امام جعفر صادق (ع) اور مسئلہ خلافت (1)

178

 پہلا سوال يہ ھے كہ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كا دور امامت بني اميہ كي حكومت كے آخري ايام اور بني عباس كے اوائل اقتدار ميں شروع ھوتا ھے۔سياسي اعتبار سے امام عليہ السلام كے لئے بھترين موقعہ ھاتھ ميں آيا۔ بني عباس نے تو اس موقعہ پر بھر پور طريقے سے فائدہ اٹھا ليا۔ امام عليہ السلام نے ان سنھري لمحوں سے استفادہ كيوں نھيں كيا؟ بني اميہ كا اقتدار زوال پذير تھا۔ عربوں اور ايرانىوں، ديني اور غير ديني حلقوں ميں بني اميہ كے بارے ميں شديد ترين مخالفت وجود ميں آچكي تھي۔ ديني حلقوں ميں مخالفت كي وجہ ان كا علانيہ طور گناھوں كا ارتكاب كرنا تھا۔ ديندار طبقہ كے نزديك بني اميہ فاسق وفاجر اور نالائق لوگ تھے؟ اس كے علاوہ انھوں نے بزرگان اسلام اور ديگر ديني شخصيات پر جو مظالم ڈھائے ھيں وہ انتھائي قابل مذمت اور لائق نفرت تھے۔ اس طرح كي كئي مخالف وجوھات نفرت واختلاف كا باعث بن چكي تھيں” خاص طور پر امام حسين عليہ السلام كي شھادت نے بني اميہ كے ناپاك اقتدار كو خاك ميں ملا ديا۔ پھر رھي سھي كسر جناب زيد بن علي ابن الحسين اور يحييٰ بن زيد كے انقلابات نے نكال دي۔ مذھبي اور ديني اعتبار سے ان كا اثر و رسوخ بالكل ناپيد ھوگيا تھا۔ بني اميہ علانيہ طور پر فسق وفجور كے مرتكب ھوئے تھے، عياشي اور شرابخوري ميں تو انھوں نے بڑے بڑے رنگين مزاج حكمرانوں كو پيچھے چھوڑ ديا تھا۔ يھي وجہ ھے كہ لوگ ان سے سخت نفرت كرتے تھے۔ اور ان كو لادين عناصر سے تعبير كيا جاتا تھا۔ كچھ حكران ظلم و ستم كے حوالے سے بہت ظالم وسفاك شمار كيے جاتے تھے ان ميں ايك نام سلاطين بني اميہ كا ھے۔ عراق ميں حجاج بن يوسف اور خراسان ميں چند حكمرانوں نے ايرانى عوام پر مظالم ڈھائے۔ وہ لوگ بني اميہ كے مظالم كو ان مظالم كا سر چشمہ قرار ديتے تھے۔ اس لئے شروع ھي سے اسلام اور خلافت ميں تفريق قائم كي گئي خاص طور پر علويوں كي تحريك خراسان ميں غير معمولي طور پر مؤثر ثابت ھوئي ۔ اگر چہ يہ انقلابي لوگ خود تو شھيد ھوگئے ليكن ان كے خيالات اور ان كي تحريكوں نے مردہ قوموں ميں جان ڈال دي۔ اور ان كے نتائج لوگوں پر بہت اچھے مرتب ھوئے۔جناب زيد بن زين العابدين (ع) نے كوفہ كي حدود ميں انقلاب برپا كيا وھاں كے لوگوں نے ان كے ساتھ عھد و پيمان كيا اور آپ كي بيعت كى، ليكن چند افراد كے سوا كوفيوں نے آپ كے ساتھ وفا نہ كى، جس كي وجہ سے اس عظيم سپوت اور بھادر و جري نوجوان كو بڑي بيدردي كے ساتھ شھيد كر ديا گيا۔ ان ظالموں نے آپ كي قبر پر دو مرتبہ پاني چھوڑ ديا تاكہ لوگوں كو آپ كي قبر مبارك كے بارے ميں پتہ نہ چل سكے، ليكن وہ چند دنوں كے بعد پھر آئے قبر كو كھود كر جناب زيد كي لاش كو سولي پر لٹكا ديا اور كچھ دنوں تك اسي حالت ميں لٹكتي رھي اور كہا پر وہ لاش خشك ھوگئي۔ كہا جاتا ھے كہ جناب زيد كي لاش چار سالوں تك سولي پر لٹكتي رھي۔ جناب زيد كا ايك انقلابي بيٹا تھا ان كا نام يحييٰ تھا ۔انھوں نے انقلاب برپا كيا ليكن كامياب نہ ھوسكے اور خراسان چلے گئے۔ پھر جناب يحييٰ بني اميہ كے ساتھ جنگ كرتے ھوئے شھيد ھوگئے۔ آپ كي محبت لوگوں كے دلوں ميں گھر كرتي چلي گئي۔ آپ كي شھادت كے بعد خراسان كے عوام كو پتہ چلا كہ خاندان رسالت كے ان نوجوانوں نے ايك ظالم حكومت كے خلاف جھاد كيا اور خود اسلام اور مسلمانوں كا دفاع كرتے ھوئے شھيد ھوگئے۔ ا س زمانے ميں خبريں بہت دير سے پھنچا كرتي تھيں۔ جناب يحييٰ نے امام حسين عليہ السلام اور جناب زيد كي شھادت كو از سر نو زندہ كر ديا۔ لوگوں كو بعد ميں پتہ چلا كہ آل محمد (ص) نے بني اميہ كے خلاف كس پاكيزہ مقصد كے تحت قيام كيا تھا۔مورخين لكھتے ھيں جب جناب يحييٰ شھيد ھوئے تو خراسان كے عوام نے ستر (۷۰) روز تك سوگ منايا۔ اس سے معلوم ھوتا ھے انقلابي سوچ ركھنے والے لوگوں كا اثر پھلے ھي سے تھا ليكن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ھے لوگوں كے اذھان ميں انقلابي اثرات گھر كرتے جاتے ھيں۔ ايك انقلابي اپنے اندر كئي انقلاب ركھتا ھے۔ بہر حال خراسان كي سرزمين ايك بڑے انقلاب كيلئے سازگار ھوگئي۔ لوگ بني اميہ كے خلاف كھلے عام نفرت كرنے لگے۔
بني اميہ كے خلاف عوامي رد عمل اور بني عباسبنو عباس نے سياسي حالات سے فائدہ اٹھاتے ھوئے خود كو خوب مستحكم و مضبوط كيا، يہ تين بھائي تھے ان كے نام يہ ھيں۔ ابراھيم امام، ابو العباس سفاح اور ابو جعفر منصور يہ تينوں عباس بن عبدالمطلب كي اولاد سے ھيں۔ يہ عبداللہ كے بيٹے تھے۔ عبداللہ بن عباس كا شمار حضرت علي عليہ السلام كے اصحاب ميں سے ھوتا ھے۔ اس كا علي نام سے ايك بيٹا تھا۔ اور علي كے بيٹے كا نام عبداللہ تھا” پھر عبداللہ كے تين بيٹے تھے۔ ابراھيم، ابو العباس سفاح اور ابو جعفر، يہ تينوں بہت ھي با صلاحيت، قابل ترين افراد تھے۔ ان تينوں بھائيوں نے بني اميہ كے آخري دور حكومت ميں بھر پور طريقے سے فائدہ اٹھايا۔ وہ اس طرح كہ انھوں نے خفيہ طور پر مبلغين كي ايك جماعت تيار كي اور پس پردہ انقلابي پروگرام تشكيل دينے ميں شب و روز مصروف رھے۔ اور خود حجاز و عراق اور شام ميں چھپے رھے، ان كے نمائندے اطراف و اكناف ميں پھيل كرامويوں كے خلاف پروپيگنڈا كرتے تھے، خاص طور پر خراسان ميں ايك عجيب قسم كا ماحول بن چكا تھا۔ ليكن ان كي تحريك كا پس منظر منفي تھا يہ كسي اچھے انسان كو اپنے ساتھ نہ ملاتے۔ يہ آل محمد (ص) كے گھرانے ميں صرف ايك شخصيت كا نام استعمال كر كے لوگوں كو اپني طرف متوجہ كرتے۔ اس سے معلوم ھوا كہ عوام كي توجہ كا مركز آل محمد (ص) ھي تھے۔ ان عباسيوں نے ايك كھيل كھيلا كہ ابو مسلم خراساني كا نام استعمال كيا اس سے ان كا مقصد ايرانى عوام كو اپني طرف متوجہ كرنا تھا۔وہ قومي تعصب پھيلا كر بھي لوگوں كي ھمدردياں حاصل كرنا چاھتے تھے، وقت كي قلت كے پيش نظر ميں اس مسئلہ پر مزيد روشني نھيں ڈالنا چاھتا، البتہ ميرے اس مدعا پر تاريخي شواھد ضرور موجود ھيں۔ ان كو بھي لوگ بالكل پسند نھيں كرتے تھے۔ ليكن بني اميہ سے نجات حاصل كرنے كيلئے وہ ان كو اقتدار پر لے آنا چاھتے تھے۔ بني اميہ ھر لحاظ سے اپنا مقام كھو چكے تھے، اگر چہ بني اميہ ظاھري طور پر خود كو مسلمان كہلواتے تھے۔ ليكن ان كا اسلام سے دور تك واسطہ نہ تھا۔ خراسان ميں ان كا اثر و رسوخ بالكل نہ تھا كہ لوگوں كو اس وقت كي حكومت كے خلاف اكٹھا كر سكيں اور خراسان كي فضا ميں ايك خاص قسم كا تلاطم پيدا ھو چكا تھا، اگر چہ يہ لوگ چاھتے تھے كہ خلافت اور اسلام ھر دونوں كو اپنے پروگرام سے خارج كر ديں، ليكن نہ كرسكے، اور يہ اسلام كي بقاء اور مسلمانوں كي ترقي كا نام استعمال كر كے آگے بڑھتے گئے اور سال ۱۲۹كے پہلے دن مرو كے ايك قصبے”سفيد نج” ميں اپنے قيام كا رسمي طور پر اعلان كيا۔ عيد الفطر كا دن تھا۔ نماز عيد كے بعد اس انقلاب كا اعلان كيا گيا، انھوں نے اپنے پرچم پر اس آيت كو تحرير كيا اور اسي آيہ كو اپنے انقلابي اھداف كا ماٹو قرار ديا:”اذن للذين يقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علي نصرھم لقدير” 25″جن (مسلمانوں) سے (كفار) لڑا كرتے تھے چونكہ وہ (بہت) ستائے گئے اس وجہ سے انھيں بھي (جھادكي) اجازت دے دي گئي اور خدا تو ان لوگوں كي مدد پر يقيناً قادر (و توانا) ھے۔”پھر انھوں نے سورہ حجرات كي آيہ نمبر ۱۳كو اپنے منشور ميں شامل كيا ارشاد خداوندي ھے:”يا ايھاالناس انا خلقناكم من ذكر و انثيٰ و جعلناكم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اكرمكم عنداللہ اتقكم”لوگو ھم نے تو سب كو ايك مرد اور ايك عورت سے پيدا كيا اور ھم نے تمھارے قبيلے اور برادرياں بنائيں تاكہ ايك دوسرے كو شناخت كر سكيں اس ميں شك نھيں كہ خدا كے نزديك تم سب سے بڑا عزت دار وھي ھے جو بڑا پرھيز گار ھو۔”اس آيت سے بني نوع انسان كو سمجھايا جارھا ھے كہ اسلام اگر كسي كو دوسرے پر ترجيح ديتا ھے تو وہ اس كا متقي ھونا ھے۔ چونكہ اموي خاندان عربوں كو غير عربوں پر ترجيح ديتے تھے اسلام نے ان كے اس نظريہ كي نفي كر كے ايك بار پھر اپنے دستور كي تائيد كي ھے كہ خانداني و جاھت، مالي آسودگي كو باعث فخر سمجھنے والو! تقويٰ ھي معيار انسانيت ھے۔ايك حديث ھے اور اس كو ميں نے كتاب اسلام اور ايران كا تقابلي جائزہ ميں نقل كيا ھے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا ھے يا ايك صحابي نے نقل كيا ھے كہ ميں نے خواب ميں ديكھا كہ سفيد رنگ كے گوسفند كالے رنگ كے گوسفند ميں داخل ھوگئے اور يہ ايك دوسرے سے ملے ھيں اور اس كے نتيجہ ميں ان كي اولاد پيدا ھوئي ھے۔ پيغمبر اكرم (ص) نے اس خواب كي تعبير ان الفاظ ميں فرمائي كہ عجمي اسلام ميں تمھارے ساتھ شركت كريں گے، اور آپ لوگوں ميں شادياں كريں گے۔ آپ كي عورتيں ان كے مردوں اور ان كي عورتيں آپ كے مردوں كے ساتھ بياھي جائيں گي۔ يعني آپ لوگ ايك دوسرے كے ساتھ رشتے كريں گے۔ ميں نے اس جملہ سے يہ سمجھا كہ آپ (ص) نے فرمايا كہ ميں ديكھ رھا ھوں كہ ايك روز تم عجم كے ساتھ اور عجم تمھارے ساتھ اسلام كي خاطر جنگ كريں گے يعني ايك روز تم عجم كے ساتھ جنگ كر كے انھيں مسلمان كريں گے اور ايك روز عجم تمھارے ساتھ لڑيں گے اور تمھيں اسلام كي طرف لوٹائيں گے اس حديث كا مفھوم يھي ھے كہ اس قسم كا انقلاب آئے گا۔بني عباس انتھائي مضبوط پروگرام اور ٹھوس پاليسي پر عمل كرتے ھوئے تحريك كو پروان چڑھا رھے تھے۔ ان كا طريقہ كار بہت عمدہ اور منظم تھا انھوں نے ابو مسلم كو خراسان اپنے مقصد كي تكميل كيلئے بھيجا تھا۔ وہ يہ ھر گز نھيں چاھتے تھے كہ انقلاب ابو مسلم كے نام پر كامياب ھو بلكہ انھوں نے چند مبلغوں كو خراسان بھيجا كہ جاكر لوگوں ميں اچھے انداز ميں تقريريں كر كے عوام كو امويوں كے خلاف اور عباسيوں كے حق ميں جمع كريں۔ ابو مسلم كے نسب كے بارے ميں آج تك معلوم نھيں ھو سكا تاريخ ميں تو يھاں تك بھي پتہ نھيں ھے كہ ابو مسلم ايرانى تھے يا عربى؟ پھر اگر ايرانى تھے تو پھر كيا اصفھاني تھے يا خراسانى؟ وہ ايك غلام تھا اس كي عمر ۲۴برس كي تھي كہ ابراھيم امام نے اس غير معمولي صلاحيتوں كو بھانپ ليا اور اس كو تبليغ كے لئے خراسان روانہ كيا تاكہ وہ خراسان كے عوام كے اندر ايك انقلاب برپا كر دے۔ اس نوجوان ميں قائدانہ صلاحيتيں بھر پور طريقے سے موجود تھيں۔ يہ شخص سياسي لحاظ سے تو خاصا با صلاحيت تھا ليكن حقيقت ميں بہت برا انسان تھا۔ اس ميں انسانيت كي بوتك نہ آتي تھي۔ ابو مسلم حجاج بن يوسف كي مانند تھا، اگر عرب حجاج پر فخر كرتے ھيں تو ھم بھي ابو مسلم پر فخر كرتے ھيں۔حجاج بہت ھي زيرك اور ھوشيار انسان تھا۔ اس ميں قائدانہ صلاحتيں كوٹ كوٹ كر بھري ھوئي تھيں، ليكن وہ انسانيت كے حوالے سے بہت ھي پست اور كمينہ شخص تھا۔ اس نے اپنے زمانہ اقتدار ميں بيس ھزار آدمي قتل كيے اور ابو مسلم كے بارے ميں مشھور ھے كہ اس نے چھ لاكھ آدمي قتل كيے۔ اس نے معمولي بات پر اپنے قريبي دوستوں كو بھي موت كے گھاٹ اتارديا اور اس نے يہ نھيں ديكھا كہ يہ ايرانى ھے يا عربي كہ ھم كہہ سكيں كہ وہ قومي تعصب ركھتا تھا۔ميں نھيں سمجھتا كہ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے اس تحريك ميں كسي قسم كي مداخلت كي ھو، ليكن بنو عباس نے بڑھ چڑھ كر حصہ ليا۔ ان كا يہ نعرہ تھا كہ وہ بني اميہ سے خلافت ھر صورت ميں لے كر رھيں گے۔ اس كيلئے وہ كسي قسم كي قرباني سے دريغ نھيں كريں گے۔ يھاں پر قابل ذكر بات يہ ھے كہ بنو عباس كے پاس دو اشخاص ايسے ھيں كہ جو شروع سے لے كر آخر تك تحريك عباسيہ كي قيادت كرتے رھے۔ ايك عراق ميں تھا اور وہ پس پردہ كام كررھا تھا اور دوسرا خراسان ميں، اور جو كوفہ ميں تھا وہ تاريخ ميں ابو سلمہ خلال كے نام سے مشھور ھے اور جو خراسان ميں تھا اس كا نام ابو مسلم ھے۔ ميں پھلے عرض كر چكا ھوں كہ اس كو بني عباس نے خراسان روانہ كيا اور اس نے بہت كم مدت ميں بے شمار كاميابياں سميٹيں۔ ابو سلمہ كي حيثيت صدر اور ابو مسلم كي ايك وزير كي تھي۔ يہ پڑھا لكھاشخص، سمجھدار سياستدان اور بھترين منتظم تھا۔ گفتگو كرتے وقت دوسروں كو متأثر كر ديتا۔ يھي وجہ ھے كہ ابو مسلم ابو سلمہ سے حسد كرتا تھا۔ جب اس نے خراسان ميں اپني تحريك كا آغاز كيا تو ابو سلمہ كو درميان سے ھٹا ديا اور ابو عباس سفاح كے نام ابو سلمہ كےخلاف ڈھير سارے خط لكھ ڈالے، اور اس كو خطرناك شخص كے طور پر متعارف كروايا اور كھا كہ اس كو تحريك سے خارج كر ديجئے۔ اس نے اسي قسم كے خطوط بني عباس كے مختلف اشخاص كي طرف ارسال كيے۔ليكن سفاح نےاس كے اس مطالبے كو مسترد كر ديا اور كھہ ديا كہ وہ مخلصانہ طويل خدمات كے صلے ميں ابو سلمہ كےخلاف كسي قسم كا قدم نھيں اٹھا سكتے۔ پھر اعتراض كرنے والوں نے سفاح سے شكايت كي كہ ابو سلمہ اندر سے كچھ ھے اور باھر سے كچھ اور، وہ چاھتا ھے كہ آل عباس سے خلافت لے كر آل ابي طالب (ع) كے حوالے كرے۔ يہ سن كر سفاح نے كھا مجھ پر اس قسم كے الزام كي حقيقت ثابت نہ ھوسكي اگر ابو سلمہ اس طرح كي سوچ ركھتا ھے كہ وہ ايك انسان كي حيثيت سے اس طرح كي غلطي كرسكتا ھے۔ وہ ابو سلمہ كے خلاف جتني بھي كوششيں كرتا تھا كار گر ثابت نہ ھوتي تھيں۔ كيونكہ ابو سفاح ابو سلمہ اس كو كسي نہ كسي حوالے سے نقصان دے سكتا ھے۔ اس لئے اس نے اس كے قتل كا منصوبہ بنا ليا۔ ابو سلمہ كي عادت تھي كہ وہ سفاح كے ساتھ رات گئے تك رھتا وہ دونوں ايك دوسرے كے ساتھ باتيں كرتے ايك رات وہ سفاح سے ملاقات كر كے واپس آرھا تھا كہ ابو مسلم كے ساتھيوں اس كو قتل كر ديا۔ چونكہ سفاح كے كچھ آدمي اس قتل ميں شريك تھے اس لئے ابو سلمہ كا خون كسي شمار ميں نہ آسكا۔ يہ واقعہ سفاح كے اقتدار كے ابتدائي دنوں ميں پيش آيا۔ اس سانحہ كي كچھ وجوھات ھوسكتي ھيں۔ ان ميں كچھ محركات يہ بھي ھيں۔
ابو سلمہ كا خط امام جعفر صادق (ع) اور عبد اللہ محض كے ناممشھور مورخ مسعودي نے مروج الذھب ميں لكھا ھے كہ ابو سلمہ اپني زندگي كے آخري لمحات ميں اس فكر ميں مستغرق رھتا تھا كہ خلافت آل عباس سے لے كر آل ابي طالب (ع) كے حوالے كرے۔ اگر چہ وہ شروع ميں آل عباس كيلئے كام كرتا رھا۔۱۳۲ھ ميں جب بني عباس نے رسمي طور پر اپني حكومت كي داغ بيل ڈالي اس وقت ابراھيم امام شام كے علاقہ ميں كام كرتا تھا ليكن وہ منظر عام پر نھيں آيا تھا۔ وہ بھائيوں ميں سے بڑا تھا۔ اس لئے اس كي خواھش تھي كہ وہ خليفہ وقت بنے ليكن وہ بني اميہ كے آخري دور ميں خليفہ مروان بن محمد كے ہتھے چڑھ گيا اور اس كو يہ فكر دامن گير ھوئي كہ اگر اس كے خفيہ ٹھكانے كا كسي كو پتہ چل گيا تو وہ گرفتار كر ليا جائے گا۔ چنانچہ اس نے ايك وصيت نامہ لكھ كر مقامي كسان كے ذريعے اپنے بھائيوں كو بھجوايا۔ وہ كوفہ كے نواحي قصبے حميمہ ميں مقيم تھے، اس نے اس وصيت نامے ميں اپنے سياسي مستقبل كے بارے ميں اپني حاليہ پاليسي كے بارے ميں اعلان كيا اور اپنا جانشين مقرر كيا اور اس ميں اس نے يہ لكھا كہ اگر ميں آپ لوگوں سے جدا ھوگيا تو ميرا جانشين سفاح ھوگا (سفاح منصور سے چھوٹا تھا) اس نے اپنے بھائيوں كو حكم ديا كہ وہ يھاں سے كوفہ چلے جائيں اور كسي خفيہ مكان ميں جاكر پناہ ليں اور انقلاب كا وقت قريب ھے۔ اس كو قتل كرديا گيا اور اس كا خط اس كے بھائيوں كے پاس پھنچايا گيا۔ وہ وھاں سے چھپتے چھپاتے كوفہ چلے آئے اور ايك لمبے عرصے تك وھيں پہ مقيم رھے۔ ابو سلمہ بھي كوفہ ميں چھپا ھوا تھا اور تحريك كي قيات كررھا تھا دو تين مھينوں كے اندر اندر يہ لوگ رسمي طور پر ظاھر ھوئے اور جنگ كر كے بہت بڑي فتح حاصل كي۔مورخين نے لكھا ھے كہ اس انقلاب كے بعد ابراھيم امام كو قتل كرديا گيا۔ حكومت سفاح كے ھاتھ ميں آگئي۔ اس واقعہ كے بعد ابو سلمہ كو پريشاني لاحق ھوئي اور وہ سوچنے لگا كہ خلافت كيوں نہ آل عباس سے لے كر آل ابو طالب كے حوالے كي جائے۔ اس نے دو عليحدہ عليحدہ خطوط لكھے ايك خط امام جعفر صادق عليہ السلام كي خدمت ميں روانہ كيا اور دوسرا خط عبداللہ بن حسن بن حسن بن علي بن ابي طالب (ع) كے نام ارسال كيا۔ (حضرت امام حسن (ع) كے ايك بيٹے كا نام حسن تھا جسے حسن مثنيٰٰ سے ياد كيا جاتا ھے يعني دوسرے حسن، حسن مثني كربلا ميں شريك جھاد ھوئے ليكن زخمي ھوئے اور درجئہ شھادت پر فائز نہ ھو سكے۔اس جنگ ميں ان كي ماں كي طرف سے ايك رشتہ داران كے پاس آيا اور عبيد اللہ ابن زياد سے سفارش كي كہ ان كو كچھ نہ كہا جائے۔ حسن مثنيٰ نے اپنا علاج معالجہ كرايا اور صحت ياب ھوگئے۔ ان كے دو صاجزادے تھے ايك كانام عبداللہ تھا۔ عبداللہ ماں كے لحاظ سے امام حسين عليہ السلام كے نواسے تھے اور باپ كي طرف سے امام حسن عليہ السلام كے پوتے تھے۔ آپ دو طريقوں سے فخر كرتے ھوئے كھا كرتے تھے كہ ميں دو حوالوں سے پيغمبر اسلام (ص) كا بيٹا ھوں۔ اسي وجہ سے ان كو عبداللہ محض كھا جاتا تھا۔ يعني خالصتاً اولاد پيغمبر، عبداللہ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور امامت ميں اولاد امام حسن عليہ السلام كے سربراہ تھے، جيسا كہ امام جعفر صادق عليہ السلام اولاد امام حسين عليہ السلام كے سربراہ تھے۔)ابو سلمہ نے ايك شخص كے ذريعہ سے يہ دو خطوط روانہ كيے، اور اس كو تاكيد كي كہ اس كي خبر كسي كو بھي نہ ھو۔ خط كا خلاصہ يہ تھا كہ خلافت ميرے ھاتھ ميں ھے۔ خراسان بھي ميرے پاس ھے اور كوفہ پر بھي ميرا كنٹرول ھے، اور اب تك ميري ھي وجہ سے خلافت بني عباس كو ملي ھے۔ اگر آپ حضرات راضي ھوں تو ميں حالات كو پلٹ ديتا ھوں يعني وہ خلافت آپ كو دے ديتا ھوں۔
امام (ع) اور عبداللہ محض كا رد عملقاصد وہ خط سب سے پھلے امام جعفر صادق عليہ السلام كي خدمت ميں لے آيا۔ رات كي تاريكي چھا چكي تھي۔ اس كے بعد عبداللہ محض كو ابو سلمہ كا خط پھنچايا گيا۔ جب اس نے يہ خط حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كي خدمت اقدس ميں پيش كيا تو عرض كي مولا يہ خط آپ كے ماننے والے ابو سلمہ كا ھے۔ حضرت نے فرمايا ابو سلمہ ھمارا شيعہ نھيں ھے۔ قاصد نے كہا آپ مجھے ھر صورت ميں جواب سے نوازيں۔آپ نے چراغ منگوايا آپ نے ابو سلمہ كا خط نہ پڑھا اور اس كے سامنے وہ خط پھاڑ كر جلا ديا اور فرمايا اپنے دوست (ابو سلمہ) سے كھنا كہ اس كا جواب يھي ھے اس كے بعد حضرت نے يہ شعر پڑھا ؂
ايا موقدانارا لغيرك ضوءھايا حاطبافي غير حبلك تحطب
“يعني آگ روشن كرنے والے اور، اس كي روشني سے دوسرے مستفيد ھوں۔ اے وہ كہ جو صحرا ميں لكڑياں اكٹھي كرتا ھے اور تو خيال كرتا ھے كہ يہ تو اپني رسي ميں ڈالي ھيں تجھے يہ خبر نھيں ھے تو نے جتني بھي لكڑياں جمع كي ھيں اس كو تيرے دشمن اٹھا كر لے جائيں گے۔”اس شعر سے حضرت كا مقصد يہ تھا كہ ايك شخص محنت كرتا ھے ليكن اس كي محنت سے استفادہ دوسرے لوگ كرتے ھيں گويا آپ كھہ رھے تھے كہ ابو سلمہ بھي كتنا بد بخت شخص ھے كہ اس نے حكومت كي تشكيل دينے كيلئے بہت زيادہ محنت كي ھے ليكن اس سے فائدہ دوسروں نے اٹھايا ھے يا اس شعر كا مطلب يہ تھا كہ اگر ھم خلافت كے لئے محنت كرتے ھيں اور وہ نا اھل ھاتھوں ميں چلي جاتي ھے۔كتنے افسوس اور دكھ كي بات ھے حضرت نے خط كو جلا ديا اور اس قاصد كو جواب نہ ديا ابو سلمہ كا قاصد وھاں سے اٹھا اور عبداللہ محض كے پاس آيا اور ان كو ابو سلمہ كا خط ديا۔ عبد اللہ خط كو پڑھ كر بے حد مسرور ھوئے۔ مورخ مسعودي نے لكھا ھے كہ عبداللہ صبح ھوتے ھي اپنے گھوڑے پر سوار ھو كر حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كے در دولت پر آئے۔ امام عليہ السلام نے ان كا احترام كيا، حضرت جانتے تھے كہ عبداللہ كے آنے كي وجہ كيا ھے؟ فرمايا لگتا ھے كہ آپ كوئي نئي خبر لے كر آئے ھيں۔ عبداللہ نے عرض كي جي ھاں ايسي خبر كہ جس كي تعريف و توصيف بيان نہ كي جاسكے۔ (نعم ھو اجل من ان يوصف) يہ خط ابو سلمہ نے مجھے بھيجا ھے انھوں نے اس خط ميں تحرير كيا ھے كہ خراسان كے تمام شيعہ اس بات پر مكمل طور پر تيار ھيں كہ خلافت و ولايت ھمارے سپرد كرديں۔ انھوں نے مجھ سے درخواست كي ھے كہ ان كي يہ پيشكش قبول كر لوں۔ يہ سن كر امام عليہ السلام نے فرمايا:”ومتي كان اھل خراسان شيعۃ لك؟”خراسان والے آپ كے شيعہ كب بنے ھيں؟”انت بعثت ابا مسلم الي خراسان؟”كيا آپ نے ابو مسلم كو خراسان بھيجا ھے؟”آپ نے خراسان والوں سے كہا ھے كہ وہ سياہ لباس پہنيں اور ماتمي لباس كو اپنا شعار بنائيں۔ كيا يہ خراسان سے آئے ھيں يالائے گئے ھيں؟تم تو ايك آدمي كو بھي نھيں پھچانتے؟ امام عليہ السلام كي باتيں سن كر عبداللہ ناراض ھو گئے۔ انسان جب كوئي چيز پسند كرے اور اس كي خوشخبري سننے كے بعد كوئي اور بات سننا گوار نھيں كرتا۔ گويا يہ انسان كي سرشت ميں شامل ھے۔ اس نے حضرت امام جعفر صادق سے بحث كرني شروع كردي اور حضرت سے كہا كہ آپ كيا چاھتے ھيں:”انما يريد القوم ابني محمدا لانہ مھدي ھذہ الامۃ”يہ ميرے بيٹے محمد كو خلافت دينا چاھتے ھيں آُپ نے فرمايا كہ خدا كي قسم اس امت كا امام مھدي آپ كا بيٹا محمد نھيں ھے اگر اس نے قيام كيا تو قتل كيا جائے گا۔ يہ سن كر عبداللہ اظھار ناراضگي كرتے ھوئے بولا آپ خواہ مخواہ ھماري مخالفت كر رھے ھيں۔ امام عليہ السلام نے فرمايا بخدا ھم تمھاري خير خواھي اور بھلائي كے سوا اور كچھ نھيں چاھتے۔ آپ كا مقصد كبھي پورا نھيں ھوگا۔ اس كے بعد امام عليہ السلام نے فرمايا كہ بخدا ابو سلمہ نے بالكل اسي طرح كا خط ھماري طرف بھي روانہ كيا ھے ليكن ھم نے پڑھنے كي بجائے اس كو آگ ميں جلا ديا۔ عبداللہ ناراض ھو كر چلے گئے۔ ان حالات كو ديكھ كر بخوبي اندازہ لگايا جاسكتا ھے كہ اس وقت سياسي فضا كس قدر مكدر تھى، بني عباس كي تحريك كامياب ہوتي ھے؟ ابو مسلم اس وقت خاصا فعال ھوتا ھے۔ اور وہ ابو سلمہ جيسے انقلابي شخص كو قتل كراديتا ھے۔ سفاح بھي اس كي حمايت كرنے لگ جاتا ھے۔ پھر ايسا ھوا كہ ابو سلمہ كا قاصد ابھي مدينہ سے كوفہ نہ پھنچا تھا كہ ابو سلمہ قتل ھو چكا ھوتا ھے۔ اسي وجہ سے عبداللہ محض كا جواب ابو سلمہ كے ھاتھوں تك نہ پھنچ سكا۔
ايك تحقيقاس واقعہ كو جس خوبي كے ساتھ مسعودي نے لكھا ھے اتنا اور كسي مورخ نے نھيں لكھا۔ ميرے نزديك ابو سلمہ كا مسئلہ بہت واضح ھے كہ وہ شخص سياستدان تھا۔ وہ امام جعفر صادق عليہ السلام كے شيعوں ميں ھر گز نہ تھا۔ مطلب صاف ظاھر ھے كہ وہ ايك مرتبہ آل عباس كيلئے كام كرتا ھے اور دوسري مرتبہ وہ اپني پاليسي بدل ليتا ھے۔ دراصل عوام كي اكثريت يہ نھيں چاھتي تھي كہ خلافت خاندان رسالت سے باھر كسي دوسرے شخص كے پاس جائے۔ آل ابي طالب ميں دو شخصيات اھم شمار كي جاتي تھيں ايك حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام اور دوسرے جناب عبداللہ محض، ابو سلمہ ان دونوں شخصيات كے ساتھ دينداري اور خلوص كي وجہ سے يہ كام نھيں كر رھا تھا وہ چاھتا تھا كہ خلافت بدلنے سے اس كے ذاتي مفادات محفوظ رھيں۔ ابھي اس كو امام جعفر صادق عليہ السلام اور عبد اللہ محض كي طرف سے جواب موصول نہ ھوا تھا كہ ابو سلمہ قتل ھو گيا۔ جب ميں يہ بات كرتے ھوئے لوگوں كو سنتا ھوں تو مجھے حيرانگي ھوتي ھے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے ابو سلمہ كے خط كا جواب كيوں نھيں دياتھا اور اس كي دعوت قبول كيوں نھيں كي تھى؟ ا سكا جواب بھي صاف ظاھر ھے كہ يھاں پر بھي حالات سازگار نہ تھے۔صورت حال نہ روحاني لحاظ سے اچھي تھي اور نہ ظاھري لحاظ سے بھتر تھي بلكہ امام عليہ السلام نے جو بھي اقدامات كيے وہ حقيقت پر مبني تھے ھم پہلے بھي كہہ چكے ھيں كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے شروع ھي سے بني عباس كي كسي قسم كي حمايت نھيں كي۔ دراصل آپ نہ امويوں كے حق ميں تھے اور نہ عباسيوں كے حق ميں۔ يہ دو خاندان اور موروثي حكمران ذاتي مفاد كے علاوہ كوئي سوچ نہ ركھتے تھے۔ ھم نے كتاب الفرج اصفھاني سے استفادہ كيا۔ اس سلسلے ميں جتني ابو الفرج نے تفصيل لكھي ھے اتنا اور كسي مورخ نے نھيں لكھا۔ ابو الفرج اموي مورخ تھے۔ اور سني المذھب تھے ان كو اصفھان ميں سكونت ركھنے كي وجہ سے اصفھاني كہا جاتا ھے۔ حقيقت ميں يہ اصفھاني نہ تھے بلكہ اموي تھے اگر چہ يہ اموي مورخ تھے ليكن انھوں نے تاريخ نويسي ميں اعتدال قائم ركھا اس لئے جناب شيخ مفيد (رح) نے اپني كتاب ارشاد ميں ابو الفرج سے روايات نقل كي ھيں۔
ھاشمي رھنماؤں كي خفيہ ميٹنگدراصل بات يہ ھے كہ شروع ميں يہ طے پايا تھا كہ امويوں كے خلاف تحريك شروع كي جائے۔ بني ھاشم كے سركردہ ليڑر ابواء مقام پر جمع ھوگئے تھے۔ يہ مقام مكہ و مدينہ كے درميان واقع ھے۔ (ابواء يہ ايك تاريخ جگہ ھے يہ وہ جگہ ھے جھاں پيغمبر اكرم (ص) كي والدہ ماجدہ نے انتقال فرمايا تھا۔) حضور (ص) پاك كي عمر پانچ سال كے لگ بھگ تھي بي بي اپنے اس عظيم صاجزادے كو اپنے ھمراہ لائي تھيں۔ حضرت آمنہ كے رشتہ دار مدينہ ميں آباد تھے۔ اس لئے حضور پاك مدينہ والوں كے ساتھ ايك خاص نسبت ركھتے تھے۔ بي بي مدينہ سے ھوكر واپس مكہ جارھي تھيں كہ راستہ ميں مريض ھوئيں اور وھيں پر انتقال فرمايا اس جگہ كو مورخين نے ابواء كے نام سے ياد كيا ھے۔ حضورپاك (ص) اپني ماں كي كنيز خاص بي بي ام ايمن كے ساتھ مدينہ چلے گئے اور آپ كي والدہ ماجدہ كو ابواء ھي ميں سپرد خاك كيا گيا۔ آپ نے عالم غربت ميں اپني عظيم ماں كي المناك رحلت كو اپني آنكھوں سے ديكھا اور عمر بھر آپ اس غم كو نہ بھلا سكے۔ يھي وجہ ھے كہ آپ ۵۳ سال كي عمر ميں مدينہ واپس لوٹ آئے اور اپني زندگي كے آخري دس سال مدينہ ھي ميں گزارے۔ آپ ايك موقعہ پر اثناء سفر ميں ابواء نامي جگہ سے گزرے تو آپ چند لمحوں كيلئے اپنے صحابہ سے جدا ھوگئے اور ايك خاص جگہ پر رك گئے ۔ دعا پڑھي اس كے بعد زار وقطار رونے لگے۔ صحابہ كرام نے تعجب كيا كہ حضور پاك (ص) رونے كي وجہ كيا ھے؟ آپ نے فرمايا يہ ميري والد ماجدہ كي قبر اطھر ھے۔ آج سے پچاس سال قبل جب ميں پانچ سالہ بچہ تھا تو يھيں پر والدہ محترمہ كا انتقال ھوا تھا۔ آپ پچاس سالوں كے بعد اس مقام پر گئے اور دعا پڑھي اور اس كے بعد اپني انتھائي عزيز ترين ماں كي ياد ميں بہت ھي زيادہ روئے”۔ چناچہ ابواء كے مقام پر ھونے والي خفيہ ميٹنگ ميں اولاد امام حسن (ع) عبداللہ محض اور آپ كے دونوں صاجزادے محمد و ابراہيم موجود تھے۔ اسي طرح بني عباس كي نمائندگي كرتے ھوئے ابراہيم امام، ابوالعباس سفاح، ابو جعفر منصور اور ان كے چند بزرگوں نے شركت كي۔ اس وقت عبداللہ محض نے گفتگو كا آغاز كرتے ھوئے كہا كہ اے بني ھاشم! اس وقت لوگوں كي نگاھيں آپ كي طرف لگي ھوئي ھيں۔ اور عوام كي آپ سے بہت زيادہ اميديں وابستہ ھيں۔ اللہ تعاليٰ نے آپ كو يھاں پر اكٹھے ھونے كا موقعہ بخشا ھے لھذا سب مل جل كر اس نوجوان (عبداللہ محض كے بيٹے) كي بيعت كريں۔ ان كو اپني تحريك كا قائد منتخب كريں۔ اور امويوں كے خلاف وسيع پيمانے پر جنگ كا آغاز كريں۔ يہ واقعہ ابو سلمہ كے واقعات سے پھلے كا ھے۔ تقريباً انقلاب خراسان سے بارہ سال قبل۔ اس وقت اولاد امام حسن عليہ السلام اور بنو عباس كي مشتركہ خواھش تھي كہ وہ ايك دوسرے كے ساتھ متحد ھو كر امويوں كا مقابلہ كريں۔
محمد نفس زكيہ كي بيعتبني عباس كا شروع سے يہي پروگرام تھا كہ وہ آل علي عليہ السلا ميں ايسے نوجوان كو اپنے ساتھ ملائے ركھيں كہ جو لوگوں ميں مقبول ھو اور لوگ اس كي وجہ سے ايك پليٹ فارم پر جمع ھوسكتے ھوں۔ جب ان كي تحريك كامياب ھو جائے گي تو اس نوجوان كو درميان ميں سے ھٹا ديا جائے گا۔ اس كام كيلئے انھوں نے محمد نفس زكيہ كو منتخب كيا ۔ محمد جناب عبداللہ محض كے صاحبزادے تھے ۔ عبد اللہ بہت ھي متقي اور پرھيز گار اور انتھائي خوبصورت شخصيت كے مالك تھے۔ ان كا بيٹا محمد كردار و گفتار اور شكل و صورت ميں ھو بھو اپنے باپ كي تصوير تھا۔ اسلامي روايات ميں ھے كہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ھے تو اولاد پيغمبر (ص) ميں سے ايك نوجوان ظاھر ھوتا ھے اور اپنے جد امجد كي طرح اسي كا نام بھي محمد ھوگا اسي طرح اسلامي تحريكيں چلتي رہيں گي اور اولاد زھرا (ع) ميں سے ايك سيد زادہ انقلابي جد وجھد كي قيادت كرتا رھے گا۔ اولاد امام حسن عليہ السلام كے دل ميں يہ خيال پيدا ھوا كہ امت كا مھدي يھي محمد ھے۔ بنو عباس كے نزديك بھي يھي محمد مھدي كے طور پر نمودار ھوئے تھے۔ يہ بھي ھو سكتا ھے كہ انھوں نے سازش كر كے ان كو مھدي وقت مان لياھو؟بہر حال ابو الفرج نقل كرتے ھيں كہ عبداللہ محض نے لوگوں سے خطاب كرتے ھوئے مزيد كھا ھميں متحد ھو كر ايك ايسے نوجوان كي قيادت ميں كام شروع كردينا چاھيے كہ جو اس مظلوم ملت كو ظالموں كے شكنجوں سے نجات دے سكے۔ ا سكے بعد بولے ايھا الناس اے لوگو! ميري بات غور سے سنو ان ابني ھذا ھو المھدي كہ ميرا بيٹا محمد ھي مھدي دوراں ھے۔ آپ سب مل كر ان كي بيعت كريں۔ اس اثناء ميں منصور بولا كہ مھدي كے عنوان سے نھيں البتہ يہ نوجوان موجودہ دور ميں قيادت كے فرائض احسن طريقے سے نبھا سكتا ھے۔ آپ سچ كھہ رھے ھيں ھم سب كو اس نوجوان كي بيعت كرني چاھيے۔ ميٹنگ كے تمام شركاء نے ايك زبان ھو كر اس كي تصديق كي اور ايك ايك كركے انھوں نے محمد كي بيعت كي۔ اس كے بعد انھوں نے امام جعفر صادق عليہ السلام كو پيغام بھيجا كہ آپ بھي تشريف لائيں۔ جب حضرت تشريف فرما ھوئے سب نے حضرت كا استقبال كيا۔ عبداللہ محض جو صدر مجلس تھے نے اپنے پہلو ميں حضرت كو جگہ دي۔ اس كے بعد انھوں نے امام عليہ السلام كي خدمت ميں رپورٹ پيش كي اور كہا جيسا كہ آپ بخوبي جانتے ھيں كہ ملكي و سياسي حالات مخدوش ھيں لھذا وقت كا تقاضا يہ ھے كہ ھم ميں سے كوئي شخص اٹھے اور امت و ملت كي قيادت كرے۔ اس ميٹنگ كے تمام شركاء نے ميرے بيٹے محمد كي بيعت كي ھے ۔كيونكہ ھمارے نزديك مھدي دوراں يہي محمد ھي ھيں۔ لھذا آپ ان كي بيعت كريں۔ فقال جعفر لا تفعلوا امام عليہ السلام نے فرمايا نھيں تم ايسا نہ كرو:”فان ھذا الامر ثم يات بعد ان كنت تري ان ابنك ھذا ھو المھدي فليس بہ ولا ھذا اوانہ”رھي بات مھدي عليہ السلام كے ظھور كي تو يہ وقت ظھور نھيں ھے۔ اے عبداللہ اگر تم خيال كرتے ھو كہ تمھارا يہ بيٹا محمد مھدي ھے تو تم سخت غلطي پر ھو، تمھارا بيٹا ھر گز مھدي نھيں ھے اس وقت مھدي عليہ السلام كا مسئلہ نھيں ھے اور نہ ھي ان كي آمد اور ظھور كا وقت ھوا ھے۔”وان كنت انما يريد ان تخرجہ غضبا للہ وليامر بالمعروف وينہ عن المنكر فانا واللہ لا ندعك فانت شيخنا ونبايع ابنك في الامر “حضرت نے اپنا موقف واضح كرتے ھوئے فرمايا اگر تم مھدي كے نام پر بيعت لے رھے ھو تو ميں ھرگز بيعت نھيں كروں گا۔ كيونكہ يہ سراسر جھوٹ ھے يہ مھدي نھيں ھے اور نہ ھي مھدي (ع) كے ظھور كا وقت ھوا ھے ليكن اگر آپ نيكي كے فروغ اور برائيوں اور ظلم كے خاتمے كے لئے جھاد كريں گے تو ھم آپ لوگوں كا ھر طرح سے ساتھ ديں گے۔”امام عليہ السلام كے اس فرمان سے آپ كا موقف كھل كر سامنے آجاتا ھے۔ آپ نے نيكيوں كي ترويج اور برائيوں كے خاتمہ كے لئے ساتھ دينے كا وعدہ تو كيا ليكن آپ نے ان كي غلط پاليسيوں كي مخالفت كردي كہ يہ محمد مھدي نھيں ھے۔ جب آپ نے بيعت كا انكار كيا تو عبداللہ ناراض ھوگئے۔ جب آپ نے عبداللہ كي ناراضگي كو ديكھا تو فرمايا ديكھو عبداللہ ميں آپ سے كہہ رھا ھوں كہ تمہارا بيٹا محمد مھدي نھيں ھيں ھم اھل بيت كے نزديك يہ ايك ايسا راز ھے كہ جس كو ھم ھي جانتے ھيں ھمارے سوا كوئي اور نھيں جانتا كہ وقت كا امام كون ھے اور مھدي (ع) كون ھوگا؟ ياد ركھو تمھارا يہ بيٹا بہت جلد قتل كر ديا جائے گا۔ ابو الفرج نے لكھا ھے كہ عبداللہ سخت ناراض ھوئے اور كھا خير آپ نے جو كھنا تھا كہہ ديا ليكن ھمارا نظريہ يھي ھے كہ محمد مھدي وقت ھے، آپ حسد اور خانداني رقابت كے باعث اس قسم كي باتيں كر رھے ھيں۔”فقال واللہ ماذاك يحملني ولكن ھذا واخوتہ وابنانھم دونكم وضرب يدہ ظھر ابي العباس”امام جعفر صادق عليہ السلام نے اپنا دست مبارك ابو العباس كي پشت پر مارتے ھوئے فرمايا يہ بھائي مسند خلافت پر فائز ھو جائيں گے اور آپ اور آپ كے بيٹے محروم رھيں گے۔”اس كے بعد آپ نے عبداللہ حسن كے كندھے پر ھاتھ ركھ كر فرمايا:”ما ھي اليك ولا الي ابنيك”تم اور تمھارے بيٹے خلافت تك نھيں پھنچ سكيں گے۔”ان كو قتل ھونے سے بچائيے۔ بنو عباس آپ كو خلافت تك پھنچنے نھيں ديں گے۔ اور تمھارے دونوں بيٹے قتل كر دئيے جائيں گے۔ اس كے بعد امام عليہ السلام اپني جگہ سے اٹھ كھڑے ھوئے۔ آپ نے اپنا ايك ھاتھ عبدالعزيز عمران زھري كے كندھے پر ركھتے ھوئے اس سے كہا:”ارايت صاحب الرداء الاصغر؟”كيا آپ نے اس شخص كو ديكھا ھے كہ جس نے سبز قبا پہني ھوئي تھى؟”(آپ كي اس سے مراد ابو جعفر منصور تھي) وہ بولا نعم جي ھاں آپ نے فرمايا خدا كي قسم ھم جانتے ھيں كہ يھي شخص مستقبل قريب ميں عبداللہ كے بيٹوں كو قتل كردے گا۔يہ سن كر عبدالعزيز سخت متعجب ھوا اور اپنے آپ سے كھنے لگا يہ لوگ آج تو اس كي بيعت كر رھے ھيں اور كل اسے قتل كرديں گے؟ آپ نے فرمايا ھاں عبدالعزيز ايسا ھي ھوگا عبدالعزيز نے كہا ميرے دل ميں تھوڑا سا شك گزرا ھو سكتا ھے امام عليہ السلام نے حسد وغيرہ كي وجہ سے ايسا كھا ھو ليكن خدا كي قسم ميں نے اپني زندگي ھي ميں ديكھ ليا كہ ابو جعفر منصور نے عبداللہ كے دونوں بيٹوں كو قتل كرديا۔ دوسري طرف حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام محمد سے بے حد پيار كرتے تھے۔ ابوالفرج كے بقول”كان جعفر بن محمد اذا راي محمد بن عبداللہ بن الحسن تغر غرت عيناہ”كہ امام عليہ السلام كي نگاہ مبارك جب محمد پر پڑتي تو آپ كي آنكھو سے بے ساختہ آنسو چھلك پڑتے اور فرمايا كرتے:”بنفسي ھو ان الناس فيقولون فيہ انہ لمقتول ليس ھذا في كتاب علي من خلفاء ھذہ الامۃ”ميري جان قربان ھو اس پر لوگ جو اس كے بارے ميں مھدي ھونے كے قائل ھيں وہ غلطي پر ھيں۔ يہ نوجوان قتل كيا جائے گا ھمارے پاس حضرت علي عليہ السلام كي ايك كتاب موجود ھے اس ميں محمد كا نام خلفاء ميں شامل نھيں ھے۔”اس سے معلوم ھوتا ھے كہ شروع ميں تحريك كا آغاز ھي مھدويت كے نام پر ھوا ھے ليكن امام جعفر صادق (ع) نے اس كي سخت مخالفت كي اور فرمايا اگر يہ تحريك نيكيوں كے فروغ اور برائيوں كے خاتمہ كے لئے ھے تو پھر ھم اس كے ساتھ ھر طرح كا تعاون كريں گے ليكن ھم محمد كو مھدي كے طور پر تسليم نھيں كرسكتے، رھي بات بنو عباس كي تو ان كا مطمع نظر سياسي و حكومتي مفادات حاصل كرنے كے سوا كچھ نھيں ھے ۔
امام جعفر صادق (ع) كے دور امامت كي چند خصوصياتيھاں پر ھم جس لازمي نكتے كا ذكر كرنا چاھتے ھيں وہ يہ ھے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام كا دور امامت اسلامي خدمات كے حوالے سے بے نظير اور بھترين دور ھے۔ آپ كے دور ميں مختلف قسم كي تحريكوں نے جنم ليا، بے شمار انقلابات رونما ھوئے ۔ امام عليہ السلام كے والد گرامي حضرت امام محمد باقر عليہ السلام كا انتقال ۱۱۴كو ھوا۔ آپ اس وقت امام وقت مقرر ھوئے اور ۱۴۸ تك زندہ رھے۔ ظھور اسلام سےليكر اب تك دو تين نسليں حلقہ اسلام ميں داخل ھو چكي تھيں۔ سياسي و تمدني لحاظ سے بے تحاشا ترقي ھوئي۔ اور كچھ ايسي جماعتيں بھي وجود ميں آئيں جو خدا كي منكر تھيں۔ زنديق اس دور ميں رونما ھوئے يہ لوگ خدا، دين اور پيغمبر كے مخالف تھے۔ بني عباس كي طرف سے ان بے دين عناصر كو ھر لحاظ سے آزادي حاصل تھي۔ صوفياء بھي اسي دور ميں ظاھر ھوئے اور كچھ ايسے فقھا بھي پيدا ھوئے كہ جو فقہ كو قياس كي طرف لے گئے۔ اس دور ميں مختلف نظريات ركھنے والے لوگ، جماعتيں پيدا ھوئيں۔ اس نوع كي تبديلي اور جدت وندرت پہلے ادوار ميں نہ تھي۔امام حسين (ع) اور امام جعفر صادق (ع) كے زمانوں كا زمين و آسمان كا فرق ھے۔ امام حسين عليہ السلام كے دور ميں بہت زيادہ گھٹن تھي اور مشكل ترين دور تھا اس لئے امام عالي مقام نے اپنے دور امامت ميں حديث كے پانچ چھ جملے بيان فرمائے اس كے علاوہ كوئي حديث نظر نھيں آتى، ليكن امام جعفر صادق عليہ السلام كا دور امام تعليمي وتربيتي حوالے سے بھترين دور تھا۔ آپ نے فرصت كے ان لمحوں سے فائدہ اٹھاتے ھوئے بہت كم مدت ميں چار ھزار فضلاء تيار كيے۔ لھذا اگر ھم فرض كريں (جو كہ غلط ھے) كہ امام جعفر صادق عليہ السلام كو وھي حالات پيش آتے جو امام حسين عليہ السلام كو پيش آئے تھے تو پھر بھي امام جعفر صادق عليہ السلام علمي كارنامے انجام ديتے؟ ھم نے پھلے عرض كيا ھے كہ آئمہ طاھرين كي حيات طيبہ كا انداز ايك جيسا ھوتا ھے اور آپ كي شھادت وھي رنگ لاتي جو كہ امام حسين (ع) كي لائي ھے۔ اگر چہ آپ ايك وقت درجئہ شھادت پر فائز بھي ھوئے ليكن آپ كو قدرت نے خوب موقعہ فراھم كيا كہ آپ نے علمي و ديني لحاظ سے غير معمولي كارنامے سر انجام ديئے۔ آج امام جعفر صادق عليہ السلام كا نام پوري دنيا ميں ايك بہت بڑے مصلح كے طور پر مانا جانا جاتا ھے۔ امام عليہ السلام كے بارے ميں اگلي نشست ميں كچھ مزيد باتيں عرض كروگا۔ ان شاء اللہ۔——————–25.حج، ۳۹.
 

1 تبصرہ
  1. try to کا کہنا ہے کہ

    Hey exceptional website! Does running a blog such as this require a massive amount work?
    I’ve no understanding of computer programming
    however I had been hoping to start my own blog in the near future.
    Anyway, if you have any recommendations or techniques for new blog owners please share.
    I know this is off topic however I simply wanted to ask.
    Thank you!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.