ضرورت استنباط

15

ضرورت استنباط: وه موضوعات که جس پر گفتگو هوجانی چاهیئے ان میں سے ایک بحث اهمیت و ضرورت استباط هے . مکتب اسلام استنباط پذیر مکتب هے اور استنباط اسلام میں ایک لازم عمل هے فقه شیعه میں صدر اسلام هی سے استنباط کا دروازه کھلا تھا اور آج بھی کھلا هے اور همیشه زنده مجتهد کی تقلید واجب هے اسی بناپر فقه تشیع زنده اور کامل فقه هے اور هر زمانے میں تمام مشکلات کا جواب دینے والی هے مسلمانوں نے قرن اول هی سے استنباط کرنا شروع کردیا تھا استنباط اپنے صحیح مفهوم کے ساتھ اسلام کے لازمی امور میں سے ایک هے . اس کے کلیات کچھ اس طرح تنظیم هوئے هیں که یه کلیات استنباط پذیر هیں . استنباط یعنی اصول کلی اور اصول ثابت کا کشف کرنا اور انهیں جزئی اورمتغیر موارد پر تطبیق دینا هے . استنباط پذیر کلیات کے علاوه عقل کا منابع اسلامی قرار پانے سے استنباط آسان هوگیاهے ، 1اسلام میں استنباط کی ضرورت کے اثبات کے لئے کافی دلائل موجود هیں جس میں سے هم اس حصه میں صرف پانچ دلیلوں کو پیش کریں گے .الف : خاتمیت؛ب: احکام اسلام اور ان کے اهداف کا کلی هونا؛ج: ابدی هونا؛د: جهان شمول هونا ؛ھ: جامعیت.
خاتمیت : هر مسلمان جوپیغمبر(ص)کی رسالت اور خاتمیت کا مقصد هے اسے شرع وعقل کی روشنی میں استنباط کو بھی ماننا پڑے گا قراں مجید میں ختم نبوت کے سلسله میں آیا هے مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ” محمد تمہارے مُردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن و ہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء علیھم السّلام کے خاتم ہیں. 1آیت کا تیور بتارها هے که اس آیت کے نزول سے پهلے بھی پیغمبر اسلام کے ذریعه نبوت کا اختتام مسلمانوں کےدرمیان ایک شناخته شده بات تھی ، مسلمان جس طرح آپ کو رسول خدا جانتے تھے اسی طرح آپ کے خاتم الانبیاء هونے سےبھی واقف تھے یه آیت فقط اس بات کی یاد آوردی کرادتی هےت که پیغمبر کو فلاں شخص کے منه بولےباپ سے مت پکارو بلکه اسے اسی حقیقی عنوان یعنی رسول الله اور خاتم النبین سے خطاب کرو. 2احکام اسلامی اور اس کے اهداف کا کلی هونا:رسول اکرم (ص)نے اپنے اور اپنے کلام کے بارےمیں فرمایا: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَ أُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَمجھے جامع اور کلی کلام عطا کیا گیا . 3 عبدالله ا بن عباس کهتے هیں :میں نے رسول خدا سے سناکه آپ نے فرمایا: أَعْطَانِي اللَّهُ خَمْساً وَ أَعْطَى عَلِيّاً خَمْساً أَعْطَانِي جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَ أَعْطَى عَلِيّاً جَوَامِعَ الْعِلْمِ و.4. آیات قرآن سے استفاده هوتا هے که قرآن میں اصول احکام اور کلی قواعد بیان کئے گئے هیں اور مجتهد خاتم النبین کے دور میں اصول احکام اور قواعد کلی کی مدد سے استنباط کرتے هوئے احکام جزئی کو کشف کرسکتے هیں . 5جاودانگی اسلام :خاتم النبین کی رسالت کی ایک خصوصیت یه هے که ان کی حکومت ان کی شریعت ان کے لائے گئے احکام همیشه باقی رهنے والے هیں-1 قرآن میں صریحًا یه بات آئی هے که خدا کی ذات وه ذات هے جس نے اپنے رسول کو هدایت اور آئین حق کے ساتھ بھیجا تاکه ، آئین محمد(ص)کو تمام آئین پر غالب قراردے . چاهے یه بات مشرکین پر گران کیوں نه گذرے. 2دین اسلام کلی بھی هےاور دائمی بھی ، اسلام ایک ابدی مکتب هے جو کره زمین کے تمام انسانوں کے لئے نازل هوا هے جو روز قیامت تک اس دنیا میں آتے رهیں گے فقه میں استنباط شریعت کی بقا اور اس کی ترقی کی ضامن هے استنباط اسلام کے جاویدانی هونے کی ایک شرط هے اس لئے که هر موضوع اور هر نئے مسئله میں قرآن و سنت کی مدد سے استنباط کرکے نئے احکام کشف اور استخراج کئے جا سکتے هیں اور اس طرح دوسرے قوانین سے بے نیاز هو سکتے هیں اور صحیح استنباط هر زمانے میں اور قیامت تک آنے والے سوالوں کا جوا دینے کی صلاحیت رکھتاهے .
اسلام کا جهانی هونا :پیامبر اسلام تمام انسانوں کے پیامبر هیں اس کی رسالت کا دایره اتنا وسیع هے جس میں ساری دنیا سمیٹ جاتی هے قرآن نے بھی اس حقانیت کی تصریح کردی هے خدانے پیغمبر (ص)کو حکم دیا که اپنی رسالت کے جهانی هونے کا اعلان کردیجئے ، کهه دیجئے ای لوگو میں تم سب کی جانب خدا کا فرستاده پیغمبر هوں. 3اسلام ایسا دین هے که جو انسان کی زندگی تا قیام قیامت استوار نے کے لئے آیا هے. اسلام کے قوانین میں اتنی قدرت هے که همیشه هر ملیت کی راهنمائی اور ان کے امور کو اداره کرسکتا هے . اسلام اس عتبار سے ایک جهانی نظام هے اور کسی خاص جماعت یا معین مکان سے مخصوص نهیں هے اسلام میں صحیح استنباط کی روشنی تمام ضرورتوں کا کامل جواب هے .جامعیت:اسلام ایک جامع مذهب جس میں انسانی زندگی کےتمام ابعاد کو مورد توجه قرار دیا گیاهے ، اسلام انسان کی فردی اور اجتماعی مادی اور معنوی ضرورتوں کو پورا کرتاهے قرآن بھی اس بات کی تصریح کرتے هوئے سوره نحل کی ایک آیت میں فرماتاهے :وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گزاروں کے لئے ہدایت ،رحمت اور بشارت ہے-1 اسی بناپر همارا عقیده هے که اسلام ایک کامل اور جامع دین هے جو تمام ابعاد فردی، اجتماعی اقتصادی سیاسی اور ثقافتی اور تمام امور میں منظم نظام کا حامل هے اسلام میں انسان کی زندگی کا کوئی عمل حکم سے خالی نهیں هے .صاحب کشف القناع کهتے هیں :تکلیف شرعی اور استقرار شریعت کے عقلی او رنقلی دالائل سے ثابت هوجانے کے بعد همارے لئے مسلم هے که زندگی کا کوئی ایسا مسئله نهیں هے جس میں خدا کا حکم اولی نه هو که اس میں اختلاف نهیں هے . 2البته واضح هے که اسلام میں ان تمام نیازمندیوں کا جواب صرف استنباط کی روشنی میں ممکن هے مجتهد یں کرام جو اس فن کے ماهر هیں وه همیشه لوگوں کے فکری اور اجتماعی مشکلات کا جواب دیتے هیں . اس لئےمر جعیت اور استنباط مکتب اسلام کے لازمی امور میں شمار هوتے هیں .
————–1 . مرتضی مطهری ، مقدمه چستی اسلام،3 و حی نبوت ، ص1502 .احزاب ، 40 .3 . مرتضیٰ مطهری ختم نبوت ، ص10 .4 . مجلسی ، بحارالانوار ،ج16، ص 323 .5 .مجلسی ، گذشته،ص317 .6 .محمد ابراهیم جناتی ، منابع استناط از دیدگاه اسلامی ، ص 288.7 . مجلسی ، بحارلانوار ، ج16 ،ص332 .8 .سوره توبه ، آیه ، 33 ،سوره فتح ، آیه ،28 ، سوره صف آیه ، 9،سوره اعراف آیه،158 .9 . سباء ، 28 .10 . نحل ، 89 .11 . اسدالله تستری ، معروف به محقق کاظمی ، کشف القناع عن وجوه حجیۀ االاجماع ، ص 60 .
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.