استنباط

30

اسلامی مذاهب کی نظر میں فقهی منابع استنباط
استنباط:استخراج احکام کے لئے استعمال هونے والے الفاظ میں ایک لفظ استباط هے استنباط کے لغوی اور اصطلاحی معنیٰ و مفهوم کی وضاحت کے لئے لغت اور فقه و اصول کی کتابوں سے مدد لی جائے گی .استنباط کے لغوی معنی : راغب اصفهانی اپنی کتاب المفردات غریب القرآن میں لکھتے هیں :نبط لفظ قرآن مجید میں بھی استعمال هوا هے . چنانچه ارشاد خداوندی هے :وَإِذَا جَاءهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلاَّ قَلِيلاً حالانکہ اگر رسول اور صاحبانِ امر کی طرف پلٹا دیتے تو ان سے استفادہ کرنے والے حقیقت حال کا علم پیدا کرلیتے ، یهاں يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ-1 سے مرادیستخرجونه منهم (یعنی وه اپنےعلم سے حقیقت کا پته لگالتے هیں ) اور استنباط باب استفعال سے هےجو جس ریشه نبط هے اور نبط وه پانی هے جو نکلا هوا هے اور فرس نبط اس گھوڑے کو کهتے هیں جس کے بغل اور پیٹ پر سفیدی نمودار هو-2 صاحب منجدالطلاب اس کلمه کے بارے میں لکھتے هیں :نبط نبطًا و نبوطاً الماء ؛ پانی جاری هو ناشروع هوگیا ، نبط و نبط و انبطُ تنبط و استنبط البئر یعنی اس نے کیویں کا پانی نکالا استنبط الشئ یعنی مخفی چیزکو آشکار کیا استنبطه یعنی اس نے اختراع اور ایجاد کیا استنبط من فلان خیرا یعنی اس نے فلاں شخص سے کیا خوب چیزنکالی . استنبط الفقیه یعنی فقیه نے اپنے استنباط سے احکام کو کشف کیا . -3المعجم العربی الحدیث ( فرهنگ لاروس ) میں آیا هے :نبط البئر یعنی کنویں سے پانی نکالا نبط العلم یعنی علم کو آشکار کیا اور پھیلایا انّبط یعنی گھوڑے کے بغل اور پیٹ پر سفیدی کا ابھرنا یا بھیڑکے پهلو اسی سفیدی کا نشان اسی طرح سب سے پهلا پانی جوکنویں کی ته میں دکھائی دے . 4ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا :انبط :الماء الذی بنبطُ من قعر البئر اذا حفرت: نبط ایسا پانی جوکنواں کھودتے وقت ظاهر هو .نبط الماء نبع : یعنی پانی ابلا استنبطه و استنبط منه علماً و خیراً و مالا استخرجه : اس کو استنباط کیا یعنی اس سے علم خیر اور مال کو کشف کیا یعنی اس سے نکالا.الاستنباط : الاستخراج کرنا استباط یعنی استخراج ، استنبط الفقیه یعنی فقیه نے باطن کو اپنے اجتهاد اور دانائی کے ذریعه استخراج کیا.قال الزجاج معنیٰ َسْتَنبِطُونَك فی اللغۀ یستخرجونک، لغت میں اس کو استنباط کیا یعنی اس سے استخراج کرنا اور استنباط کاریشه نبط هے اور نبط وه پهلا پانی هے جو کنویں کی تیه سے نکلے.استباط کے اصطلاحی معنی :دراسات فی ولایۀالفقیه و فقه الدولۀ الاسلامیه کےمؤلف لسان العرب کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے هیں میں کهتاهوں : خداوند متعال کا حکم آپ حیات یا ایک نفیس اور قمتی شئ هے جو مصادرو منابع کے سینے میں دفن هے جسے فقیه کشف کرتا هے . 5استاد شهیدمرتضیٰ مطهری فرماتے هیں :(فقها نے فقهی جستجو کے لئے) جو دوسرا لفظ استعما ل کیا هے وه کلمه استنباط هے یه لفظ اس بات کی حکایت کرتاهے که علماء اسلام احکام کے سلسلے میں ایک خاص احسا س کے حامل هیں.لفظ استنباط زمین کے نچلے حصه سے پانی نکالنے کے معنیٰ میں هے . علماء اسلام نے اس بات کی جانب توجه کی که الفاظ کے سینے میں معانی کا صاف و شفاف پانی رواں دواں هے جس کو کشف کرنے کے لئے خاص فن اور جهاد کی ضرورت هے عربی زبان اور اس کے قواعد کو جاننے و الاعصر آدمی سے واقف آدمی اس بات کا دعوی نهیں کرسکتا که میں قرآن وسنت کی مدد سے اسلامی دستورات و قوانین کو کشف کرسکتا هوں استنباط کا هنر زمین کے نچلے حصه سے پانی کا نکالناهے غزالی نے اپنی کتاب المستصفی میں ایک لطیف تعبیر کا استعمال کیا هے وه ادله شرعی کو درخت احکام کو اس کاپھل اور عمل استنباط جوکه ادله شرعی سے استخراج احکام کا نام هے کو استثمار یعنی (پته) سے تعبیر کرتے هیں . 6شهید مطهری ایک اور مقام پر لکھتے هیں :کلمه استنباط معنا کے اعتبار سے (فقه وفقیه) سے مشابه هے یه کلمه ماده نبط سے مشتق هے اور زمین سے پانی نکالنے کے معنیٰ میں هے گویا فقهاء نے استخراج احکام میں اپنی تلاش و کوشش کو زمین سے پانی نکالنے سے تشبیه دی کیونکه وه بھی گهرائی سے احکام کے صاف و شفاف پانی کو استخراج کرتے هیں . 7
ادوار استنباط از دیدگاه مذاهب اسلامی نامی کتاب میں آیا هے : کلمه استنباط ماده نبط سے ماخوز هے اور لغت میں زمین کی گهرائی سے پانی نکالنے کے معنیٰ میں هے . اور اصطلاح میں احکام شرعی کو استخراج کرنے کے معنیٰ میں هے یعنی ادله معتبر اور خاص عنصر سے جدید مسائل اور هونے والے محادثوں کا استخراج کرنا اسی بناپر استنباط اجتهاد کا مترادف هے مجتهد عرف متشرعه میں اس پراطلاق هوتاهے جو احکام شرعیه کو عناصر خاصه اور عناصر مشترک سے اسنتباط اور استخراج کرے تو اس پر مستبط اور مفتی کابھی اطلاق هوتاهے. 8عمید زنجانی کهتے هیں :استنباط ریشه نبط سے ماخوذ هے اور لغت میں زمین کی گهرائیوں سے پانی نکالنے کے معنی میں آیا هے اور اصطلاح میں الفاط کے باطنی معنی کو نکالنے کے لئے استعمال هوتاهے . 9ابوالحسن محمدی بھی کهتے هیں :استنباط استخراج کے معنیٰ میں هے اور حقوق کی اصطلاح میں اجتهاد کا مترادف هے اور اس سے مراد یه هے که قواعد کلی کو مصادیق فرعی پر منطبق کرنا اور احکام فرعی کو اصول سے اور قواعد کلی سے استخراج کرنا.

1 . نساء ، آیه ، 83 .2 . .راغب المفردادات فی غریب القرآن ، ص 481.3 . منجد الطلاب ترجمه محمد بندریگی ، ص559 .
4 . خلیل اجر فرهنگ لاروس ، ج 2 ، ص2021 .5 . منطور دراسات فی ولایۀ الققیه وفقه الدولۀ الاسلامیه ، ج 2 ٌ72 .6 . علی دوانی ، عصندالله، شیخ طوسی ، مقاله ( النهامی ، از شیخ طائفه ، از مرتضی مطهری ، ص343 7 . مطهری ، علوم و اصول سے شناخت ، اصول فقه ، و فقیه ،ص10 .8 . جناتی ، اورد لااحتیاط ، ص 24 .9 . عباس علی ، زنجانی ، اصول فقه کی بحث سے ، ص10 .
 
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.