نماز کے ذریعہ شیطان سے دوری

191

یہ کلام امام زمانہ علیہ السلام نے ابوالحسن جعفر بن محمد اسدی کے سوالات کے جواب میں ارشاد فرمایا۔ اس حدیث سے معلوم ھوتا ھے کہ زمین پر شیطان کی ناک رگڑنے (یعنی شیطان بر غلبہ حاصل کرنے) کے لئے بہت سے اسباب پائے جاتے ھیں جس میں سب سے اھم سبب نماز ھے؛ کیونکہ نماز مخلوق سے بے توجہ اور خداوندعالم کی طرف مکمل توجہ اور اس کی یاد و ذکر کا نام ھے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
<اٴَقِمْ الصَّلاَةَ لِذِکْرِي>
”میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو“۔
وہ نماز جو ایسی ھو کہ انسان کو فحشاء اور برائیوں سے روکتی ھو، جس کے نتیجہ میں انسان ھوائے نفس اور شیطان پر غالب ھوجاتا ھے۔
اول وقت نماز پڑھنا
<مَلْعُونُ مَلْعُونُ مَنْ اٴَخَّرَ الْغَدٰاةَ إِلیٰ اٴَنْ تَنْقَضيِ الْنُجُومْ>
”معلون ھے ملعون ھے وہ شخص جو نماز صبح میں (جان بوجھ کر) اتنی تاخیر کرے جس کی وجہ سے (آسمان کے) ستارے ڈوب جائیں“۔
<مٰا اٴَرْغَمَ اٴَنْفَ الشَّیْطٰانِ اٴَفْضَلُ مِنَ الصَّلاٰةِ، فَصَلِّہٰا وَاٴَرْغِمْ اٴَنْفَ الشَّیْطٰانِ>[1]
”نماز کی طرح کوئی بھی چیز شیطان کی ناک کو زمین پر نھیں رگڑتی، لہٰذا نماز پڑھو اور شیطان کی ناک زمین پر رگڑ دو“۔
شرح
یہ کلام امام زمانہ علیہ السلام نے ابوالحسن جعفر بن محمد اسدی کے سوالات کے جواب میں ارشاد فرمایا۔ اس حدیث سے معلوم ھوتا ھے کہ زمین پر شیطان کی ناک رگڑنے (یعنی شیطان بر غلبہ حاصل کرنے) کے لئے بہت سے اسباب پائے جاتے ھیں جس میں سب سے اھم سبب نماز ھے؛ کیونکہ نماز مخلوق سے بے توجہ اور خداوندعالم کی طرف مکمل توجہ اور اس کی یاد و ذکر کا نام ھے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
<اٴَقِمْ الصَّلاَةَ لِذِکْرِي>[2]
”میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو“۔
وہ نماز جو ایسی ھو کہ انسان کو فحشاء اور برائیوں سے روکتی ھو، جس کے نتیجہ میں انسان ھوائے نفس اور شیطان پر غالب ھوجاتا ھے۔
اول وقت نماز پڑھنا
<مَلْعُونُ مَلْعُونُ مَنْ اٴَخَّرَ الْغَدٰاةَ إِلیٰ اٴَنْ تَنْقَضيِ الْنُجُومْ>[3]
”معلون ھے ملعون ھے وہ شخص جو نماز صبح میں (جان بوجھ کر) اتنی تاخیر کرے جس کی وجہ سے (آسمان کے) ستارے ڈوب جائیں“۔
شرح
یہ حدیث امام مھدی علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ھے جس کو محمد بن یعقوب کے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ھے۔ امام زمانہ علیہ السلام نے اس توقیع میں اول وقت نماز پڑھنے پر بہت زیادہ تاکید فرمائی ھے، اور جو لوگ نماز صبح کو اجالا ھونے اور ستاروں کے غروب ھونے تک ٹالتے رہتے ھیں، ان پر امام علیہ السلام نے لعنت کی ھے۔
اس حدیث اور دوسری احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ نماز کے تین وقت ھوتے ھیں:
۱۔ فضیلت کا وقت: فضیلت کا وقت وھی نماز کا اول وقت ھے، جس کو روایات میں ”رضوان اللہ“ (یعنی خوشنودی خدا) سے تعبیر کیا گیا ھے اور یھی نماز کا بہترین وقت ھوتا ھے؛ کیونکہ:
الف) اس وقت میں خداوندعالم کی طرف سے نماز بجالانے کا حکم صادر ھوا ھے اور احکام الٰھی کو جتنی جلدی ممکن ھوسکے انجام دینا مطلوب (اور پسندیدہ) ھے۔
ب) نماز ، در حقیقت ایک محدود موجود اور بالکل محتاج وجود کا لامحدود موجود سے رابطہ اور خدا سے فیضیاب ھونے کا نام ھے، اور یہ انسان کے فائدے کے لئے ھے جس میں جلدی کرنا مطلوب (اور پسندیدہ) ھے۔
ج) امام زمانہ علیہ السلام اول وقت نماز پڑھتے ھیں، اور جو لوگ اس موقع پر نماز پڑھتے ھیں تو خداوندعالم امام زمانہ علیہ السلام کی برکت سے ان کی نماز کو بھی قبول کرلیتا ھے؛ البتہ تمام افق کا اختلاف اس سلسلہ میں اھمیت نھیں رکھتا؛ دوسرے لفظوں میں یہ کھا جائے کہ ایک وقت پر نماز پڑھنا مراد نھیں ھے بلکہ ایک عنوان کے تحت ”یعنی اول وقت نماز ادا کرنا“ مراد ھے، البتہ ھر شخص اپنے افق کے لحاظ سے اول وقت نماز پڑھے۔
۲۔ آخرِ وقت: جس کو روایت میں ”غفران اللہ“ (یعنی خدا کی بخشش) سے تعبیر کیا گیا ھے، نماز کے اول وقت سے آخر وقت تک تاخیر کرنے کے سلسلہ میں مذمت وارد ھوئی ھے؛ لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام ایسے شخص پر لعنت کرتے ھیں اور اس کو رحمت خدا سے دور جانتے ھیں۔
ایک دوسری روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان ھوا ھے:
”اول وقت پر نماز پڑھنا خوشنودی خدا کا باعث اور آخر وقت میں نماز ادا کرنا ایسا گناہ ھے کہ جسے خداوندعالم معاف کردیتا ھے“۔[4]
۳۔ خارجِ وقت: نماز کا وقت گزرنے کے بعد نماز پڑھنا جس کو اصطلاح میں ”قضا“ کھا جاتا ھے۔ اگر کوئی شخص نماز کو وقت کے اندر نہ پڑھ سکے، تو پھر اس کی قضا بجالانے کا حکم ھوا ھے؛ اور یہ نماز ایک جدید حکم کی بنا پر ھوتی ھے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر آخر وقت تک نماز کو ٹالتا رھے تو اس نے خدا کی معصیت کی ھے، اور اس کو اسے توبہ کرنی چاہئے، ورنہ خداوندعالم کے عذاب کا مستحق قرار پائے گا؛ لیکن اگر بھولے سے نماز نھیں پڑھ سکا اور اس میں اس کی کوئی غلطی بھی نہ ھو تو پھر وہ عذاب الٰھی کا مستحق نھیں ھوگا۔
سجدہٴ شکر
<سَجْدَةُ الشُّکْرِ مِنْ اٴَلْزَمِ السُّنَنِ وَ اٴَوْجَبِہٰا۔۔۔ فَإِنَّ فَضْلَ الدُّعٰاءِ وَالتَّسْبِیْحِ بَعْدَ الْفَرٰائِضِ عَلَی الدُّعٰاءِ بِعَقیبِ النَّوٰافِلِ، کَفَضْلِ الْفَرٰائِضِ عَلَی النَّوٰافِلِ، وَ السَّجْدَةُ دُعٰاءُ وَ تَسْبِیحْ>[5]
”سجدہٴ شکر، مستحبات میں بہت ضروری اور مستحب موٴکد ھے۔۔۔ بے شک واجب (نمازوں) کے بعد دعا اور تسبیح کی فضیلت، نافلہ نمازوں کے بعد دعاؤں پر ایسے فضیلت رکھتی ھے جس طرح واجب نمازیں، مستحب نمازوں پر فضیلت رکھتی ھیں، اور خود سجدہ، دعا اور تسبیح ھے“۔
شرح
یہ حدیث مبارک امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ھے جو محمد بن عبد اللہ حمیری نے آپ﷼ سے سوالات دریافت کئے تھے۔ امام زمانہ علیہ السلام اس حدیث میں ایک مستحب یعنی سجدہٴ شکر کی طرف اشارہ فرماتے ھیں، واجب نمازوں کے بعد دعا و تسبیح کی گفتگو کرتے ھوئے اور نافلہ نمازوں کی نسبت واجب نمازوں کی فضیلت کی طرح قرار دیتے ھیں، نیز سجدہ اور خاک پر پیشانی رکھنے کے ثواب کو دعا و تسبیح کے ثواب کے برابر قرار دیتے ھیں۔
قرآنی آیات اور احادیث کی تحقیق کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ھوتا ھے کہ تمام واجبات اور مستحبات برابر نھیں ھیں؛ مثال کے طور پر تمام واجبات میں نماز کی اھمیت سب سے زیادہ ھے؛ کیونکہ دیگر اعمال،نماز کے قبول ھونے پر موقوف ھیں۔ اسی طرح مستحبات کے درمیان (اس حدیث کے مطابق) سجدہٴ شکر کی اھمیت تمام مستحبات سے زیادہ ھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ھو کہ سجدہ شکر، نعمتوں میں اضافہ کی کنجی ھے؛ یعنی جب انسان کسی نعمت کو دیکھنے یا پانے پر خدا کا شکر بجالاتا ھے تو اس کی نعمت باقی رہتی ھے اور دیگر نعمتیں نازل ھوتی ھیں۔ یہ نکتہ قرآن مجید میں صاف صاف بیان ھوا ھے۔
< لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاٴَزِیدَنَّکُمْ>[6]
”اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (نعمتوں میں) اضافہ کردوں گا“۔
امام مھدی علیہ السلام نے اس حدیث میں چند نکات کی طرف اشارہ فرمایا ھے:
۱۔سجدہٴ شکر کے لئے کوئی خاص زمانہ اور خاص جگہ نھیں ھوتی، لیکن اس حدیث کے پیش نظر واجب اور مستحب نمازوں کے بعد اس کا بہترین موقع ھوتا ھے۔
۲۔ سجدہ، انسان کے کمال اور خداوندعالم کے سامنے نھایت خشوع و خضوع کا نام ھے، اس موقع پر انسان خود کو نھیں دیکھتا، اور تمام عظمت و کبریائی کو خداوندعالم سے مخصوص جانتا ھے؛ لہٰذا انسان کی یہ حالت بہترین حالت ھوتی ھے، مخصوصاً جبکہ انسان زبان و دل سے خداوندعالم کا ذکر اور اس کا شکر ادا کرتا ھوا نظر آتا ھے۔
۳۔ واجب نمازوں کے بعد دعا اور تسبیح کا ثواب مستحب نمازوں کے بعد دعا او رتسبیح کے ثواب سے بہت زیادہ ھے ، جیسا کہ مستحب نمازوں سے کھیں زیادہ فضیلت واجب نمازوں کی ھے۔
۴۔ امام زمانہ علیہ السلام اس فقرہ سے کہ ”سجدہ ، دعا اور تسبیح ھے“، یہ سمجھانا چاہتے ھیں کہ خود سجدہ بھی ایک قسم کی تسبیح اور دعا ھے، جس طرح نماز کے بعد ذکر خدا پسندیدہ عمل اور مستحب ھے اسی طرح سجدہ کرنا بھی مستحب ھے؛ کیونکہ دعا اور تسبیح کا مقصد بھی خداوندعالم کے حضور میں خشوع و خضوع ھے، اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ یہ ھدف سجدہ میں کامل اور مکمل طور پر موجود ھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.