عفتِ نگاہ کا پاسباں پردہ ہے پردہ

281

قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے : یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے ایمان والوں کو نیچی رکھیں ذرا اپنی آنکھیں اور تھامیں رہیں اپنے ستر کو اور نہ دکھلائیں اپنا سنگار مگر جو اس میں کھلی چیز ہے اور ڈال دیں اپنی اوڑھنی اپنے گریبان پر اور نہ کھولیں اپنا سنگارمگر اپنے خاوند کے سامنے یا اپنے باپ کے یا اپنے خاوند کے باپ کے یا اپنے بیٹے کے یا اپنے خاوند کے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے۔ (قرآن کریم پارہ 18،سورہ نور)بدن کی خلقی زیبائش میں سب سے نمایاں چیز سینہ کا اْبھارہے۔ اس کے ستر کے مزید خاص طور پر تاکید فرمائی اور زمانہ جاہلیت کی رسم کو مٹانے کی صورت بھی بتلا دی۔زمانہ? جاہلیت میں عورتیں اپنی اوڑھنی سرپر ڈال کر اس کے دونوں پلے پشت پرلٹکا دیتی تھیں ۔ اس طرح سینہ کی ہیئت نمایاں رہتی تھی۔ یہ گویا حْسن کا ایک مظاہرہ تھا۔ قرا?ن کریم نے بتلا دیا کہ اوڑھنی کو سر پر لاکر گریبان پرڈالنی چاہئے تاکہ اس طرح کان ، گردن اور سینہ پوری طرح مستور رہیں ۔
ایک بزرگ نے پردہ کے بارے میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ پردہ ضروری نہیں وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت تو کرتے ہیں لیکن ان کے اندر عقل کی کوئی کرن بھی موجود نہیں بلکہ ان کے اندر حماقت کی بیماری ہے۔اس پر بعض لوگوں نے ان بزرگ سے پوچھا جو لوگ پردے کے مخالف ہیں وہ بے وقوف کیوں ہیں ؟بزرگ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو قرآن وحدیث کی دلیل سے پردہ کا ضروری ہونا ثابت کرتاہوں ۔ حاضرین نے کہاکہ عقل سے ثابت کردیجئے تو بزرگ نے فرمایا کہ تعجب ہے ! تمہارے اندر قرا?ن وحدیث کی عظمت نہیں جب تک تنگ دامان عقل میں نہ کوئی ا?ئے مانتے ہی نہیں ۔
ایک چھوٹے سے چھ سال کے بچے نے اپنے عقل پرست دہریہ استاد کو ایسا دندان شکن جواب دیاکہ وہ دیکھتا رہا۔ وہ دہریہ استاد کہتا تھاکہ جو چیز نظر نہ ا?ئے ہم اس کا وجود تسلیم نہیں کرتے ،اس لئے بغیر دیکھے ہم خدا کو کیسے مانیں ؟ تو بچہ کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا سر ! اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں ۔ استاد نے کہا کہو۔بچے نے کہا کہ آ پ نے عقل کو دیکھاہے ؟ اس نے کہاکہ عقل کو نہیں دیکھاہے۔ بچے نے کہاکہ بغیر دیکھے ا?پ کسی چیز کا وجود تسلیم نہیں کرتے تو میں ا?پ کوبے عقل کہہ سکتاہوں ؟ استاد شرم سے پانی پانی ہوگیا اور اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔ ایک بچے نے دماغ ٹھیک کردیا۔
اس کے بعد بزرگ نے فرمایا اب پردے کے بارے میں عقلی دلیل بھی سْن لو۔ یہ بتائو کہ دودھ کو بلی سے بچاتے ہویا کھلاتے ہو؟ سب نے کہاکہ ہم دودھ کو بلی سے بچا کر نعمت خانے میں رکھتے ہیں تاکہ بلی اسے نہ پی جائے۔پھر بزرگ نے سوال کیا کہ روٹیوں کو چوہوں سے بچاکر رکھتے ؟ پھر انہوں نے پوچھا کہ گوشت کو جب خریدتے ہوکہ چیلوں کو دکھاتے پھرتے ہو یا اس کی جھولی میں ڈال کر چھپاتے ہو ؟ کہا کہ حضرات ! چیلوں سے بہت ڈرتے ہیں ۔ پھر پوچھا کہ نوٹوں کو تم کہاں رکھتے ہو جب ماہانہ تنخواہ ملتی ہے تو چار پانچ ہزار ایسے ہی کھلا لئے چلتے ہو یا اندرکی جیب میں رکھتے ہو اور جیب پر بھی ہاتھ رکھتے ہو جیب کتروں کے ڈرسے ؟
پھر ان بزرگوں نے فرمایا کہ جب تم نوٹوں کو چھپا نا ضروری سمجھتے ہو ، دودھ کو بلی سے بچاتے ہو اور گوشت کو چیلوں سے بچاتے ہو تو کیا تمہاری بہو بیٹیاں تمہاری روٹیوں سے کمتر ہیں ، دودھ سے کیا اْن کی قیمت کم ہے ؟ کیا یہ گوشت سے زیادہ کم قیمت ہیں ؟ پھر انہوں نے فرمایا اچھا یہ بتلائو دودھ کو خود طاقت ہے کہ بلی کے پاس پہنچ جائے ؟ گوشت کو طاقت ہے کہ چیل کے پاس اْڑ جائے ؟ روٹیوں کو طاقت ہے کہ چوہوں کے پاس دوڑ کر چلی جائیں ؟ نوٹوں میں چلنے پھرنے کی قوت ہے کہ اْڑ کر جیب کتروں کے پاس پہنچ جائیں لیکن عورتوں کے اندر طاقت اور صلاحیت ہے کہ یہ خود بھی کھینچ کر بھاگ سکتی ہیں ۔ پھر حضرت ? نے فرمایا کہ بلی اگر دودھ پی لے اور ایک کلو میں ایک پائو چھوڑ گئی تو بقیہ دودھ کیا ا?پ پی سکتے یا نہیں ؟ سب نے کہا کہ پی سکتے ہیں ۔ پھرانہوں نے پوچھا چوہے اگر روٹی کترگئے او را?پ کو بھوک شدید ہے تو چوہوں کی کتری ہوئی روٹی ا?پ کھاسکتے ہیں ؟ سب نے کہاکہ جی ہاں ۔پھر ان بزرگوں نے پوچھا جیب کترے نوٹ چرا کرلے گئے لیکن بعد میں ان کوخوف ا?یا اور دس ہزار واپس کرگئے تو کیا نوٹوں میں کوئی عیب لگا؟ وہ نوٹ ا?پ استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ سب نے کہاکہ استعمال کرسکتے ہیں ۔ اس میں کوئی عیب کی بات نہیں ۔پھر پوچھا کہ چیل گوشت اْڑا کر لے گئی تھوڑی دیر بعد پھر ا?ئی اور بقیہ گوشت گرا گئی۔اس گوشت کو ا?پ دھو کر پکاسکتے ہوکہ نہیں یا یہ عیب دار ہوگیا ؟کیا شریعت میں اس کا کھانا ممنوع ہے ، مفتی صاحب بیٹھے ہیں پوچھ لو ایسے گوشت کو ا?پ دھو کر پکالیں توبلاکراہت کھاسکتے ہیں ۔چور اگر نوٹ چرا کر لے گئے پھر واپس کردیں تو نوٹوں میں کوئی عیب نہیں لگتا۔ بلی اگر دودھ پی کر چھوڑ دے تو دودھ میں عیب نہیں لگتا۔ چوہے اگر روٹی کترلیں تو روٹی عیب دار نہیں ہوتی لیکن کسی کی بہو بیٹی کو کوئی چوراْچکااْٹھا کر لے جائے خواہ ایک رات کے لئے یا ایک دن کے لئے تو سارے خاندان کا سر نیچے ہوجاتاہے کیونکہ بظاہر وہ لڑکی عیب دار ہوگئی۔ یہ جو روزانہ آپ اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ فلاح کی بیٹی اغوا ہوگئی ، تھانے میں رپورٹ کرائو پھر کیا ہوگا وہ الگ، خاندان کا سر نیچا ہوانا؟ اس کا رشتہ بھی نہیں ملتا کہ بھئی اس کی بیٹی دو دن کے لئے غائب ہوگئی تھی یا اللہ نہ کرے کوئی اونچ نیچ ہو جائے۔
پھر یہ ظالم کس منہ سے کہتے ہیں کہ پردہ غیر ضروری ہے ؟ کس منہ سے کہتے ہیں کہ یہ اولڈ فیشن اور پرانے طریقے چھوڑنا چاہئے ؟ میں کہتاہوں کہ عقل کی ایک کرن بھی ان کے دماغ میں نہیں ہے۔ان کے اسکروو? ڈھیلے ہوچکے ہیں ۔شیطان ان اسکروئوں کو لوز کر چکاہے۔اصل میں یہ خبائث اورنفسانیت میں مبتلا ہیں ۔ ورنہ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جاپان ، لندن ، برطانیہ ،امریکہ ،تھائی لینڈ ، سوئز لینڈ جتنے بھی ‘لینڈ’ ہیں جہاں بین الاقوامی اور انٹرنیشنل طور پر ا?ج تم نے عورتوں کو ‘دولت مشترکہ ‘بنا دیا ہے ،وہاں بے پردگی اور بے حیائی کے جدید فیشن سے کیا فائدہ پہنچا ؟ سوائے اس کہ ان کا نسب نامہ ثابت کرنا مشکل ہے۔ حتیٰ کہ ا?ج کسی انگریز کا حلالی ثابت کرنا مشکل ہے۔ چنانچہ برطانیہ کے بعض دوستوں نے بتایا کہ انگریز سے اگر باپ کا نام پوچھ لو تو بْرا مان جاتاہے۔ گندی ذہنیت رکھنے والے ان فیشن پرستوں سے کہتاہوں کہ اب بتائو کہ پردہ پر تمہارا کیا اشکال ہے ؟ دوستو! دردل سے کہتاہوں کہ ان عقل کے دشمنوں کے پیچھے مت چلو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر چلو ان کی سنتوں کوزندہ کرو۔ساری دنیا ا?پ کوبْرا کہے ا?پ برداشت کریں ،کسی کی پرواہ نہ کریں ۔ (یو این این)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.