امام شناسی

524

بسم الله الرحمن الرحيم
کتاب امام شناسی
مقدمه جناب استاد انصاري بوير احمدي
قال رسول الله|:

ان الله جعل علياً(ع) و زوجته و ابناءه حجج الله علي خلقه و هم ابواب العلم في امتّي, من اهتديٰ بهم هدي الي الصراط المستقيم.[1]

رسول خدا| نے فرمايا: بے شک خداوند متعال نے حضرت علي(ع), ان کي زوجہ طاہرہ÷ اور ان کي اولاد اطہار^کو اپني مخلوقات کے لئے حجت اورراہنما قرار دیا ہے, اور وہ ميري امت ميں علم و دانش کے دروازے ہيں۔ جس نے بھي ان کے ذريعےہدايت پائی وہ صراط مستقيم کي طرف ہدايت پاگیا۔

موضوع امامت و ولایت کی شناخت اورمعرفت حاصل کرنا ضروریات دین اور اسلام کے مہم ترین اعتقادی مبانی و اصول دین میں سے ہے۔تمام اديان الٰہی توحيد, نبوت, عدل اور معاد کي تعليم دينے والے اور ان کا پيغام لانے والے ہيں, ليکن عظيم مکتب اسلام کي منحصر بہ فرد خصوصيت نبوت کا اختتام اور انبياء^ کي اس حرکت اور ان کے ہدف کو امامت و ولايت اور پيغمبراسلام|کے اہلبيت^ کے ذریعے آگے بڑہانا اوران کے وسیلہ سے قیامت تک باقی رکھنا ہے. لیکن افسوس ہے بہت سے مسلمان اس مہم اصل سےغافل و بے خبرہیں۔[2] آيات و روايات ميں علمي اورمستدل تحقيق و مطالعہ کے ذریعے ہم اس مھم نتيجہ تک پہنچتے ہيں کہ:

عظیم مکتب اسلام کا توحید اور نبوت کے بعد بنیادی و اساسی ترین رکن اور اصلی مدار امامت و ولایت ہے اور یہ کہ بشریت کبھی بھی امام کے مقدس وجود سے خالی نہیں رہے گی۔[3]

و من المواضيع المهمة وا لاسياسة الّتي يجب البحث والتحقيق حولها, بل وتوضيح الزوايا المبهمة منهاهي الخلافة الرسول| و مبحث الامامة والولاية.[4]

رکن الٰہي يعني امامت سے مربوط موضوعات و عناوين کي علمي اورخصوصی سطح کا ارتقار اور انہیں احسن اور صحیح انداز میں بيان کرنا نیز اصل اسلام اور اس سے متعلق تمام اطراف کي کاملاً شناخت و معرفت اور اس تک علمي, منطقي, اور الھي صورت میں رسائی امام شناسی جیسے علمی سبجیکٹ کی محتاج ہے۔

حقیقت کی شناخت اور اس تک رسائی کے لئے امام شناسی کا علمی موضوع ایک مکمل معیار, ملاک اور اساسی و بنیادی اور مہم مبنع ہے۔[5]مکتب تشیّع میں امامت اصول دین میں سے ہے اس لئے اس مکتب میں امام شناسی اور امامت کے متعلق وسیع, عمیق و دقیق اور فراگیر تحقیقات و جستجو اسلام میں طویل و وسیع سابقہ رکھتی ہیں۔[6]

اولیہ اور بنیادی ابحاث میں سے امام شناسی ایک مہم ترین اور اساسی ترین بحث ہے, جسے قرآن[7], تاریخ, فقہ, کلام, عرفان, معرفت ۔۔۔۔۔اوردیگر زوایا سے ثابت اور مورد تحقیق قرار دیا جاسکتا ہے۔عظیم مکتب تشیّع میں امام اور امام شناسی کے بارے میں بحث و گفتگو ہت زیادہ قدر و منزلت کی حامل ہے اسی لئے شیعہ اثناء عشریہ کو امامیہ[8] بھي کہا جاتا ہے۔

شيخ مفيد&“اماميہ” کي تعريف ميں لکھتے ہيں:

“اماميہ” ایسا مذہب ہے جو ہر زمانے میں وجوب امامت اور امام کے موجود ہونے پر کاملاً یقین و اعتقاد رکھتا ہے اور امام کی عصمت و کمال پر نص صریح و جلی کو واجب سمجھتا ہے اور سلسلہ امامت کو حضرت علی(ع) اور حضرت فاطمہ۔÷ کی اولاد اطہار^ میں تا دم قیامت منحصر سمجھتا ہے۔”[9]

حقيقت ميں تشيع کي اساس و بنياد ائمہ معصومين^ کي ہدايت و رہنمائي اور ان کی عصمت پرہے جوعقلي اور نقلي مختلف طريقوں سے ثابت ہو چکا ہے۔[10]

ولايت و امامت کے موضوع ميں شيعہ آيات الھي من جملہ آيات ولايت پر عمل پیرا, رسول خدا| کي احادیث اور آپ کی سنت طیبہ کے پابند, اہل بيت^ کے پيروکار, ادلہ شرعي کے ملزم و پابند اور دليل و برھان کے سامنے سر تسليم خم کرنے والے ہيں۔عقیدہ امامت پر تشیّع کی قطعی ادلہ اوائل اسلام اور اولیہ تین ادوار[11] جب مذاہب اربعہ[12] کا نام و نشان تک نہ تھا سے ہی شروع ہوتی ہیں اور نہایت مستدل, محکم, منطقی, صریح اور کامل ہیں۔جو کچھ قرآن اور عترت سے ہم تک پہنچا ہے, اس کے منطوق و مفہوم نے ولايت و امامت سے تمسک کے وجوب کو دو چندان کر دیا ہے۔[13]

دینی علوم کے طلاب اکرام کے لئے لازم و ضروری ہے کہ امام شناسی سے مربوط تمام ابہامات و شبہات اور سوالات سے مکمل آشنا ہوں اور صحیح طریقہ اور روش کی بنیاد پر کامل, جامع الاطراف, مضبوط و محکم اور مستدل معلومات کے ذریعے امامت سے متعلقہ ابحاث مثلاً وجود امام کی ضرورت, مقام و عظمت امام, امامت سے مربوط آیات و روایات ,امامت و بنوت کے ما بین تلازم, عہدہ امامت کا الٰہی ہونا, علم امام, نسل امامت کا ذریۃ پیامبر اکرم| میں باقی اور منحصر رہنا ,دلائل عصمت امام, امام کے ساتھ توسل, امام کے وجود کی برکات اور اس کے آثار, تاریخ میں ہمیشہ امام کا موجود ہونا۔۔۔۔اور ان کے علاوہ امام و امامت سے مربوط تمام ضرورتوں اور نیازمندیوں کے بارے میں ہر وقت جواب گو ہوں۔

تشيع کے نطقہ نظر سے امام عظيم فضائل و اوصاف, اعلیٰ خصوصيات اور منحصر بہ فرد صفات کی مالک شخصت کو کہا جاتا ہے۔[14]

در حقیقت امام و امامت سے متعلق تمام حقائق کو بیان کرنا عمیق و دقیق تحقیقات, اعلیٰ تحلیل , استدلال کی روش سے وسیع و فراگیر آگاہی, وسیع معلومات, دقت نظر, حق جوئی, آزادانہ فکر, بلند ہمتی ان تھک اور لگاتار کوشش اور اسلام کی صحیح تاریخ سے مکمل آشنائی کا محتاج ہے۔

رسول اکرم| کي بعثت تاريخ بشريت کا عظيم ترين واقعہ اور ان کي رسالت دنياوالوں کے لئے ايک عظيم و برجستہ سر آغاز تھا, رسول خدا| کے بعد اس عظيم والٰہی منصب کے آگے بڑھانے والے ائمہ معصومين^ تھے اِن حضرات^ کي ولايت کے ذريعے پیغمبر اسلام| کی رسالت روز قیات تک مستمّر اور مستحکم ہوئی ہے۔

ہر زندہ امت ايک خاص ہويت و صورت کي حامل ہوتی ہے اس کی یہی مخصوص ہویت اس کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہے۔ وہ مخصوص ہویت اور مرکزی نقطہ جس نے حقیقی اسلام, اس کی تایخ, تہذیب اور اس کی جاودانگی کو باقی رکھا ہے۔ امام کا مقدس مؤ ثر اور مداوم وجود ہے۔ دنياي اسلام کے منصف متفکرين اوردانشور معترف ہيں کہ اسلام و مسلمانوں (شیعہ ہوں یا سنی) کی علمی رونق اور آسمان علم و دانش پر ان کی تابندگی با واسطہ یا بلاواسطہ اہل بیت^ کے ہی مرہون منت ہے۔ اہل بیت^ نے اپنے احاطہ علمی کی وجہ سے تمام علوم اسلامی, تفسیر, حدیث, قفہ وغیرہ کی تقویت میں خاطر خواہ کردار ادا کیا ہے۔ حیات اسلام کو بقاء بخشی ہے اور اسے انحراف سے بچا کر اصل اسلام کو بر قرار رکھا ہے۔

امامت کا مقام رفیع اور اس کی عظمت فقط امت اسلام کی سیاسی رہبری تک ہی محدود نہیں بلکہ امامت سلسلہ نبوت سے متصل مضبوط کڑی اور عہدہ رسالت کو پایہ تکمیل تک پہچانے والا عظیم منصب ہے۔ امام نہ صرف دین (کتاب و سنہ) کی تفسیر اور اس کے معانی بیان کرنے کی مکمل لیاقت و صلاحت رکھتا ہے بلکہ یہ امام ہی ہے جو نبوت و رسالت کے اختیام کے بعد دین کا محافظ اور خلق پر خالق کی حجت ہے۔

مکتب تشیّع کے اصول, مبانی اور جملہ عقاید بالخصوص امامت اور امام شناسی کے موضوع کے بارے میں ان کے نظریات قرآن کریم, پیغمبر اکرم| اور اہل بیت^ کی احادیث مبارکہ اور ان کی سیرہ طیبہ سے ماخوذ اور حاصل کئے گئے ہیں۔ اور شیعہ لوگ فراوان اورمتعددنقلی ادلہ کے ذریعے سلسلہ امامت کو ائمہ اطہار^ حضرت امام علی(ع) سے حضرت امام زمانہ# میں منحصر سمجھتے ہیں۔[15]

امام کے مبارک وجود کے بغیر, بلکہ امام کی معرفت اور اس کے ساتھ تمسک کے بغیر عقاید دینی میں انحراف ,سستی اور عقاید فاسدہ کا اتخاذ اور ان پر عمل وجود میں آئے گا۔چونکہ ایک طرف انسان لغزش, خطا و غلطی اور عصیان و نافرمانی سے خالی نہیں ہے۔ دوسری طرف انبیاء و رسل بھیجنے کا سلسلہ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اس بنا پر خالق اور مخلوق کے مابین اتصال و رابطے کا واحد ذریعہ اور چشمہ زلالِ ہدایت سے سیراب ہونے اور دنیاوی و اخروی سعادت و خوش بختی کا واحد , مسلّم, قطعی اور یقینی راستہ امام کا مقدس وجود ہے لہذا سلسلہ امامت کے ذریعے ہی قیامت تک انسان کی ہدایت و راہنمائی ممکن ہے جبکہ دوسری صورت میں انبیاء و رسل کا فلسفہ وجودی اور ان کے ارسال کا ہدف و مقصد ثابت اور پورا نہیں ہوگا اور زمین ہدایت بشریت کے لئے حجت خدا سے خالی رہے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ قدیم و جدید, چھوٹی بڑی ہزاروں کتابوں کے با وجود ابھی تک ائمہ معصومین^ کی عظمت و جلالت اور ان کی حیات طیبہ کے بہت سے گوشوں کی صحیح شناخت نہیں کی گئی اور ان حضرات کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ پر موجود دشمنی و عناد کے غبار اور بعض ابہامات کو دور نہیں کیا گیا۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام تر توجہات امام کے مقدس وجود کی طرف مبذول کردیں اور اپنے افکار کو بحر امامت میں غلطان کرکے معرفت کے گوہر, موتی اور نایاب دُرّ چن لیں۔اور یوں دنیا والوں کے سامنے امام شناسی اور امام کے مقدس, بابرکت اور مبارک وجود اور اس عظیم الٰہی ہدیہ اور منصب الٰہی کی وسیع, آگاہ, جامع الاطراف, پاک و پاکیزہ ,صحیح اور کامل تصویر پیش کریں۔“انشاءاللہ”اس بنا پر الٰہی ذمہ داری کا تقاضا ہے امت مسلمہ کے مفکرین ,دانشوروں ,سکالرز, غیر متعصب اور درد دل رکھنے والے علماء کی ہمت اور تعاون سے امام شناسی کے علمی موضوع کی بنیاد رکھی جائے اور اسے وسعت دی جائے۔اور مکتب تشیّع کی الٰہی تہذیب اور علمی و عملی مجاہدتوں کی عمیق و دقیق پروگرام ,دور اندیشی اور آئندہ نگری کے ساتھ مدد کی جائے۔

موجودہ کتاب امام شناسی کے موضوع پر محقق توانا, عالم باعمل, فاضل برجستہ استاد الحاج شیخ حسین گنجی مدظلہ کے مدرسہ علمیہ حضرت آیت اللہ بروجردی قم میں پڑھائے گئے ایک سالہ دروس کا مجموعہ ہے۔
{جزاه الله عن الاسلام اجراً و ادام الله توفيقاته}.

والسلام عليكم وعلي جميع اخواننا المؤمنين في اقطار العالم ورحمة الله وبركاته.
سر پرست اعلیٰ مجمع جھاني شيعہ شناسي
انصاری بویر احمدی

[1]۔علامہ حسکاني“شواهد التنزيل“ج,ص۵۸,چاپ بيروت۔رحماني ھمداني“الامام علي ابن ابيطالب”ص۱۶۔ سيد ھاشم حسيني“بوستان ِمعرفت” ص۵۸۔ صادق شيرازي“اهل البيت في القرآن”ص۴۳,چاپ بيروت۔ سيد محمد ھادي ميلاني“قادتنا کيف نعرفهم” ج۳, ص۳۴, چاپ بيروت۔سيد صادق شيرازي “علي في القرآن” ج ۱, ص۹۲, اور ج۲, ص۴۴, چاپ بيروت.

[2]۔قربان علی محقق ارزگانی“ امامان شیعہ از دیدگاہ اہل سنّت” ص ۳۰, انتشارات مجمع جہانی شیعہ شناسی, ۱۳۸۶ش۔

[3] ۔ {يوم ندعو کل اناس بامامهم} سورہ اسراء آيۃ/۷۱“امام” کا مادہ(اُم يُؤَمَّ) سے ہے جس کا معنی رہبر, پيشوا, مقتداء , رہنماء اورہدايت کرنے والا ہے, اس طرح کہ اس کي رھبري دنيا و آخرت کے سب ہی ابعاد کو شامل ہو اور ہميشہ کي سعادت ابدی کاميابي کي حامل ہو.
[4] ۔ا ستاد عطايي اصفھاني“الحجج البالغة في حقانيّة التشيع“, ص۲۲, مجمع جھاني شيعہ شناسي,۱۳۸۵ش۔

[5] ۔حقیقت کے تمام ابعاد وجودی چاہے وہ ذاتی ہوں یا افعالی و عبادی کی کشف و تبیین امام کے وجود اور اس کي ھدايت کے بغير ممکن نہيں ہے۔

[6] ۔عبدالجبار رفاعي مؤلف “معجم ما کتب عن الرسول| و اهل بيت(ع)”نے امام اور امامت سے متعلق اہل تشیّع کی۱۳۰۵۹ کتب کي فہرست نقل کی ہے۔

[7]{و جعلنا منهم ائمةً يهدون بامرنا} ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے۔(سجدہ/۲۴)
[8] ۔عبداللہ فياض“ تاريخ اماميہ” ص٧۷۳
[9] ۔ “اوائل المقالات” ص۳۸.

[10] ۔ليکن مکتب خلفاء کے پيروکاروں کي اساس و بنياد تمام اصحاب کي عدالت کے دعویٰ کی نبیاد پر استوار ہے۔
[11] پہلے تین ادوار یہ ہیں:۱۔ پیغمبر اسلام| کا زمانہ۲۔ اصحاب کا زمانہ۳۔ تابعین کا زمانہ۔
[12] ۔ مذاھب اربعہ(چار مذھب )يہ ہيں: ۱۔ حنفي,۲۔ مالکي, ۳۔ شافعي,۴۔حنبلي.

[13] ۔ سورہ قصص کي آيہ ۵۰ کے ذيل ميں آيا ہے: {مَنْ اضلَ ممّن اتبع هواہ بغير هديً من الله ان الله لايهدي القوم الظالمين} آیا اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جس نے ہدایت الٰہی کو ٹھکرا کر اپنی خواہشات کی پیروی کی ہو؟ تحقیق کہ خدا ظالم قوم کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔۔۔۔۔

☜۔۔۔۔امام رضا(ع) سے نقل ہوا ہے کہ آيہ کا مقصد وہ گمراہ شخص ہے جس نے اپنا دين اور رویہ خود اپنے ہي افکار و آراء کو قرار ديا ہے اور ھدايت کے اماموں کي پيروي نہيں کرتا۔“ بحارالانوار” ج۱۵, ص۱۷.

[14]۔شيعہ معتقد ہيں :

”الامام امين الله في ارضه و حجته علي عباده و خليفته في بلاده, الامام هوالاعلم والافهم باالدين والاقرب ولا تقي الله و هو افضل ابناء الجنس ال البثري, ترجمان الحكمة والعلم الاهي, الامامة هي القيادة, الشرعية بعد النبي, الامامة اصل من اصول الدين و رئيس الاعلي للمسلمين وجميع شئونهم الدينية والدنيوية, الامامة, هي رمز الارتباط الخالق والمخلوق, من مهام الامام ان يبين الدين و امرالله للعالم كله فضلاً عن الامام باالضرورة معصوم و مصون من الخطا والزلل.“
[15] ۔ ڈ اکٹر جعفر صادقي فدکي “سيماي شيعه از نگاه اهل بيت^” ص۲۱, انتشارات مجمع جھاني شيعہ شناسي,۱۳۸۲ ش.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.