے گا وہ کھلے نقصان ميں رہے گا)
يَعِدُہُمْ وَ يُمَنِّيْہِمْ(شيطان اُن سے وعدہ کرتا ہے اور اُنہيں دور دراز رزؤں اور تمناؤں ميں مبتلا کرتا ہے)
وَمَا يَعِدُہُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا(اور شيطان جو بھي وعدے کرتا ہے وہ دھوکے ‘ فريب اور جھوٹ کے سوا کچھ نہيں ہوتے۔سورہ نسا٤۔يت١١٨تا١٢٠)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.