حضرت علی بن الحسین علیہ السلام

445

امام زین العابدین اپنے جد کے دین کوحیات نو بخشنے والے اور ان کی سنتوں کو زندہ رکھنے والے تھے آپ پاکدامنی ،تقویٰ اور امتحان و آزمائش میں بے نظیر تھے ۔ہیبت کا یہ عالم تھا کہ لوگوں کی پیشانیاں اور گردنیں آپ کے سامنے جھک جاتی تھیں آپ کے چہرہ کے نقوش میں انبیاء کے انوار اور اوصیاء کی ہیبت نمایاں تھی۔آپ کی اس ہیبت کو دنیائے عرب کے عظیم شاعر فرزدق نے اس طرح بیان کیا ہے :
یکاد یمسکہ عرفان راحتہرکن الحطیم اذا ما جاء یستلم
یغضی حیاة ویغضی مھابتہفلا یکلم الا حین یبتسم
‘جب آپ حطم کے رکن کو مس کرنے کیلئے آئے تو لگتا تھا کہ وہ آپ کی ہتھیلی کو پہچان کر خود ہی اسے بوسہ دے گا وہ تو حیا سے اپنی نظریں جھکائے رکھتے ہیں اور لوگ ان کی ہیبت کی وجہ سے نگاہیں جھکا لیتے ہیں۔’
شیخانی قادری لکھتے ہیں:آپ کے چہرے کے حسن و جمال کو دیکھنے سے دیکھنے والے کی آنکھیں سیر نہیں ہوتی تھیں آپ کی ہیبت آپ کے جد رسول اللہ ۖکی ہیبت کی عکاسی کرتی تھی اس ہیبت کی وجہ سے سفاح مسلم بن عقبہ جیسا خونخوار گھبرا گیا تھا حالانکہ اس شخص نے انسانیت کے تمام اقدار پامال کر دیئے تھے لیکن جب اس نے امام زین العابدین کو دیکھا تو اس کے جوڑ جوڑ میں رعشہ پڑ گیا اور آپ کے ساتھ نہایت مہربانی سے پیش آیا اور اپنے حاشیہ نشینوں سے کہا :زین العابدین میں انبیاء کی جھلک ہے ۔
آپ کے القابامام زین العابدین کے القاب آپ کے پسندیدہ اور بلند افکارو رجحانات کے غماز اور آپ کے مکارم اخلاق و شائستہ صفات کی عکاسی کرتے اور خدا کی عبادت اور طاعت کے ترجمان ہیں آپ کے بعض القاب درج ذیل ہیں:١۔زین العابدین:یہ لقب آپ کو آپ کے جد رسول خداۖ نے دیا تھا۔آپ کثرت عبادت کے سبب اس لقب سے ملقب ہوئے اور یہ لقب اتنا مشہور ہواکہ نام بن گیااور یہ لقب کسی دوسرے کو نہیں ملا۔بیشک آپ ہر عابد کیلئے زینت اور ہر مطیع خدا کیلئے باعث فخر ہیں۔٢۔سید الساجدین:آپ کے نمایاں القاب میں سے سید الساجدین بھی ہے اس کی وجہ یہ ہے آپ ہمہ وقت طاعت خدا میں مشغول رہتے تھے آپ کی عبادت کا جو حال لکھا گیا ہے وہ آپ کے جد امیرالمومنین کے علاوہ کسی اور کی عبادت کایہ حال نہیں لکھا گیا ہے۔٣۔سجاد: جن القاب سے آپ نے شہرت پائی ان میں ‘سجاد’ بھی ایک لقب ہے اس کی وجہ بھی آپ کے سجدوں کی کثرت ہے ۔ آپ کے کثرت سجدہ کے بارے میں آ پ کے فرزند امام محمد باقرفرماتے ہیں :حضرت علی ابن الحسین جب بھی خدا کی کوئی نعمت یاد آتی تھی تو اسی وقت آپ سجدہ معبود بجا لاتے تھے اور جب خدا وند عالم کسی چیز کو آپ سے دفع کرتا تھا تو بھی سجدہ کرتے تھے ۔اسی طرح واجب نماز پڑھنے کے بعد بھی سجدہ شکر کرتے تھے۔ چنانچہ کثرت سجود کی بنا پر آپ کے اعضاء سجدہ پر نشان پڑ گئے تھے اسی وجہ سے آپ کو سجاد کہتے ہیں ۔٤۔ذکی: اس لقب سے آپ کو اس لئے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ کو خدا وند عالم نے ہر رجس وکثافت سے پاک وپاکیزہ رکھا تھا جیسا کہ آپ کے آباء واجداد سے بھی رجس کو دور رکھا اور ایسا پاک وپاکیزہ رکھا جیساپاک رکھنے کا حق تھا ۔(١)٥۔امین : امین بھی آپ کا ایک لقب ہے آپ اس عظیم صفت کا واضح اور اعلیٰ نمونہ تھے فرمایا کرتے تھے :اگر میرے باپ کا قاتل بھی میرے پاس اس تلوار کو بطور امانت رکھ دے کہ جس سے اس نے میرے باپ کو قتل کیا تھا توبھی میں اس تلوار کواسے واپس کر دوں گا (٢)٦۔ابن الخیرتین:ابن الخیرتین آپ کے مشہور القاب میں سے ہے اس پر آپ فخر کرتے اور فرماتے تھے :میں ابن الخیرتین ہوں یہ جملہ رسول اکرم ۖکے اس قول کی طرف اشارہ ہے کہ جس میںآپ نے فرمایا تھا: ‘للہ تعالی من عبادہ خیرتان فخیرتہ من العرب ومن العجم فارس'(٣) خدا کے نزدیک اس کے بندوں میں دو برگزیدہ اورمنتخب ہیں عرب میں ہاشم اور عجم میں فارس۔
آپ کی شخصیت کے عناصرخداوند عالم نے انسان کو ممتاز کرنے کیلئے جو بھی فضیلت واستعداد عطا کی ہے وہ آپ کی شخصیت میں نمایاں اور آپ کی سرشت کا واضح جز ہے کوئی بھی آپ کے پایہ کمال تک نہیں پہنچ سکتا آپ کی شخصیت بلند آداب، مکارم اخلاق، اور دینی احکام کی پابندی میں اپنی مثال آپ تھی جو بھی آپ کی سیرت کا مطالعہ کریگا وہ حیرت میں ڈوب جائے گا مدینہ کے بڑے عالم دین سعید بن مثیب کہتے ہیں میں نے ابھی تک علی بن الحسین سے افضل کوئی انسان نہیں دیکھا ہے اور جب بھی میں نے دیکھا تو خود کو ان کے سامنے چھوٹا محسوس کیا ہے یقینا آپ کی مثالی شخصیت نے آپ کو شرف و عظمت کے اس بام عروج پر پہنچا دیا تھا جس پر آپ کے آبائو واجداد فائز تھے جنھوں نے معاشرہ کی اصلاح کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی ہم یہاں آپ کے بعض عناصر و صفات سپرد قلم کرتے ہیں۔
حلمحلم وبردباری انبیاء و مرسلین کی صفت ہے۔ حلم انسان کے نمایاں اور ممتازصفات میں شمار ہوتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو نفس پر کتنا قابو ہے اور یہ کہ وہ غضب اور انتقام کی فکر سے شکست نہیں کھاتا ہے۔ جاحظ نے حلم کی تعریف اس طرح کی ہے حلم یہ ہے کہ انسان شدید غیظ و غضب کے عالم میں انتقام کی طاقت و قدرت رکھنے کے با وجود انتقام نہ لے۔امام زین العابدین تمام لوگوں سے زیادہ حلیم و بردبار تھے اورآپ سب سے زیادہ غصہ برداشت کرتے تھے۔ محدثین اور مورخین نے آپ کے حلم کے بارے میں بہت واقعات لکھے ہیں ان میں سے کچھ بیان کرتے ہیں۔آپ کی کنیز آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی کنیز کے ہاتھوں سے لوٹا چھوٹ کر گرا تو کنیز نے جلدی سے کہا :خداوند عالم فرماتا ہے ‘والکاظمین الغیظ'(4)اور جو لوگ غصہ برداشت کرتے ہیں :امام نے فرمایا میں نے غصہ کو ضبظ کیا کنیز نے امام کے حلم سے مزید استفادہ کرنے کیلئے کہا :اور جو لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں امام نے نرمی کے ساتھ فرمایا خدا تمہیں معاف کرے گا :کنیز نے پھر کہا:’واللہ یحب المحسنین'( گذشتہ حوالہ)خدا احسان و نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے امام علیہ السلام نے مزید لطف و احسان کے ساتھ جواب دیا جائو میں نے تمہیں آزاد کیا۔(5)
سخاوتتمام مورخین و محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ زمانہ میں امام زین العابدین سے بڑا کوئی سخی نہیں تھا ۔امام ہی اس عظیم صفت کے مالک تھے مورخین نے آپ کے بہت سے واقعات لکھے ہیں جن میں سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں:١۔محمد بن اسامہ کی عیادت: محمد بن اسامہ مریض تھے تو امام زین العابدین ان کی عیادت کیلئے ان کے گھر تشریف لے گئے جب امام گھر میں داخل ہوئے تو لوگ پہلے سے موجود تھے ابن اسامہ نے امام کو دیکھ کر با آواز بلند رونا شروع کر دیا اس وقت امام نے فرمایا :ابن اسامہ تم کیوں رو رہے ہو ؟ابن اسامہ نے جواب دیا :میں مقروض ہوں،آپ نے سوال کیا: کتنے کے مقروض ہو؟ اس نے جواب دیا پندرہ ہزار دینارکا ۔ امام نے فرمایا :اس کو میں ادا کر دوں گا ۔امام زین العابدین نے عیادت کے دوران ہی وہ سب قرض ادا کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ مریض تھے۔(6) مورخین نے لکھا ہے کہ :امام زین العابدین کو اگر کسی کے بارے میں یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ فلاں شخص کے اوپر قرض ہے اور اس کوآپ کی محبت ہوتی تو آپ اس کا قرض ادا کر دیتے ۔آپ لوگوں کی حاجت اسی لئے جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ کوئی دوسرا پورا نہ کر دے اور وہ ثواب سے محرو م ر ہ جائیں فرماتے ہیں: اگر میرا کوئی دشمن میرے پاس حاجت روائی کیلئے آئے تو میں اسے پہلی فرصت میں اس لئے پورا کر دوں گا تاکہ کوئی دوسرا مجھ سے پہلے پورا نہ کر دے یا وہ بے نیاز نہ ہو جائے اور مجھے اس کے پورا کرنے کی فضیلت نہ ملے (7)
فقراء نوازیفقرائ، محروم اور حالات کے مارے ہوئے لوگوں پر کرم و مہربانی کرنا بھی آپ کی فطرت وسرشت میں داخل تھا اس سلسلے میں ہم یہاں آپ کے چند واقعات کا ذکر کرتے ہیں :
١۔فقیروں کا اکرام:آپ فقیروں کی بہت عزت کرتے تھے ان کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھتے تھے چنانچہ جب آپ فقیر کو کوئی چیز دیتے تھے تو پہلے اسے چومتے تھے تاکہ وہ اس میں ذلت محسوس نہ کرے اور جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تھا تو آپ اسے خوش آمدید کہتے اور فرماتے :’شاباش ہو اس شخص کو جو دار آخرت تک میرا توشہ پہنچائے گا’ اس طرح فقیر کی عزت و احترام کرنے سے محبت و عطوفت پیدا ہوتی ہے اور یہ چیز معاشرہ والوں میں مستحکم محبت کو وجود دیتی ہے۔
٢۔فقیروں پر احسان کرنا:آپ فقیروں اور مسکینوں پر بہت احسان کرتے تھے آپ کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ کے دسترخوان پر یتیم ،اندھے، بیمار، مسکین اور کمزور و لاچار کھانا کھائیں بلکہ آپ انھیں اپنے ہاتھ سے کھلاتے تھے آپ کھانے پینے کی چیزیں اور لکڑیاں اپنے کندھے پر رکھ ان کے گھر پہنچاتے تھے۔(8)
آپ کے حکیمانہ کلمات اور دستوراتامام زین العابدین نے بہت سے حکیمانہ کلمات اور قیمتی دستورات چھوڑے ہیں جو آپ کے اس کامل علم سے صادر ہوئے تھے ۔ جو کلمات حقیقی زندگی کا آئینہ دارہیں اور سماجی واجتماعی امور اور لوگوں کے حالات پر حاوی ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی بعض حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:
اعلیٰ خصلتیںامام زین العابدین نے بعض بلند صفات بیان فرمائے ہیں کہ جن سے مسلمان کا متصف ہونا ضروری ہے کیونکہ انھیں کے ذریعہ اس کا اسلام کامل ہوگا۔ فرماتے ہیں:جس شخص میں چار چیزیں ہوںگی اس کا اسلام کامل ہوجائے گا اوراس کے گناہ محو کردئیے جائیںگے اور وہ خدا کی بارگاہ میں اس حال میں پہنچے گا کہ اس کا خدا اس سے خوش ہوگا۔ (وہ چار چیزیں یہ ہیں):جس نے لوگوں سے کئے ہوئے عہد کو خدا کے لئے وفا کیا، لوگوں کے ساتھ سچ گوئی سے پیش آیا، خدا اور لوگوں کے سامنے کسی بھی برے فعل کی انجام دہی سے شرم کی اور اپنے خاندان کے ساتھ نیک اخلاق کا مظاہرہ کیا۔بے شک جو شخص ان بلند صفات سے متصف ہوجائے گا وہ حقیقی مومن ہے وہ ایسا کامل الایمان ہے کہ وہ خدا سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ خدا اس سے راضی ہوجائے گا۔
مومن کی علامتیںامام زین العابدین فرماتے ہیں مومن کی پانچ علامتیں ہیں:طائوس یمانی نے عرض کیا: فرزند رسول وہ کیا ہیں؟ فرمایا تنہائی میں پاک دامن رہنا، تنگدستی میں صدقہ دینا، مصیبت پر صبر کرنا، غصہ کی حالت میں برداشت کرنا اور خوف کے وقت سچ بولنا۔جو شخص ان پانچ صفات سے متصف ہوتا ہے وہ مومن ہے اور خدا کے ان نیک وصالح بندوں میں سے ایک ہے جنھوں نے اپنے نفسوں کو تقویٰ سے آراستہ کیاہے۔
حسن کلامامام زین العابدین نے اپنے اصحاب کو لوگوں کے ساتھ شائستہ طریقہ سے گفتگو کرنے کی ترغیب دلائی اور اس چیز کو واضح کیا ہے کہ جس کے بہت سے فوائد ہیں فرماتے ہیں: حسن کلام او راچھی بات سے مال میں برکت اور افراد اور تجارت پیشہ لوگوں میں اس کے اثر کو دیکھا جاسکتا ہے ہر شخص خرید وفروخت کے سلسلہ میں ان افراد کے پاس جاتا ہے جو نرم لہجہ میں شائستہ طریقہ سے بات کرتا ہے اس کے پاس خریدار کھینچ کر آتا ہے اور جوبد سلیقہ اور بداخلاق ہوتا ہے اس سے لوگ نفرت کرتے ہیں نتیجہ میں وہ کسادبازاری کا شکارہوجاتا ہے اور اس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے نیک بات اور شائستہ کلام کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے موت ٹل جاتی ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب مومن کو اس کا حق دے دیتا ہے یااسے نفع پہنچاتا ہے تو خدا ایسا کرنے والے کی عمر دراز کردیتا ہے اور آخرت میں اسے اجرجزیل عطا کرے گا۔حسن کلام کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ شائستہ طریقہ سے گفتگو کرنے والے کو اپنے خاندان اور معاشرے میں عزت ومحبت ملتی ہے لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ا سے جنت نصیب ہوتی ہے خصوصاً جہاں دو آدمیوں میں صلح کرائے اور نیک بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کرے۔
مومن کو نجات دلانے والی چیزیںامام زین العابدین نے ان چیزوں کو بیان کیا ہے جو لوگوں کو نجات دلاتی ہیں۔ فرماتے ہیں:تین چیزیں مومن کو نجات دلاتی ہیں اپنی زبان کو لوگوں کی غیبت سے روکنا اور اس چیز میں مشغول رکھنا جو دنیا وآخرت میں فائدہ رساں ہو اور اپنے گناہوں پر روتے رہنا۔(9)*******١۔ وسائل الشیعہ جلد٤ص٩٧٧؛علل الشرایع، ص٨٨ ٢۔ الفصول المہمہ، ابن صباغ مالکی ،ص ١٨٧؛ الانساب الورقہ ص،٥٢ ٣۔ وفیات الاعیان ،جلد٢،ص٤٢٩؛کامل مبرد، جلد١، ص٢٢٢ 4۔ سورہ آل عمران، آیہ ١٣٤ 5۔ تاریخ دمشق ،ج ٣٦،ص١٥٥ 6۔ سیر اعلام النبلا ،جلد ٤،ص٢٣٩ 7۔ ناسخ التاریخ، جلد ١، ص١٣ 8۔ بحار االانوار، جلد٦، ص٦٢ 9۔ نورالابصار، ص١٢٩،الفصول المہمة، ابن صباغ مالکی، ص٢٣٣، الاتحاف بحب الاشراف، ص٥٢قطعاتوہ اس انداز سے رکھتا تھا جبیں سجدے میںاسکے قدموں پہ جبیں دین کی جھک جاتی تھیایسے قیدی کی عبادت پہ عبادت بھی نثارجس کی زنجیروں سے آوازِ اذاں آتی تھی
خود دعا ہے یا دعائوں کا اثر ہے سجاداتنا تابندہ شریعت کا شجر ہے سجادمردے ٹھوکر سے جِلا دے تو خدا لگتا ہےسر کو سجدے میں جو رکھ دے تو بشر ہے سجاد
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.