شیعه کلامی فرقے

203

امامیه اثنا عشریه
امامیه کی نظر میں امامت واجب ہے اس کی تا ﺋید کےلیے امامیه کے ایک بڑے عالم خواجه نصیر الدین طوسی کی کلام پیش کرتے هیں که انهوں نے فرمایا:
 
الامامیۃ یقولون: نصب الامام لطف ٬لانه یقرب من الطاعۃ و یبعد عن المعصیۃ واجب علی الله تعالی (تلخیص المحصل ص۴۰۷)
امامیه کهتے هیں که امام کا نصب کرنا لطف هے کیونکه امام لوگوں کو اطاعت کے قریب کرتا هے اور گناه سے دور کرتا هے اور یه لطف الله تعالی پر واجب هے –
نوٹ : اگرچه فریقین امامت کے وجوب کے قاﺋل هیں لیکن یه که یه الله تعالی پر واجب هے یا لوگوں پر واجب هے اس میں اختلاف نظر رکھتے هیں۔
یه که الله پر واجب هے یه شیعوں کا کلامی (علم کلام سے متعلق)وجوب هے اور یه که لوگوں پر واجب هے یه اهل سنت کا فقهی (علم فقه سے مربوط) وجوب هے
وجوب کلامی سے مراد یه هے که کوئ فعل الھی عدل ٬حکمت جود ٬رحمت یا کوئ اور الهی صفات کمالیه کے تقاضوں کے مطابق هو اور ایسے فعل کا ترک چونکه الهی ذات میں نقض کا موجب هے لهذا محال هے پس ایسے فعل کا انجام دینا ضروری هے اور واجب هے
البته یه بات واضح هے که کوئ الله پر کسی فعل کو واجب قرار نهیں دیتا بلکه وه خود اپنی صفات کمالیه و جمالیه کے تقاضوں کے مطابق اسے اپنے اوپر واجب قرار دیتا هے که جیسا که پروردگار فرما رها هے :کتب ربکم علی نفسه الرحمۃ ٬ ٬ ٬ تمهارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو فرض کیا۔ ۔ ۔ ٫٫ان علینا للھدئ٬٬ همارا فرض هدایت ۔۔۔اسی طرح دیگر آیات ۔۔ ۔ ۔ ۔
امامیه چونکه امامت کو الهی حکومت و طلف کے تقاضوں کے مطابق جانتے هیں لهذا اسے الله تعالی پر واجب شمار کرتے هیں-
۲ :اسماعیلیه :
مشهور یهی هے که اسماعیلیه بھی امامیه کی مانند وجوب امامت کے قاﺋل هیں لیکن امامیه کے ساتھ فلسفه امامت میں اختلاف نظر رکھتے هیں انکے نزدیک امامت کا فلسفه فقط یه هے که وه الله تعالی کی معرفت کی بشر کو تعلیم دے-
۳: زیدیه :
یه بھی امامیه کی طرف وجوب امامت کے قاﺋل هیں لیکن امامت کی شراﺋط اور
افراد ائمہ میں امامیه کے ساتھ بهت زیاده اختلاف نظر رکھتے هیں- (قواعد العقائد ص۱۱۰)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.