فضائل حضرت زہرا(ع)

333

پيغمبر(ص) نے فرمايا ہے كہ بہترين عورتيں چار ہيں، مريم دختر عمران، فاطمہ (ع) دختر محمد(ص) ، خديجہ بنت خويلد، آسيہ زوجہ فرعون _(1)پيغمبر(ص) نے فرمايا كہ بہشت كى عورتوں ميں سے بہترين عورت فاطمہ (ع) ہيں_ (2)جناب رسول خدا(ص) نے فرمايا ہے كہ جب قيامت برپا ہوگي، عرش سے اللہ كا منادى ندا دے گا، لوگو اپنى آنكھيں بند كر لو تا كہ فاطمہ (ع) پل صراط سے گزر جائيں_ (3)پيغمبر (ص) نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمايا كہ خدا تيرے واسطے سے غضب كرتا ہے اور تيرى خوشنودى كے ذريعہ خوشنود ہوتا ہے _(4)جناب عائشہ فرماتى ہيں كہ ميںنے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے بعد كسى كو جناب فاطمہ (ع) سے زيادہ سچا نہيں ديكھا_(5)امام محمد باقر(ع) نے فرمايا ہے كہ خدا كى قسم، اللہ نے فاطمہ (ع) كو علم كے وسيلہ سے فساد اور برائيوں سے محفوظ ركھا ہے _(6)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے جناب فاطمہ (ع) اللہ تعالى كے يہاں نوناموں سے ياد كى جاتى ہے_ فاطمہ، صديقہ، مباركہ، طاہرہ، زكيہ، رضيہ، مرضيہ، محدثہ، زہرا، فاطمہ (ع) كے نام ركھے جانے كى وجہ يہ ہے كہ آپ برائيوں اور فساد سے محفوظ اور معصوم ہيں، اگر حضرت على عليہ السلام نہ ہوتے تو فاطمہ (ع) كا كوئي ہمسر نہ ہوتا_ (7)جناب امام محمد باقر(ع) سے پوچھا گيا كہ جناب فاطمہ (ع) كا نام زہراء كيوں ركھا گيا؟ آپ نے فرمايا اس لئے كہ خدا نے آپ كو اپنى عظمت كے نور سے پيدا كيا ہے آپ كے نور سے زمين اور آسمان اتنے روشن ہوئے كہ ملائكہ اس نور سے متاثر ہوئے اور وہ اللہ كے لئے سجدہ ميںگر گئے اور عرض كى خدايا يہ كس كا نور ہے؟ اللہ تعالى نے فرمايا كہ ميرى عظمت كے نور سے ايك شعلہ ہے كہ جسے ميں نے پيدا كيا ہے اور اسے آسمان پر سكونت دى ہے اسے پيغمبروں ميں سے بہترين پيغمبر(ص) كے صلب سے پيدا كروں گا اور اسى نور سے دين كے امام اور پيشوا پيدا كروں گا تا كہ لوگوں كو حق كى طرف ہدايت كريں وہ پيغمبر(ص) كے جانشين اور خليفہ ہوں گے_(8)پيغمبر(ص) نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمايا بيٹى خداوند عالم نے دينا كى طرف پہلى دفعہ توجہ اورمجھے تمام مردوں پرچنا، دوسرى مرتبہ اس كى طرف توجہ كى تو تمہارے شوہر علي(ع) كو تمام لوگوں پر چنا، تيسرى مرتبہ اس كى طرف توجہ كى تو تمہيں تمام عالم كى عورتوں پر برترى اور فضيلت دي، چوتھى مرتبہ توجہ كى تو حسن (ع) اور حسين (ع) كو جنت كے جوانوں پر امتياز ديا _(9)پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا بہشت چہار عورتوں كے ديكھنے كى مشتاق ہے ، پہلے مريم دختر عمران، دوسرى آسيہ فرعون كى بيوى ، تيسرى خديجہ دختر خويلد ، چہوتھى فاطمہ (ع) دختر محمد (ص) _(10)پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ فاطمہ (ع) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے اس كى اذيت ميرى اذيت ہے اور اس كى خوشنودى ميرى خوشنودى ہے _(11)پيغمبر(ص) نے اس حالت ميں جب كے فاطمہ (ع) ہاتھ پكڑے ہوئے تھے فرمايا جو شخص اسى پہچانتا ہے تو وہ پہچانتا ہے اور جو نہيں پہچانتا وہ پہچان لے كہ يہ فاطمہ(ع) پيغمبر (ص) كى دختر ہے اور ميرے جسم كا ٹكڑا ہے اور ميرا دل اور روح ہے جو شخص اسے ذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى ہے اور جوشخص مجھے اذيت دے گا اس نے خدا كو اذيت دى ہے _ (12)جناب ام سلمہ نے فرمايا كہ سب سے زيادہ شباہت پيغمبر اسلام (ص) سے جناب فاطمہ (ع) كو تھى (13)_پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ فاطمہ (ع) انسانوں كى شكل ميں جنت كى حور ہيں _(14)پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا كہ فاطمہ (ع) سب سے پہلے جنت ميں داخل ہوگي_(15)امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ فاطمہ (ع) كا نام فاطمہ (ع) اس لئے ركھا گيا ہے كہ لوگوں كو آپ كى حقيقت كے درك كرنے كى قدرت نہيں ہے _(16)پيغمبر(ص) فرمايا كرتے تھے كہ اللہ نے مجھے اور على (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن و حسين كو ايك نور سے پيدا كيا ہے_(17)ابن عباس فرماتے ہيںكہ ميں نے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم سے پوچھا كہ وہ كلمات كہ جو اللہ تعالى نے حضرت آدم عليہ السلام كو بتلائے اور ان كى وجہ سے ان كى توبہ قبول ہوئي وہ كيا تھے؟ آپ نے فرمايا كہ جناب آدم نے خدا كو محمد(ص) اور على (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسين (ع) كے حق كى قسم دى اسى وجہ سے آپ كى توبہ قبول ہوئي _(18)پيغمبر(ص) نے فرمايا اگر على نہ ہو تے تو جناب فاطمہ (ع) كا كوئي ہمسر نہ ہوتا _(19)پيغمبر(ص) فرماتے ہيں كہ جب ميں معراج پر گيا تو بہشت كى سير كى ميں نے جناب فاطمہ (ع) كا محل ديكھا جس ميں ستر قصر تھے كہ جو لولو اور مرجان سے بنانے گئے تھے_ (20)پيغمبر(ص) نے فاطمہ (ع) سے فرمايا تھا كہ جانتى ہو كہ كيوں تيرا نام فاطمہ (ع) ركھا گيا ہے؟ حضرت على (ع) نے عرض كى يا رسول اللہ (ص) كيوں فاطمہ (ع) نام ركھا گيا ہے؟ تو آپ نے فرمايا چوں كہ آپ اور اس كے پيروكار دوزخ كى آگ سے امان ميںہيں _(21)امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں كہ پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فاطمہ (ع) كو زيادہ بوسہ ديا كرتے تھے ايك روز جناب عائشہ نے اعتراض كہ پيغمبر اسلام(ص) نے اس كے جواب ميں فرمايا جب مجھے معراج پر لے جايا گيا تو ميں بہشت ميں داخل ہوا، جبرئيل مجھے طوبى كے درخت كے نزديك لے گئے اور اس كا ميوہ مجھے ديا ميں نے اس كو كھايا تو اس سے نطفہ وجود ميں آيا، جب ميں زمين پر آيا اور جناب خديجہ(ع) سے ہمبستر ہوا تو اس سے جناب فاطمہ (ع) كا حمل ٹھہرا يہى وجہ ہے كہ جب ميں فاطمہ (ع) كو بوسہ ديتا ہوں تو درخت طوبى كى خوشبو ميرے شام ميں پہنچتى ہے _(22)ابن عباس كہتے ہيں كہ ايك دن على (ع) اورفاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسين (ع) پيغمبر(ص) كے پاس بيٹھے ہوئے تھے توپيغمبر(ص) نے فرمايا اے خدا مجھے علم ہے كہ يہ ميرے اہلبيت ہيں اور ميرے نزديك سب سے زيادہ عزيز ہيں ان كے دوستوں سے محبت اور ان كے دشمنوں سے دشمنى ركھ ان كى مدد كرنے والوں كى مدد فرما انہيں تمام برائيوں سے پاك ركھ اور تمام گناہوں سے محفوظ ركھ روح القدس كے ذريعے ان كى تائيد فرما اس كے بعد آپ نے فرمايا، يا على (ع) تم اس امت كے امام اور ميرے جانشين ہو اور مومنين كو بہشت كى طرف ہدايت كرنے والے ہو، گويا ميں اپنى بيٹى كو ديكھ رہا ہوں كہ قيامت كے دن ايك نورانى سوارى پرسوارہے كہ جس كے دائيں جانب ستر ہزار فرشتے اور بائيں جانب ستر ہزار فرشتے اس كے آگے ستر ہزار فرشتے اور اس كے نيچے ستر ہزار فرشتے چل رہے ہيں اور تم ميرى امت كى عورتوں كو بہشت ميں لئے جا رہى ہو پس جو عورت پانچ وقت كى نماز پڑھے اور ماہ رمضان كے روزے ركھے خانہ كعبہ كا حج بجالائے اور اپنے مال كو زكوة ادا كرے اوراپنے شوہر كى اطاعت كرے اور على ابن ابيطالب كو دوست ركھتى ہو وہ جناب فاطمہ (ع) كى شفاعت سے بہشت ميں داخل ہوگي، فاطمہ (ع) دنيا كى عورتوں ميں سے بہترين عورت ہے_عرض كيا گيا يا رسول اللہ (ص) فاطمہ (ع) اپنے زمانے كى عورتوں سے بہترين ہے؟ آپ نے فرمايا وہ تو جناب مريم ہيں كہ جو اپنے زمانے كى عورتوں سے بہتر ہيں، ميرى بيٹى فاطمہ (ع) تو پچھلى اور ا گلى عورتوں سے بہتر ہے، جب محراب عبادت ميں كھڑى ہوتى ہے تو اللہ تعالى كے ستر ہزار مقرب فرشتے اسے سلام كرتے ہيں اور عرض كرتے ہيں اے فاطمہ (ع) اللہ نے تجھے چنا ہے اور پاكيزہ كيا ہے اور تمام عالم كى عورتوں پرتجھے برترى دى ہے_اس كے بعد آپ على (ع) كى طرف متوجہ ہوئے اور فرمايا ياعلى (ع) ، فاطمہ (ع) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے اور ميرى آنكھوں كا نور اور دل كا ميوہ ہے جو بھى اسے تكليف دے اس نے مجھے تكليف دى اور جس نے اسے خشنود كيااس نے مجھے خوشنود كيا فاطمہ (ع) پہلى شخصيت ہيں جو مجھ سے ملاقات كريں گى ميرے بعد اس سے نيكى كرنا، حسن (ع) اور حسين (ع) ميرے فرزند ہيں اور ميرے پھول ہيں اور جنت كے جوانوں سے بہتر ہيں انہيں بھى آپ آنكھ اور كان كى طرح محرّم شمار كريں_اس كے بعد آپ نے اپنے ہاتھ آسمان كى طرف اٹھائے اور فرمايا اے ميرے خدا تو گواہ رہنا كہ ميں ان كے دوستون كو دوست ركھتا ہوں اور ان كے دشمنوں كو دشمن ركھتا ہوں_ (23)
 
1) كشف الغمہ، ج 2 ص 76_
2) كشف الغمہ، ج 2 ص 76_
3) كشف الغمہ، ج 2 ص 83، ذخائز العقبى ، ص 48_
4) كشف الغمہ، ج 2 ص 84_ سدالغابہ، ج 5 ص 532_
5) كشف الغمہ، ج 2 ص 89_ ذخائر العقبى ، ص 44_
6) كشف الغمہ، ج 2 ص 89_
7) كشف الغمہ، ج 2 ص 89_
8) كشف الغمہ، ج 2 ص 90_
9_ كشف الغمہ، ج 2 ص ا9_
10_ كشف الغمہ ، ج 2 ص 92_
11_ كشف الغمہ ، ج 2 ص 93_
12_ كشف الغمہ ، ج 2 ص 92 اور الفصول المہمہ مولفہ ابن صباغ نجف ، ص 28ا_
13) كشف الغمہ، ج 2 ص 97_
14) كشف الغمہ، ج 2 ص 53_
15) كشف الغمہ، ج 2 ص 43 ص 44_
16) كشف الغمہ، ج 2 ص 65_
17) كشف الغمہ، ج 2 ص 91_
18) كشف الغمہ، ج 2 ص 112
19 كشف الغمہ، ج 2 ص 98_
20) بحار الانوار، ج 43 ص 76_
21) بحار الانوار، ج 43 ص 14_ كشف الغمہ، ج 2 ص 89_
22) بحار الانوار، ج 43 ص 6_
23) بحار الانوار، ج 43 ص 24_
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.